Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

چند متفرق مسائل

Urdu · 18 min

1۔ جدید مسائل میں سے ایک مسئلہ قومیت کا ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ قومیت کا جدید تصور اسلام کے روایتی تصورِ قومیت سے ٹکراتا ہے۔ اسلام کے روایتی تصور میں امت مسلمہ ایک عالمی وحدت کا نام ہے۔ ہر جگہ کے مسلمان یکساں طور پر وحدت ملّی کا جزء ہیں۔ جب کہ جدید تصور قومیت میں قوم (نیشن) کو جو چیز متعین کرتی ہے وہ جغرافی حدود ہیں۔

زیادہ گہرائی سے دیکھئے تو یہ بحث بھی غیر ضروری معلوم ہو گی۔ اسلام کی پوری تاریخ میں اس قسم کا رومانی تصورِ قومیت کبھی بھی رائج نہیں رہا ہے۔ ابتدائی ہزار سال تک مسلمان سیاسی وحدتوں کے اعتبار سے الگ الگ مجموعوں میں بٹے ہوئے تھے۔ مثلاً بغداد کی عباسی سلطنت میں بسنے والے مسلمان اگر ایک وحدت تھے تو قرطبہ کی اموی سلطنت میں بسنے والے مسلمان دوسری وحدت تھے۔ آج بھی پاکستان کے مسلمان ایک الگ سیاسی وحدت ہیں اور بنگلہ دیش کے مسلمان دوسری علیحدہ وحدت، وغیرہ۔

اس اعتبار سے موجودہ زمانہ میں قومیت کے تصور میں جو فرق ہوا ہے وہ کلی طور پر کوئی نئی چیز نہیں۔ یہ ایک لفظی فرق کی بات ہے۔ پہلے اگر سیاسی نظام وحدت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا تو اب جغرافی حدود کو وحدت کا ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ ایک ظاہری فرق کی بات ہے، نہ کہ حقیقی فرق کی بات۔

اس سلسلہ میں ابن خلدون کا نظریہ مجھے نہایت صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ اہلِ اسلام کا اتحاد سیاسی وحدت پر مبنی نہیں ہے ، وہ روحانی وحدت پر مبنی ہے۔ یعنی اسلامی اتحاد کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک حکومت کے تحت متحد ہو گئے ہوں۔ عملی ضرورت کے تحت وہ الگ الگ سیاسی وحدتوں میں منقسم رہیں گے۔ لیکن اسی کے ساتھ فکری اور روحانی اشتراک انھیں وحدت ملّی کا احساس عطا کرتا رہے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ موجودہ زمانہ میں بظاہر جو چیزیں اسلام سے متصادم نظر آتی ہیں ان میں سے ایک آزادیِ رائے کا نظریہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادی کو خیر اعلیٰ (summum bonum) سمجھا جاتا ہے۔ جدید نظریہ کے مطابق ہر فرد کو غیر مشروط طور پر آزادی رائے کاحق حاصل ہے۔ اس کی حد صرف یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے عملی ضرر کا سبب نہ بنے۔ اس حد بندی میں یقینی طور پر جذبات کا مجروح ہونا شامل نہیں۔

یہ مسلمانوں کے لیے سخت برہمی کا باعث رہا ہے اور ہے۔ کیوں کہ اس حق کی بنا پر تنقیص اسلام یا اہانتِ رسول کوئی ممنوع چیز نہیں رہتی اور نتیجتاً ’’سلمان رشدی‘‘ جیسے واقعات ظہور میں آتے ہیں۔

مگر یہ زیادہ قابل لحاظ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے ’’آزادیِ رائے‘‘ کے مائنس پوائنٹ کو دیکھا مگر وہ اس کے پلس پوائنٹ کو نہ دیکھ سکے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں مائنس پوائنٹ اگر ایک فیصد ہے تو پلس پوائنٹ اس کے مقابلہ میں 99 فیصد ہے۔

اس معاملہ کو تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو آزادی رائے کا حق خود مسلمانوں کے لیے ایک عظیم نعمت بن کر ظاہر ہوا تھا۔ کیونکہ جدید تہذیب سے پہلے تاریخ کے تمام ادوار میں ساری دنیا میں جبر کا نظام قائم تھا۔ آزادیِ رائے اس حد تک معدوم تھی کہ اسٹیٹ کی رائے کے خلاف کسی اور رائے کا اظہار کرنے کی قیمت یہ دینی پڑتی تھی کہ آدمی کو قتل کر دیا جائے۔ اس صورت حال نے دین حق کی آزادانہ اشاعت کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔

