Maulana Wahiduddin Khan
14 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

دور جدید کا اغاز

Urdu · 14 min

دور جدید کا آغاز

جدید مسائل کا آغاز خاص طور پر اٹھارویں صدی عیسوی سے ہوتا ہے۔ یہ وہی زمانہ ہے جس میں شاہ ولی اللہ دہلوی (1703-1762) ظاہر ہوئے۔ شاہ ولی اللہ کو غالباً خواب میں اس کا اشارہ بھی دیا گیا کہ وہ ایک نئے دور کے سرے پر پیدا ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں قائم الزمان ہوں (رَأَيْتُنِي فِي المَنَامِ قَائِمَ الزَّمَانِ) فیوض الحرمین 2007، حیدرآباد سندھ، صفحہ111 ۔ مگر شاہ ولی اللہ اپنے آپ کو رواجی سانچہ سے باہر نہ نکال سکے ، اس لیے وہ دور جدید کے اعتبار سے افکار اسلامی کی تبئین بھی نہ کر سکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس میں دورائے نہیں ہو سکتی کہ نئے مسائل کا جواب فراہم کرنے کا کام صرف اجتہاد کے ذریعہ ہی ممکن تھا۔ مگر شاہ ولی اللہ نے ایک طرف اپنے قائم الزماں ہونے کا اعلان کیا ، دوسری طرف اپنے اوپر اجتہاد کا دروازہ بند کر لیا ، حالانکہ قائم الزمان کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اجتہاد کا عمل لازمی طور پر ضروری تھا۔

شاہ ولی اللہ صاحب نے عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید اور بعض دوسری کتابوں میں اجتہاد کے مسئلہ پر کلام کیا ہے۔ اس معاملہ میں ان کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اجتہاد مطلق ، اور دوسرا اجتہاد مقید۔ وضاحت کی خاطر، اس کو ہم کلی اجتہاد اور جزئی اجتہاد بھی کہہ سکتے ہیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ کیوں کہ امام شافعی (767-820ء) کے بعد اب کوئی مجتہد مطلق پیدا ہونے والا نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شاہ صاحب کے نزدیک اب قیامت تک کے لیے اجتہاد کی صرف دوسری قسم (اجتہاد مقید) کی گنجائش باقی ہے۔ اب جو شخص بھی اجتہاد کرنا چاہے گا اس کو لازمی طور پر ائمہ اربعہ کے مقرر کیے ہوئے طریقوں کی بنیاد پر استنباط کرنا ہو گا۔ وہ بلا قید اجتہاد نہیں کر سکتا۔ اگرچہ اجتہاد مطلق کا حق اب کسی کو نہیں ، مگر اجتہاد مقید کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور وہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر ضروری تقسیم ہے۔ اجتہاد کا انقطاع ہو گیا یا نہیں ، یہ سوال اصلاً اجتہاد مطلق یا اجتہاد مستقل کے سلسلہ میں پیدا ہوتا ہے۔ کیوں کہ جہاں تک اجتہاد مقید کا تعلق ہے ، وہ تو ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ وہ ہر حال میں جاری رہے گا ، خواہ اس کا دروازہ بند کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ لفظی اعلان کے بغیر بھی وہ ہمیشہ خود اپنے زور پر جاری رہتا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ دشمنوں سے مقابلہ کے لیے قوت فراہم کرو (8:60)۔ حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ سن لو کہ قوت سے مراد تیر مارنا ہے ، سن لو کہ قوت سے مراد تیر مارنا ہے (أَلَا إِنَّ ‌الْقُوَّةَ ‌الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ ‌الْقُوَّةَ ‌الرَّمْيُ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 1917۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ میں بم اور گن کی ایجاد ہوئی تو ساری دنیا کے مسلمان جنگ کے مواقع پر بم اور گن کا استعمال کرنے لگے۔ حالاں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ علما نے ’’اجتہاد مقید‘‘ کر کے یہ اعلان کیا ہو کہ قدیم زمانہ میں قوت کا مطلب تیر تھا، مگر آج قوت کا مطلب گن اور بم ہے۔ اس قسم کے کسی اعلان کے بغیر ساری دنیا کے مسلمانوں نے خود بخود اس معاملہ میں مجتہدانہ روش کو اختیار کر لیا۔

