← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
تقلید کے نقصانات
Urdu · 16 min
اجتہاد کا بدل تقلید ہے۔ جہاں اجتہاد کا عمل بند ہو گا وہاں تقلید کا عمل جاری ہو جائے گا، اور تقلید انسانی صلاحیتوں کے لیے موت کا حکم رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان جس المناک صورتِ حال سے دوچار ہیں اس کی کوئی ایک وجہ بتانا ہو تو بلاشبہ وہ یہی ہو گی کہ اجتہاد کا دروازہ بند کر کے امت کو تقلید کے اندھیرے میں ڈال دیا گیا۔
اجتہاد کا عمل رکنے سے جو خرابیاں آتی ہیں ان میں سے ایک ہلاکت خیز خرابی یہ ہے کہ مسلمان خود اپنے دین کے نئے امکانات کو دریافت کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو جو دین دیا گیا ہے وہ ایک ابدی دین ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہے کہ وہ ہر آنے والے دور کی امکانیات کو سموئے ہوئے ہے۔ ان مخفی امکانیات کو مجتہدانہ بصیرت ہی کے ذریعہ دریافت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب اجتہاد کو ممنوع ٹھہرا کر تقلید کو رائج کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس واحد دروازہ ہی کو بند کر دیا گیا جس کے ذریعہ مسلمان اپنے دین کے نئے نئے امکانات تک پہنچ سکتے تھے۔
قرآن میں بہت سی آیتیں استقبال کے صیغہ میں ہیں۔ مثال کے طور پر تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا ہم (آئندہ) ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے نفسوں میں بھی ، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (41:34)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریلؑ آئے اور یہ خبر دی کہ آئندہ فتنے اٹھیں گے۔ آپ نے جبریل سے پوچھا کہ اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ خدا کی کتاب۔ اس میں آپؐ سے پہلے کی خبریں ہیں اور آپؐ کے بعد جو کچھ پیش آئے گا اس کی بھی خبریں ہیں (فيه نَبَأُ ما قَبْلَكُم، وَنَبَأُ ما هُوَ كائِنٌ بَعْدَكُم) اور یہ کہ قرآن کے عجائب ختم نہ ہوں گے (وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ) جامع الاصول لابن الأثير، حدیث نمبر 6232۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ قرآن میں اللہ نے اولین اور آخرین کے علم کو جمع کر دیا ہے اور جو ہوا اور جو ہو گا ان سب کا علم بھی (جَمَعَ اللهُ في هذا الكتابِ عِلْمَ الأوَّلينَ والآخرينَ، وعِلْمَ ما كانَ، وعِلْمَ ما يكونُ )جامع الاصول فی احادیث الرسول، اثر نمبر 6233۔
other sourceWords of another person or source
جب خدا کے بھیجے ہوئے دین میں قیامت تک کی باتیں چھپا دی گئی ہیں تو لازم ہے کہ وہ ہر دور میں ظاہر ہوتی رہیں۔ مگر یہ کہنا شاید مبالغہ نہیں ہو گا کہ پچھلے چھ سو سال سے مسلم دنیا کوئی بھی ایسی کتاب پیش نہ کر سکی جس کو تخلیقی عمل (creative works) کہا جا سکے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی اجتہاد کے مسئلہ پر کتاب لکھتے ہیں اور اس کا نام خالص تقلیدی انداز میں عقد الجید فی احکام الاجتھاد والتقلید رکھتے ہیں۔ غالباً آخری تخلیقی کتاب جو مسلم دنیا پیش کر سکی وہ مقدمہ ابن خلدون ہے۔ اس کے بعد پچھلے چھ سو سال کے اندر جو کتابیں لکھی یا چھاپی گئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب روایتی اور تقلیدی انداز میں ہیں۔ نہ کہ تخلیقی اور اجتہادی انداز میں۔
مثال سے اس معاملہ کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، موسیٰؑ کا ہم زمانہ مصری بادشاہ سمندر میں غرق کر دیا گیا تھا۔ قرآن میں ہے کہ اللہ نے اس فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا — ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے ،اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں‘‘ (10:92) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت میں ایک حتمی اعلان تھا کہ فرعون کا جسم معجزاتی طور پر محفوظ رکھا جائے گا ، تاکہ اہل اسلام اس کو استعمال کر کے بعد کی انسانی نسلوں کے سامنے کتاب الٰہی کی صداقت کا اظہار کر سکیں۔ یہ علمی خزانہ مصر کے اہرام میں محفوظ تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ مصری علما صرف اتنا ہی جان سکے کہ یہ بلند اہرام لعنۃ الفراعنۃ کے حامل ہیں۔ صدیوں پر صدیاں گزرتی چلی گئیں اور کسی بھی مسلم عالم کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ خدا کی اس چھپی ہوئی نشانی سے پردہ اٹھائے اور قرآن کی ایک ناقابل انکار صداقت کے طور پر اس کو دنیا کے سامنے پیش کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سب سے پہلے ایک فرانسیسی اسکالر پروفیسر لاریٹ (Victor Loret, 1859-1946) نے 1898ء میں فرعون کے اس محفوظ جسم کو اہرام کے اندر سے نکالا۔ پھر اس ممی کیے ہوئے جسم کو لا کر قاہرہ کے میوزیم میں رکھا گیا۔ اس کے بعد پہلی بار 8 جولائی 1907ء کو پروفیسر الیٹ اسمتھ (Sir Grafton Elliot Smith, 1871-1937) نے اس جسم کے غلاف کو کھول کر اس کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا اور پھر وہ کتاب لکھی جو حسب ذیل نام سے مشہور ہے
The Royal Mummies 1912
یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی پہلا شخص جس نے اس دریافت شدہ مواد کو صداقت اسلام کے لیے استعمال کیا وہ صرف ایک فرانسیسی عالم ڈاکٹر موریس بکائی تھا۔ وہ جون 1975ء میں قاہرہ گیا۔ وہاں اس نے براہ راست طور پر میوزیم میں اس کا مطالعہ کیا۔ حتیٰ کہ اس معاملہ کی کامل تحقیق کے لیے اس نے عربی زبان سیکھی ، تاکہ قرآن میں موسیٰ اور فرعون کے قصہ کو براہ راست مطالعہ سے سمجھ سکے۔ ان سب کے بعد ا س نے اپنی شاہکار تصنیف فرانسیسی زبان میں لکھی۔ جس کا ترجمہ اب مختلف عالمی زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کی پیشین گوئی کو واقعاتی طور پر ثابت کرنے والا صرف ایک فرانسیسی عالم تھا۔ اسی کو یہ توفیق ملی کہ وہ اس کی بابت یہ پُر اہتزاز بیان (thrilling statement) تاریخ میں ثبت کر سکے کہ وہ لوگ جو مقدس کتاب کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرہ کو دیکھیں۔ وہاں وہ قرآن کی ان آیتوں کی شاندار تصدیق پا لیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے متعلق ہیں
Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharoah's body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo.
