← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
اسلامی لٹریچر کی ترتیب جدید
Urdu · 16 min
دوراول میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا، وہ سب کا سب دور اقتدار میں تیار ہوا۔ اس کا نتیجہ فطری طور پر یہ تھا کہ وہ زمانی حالات سے متاثر ہو گیا۔ مثال کے طور پر شاتمِ رسول کی سزا کے مسئلہ پر متعدد کتابیں ہمارے اسلامی کتب خانہ میں موجود ہیں۔ یہ سب کی سب دور اقتدار میں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً
ابن تیمیہ الحرانی الصارم المسلول علی شاتم الرسول
ابن عابدین الشامی تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام
unverifiedAttribution could not be verified automatically
تقی الدین ابو الحسن علی السبکی السیف المسلول علی من سبَّ الرسول
other sourceWords of another person or source
ان کتابوں میں بے دریغ طور پر شاتم رسول کے بارے میں اسلام کا یہ حکم بتایا گیا ہے کہ وہ بطور حد قتل کیا جائے گا (یُقتَلُ حَدَّا)، اور یہ کہ سب و شتم کرنے والا قتل کیا جائے گا خواہ وہ مسلم ہو یا کافر (إنَّ السابَّ يُقتَلُ سواءً كانَ مُسلِماً أو كافِراً)۔
other sourceWords of another person or source
یہ کتابیں جب لکھی گئیں ، اس وقت مسلمانوں کو زمین پر کلی اقتدار حاصل تھا۔ آج کل کی زبان میں وہ واحد سپرپاور کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس وقت کا مفتی اور عالم اس پوزیشن میں تھا کہ اس کے لکھے یا بولے ہوئے الفاظ واقعہ بن جائیں۔ چنانچہ اسی احساس کے تحت یہ تمام کتابیں لکھی گئیں۔
مگر موجودہ زمانہ میں دو ایسی نئی صورتیں پیدا ہوئی ہیں جن سے ہمارا قدیم مفتی یا عالم مکمل طور پر بے خبر تھا۔ ایک یہ کہ آج مسلمان مغلوب ہیں اور ہر قسم کا غلبہ ان قوموں کی طرف چلا گیا ہے جن کے مذہب کا اولین مقدس اصول یہ ہے کہ انسان کو لامحدود طور پر اظہار خیال کی آزادی حاصل ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان اگر کسی کی تصنیف پر اس کو شاتم قرار دے کر اس کے قتل کا فتویٰ دیں تو فوری طور پر وہ شخص اِن غالب قوموں کا ہیرو بن جاتا ہے ۔ یہ قومیں اپنے اعلیٰ وسائل کے ساتھ اس طرح اس کی حمایت پر آ جاتی ہیں کہ مسلمان عوام اور خواص سب کے سب ان کے مقابلہ میں بے بس ہو جاتے ہیں۔ اس طرح قتل کا فتویٰ صرف ایک مضحکہ خیز لفظی اعلان بن کر رہ جاتا ہے۔
دوسری اس سے بھی زیادہ شدید بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایک بالکل نئی طاقت ظہور میں آئی ہے جس کو میڈیا کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا ، دونوں ہی مکمل طور پر انھیں غالب قوموں کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کے ذریعہ وہ مسلم علما کے فتووں کو ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر وہ اسلام کو اس طرح پیش کرتے ہیں گویا کہ وہ کوئی وحشیانہ مذہب ہے جو بات بات پر لوگوں کو مارنے اور قتل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اسلام امن کامذہب نہیں بلکہ تشدد کا مذہب ہے۔ وغیرہ
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طرح شاتم کو قتل کرنے کے موجودہ فتوے شاتم کو تو قتل نہ کر سکے۔ البتہ وہ شدید طور پر اسلام کی بدنامی کا سبب بن گئے۔ وہ صرف الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے (counter-productive) ثابت ہوئے۔
