Maulana Wahiduddin Khan
20 min left
0:00

← Diary 2015
Diary 2015

January 2015

English · 20 min read

1 January2015, Thursday

پاسپورٹ کے اندراج کے مطابق میری پیدائش کی تاریخ یکم جنوری 1925 ہے ۔اس لحاظ سے یکم جنوری 2015 کو میری عمر 89 سال ہوگئی ۔مجھے اللہ کے فضل سے اپنی زندگی کے واقعات بچپن سے اب تک کے یاد ہیں ۔میں اکثر ان واقعات کو یاد کرتا رہتا ہوں ۔یہ یاد میرے لیے ایک زندہ مطالبہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔میری زندگی کے ان واقعات میں خاندان سے لے کر باہر تک ہزاروں لوگوں کا نام شامل ہے۔اس طرح یہ یاد میرے لیے عام انسان کا مطالعہ بن جاتی ہے۔پھر میں ایسا کرتا ہوں کہ جو افراد یا جماعتیں میری زندگی سے وابستہ ہوگئے ، ان کو لے کر جب میں سوچتا ہوں تو اپنی زندگی کے بارے ہی میری یاددکوئی سادہ واقعہ نہیں رہتی ،ایک اعتبار سے وہ میرا اپنا مطالعہ ہوتی ہے ،اور نمائندہ انداز میں گویا پوری انسانیت کا مطالعہ ۔

ایک بار ایک صاحب مجھ سے ملنے کے لیے میرے دفتر میں آئے ۔ میرے ناقد ہوئے تھے ۔گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ آپ تو دہلی گے ایک کمرے میں رہتے ہیں ۔آپ کو دنیا کی حال کے بارے میں کیا معلوم۔ ان کی یہ بات بظاہر بھی غلط تھی، کیونکہ میری زندگی صرف ایک کمرے تک محدودنہیں ہے، بلکہ مختلف انداز سے ہی ساری دنیا کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں ۔اس کے علاوہ خود اپنی ذات کے مطالعہ کے بارے میں میرا جو طریقہ ہے ، وہ بھی میرے ہر مطالعے کو میرے لیے دعا کی مطالعہ بنا دیتا ہے۔

2 January , Friday

دسمبر کے مہینے میں مجھے تقریبا دو ہفتے ہسپتال میں ہی رہنا پڑا۔پہلے ممبئی کے ہسپٹال ہولی سپرٹ میں ۔اس کے بعد میکس(max) میں ۔اس تجربے کے دوران یہ سمجھ میں آیا کہ موجودہ زمانے کے ہسپتال گویا میڈیکل سرویسس کا ایک نیا کانسپٹ ہے۔انسان کا فزیکل جسم ایک پورا نظام ہے جو انسان کی صحت کو برقرار رکھتا ہے۔موجودہ زمانے کا ہسپٹال گویا اس فطری نظام کا سیکانکل وزژن (mechanical vesion) ہے مگر دونوں کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ صرف سمجھنے کے لیے دونوں کو ایک دوسری کے مشابہہ کیا جاسکتا ہے ۔ورنہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔

3 Saturday , January

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے ہیں میں نے کہا کہ قرآن کا کرنے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتلاء(آزمائش) دو درجے ہیں ۔ایک شئی کے درجے کا ابتلاء (البقرۃ:155) اور دوسرا ابتلاء وہ ہے جس کو قرآن میں ابتلاء شید (الأحزاب:11) کہا گیا ہے ۔ابتلاء شدید کو برداشت کرنا انسان کے بس کی چیز نہیں ۔صرف اللہ کی توفیق سے کوئی شخص ابتلاء شدید میں پورا اتر سکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4 January Sunday

حسب معمول آج سنڈے پروگرام ہوا ۔ عنوان تھا ۔خدائی نصرت (divine help) ۔تقریر کے بعد سوال و جواب کے پروگرام بھی ہوا نماز کے بعد یہ مجلس ختم ہوئی۔