) The Bible, the Quran, and Science, Maurice Bucaille, p.241(
other sourceWords of another person or source
موجودہ زمانہ میں جب مہلک جنگی ہتھیار وجود میں آئے تو ساری دنیا میں جنگ کو برا سمجھا جانے لگا۔ تمام سنجیدہ لوگوں کی نظر میں جنگ ایک ناپسندیدہ چیز بن گئی۔ کیوں کہ جدید ہتھیاروں کے بعد جنگ اب صرف تباہی کی چیز بن چکی تھی۔
ایسے ماحول میں یہ کہا جانے لگا کہ اسلام اب نئے دور کے لیے غیرمتعلق (irrelevant) ہو چکا ہے۔ دور جدید میں وہ کوئی تعمیری رول ادا نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اسلام کاانحصار جنگی طاقت پر ہے ، اور جنگی طاقت میں اب سرے سے کوئی تعمیری رول ادا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس نئے ماحول میں ضرورت تھی کہ اسلام کی امن کی طاقت کو دلائل و شواہد سے واضح کیا جائے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم ذہن صرف مدافعت کرنے میں مشغول رہے۔ انھوں نے اسلامی جنگ کے قوانین پر موٹی موٹی کتابیں لکھ ڈالیں۔ پہلا شخص جس نے اسلام کی امن کی طاقت ، یا دوسرے لفظوں میں ، اسلام کی دعوتی طاقت کو منظم اور مدلل انداز میں پیش کیا، وہ ایک عیسائی اسکالر ڈاکٹر ٹی ڈبلیو آرنلڈ (1864-1930)تھے۔ انھوں نے لمبی محنت کے بعد1896ء میں اپنی کتاب دعوت ِاسلام (The Preaching of Islam) چھاپی۔ اس کتاب میں انھوں نے نہایت مسکت انداز میں دکھایا کہ اسلام کی سب سے بڑی طاقت اس کی نظریاتی طاقت ہے ، اور یہ نظریاتی طاقت خود اپنے آپ میں یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ انسانوں کو مسخر کر سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح موجودہ زمانہ میں جب سائنسی حقائق ظاہر ہوئے اورسائنس کی عظمت لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئی تو اس کی ضرورت پیدا ہوئی کہ خدا کے دین کی صداقت کو سائنس کی سطح پر ازسرِ نو مدلل کیا جائے۔ یہاں بھی کوئی مسلم اسکالر اس ضرورت کو پورا کرنے والا نہ بن سکا۔ پہلی بار جس نے اس کام کووقت کے علمی معیار پر انجام دیا ، وہ فرانسیسی اسکالر موریس بوکائی(1920-1998) تھا جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس کی اس کتاب کا نام یہ ہے
Maurice Bucaille, The Bible, the Quran, and Science (1976)
اسی طرح جدید ذوق کے مطابق ضرورت تھی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو خالص تاریخی معیار پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہاں بھی مسلم علما اوردانشور اس ضروری کام کوانجام نہ دے سکے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم سیرت نگاروں نے سیرت پر جو کتابیں لکھی ہیں وہ تقریباً سب کی سب اعتقادی انداز میں ہیں، نہ کہ جدید مفہوم کے مطابق، علمی انداز میں۔
اس ضرورت کو بھی پہلی بار جس شخص نے پورا کیا وہ ایک مسیحی ڈاکٹر مائیکل ہارٹ(پیدائش1932) تھا جس نے تاریخ کے سو بڑے انسانوں پرایک ضخیم کتاب لکھی۔ اور اس میں دکھایا کہ پوری بشری تاریخ میں جو سب سے زیادہ کامیاب انسان پیدا ہوا وہ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے
Michael H. Hart, The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History (1978)
other sourceWords of another person or source
صحیح البخاری (کتاب الجہاد) میں یہ روایت ہے کہ اللہ فاجر شخص کے ذریعہ بھی اس دین کی مدد کرے گا (إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر3062۔
hadithQuotes a hadith
مذکورہ تائید ی واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے جب میں اس حدیث رسول پر غور کرتا ہوں تو میری سمجھ میں آتا ہے کہ رجل فاجر کے اندر اگر اجتہادی اسپرٹ ہو تو وہ بڑے بڑے تخلیقی کام انجام دے گا۔ اور رجل مومن اگر اجتہادی اسپرٹ سے خالی ہو جائے تو اس دنیا میں وہ کوئی بھی بڑا کام نہیں کر سکتا ، خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو سرتاج انسانیت اور امام قافلۂ بشری ہی کیوں نہ سمجھ رہا ہو۔