Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

خلاف زمانہ تفکیر

Urdu · 11 min

فقہ کی کتابوں میں ’’دارالحرب‘‘ کی جو تعریف کی گئی ہے، اس کو لفظی طور پر لیجئے تو موجودہ دنیا کے تمام ملک دارالحرب قرار پاتے ہیں۔ اور جب کوئی ملک دارالحرب کی حیثیت اختیار کر لے تو خود اسی فقہ کے مطابق ، مسلمانوں پر دو میں سے کوئی ایک چیز لازم ہوجاتی ہے۔ یا تو جنگ کرکے اس کو دار الاسلام بنائیں، یا وہاں سے ہجرت کر کے کسی دارالاسلام میں چلے جائیں۔ مگر آج حالت یہ ہے کہ مسلمانوں میں جنگ کرنے کی طاقت نہیں۔ اور جہاں تک دوسرے انتخاب (ہجرت) کا سوال ہے تو بقول مولانا شبلی نعمانی 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جو ہجرت کر کے بھی جائیں تو شبلی اب کہاں جائیں

کہ اب امن و امان شام و نجد و قیرواں کب تک

اس طرح یہ قدیم فقہ ہم کو ایک بند گلی میں لے جا کر چھوڑ دیتی ہے۔ اور مولانا قاری طیب صاحب اور ان کے جیسے حکماء امت یہ کہہ رہے ہیں کہ اس قدیم اصول کو جدید دلائل سے مزین کر کے اس کو دنیا کے سامنے پیش کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے اپنے انداز میں یہی کام کیا ہے۔ انھوں نے قدیم مسائل کو جدید دلائل کے لباس میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے فکر کو فقہی زبان میں غالباً اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ— دارالحرب کے خلاف لڑ کر اس کو دارالاسلام میں تبدیل کرو۔

آپ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے لٹریچر کا مطالعہ کریں تو اس کا خلاصہ آپ کو یہ ملے گا کہ — مسلمان کا اصل مشن خدا کی زمین پر خدا کی حکومت قائم کرنا ہے۔ یہ کام اقتدار کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے تم اٹھو اور اہل اقتدار سے اقتدار کی کنجیاں چھین لو۔ جس طرح ٹرین کو اس کا انجن چلاتا ہے۔ اسی طرح زندگی کی گاڑی کو اہل اقتدار چلاتے ہیں۔ اگر تم زندگی کی گاڑی کو اسلامی رخ پر چلانا چاہتے ہو تو تمہیں اپنی طاقت کو منظم کر کے اقتدار کے انجن پر قبضہ کرنا چاہیے۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

مولانا مودودی اور ان کے جیسے انقلابی مفکرین کے خیالات سے متاثر ہو کر مسلم نوجوان آج کل دنیا میں جگہ جگہ گن کلچر چلا رہے ہیں تاکہ ’’دارالحرب‘‘کو دارالاسلام میں تبدیل کر سکیں۔ خود مولانا مودودی نے اپنی زندگی کے آخری بہترین سالوں میں پاکستان میں یہی کیا۔ وہ ’’اقتدار کی کنجیاں‘‘ چھیننے میں سرگرم رہے، یہاں تک کہ 1979ء میں ا ن کا انتقال ہو گیا۔

1947ء میں پاکستان پہنچ کر انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے پہلے لیاقت علی خاں سے اقتدار کی کنجیاں چھیننے کی کوشش کی۔ اس کے بعد جنرل ایوب خاں سے اور پھر ذوالفقار علی بھٹو سے۔ مگر اس میں انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ آخر میں ان کی زندگی ہی میں اقتدار کی کنجیاں ان کے ایک ہم فکر جنرل ضیاء الحق کے ہاتھ میں آ گئیں ، جن کے متعلق مولانا مودودی سے لے کر مولانا علی میاں تک تمام اسلام پسندوں نے گواہی دی کہ وہ ایک مرد صالح ہیں۔ مگر پاکستان کو دارالاسلام بنانے کا خواب بدستور بے تعبیر رہا۔ اس کے بعد مولانا مودودی کی جماعت کے اشتراک سے پاکستان میں ’’اسلامی محاذ‘‘ بنا۔ اس نے الیکشن میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی اور اقتدار کی کنجیاں پوری طرح اسلام پسند گروہ کے ہاتھ میں آ گئیں۔ مگر اب بھی پاکستان کو دارالاسلام بنانا ممکن نہ ہو سکا۔

یہ شدید ناکامی اس لیے پیش آئی کہ یہ اسلام پسند لوگ صرف ماضی کی فقہ کے دائرہ میں سوچتے رہے۔ وہ جدید تبدیلیوں سے باخبر نہ ہو سکے۔ ان لوگوں کا ذہن ، قدیم فقہاکی طرح ، النَّاسُ ‌عَلَى ‌دِينِ ‌مُلُوكِهِمْ کے دور میں بنا تھا۔ قدیم زمانہ میں ایک شخص (بادشاہ) کے ہاتھ میں اقتدار کی تمام کنجیاں ہوتی تھیں۔ جب کوئی چھیننے والا اس سے اقتدار کی کنجیاں چھیننے میں کامیاب ہوتا تو عین اسی وقت یہ کنجیاں ایک ہاتھ سے نکل کر مستقل طور پر دوسرے کے ہاتھ میں پہنچ جاتی تھیں۔ اس قدیم روایت کے تحت انھوں نے سب سے زیادہ سیاسی اقتدار کی کنجیاں چھیننے پر زور دیا۔