5 January, Monday

بیسویں صدی عیسوی میں مسلم رہنماوں کے درمیان ایک تحریک بڑے پیمانے پر جاری ہوئی ۔اس تحریک کو عمومی طور پر رجوع الی القرآن کہا جاسکتا ہے ۔لیکن مطلوب نشانے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ اس قسم کی تحریکیں سب کی سب ناکام رہیں ۔اس کا سبب یہ تھا کہ زمانہ پوری طرح بدل چکا تھا ۔اس اعتبار سے اصل ضرورت یہ تھی کہ قرآن کی تبیین زمانۂ حال کے اعتبار سے کی جائے ۔مگر یہ کام ہوسکا ۔صرف قرآن کی تبیین نو (re imterprotation) کے ذریعہ رجوع الی القرآن کا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔

6 Tuesday , January

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے درمیان خون کا رشتہ (blood relationship) رکھا ۔اسی خونی تعلق کی وجہ سے سماجی نظام قائم ہوتا ہے ۔لیکن یہ تعلق صرف سماجی تنظیم کے لئے کافی ہے۔خدائی مشن کے لئے خدا سے حب شدید نہیں ہوتا اس لئے اعلیٰ درجے کا خدائی مشن بھی قائم نہیں ہوتا ۔لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ شکایتوں کے باوجود خونی رشتے سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں ۔لیکن جہاں خونی رشتہ نہ ہو وہاں معمولی اعتبار سے ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں۔

7 Wednesday, January

میرا تجربہ ہے کہ لوگوں سے کوئی بات پوچھی جائے تو لوگ اکثر غیر متعلق جواب دیتے ہیں ۔اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ سن کر بولنے کے عادی ہیں ۔سننے کے بعد سوچنا اور پھر بولنا یہ طریقہ لوگ نہیں جانتے ۔اسی لئے لوگ سوال کا صحیح جواب بھی نہیں دے پاتے ۔سوال اور جواب کے درمیان ایک اور چیز ہے اور وہ ہے سوچنا جو آدمی اپنے سوچ کو استعمال کر کے جواب دے ،وہی کسی سوال کا صحیح جواب دے سکتا ہے۔

8 Thursday, January

قرآن ہی بتایا گیا ہے کہ انسان کے ساتھ ضرور ابتلاء(آزمائش) کا معاملہ پیش آئے گا ،یعنی مختلف قسم کے نقصانات ۔ اس پر طرز کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نقصان برائے نقصان کا معاملہ نہیں ہے ۔ بلکہ نقصان برائے تربیت کا معاملہ ہے ۔تربیت سے مراد ہی تربیت ہے۔ نقصان یا پرابلم کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر حقیقت پسندی آئے ،اس کے اندر مثبت سوچ آئے اس کے اندر صبر کا مزاج پیدا ہو، اس کے اندر سے نفرت اور دوسری قسم کی منفی فکر کا خاتمہ ہوجائے اسی طرح انسان کے اندر مجرامہ کبر کا مزاج ختم ہوجائے۔اس قسم کے مزاج کا خاتمہ سادہ طور پر نہیں ہوسکتا اس کے لئے وہی چیز درکار ہے جس کو شاک ٹریٹمنٹ(shock treatment) کہا جاتا ہے ۔قرآن میں جس چیز کو نقصان (البقرۃ:155) کہا گیا ہے ،وہ وہی ہے جس کو پرابلم یا شاک ٹریٹمنٹ کہا جاتا ہے ۔یہ شاک ٹریٹمنٹ دراصل انسان کے اندر کی شخصیت یا جنتی شخصیت پیدا کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9 Friday , January

اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کو غصہ بہت آتا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ انسان ایک خود پرست مخلوق ہے ۔وہ اپنے ذاتی مزاج کے مطابق دنیا میں جینا چاہتا ہے۔مگر یہ مزاج غیر فطری ہے۔کیونکہ خالق نے ہر انسان کو آزادی دی ہے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق دنیا میں رہے۔وہ دنیا کو اپنی پسند کے مطابق بنائے۔مگر ایسا ہونا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ۔اس صورت حال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی کا ٹکڑاؤ بار بار دوسروں کے ساتھ پیش آتا ہے۔اس اعتبار سے دنیا ایک پسند اور دوسری پسند کے ٹکڑاؤ کی جگہ بن گئی ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو حقیقت پسند بنائے ، وہ دوسروں کو بدلنے کے بجائے خود اپنے کو بدلنے کی کوشش کرے اور گھر کے اندر اور گھر کے باہر ہر جگہ ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرے ،جو شخص فطرت کے اس نظام کو سمجھ لے اس کا غصہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔کیونکہ وہ اس حقیقت کو جان لے گا کہ میرے غصے سے دینا کے نظام میں تبدیلی آنے والی ہیں ۔میں غصہ کرکے خود اپنا نقصان کروں گا ، کسی دوسرے کا نقصان نہیں۔ مزید یہ کہ غصہ کو کرنا بظاہر انسان کے مقابلے میں ہوتا ہے ،لیکن اپنی حقیقت اعتبار سے وہ فطرت کے نظام کے مقابلے میں انسان کو کوئی اختیار نہیں ۔فطرت کا نظام خالق کا پیدا کردہ ہے ،وہ کسی کے بدلنے سے بدلنے والا نہیں ۔ایسی حالت میں کسی انسان کا غصہ بظاہر انسان کے خلاف ہوتا ہے،لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کے خلاف ہوتا ہے ۔ جو آدمی اس حقیقت کو دریافت کرلے ،اس کا غصہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔

10 Satuarday January

لکھنو سے حافظ سلمان صاحب کا ٹیلیفون آیا ۔انھوں نے بتایا کہ لکھنو ک ایک بک فیر میں انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے الرسالہ پیش کی ۔ کتابون کا اسٹال لگایا ۔وہاں دوسرے بھی کئی استال تھے۔لیکن سب سے زیادہ بھیڑ الرسالہ کے اسٹال ہوتی تھی ۔ایک شخص پوچھا الرسالہ متن کے اسٹال پر کیوں بھیڑ زیادہ ہوئی ہے ۔سلمان صاحب جواب دیا کہ الرسالہ کی کتابیں وقت کے تقاضے کے مطابق ہیں ۔جب کہ دوسرے لوگ روایتی قسم کی کتابیں لے کے بیٹھے ہوئے ہیں۔

11 Sunday January

حدیث میں آیا ہے کہ لکل داء دواء۔ اس حدیث میں موت کا معاملہ حصر کی زبان میں ہے۔ جب کہ دوسری بیماریوں کا معالہ حصر کی زبان میں نہیں ہے ۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان ایسے مرض میں مبتلا ہوتا ہے جس سے علاج کے باوجود افاقہ نہیں ہوتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

12 Monday January

الرسالہ متن جب سے شروع ہوا۔ اسی وقت سے اس کی مخالفت بھی شروع ہوگئی ۔اس وقت سے اب تک مخالفت کا سلسلہ جاری ہے لیکن لوگوں کی مخالفتیں غیر ہوگئیں ۔ کیونکہ ان مخالفتوں کی کوئی بنیاد نہیں تھی ۔بے بنیاد الزام تراشی کے سوا ان کے پاس کہنے کے لئے کوئی بات نہیں تھی ۔اور یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ بے بنیاد مخالفت کبھی اس دنیا میں کامیاب نہیں ہوتی ۔

13 Tuesday January

میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگ سوال برائے سوال کرتے ہیں ۔صحیح معنوں میں سوال کرنے والا شخص وہ ہے ، جو سب سے پہلے اپنے سوال پر غور کرے ۔ پھر مطالعہ کرکے اس کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔پھر وہ آس پاس کے لوگوں سے اس پر سنجیدہ گفتگو کرے ، اس کے بعد کسی کو سوالنامہ بھیجے۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان مراحل سے گزرے بغیر اپنا سوال لکھ ک بھیج دیتے ہیں ، یا ٹیلفون پر اس کا جواب مانگتے ہیں ۔ اس طرح کے سوال جواب کا میرے نزدیک کوئی فائدہ نہیں ۔

