خلاصۂ کلام
جزئی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ بروقت جو صورتحال (الوَضْعُ الرّاهِنُ) سامنے ہے اس کے سلسلہ میں حکم شرعی کو معلوم کر کے اس پر عمل کیا جائے۔ کلی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ بروقت قائم شدہ صورتحال کے بارے میں وہ موقف اختیار کیا جائے جس میں شریعت کی اصل روح کے ساتھ عمومی مصلحت کی رعایت ہو، اورجو بالآخر موجودہ صورتحال کے وقتی حل سے آگے بڑھ کر اسلام کے وسیع تر مقصد تک پہنچانے والا ثابت ہو۔ گویا مصلحتِ وقتی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے عمل کا رخ متعین کرنے کانام جزئی اجتہاد ہے اورمصلحتِ عمومی کو ملحوظ رکھ کر عمل کا رخ متعین کرنے کا نام کلی اجتہاد۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.