Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

اجتہاد مطلق ، اجتہاد مقید

Urdu · 11 min

اجتہاد کیا ہے۔ لغت میں اجتہاد کے معنی ہیں انتہائی کوشش کرنا۔ اصولِ فقہ کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ ممکنہ سعی ہے جو کسی غیر منصوص معاملہ میں شریعت کا حکم جاننے کے لیے صرف کی جائے (اسۡتِفۡرَاغُ ‌الْوُسْعِ فِي ‌مَعْرِفَةِ ‌الْحُكْمِ الشَّرْعِيِّ فِي ‌أَمْرٍ لَمْ ‌يَرِدْ ‌فِيهِ نَصٌّ ‌فِي ‌الْكِتَابِ ‌وَالسُّنَّةِ)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ قدیم ائمہ مجتہدین نے جو علمی میراث چھوڑی ہے وہ ہمیشہ کے لیے کافی ہے ، اب کسی کو اجتہاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر محقق علما ء نے ہمیشہ اس کے برعکس موقف اختیار کیا ہے۔ حتیٰ کہ خود وہ ائمہ بھی جن کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند سمجھا جاتا ہے۔ اس بات پر شدت سے زور دیتے رہے ہیں کہ علما کو کسی ایک کا مقلّد بن کر نہیں رہناچاہیے۔ بلکہ نئے حالات اورنئے تقاضوں کا حل براہ راست قرآن و سنت کی روشنی میں تلاش کرنا چاہیے۔ اسی کا نام اجتہاد ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

علامہ شاطبی نے اپنی کتاب الموافقات میں اجتہاد کی بحث کے تحت لکھا ہے کہ اجتہاد کی ضرورت قیامت تک باقی رہے گی۔ کیوں کہ انسان قیامت تک اس بات کا مکلّف ہے کہ شریعت پر چلے(الموافقات، جلد5، صفحہ11)۔ لیکن شریعت ہمیں کلی اصول فراہم کرتی ہے۔ وہ جزئی تفصیلات سے بہت کم بحث کرتی ہے۔ جب کہ زندگی کے حالات اور تقاضے وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ جب اصولِ شریعت محدود ہیں اور بدلتے ہوئے حالات اورتقاضوں کی کوئی حد نہیں ، تو شریعت پرعمل کیسے ممکن ہو گا۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب اجتہادکا دروازہ کھلا رہے تاکہ شرعی اصولوں کی مزید توسیع یا ازسرِ نو تشریح کر کے مختلف حالات اور تقاضوں کی نسبت سے ہم اپنا موقف متعین کر سکیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خالص فنّی اعتبار سے اجتہاد کی بہت سی قسمیں کی جاتی ہیں۔ تاہم بڑی تقسیم میں اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اجتہاد مطلق ، دوسرے اجتہاد مقید (الفروق للقرافی، جلد 2، صفحہ117)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اجتہاد مطلق اور اجتہاد مقید کی جو تعریفیں اصول فقہ کی کتابوں میں درج ہیں ، اگر ہم ان کاخلاصہ آج کے انسان کی قابل فہم زبان میں بیان کرنا چاہیں تو وہ یہ ہو گا کہ اجتہاد مطلق کا تعلق ایسے مسئلہ سے ہے جو اپنی نوعیت میں بالکل نیا ہو۔ جس کے لیے سابق میں کوئی نظیر موجود نہ ہو جس پر قیاس کرتے ہوئے شریعت کا حکم متعین کیا جا سکے۔ ایسی حالت میں مجتہد کا کام یہ ہے کہ وہ روحِ اسلام کو رہنما بناکر یہ فیصلہ کرے کہ پیش نظر مسئلہ میں کیا کرنا چاہیے اورکیا نہیں کرنا چاہیے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس کے برعکس، اجتہاد مقید کا تعلق ایسے مسئلہ سے ہے جو بالکل نیا نہ ہو، بلکہ اس کی کوئی نظیر سابق میں پائی جاتی ہو۔ ایسی حالت میں مجتہد کا کام یہ ہے کہ وہ سابقہ عملی نظیر کو سامنے رکھتے ہوئے پیش آمدہ صورت حال پر شریعت کے حکم کا انطباق کرے۔ گویا اجتہاد مطلق میں اصل رہنما روح اسلام ہوتی ہے اور اجتہاد مقید میں اصل رہنما کوئی عملی نظیر۔

