← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
اجتہاد کی اہمیت
Urdu · 26 min
رسول کا زمانہ، صحابہ کا زمانہ اور تابعین کا زمانہ اسلام کی تاریخ میں معیاری زمانہ ہے۔ اس کو پیغمبرکی حدیث کی بنا پر قرون مشہود لہابالخیر کہا جاتا ہے۔ یہ گویا اسلام کا دور اول ہے۔ اسی دور اول کی روشنی میں بعد کے زمانوں کو جانچا جائے گا، نہ کہ بعد کے زمانہ کی روشنی میں دورِاول کو جانچا جانے لگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں بجا طور پر لکھا ہے کہ دور اول میں اسلامی فقہ موجودہ فنی صورت میں پائی نہیں جاتی تھی اور نہ اس کی باقاعدہ تدوین ہوئی تھی (حجۃاللہ البالغہ، جلد1، صفحہ243)۔ مدوّن فقہ کا آغاز خلافتِ عباسیہ کے زمانہ میں ہوا۔ دور اول کی فقہ سادہ اور فطری اسلوب پر تھی۔ بعد کے زمانہ میں اس میں تعمق اور تقصّی اور تقسیم کا اضافہ ہوا۔ اس طرح فطری فقہ نے ایک فنّی فقہ کی صورت اختیار کر لی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فنّی فقہ کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال لیجئے۔ ایک شخص نے ایک مفتی سے طلاق کے بارے میں سوال کیا۔ سوال یہ تھا کہ فریقین کے درمیان اگر مسلک کا اختلاف ہو ، یعنی ایک حنفی ہے اور دوسرا غیر حنفی ، ایسی صورت میں قاضی کیا فیصلہ کرے گا اور اس کا فیصلہ کس طرح ان کے اوپر نافذ ہو گا۔ مفتی نے جواب دیا — امور مجتہَد فیہا میں فقہانے قاضی کے فیصلہ کو رافع خلاف قرار دیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ کسی سوال کے جواب کا فنّی انداز ہے۔ یہ انداز بعد کے زمانہ میں رائج ہوا۔ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں جواب کے لیے اس انداز کا رواج نہ تھا۔ اس مخصوص اسلوب کو اگر علم فقہ کا لازمی جزء سمجھ لیا جائے تو اس کے بعد یہی ہو گا کہ اگر اس فنی اسلوب میں کمال رکھنے والے لوگ موجود نہ ہوں تو کہنے والے کہیں گے کہ فقہی غور و فکر کا دروازہ بند کر دو، کیوں کہ اب اس کے اہل افراد دنیا میں پائے نہیں جاتے۔
اس تفنین نے فطری دین میں غیر فطری مسائل پیدا کر دئیے۔ مثلاً ایک مسئلہ یہ تھا کہ شریعت میں استدلال کی بنیاد کیا ہو۔ اس میں فنی خوض کر کے فقہا نے چار اصول وضع کیے— عبارت النص،دلالتہ النص،اشارۃالنص،اقتضاءالنص(التلويح على التوضيح للتفتازاني، جلد2، صفحہ161)۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر ضروری تدقیق ہے۔ اس چار کو ہم سادہ طور صرف دو میں بیان کر سکتے ہیں۔ یعنی منصوص استدلال اور استنباطی استدلال ۔ جو استدلال براہ راست کسی نص صریح پر مبنی ہو، وہ منصوص استدلال ہے۔ اور جو استدلال کسی نص سے مستنبط کیا جائے وہ استنباطی استدلال۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اجتہاد کے معاملہ میں بھی اسی طرح کی تدقیق کر کے اس کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ اسی مصنوعی پیچیدگی نے چوتھی صدی ہجری میں یہ ذہن پیدا کیا کہ اب ہمیشہ کے لیے اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ کیوں کہ اجتہادی صلاحیت کے لوگ دنیا میں باقی نہیں رہے۔ حالاں کہ اجتہاد کو اگر اس کے فطری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا دروازہ بند ہونے کی بات بالکل بے معنی نظر آئے گی۔ کیوں کہ اجتہاد محض ایک شرعی مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ وہ ایک ضرورتِ حیات ہے۔ اجتہاد دراصل استنباط ہی کی اعلیٰ صورت ہے۔ اور استنباط ایک ایسی انسانی ضرورت ہے جس سے کسی بھی حال میں اور کسی بھی معاملہ میں مفر ممکن نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قدیم زمانہ میں اقتصادی معاملات (commercial transactions) کے لیے سونے اور چاندی کے سکے کا رواج تھا جن کا نقل و حمل سخت مشکل تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں کاغذی نوٹ کا عمومی استعمال شروع ہوا جس نے اس مسئلہ کو نہایت آسان بنا دیا۔
خالص فنی اعتبار سے نوٹ کا جائز ہونا مشتبہ تھا۔ مگر عوام نے اس کے جواز کے لیے علما کے اجتہاد کا انتظار نہیں کیا۔ نوٹ کے آتے ہی لوگوں نے فوراً اس کو قبول کر لیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اجتہاد کس طرح ایک ضرورت حیات ہے۔ اور جو چیز ضرورت حیات کی حیثیت رکھتی ہو وہ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک خود حیات باقی ہے۔ نہ اس کا دروازہ بند ہونے کا سوال ہے اور نہ اس کی کنجی گم ہونے کا۔
اجتہاد کا لفظ جُھد سے بنا ہے۔ جہد کے معنی کوشش کے ہیں اور اجتہاد کے معنی زیادہ کوشش کے ہیں۔ اجْتَهد فِي الأَمر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے فلاں معاملہ میں انتہائی کوشش کی۔ اس میں اس نے اپنی پوری صلاحیت استعمال کر ڈالی۔ شریعت کے مسائل میں جب اجتہاد کا لفظ بولا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے ، اپنی پوری کوشش صرف کر کے متعلقہ معاملہ میں شرعی حکم معلوم کرنا۔
مجتہد کی دو بڑی تقسیم کی گئی ہے۔ مجتہد مقیّد ، مجتہد مطلق۔ مجتہد مقید وہ ہے جو پیش آمدہ حالات میں مروجہ فقہی مسالک میں سے کسی مسلک کا پابند رہ کر فتویٰ دے۔ وہ اپنے اختیار کردہ مسلک سے باہر نہ جائے۔ مثلاً فقہ حنفی میں ایک مجلس کی تین طلاق کو تین مانا جاتا ہے۔ اب مسلک حنفی سے وابستہ مجتہد اسی کی پیروی میں فتویٰ دے گا ، وہ کسی حال میں اس سے باہر نہیں جائے گا۔
مجتہد مطلق وہ مجتہد ہے جو کسی مسلک فقہ یا کسی حال میں اس سے باہر نہیں جائے گا۔ مجتہد مطلق وہ مجتہد ہے جو کسی مسلک فقہ یا کسی امام کی پیروی نہ کرے۔ بلکہ معاملہ پیش آنے کے بعد براہ راست شرعی دلائل کی روشنی میں ازخود مسائل و احکام کا استنباط کرے۔ ان دونوں اصطلاحوں میں مقید اور مطلق کا تعین مسالک فقہ کی نسبت سے ہے۔ یعنی مروجہ مسالک فقہ کا پابند رہ کر مسئلہ بیان کرنے والا مجتہد مقید ہے ، اور مروجہ مسالک فقہ کی پابندی کے بغیر مسئلہ بیان کرنے والا مجتہد مطلق۔
اس کے بعد مزید تدقیق کر کے مجتہد مقید کی کئی قسمیں بنائی گئی ہیں۔ مثلاً مجتہد منتسب، مجتہد تخریج ، مجتہد ترجیح ، مجتہد الُفتیا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید میں مجتہد کی یہ قسمیں بتائی ہیں۔ لیکن اگر تدقیق کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس فہرست میں مزید اتنے ہی مجتہدین کا اضافہ کیا جا سکتا ہے جتنا کہ بیان کیا جاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس معاملہ کو اگر فطری انداز سے دیکھا جائے تو بنیادی طور پر مجتہدین کی صرف دو قسمیں قرار پائیں گی۔ میں ان کو کلی مجتہد اور جزئی مجتہد کہوں گا۔ جزئی مجتہد وہ ہے جو شریعت کے فروعی احکام میں مسلّمہ فقہی اصولوں کے مطابق اجتہاد کرے۔ کلی مجتہد وہ ہے جو کسی پیش آمدہ صورت معاملہ میں رواجی ڈھانچہ سے اوپر اٹھ کر شریعت کے وسیع تر اور گہرے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تخلیقی نوعیت کا ایک اصول وضع کر سکے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رسول اور اصحاب رسول کی زندگی میں جس طرح تمام معاملات و مسائل کے لیے نظیریں موجود ہیں۔ اسی طرح جزئی اجتہاد اور کلی اجتہاد کی نظیریں بھی موجود ہیں۔ ان نظیروں اور مثالوں کا مطالعہ کر کے بعد کے زمانوں کے لیے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
