Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

شخصیت پرستی اصل سبب

Urdu · 5 min

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام میں اجتہاد کی اتنی زیادہ حوصلہ افزائی کی گئی تھی کہ غلطی کا اندیشہ ہو تب بھی اپنی نیت بخیر رکھتے ہوئے اجتہاد کرو۔ دوسری طرف عقل کہتی ہے کہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اجتہاد کا عمل لازمی طور پر جاری رہنا چاہیے۔ ان دوطرفہ تقاضوں کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ اجتہادکا عمل قولاً یا عملاً بند کر دیا گیا۔

اس پر غورکرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی وجہ وہ نہیں ہے جو عام طور پر بیان کی جاتی ہے ، یعنی رجال اجتہاد کامعدوم ہو جانا۔ اس کی اصل وجہ شخصیت پرستی ہے۔ یہ دراصل شخصیت پرستی کا ظاہرہ (phenomenon) ہے۔ اس کے پیچھے کوئی بھی حقیقی وجہ، عملی یا نظری موجود نہیں۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اجتہاد مقید کو اس لیے جائز رکھا گیا کہ اس میں اکابر پر زد نہیں پڑتی۔ اور اجتہاد مطلق کو اس لیے ممنوع قرار دے دیا گیا کہ اس میں اکابر کی شخصیت زد میں آ جاتی ہے۔

اجتہاد کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے تنقید کا ماحول انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اسلام کی ابتدائی چار صدیوں میں تنقید اور اختلاف کی کھلی اجازت تھی۔ امام محمد امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے۔ مگر انھوں نے اپنے استاد سے ایک سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف کیا۔ مگر بعد کی صدیوںمیں بڑھی ہوئی اکابر پرستی نے تنقید و اختلاف کو ایک امر ممنوع (taboo) بنا دیا۔ یہی وہ فکری صورتِ حال ہے جس نے اجتہاد کے عمل کا خاتمہ کردیا۔ اور ا س کی توجیہ کے لیے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیاکہ اب چونکہ پہلے جیسے بڑے علما پیدا نہیں ہو سکتے اس لیے اب اجتہادکا دروازہ بھی عملاً بند رہے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ بعد کے دور میں اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ تنقید و اختلاف کادروازہ بند ہو گیا۔ اب اصول یہ قرار پایا کہ جس اجتہاد کی زد کسی شخصیت پر نہ پڑے وہ اجتہاد جائز ہے ، اور جس اجتہاد کی زد کسی شخصیت پر پڑے وہ اجتہاد ناجائز۔

اجتہاد کی ضرورت ہمیشہ اس وقت پیش آتی ہے جب کہ نئی صورت حال سامنے آنے کی بنا پر پچھلے علما کی رائیں یا فتاویٰ غیر متعلق بن گئے ہوں ، اور ضرورت پیش آ گئی ہو کہ دین کے اصل مآخذ (قرآن و سنت) پرازسرِ نو غورکر کے نئے مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کا تعین کیا جائے۔ مثال کے طور پر فتاویٰ قاضی خان (وفات 1196ء) میں لکھا ہوا ہے کہ ایک شخص اگر قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ میں ہوا میں اڑوں گا اور اڑ نہ سکے تو اس پر قسم کا کفّارہ لازم نہیں آئے گا، کیوں کہ یہ ایک لغو قسم ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اب ہوائی جہاز کے زمانہ میں ہوائی پرواز ممکن ہو گئی ہے۔ اس لیے اب ایسی قسم لغو قسم نہیں رہی۔ اس بنا پر اگر کوئی شخص اجتہاد کر کے اس معاملہ میں نیا فتویٰ دے تو وہ دور سابق کے حنفی فقیہ قاضی خاں پر تنقید کے ہم معنی ہو گا۔ سابق فقیہ کی رائے کو رد کیے بغیر اس مسئلہ میں نیا فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔

یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر بعد کے دور میں لوگ معاملات میں مجتہدانہ رائے دینے سے گھبرانے لگے۔ ایسی ہر رائے دور سابق کے کسی عالم کی رائے سے ٹکراتی تھی ، اور چونکہ دور سابق کے علما کو تنقید سے بالا تر سمجھ لیا گیا تھا اس لیے قولاً یا عملاً اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ تاکہ نہ اجتہاد کرنا ہو اور نہ ماضی کے علما پر تنقید کی نوبت آئے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content