← Diary 2015Diary 2015
February 2015
English · 12 min read
1 Sunday, February
قرآن کی اشاعت کا کام
صدقۂ جاریہ(continued contribution)
قدیم زمانہ میں صدقۂ جاریہ محدود چیزوں کے لیے تھا ۔مثلا پل، کنواں ، تالاب ، وغیرہ ۔
موجودہ زمانے میں اس کا وسیع مفہوم ہوگیا ہے۔ یعنی ہر وہ عمل جو بے غرضی کے ساتھ کیا جائے، اور اس کا فائدہ بعد کی نسلوں کو ملتا ہے وہ صدقۂ جاریہ ہے۔
مثلا دور اول میں قرآن کی تدوین ، اس کو یاد کرنا اور اس کو لکھ کر محفوظ کرنا ، یہ صدقۂ جاریہ تھا ۔اسی طرح حدیث کی تدوین بھی ۔ موجودہ زمانے میں کوئی شخص قرآ ن کو مطبوعہ شکل میں یا انٹرنیٹ کی شکل میں کوئی ایسا نظم بنائے کہ اس کے مرنے کے بعد کبھی وہ لوگوں تک پہنچتا رہے۔ تو وہ صدقہ جاریہ ہوگا۔
قرآن انٹرنیشنل کو سپورٹ کرنا بھی صدقۂ جاریہ ہے۔ جن لوگوں نے اپنا مال اور اپنا وقت لگا کر قرآن انٹرنیشنل کو establish کیا اور اس کے ذریعہ سے قرآن گلوبل ہونے لگا تو ایسے donors کو بھی ان کی موت کے بعد اس کا ثواب ملتا رہے گا۔
2 Monday, February
کلمہ شہادت صرف عقیدہ کی تکرار کا نام نہیں ۔یہ اس عزم کا اظہار ہے کہ میں اس دنیا میں اللہ کا گواہ (witness) بنوں گا۔ حقیقت خداوندی سے سب کو آگاہ کروں گا۔
3tuesday, February
بدر کے موقع پر رسول اللہﷺ نے یہ دعا کی تھی ۔اللھم ان تھلک ھذہ العصابۃ لا تعبد بعد ھا فی الأرض۔پر فتح مکہ کے بعد یہ آیت اتری ۔فلا تخشوھم و اخشون(5:3) یعنی فتح مکہ کے بعد خشیت انسانی کا دور ختم ہوگیا۔ اب صرف خشیت ربانی کا دور ہے۔ اکیسویں صدی اس دور کا culminastionہے۔ اپنے ہلاکت کا کوئی اندیشہ نہیں ۔ اپنے جو اندیشہ ہے وہ یہ کہ یہ ٹیم un utilized رہ جائے ۔یعنی موجودہ زمانہ پہلا دم نہیں ہے۔ بلکہ دوسرا دور ہے۔اب صرف مواقع کو avait کرنے کا زمانہ ہے۔ آج کے داعی کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ زمانی فرق کو سمجھیں اور دعوت کے لیے مواقع کو استعمال کریں۔
4 Wednesday, February
کلمۃ واحدۃ مقطو ینھا ۔ یہ صرف عرب کے اعتبار سے نہیں تھی ۔ بلکہ وہ پوری تاریخ کے اعتبار سے تھی ۔ اسلام کے advent کے بعد ایک ایسا دور آنے ولا تھا جب کہ ہر امن دعوت میں کامیابی کے لیے کافی ہوجائے۔
5 thurday, February
کلمہ اسلام کا ہر گھر میں داخل ہونا ، یہ خبر نہیں ہے بکہ یہ ایک عالمی رول کا ذکر ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ سفر کرتے کرتے وہاں پہنچے گی جب کہ وہ تما اسباب جمع ہوجائیں گے۔ اس وقت ایک گروہ اٹھے گا جو وقت کے اسباب کو استعمال کرکے دعوت کا عالمی رول ادا کرے گا۔ یہی شہادت اعظم ہے۔
6 Friday, February
شہادت اعظم۔ شہادت اعظم کا رول ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ داعی کے اندر intellectual explosim آئے۔اس کے لیے داعی کو اپنے آپ کو اپنے زیادہ تیار کرنا ضروری ہے۔
شہادت اعظم کا مطلب ہے عالمی شہادت (global witness) شہادت فعد عظیم اور غیر عظیم نہیں ہوتی ۔ ہر شہادت عظٰم ہے۔ حدیث میں اعظم سے مراد یہ ہے کہ پہلے شہادت موکل میول پر ہوا کرتی تھی ۔ آخری زمانہ میں شہادت گلوبل میول پر انجام دی جائے گی۔
خلافت تحریک جب زوروں پر تھی تو ایک آدمی نے کہا تھا ۔محمد علی جون طے کئے۔ کیو نہ کہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح یہ ممکن ہے کہ قیامت میں خدا ہے شہادت اعظم کا فریضہ انجام دینے والوں کے بارے میں یہ کہہ دے کہ ان لوگوں نے وہ کام کیا جو کسی نے نہیں کیا تھا۔
7 satuarday, February
اما م شافعی کا ایک قول ہے۔
My opinim is right with the provability that it may be wrong , others opinion is wrong with the probability that it may be right.
