← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
تدریجی نہ کہ انقلابی
Urdu · 12 min
کچھ مغربی دانشور کہہ رہے ہیں کہ سوویت یونین کے سقوط (1991ء) کے بعد امریکہ نے اسلام کو اپنے دشمن کے طور پر پروجکٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس پر مسلم دانشوروں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام کسی کا دشمن نہیں ، اور امریکہ محض سازش کے تحت فرضی طور پر اسلام کو اپنے دشمن کے روپ میں پیش کر رہا ہے۔
other sourceWords of another person or source
مگر امریکہ کے سامنے اصل مسئلہ نظریاتی اسلام کا نہیں ہے بلکہ عملی مسلمانوں کا ہے۔ امریکہ کے مبصرین یہ دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین اسلام کو اسی طرح ایک ’’انقلابی‘‘ نظریہ کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس طرح اس سے پہلے کمیونزم یا مارکسزم کو پیش کیا جاتا تھا، اور جس کے نتیجہ میں کمیونزم جدید صنعتی نظام کا دشمن قرار پایا۔ اب اگر موجودہ مسلم مفکرین کی رائے کے مطابق ، اسلام اسی طرح ایک انقلابی نظریہ ہو جس طرح کمیونزم ایک انقلابی نظریہ تھا تو امریکہ بالکل حق بجانب ہو گا اگر وہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اسلام کو اپنا دشمن تصور کرے۔ مگر میں کہوں گا کہ اسلام کی یہ عسکری یا انقلابی تعبیر درست نہیں ، اس لیے امریکہ یا کسی غیر امریکہ کا یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ اسلام اس کا دشمن ہے۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ، کارل مارکس نے سماجی انقلاب کا ایک نظریہ پیش کیا جو مختلف اسباب سے ساری دنیا میں پھیل گیا۔ یہاں تک کہ وہ تمام لوگوں کے درمیان کچھ دنوں کے لیے سب سے زیادہ مقبول نظریہ بن گیا۔ مارکس کی نظر میں سیاست کے لیے طاقت انتہائی ضروری ہے۔ انقلاب پسندوں کے لیے پہلا کام یہ ہے کہ وہ سیاسی اقتدار پر قبضہ کریں۔ بقیہ تمام چیزیں اسی کے اوپر منحصر ہیں
In Marx's view power and politics are crucial, the seizure of power by the revolutionaries is the first step that determines all the rest.
(Encyclopedia Britannica, 1984, vol. 15, p. 788(
یہ انقلابی نظریہ جب دنیا میں پھیلا تو جس طرح دوسرے بیشتر حلقے اس سے متاثر ہوئے۔ اسی طرح بہت سے مسلم مفکرین بھی اس سے شدید طور پر متاثر ہوئے۔ انھوں نے اسلام کے تحریکی عمل کو بھی اسی پر ڈھال دیا۔ انھوںنے اسلامی تحریک کی تشریح اس طرح کی کہ مسلمانوں کی نئی نسلوں کو دکھائی دینے لگا کہ اسلام بھی ، کمیونزم کی طرح، ایک انقلابی نظریہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کی طاقت پر بزور قبضہ کر کے پوری زندگی کے نظام کو شریعت کے مطابق قائم کیا جائے۔
اس اسلامی تصور میں ، کمیونزم کی طرح، یہ ضروری قرار پایا کہ سب سے پہلے سیاسی اقتدار پر قبضہ حاصل کیا جائے۔ اور چونکہ اقتدار کی کنجیوں کے مالک آسانی سے اس کو کسی اور کے حوالے نہیں کرتے۔ اس لیے اہل اسلام کا فرض ہے کہ وہ لڑ کر ارباب حکومت سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں تاکہ زمین کے اوپر شریعتِ الٰہی کے قوانین نافذ کیے جا سکیں۔
اسلام کی یہی وہ انقلابی تفسیر ہے جس نے موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو ہر جگہ متحرک کر رکھا ہے۔ وہ ہر ملک میں حکمراں طبقہ سے ’’اقتدار کی کنجیاں‘‘ چھیننے میں مصروف ہیں۔ اور جس طرح کمیونسٹ لوگ اپنے اس مقصد میں تشدد کی آخری حد تک پہنچ گئے ، اسی طرح یہ مسلم انقلابی بھی تشدد کے تمام ممکن حربوں کو استعمال کر کے اپنے مقصد کے حصول میں لگے ہوئے ہیں۔
