← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
اجتہادی کوتاہی کے نتائج
Urdu · 9 min
مجتہدانہ بصیرت سے خالی ہونے کانقصان سب سے پہلے ملّت کو نو آبادیاتی نظام کے خلاف لڑائی میں بھگتنا پڑا۔ اصل صورت حال سے عدم واقفیت کے نتیجہ میں عرصہ تک یک طرفہ قربانی دی جاتی رہی ، جب کہ ان قربانیوں کا کوئی بھی فائدہ ملت کے حصہ میں آنے والا نہ تھا۔
جس وقت مغربی استعمار کا مسئلہ پیدا ہوا، ساری دنیا کے مسلم علما پر روایتی اور تقلیدی ذہن چھایا ہوا تھا۔ چنانچہ جب مغربی قومیں مسلم دنیا میں داخل ہوئیں تو اس کو انھوں نے ویسا ہی ایک سیاسی داخلہ سمجھا جیسا سیاسی داخلہ اس سے پہلے بار بار مسلم دنیا میں پیش آیا تھا۔ وہ اپنے روایتی ذہن کے تحت اس کے سوا کچھ اور نہ سوچ سکے کہ ماضی کے مماثل واقعات کی طرح اس کو بھی محض سیاسی جارحیت کا ایک واقعہ سمجھیں ، اور دوبارہ اسی انداز کی دفاعی تدبیر اختیار کریں جو اس سے پہلے اس طرح کے مواقع پر اختیار کی گئی تھی۔
ہمارے علما اگر زمانہ کی تبدیلیوں سے واقف ہوتے اور مجتہدانہ بصیرت سے کام لے سکتے تو وہ کہتے کہ مغربی قوموں کا پیدا کردہ مسئلہ سادہ معنوں میں صرف سیاسی جارحیت (political aggression) کا مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک علمی اقدام (scientific advancement) کا مسئلہ ہے۔ اگر وہ بروقت اس راز کوجان لیتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ وقتی طور پر تم ان کی سیاسی بالادستی کو گوارہ کر لو، اور جن علوم کی طاقت سے وہ آگے بڑھ رہے ہیں ، ان کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کرو۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ ٹھیک وہی تدبیر ہوتی جس کو اس سے پہلے خود ہمارے مقابلہ میں یورپ کی صلیبی قوموں نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کو قبول کر کے ان کے علوم کو سیکھنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ان میں اضافہ کر کے خود تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی قوموں کا مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ٹکرانے کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ سیکھنے اور تیاری کرنے کا مسئلہ تھا۔ مگر مجتہدانہ صلاحیت سے محرومی کی بنا پر ہمارے علما مسلمانوں کو یہ رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔
اگر ہمارے رہنما بروقت اس اجتہادی بصیرت کا ثبوت دیتے تو آج مسلم دنیا کی تاریخ اسی طرح عظمت کی تاریخ ہوتی جس طرح ماضی میں صلیبیوں کی تاریخ دوبارہ عظمت کی تاریخ بنی۔ اور جس کا ایک جدید نمونہ ہمیں جاپان کی صورت میں نظر آتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد 1945ء میں جاپان پر امریکہ کی سیاسی اور فوجی برتری قائم ہو گئی۔ مگر جاپان کے دانشور طبقہ نے فوری طور پر یہ جان لیا کہ امریکہ کی فوجی اور سیاسی بالادستی کسی ’’سازش‘‘ کا نتیجہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جاپان کے مقابلہ میں امریکہ نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کر لی ہے اور جاپان اس اعتبار سے امریکہ سے پیچھے چلا گیا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے امریکہ کو یہ موقع دیا کہ وہ جاپان کو شکست دے کر اس پر قابض ہو جائے۔ جاپان نے اس فکری رہنمائی کی روشنی میں امریکہ کی سیاسی اور فوجی بالادستی کو نظرانداز کیا اور اپنی ساری توجہ سائنسی تعلیم پر لگا دی۔ اس کا نتیجہ حیرت ناک طور پر جاپان کی موافقت میں نکلا — نصف صدی سے بھی کم مدت میں مفتوح نے فاتح کے اوپر غلبہ حاصل کر لیا۔
انیسویں صدی کے علما اگر مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہوتے تو وہ اپنے لحاظ سے اسی قسم کا کام کرتے جو صلیبیوں اور جاپانیوں نے اپنے لحاظ سے کیا۔ وہ جہاد کا فتویٰ دینے کے بجائے علم کا فتویٰ دیتے۔ وہ جنگی تیاری کے بجائے قوم کو علمی تیاریوں کی طرف متوجہ کرتے۔ وہ دین کے ضروری تحفظ کے ساتھ تمام مسلم قوموں کو علوم جدیدہ کے حصول میں لگا دیتے۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلتا اس کے بارے میں کسی فرضی قیاس کی ضرورت نہیں۔ اولاً یورپ اور پھر جاپان کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اس معاملہ میں واضح تاریخی مثال قائم کر دی ہے اور کوئی بھی صاحب نظر آدمی اس تاریخ کا مطالعہ کر کے اس معاملہ کو بخوبی طور پر سمجھ سکتا ہے۔
اجتہاد کے سلسلہ میں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ کسی مخصوص صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اگر کوئی ایسی عملی تجویز پیش کی جائے جو ایک طرف مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو اور دوسری طرف اسلام کے روح و مزاج سے بھی ہم آہنگ یا غیر متصادم ہو تو اسے ایک مجتہدانہ رائے قرار دیا جائے گا۔ خواہ اس کو پیش کرنے والا کافر اور اسلام کا منکر ہی کیوں نہ ہو۔ نیز ایسی رائے کو قبول کرنا اہلِ اسلام کے لیے درست بلکہ وقت کا عین مطلوب ہو گا۔ یہی بات شاطبی نے ان لفظوں میں لکھی ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’ وَقَدْ أَجَازَ النُّظَّارُ وُقُوعَ الِاجْتِهَادِ فِي الشَّرِيعَةِ مِنَ الْكَافِرِ الْمُنْكِرِ لِوُجُودِ الصَّانِعِ وَالرِّسَالَةِ وَالشَّرِيعَةِ، إِذْ كَانَ الِاجْتِهَادُ إِنَّمَا يَنْبَنِي عَلَى مُقَدِّمَاتٍ تُفْرَضُ صِحَّتُهَا، كَانَتْ كَذَلِكَ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ أَوْ لَا ‘‘(الموافقات، جلد4، صفحہ 58)۔ اور کچھ اہل علم و نظر نے تو خالق کے وجود اور رسالت اور شریعت کا انکار کرنے والے ایک نان مسلم سے بھی شریعت میں اجتہاد کے وقوع کو جائز قرار دیا ہے۔ کیوں کہ اجتہاد تو ان اصولوں پر مبنی ہوتا ہے، جن کو درست مان لیا جاتا ہے، خواہ وہ بذاتِ خود صحیح ہوں یا نہ ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی لیے شعوری یا غیر شعوری طور پر ہندستان کے اکابر علما اور مسلم دنیا کے علما کی اکثریت نے خلافت تحریک کے زمانے میں تشدد کے مقابلہ عدم تشدد کی پالیسی کو عملاً اختیار کیا جو ایک غیر مسلم کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔
یہ بات عین فطری ہے۔ کیوں کہ اجتہاد کا تعلق امور آخرت سے نہیں ہے بلکہ اموردنیا سے ہے۔ اور امور دنیا میں کسی بھی شخص سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