اس لیے اجتہاد کی بحث میں اصلاً قابل غور معاملہ اجتہاد مطلق یا اجتہاد کلی کا ہے۔ کیونکہ اجتہاد مقید تو خود حالات کے زور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ وہ ایک فطری ضرورت ہے ، اور اس کا انقطاع سرے سے ممکن ہی نہیں۔

تاہم اجتہاد کی یہ درجہ بندی صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی اجتہاد کی مستقل اہمیت سے واقف نہ ہو سکے ۔ بظاہر وہ سمجھتے تھے کہ وہی پچھلا روایتی دور اب بھی چلا جا رہا ہے جو امام شافعی کے زمانہ میں تھا۔ حالاں کہ زمانہ یکسر بدل چکا تھا۔ اور اب نئے حالات کے نتیجہ میں اجتہاد مطلق کی ضرورت پیش آ چکی تھی۔

اجتہاد کا مقصد یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں شریعت کا ازسرنو انطباق (re-application) کیا جائے۔ پھر جب حالات وہ نہ رہیں جو فقہا اربعہ کے زمانہ میں تھے تو اجتہاد مقید کس طرح کافی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد تو لازم ہو جاتا ہے کہ اسی طرح دوبارہ اجتہاد مطلق سے کام لیا جائے جس طرح فقہا اربعہ نے اجتہاد مطلق سے کام لیا تھا۔ تاکہ اسلام کو دوبارہ وقت کے حالات پر منطبق کرنا ممکن ہو سکے۔

بنو عباس کے دور میں فقہا اربعہ کو اجتہاد مطلق کا حق اسی لیے ملا تھا کہ اس وقت معاشرہ کے حالات بدل گئے تھے ، جب کہ قرآن و حدیث کا ذخیرہ پوری طرح لوگوں کے پاس موجود تھا۔ اب انسانی حالات میں اس سے بھی زیادہ بڑی تبدیلی آ چکی ہے جو بنو عباس کے زمانہ میں آئی تھی۔ پھر اگر کمتر تبدیلی کی بنا پر قرآن و حد یث اور آراء صحابہ کے مقابلہ میں اجتہاد مطلق کیا جا سکتا تھا تو زیادہ بڑی تبدیلی کے بعد فقہا کی آراء کے مقابلہ میں اجتہاد مطلق کیوں نہیں کیا جا سکتا۔

یہ کوئی بے جا جسارت نہیں ، بلکہ زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے جس کا شعور خود ہمارے قدیم مجتہدین کو بھی تھا۔ مثلاً ابو داؤد کہتے ہیں کہ امام احمد ابن حنبل کو میں نے کہتے ہوئے سنا کہ تم میری تقلید نہ کرو، نہ ہی مالک اور ثوری اور اوزاعی کی تقلید کرو۔ بلکہ تم وہاں سے لو جہاں سے انھوں نے لیا ہے یعنی قرآن و سنت سے (لَا تُقَلِّدْنِي وَلَا تُقَلِّدْ مَالِكًا وَلَا الثَّوْرِيَّ وَلَا الْأَوْزَاعِيَّ، ‌وَخُذْ ‌مِنْ ‌حَيْثُ ‌أَخَذُوا) اعلام الموقعین ، جلد2،صفحہ139۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شاہ ولی اللہ کے مذکورہ موقف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر نہ وہ مقامی تبدیلیوں سے پوری طرح باخبر تھے اورنہ عالمی تبدیلیوں سے۔ حتیٰ کہ ان کی کتابوں سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان علمی ترقیوں سے بخوبی طور پر واقف تھے جو ان کی پیدائش سے پہلے خود مسلم اسپین میں ہو چکی تھیں۔