14 Wednesday January

میرے تجربے کے مطابق شاید دنیا کا سب سے زیادہ شکل کام ہے ۔ کہ جس شخص سے کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے اس کے بارے میں آدمی درست رائے پر قائم رہے ۔وہ غلط رائے قائم کرنے سےاپنے کو بچائے۔کسی کے بارے میں غلط رائے قائم کرنا بلاشبہ ایک پرائی ہے ۔ا گر چہ ایسے لوگ دنیا میں بہت کم ملتی ہے جو اس غلطی سے اپنے آپ کو بچائیں۔

15 Thursday January

ایک صاحب نے کہا کہ شتم رسول پر سزا قرآن سے ثابت ہے ۔ اور وہ یہ کہ شتم رسول فساد فی الأرض ہے۔ اور فساد في الأرض قابل سزا جرم ہے۔ یہ کوئی دلیل نہیں ہے ۔ شتم رسول پر سزا کا حکم اس طرح نہیں نکلتا۔اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآ یا حدیث میں یہ لفظ موجود ہو کہ من شتم رسولکم فاقتلوہ ۔اور چونکہ قرآن یا حدیث میں اس طرح کا کوئی لفظی حکم موجود نہیں ہے ۔اس لیے شتم رسول کوئی قابل مواخذہ جرم بھی نہیں ۔شتم رسول پر امن تبلیغ کا موضوع ہے۔شتم رسول سزا کا موضوع ہرگز نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

16 Friday January

شتم رسول خود شاتح کا نہیں ہے۔یہ دوسرے لوگوں کا جملہ ہے جو انھوں نے کسی کے عل پر چسپاں کردیا ہے۔ایک شخص اگر رسول پر کوئی اعراض کرے تو آپ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے رسول پر اعتراض کیا۔اسے آپ بدلنے کا حق نہیں رکھتے کہ اس نے رسول کی شتم کی۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسول ایک داعی شخص ہوتا ہے ۔وہ لوگوں کے بگاڑ کی نشاندھی کرکے ان کی اصلاح کرنا چاہتا ہے ۔جب کوئی رسول ایسا کرے گا تو لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ رسول کی تنقید کو سن کر وہ اپنے مدافعت میں کچھ بولے گا ۔یہ آپ کا اپنا کہنا ہے کہ اس نے شتم رسول کیا ۔شتم رسول خود شاتح کا قول نہیں ۔دنیا میں جتنے بھی اللہ کے رسول آئے سب کو مخاطبین کی طرف سے اختلاف کا سامنا پیش آیا ۔گویا کہ وہ چیز جن کو شتم کہا جاتا ہے وہ رسول کے مشن کا لازمی حصہ ہے ۔اس معاملے میں رسول نے جو کہا بعد والوں کو کرنا ہے ۔یعنی پرامن انداز میں اپنی بات کی وضاحت۔

17 Saturday January

حقیقت کا اعتراف

اسلام کا لفظی مطلب ہے سرنڈر(to surrender ) یہ سرنڈر تمام تر سلف چائس(self choice ) پر مبنی ہوتا ہے۔ یعنی ایک شخص کسی بھی قسم کے دباؤ کے بغیر ذاتی فیصلہ کے تحت اسلام کو اپنا بناتا ہے ۔اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا مطلب ہے ’’حقیقت واقعہ کو دریافت کرکے اس کو ماننا‘‘ Islam means acceptance of reality قرآن میں بار بار اس حقیقت کو دہرایا گیا ہے کہ اسلام میں کوئی زبردستی نہیں ۔ یہ تمام آدمی کے ذاتی چائس کا معاملہ ہے۔مثلا قرآن کی ایک آیت یہ ہے: فمن شاء فلیومن فمن شاء فلیکفر( )جو شخص چاہے مانے اور جو شاہے اس کا انکار کردے۔ اسلام کی تمام تعلیمات اسی اصول پر مبنی ہیں ۔توحید ،رسالت ،آخرت ،جنت اور دوزخ ، سب کے سب آزادانہ چانس کے اسی اصول پر مبنی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

