Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

تشکیل جدید کیا ہے

Urdu · 6 min

’’فکر اسلامی کی تشکیل جدید‘‘ سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو نئے فکری اور عملی مسائل پیدا ہوئے ہیں ، ان کا ایسا جواب فراہم کیا جائے جس میں ایک طرف اسلام کے روح اور مزاج کی مکمل رعایت شامل ہو، دوسری طرف وہ جدید تقاضوں کو پوری طرح سمیٹے ہوئے ہو۔

فکر اسلامی کی تشکیل جدید کے موضوع پر موجودہ زمانہ میں بہت کچھ لکھا اور بولا گیا ہے۔ غالباً اس موضوع پر سب سے پہلے لکھنے والے اور اس کی طرف توجہ دلانے والے سیدجمال الدین افغانی (1838-1897ء) تھے۔ اسی طرح شیخ محمد عبدہ (مصر) سرسید احمد خان، سید امیر علی (انڈیا) اور نامق کمال (ترکی) وغیرہ کا نام اس سلسلہ میں لیا جا سکتا ہے، ان سب لوگوں نے اسلام کی تعبیر نو کی کوشش کی۔ اس کا دو مقصد تھا۔ ایک یہ کہ جدید خیالات کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ثابت کرنا ، اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کو اطمینان دلانا کہ اسلام آج بھی ان کی رہ نمائی کی اہلیت رکھتا ہے 

All undertook to reinterpret Islam with the dual purpose of accommodating modern ideas and outlooks within the framework of Islamic principles and at the same time ensuring to the Muslims that Islam was capable of a modern orientation.

(Encyclopedia Britannica, vol. 9, p. 924(

علامہ اقبال نے (1877-1938ء)کے درمیان مدراس ، حیدر آباد ، علی گڑھ میں چھ تفصیلی لیکچر تھے۔ یہ لیکچر اصلاً اسی موضوع پر تھے۔ چنانچہ ان کا مجموعہ چھپا تو اس کا نام رکھا گیا — اسلام میں مذہبی افکار کی تنظیم جدید

The Reconstruction of Religious Thought in Islam

مجمع البحوث الاسلامیہ (قاہرہ) کے زیر اہتمام خاص اسی موضوع پر ایک سے زیادہ بار سیمینار اور کانفرنس کا انعقاد ہو چکا ہے۔ عام طور پر ان کانفرنسوں کا عنوان تھا الاجتہاد فی شریعۃ الاسلام (اسلامی شریعت میں اجتہاد)۔ اس موضوع پر پہلی مؤتمر شوال1383 (مارچ 1962ء) میں ازہر میں ہوئی۔

کویت میں حکومت کے تعاون سے ہر سال اعلیٰ پیمانہ پر ایک انٹرنیشنل سیمینار کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر کی مسلم شخصیتیں جمع ہوتی ہیں۔ اس سالانہ سیمینار کا موضوع ہوتا ہے ندوۃ مستجدات الفکر الاسلامی ۔ یعنی ،فکر اسلامی کے جدید پہلو۔

اسی طرح پروفیسر مشیرالحق مرحوم نے ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے تحت دسمبر 1976 میں بڑے پیمانہ پرایک سیمینار نئی دہلی میں کیا تھا۔ اس کا موضوع بھی عین یہی تھا۔ اس سیمینار میں منتخب علما اور اہل فکر جمع ہوئے اور انھوں نے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مقالات پیش کیے۔ ان مقالات کا مجموعہ ’’فکر اسلامی کی تشکیل جدید‘‘ کے نام سے مکتبہ جامعہ لمیٹڈ (نئی دہلی) کے تحت شائع ہو چکا ہے جو 480 صفحات پر مشتمل ہے۔

اس قسم کی کوششیں بہت بڑے پیمانہ پر سارے عالم اسلام میں جاری ہیں۔ مگر کوششوں کی کثرت کے باوجود وہ ابھی تک نتیجہ خیز نہیں ہوئیں۔ ان کوششوں کا خاص مقصد یہ تھا کہ دور جدید کی نسبت سے مسلمانوں کو فکری اور عملی رہنمائی دی جائے۔ مگر یہ اہم ترین مقصد ابھی تک حاصل نہ ہو سکا۔

اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فکر اسلامی کی تشکیل جدید ایک مجتہدانہ عمل ہے۔ اس کے لیے ایک اعلیٰ اجتہادی کوشش درکار ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے ، چوتھی صدی ہجری کے بعد سے مسلم دنیا میں ذہنی جمود کی ایسی فضا چھائی ہوئی ہے کہ کوئی بھی شخص اجتہاد کی ہمت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.