← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
میدان عمل میں تبدیلی
Urdu · 6 min
میدانِ عمل میں تبدیلی
موجودہ زمانہ میں خاص طور پر مغربی میڈیا مسلسل یہ تاثر دے رہا ہے کہ اسلام اپنے روایتی تصور کے اعتبار سے ایک ناروا دار مذہب (intolerant religion) ہے۔ وہ موجودہ روادار دنیا (tolerant world) میں چل نہیں سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام کی ازسرنو تشکیل کر کے یا اس میں تغیر و تبدیل کر کے اس کو روا دار مذہب بنایا جائے۔ ورنہ دنیا اسے رد کر دے گی۔ کیوں کہ آج کی دنیا کسی بھی ایسی آئیڈیالوجی کو قبول نہیں کر سکتی جس کی بنیاد نارواداری پر ہو، جیسا کہ کمیونزم کے ساتھ پیش آیا۔
مگر یہ تشکیل نو کا مسئلہ نہیں بلکہ اعلان نو کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ مغربی میڈیا نے یہ نظریہ ان عملی واقعات کو سامنے رکھ کر بنایا ہے جو آج اسلام کے نام پر جگہ جگہ کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً غیر مسلم قوموں کے ساتھ فلپائن ، کشمیر ، چیچنیا، بوسنیا وغیرہ میں۔ اور خود مسلم گروہوں کے ساتھ پاکستان، مصر ، الجزائر، افغانستان وغیرہ ہیں۔
یہ لڑائیاں جو کچھ مسلمان کہیں غیر مسلم حکمرانوں کے ساتھ اور کہیں خود مسلم حکمرانوں کے ساتھ اسلام کے نام پر لڑ رہے ہیں وہ سراسر غیر اسلامی ہیں۔ بلکہ خالص فقہی زبان میں یہ تمام لڑائیاں فعل حرام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور یہ اس مسئلہ میں اسلام کا وہ حکم ہے جو اب سے چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام نے واضح طور پر بتایا تھا اور آپ کے بعد وہ فقہ میں باقاعدہ طور پر مدون ہو چکا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے بعد کے دور کے بارے میں بہت سی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان کو کسی بھی مجموعۂ حدیث میں کتاب الفتن کے ابواب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان روایتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر بتا دیا تھا کہ میرے بعد حکمرانوں میں بگاڑ آئے گا مگر تم اس سیاسی بگاڑ پر صبر کرنا اور ہرگز ان کے خلاف جنگی اقدام نہ کرنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سلسلہ کی ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے صحیح مسلم کے شارح امام نووی لکھتے ہیں کہ سیاسی حاکموں سے ان کے حکومتی معاملات کے بارے میں تعرض نہیں کرنا چاہیے۔ اور اگر کوئی بات واضح طور پر قواعد اسلام کے خلاف ہو تب بھی قول کے درجہ میں اس کا اظہار کرنا چاہیے۔ اور جہاں تک ان کے خلاف عملی بغاوت اور جنگ کا تعلق ہے تو وہ حرام ہے اور اس پر اہل اسلام کا اجماع ہے۔ خواہ یہ حکمراں فاسق اور ظالم ہوں (وَأَمَّا الْخُرُوجُ عَلَيْهِمْ وَقِتَالُهُمْ فَحَرَامٌ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ كَانُوا فَسَقَةً ظَالِمِينَ) شرح النووی علی مسلم، جلد12، صفحہ 229۔
other sourceWords of another person or source
امام نووی مزید لکھتے ہیں کہ علما نے کہا ہے کہ حکمراں کو معزول نہ کرنا اور اس کے خلاف بغاوت کا حرام ہونا، اس کا سبب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے فتنے پیدا ہوں گے اور خون بہایا جائے گا اور باہمی فساد واقع ہو گا۔ پس حکمراں کو معزول کرنا اس سے زیادہ بگاڑ پیدا کرے گا جتنا کہ اس کا باقی رہنا (وَسَبَبُ عَدَمِ انْعِزَالِهِ وَتَحْرِيمِ الْخُرُوجِ عَلَيْهِ مَا يَتَرَتَّبُ عَلَى ذَلِكَ مِنَ الْفِتَنِ وَإِرَاقَةِ الدِّمَاءِ وَفَسَادِ ذَاتِ الْبَيْنِ فَتَكُونُ الْمَفْسَدَةُ فِي عَزْلِهِ أَكْثَرَ مِنْهَا فِي بَقَائِهِ)شرح النووی علی مسلم، جلد12، صفحہ 229۔
other sourceWords of another person or source
حکمرانوں سے جنگ کوحرام قرار دینے کا مطلب مسلمانوں کو بے عمل بنانا نہیں ہے۔ بلکہ اس طرح اہل اسلام کو یہ راستہ دکھایا گیا ہے کہ وہ تشدد کی طاقت کو استعمال کرنے سے بچیں اور امن کی طاقت کو استعمال کریں۔ اسلام میں جس طرح فرد کی اصلاح ضروری ہے ، اسی طرح سماج کی اصلاح اور حکومت کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ مگر اصلاح کی یہ کوشش اسی دائرہ میں رہ کر کی جانی چاہیے جو حالات کے اعتبار سے امن کے ذریعہ ممکن ہے۔
بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانہ میں حکومت میں بہت زیادہ بگاڑ آ گیا تھا۔ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں علما اور صلحاء مسلم معاشرہ میں موجود تھے۔ مگر انھوں نے ان حکمرانوں کے خلاف بغاوت نہیں کی۔ ان کی یہ روش بے عملی نہیں تھی۔ یہ بے فائدہ عمل سے ہٹ کر بافائدہ عمل کے میدان میں سرگرم ہونا تھا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانہ کے علما اور اہل دین نے حکومت سے ٹکراؤ کو چھوڑ قرآن ، حدیث ، سیرت ، تاریخ اور مختلف علوم و فنون میں محنت شروع کر دی۔ وہ دعوت و اصلاح کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ انھوں نے نئی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی جدوجہد میں اپنے آپ کو لگا دیا۔ وغیرہ
یہی وہ کوششیں ہیں جو دوراول میں شاندار اسلامی تمدن کی صورت میں ظاہر ہوئیں۔ اس کے برعکس اگر وہ حکمرانوں سے لڑ جاتے تو وہ صرف بربادی کی تاریخ بناتے نہ کہ تعمیر کی تاریخ۔
اس نوعیت کے چند امور اور ہیں جن کا تذکرہ یہاں مناسب ہو گا۔ تاہم ان کے معاملہ میں اسلام کی پوزیشن معروف معنوں میں تشکیل جدید کی نہیں ہے ، بلکہ اعلان جدید کی ہے۔ یہاں ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ انسانی غبار کو ہٹا کر قرآن و سنت کی روح کو ہم ازسرِنو دریافت کریں۔