اس اعتبار سے دیکھئے تو اظہار رائے کی موجودہ آزادی اہل اسلام کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے لیے تبلیغ و دعوت کے بند راستہ کو لامحدود طور پر کھول دینے والا ہے۔ اب اگر سلمان رشدی جیسے کچھ مظاہر پیدا ہو رہے ہوں تو ہم کو اسے اس نظر سے دیکھنا چاہیے جس طرح ایک کسان بارانِ رحمت میں کیچڑ کے مسئلہ کو دیکھتا ہے۔ بارش میں اگرچہ بعض اوقات کیچڑ کے مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر بارش کے عظیم فائدوں کے مقابلہ میں اس جزئی مسئلہ کی کوئی اہمیت نہیں۔

موجودہ زمانہ میں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے افراد کے خلاف مسلمانوں کے شدید ردعمل کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ آزادیِ رائے کے جدید مواقع کو دعوت کے لیے استعمال نہیں کر رہے تھے۔ اگر وہ ان مواقع کو دعوتِ دین کے لیے استعمال کر رہے ہوتے تو سلمان رشدی اورتسلیمہ نسرین جیسے افراد کو وہ اسی طرح نظرانداز کر دیتے جس طرح کسان کیچڑ کو نظرانداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔

3۔ دور جدید کے فکری مسائل میں سے ایک وہ ہے جو سیکولرزم کی نسبت سے پیدا ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسٹیٹ پالیسی کے لیے سب سے زیادہ مقبول اور مستند نظریہ وہی ہے جس کو عام طور پر سیکولرزم کہا جاتا ہے۔ کسی اسٹیٹ کا سیکولر ہونا اس کے ترقی یافتہ ہونے کی علامت ہے۔ اور اس کا غیر سیکولر ہونا اس کے غیر ترقی یافتہ ہونے کی علامت ۔

مسلمانوں کا ایک گروہ ، خاص طور پر اسلام پسند طبقہ سیکولرزم کے سخت خلاف رہا ہے۔ وہ اس کو ایک اسلام دشمن نظریہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کو غیر مذہبی اور خالص دینوی بنیادوں پر قائم کیا جائے۔ اس طرح وہ اسلام کی نفی بن جاتا ہے۔ کیونکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست کو وحی الٰہی کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔

مجھے اس رائے سے اتفاق نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسلام پسند حضرات کی یہ رائے سیکولرزم کے انتہا پسند نمائندوں کی رائے کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔ مگر یہ ایسی ہی ایک غلطی ہے جیسے کچھ غیر مسلم دانشور انتہا پسند مسلم نوجوانوں کے جنگ جویانہ خیالات کو لے کر اس کی بنیاد پر اسلام کی تصویر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سیکولرزم کے بارے میں وہی رائے درست ہے جو انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس (Encyclopedia of Religion and Ethics) میں دی گئی ہے۔ اس کے مطابق ،سیکولرزم کسی مذہب مخالف نظریہ کا نام نہیں، وہ اس بات کا نام ہے کہ اسٹیٹ اپنے آپ کو اس کا پابند بنا لے کہ وہ شہریوں کے مذہبی معاملات میں عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرے گی(دیکھیے، انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس، جلد 11، سیکولرزم)۔ یہ دراصل ایک عملی بندوبست کی بات ہے، نہ کہ کوئی مقدس نظریہ۔ اپنی روح کے اعتبار سے یہ صلح حدیبیہ جیسا ایک عملی حل ہے۔ اور وہ اہل اسلام کے عین حق میں ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سیکولرزم نے تاریخ میں پہلی بار اہل توحید کو یہ موقع دیا کہ ریاست کی طرف سے تعذیب (Persecution) کا خطرہ مول لیے بغیر اپنے عقائد کی آزادانہ تبلیغ کریں۔ جہاں تک اسلامی حکومت کا تعلق ہے تو وہ ’’اسلامی حکومت قائم کرو‘‘ کے نعرہ سے قائم نہیں ہوتی۔ پاکستان کی مثال اس کا واضح ثبوت ہے۔ سیکولرزم کا اصول ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم آزادانہ طور پر ساری دنیا میں اسلام کی پرُامن اشاعت کریں۔ اس عمل کے نتیجہ میں کسی سماج کی اکثریت میں اگر اسلامی حکومت کی طلب پیدا ہو جائے تو وہاں اسلام کی حکومت بھی قائم ہو سکتی ہے۔ اور اسلام کی حکومت ہمیشہ سماجی طلب کی بنیاد پر ہی قائم ہوتی ہے وہ مطالباتی سیاست کے ذریعہ کبھی قائم نہیں ہوتی۔