حالاں کہ واقعات بتاتے ہیں کہ اس معاملہ میں خود اسلام میں حالات کے اعتبار سے فرق کیا گیا ہے۔ چنانچہ ابن تیمیہ اور دوسرے حضرات شاتم کی سزا کے جتنے بھی واقعات کا حوالہ دیتے ہیں وہ سب مدنی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی اس دور سے جب کہ اسلام کو بااقتدار حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس کے برعکس مکّی دور میں جب کہ اقتدار اعلیٰ اسلام کے ہاتھ میں نہیں تھا، ابولہب کی بیوی ام جمیل نے علی الاعلان بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومذمّم کہا (مُذَمَّمًا أَبَيْنَا) اخبار مکہ للارزقی، جلد1، صفحہ316۔مگر نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاتم کی حد بیان فرمائی اور نہ آپ کے اصحاب دوڑے کہ اس شاتمہ کو قتل کر ڈالیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مذکورہ قسم کی کتابوںمیں بعد کے زمانہ میں پیش آنے والے حالات کااحاطہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ کتابیں اپنی تمام خوبیوں کے باوجود موجودہ زمانہ کے اعتبار سے غیر متعلق ہوکر رہ گئی ہیں۔ یہی کم و بیش اس پورے تصنیفی ذخیرہ کا حال ہے، جس کو آج اسلامی کتب خانہ کہا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر آپ کسی مستند تفسیر کو پڑھئے۔ آپ پائیں گے کہ اس میں صبر و اعراض کی آیتوں کی منسوخ بتایا گیا ہے۔ مثلاً القرطبی کی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں اس آیت وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ (15:94)—یعنی، اور مشرکوں سے اعراض کرو — کے تحت لکھا ہوا ہے کہ وہ منسوخ ہے هُوَ مَنْسُوخٌ بِقَوْلِهِ ’’فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ‘‘ (جلد10، صفحہ62) ۔ اسی طرح سورہ النحل کی یہ آیتواِصْبِرْ وَما صَبْرُكَ إِلَاّ بِاللهِ (16:127)— یعنی ،اور صبر کرو اور تمہارا صبر خدا ہی کی توفیق سے ہے— کے تحت درج ہے کہ جنگ کی آیت نازل ہونے کے بعد وہ منسوخ ہو گئی هِيَ مَنْسُوخَةٌ بِالْقِتَالِ (جلد10، صفحہ 202)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
صبر و اعراض اسلام کااہم ترین حکم ہے۔ قرآن میں کہیں بالواسطہ انداز میں اورکہیں براہ راست طورپر اس کی تاکید کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ پورا قرآن کتاب صبر ہے۔ مگر جو آدمی تفسیر کی ان کتابوں کو پڑھے اس کاعام تاثر فطری طور پر یہ ہو گا کہ صبر و اعراض کی آیتیں اب صرف تلاوت کے لیے ہیں۔ اب ہم سے متعلق جو قرآنی حکم ہے وہ صرف جہاد و قتال ہے۔ صبر و اعراض کا حکم کمزوری کے دور میں تھا ، اب مسلمان طاقتور ہیں۔ اب ہمیں صبر نہیں کرنا ہے ، بلکہ لڑ کر غیر اسلامی عناصر کو زیر کرنا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح حدیث کی کتابیں بے شمار قیمتی تعلیمات سے لبریز ہیں ، مگر اپنی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے وہ غلط فہمی کا باعث بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر آپ صحاح ستہ یا حدیث کی اور کوئی مستند کتاب اٹھا کر دیکھیں ، اس میں آپ کو دعوت و تبلیغ کا باب نہیں ملے گا۔ موجودہ کتب حدیث میں ، باعتبار ترتیب ، ہر قسم کے ابواب ہیں ، مگر دعوت و تبلیغ کا باب ان میں سرے سے موجود نہیں۔
جو لوگ ان کتب حدیث کو پڑھتے ہیں ، وہ قدرتی طور پر تراجم ابواب کے تحت انھیں پڑھتے ہیں۔ اس طرح ان کو پڑھ کر شعوری یا غیر شعوری طور پر قاری کے اندر غیر دعوتی ذہن بنتا ہے۔ جہاد و قتال کے ابواب سے تو وہ خوب آشنا ہو جاتا ہے۔ مگر دعوت و تبلیغ کی اہمیت سے وہ یکسر غافل رہتاہے۔
اسی طرح سیرتِ رسول پر لکھی جانے والی کتابوں کو دیکھئے۔ سیرت کی تقریباً تمام مستند کتابیں غزواتی پیٹرن پر لکھی گئی ہیں۔ ابن ہشام کی مشہور چار جلدوں کی سیرت کا ایک جلد سے کچھ زیادہ حصہ 13 سالہ مکّی دور پر ہے، اور بقیہ تقریباً تین جلدیں 10 سالہ مدنی دور پر۔ مدنی دورکے ابواب کی ترتیب سیرت کی تمام کتابوں میں غزوات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ سیرت کی ابتدائی کتابوں کا نام ہی ’’مغازی‘‘ ہوا کرتا تھا۔ اگرچہ بعد کی کتابوں کے نام مغازی پر نہیں رکھے گئے ، مگر عملاً سیرت کی تقریباً تمام کتابیں مغازی ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
