Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

دارالحرب یا دارا لاعداد

Urdu · 10 min

دارالحرب یا دارا لاِعداد

ہندستان میں جب انگریزوں کا نفوذ بڑھ گیا تو شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے 1806ء میں یہ فتویٰ دیا کہ ہندستان دارالحرب ہو چکا ہے(فتاویٰ عزیزی فارسی، دہلی، 1322ھ، صفحہ 17)۔ اس کا مطلب یہ تھاکہ ہندستان میں اسلام خطرہ میں ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا یہ شرعی فرض ہو چکا ہے کہ وہ انگریزوں سے لڑ کر انھیں نکالیں اور ملک کو ان کے فساد سے پاک کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جس وقت یہ انتہائی فتویٰ دیا گیا اس وقت مسلم معاشرہ مکمل طور پر شخصیت پرستی میں مبتلا ہو چکا تھا۔ چنانچہ اس فتوے کے خلاف کوئی کھلی تنقید سامنے نہیں آئی۔ حتیٰ کہ کسی نے یہ کہنے کی بھی جرأت نہیں کی کہ اتنا بڑا اعلان شخصی طور پر نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے علما کا ایک نمائندہ اجتماع ہونا چاہیے۔

یہ فتویٰ جاری رہا۔ یہاں تک کہ 1831ء میں سید احمد بریلویؒ نے اپنے ساتھیوں کو لے کر عملی جہاد کیا۔ جس میں تمام کے تمام لوگ ہلاک ہو گئے۔ اس وقت مسلمانوں کے درمیان شخصیت پرستی اپنی آخری حد پر تھی۔ لوگ ’’بڑوں‘‘ کے خلاف بولنا تو درکنار سوچنا بھی نہیں جانتے تھے۔ اس وقت صرف ایک عالم میر محبوب علی دہلوی (1200-1280) نکلے جنھوں نے سید صاحب سے کہا کہ جہاد کا فیصلہ کشف اور خواب کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ صرف شوریٰ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ مگر شخصیت پرستی کی فضا کی بنا پر ان کی بات بے وزن ہو کر رہ گئی۔ (مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان، از مولانا شاہ ابو الحسن زید فاروقی، لاہور، 2001، صفحہ 86-87)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے بعد 1857ء میں جب علما دیوبند نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کیا۔ اس وقت بھی ایک عالم شیخ محمد صاحب نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اس کو ناجائز بتایا۔ ان کاکہنا تھاکہ حریف کے مقابلہ میں ہماری تیاری کچھ نہیں ہے۔ اس لیے عملاً یہ جنگ نہیں بلکہ خودکشی ہو گی۔ مگر اس بار بھی شخصیت پرستی رکاوٹ بنی اور ان کی بات غیر موثر ہو کر رہ گئی (نقشِ حیات ازمولانا حسین احمد مدنی، 1945، جلد2، صفحہ42) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے بعد 1914ء میں عرب عالم محمد رشید رضا دیوبند آئے۔ یہاں انھوں نے اپنی تقریرمیں انگریزوں کے خلاف جہاد سے اختلاف کیا اورکہا کہ اس کے بجائے آپ کو دعوت کا کام کرنا چاہیے۔ مگر ان کی یہ رائے ’’اکابر‘‘ کی رائے سے ٹکراتی تھی۔ اس لیے کسی نے اس کی طرف بھی توجہ نہیں دی۔ رشید رضا کی تقریر صرف دارالعلوم دیوبند کی سالانہ روداد (1330ھ، 1912ء)کا ایک غیر اہم حصہ بن کر رہ گئی (بحوالہ الجمعیۃ ویکلی، دہلی، 6 فروری 1970)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انگریزوں کے خلاف جہاد کا یہ عمل مختلف صورتوں میں بلاانقطاع جاری رہا۔ یہاں تک کہ 1919 میں مہاتما گاندھی نے آ کر اس کو ختم کیا۔ بے فائدہ جنگ کا یہ خاتمہ ’’اجتہاد‘‘ ہی کے ذریعہ ممکن ہوا۔ اگرچہ یہ ایک سیکولر اجتہاد تھا،نہ کہ کوئی شرعی اجتہاد۔

