← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
اسپین کی تاریخ برعکس صورت میں
Urdu · 9 min
یہاں میں اضافہ کروں گا کہ اجتہادی بصیرت سے محرومی کی بنا پر موجودہ صدی میں ہمارے ساتھ جو المیہ پیش آیا ، یہی برعکس صورت میں مسیحی چرچ کی بے بصیرتی کے نتیجہ میں اسپین میں ان کے ساتھ پیش آ چکا ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں اسپین میں مسلمانوں کا داخلہ محض ایک سیاسی داخلہ نہ تھا، وہ نئے علوم اور نئی تکنیک کا داخلہ تھا۔ چنانچہ مسلمانوں نے اسپین میں صرف اپنی سیاسی بالادستی قائم نہیں کی۔ بلکہ انھوں نے غیر معمولی محنت سے ملک کی تاریخ بدل دی۔ انھوں نے اسپین کو ہم عصر یورپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔
لیکن اس زمانہ کے مسیحی علما ٹھیک اسی طرح اجتہادی بے بصیرتی کا شکار تھے جس طرح مسلم علما انیسویں صدی میں اجتہادی بے بصیرتی میں مبتلا ہو گئے۔ چنانچہ ان مسیحی علما نے اپنے ملک میں مسلمانوں کے سیاسی داخلہ کو تو دیکھا مگر وہ ان کے اس پہلو کو نہ دیکھ سکے کہ وہ جدید علمی اور فنّی ترقیوں کے نقیب (harbinger) بن کر یہاں آئے ہیں۔ اپنی اس بے بصیرتی کو انھوں نے مسلمانوں کے اوپر انڈیل دیا اور انھیں اپنے ملک سے نکالنے کی مجنونانہ کوشش شروع کر دی۔ جب کہ مقامی اسپینیوں کی علمی پس ماندگی کا یہ عالم تھا کہ مسلمان جب مجبورانہ طور پراسپین سے واپس آ گئے تو ان کی چھوڑی ہوئی رصدگاہوں کا کوئی مصرف اسپینی مسیحیوں کو معلوم نہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے ان رصدگاہوں کو چرچ کے گھنٹہ گھرمیں تبدیل کر دیا۔
نومبر 1994ء میں میں نے اسپین کا سفر کیا تھا۔ میں نے حیرت انگیز طور پر پایا کہ اسپین دوسرے ترقی یافتہ یورپی ملکوں کے مقابلہ میں کمتر درجہ کا ملک نظر آتا ہے۔ جب کہ آٹھ سو سال پہلے وہ جدید ترقیات کا ہر اول بنا ہوا تھا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مسیحی علما اسپینی مسلمانوں کے علمی پہلو کو نہ دیکھ سکے۔ وہ صرف ان کے سیاسی پہلو کو دیکھ کران کے ساتھ منتقمانہ لڑائی لڑنے لگے۔ موجودہ زمانہ میں خود یورپ کے انصاف پسند مفکرین نے اعتراف کیا ہے کہ اسپین اگر مسلمانوں کے ساتھ سیاسی انتقام میں نہ پڑتا اور ان کی لائی ہوئی علمی اور فنی ترقیوں میں شریک ہو جاتا تو آج بلاشبہ اسپین براعظم یورپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہوتا۔
انیسویں صدی میں جس مجتہدانہ رہنمائی کی ضرورت تھی وہ یہ تھی کہ مسلم علما یہ فتویٰ دیتے کہ یورپی قوموں سے سیاسی ٹکراؤ کو نظرانداز کرو اور اس کے بجائے ایک طرف ان قوموں کو پرامن انداز میں دعوت حق کامخاطب بناؤ، اور دوسری طرف جدید تعلیم اور ریسرچ میں ان کے شریک بن جاؤ۔ اس طرح ایک طرف اسلام کی اشاعت ہوتی ۔ اور دوسری طرف مسلمان جدید علوم اور جدید ترقیوں میں دوبارہ اپنا وہ سفر شروع کر دیتے جو پندرھویں صدی میں اسپین میں ختم ہو گیا تھا۔ مگر مجتہدانہ بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے یہ سارا امکان استعمال ہونے سے رہ گیا۔
