اجتہاد نام ہے— شرعی مآخذ کی روشنی میں غیر منصوص مسائل کا استنباط کرنے کا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بے حد نازک کام ہے۔ مگر وہ جتنانازک ہے اتناہی زیادہ وہ ضروری ہے۔ اسی لیے علماء اصول نے لکھا ہے کہ کسی وقت اگر ایک ہی مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والا آدمی پایا جائے تو اس پر اجتہاد کرنا فرض عین ہو جائے گا۔ اور اگر اجتہاد کی مطلوبہ صلاحیت کے حامل کئی افراد ہوں تواس وقت اجتہاد فرض کفایہ ہو گا۔ یعنی اگر ان میں سے ایک شخص نے اجتہاد کر کے شرعی حکم بتا دیا تو بقیہ کے اوپر سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ شرائط اجتہاد کیا ہیں۔ کوئی شخص کب اس قابل بنتا ہے کہ وہ بوقت ضرورت اجتہاد کرے۔ اس سلسلہ میں علما نے متعدد شرطیں مقرر کی ہیں۔ مثلاً عربی زبان سے بخوبی طور پر واقف ہونا۔ قرآن و حدیث کا گہرا علم ہونا۔ ماضی کے علما اور مجتہدین کی آراء سے واقف ہونا۔ اصول فقہ اوراصول استنباط سے پوری طرح آگاہ ہونا۔ مقاصد شریعت سے کامل واقفیت رکھنا۔ ان تمام علمی قابلیتوں کے ساتھ لازمی طور پر اس کا متقی ہونا ، وغیرہ
یہ شرطیں سب کی سب نہایت درست ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم ہو کہ فلاں شخص ان اوصاف اجتہاد کامالک بن چکا ہے ، اس لیے اس کو حق ہے کہ وہ اجتہاد کرے۔ اس کا فیصلہ کوئی بھی خارجی شخص نہیں کر سکتا۔ خاص طور پرتقویٰ ایک انتہائی داخلی کیفیت ہے۔ اس کا علم خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں ہو سکتا۔ پھرکون شخص طے کرے گا کہ فلاں آدمی اس کااہل ہو چکا ہے کہ وہ اجتہاد کرے۔اس معاملہ میں شرائط اجتہاد تو بیان کی جا سکتی ہیں ، مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی شخص خاص کے بارے میں کہا جائے کہ تمہارے اندر تمام شرائط جمع ہو چکی ہیں ، اس لیے اب تم کو حق ہے کہ تم اجتہاد کرو۔
حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد، اس قسم کے دوسرے کاموں کی طرح، ذاتی داعیہ کے تحت کیا جانے والا ایک عمل ہے ، وہ کوئی تقرری کا معاملہ نہیں۔ دورِاول کے ائمہ فقہ جن کو مجتہدِ کامل کا درجہ دیاجاتا ہے انھوں نے ذاتی داعیہ ہی کے تحت اجتہاد کا عمل کیاتھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دوسروں کی عطا کردہ سند کی بنیادپر کوئی شخص اجتہاد کی مسند پر بیٹھا ہو۔
اس میں بلاشبہ یہ اندیشہ ہے کہ کچھ لوگ نااہلی کے باوجود اجتہاد کریں گے۔ مگر ایسے لوگوں کا چیک کسی بھی قاعدہ اور ضابطہ کے ذریعہ ممکن نہیں۔ ایسے نااہل مجتہدین ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اور آئندہ بھی وہ پیدا ہوتے رہیں گے۔ ان کے خلاف چیک خداکا یہ قانون ہے کہ اس دنیا میں صرف حق کو فروغ حاصل ہوتاہے ، اور باطل اپنی موت آپ مر کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ غیر ضروری طور پر مصنوعی پابندیاں وضع کرنے کے بجائے خدا کی ابدی سنت پر اعتماد کریں۔ یہی ممکن ہے اوریہی مطلوب بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