8 Sunday, February
اصحاب بدر کے بارے میں رسول اللہﷺ کی دعا ہے: اللھم إن تھلک ھذۃ العصابۃ (الحدیث)۔ یہ پیغمبر کی دعا کی بات نہیں تھی بلکہ اصحاب بدر کے competence کی بات تھی۔ اسی طرح اگر آج کوئی گروہ اپنے آپ کو گلوبل دعوۃ کے لیے competent ثابت کرے تو فرشتے دعا کریں گے کہ خدایا اس گروہ کی مدد کر۔ اگر یہ گروہ گلوبل دعوہ نہ کرسکا تو پھر قیامت تک گلوبل دعوہ نہ ہوسکے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
9 Monday February
اعظم شھادت یا عظیم شہادت کہا ہے۔ اس کا جواب ایک دوسری حدیث میں ملتا ہے ۔دوسری حدیث میں بتایا گیا ہےکلمۂ اسلام ہر گھر میں داخل ہوجائے گا ۔(کلمۃ الاسلام) ۔ اس دوسری حدیث کو ملا کر دیکھا جائے تو عظیم شہادت کا مطلب ہے عالمی شہادت (global dawah)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
10 Tuesday, February
مسیح کے حواریوں پر روح القدس (holy sprit) اثری جس نے ان کو دعوتی حسن کے لیلے ایکٹو کردیا ۔ سچ کے متبعین نے دعوت کا کام (missionary work)جس طرح کیا ہے اس طرح تاریخ میں کسی نے نہیں کیا ۔ اے خدا دوبارہ ان لوگوں پر روح القدس اتارے گا جو شہادت اعظم کے خدائی متن کے لیے کھڑے ہوجائیں ۔ مسیح کے حواری نے یہی کہا تھا کہ مسیح کے کہنے پر وہ متن کے پھیلانے کے لیے کھڑے ہوگئے۔
11 Wednesday, February
جس کا عمل رضائے الہی کے لیے ہو اس کو آخرت میں اس کا بدلہ ملے گا ۔جو لوگ رضائے الہی کے لیے قرآن انٹرنیشنل کے ادارے میں کنٹری بیوٹ کریں ان کو آخرت میں اللہ کا بڑا انعام ملے گا۔
12 Thursday, February
وقتی حاجت برآئی، مستقل حاجت برآئی ۔اسی طرح ہے ۔temporary charity,continanance charity حدیث کی کتابوں میں کئی رواتیں صدقہ جاریہ کے بارے میں آئی ہیں۔صدقہ جاریہ وہ ہے جس کا ثواب آدمی کو موت کے بعد بھی ملتا رہے۔حدیثوں میں اس سلسلے میں مختلف چیزوں کا ذکر ہے ،جو موت کے بعد بھی آدمی کو ثواب پہنچاتی رہتی ہیں ۔مثلا درخت لگانا ،مسجد بنانا ،نہر کھودنا ،ولد صالح ،مسافرخانہ،۔اس کے علاوہ اور بھی دو چیزوں کا ذکر ہے۔1۔مصحفا ذرّتہ،2۔علما علّمہ و نشرہ طباعت کے دور سے پہلے مخوطہ شکل میں مصحف ہوتا تھا ،یہاں ایسے ہی مصحف کا ذکر ہے۔ علم سے مراد علم نافع ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
13,Friday,February
اللھم ان تھلک ھذۃ العصابۃ الا تعبد بعدھا في الأرض۔
العصابہ کی ہلاکت سے عبادت ارض کیوں نہیں۔
ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر آئے۔پیغمبر آخر الزماں نے ان کام کیا ۔پھر بھی عبادت ارض کے لیے العصابہ کی ضرورت کیوں ۔ٹیم ورک کی ضرورت۔ٹیم کے ذریعہ انقلاب ۔دور مشرک کا خاتمہ ۔دور بادشاہت کا خاتمہ ،نئے پراسس کا آغاز ،مغرب کے سپورٹ سے نئے مواقع کا کھلنا ،گلوبل کمیونی کیشن کے ذریعہ عائلی دعوت ، عالمی اشاعت قرآن۔قرآن انٹرنیشنل کا رول۔یہ تمام کام العصابہ کے ذریعہ انجام پذیر ہوں گے۔مگر قرآن و حدیث کا اعلیٰ مفہوم سمجھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ فضیلت کا خود ساختہ تصور ہے۔ اسی لیے العصابہ کی حدیث کے گہرے معنی کو لوگ سمجھ نہیں سکے۔
