← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
موجودہ صورت حال
Urdu · 6 min
خلافت عباسی کے دور میں جب بیرونی افکار و علوم سے مسلمانوں کا مقابلہ پیش آیا تو انھوں نے بہت جلد ان کے مقابلہ میں اسلام کا موقف متعین کر لیا۔ مگر یہی بات موجودہ زمانہ میں حاصل نہ ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بنو عباس کے زمانہ میں مسلمان فاتحانہ نفسیات کے حامل تھے۔ انھوں نے کھلے ذہن(عقلیۃ الانفتاح) سے افکار و علوم کا جائزہ لیا۔
اس کے برعکس موجودہ زمانہ کی تبدیلیاں اس وقت پیش آئیں جب کہ مسلمان مغلوبانہ نفسیات میں مبتلا ہو چکے تھے۔ چنانچہ اب انھوں نے ہرچیز کو شبہ کی نظر سے دیکھا۔ جب بھی ان کا مقابلہ مغربی قوموں سے پیش آیا تو فوراً وہ ان کے لیے عزت نفس کا سوال بن گیا۔ یہی وہ نفسیاتی فرق ہے جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ماضی کی تبدیلیوں کو اپنی غذا بنانے والے لوگ جدید تبدیلیوں کو صرف اپنا حریف سمجھ کر اس سے دور ہو گئے۔
ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات تھی کہ ہمارے علما اور دانشوروں کو جدید حقائق کی کوئی خبر نہ ہو سکے۔ سازش کانظریہ یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ موجودہ صورت حال کا کوئی حقیقی سبب نہیں۔ وہ صرف مکر و فریب کا ایک نتیجہ ہے۔ جب کہ علمی تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ پیش آمدہ واقعہ کو آپ حقیقی تاریخی اسباب کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں۔ سازش کے اس غیر واقعی نظریہ نے دور جدید کے مسلمانوں سے یہ جذبہ چھین لیا کہ وہ غیر جانب دارانہ انداز میں دوسری قوموں کا مطالعہ کریں۔ اور ان کی قوت اور ترقی کے اسباب کو جاننے کی کوشش کریں۔ اپنے موجودہ ذہن کے تحت وہ زیادہ سے زیادہ بس’’سازشوں‘‘کی کھوج میں مصروف ہو سکتے تھے۔ فطری حقائق اور تاریخی عوامل کی تلاش کا جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہو سکتا تھا ، کیونکہ ان کے نزدیک وہ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
دور جدید کے ظہور پر اب تقریباً تین سو سال کی مدت گزر چکی ہے۔ مگر حالت یہ ہے کہ آج بھی ہمارے کتب خانہ میں تہافۃ الفلاسفۃ (الغزالی) اور الرد علی المنطقیین (ابن تیمیہ) جیسی کتابیں موجود نہیں جو وقت کے افکار کے مقابلہ میں اسلام کے موقف کو مستحکم کرتی ہوں۔ حتّٰی کہ جدید افکار کے تعارف کے لیے مقاصد الفلاسفۃ (الغزالی) جیسی کوئی مستند کتاب تیارنہ کی جا سکی۔
تاہم میں کہوں گا کہ یہ مسئلہ موجودگیِ رجال کے فقدان کا نہیں ہے بلکہ استعمالِ رجال کے فقدان کا ہے، یعنی باصلاحیت افراد موجود ہیں۔ مگر غیر صحت مند ماحول کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں اپنا صحیح رخ پانے سے محروم رہیں۔
موجودہ زمانہ کے اخبارات، جرائد اور کتابیں آپ پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہمارے تقریباً تمام علما اور دانشور ایک ہی نظریہ کو اپنے ذہن میں جگہ دیے ہوئے ہیں ، اور وہ سازش (مؤامرات) کا نظریہ ہے۔ ہمارے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے مسلسل یہ بتا رہے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پستی اور مغلوبیت کا سبب صرف اغیار ہیں۔ صلیبی اور صہیونی اور امریکی استعمار کی سازشوں نے ہمارے لیے مصنوعی مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔
ایسی حالت میں ذہن ہمیشہ انکشافِ سازش پر چلے گا نہ کہ دریافتِ حقائق پر۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میںمفروضہ سازشوں کے ’’انکشاف‘‘ پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر جہاں تک جدید افکار کا تعلق ہے ، ان کے مستند تعارف پر بھی کوئی کتاب موجود نہیں، کجا کہ ان افکار کے مقابلہ میں اسلام کی تشریح و تبئین پر کوئی طاقت ور کتاب تیار کی گئی ہو۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ پہلے رخ پر لوگوں کا ذہن خوب چلا ، اور دوسرے رخ پر سرے سے ان کا ذہن متحرک ہی نہیں ہوا۔