18 Sunday January

حقیقت واقعہ کا اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے معالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اسلام کی آئیڈیالوجی کو شعوری طور پر دریافت کرتا ہے۔یہ دریافت اس کے اندر ذہنی بھونچال پیدا کردیتی ہے ۔پھر ایک حقیقت واقعہ کے طور پر وہ اس کا اعتراف کرتا ہے ۔اور اپن زندگی کو اس حقیقت کے مطابق ڈھال لیتا ہے ۔یہ سب کچھ اول سے آخر تک محض آزادانہ ذاتی فیصلہ کے تحت ہوتا ہے ۔اس پہلو سے یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اسلام اعتراف حقیقت (acceptance of reality) کا نام ہے۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلام میں تشدد(volence) کا کوئی مقام نہیں۔ اسلام اور تشدد دونوں متضاد چز بن جاتے ہں ۔دوسرے لفظوں میں اس حققت کو اس طرح بھی بیاں کیا جاسکتا ہے کہ اسلام سرتاسر پیروی (following) کا مذھب ہے سنہ کہ نفاذ (impoementation) کا مذھب ۔ جو لوگ اسلام کے نا م پر تشدد کرتے ہیں وہ مخلط طور پر پیروی کے لفظ کو نفاذ کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ مثلا قرآن میں کہا گیا ہے کہ اے لوگو تم توحید کے پیرو (follower) بنو ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

19 Monday January

قرآن کی یہ بات لازم کے صیغہ میں ہے۔ او ر لازم کے صیغہ میں اس کو لینے کی صورت میں اس میں کسی اعتبار سے بھی تشدد کا کوئی پہلو شامل نہیں ہوتا۔لیکن جب قرآن کی اس تعلیم کو لازم کے صیغہ میں لینے کے بجائے اس کو بدل کر متعدی کے صیغہ میں لیا جائے تو قرآن کی یہ پر امن تعلیم نتیجہ مبنی پر تشدد تعلیم بن جائے گی۔یعنی اس کا مطلب یہ ہوجائے گا کہ توحید کو طاقت کے زور پر نافذ کرو۔لوگوں سے لڑکر ان کو موحد بناؤ۔

20 Tuesday

ایک کشمیر مسلمان ملاقات کے لیے آئے۔ وہ پلوامہ میں رہتے ہیں ۔انھوں نے اپنا نام جیلای بتایا۔ انھوں نے بایا کہ 2000 سے ہماری کتابیں پڑھ رہے ہیں ۔پہلی بار انھوں نے میری کتاب ظھور اسلام پڑھی ۔وہ اس کو پڑھ کر بہت روئے۔ اس وقت سے وہ ماہنامہ ’’الرسالہ‘‘ اور ہماری کتابیں پڑھتے ہیں ۔وہ ہر بار جب ہماری کوئی تحریر پڑھتے ہیں تو ان کو رونا آتا ہے۔انھوں نے پوچھا ک ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ دوسروں کی کتابیں ہم پڑھتے ہیں تو ہم کو رونا نہیں آتا،لیکن آپ کی کتابیں پڑھنے سے رونا آتا ہے۔میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ دوسروں کی کتابیں آ کو کسی فنی ایشو سے جوڑتی ہیں ،کسی سیاسی ایشو یا ملی ایشو سے جوڑتی ہیں ۔کسی انسانی ایشو سے جوڑتی ہیں ۔اس کے برعکس ہماری کتابیں آپ کو اللہ سے جوڑتی ہیں ۔انھوں نے اس بات کی تصدیق کی۔

21 January , Wednesday

حدیث میں قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بتائی گئی ہے کہ جب قیامت قریب آئے گی تو سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ غالبا یہ تمثیل کی زبان میں ہے۔غالبا اس کا مطلب یہ ہے کہ موسم میں تغیر ہوجائے گا۔ زمین پر سردی اور گرمی کی صورت میں جو وسم آتا ہے وہ سورج کی وجہ سے ہوتا ہے ۔اگر سورج کے نظام میں تغیر ہوجائے تو موسم میں بھی تغیر ہوجائے گا یعنی سردی کے زمانے میں گرمی اور گرمی کے زمانے میں سردی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