جزئی اجتہاد کا ایک واقعہ یہ ہے کہ غزوۂ خندق سے فراغت کے بعد ذوالقعدہ 5ھ میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی بستی بنو قریظہ کے محاصرہ کے لیے ان کی طرف صحابہ کی ایک جماعت بھیجی۔ ان کو روانہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک وہ بنو قریظہ کی بستی میں نہ پہنچ جائے لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مہم روانہ ہوئی تو راستہ میں عصر کا وقت آ گیا۔ کچھ لوگوں نے حکم کی لفظی تعمیل کی۔ وہ راستہ طے کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب بنو قریظہ کی بستی میں پہنچ گئے ، اس وقت سواری سے اتر کر عصر کی نماز پڑھی۔ کچھ اور افراد کو اندیشہ ہوا کہ عصر کاوقت شاید نکل جائے۔ چنانچہ انھوں نے درمیان میں رک کرعصر کی نماز ادا کی۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے مراد تعجیل سیر تھی (إِنَّمَا أَرَادَ تَعْجِيلَ السَّيْرِ)، نہ کہ ہر حال میں نماز کی ادائیگی میں تاخیر (الفصول فی سیرۃ الرسول لابن کثیر، صفحہ 171)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بنو قریظہ کے سفر کا یہ واقعہ جزئی اجتہاد کی ایک مثال ہے۔ یہ مثال خود اصحاب رسول کے ذریعہ قائم ہوئی۔ اس میں بظاہر حکم رسول کی خلاف ورزی تھی۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ اجتہاد میں ابتدائی حکم سے ظاہری مطابقت ضروری نہیں ہے۔ اگر اجتہاد میں حکم شرعی کی اصل روح پائی جا رہی ہو تو وہ صحیح اجتہاد قرار دیا جائے گا۔
دور اول میں اجتہاد کلی کی ایک مثال وہ ہے جو حدیبیہ کے موقع پر پیش آئی۔ حدیبیہ کا معاہدہ تمام ظاہری حالات سے اوپر اٹھ کر کیا گیا۔ اس اعتبار سے وہ کلی اجتہاد کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ایک معیاری نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
حدیبیہ کا معاہدہ دس سال کاناجنگ معاہدہ تھا جو یک طرفہ شرائط کی بنیاد پر کیا گیا (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ317)۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتر چکی تھی کہ ان لوگوں کو لڑائی کی اجازت دے دی گئی جن سے لڑائی کی جا رہی ہے ، اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا (الحج،22:39)۔ حدیبیہ کے وقت اور حدیبیہ سے پہلے فریق ثانی واضح طور پر ظلم اور جارحیت کا معاملہ کر چکا تھا۔ اس کے باوجود ان کے خلاف جنگ نہیں چھیڑی گئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عمرہ کی ادائیگی کے بغیر حدیبیہ سے واپسی سراسر وقار کے خلاف تھی مگر آپ نے اس کو نظرانداز کر دیا۔ معاہدہ کے کاغذ سے رسول اللہ کا لفظ مٹانا گویا اپنی اصل حیثیت کو مجروح کرنا تھا مگر اس کے باوجود آپ نے رسول اللہ کا لفظ کاغذ سے مٹا دیا۔ ابو جندل کو زخمی حالت میں دشمنوں کی طرف واپس بھیجنا سخت جذباتی معاملہ تھا مگر اس کو بھی آپ نے برداشت کر لیا۔ حدیبیہ میں صحابہ کے پڑاؤ پر مکہ کے آدمیوں نے خشت باری کی مگر آپ نے اس کا انتقام نہیں لیا۔ اس طرح کے متعدد اشتعال انگیز واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے ان سب سے اوپر اٹھ کر سوچا(دیکھیے، سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ309-319)۔ آپ نے کلی مصلحت کو جزئی مصالح کے اوپر غالب رکھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حدیبیہ کے وقت جو حالات تھے وہ سب کے سب ٹکراؤ کی طرف لے جانے والے تھے۔ اور ظاہری احکام شریعت کے مطابق ، اس وقت یہ ٹکراؤ عین جائز بھی تھا۔ مگر آپ نے اس قسم کے تمام حالات سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ آپ نے قریبی مصلحتوں کو نظرانداز کر کے دور کی پائیدار مصلحتوں کو اہمیت دیتے ہوئے صلح کے معاہدہ پر دستخط کر دئیے۔ اس کا نتیجہ، قرآن اور تاریخ کی شہادت کے مطابق ، فتح مبین کی صورت میں برآمد ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں کلی اجتہاد کی ایک نہایت ممتاز مثال قائم کی ہے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس لیے ہوا کہ وہ اہل ایمان کے لیے ایک نمونہ ہو جائے اور ان کو ایک سیدھا راستہ دکھا دے (48:20)۔ گویا حدیبیہ کا معاملہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے اجتہاد کلی کا ایک معیاری نمونہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ میں دوبارہ مسلمانوں کو اجتہاد کلی کی ضرورت ہے۔ یہ اجتہاد کلی ان کے لیے گویا ایک برتر حل (superior solution) ثابت ہو گا۔ وہ اسی طرح ان کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن بن جائے گا جس طرح دوراول میں حدیبیہ کا معاملہ اسلام کی تاریخ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا تھا۔
پچھلی صدیوںمیں برصغیر ہند میں، نیز پوری مسلم دنیا میں ، مسلم رہنماؤں نے بار بار بڑے بڑے اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں غیر معمولی جانی ومالی قربانیاں دی گئی ہیں۔ مگر یہ تمام اقدامات مکمل طور پر بے نتیجہ رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ تمام اقدامات جزئی اجتہاد کی بنیاد پر کیے گئے۔ جب کہ حالات کا تقاضا تھاکہ کلی اجتہاد والی بصیرت کے تحت فیصلہ کیا جائے۔
جزئی اجتہاد یا جزئی استنباط کی بنیاد کسی ایک حکم شرعی پر قائم ہوتی ہے۔ جب کہ کلی اجتہاد یا کلی استنباط مجموعی شرعی مصلحت کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر حضرت صہیب رومی جب مکہ سے ہجرت کر رہے تھے تو ان کے پاس کچھ دینار موجود تھے۔ قریش کے کچھ نوجوانوں نے ان کا راستہ روکا اور کہا کہ ہم ان دیناروں کو لے کر تمہیں مدینہ جانے نہیں دیں گے (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد3، صفحہ209)۔ اس وقت اگر حضرت صہیب رومی اس حدیث کو یاد کرتے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ (مسند احمد، حدیث نمبر 590)— یعنی، جو اپنے مال کے لیے قتل کردیا جائے وہ شہید ہے— اور اپنے مال کو بچانے کے لیے قریش کے نوجوانوں سے لڑ جاتے تو یہ جزئی استنباط ہوتا۔ مگر انھوں نے وسیع تر اسلامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام دینار قریش کے نوجوانوں کے حوالے کر دئیے۔ انھوں نے مال کو بچانے کی فکر نہیں کی ، بلکہ اپنی جان کو بچا کر مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ ان کی یہ روش کلی استنباط کی ایک مثال تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں مسلم دنیا میں بڑے بڑے اقدامات کیے گئے، وہ سب کسی نہ کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دے کر کیے گئے۔ مگر یہ سب جزئی استنباطات تھے، جب کہ اس زمانہ میں مجموعی اسلامی مصلحت کو سامنے رکھتے ہوئے کلی استنباط کی ضرورت تھی۔ اس کوتاہی کی بنا پر ان کا استنباط یا اجتہاد، اجتہادی خطا کی مثال بن گیا۔