14,Saturday,February
Living in paradise
اس دنیا میں جنت ناقابل مشاہدہ ہے۔جیسا کہ قرآن اور حدیث دونوں سے معلوم ہوتا ہے۔ ان آیتوں کا کیا مطلب ہے۔و یدخلھم الجنۃ عرفا لھم۔(44،6) اور و اتوا بہ متشابھا۔(2:25) حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جنت کا مشاہدہ بصیرت(insight) کی صورت میں ہوتا ہے۔اور آخرت میں جنت کا مشاہدہ بصارت (eye sight) کی صورت ہوگا۔جیسا کہ کسی کا یہ شعر ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بصارت گھر گئی تو کیا بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
اس دنیا میں جنت کے مشاہدہ کے دو فیس (phase) ہیں ۔ فطرت کے مناظر ،دور بینی مشاہدہ ،خوردبینی مشاہدہ،درخت،چڑیاں وغیرہ۔
ڑکنالو جیکل مشاہدہ ،جیسے موبائل سے دور سے گفتگو،آواز اور تصوریر دونوں سے وغیرہ۔
15,Sunday,February
جنتی نفسیات کے ساتھ دنیا میں رہنا کیا ہے۔قرآن کی ایک ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے:إلا من أتی اللہ بقلب سلیم۔ یعنی اختلاف کے باوجود نارمل رہنا،شکایت کے باوجود بے شکایت ہوجانا ، غصہ کے باوجود درگزر کرنا،ناخوشگوار تجربہ کے باوجود مثبت نفسیات کو باقی رکھنا وغیرہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسرے الفاظ میں living in paradiseکی سب سےاہم شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر ۔living with differences with complaint کی صلاحیت پیدا کرے۔
صحابہ کی مثال ۔جیسے حضرت عمر کا امامت کے مقام سے ہٹایا جانا،
وقاتلت حتی انزل اللہ نصرہ،شدید اختلاف کے باوجود کامل اتحاد۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ آدمی جنتی نفسیات کے ساتھ دنیا میں رہے۔اور جنتی نفسیات دوسرے الفاظ میں وہی ہے جس کو مثبت ذہی (positive mind) کہا جاتا ہے۔
16,Monday,February
قرآن میں ہے کہ و أتاکم من کل ما سألتموہ
انسان پیدا ہوتے ہی اس دنیا میں چند کو موجود پاتا ہے ۔جیسے کوئی حکم دے رہا ہو کہ
اے درختو ، تم اس انسان کے لیے آکسیجن سپلائی کرو،
اے سورج، اس انسان کے لے روشنی فراہم کرو
اے زمین تو اس کے لیے غلہ پیدا کر،
اے گائے تو اس کے لیے نان ملک کو ملک بنا،
اے چڑیا تو اس کے لیے جنتی نغمے سنا،
اے گیس تو اس کے لیے سیال پانی بن جا،
اے جامد مادہ تو اس کے لیے متحرک ہوجا،
اے مادہ تو اس کے لیے مکیونی کشن میں ڈھل جا،
اے درخت تو اس کے لیے پھل پیدا کر ووغیرہ۔
17,Tuesday,February