موجودہ زمانہ میں جب مغربی قومیں مسلم علاقوں میں گھس گئیں تو مسلم علما نے قدیم روایات کے مطابق ، ان کے خلاف تیر اور تلوار اکٹھا کیے اور ان سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ ان کا یہ اقدام کامل شکست اور تباہی کی صورت میں برآمد ہوا۔ اس المیہ کا سبب مغربی قوموں کی سازشیں نہیں تھیں ، جیساکہ عام طور پر کہا جاتا ہے ، بلکہ خود مسلم رہنماؤں کی اجتہادی نااہلی تھی۔
اصل یہ ہے کہ ہتھیار کا تعلق زمانی حالات سے ہے۔ قدیم زمانہ کا حریف چونکہ تیر اور تلوار سے مسلح ہو کر آتا تھا اس لیے ہمارے اسلاف نے تیر اور تلوار سے مسلح ہو کر اس کا بھرپور مقابلہ کیا۔ لیکن مغربی استعمار کا معاملہ قدیم حریفوں سے بالکل مختلف تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے پچھلے کئی سو سال کے عمل کے نتیجہ میں خود قوت کے معیار کو بدل دیا تھا۔ اب قوت کا سرچشمہ علم تھا نہ کہ تلوار۔ مسلم رہنما اگر اس راز کو جانتے تو وہ کہتے کہ نئے حریف سے مقابلہ کرنے کے لیے علم کی قوت فراہم کرو۔
موجودہ زمانہ میں بعض سیکولر مسلمانوں نے مسلمانوں کو جدید علوم کے حصول کی طرف متوجہ کیا اور اس سلسلہ میں قرآن کی ان آیتوں کا حوالہ دیا جن میں علم کا ذکر ہے۔ لیکن ہمارے علما نے یہ بحث چھیڑ دی کہ قرآن میں علم سے مراد علم دین ہے، نہ کہ جدید طبیعی علوم جو یورپ کے راستہ سے آ رہے ہیں۔ ہمارے علما کم از کم دو سو سال تک اس غیر متعلق بحث میں الجھے رہے، یہاں تک کہ مسلم قوم علوم جدیدہ میں ساری دنیا سے بچھڑ گئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہمارے علما اجتہاد کا دروازہ بند کر کے اگر اپنے آپ کو مجتہدانہ بصیرت سے محروم نہ کر چکے ہوتے تو وہ کہہ سکتے تھے کہ جدید علوم کی اہمیت اگرچہ قرآن کی آیتِ علم سے نہیں نکلتی مگر وہ قرآن کی آیت قوت سے پوری طرح نکل رہی ہے۔ یہ علوم دور جدید کی قوت ہیں اس لیے قرآن (8:60)کے حکم (اعداد قوت) کے مطابق ، ہمیں چاہیے کہ ان کو بھرپور طور پر حاصل کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ میں ایک عجیب مظہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ مسلمان جو دورِ زراعت میں دنیا کی امامت کر رہے تھے وہ دورِ صنعت میں ایک پچھڑا ہوا گروہ بن کر رہ گئے۔ اس مظہر کی توجہ عام طور پر صرف ایک کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ یہ المیہ صلیبیوں اور صہیونیوں کی سازش کی بنا پر پیش آیا ہے۔ اسی ذہن کی ترجمانی کرتے ہوئے 80 سال پہلے شبلی نعمانی نے کہا تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کہاں تک لو گے ہم سے انتقام فتح ایوبی
دکھاؤ گے ہمیں جنگِ صلیبی کا سماں کب تک
آج بھی مسلمانوں کے تمام اخبار و رسائل خواہ وہ اُردو کے ہوں یا عربی کے یا کسی اور زبان کے ، سب کے سب ’’نظریۂ سازش‘‘ کی تفصیلات سے بھرے رہتے ہیں۔ مگر یہ نظریہ نہ صرف لغو ہے بلکہ وہ قرآن کی تردید کے ہم معنی ہے۔ کیونکہ قرآن میں صاف طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں آدمی جو کچھ بھگتتا ہے وہ صرف اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس پس ماندگی کا واحد سبب جدید علوم میں مسلمانوں کا پچھڑا پن ہے۔مسلمان جدید علوم میں پیچھے ہو گئے ، اس لیے وہ جدید صنعت میں بھی پیچھے ہو گئے ، اور جدید صنعت میں پیچھے ہونے کے نتیجہ میں وہ دور جدید کے ہر شعبہ میں پچھڑ کر رہ گئے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں تمام چیزوں کا تعلق علم سے ہو گیا ہے۔