← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
جدید مواقع استعمال نہ ہو سکے
Urdu · 10 min
اجتہاد سے محرومی کا سب سے بڑا نقصان جو ہمارے حصہ میں آیا ہے ، وہ یہ کہ امت مسلمہ دور جدید کے قیمتی مواقع سے واقف نہیں ہوئی ، اور اس بنا پر ان کو استعمال بھی نہ کر سکی۔ ان جدید مواقع کو جاننے کے لیے مجتہدانہ عمل کی ضرورت تھی۔ جمود ذہنی کے نتیجہ میں چونکہ مجتہدانہ عمل ختم ہو گیا تھا۔ اس لیے جدید مواقع کی دریافت اور ان کا استعمال بھی ہمارے لیے ممکن نہ ہو سکا۔
کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے طاقت کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ پچھلے تمام زمانوں میں تشدد کو طاقت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم قدیم ترین زمانہ سے ایسے افراد پیدا ہوتے رہے ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ تشدد کے بجائے امن کو طاقت کا درجہ حاصل ہو جائے۔ مثلاً قدیم یونانی دانشور آئیسوکریٹس (Isocrates) بہت زیادہ امن کی باتیں کرتا تھا۔ مگر آخر عمر میں وہ سخت مایوسی کا شکار ہو گیا۔ یہاں تک کہ ایتھنز میں 338 ق م میں اس نے خودکشی کر لی۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد9، صفحہ1031)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پچھلے پانچ ہزار سال کے اندر بہت سے مصلح اور مفکر پیدا ہوئے جو تشدد کے مقابلہ میں امن کو اونچا درجہ دیتے رہے۔ مگر عملاً کبھی یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ بیسویں صدی میں پہلی بار اس کی کچھ مثالیں قائم ہو سکی ہیں۔
جاپان کے لیڈر ہیرو ہٹو نے 1945ء میں امریکہ کے مقابلہ میں شکست کے بعد تشدد کا طریقہ مکمل طور پر چھوڑ دیا اور ساری توجہ صرف تعلیم پر لگا دی۔ آج جاپان پوری طرح اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکا ہے۔ مہاتما گاندھی نے 1919ء میں ہندستان کی آزادی کی تحریک کو عدم تشدد کی بنیاد پر چلانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ 1947ء میں ہندستان آزاد ہو گیا۔ ساؤتھ افریقہ کے بلیک لیڈر نیلسن منڈیلا نے گاندھیائی طریقہ کو اپناتے ہوئے اپنے ملک کو سفید فام اقلیت کے غلبہ سے رہائی دلانے کی کوشش کی۔ ان کی کوشش بھی پرامن دائرہ میں چلتی ہوئی 1993ء میں سیاہ فام اکثریت کی آزادی تک پہنچ گئی۔
ماضی اور حال میں اس فرق کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں وہ موافق حالات پیدا نہیں ہوئے تھے، جو پر امن تدبیر میں وہی طاقت پیدا کر دیں جو پہلے صرف تشدد کے اندر سمجھی جاتی تھی۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں پیش آنے والی تبدیلیوں کے نتیجہ میں وہ حالات پوری طرح پیدا ہو گئے۔ چنانچہ لوگوں کے لیے ممکن ہو گیا کہ امن کی طاقتوں کو استعمال کرتے ہوئے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر سکیں۔
یہ تبدیلیاں بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ’’تلوار‘‘ کے دور میں تشدد بہت محدود مفہوم رکھتا تھا۔ مگر اب جدید قسم کے ہتھیاروں نے تشدد کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع کر دیا ہے کہ اب اگر تشدد کو استعمال کیا جائے تو اس کا نتیجہ صرف تباہی ہو گا نہ کہ کسی ایک یا دوسرے کی فتح۔