دعوت الی اللہ کامشن اللہ کا محبوب ترین عمل ہے۔جو مومن مرد اور مومن عورت اس پر امن حق کے لیے اٹھیں گے ،وہ قیامت میں اللہ کے عظیم ترین گواہ کا درجہ پائیں گے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں حدیث میں پیش گی طور پر یہ الفاظ آئے ہیں۔ھذا عظم الناس شھادۃ عند رب العالمین۔(صحیح مسلم:2938)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
18, Wednesday, February
قرآن کتاب مہجور۔الفرقان:30
1۔قرآن سے ہدایت نہ لینا ،دوسری چیزوں سے ہدایت لینا
2۔عبادت کا احکام کا ماخذ قرآن نہیں بلکہ فقہ
3۔قرآن کی تفسیر شان نزول کی روایت سے۔قرآن کی تفسیر قرآن سے نہیں۔
4۔دعوت کے احکام قرآن سے نہیں بلکہ دوسری دوسری چیزوں سے مثلا مسجد وار تحریک، سیاست وار تحریک ،ملت وار تحریک ،کمیونٹی وار تحریک ، وغیرہ
5۔اسلامی تاریخ کا پیٹرن ،قرآنی پیٹرن کے بجائے مروجہ پیٹرن
6۔سیرت کا ماخذ غزواتی پیٹرن پر لکھی ہوئی کتابیں نہ کہ قرآن
7۔علم کلام قرآن میں آیات فطرت ہے۔ مگر متکلمین نے فلسفیانہ بنیاد اختیار کیا۔
19,Thursday,February
No choice save one
1۔یونیورس اتنی بڑی ہے کہ ایک خالق کے سوا کوئی اور جوائن نہیں۔
2۔محمد مقام محمود پر۔کسی اور گائڈ کا کوئی چوائس نہیں۔
3۔قرآن کے سوا کسی اور آفتاب ہدایت کا چوائس نہیں۔
4۔پیراڈائز کے سوا کسی اور منزل کا چوائس نہیں۔
20,Friday, February
و من الناس من یتخذ من دون اللہ انداد یحبونھم کحب اللہ
اس آیت میں حب کا مطلب معروف معنوں محبت کا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کنسرن بنانا۔
To make something wones greatest concern
جیسے فیملی ، معاش وغیرہ
21,Saturday, February
To live with complete peace of mind in a world of problem.
22,Sunday,February
’’سب معمول آج سنڈے لکچر کا پروگرام ہوا ، اس کا عنوان تھا۔’’روٹ کار آف ٹررزم‘‘(root cause of terrorism)۔ حاضرین میں زیادہ تر لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے بہت ہی خاموش اور سکون کے ساتھ لوگوں نے سنا، اور آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی تھا ۔ظہر کی نماز کے بعد اس پروگرام کا اختتام ہوا۔
23,Monday, February
نیا دور
1۔دور شرک کا خاتمہ ،دور توحید کا آغاز
2۔دور تشدد کا خاتمہ ، در امن کا آغاز
3۔روایتی استدلال کے دور کا خاتمہ ،سائنسی استدلال کے دور کا آغاز
4۔مقامی دعوت کے دور کا خاتمہ ، عالمی دعوت کے دور کا آغاز
5۔مذہب کے معاملے میں کتنی آیتیں کا خاتمہ ،واحد آپشن کے دور کا آغاز
24 Tuesday, February
فائنل کال
نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا،معنی عالمی انذار
اتمام نور، تاریخی طور پر ثابت شدہ نبوت (مقام محمود) حتی یتبین لھم انہ الحق ، یعنی سائنسی تبیین،
غیر تاریخی نبوت ، تاریخی نبوت
مجمل آیات کون، تفصیلی آیات کون(سائنس)
اتمام نور کا مطلب اتمام دعوت
کامل دعوت کی دو شرط:ادخال القرآن فی کل بیوت العالم
قول بلیغ کی زبان سے دعوت کا کام
25 Wednesday, February