لیکن دور جدید کی تبدیلیوں سے گہری واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ قدیم زمانہ اگر النَّاسُ ‌عَلَى ‌دِينِ ‌مُلُوكِهِمْ (لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر ہوتے ہیں) کا زمانہ تھا، تو موجودہ زمانہ النَّاسُ ‌عَلَى ‌دِينِ ‌عَصْرِهِمْ (لوگ اپنے زمانہ کے دین پر ہوتے ہیں) کا زمانہ ہے۔ اب سیاسی حکمراں کی حیثیت ضمنی ہو کر رہ گئی ہے جو انتخابی جمہوریت کی وجہ سے عملاً صرف چند سال کے لیے حکومت میں آتا ہے ،نہ کہ قدیم بادشاہوں کی طرح ساری عمر کے لیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح موجودہ زمانہ میں دوسرے غیر سیاسی عوامل زیادہ فیصلہ کن حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔ اب اقتدار کی کنجیوں میں سے ایک کنجی صرف وقتی طور پر سیاسی حکمراں کے ہاتھ میں آتی ہے ، اور بقیہ تمام کنجیوں پر دوسروں کا قبضہ مستقل طور پر باقی رہتا ہے۔

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ہی کی طرح ، ہمارے بیشتر علما اسی غلط فہمی میں مبتلا تھے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر سے لے کر بیسویں صدی کے نصف اول تک مغربی اقتدار کے خلاف ایک بے حد مہنگی جنگ لڑی گئی۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ ہندستان سے اگر مغرب کا سیاسی اقتدار ختم ہو جائے تو اس کے بعد تمام مسلم ممالک آزاد ہو جائیں گے۔

موجودہ صدی کے وسط میں آزادی کا یہ نشانہ پورا ہو گیا۔ لیکن اب تمام علما اور دانشور اس شکایت اور احتجاج میں مشغول ہیں کہ مغرب نے مسلم دنیا کے اوپر اپنا خطرناک تر تہذیبی حملہ (cultural invasion) کر رکھا ہے۔ مگر احتجاج کی یہ مہم دراصل زمانۂ جدید سے اپنی بے خبری کا اعلان ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہمارے علما اور رہنما یہ نہ جان سکے کہ موجودہ دور پچھلے تمام زمانوں سے بالکل مختلف ہے۔ اب جدید وسائل نے قوموں کو یہ موقع دے دیا ہے کہ اگر آپ انھیں خشکی سے نکالیں تو وہ سمندروں کے راستہ سے داخل ہو جائیں گے۔ اگر آپ انھیں اپنی زمین میں داخل نہ ہونے دیں تو وہ آسمان سے اپنا راستہ نکال لیں گے۔ اگر آپ ان سے سیاسی اقتدار کی کنجیاں چھین لیں تو وہ بہت سی دوسری کنجیاں پا لیں گے جن سے وہ آپ کے گھروں اور بستیوں کے اندر داخل ہو جائیں۔ حتیٰ کہ جدید ترقیوں نے غیر قوموں کو یہ برتر حیثیت دے دی ہے کہ اگر آپ انھیں اپنے ملکوں سے پوری طرح نکال دیں تو آپ کے بہترین نوجوان خود اپنی مرضی سے پرواز کر کے دوبارہ انھیں کے شہروں میں چلے جائیں گے تاکہ ان کے زیر سایہ اپنے لیے ایک پسندیدہ زندگی حاصل کر سکیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ مکمل طور پر ایک بدلا ہوا زمانہ تھا۔ قدیم زمانہ میں نقلی دلائل کسی کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوتے تھے ، اب عقلی دلائل کی اہمیت بڑھ گئی۔ قدیم معقولات کی بنیاد قیاس پر قائم تھی ، جدید معقولات کی بنیاد بدیہیات پر قائم ہے۔ قدیم علم کلام داخلی اسلامی فرقوں کو سامنے رکھ کر مرتب کیا گیا تھا۔ جدید علم کلام خارجی گمراہیوں کو پیش نظر رکھ کر مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ قدیم دور روایتی تکنیک کا دور تھا ، اب سائنٹفک ٹیکنالوجی کا دور دنیا میں آ گیا ہے۔ قدیم زمانہ محدود معاشروں کا زمانہ تھا ، اب جدید کمیونی کیشن نے ساری دنیا کو ایک واحد بستی بنا دیا ہے۔ قدیم زمانہ میں مالیات کا انحصار زراعت پر ہوتا تھا ، اب مالیات کا سب سے زیادہ تعلق انڈسٹری سے ہو گیا ہے۔ قدیم زمانہ میں سیاست سب سے زیادہ غالب شعبہ تھا ، اب بے شمار جدید ذرائع نے سیاست کے شعبہ کو ایک ماتحت شعبہ کی حیثیت دے دی ہے، وغیرہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content