Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

صلاحیتوں کا فقدان نہیں

Urdu · 6 min

میں سمجھتا ہوں کہ اجتہاد مطلق کو ’’مجتہد مطلق‘‘ کی پیدائش کے ساتھ جوڑنا بجائے خود ایک غیر معقول بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق تمام تر ذہنیت سے ہے، نہ کہ کسی مفروضہ مجتہد مطلق کی پیدائش سے۔ یعنی ملت کے اوپر اگر ذہنی جمود کی حالت طاری نہ ہو، بلکہ اس کے اندر آزادانہ فکر کی فضا موجود ہو تو اجتہاد مطلق کا عمل بھی لازمی طور پر جاری رہے گا۔ مجتہد مطلق تو ہمیشہ ہی پیدا ہوتے ہیں۔ البتہ آزادی فکر کی فضا نہ ہونے کی وجہ سے ان کو وہ سازگار ماحول نہیں ملتا جس میں وہ اپنے حصہ کا عمل انجام دے سکیں۔

عالی دماغ انسانوں کی پیدائش کبھی بندنہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ چنانچہ خود نظام فطرت کے تحت اسلام کی بعد کی تاریخ میں بار بار اعلیٰ صلاحیت کے اہل علم پیدا ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر الغزالی (1058-1111) ابن تیمیہ (1263-1328) الشاطبی (وفات 1388)جلال الدین سیوطی (1445-1505) شاہ ولی اللہ (1703-1762) انور شاہ کشمیری (1875-1934)، وغیرہ۔

یہ کہنا امت محمدی کی تصغیر ہے کہ ائمہ اربعہ کے بعد اس صلاحیت کے لوگ امت میں پیدا نہیں ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ چوتھی صدی ہجری کے بعد بھی ایسے لوگ امت میں پیدا ہوتے رہے جو اپنے وسیع علمی مطالعہ، اپنی اعلیٰ ذہنی استعداد اور اپنی بے داغ اسلامیت کے ساتھ اس قابل تھے کہ وہ مجتہد مطلق کا کردار ادا کر سکیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پھر کیا وجہ ہے کہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے دور میں بہت سے ایسے لوگ ابھرے جو مجتہدانہ زبان میں کلام کرتے تھے۔ مثلاً عائشہ صدیقہ(وفات 58ھ)، عبداللہ بن عمر(وفات 73ھ)، ابراہیم نخعی (وفات 96ھ)، سفیان ثوری(وفات 161ھ)، امام شعبی (وفات 104ھ)اور دورِ اول کے دیگرعلما فقہ ، وغیرہ۔ مگر چوتھی صدی ہجری کے بعد اٹھنے والے علما اپنی تمام اعلیٰ صلاحیتوں کے باوجود ، مجتہدانہ انداز میں بولنے کی جرأت نہ کر سکے۔

اس کی وجہ شخصی استعداد کا فرق نہیں ہے بلکہ دور کا فرق ہے۔ صحابہ اورتابعین اور تبع تابعین کے دور میں مکمل آزادیِ رائے تھی۔ لوگ کھلے طور پر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے۔ انسانوں کو اکابر اور اصاغر میں تقسیم نہیں کیا گیا تھا۔ لوگ قائل کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ قول کو دیکھتے تھے۔ ہر صاحب دلیل کو حق تھا کہ وہ اپنی بات کو دلیل کے ساتھ بیان کرے۔ اس ماحول نے اجتہاد کا عمل جاری کر رکھا تھا۔ بعد کو جب یہ ماحول ختم ہو گیا تو اجتہاد کا عمل بھی باقی نہ رہا۔

پہلے اگر حق پرستی کی فضا تھی تو اب اکابر پرستی کی فضا پیدا ہو گئی۔ اب لوگ ایسی بات کہنے سے ڈرنے لگے جو ماضی کے بڑوں کی رائے سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ اس فضا میں قدرتی طور پر اجتہاد مطلق (آزادانہ اظہار رائے) ختم ہو گیا۔ اب وہی بات کہی جانے لگی جو کسی نہ کسی طرح مسلمہ اکابر کے اقوال سے مطابقت رکھتی ہو۔ یہی وہ ماحول ہے (نہ کہ کوئی شرعی حکم یا پیدائشی نقص) جس نے بعد کو اجتہاد مطلق کا دروازہ بند کر دیا اور صرف اجتہاد مقید کا دروازہ لوگوں کے لیے کھلا رکھا۔

میرے علم کے مطابق ، بعد کی اسلامی تاریخ میں صرف ایک شخص ہے جس نے مجتہد مطلق کی زبان میں بولنے کی ہمت کی ، اور وہ ابن خلدون (1332-1406) ہے۔ مگر ابن خلدون بھی یہ کام صرف جزئی طور پر کر سکا۔ اس نے عمرانیات اور فلسفۂ تاریخ میں بلاشبہ مجتہدانہ کلام کیا۔ مگر خالص دینی معاملات میں اس نے بھی غیر مقید اجتہاد کرنے کی بہت کم جرأت کی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content