1۔اولم یر الذین کفروا أن السماوات والأرض کانتا رتقا ۔(21:30)
Qur'anQuotes the Qur'an
بک بینک
2۔سخرلکم ما فی السماوات و ما فی الأرض جمیعا۔(45:15)
Custom made universe
3۔فلا اقسم بمواقع النجوم۔(56:76)
placement of star
4۔قل من یکلؤکم باللیل والنھار من الرحمن۔(21:42)
living in a universal furnace
5۔و نزلنا من السماء ماءا مبارکا۔(50:9)
Global suslem of de.salivation
6۔ان الساعۃ آتیۃ أکاد اخفیھا۔
ڈارک میٹر
7۔اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدی۔
سورج کی روشنی کا راست سفر،ہوا کا سفر
8۔و أوحی فی کل سماء امرھا۔
ماڈرن کمیونی کیشن نے اس کو understandable بنادیا ہے۔globle contact
9۔لاتا خذہ سنۃ و لا نوم۔2:225)
کو انٹم تھیوری،mean cosmic leval, micru cosmic leval
26 Thursday, February
Cps
قرآن میں ہے کزرع اخرج شطئہ فآزرہ فاستغلط فاستوی علی سوقہ۔(48:29)
Qur'anQuotes the Qur'an
اس آیت سے کسی بھی کے ڈو لیمٹ کے تین دور معلوم ہوتے ہیں ،انکھوا نکلنا،تنہ کی مضطوطی، اپنے بل پر کھڑا ہونا۔
سی پی ایس متن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔
1955 ۔ آغاز ،نئے عہد کے دروازے پر
1970۔اسلامک سنٹر کا قیام، تدریجی طور پر مضبوطی
21 ویں صدی میں اپنی طاقت سے آگے بڑھنا
بنگلور میں انگریزی رسالے کا اجرا
ترکی کی مسجد رستم پاشا میں قرآن کا ڈسٹری بیوشن
مختلف مواقع پر قرآن کی تقسیم،مثلا شادی ،وغیرہ
جگہ جگہ مرکز کا قیام،حیدرآباد،مدراس،بنگلور،وغیرہ
گھانا(افریقہ) میں قرآن ڈستری بیوشن سنٹر وغیرہ
27, Friday,February
Jewish persecution, muslim persecution
ضربت علیم الذلۃ و المسکنۃ، احساس علم نہ کہ خدا کی طرف سے imposition
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہود پر شاہ بابل اور شاہ ایران کا حملہ، سورۃ بنی اسرائیل
مسلمانوں پر کولونیل پاورس کے ذریعہ خدا کی دارننگ
مسلمانوں میں ظالم۔ مظلوم کا equation
داعی ۔مدعو کا equation ختم
مسلمانوں سے نصرت اٹھ گئی ،ہر جگہ مارے جارہے ہیں۔
یہود کی معزولی ۔کیوں کہ رسالت کا سلسلہ جاری تھا۔
مسلمانوں کی معزولی قانونا نہیں ، مگر حکما معزولی ہوچکی ہے۔ اس کا ثبوت یہ کہ مسلمانوں کی احیاء کی تمام کوششیں ناکام
سی پی ایس کے ذریعہ امت کا احیاء
Present muslim militancy is a phenomena of Muslim persecution
مسلمان یہود کے عہد زوال کو جانتے ہیں ،وہ یہود کے بری زوال ہیریڈ اور پوسٹ زوال ہیریڈ کو نہیں جانتے۔
28 Saturday, February
دنیا : میرے بندو جاؤ اور اس دنیا میں بس جاؤ، وہاں تمہارے لیے ہر چیز بقدر ضرورت ہے۔
آخرت:میرے بندو جاؤ وہاں تمہارے لیے ہر چیز بقدر اشتھا موجود ہے۔
Qur'anQuotes the Qur'an
انسان اس دنیا میں ایک عارضی مخلوق ہے جو محدود میں مرجاتا ہے۔لیکن اس کے لیے ایسی جنت مقدر ہے جہاں وہ ابدی طور پر حزن (sarrow) سے محفوظ زندگی گزارے گا۔