4۔ ایک مسئلہ وہ ہے جس کا تعلق جہاد سے ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں پر یہ فرض عائد کرتا ہے کہ وہ ساری دنیا سے لڑ کر انھیں مجبور کریں کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا اسلامی قانون کے ماتحت ہو کر ذمیّ کی حیثیت سے زندگی گزاریں۔ اسلامی جہاد کا یہ تصور دور جدید کے اس متفقہ بین الاقوامی تصور سے ٹکراتا ہے کہ ہر ملک پر لازم ہے کہ وہ دوسرے ملک کی سرحدوں کا احترام کرے، اور کوئی قوم کسی دوسری قوم کے معاملہ میں مداخلت نہ کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر جہاد کے اس تصور کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ یا تو بعض انتہا پسند مسلم نظریہ سازوں کی اختراع ہے یا غیر مسلم دانشوروں کا اپنا گھڑا ہوا ہے۔

قرآن کے مطابق جہاد (بمعنی قتال) کی صرف دو قسمیں ہیں

1۔ایک استیصال فتنہ کے لیے  وَقاتِلُوهُمْ ‌حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ( 8:39 193)۔ یعنی، اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ اور دوسری دفاع کے لیے  وَقاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ ‌يُقاتِلُونَكُمْ (2:190)۔ یعنی،اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو لڑتے ہیں تم سے۔

Qur'anQuotes the Qur'an

فتنہ سے مراد اُردو معنی میں ’’فتنہ و فساد‘‘ نہیں ہے۔ اس سے مراد مذہبی تعذیب (religious persecution) ہے۔ قدیم زمانہ میں عرب میں اور ساری دنیا میں یہ فتنہ موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اور صحاب رسول کو حکم دیا کہ اس کے خلاف جدوجہد کر کے اس مصنوعی رکاوٹ کا خاتمہ کر دو۔ چنانچہ انھوں نے اس کا مقابلہ کر کے اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اب اس فتنہ کا دنیا میں کہیں وجود نہیں ہے۔ اس لیے اب اس نوعیت کے جہاد کی ضرورت بھی نہیں۔

دفاع کے لیے جہاد کا حکم اب بھی باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ تاہم دفاعی جہاد شروع کرنے کے لیے بہت سی لازمی شرطیں ہیں۔ جب تک یہ شرطیں پوری نہ ہوں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ دفاع کے نام پر بطور خود کسی کے خلاف جنگ چھیڑ دے۔

ان دو صورتوں کے سوا کوئی بھی تیسری صورت نہیں ہے جس کے لیے اسلام میں جہاد (بمعنی قتال) کسی کے لیے جائز ہو۔

5۔ ایک بے حد نزاعی مسئلہ بینک کے سود کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں تمام اقتصادی سرگرمیوں کا تعلق بینک سے ہو گیا ہے جو سود کے اصول پر کام کرتا ہے۔ مسلمان سود کو حرام سمجھنے کی وجہ سے بینک سے معاملہ نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی تمام بڑی بڑی اقتصادی سرگرمیوں سے مسلمان بالکل الگ ہو گئے ہیں۔

جدید انڈسٹری میں مسلمانوں کا کوئی مقام نہیں۔ اور انڈسٹری میں بے جگہ ہونے کی بنا پر اور بھی بہت سے شعبوں میں وہ بے جگہ ہو گئے ہیں۔ مثلاً صحافت میں۔ موجودہ زمانہ میں صحافت ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ مگر صحافت میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحافت کو انڈسٹری سے غذا ملتی ہے۔ مسلمانوں کے پاس انڈسٹری نہیں، اس لیے ان کی کوئی صحافت بھی نہیں۔

اس معاملہ میں کوئی حتمی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ یہ مسئلہ ایسا ہے جس کو علما کی شوریٰ میں اجتماعی فیصلہ سے طے کیا جانا چاہیے۔ تاہم میں یہ کہنے کی جرأت کروں گا کہ اس معاملہ میں کچھ لوگوں کی یہ تجویز قابل غور ہے کہ بینک کا انٹرسٹ کمرشل انٹرسٹ ہوتا ہے اور ہم کو کمرشل انٹرسٹ اور حاجاتی سود (usury) میں فرق کرنا چاہیے۔

حاجاتی سود یک طرفہ نفع اندوزی پر مبنی ہے۔ اور اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں۔ لیکن کمرشل انٹرسٹ نفع میں شرکت (profit sharing) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس اعتبار سے وہ ایک حق تک مضاربت کے اسلامی اصول سے مشابہت رکھتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ مضاربت میں نفع اور نقصان دونوں میں شرکت ہوتی ہے اور بینک میں صرف نفع میں شرکت۔

لیکن مضاربت اگر کامیاب اصول ہے تو وہ اسی لیے کامیاب اصول ہے کہ اس میں زیادہ امکان نفع کا ہوتاہے۔ کیونکہ اگر نقصان کا اندیشہ بڑھ جائے تو مضاربت کا اصول عملاً معطل ہو جائے گا۔ اس پہلو کو سامنے رکھا جائے تو مضاربت اور کمرشیل بینکنگ کا فرق زیادہ تر جزئی اور اضافی بن جاتا ہے، نہ کہ کلی اورحقیقی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content