مسلم اسپین کی ترقیاں اس بات کی علامت تھیں کہ اب دنیا ایک نئے دورمیں داخل ہو رہی ہے جب کہ ’’سیف‘‘ کے مقابلہ میں ’’علم‘‘ قوت کا نشان ہو گا۔ یہ ترقیاتی سفر پندرھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے دائرہ سے نکل کر لاتینی یورپ کے دائرہ میں پہنچ گیا۔ مگر بظاہر شاہ ولی اللہ کے لیے یہ سب کچھ لامعلوم تھا۔

یورپ کے مختلف ملکوں (اٹلی ، فرانس، انگلینڈ ،وغیرہ) میں مذکورہ علمی ترقی اضافہ کے ساتھ جاری رہی۔ یہاں تک کہ مختلف یورپی قوموں میں وہ باہمی رقابت پیش آئی جس کو نوآبادیاتی کش مکش (colonial struggle) کہا جاتا ہے۔ آخر کار ان قوموں کے درمیان مشہور سات سالہ جنگ (Seven Years War) پیش آئی۔ یہ جنگ 1756ء سے لے کر 1763ء تک جاری رہی۔ 1763ء میں معاہدۂ پیرس ہوا جس نے اس نو آبادیاتی جنگ کا آخری فیصلہ برطانیہ کے حق میں کیا۔ برطانیہ نے شمالی امریکہ اور انڈیا پر فتح حاصل کر لی۔ اس کے بعد برطانیہ کو سمندر پار کی نو آبادیات میں غیر متنازعہ قائد کی حیثیت حاصل ہو گئی 

By the Treaty of Paris ) February 10, 1763(, which settled the colonial aspects of the war, Britain won North America and India and became the undisputed leader in overseas colonization.

(Encyclopedia Britannica, vol. 16, p. 580(

پندرھویں صدی سے لے کر اٹھارویں صدی تک کے دورکو کھوج کا دور (age of exploration) کہا جاتا ہے۔ ان صدیوں میں تاجر، مشنری ، سیاح ، فن کار، بحری ماہرین اور سائنسی علما مسلسل اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے تھے۔ اس کا نتیجہ یورپی قوموں کی وہ عالمی توسیع تھی جس کو نو آبادیاتی نظام کہا جاتا ہے۔ یہ سرگرمیاں اس حد تک موثر تھیں کہ انھوں نے سمندروں کو پار کر کے 1611ء میں مسولی پٹم پر قبضہ کر لیا۔ 1639ء میں مدراس اور1661ء میں بمبئی ان کے قبضہ میں آ گیا ، وغیرہ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، جلد4، صفحہ880-887)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح شاہ ولی اللہ کی پیدائش سے بھی پہلے انڈیا کے تقریباً تمام سواحل پر یورپی قومیں قابض ہو چکی تھیں۔ مغل سلطنت سمٹ کر محدود برّی دائرہ میں باقی رہ گئی تھی۔ برصغیر ہند کے وسیع تر دائرہ میں نو آبادیاتی طاقتوں کا پرچم لہرا رہا تھا۔ یہ سب کچھ جدید معلومات ، جدید فنی ترقیوں اور جدید وسائل کے ذریعہ وجود میں آیا۔

مگر شاہ ولی اللہ دہلوی کی کسی بھی تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان تاریخی تبدیلیوں سے باخبر تھے۔ شاہ صاحب کی مشہور ترین کتاب حجۃ اللہ البالغہ پہلی بار صرف انیسویں صدی (1870ء) میں چھپ سکی۔ جب کہ یورپ میں پرنٹنگ پریس کا استعمال پندرھویں صدی عیسوی میں شروع ہو چکا تھا۔ یہ ایک علامتی فرق ہے جو بتاتا ہے کہ شاہ صاحب اور ان کے اصحاب کا فکر کس طرح عالمی فکر سے کئی سو سال پیچھے تھا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content