اورنگ زیب عالمگیر نے مختلف طاقتوں سے ٹکراؤ کیا تو اس کے سامنے اسلام کا صرف یہ حکم تھا کہ اسلام دشمن طاقتوں کو زیر کرو۔ اس کے بعد شاہ ولی اللہ دہلوی نے مرہٹوں کے خلاف جہاد کی اسکیم بنائی۔ سید احمد شہید بریلوی نے سکھوں کے خلاف جہاد کیا۔ علما ءدیوبند نے انگریزوں سے جہاد بالسیف کیا۔ اس طرح کے تمام واقعات اسلام کے حکم — دشمنوں کا مقابلہ کرو سے مستنبط کیے گئے تھے۔
اسی طرح اقبال کا علیحدہ مسلم اسٹیٹ کا نظریہ اور تقسیم کے بعد اٹھنے والی مسلم پرسنل لا تحریک ، بابری مسجد تحریک اس قسم کی تمام تحریکیں تحفظ شریعت کے حکم سے اخذ کی گئی تھیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کے احیاء کے لیے اس کلی اجتہاد کی ضرورت تھی جو مجموعی مصالح شرعی کی بنیاد پر وضع کیا جائے۔ مگر تمام مصلحین صرف جزئی استنباط کی حد تک پہنچ سکے۔ وہ شریعت کے مجموعی مصالح کے پیش نظر کلی استنباط یا کلی اجتہاد کا ثبوت نہ دے سکے ، اس لیے نہ ان کا استنباط مطابق حال تھا اور نہ وہ کسی حقیقی نتیجہ تک پہنچانے کا ذریعہ بنا۔
بعض حالات میں جزئی اجتہاد بھی کافی ہو جاتا ہے ، جیسا کہ بنو قریظہ کے واقعہ میں نظر آتا ہے۔ مگر بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جب کہ ایسے کلی اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے جس میں مصالح کلی کی رعایت پائی جاتی ہو۔ موجودہ زمانہ میں اسی قسم کے کلی اجتہاد کی ضرورت تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماءِ اسلام اس قسم کے کلی اجتہاد تک نہ پہنچ سکے ، اس لیے وہ ملت کے لیے ایسا اقدام بھی تجویز نہ کر سکے جس میں مصالح کلی کی رعایت پائی جاتی ہو۔
کلی استنباط کے لیے وہ مجتہدانہ بصیرت درکار ہوتی ہے جس کی توجہ جزئیات دین سے زیادہ اساسات دین پر ہو۔ جو احکام شریعت کے ساتھ تاریخ کی طاقتوں کو بھی جانتا ہو۔ جو الفاظ شریعت کے ساتھ اسرار شریعت کی گہرائیوں تک بھی پہنچ چکا ہو۔ جس کے ایمان نے اس کو وہ فراست ربّانی عطا کی ہو جب کہ آدمی خدا کی روشنی سے دیکھنے لگے۔ جو علوم الہامی کا عارف ہونے کے ساتھ بصیراً بزمانہ کے درجہ پر بھی فائز ہو۔
یہ وہ عالم شریعت ہے جس کی نگاہ وقتی مسائل سے گزر کر دور تر مسائل تک پہنچ گئی ہو۔ جو قریبی حالات سے زیادہ مستقبل کے حالات پر نظر رکھے۔ جو کسی اقدام کے مابعد نتائج کو بھی سمجھنے کی استعداد رکھتا ہو۔ جو ردعمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ کرسوچ سکے۔ جو مسائل ومشکلات کے درمیان مواقع اور امکانات کو دریافت کر سکے۔ جو خواہشات انسانی کے دائرہ سے نکل کر فیصلۂ خداوندی کے اشاروں کو پڑھنے والا بن گیا ہو۔ جو اس راز کو جانے کہ کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی نہ بولنا۔ کبھی کرنا ضروری ہوتا ہے اورکبھی نہ کرنا۔ جو ظاہری ہنگاموں کے درمیان چھپے ہوئے عوامل کوجانے ، جو پسپائی کے واقعہ کو بھی اقدام کے روپ میں دیکھ سکے۔