Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

مسائل قدیم ، دلائل جدید

Urdu · 6 min

دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم مولانا قاری محمد طیب صاحب (1895-1983ء) جو حکیم الامت کے نام سے مشہور ہیں ، ان کا ایک طویل مقالہ میں نے پڑھا۔ یہ پورا مقالہ ’’فکر اسلامی کی تشکیل جدید‘‘ کے موضوع پر تھا۔ مگر اس میں مجھے اصل سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ملا۔

مولانا طیب صاحب نے لکھا ہے کہ ’’اسلامی فکر کی تشکیل جدید کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے کہ مسائل ہمارے قدیم ہوں اور دلائل جدید ہوں، تاکہ یہ نئی تشکیل قائم کر کے ہم خلافتِ الٰہی اور نیابت نبوی کا حق ادا کر سکیں۔ فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا یہ پہلا قدیم یا مرکزی نقطہ ہے جس سے ہمیں کام کا آغاز کرنا ہے اور اسی نقطہ پر اپنی تمام توانائیاں صرف کرنی ہیں۔‘‘ (فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید، صفحہ 83)

other sourceWords of another person or source

’’مسائل قدیم ہوں، دلائل جدید ہوں‘‘یہ بات اگر قرآن کے بارے میں کہی جائے تو وہ صد فی صد درست ہے۔ مثال کے طور پر قرآن (4:34)میں یہ حکم آیا ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں (الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاء) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم علما نے اس تقسیم کی روایتی توجیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عورت پر مرد کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ وہ عقل اور تدبیر میں عورت پر بڑھا ہوا ہے (وَالتَّفْضِيلُ لِلرَّجُلِ لِكَمَالِ الْعَقْلِ وَحُسْنِ التَّدْبِيرِ) صفوۃ التفاسیر، جلد1، صفحہ 274۔

other sourceWords of another person or source

موجودہ زمانہ میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اس توجیہ کے حق میں نئے سائنسی دلائل پیش کیے جا سکیں۔ جدید بیالوجی (علم الحیاۃ) کے مطالعہ سے ثابت ہوا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان پیدائشی طور پر ہی فرق پایا جاتا ہے۔ عورت کے جسم کے ایک ایک سیل (cell) سے لے کر اس کے دماغ کی بناوٹ تک سب کی سب مرد سے مختلف ہوتی ہے۔ اس بنا پر مرد کے مقابلہ میں عورت جذباتی ، منفعل مزاج اور ضعیف ہوتی ہے۔ زندگی کے چیلنجوں کا سامنا کرنا اس کے لیے سخت مشکل ہوتا ہے۔

ایسی حالت میں یہ بالکل فطری ہے کہ گھر اور سماج کے نظام میں مرد کو عورت کے اوپر قوام کا درجہ دیا جائے۔

اس طرح جدید سائنس نے ہم کو یہ موقع دیا ہے کہ ہم ایک قدیم مسئلہ کے حق میں جدید دلائل پیش کر سکیں اور اس کو ازسرنو مدلل کر کے لوگوں کے سامنے لے آئیں۔

مگر ’’مسائل قدیم ہوں اور دلائل جدید ہوں‘‘ کا نظریہ فقہ کے بارے میں کلی طور پر درست نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ قرآن اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہے۔ جب کہ فقہ کی حیثیت اس کے مقابلہ میں وقتی اور زمانی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثال کے طور پر ہماری مدون فقہ پوری دنیا کو دو خطوں میں تقسیم کرتی ہے — دارالاسلام اور دارالحرب ۔ دارالاسلام وہ ملک ہے جہاں اسلام کا قانون نافذ ہو۔ اور دارالحرب وہ ملک ہے جہاں اسلام کا قانون نافذ نہ ہو۔ اس فقہ کی روشنی میں ، مسلمان دارالحرب کے مقابلہ میں امکانی طور پر برسرِ جنگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قاری طیب صاحب کے مذکورہ اصول کے مطابق ، اس قدیم فقہی اصول کو جدید دلائل سے آراستہ کر کے د وبارہ مستحکم کیا جانا چاہیے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ طرزِ فکر یقینی طور پر درست نہیں۔ آج اصل ضرورت یہ ہے کہ اس فقہی تقسیم پر نظرثانی کی جائے، نہ کہ اس کو ازسر نو مدلل کرنے کی ناکام کوشش کی جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم فقہ اور جدید حالات میں فرق کی بنا پر اس طرح کے بہت سے نئے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ مگر جامد تقلید کی بنا پر لوگ نہ تو انھیں سمجھ سکے اور نہ اس کے حل کی راہ نکالنے میں کامیاب ہوئے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content