اجتہاد مطلق کی ایک مثال حکومت وقت کے خلاف خروج کی حرمت کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں واقعۂ کربلا سے پہلے کوئی مماثل واقعہ تاریخ اسلام میں نہیں ملتا۔ چنانچہ علما نے قائم شدہ حکومت ، خواہ وہ ظالم ہو، کے خلاف خروج کی حرمت کا جو متفقہ فتویٰ دیا اسے اجتہاد مطلق کی تاریخی مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس میں محض روح اسلام کو رہنما بناکرایک عملی موقف متعین کیا گیا۔ علامہ ابن کثیر نے حسین اور یزید کے معاملہ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یزید اگرچہ ایک فاسق امام تھا۔ لیکن امام اگر فاسق ہو تو محض فسق کی بنا پر اس کو معزول نہیں کیا جائے گا، بلکہ علما کے صحیح قول کے مطابق ، اس کے خلاف خروج (بغاوت) کرنا جائز نہیں ہو گا۔ کیوں کہ اس کے نتیجہ میں فساد اور بدامنی اور خوں ریزی اور لوٹ مار اورعورتوں کی آبروریزی جیسے سنگین واقعات پیش آتے ہیں جن میں سے ہرایک کی برائی اور سنگینی امام کے فسق و فجور سے کئی گنا زیادہ ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’وَالْإِمَامُ ‌إِذَا ‌فَسَقَ ‌لَا ‌يُعْزَلُ بِمُجَرَّدِ ذَلِكَ، عَلَى أَصَحِّ قَوْلَيِ الْعُلَماء، بَلْ وَلَا يَجُوزُ الْخُرُوجُ عَلَيْهِ؛ لِمَا فِي ذَلِكَ مِنْ إِثَارَةِ الْفِتْنَةِ، وَوُقُوعِ الْهَرْجِ، وَسَفْكِ الدِّمَاءِ الْحَرَامِ، وَنَهْبِ ‌الْأَمْوَالِ، وَفِعْلِ ‌الْفَوَاحِشِ مَعَ ‌النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا كُلُّ وَاحِدَةٍ فِيهَا مِنَ الْفَسَادِ ‌أَضْعَافُ ‌فِسْقِهِ، كَمَا جَرَى مِمَّا تَقَدَّمَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا‘‘ (البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، جلد8، صفحہ223-224)۔

other sourceWords of another person or source

حدیث میں ایک طرف امام جائر کے سامنے حق بات کہنے کو افضل جہاد کہا گیا ہے اور ایسے مجاہد کو اگر امام قتل کر دے تو وہ افضل الشہداء قرار پائے گا۔ ایسی حالت میں فاسق امام کے خلاف خروج کی حرمت کا فتویٰ بظاہر مذکورہ حدیث سے متعارض معلوم ہوتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ دراصل یہاں علما نے اسلام کی دائمی اسپرٹ کو ملحوظ رکھ کر اجتہاد کیا۔ وہ یہ کہ اجتماعی معاملات میں اصل فیصلہ کن چیز یہ ہے کہ کسی اقدام کے نتیجہ میں منفعت اور مضرت کا تناسب کیا ہو گا۔ اگر ایک عمل کا نقصان اس کے فائدہ سے زیادہ ہو تو فی نفسہٖ جائز ہوتے ہوئے بھی وہ عمل ناجائز ہو جائے گا۔ یہ اصول انفرادی معاملات میں بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مثلاً شراب اورجوا کی حرمت کا ایک سبب یہ بیان کیا گیا کہ ان کا نقصان ان کے فائدہ سے بڑا ہے (البقرۃ، 2:219)۔ تاہم اجتماعی امور میں یہ اصول زیادہ شدت کے ساتھ ملحوظ رکھاجائے گا۔ اسی بات کو اصول فقہ کی زبان میں کہا گیا ہے تَرْكُ ‌الْمَصْلَحَةِ لِخَوْفِ ‌مَفْسَدَةٍ ‌أَعْظَمَ ‌مِنْهَا (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد14، صفحہ178)۔ ایک درست کام بھی اس وقت نہ کرنا جب کہ اس کا نتیجہ برعکس صورت میں نکلنے والا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اجتہاد مقید کی وضاحت کے لیے استعانت بالکفار یا غیر مسلموں کے ساتھ موالات (تعاون) کا مسئلہ بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ تحریکِ آزادی کو موثر بنانے کے لیے اس صدی کے اوائل میں جب ہمارے علما نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ تاکہ ہندواورمسلمان دونوں فرقے متحدہ ہوکر انگریزوں کے خلاف لڑ سکیں ، اس وقت ایک طبقہ نے علما کے اس موقف پر سخت تنقید کی۔ حتیٰ کہ اس بنیاد پر کفر کے فتوے بھی صادر کیے گئے۔ ان صاحبان کی نظر اس آیت پر تھی جس میں اہل اسلام کو غیر مسلموں کے ساتھ دوستی اور تعاون سے منع کیا گیا ہے۔ علما بلاشبہ اس قرآنی حکم سے بے خبر نہیں تھے۔ لیکن ان کے سامنے رسول اللہؐ کے زمانے کی ایک ایسی عملی نظیر موجود تھی جس کی روشنی میں اجتہاد کرتے ہوئے انھوں نے پیش قدمی کرکے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کیا۔

جس وقت مکہ والوں نے رسول اللہؐ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ حکم خدا وندی سے ہجرت کی تیاری میں لگ گئے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ سیرت کی تمام مستند کتابوں میں یہ ملتاہے کہ آپ نے صحرائی راستوں کے ایک ماہر سے ربط قائم کیا تاکہ اس کی رہنمائی میں آپ ایسے خفیہ اور مختصر راستے سے مدینہ کا سفرکریں کہ مکہ والے آپ تک نہ پہنچ سکیں۔ صحرائی راستوں کا یہ ماہر مشرک تھا جس کانام عبداللہ بن اُریقط بتایا جاتا ہے(الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد1، صفحہ196)۔ یہ استعانت بالکافر کی ایک قطعی مثال ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس عملی نظیر پر قیاس کرتے ہوئے ہمارے علما نے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کا جو فیصلہ کیا وہ بلاشبہ ایک درست فیصلہ تھا۔ جہاں تک قرآن کی مذکورہ آیت کا معاملہ ہے تو اس کا تعلق دراصل ان غیر مسلموں سے ہے جو نہ صرف اسلام کے دشمن ہوں بلکہ بالفعل وہ اس کے خلاف برسر جنگ ہو گئے ہوں۔ ایسے لوگوں سے دوستی اور تعاون غداری کے ہم معنی ہے جس کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content