علماء اپنی غیر مجتہدانہ سوچ کے تحت صرف ایک ہتھیارکو جانتے تھے۔ اور وہ تشدد کا ہتھیارتھا۔ انھیں خبر نہیں تھی کہ ان کی جدوجہد آزادی کے لیے موجودہ زمانہ میں ایک عظیم تر نظریاتی ہتھیار وجود میں آچکا ہے۔یہ ہتھیار وہ ہے جس کو حکومت خود اختیاری (self-determination) کہا جاتا ہے۔ یہ تصور اٹھارویں صدی کے فرنچ ریولیوشن کے دوران ظہور میں آچکا تھا۔ جس نے قوموں کو یہ حق دیا کہ وہ تشدد کا استعمال کیے بغیر محض دلیل کی پرامن طاقت سے قومی آزادی کی موثر جدوجہد کر سکیں۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد 1919ء میں بننے والی جمعیۃ اقوام (League of Nations) کے متعلق مسلمانوں کے رہنما علامہ اقبال صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ وہ کفن چوروں کی ایک انجمن ہے جو قبروں کی تقسیم کے لیے منظم کی گئی ہے 

چیست جمعیت اقوام کفن دزدے چند بہرتقسیمِ قبور انجمنے ساختہ اند

مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ جمعیت اقوام نے پہلی بار انٹرنیشنل تصدیق سے یہ سیاسی معیار طے کیاکہ ہر قوم کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے درمیان اپنی مرضی کی حکومت قائم کرے۔ پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد 1945ء میں جب اقوام متحدہ (United Nations) بنائی گئی تو تمام قوموں کے اتفاق رائے سے یہ اصول آخری طور پر ایک مصدقہ سیاسی اصول کے طور پر تسلیم کر لیا گیا(انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا، جلد9، صفحہ41)

مہاتما گاندھی نے عالمی سیاست کامطالعہ کیاتھا۔ وہ ان زمانی تبدیلیوں سے آگاہ تھے۔ چنانچہ وہ ساؤتھ افریقہ سے ہندستان آئے اوراپنے ’’سیکولر اجتہاد‘‘ کے ذریعہ ہندستان کے عوام نیز علما کو بتایا کہ ہمیں اب متشددانہ ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ ’’حکومت خوداختیاری‘‘ کے نظریاتی ہتھیار کو ہم زیادہ موثر طور پر اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں۔ چنانچہ علما کی مقلدانہ رائے پر گاندھی کی مجتہدانہ رائے برتر ثابت ہوئی۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا وہ اب تمام لوگوں کے لیے ایک معلوم تاریخ بن چکا ہے۔

اس پورے معاملہ پر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ ہمارے تمام علما سو سال سے بھی زیادہ عرصہ تک جہاد کے نام پر ایک ایسے خونین عمل میں مشغول رہے جس کا کوئی بھی نتیجہ تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہ تھا۔ اس خونین جہاد کے دوران انھوں نے برصغیر ہند کے مسلمانوں کو ناقابل بیان تباہی سے دوچار کیا۔ یہ صرف مہاتما گاندھی تھے جنھوں نے ان کو اس تباہ کن غار سے باہر نکالا۔

اس مہلک تجربہ کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب صرف ایک تھا۔ اور وہ ہے ہمارے علمائےکرام کااپنے لیے اجتہاد کو شجر ممنوعہ سمجھ لینا۔ تنقید و تحقیق اور بحث و اختلاف کو ممنوع قرار دے کر تقلید کے خول میں اپنے آپ کو بند کر لینا۔

شاہ عبدالعزیز صاحب اپنے مقلدانہ فکر کی بنا پر صرف دو حالتوں کو جانتے تھے— دارالاسلام، دارالحرب۔ ہندستان جب ان کو دارالاسلام نظر نہ آیا تو انھوں نے سمجھ لیا کہ اب یہ دارالحرب ہے، اور اسی کے مطابق فتویٰ دے دیا۔ اگر وہ مجتہدانہ نگاہ رکھتے تو وہ وسیع تر دائرہ کے اعتبار سے معاملہ کی تحقیق کرتے اور پھر وہ اعلان کرتے کہ قرآن کے الفاظ میں، ہندستان اب دارالاِعداد بن چکا ہے (الانفال، 8:60)۔ یعنی ہمارا روایتی دفاع اب بالکل غیرموثر ہو چکا ہے۔ تم لوگ مغربی زبانوں کو پڑھو۔ سفر کر کے یورپ جاؤ اور معلوم کرو کہ ان قوموں کی ترقی کا راز کیا ہے۔ زمانہ کی تبدیلیوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھو اور پھر اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد زندگی ہے اور تقلید صرف موت۔ مگر تقلید کے خول سے نکلنا اور اجتہاد کے فوائد کو حاصل کرنا صرف آزادانہ اظہار رائے کے ماحول میں ممکن ہے۔ اور آزادانہ اظہار رائے کا ہم نے صدیوں سے اپنے درمیان خاتمہ کر رکھا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content