ہندستان میں پہلی بار برٹش دور میں سونے چاندی کے سکوں کی جگہ کاغذی نوٹ چلائے گئے۔ اس وقت مولانا عبدالحق حقانی زندہ تھے۔ کسی نے اس کے بارے میں مولانا حقانی کا فتویٰ پوچھا۔ انھوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا میرا فتویٰ نہیں چلے گا، اور نوٹ چل جائے گا۔
خالص فقہی نظر سے دیکھنے میں کاغذی نوٹ کے بارے میں جواز اور عدم جواز کا مسئلہ پیدا ہوتا تھا۔ مگر مولانا عبدالخالق حقانی نے براہ راست اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔ کیونکہ انھوں نے محسوس کیا کہ یہ عمومی رواج کی صورت ہے اور عمومی رواج میں ہمیشہ رواج چلتا ہے، نہ کہ مفتی کا فتویٰ۔
مجھے یاد آتا ہے کہ اگست 1982ء ایک بیرونی سفر کے دوران میرا ساتھ پروفیسر مشیر الحق مرحوم سے ہو گیا تھا۔ مولانا محمد تقی امینی مرحوم (1926-1991) بھی اس سفر میں شریک تھے۔ایتھنز کے ہوائی اڈے پر ہم لوگ کھانے کی میز پر تھے۔ جب کھانا لایا گیا تو اس میں گوشت بھی تھا۔ میں اور مولانا تقی امینی اس پر بات کرنے لگے کہ غیر ذبیحہ جائز ہے یا ناجائز۔ ابھی ہماری بحث ختم نہیں ہوئی تھی کہ پروفیسر مشیر الحق نے کہا آپ لوگ بحث کرتے رہیے، میں تو بسم اللہ کہہ کر شروع کر رہا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے بہت سے مسائل ہیں جن کا تعلق ، کم از کم موجودہ حالات میں اجتماعی فتویٰ سے نہیں ہے بلکہ انفرادی ضمیر سے ہے۔ مثلاً ٹائلٹ سوپ کا استعمال جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کو بنانے میں اکثر حیوانی چربی شامل ہوتی ہے یا لیدر گارمنٹ جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس کے بنانے میں بعض اوقات خنزیر کے کھال کے اجزاء بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ وغیرہ۔
اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں جن کی حیثیت موجودہ زمانہ میں رواج عام کی ہو گئی ہے۔ ان میں مفتی کا فتویٰ یا تو غیر موثر ہے یا عملی اعتبار سے لوگوں کو ایک ایسی تنگی میں ڈالنا ہے جس کو وہ برداشت نہ کر سکیں۔ اور پھر یا تو علی الاعلان دین سے بغاوت کر دیں، یا دوعملی کا طریقہ اختیار کر لیں اور منافق بن کر رہیں۔ اس لیے عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ ایسے امور میں فتویٰ نہ دے کر لوگوں کو ان کے اپنے ضمیر کے حوالے کر دیا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس اصول کی اصل سنت نبویؐ میں موجود ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ بعض سوالات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے تو آپ نے ان سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا بلکہ یہ فرمایا کہ تم اپنے دل سے فتویٰ پوچھ لو (اسْتَفْتِ قَلْبَكَ) مسنداحمد، حدیث نمبر 18006۔جب کہ دوسرے بہت سے معاملات میں آپ متعین طور پر شرعی حکم کا اظہار فرماتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ معاملات کی دو قسمیں ہیں۔ ایک معاملہ وہ ہے جس میں اسْتَفْتِ الْمُفْتِي کا اصول مطلوب ہے۔ یعنی مفتی اور عالم کے سامنے مسئلہ رکھ کر اس سے جواب معلوم کرنا، اور اس کے مطابق عمل کرنا۔ دوسرے قسم کے معاملات وہ ہیں جن میں اسْتَفْتِ القَلْبَ کا اصول مطلوب ہے۔ یعنی لوگ اپنے ضمیر اور عقل عام (کامن سنس) کو استعمال کریں اور جو مسلک انھیں درست معلوم ہو اس کو اختیار کر لیں۔
یہ کہنا غالباً صحیح ہو گا کہ مذکورہ قسم کے معاملات، کم از کم موجودہ حالات میں اسْتَفْتِ القَلْبَکی نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان معاملات میں ہمیں لوگوں کو رخصت دینے کا اصول اختیار کرنا ہے، نہ کہ انھیں کسی ایک مسلک کا پابند بنانے کا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