22 Thursday, January

حدیث میں آیا ہے کہ ان اشد الناس بلاء الأنبیاء۔( ) اس حدیث رسولﷺ میں بلاء کا لفظ جسمانی مصیبت(physical handaship) کے معنی میں نہیں ہے بلکہ شاکنگ اکسپیرنس (shocking expiring) کے معنی میں ہے۔ یعنی ایسے ناموافق تجربات کا پیش آنا جو دماغ میں ہلچل پیدا کرے والے ہوں ۔اس قسم کے تجربات مصیبت کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ذہنی بیداری کے لیے ہوتے ہیں۔ وہ اس لئے ہوتے ہیں کہ انسان کی تخلیقیت ( creativity) بٹرے۔ انسان کے اندر زیادہ سے زیادہ تخلیقی فکر (creative thinking) آئے ۔اسالم کا مشن ایک تخلیقی مشن ہے اسلام کے مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ہمیشہ تخلیقی ذہن (creative mind) درکار ہوتا ہے اور تخلیقی ذہن بلاء کے تجربات کے بغیر نہیں بنتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

24 Saturday, January

قرآن اور منصوبۂ تخلیق

پیغمبر اسلام نے فرمایا لا تتبعن سنن من كان قبلكم. یعنی مسلم امت ضرور پچھلی امت( یہود و نصاری ) کا اتباع کرے گی۔ یہاں اتباع کا لفظ سادہ طور پر پیروی following کے معنی میں نہیں ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جب امت مسلمہ پر زوال کا دور آئے گا۔  تو قانون فطرت کے مطابق امت مسلمہ کے لوگ بھی وہی کریں گے جو امت یہود نے کیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ خدا کی کتاب کو قانونی احکام کا مجموعہ سمجھ لینا نہ کہ سپرٹ کا مجموعہ ۔ امت پر جب زوال کا دور آتا ہے تو سپرٹ ختم ہو جاتی ہے۔ اور دین معنی بر فارم دین بن جاتا ہے ۔ یہی یہود کے یہاں ہوا اور بعد کے زمانے میں یہودیوں کے لیے دین موسی صرف قانون احکام کا مجموعہ بن گیا۔ اس کے نتیجے میں ایک طرف معرفت ختم ہو گئی۔ اور دوسری طرف دعوت الی اللہ کا خاتمہ ہو گیا۔

موجودہ زمانے میں امت مسلمہ اپنے دور زوال میں ہیں۔ زوال کا یہ ظاہرہ مسلمانوں کے اندر مکمل طور پر آچکا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان دین کو صرف شریعت کا ماخذ سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ یہود نے اپنے دور زوال میں سمجھ لیا تھا۔ قران کا مطالعہ کیجیے تو اس میں قانونی طرز کی آیتیں بہت کم میں ہوگی۔ قران کا بیشتر حصہ ان باتوں سے متعلق ہے جن کو خدا کے منصوبۂ تخلیق creation plan of God سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قران کا اصل موضوع یہ ہے کہ انسان کو بتایا جائے کہ پیدا کرنے والے نے دنیا کو کس مقصد کے تحت بنایا ہے۔ قران کا موضوع اصل خدا کا منصوبہ تخلیق ہے۔ اور انسان کو یہ بتانا کہ اس منصوبہ تخلیق کے مطابق دنیا میں اس کی روش کیا ہونی چاہیے۔ اس منصوبۂ تخلیق کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی حاصل ہے یہ ازادی بطور حق نہیں ہے بلکہ بطور آزمائش test ہے۔ یعنی انسان کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑا ہو۔ وہ خود اپنے فیصلے کے تحت اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے۔ وہ اپنے ازادی کا غلط استعمال نہ کرے۔ یہ فریڈم اف چانس freedom of choice خدا کے تخلیقی منصوبے کا مرکزی اصول ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