دوسری بات یہ ہے کہ جدید فکری انقلاب نے ’’رائے عامہ‘‘ اور ’’سائنس‘‘ جیسے پرامن ذرائع میں وہی طاقت مزید اضافہ کے ساتھ پیدا کر دی ہے جو پہلے تلوار اورنیزے میں سمجھی جاتی تھی۔ اس طرح اب تشدد کے ذریعہ مقصد حاصل کرنے کی بات صرف انھیں لوگوں کے ذہن میں آتی ہے جو دور جدید کی قوت امن سے ناآشنا ہوں۔
موجودہ زمانہ میں وہ موافق حالات پوری طرح پیدا ہو چکے ہیں جن کو استعمال کر کے کسی مقصد کو تشدد اور خوں ریزی کے بغیر حاصل کیا جا سکے۔ یہ حالات و اسباب اسلام کے حق میں مزید اضافہ کے ساتھ موجود ہیں۔ مگر مسلم علما اوررہنماؤں نے جدید علوم سے بے بہرہ ہونے کی بنا پر نہ ان تبدیلیوں کو سمجھا اور نہ وہ مسلم عوام کو ان سے باخبر کر سکے۔
مسلمانوں کے رہنما تمام دنیا میں مسلمانوں کو ایک ہی سبق دے رہے ہیں اور وہ ٹکراؤ اور جہاد (بمعنی قتال) کا سبق ہے۔ یہ لوگ صرف تشدد کی طاقت کو جانتے ہیں اور مسلمانوں کو اسی کی ترغیب دینے میں مشغول ہیں۔ خواہ یہ ٹکراؤ اقبال کے الفاظ میں ’’لڑا دے ممولے کو شہباز سے‘‘ کے ہم معنی کیوں نہ بن جائے۔
حدیث میں مومن کی بابت کہا گیا ہے کہ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے زمانہ کو جاننے والا ہو (أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ) صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361۔مگر آج کل کے مسلمانوں کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے بائیں چلو (keep left) کے اصول پر عمل کرنے والے لوگ دائیں چلو (keep right) کے اصول والے ملک میں داخل ہو گئے ہوں ، اور سڑکوں پر غلط رخ سے گاڑیاں دوڑا کر خود بھی تباہ ہو رہے ہوں اور دوسروں کو بھی تباہی کا تحفہ دینے کا سبب بن رہے ہوں۔ حالی نے اسی کی بابت کہا تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یاںنکلےہیںسودےکودرم لے کے پرانے
اور سکّہ رواں شہر میں مدت سے نیا ہے
اسلام کے ابتدائی دور میں تلوار کو انتہائی مجبورانہ طور پر اور بہت محدود دائرہ میں استعمال کیا گیا تھا۔ مگر بعد کے زمانہ کے لیے پیغمبر اسلامؐ نے پیشگی طور پر یہ خبر دے دی تھی کہ آئندہ اہل اسلام کو تلوار کی طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ امن کی طاقت ہی فتوحات کے لیے کافی ہو جائے گی۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہو گی ، یہاں تک کہ تمہارے ستر ہزار افراد ایک شہر میں پہنچیں گے۔ وہ نہ کسی ہتھیار سے لڑیں گے اور نہ کوئی تیر ماریں گے ، وہ صرف لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ کہیں گے اور قلعہ کی دیواریں گر پڑیں گی (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2920)۔
hadithQuotes a hadith
موجودہ زمانہ میں یہ پیشین گوئی کامل طور پر پوری ہو چکی ہے۔ آج وہ تمام پرامن اسباب پوری طرح ظاہر ہو چکے ہیں جن کو استعمال کر کے اس طرح کسی مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے کہ نہ کسی کا خون بہایا گیا ہو اور نہ کسی کے اوپر تشدد کیا گیا ہو — جاپان، ہندستان ، ساؤتھ افریقہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔
اسلامی مقصد کے لیے یہ پرامن ذرائع مزید اضافہ کے ساتھ کارآمد ہیں۔ کیونکہ اسلام کے پاس اسی کے ساتھ ایک اور تسخیری قوت موجود ہے جو کسی اور کے پاس نہیں،یہ آئیڈیالوجی ہے۔ اسلام اس اعتبار سے آئیڈیالوجیکل سپرپاور کی حیثیت رکھتا ہے۔