مسلم انقلابیوں نے ساری دنیا میں یہ جو متشدانہ صورت حال پیدا کر رکھی ہے ، وہ یقینی طور پر نہ صرف مغربی تہذیب کے لیے بلکہ ساری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ اگر یہی اسلام ہو تو یقینی طور پر دنیا حق بجانب ہو گی اگر وہ اسلام کو اپنے لیے خطرہ سمجھے اور دور جدید کے دانشور خطرۂ اسلام (Threat of Islam) جیسی کتابیں لکھ کر شائع کریں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طرح مارکسزم تاریخ انسانی کی ایک خود ساختہ تشریح تھی ، اسی طرح اسلام کی یہ نام نہاد انقلابی تشریح بھی یقینی طور پر بالکل بے بنیاد تشریح ہے۔ اس کا کوئی بھی تعلق اس اسلام سے نہیں ہے جو قرآن و سنت کی صورت میں ہمیں دیا گیا ہے۔
ایک لفظ میں ، اسلام کا طریق کار تدریجی ہے ، انقلابی نہیں ہے۔ فطرت کا پورا نظام تدریج کے اصول پر چلتا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اس لیے وہ بھی مکمل طور پر ایک تدریجی نظام ہے، نہ کہ نام نہاد انقلابی نظام۔
صحیح البخاری میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ قرآن میں ابتداء ًوہ سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ تائب ہو کر اسلام میں آ گئے (اور ان میں قبولیت کی استعداد پیدا ہو گئی) تو حلال اور حرام کے احکام اترے(حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الإِسْلاَمِ نَزَلَ الحَلاَلُ وَالحَرَامُ)۔ اور اگر ابتدا ہی میں یہ حکم اترتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے۔ اور اگر ابتدا ہی میں یہ حکم اترتا کہ زنانہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ روایت اور اس طرح کے دوسرے نظائر ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں اصلاح اور تبدیلی کا طریقہ تدریجی طریقہ ہے۔ موجودہ نام نہاد انقلابی (revolutionary) طریقہ اسلام کا طریقہ نہیں۔ خالص اسلامی نقطۂ نظر سے، موجودہ زمانہ کی تمام وہ انقلابی تحریکیں غیراسلامی تحریکیں ہیں جو تشدد کے زور پر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں تاکہ اسلام کا سیاسی اور قانونی نظام نافذ کریں۔ اس قسم کی تحریکیں چلانے والے ا فراد یقینی طور پر امن عامہ کے لیے خطرہ ہیں۔ مگر جہاں تک خدا کے دین اسلام کا تعلق ہے، وہ ہرگز امن عالم کے لیے خطرہ نہیں ۔ کیونکہ اسلام اپنا طریق فکر اور اپنا طریق زندگی تمام تر امن اور ترغیب اور تدریج کے اصول پر لانا چاہتا ہے، نہ کہ زور زبردستی کے ذریعہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اجتہاد دوطرفہ معرفت کا طالب ہے۔ ایک طرف اسلام اور دوسری طرف جدید احوال۔ اگر دورِ جدید کو اس قسم کی اجتہادی نگاہ سے دیکھا جاتا تو نتیجہ بالکل مختلف ہوتا۔ اب دکھائی دیتا کہ جدید نظام سیاست ، کم از کم نظری طور پر ، اسلام کی روح سے بہت قریب ہے ۔ بلکہ وہ اسلام کے لائے ہوئے فکری انقلاب ہی کا ایک ضمنی حاصل ہے۔
مثلاً موجودہ دور میں عدلیہ اور انتظامیہ کا ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا ، قانون کے آگے ہر شخص کا اصولی طور پر برابر ہونا، سماجی انصاف ، انسانی برابری کی قدروں کا عالمی اعتراف، مذہبی جبر سے حکومت کا رشتہ منقطع کیا جانا ، وغیرہ۔
اس قسم کے بہت سے اصول (norms) جو موجودہ زمانہ میں عمومی طور پر تسلیم کر لیے گئے ہیں، وہ عین اسلام کے حق میں ہیں۔ بلکہ اسلام کے لیے لائے ہوئے فکری اور عملی انقلاب ہی کا ایک بالواسطہ نتیجہ ہیں۔ ان کی حیثیت حدیث کے الفاظ میں ’’ ضَالّةُ المُؤْمنِ ‘‘ کی تھی(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2882)۔ اگر مجتہدانہ بصیرت سے کام لیا جاتاتو یہ سب اسلام کے موافق نظر آتے ۔ ضرورت تھی کہ ان مثبت عوامل کو اسلام کے حق میں حقیقت پسندی اور حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر مقلدانہ ذہن ہر نئی چیز سے بھڑکتا ہے ، خواہ وہ عین اس کی اپنی ہی چیز کیوں نہ ہو۔ یہی مقلدانہ نفسیات موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لیے نئی چیزوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بن گئی۔