Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

دعوہ ایمپائر

Urdu · 12 min

اورنگ زیب عالمگیر (1707-1618) نے برصغیر ہند میں اسلام کا پولیٹیکل ایمپائر بنانا چاہا۔ مگر طویل ترین زمانہ تک ہر قسم کی کوشش اور قربانی کے باوجود وہ یہاں مطلوب پولیٹیکل ایمپائر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد سے آج تک تقریباً تین سو سال سے تمام رہنماؤں کا یہی سب سے زیادہ پسندیدہ خواب رہا ہے۔ کوئی اس مقصد کے لیے جہاد بالسیف تک گیا۔ اور کسی کے حالات نے اس کو جہاد بالقلم اور جہاد باللسان تک محدود رکھا۔ تاہم یہ تین سو سالہ کوششیں بے حساب جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود سراسر بے نتیجہ رہیں۔

اس کا سبب یہی تھا کہ ان تمام رہنماؤں کا ذہن جزئی دائرہ میں کام کرتا رہا۔ وہ جزئیات سے اٹھ کر کلیات کو اپنی گرفت میں نہ لا سکے۔

اس اجتہادی خطا کا اصل راز یہ ہے کہ مغربی قوموں کی طرف سے موجودہ زمانہ میں مسلمانوںکو جو چیلنج پیش آیا ، اس میں عسر کے ساتھ یسر کا پہلو وافر مقدار میں موجود تھا۔ مگر ہمارے تمام رہنما عسر کے پہلو میں اتنا الجھے کہ وہ یسر کے پہلوؤں کونہ دیکھ سکے۔

مغربی تہذیب کے ظہور کا ایک ابتدائی نتیجہ یہ تھا کہ اس نے ان قوموں کو سیاسی غلبہ عطا کر دیا۔ مگر اس تہذیب نے انسانی معاملات میں جو انقلاب برپا کیا تھا اس نے تاریخ میں پہلی بار یہ عظیم امکان کھول دیا تھا کہ پولیٹیکل ایمپائر سے بھی زیادہ بڑی ایک چیز قائم کی جا سکے، اور وہ وہی چیز ہے جس کو ہم نے دعوہ ایمپائر کہا ہے۔

پولیٹیکل ایمپائر میں طاقت کا انحصار تمام تر سیاسی قوت پر ہوتا ہے۔ جب کہ دعوہ ایمپائر میں طاقت کا انحصار تمام تر فکری اور نظریاتی قوت پر ہوتاہے۔ سیاسی یا فوجی قوت کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں۔ اس معاملہ میں تلک الایّام ندا ولہا بین الناس کی سنت الٰہی کارفرما ہوتی ہے اور وہ کسی بھی قوم کے حصہ میں آ سکتی ہے۔ مگر فکری اور نظریاتی قوت کے معاملہ میں اہل اسلام کو تنہا اجارہ داری حاصل ہے۔ کیوں کہ اسلام واحد مذہب ہے جو تاریخی طور پر معتبر مذہب کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسرے تمام مذاہب تبدیلیوں کے نتیجہ میں تاریخی اعتباریت کھو چکے ہیں۔ اس طرح دعوہ ایمپائر بنانے کی صلاحیت حقیقی معنوں میں اسلام کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔

قدیم زمانہ کے حالات میں صرف پولیٹیکل ایمپائر ہی اصل اہمیت رکھتا تھا۔ اس وقت مسلمانوں نے عالمی سطح پر اپنا ایک پولیٹیکل ایمپائر بنایا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاست اور حکومت کی حیثیت ثانوی ہو گئی۔ اب دوسری غیر سیاسی چیزوں نے اولین اہمیت اختیار کر لی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مصلحین اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بے فائدہ طور پر سیاست کی چٹان پر اپنا سر ٹکراتے رہے۔ جب کہ عین اسی وقت ان کے لیے دوسرے مواقع کو استعمال کر کے دوبارہ زیادہ طاقتورانداز میں دعوہ ایمپائر بنانے کا امکان پوری طرح کھلا ہوا تھا۔

قدیم زمانہ میں اقتصادیات کا انحصار تمام تر زمین پر تھا اور زمین بادشاہ کی ملکیت ہوتی تھی۔ اس لیے بادشاہ کے سوا کوئی اور شخص اقتصادی قوت کا مالک نہیں بن سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں انڈسٹری کی ترقی نے زمین کو ثانوی حیثیت دیدی ہے اور صنعت و تجارت کو اقتصادی معاملہ میں اولین اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے ، انڈسٹری پوری طرح ایک آزاد شعبہ ہے۔ کوئی بھی شخص یا کوئی بھی گروہ انڈسٹری کے مواقع کو استعمال کر کے اعلیٰ ترین اقتصادی ذرائع کا مالک بن سکتا ہے۔

قدیم زمانہ میں النَّاسُ ‌عَلَى ‌دِينِ ‌مُلُوكِهِمْ کا اصول تھا۔ کیوں کہ بادشاہ کے سوا کسی کے پاس یہ طاقت نہ تھی کہ وہ لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کر سکے۔ موجودہ زمانہ میں کمیونی کیشن کے جدید ذرائع نے اس صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ داعی ذرائع مواصلات کو استعمال کرکے شاہی محل کے لوگوں کو بھی اپنا مخاطب بنا سکے۔ وہ دنیا بھر کے تمام کچے اور پکے مکانات میں بلا روک ٹوک داخل ہو جائے۔

قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ سرکاری مذہب کے سوا کسی اور مذہب کی آزادانہ تبلیغ کی اجازت نہ تھی۔ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کازمانہ ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اہل حق اپنے پیغام کو لے کر اٹھیں اور کسی بھی پابندی کے بغیر اس کو ایک ایک شخص تک پہنچا دیں۔ اور مذہبی معاملات پر آزادانہ بحث و مباحثہ کے ذریعہ دین حق کی صداقت کو ثابت اور مبرہن کر سکیں۔

اس طرح کی بہت سی دوررس تبدیلیاں موجود زمانہ میں ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ اہل اسلام ہر ملک میں اعلیٰ درجے کے مدرسے اور اسلامی مرکز بنائیں۔ وہ مسجدوں اور دینی اداروں کانظام ہرجگہ قائم کریں۔ وہ دعوتی سرگرمیوں کو مؤثر ترین انداز میں جاری کرسکیں۔ وہ ہر قسم کے معاون اداروں کے ذریعہ اسلام کو ایک طاقت ور تحریک کی حیثیت دے دیں۔ وہ جدید ترین وسائل کو استعمال کر کے ہر ملک میں اپنا دعوہ ایمپائر کھڑا کر سکیں۔

اسلام کا اصل مقصد دل کی دنیا کو بدلنا ہے، نہ کہ ظاہری ڈھانچہ کو بدلنا۔ اسلام کا اصل مقصد اظہار ہے، اسلام کا اصل مقصد اقتدار نہیں۔ اسلام کا نشانہ نظریاتی غلبہ ہے، نہ کہ محض سیاسی غلبہ۔ اسلام کا اصل مقصود جنت ہے ، اسلام کا اصل مقصود حکومت نہیں۔

قدیم زمانہ میں سیاست کا ادارہ ہی واحد طاقت ور ادارہ تھا۔ اس لیے اسلام کے غیرسیاسی مقصود کو حاصل کرنے کے لیے بھی سیاست سے تعرض پیش آیا۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ اب اگر کسی مقام پر اہلِ اسلام کو حکومتی ادارہ میں غلبہ حاصل نہیں ہے تو اس پر انھیں کچھ بھی ملال کرنے کی ضرورت نہیں۔ جدید ذرائع کو استعمال کر کے وہ حکومت کے باہر بھی وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں جن کی توقع پہلے صرف حکومتی ادارہ سے کی جاتی تھی۔

موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین کا یہ حال ہوا کہ وہ قدیم امکانات کو جانتے تھے ، مگر جدید امکانات سے عملاً وہ بے خبر رہے۔ اسی لیے اس راز کو سمجھنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوا کہ حکومت سے باہر وہ حکومت سے زیادہ طاقت ور ادارہ بنا سکتے ہیں۔

موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ افکار کی اشاعت عالمی سطح پر بے روک ٹوک اور انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ جاری کی جا سکے۔ ایسی اسلامی یونیورسٹی بنائی جائے جو تمام دنیا کے لیے علوم الٰہی کا سرچشمہ بن جائے۔ ایسا ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی اسٹیشن قائم کیا جائے جہاں سے بیک وقت تمام اہل عالم کو خطاب کیا جا سکتا ہو۔ ایسا اقتصادی ہاؤس بنایا جائے کہ حکومتوں کے تعاون سے بے پرواہ ہو کر تمام اسلامی سرگرمیوں کو خود اپنی بنیاد پر جاری کیا جا سکے۔

اسی کے ساتھ موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ اسلامی اخلاقیات کا عمومی مظاہرہ کیا جا سکے۔ جدید طرز کے اسپتال، جدید طرز کے رفاہی ادارے، معذور افراد کے لیے جدید معیار کی سہولتیں ، اور اس قسم کے دوسرے بہت سے کام حکومت کے اشتراک و تعاون کے بغیر اعلیٰ ترین سطح پر کیے جا سکتے تھے ، جیسا کہ بعض قومیں انجام دے رہی ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اسی قسم کے مختلف کاموں کے مجموعہ کو ہم نے دعوہ ایمپائر کہا ہے۔موجودہ زمانہ کے مصلحین اگر کلی اجتہاد کی صلاحیت کے حامل ہوتے تو وہ ان امکانات و مواقع کو دیکھتے۔ اس کے بعد وہ ایسا نہ کرتے کہ سیاست کی قربان گاہ پر قوم کو لے جا کر اس کی ہلاکت کا سامان کریں۔ بلکہ وہ لوگوں کو یہ سبق دیتے کہ جدید امکانات کو استعمال کر کے دعوہ ایمپائر بناؤ اور پھر اسلام کو سارے عالم کی فکری قیادت کے مقام پر پہنچا دو۔

یہ دعوہ ایمپائر اصلاً غیر سیاسی دائرہ میں بنے گا۔ مگر جب وہ بن جائے گا تو وہ بالواسطہ طور پر سیاسی ادارہ کو بھی متاثر کرے گا ، حتی کہ عین ممکن ہے کہ وہ وقت آئے جب کہ خود سیاسی ادارہ بھی اس دعوہ ایمپائر کا ایک ماتحت حصہ بن جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content