تاریخ تک پہنچ کر یہ صورت حال اور زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی کتابیں ، تقریباً بلااستثنا ، جنگ آزمائی اور کشور کشائی کی داستان نظر آتی ہیں۔ یہ سیاسی فتح و شکست اور بادشاہوں کی موت و حیات کا بیان ہو کررہ گئی ہیں۔ علامہ ابن خلدون نے پہلی بار اسلامی تاریخ کی اس کمی کا احساس کیا۔ اور وسیع تر انداز میں اسلام کی جامع تاریخ لکھنا چاہا۔ انھوں نے اپنے مقدمۂ تاریخ میں کامیابی کے ساتھ اس جدید تاریخ کے اصول مقرر کیے۔ مگر وہ خود بھی اس انداز پر اسلام کی تاریخ مرتب نہ کر سکے۔
بعد کے دور میں جو کتابیں لکھی گئیں (صوفیا کی غیر معتبر کتابوں کو چھوڑ کر) تقریباً سب کی سب اسی نہج پر تھیں۔ مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کو مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے ایک معرکۃ الآراء کتاب بتایاہے، اور لکھاہے کہ اس میں دین و نظامِ شریعت کا نہایت مربوط، جامع اور مدلل نقشہ پپش کیا گیا ہے (صفحہ 215)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر اس کتاب کا حال یہ ہے کہ اس میں مسواک اور سُترہ تک کے ابواب ہیں ۔ مگر اس میں دعوت و تبلیغ کا سرے سے کوئی باب ہی نہیں۔ اس کے برعکس، اس میں جہاد و قتال کو سب سے زیادہ اہم اسلامی عمل بتایا گیا ہے۔ یہ یقینی طور پر زمانی حالات کے زیر اثر ہے۔ کیونکہ ابدی تناظر میں اسلام کی سب سے بڑی خارجی تعلیم دعوت ہے، اور جہاد (بمعنی قتال) صرف ایک اتفاقی یا نسبتی (relative) عمل ہے۔ یعنی دعوت کا عمل علی الاطلاق طور پر ہر حال میں جاری رہتا ہے۔ جب کہ جہاد (بمعنی قتال) صرف مخصوص شرائط و احوال میں وقتی طور پر مطلوب ہوتا ہے۔
عام تاثر یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ایک جنگ جو قوم بن گئے ہیں۔ اس جنگ جوئی میں کوئی براہ راست طور پر شریک ہے اور کوئی بالواسطہ طور پر۔ مسلمانوں کے محبوب رہنما اقبال نے اس ذہن کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تیغوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
مسلم نوجوان آج کل ساری دنیا میں گن اٹھائے ہوئے ہیں اور دنیا بھر کے مسلم دانشور اور علما اس کو عملاً جہاد کہہ کر یا کم از کم خاموش رہ کر اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کا ترانہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے
دل میں ہے اللہ کا خوف ہاتھ میں ہے کلاشنکوف
یہ جنگ جویانہ اسلام یقینی طور پر خدا و رسول کا اسلام نہیں۔ خدا و رسول کا اسلام رحمت کلچر پیدا کرتا ہے، نہ کہ گن کلچر۔ پھر اس قسم کا اسلام کہاں سے آیا۔ یہ نظریاتی طور پر اسی لٹریچر سے ماخوذ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ موجودہ زمانہ میں اس پر مزید اضافہ اسلام کی وہ انقلابی تعبیر ہے جو سید قطب اور سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسے لوگوں نے پیش کی ہے۔ قدیم لٹریچر میں یہ چیز صرف فکری کمی کے درجہ میں تھی ، مگر جدید سیاسی اور انقلابی تشریح نے اس میں اضافہ کر کے اس کو فکری برائی کے درجہ تک پہنچا دیا۔
مذکورہ تفصیل سے یہ بات بخوبی طور پر واضح ہوتی ہے کہ ہمارے کتب خانہ کا بیشتر ذخیرہ زمانی حالات کے زیر اثر تیار ہوا ہے۔ اس لیے اس نے آج اپنی مناسبت کھو دی ہے۔ جدید انسانی ذہن کے لیے ان کے اندر سامان اطمینان موجود نہیں۔ اگر ہم اپنی جدید نسلوں کو دوبارہ اسلام کی سچی روح پر اٹھانا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس لٹریچر کی مذکورہ کمی کا اعتراف کریں ، اور پھر نیا صحت مند لٹریچر لوگوں کے مطالعہ کے لیے تیار کریں۔ یہ لٹریچر اصلاً قدیم ذخیرہ ہی پر مبنی ہو گا۔ وہ ہرگز اس سے بے نیاز ہو کر تیار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اپنی ترتیب و انداز کے اعتبار سے وہ زمانی اسلوب اور عصری زبان کا حامل ہو گا۔ تاکہ وہ آج کے انسان کے لیے ذہنی خوراک بن سکے۔