(یہ مقالہ ایک لیکچر پر مبنی ہے جو ’’خطبہ بیاد پروفیسر مشیر الحق‘‘ کے تحت 10 اپریل 1995 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی، کے کانفرنس ہال میں دیا گیا۔ اس کا اہتمام ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز نے کیا تھا۔)
پروفیسر مشیرالحق یکم اگست 1933 کو یو پی کے ضلع غازی پور میں پیدا ہوئے۔ 10اپریل 1990کو انھیں سرینگر میں شہید کر دیا گیا جب کہ ان کی عمر بمشکل 57 سال تھی۔ ماہنامہ کتاب نما (دہلی) کے شمارہ مئی 1990 میں 23 صفحات پر مرحوم کے بارے میں تعزیتی خطوط اور تعزیتی قرار دادیں شائع کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کی تعزیتی قرارداد ہے۔ وہ ہماری آج کی بحث سے بہت زیادہ متعلق ہے۔ اس کاایک حصہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں
’’پروفیسر مشیر الحق نے قدیم و جدید کی آمیزش سے مطالعات اسلامی میں ایک نئی راہ دکھائی۔ سماجی علوم میں رائج اصول تحقیق کو مطالعات اسلامی میں فروغ دے کر ایک نئی سمت کا تعین کیا۔ ان کی تحقیقات نے اسلامی معاشرہ میں جدید فکر کے لیے باب کھولا۔‘‘ (صفحہ 47)
مرحوم کے بیشتر مضامین اور کتابیں اسی خاص موضوع سے متعلق ہوتے تھے۔ میں نے موصوف کا ایک مقالہ پڑھا جس کا عنوان تھا ’’شریعت کی نئی تعبیر‘‘ موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے مقالہ کے آخر میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ میں شریعت اسلامی میں کسی تبدیلی کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ ایسا قطعاً نہیں ہے۔ اس کے برعکس میں صرف ذہن کی تبدیلی کی بات کر رہا ہوں (فکر اسلامی کی تشکیل جدید ، صفحہ 270) ۔
ڈاکٹر سید جمال الدین صاحب کی روایت ہے کہ پروفیسر مشیرالحق کے میک گل یونیورسٹی کے استاد پروفیسر ایڈمس (Charles J. Adams) نے ان کے بارے میں کہا کہ مشیر الحق ہر دور میں اسلام کی مسلسل معنویت میں کامل یقین رکھتے تھے
Mushirul Haq was very much convinced that Islam had a continuing relevance.
میں سمجھتا ہوں کہ پروفیسر مشیرالحق مرحوم کے بارے میں یہ صحیح ترین تبصرہ ہے۔ اورموجودہ مقالہ میں اسی کو بحث کا موضوع بنایا گیا ہے۔ یعنی یہ سوال کہ کیا بدلتے ہوئے زمانہ میں اسلام کی اہمیت کو ازسرِنو ثابت شدہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ پروفیسر مشیر الحق کا سب سے زیادہ پسندیدہ موضوع تھا۔ اس لیے عین مناسب ہے کہ آج کی صحبت میں اس کو موضوع بحث بنایا جائے۔ کیوں کہ یہ مجلس انھیں کی یاد میں منعقد کی گئی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