25 january , Sunday

صدقہ جاریہ کوئی پر اسرار چیز نہیں ، وہ فطرت کا ایک قانون ہے وہ سیکولر عمل پر بھی صادق آتا ہے ۔مثلا سائیکل فریڈے نے بجلی دریافت کی ۔ 1867 میں وہ مرگیا ۔اس کی موت کے بعد بے شمار لوگ اس کی دریافت سے فائدہ اٹھارہے ہیں ۔ یہ بھی صدقہ جاریہ ہے۔ عمل کا تعلق نیت سے ہوتا ہے۔

British scientist Michael farday (d:1867) was father of electricity.

26 Monday, January

I was in Bali (Indonesia) for 4 days on a office conference and was staying at mascur vasbeshand Hotel . on the morning of 26th Jan 2015, I had a team in which I saw that morning in looking very healthy, better than now and we all are preparing for a Dawah meet which is leving organiced in Delhi . I alve saw that maulana was discussing about his table which he intends to give at the Dawah meet.

27 Tuesday , January

ہر چیز کے دور aspect ہوتے ہیں ۔ایک یاد ہوتا ہے کہ گاڈ ہے۔ اور دوسرا remind کرتا ہے کہ انسان all powerloss ہے ۔مثلا آدمی یہ سوچے کہ کیا زبان بن سکتا ہوں تو اس کو اپنا عجز دریافت ہوگا۔اور جبوہ یہ سوشے کہ بنانے والا کتا زیادہ عظیم ہے اور اس کو خالق کی کبریائی یاد آے گی۔یہ دونوں aspoot ہر چیز میں ہیں ۔حتی کہ ناخن اور بال میں بھی۔ آدمی اس طرح سوچے وہ آخری دو تک متواضع (modest) بن جائے گا۔

28 Wednesday, January

Parradisw lost/Empire lost

تمام مسلمانempire lostکی نفسیات میں جیتے ہیں۔ مسلمانوں کو بتاتا ہے کہ political empire کا دور ختم ہوگیا ۔مگر idealogical empire پہلے سے بھی زیادہ ممکن ہوگیا ہے۔قرآن ایمائر ((Quran empireکا ٹائٹل ملسمانوں کی نفسیات کو ایڈریس کرنے والا ہے۔

Quran empire based on thechnology is grater than political empire based on territory.

ادخال الکلمۃ فی کل بیوت العالم۔إلا ادخلہ اللہ کلمۃ الإسلام۔(مسند احمد) اشارہ ہے قرآن ایمپائر کا ۔ اسی طرح لیکون للعالمین نذیرا۔(25:1) اشارہ ہے قرآن ایمپائر کا ۔کیوں کہ مسلم ایمپائر کم و پیش ہزار سال تک دنیا میں رہا۔ لیکن قرآن کا عالمی ابلاغ ممکن نہ ہوسکا ۔ کیوں کہ اس زمانہ میں global technology گلوبل ٹکنالوجی موجود نہ تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

29 Thursday, January

Wisdom آدمی کو ملتی ہے کتاب سے one present wisdomملتی ہے تدبر اور تفکر سے99 present۔ foolish آدمی کے پاس معلومات ہوتی ہے ، مگر wisdom نہیں ۔ امّی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس کتابی معلومات چاہے کم ہو ، مگر wisdom پیغمبر اسلام کے پاس بہت زیادہ تھی۔

اگر ایک شخص امّی ہو اور اسی کے ساتھ وہ سنجیدہ (sencere) ہو تو ضرور وہ غور و فکر کرے گا۔سنجیدہ ہوتا اپنے آپ میں اس بات کی ضمانت ہے آدمی سوچنے والا بنے گا۔

میرا اپنا تجربہ ہے کہ پہلے میری تحریر arrangement writing of information ہوا کرتی تھی ۔ اب میری تحریر writing arrangement of thought ہوتی ہے۔

اس واقعہ سے یہ ثابت ہوا کہ امی ہونا کسی کے لیے disadvantageکی بات نہیں ۔ رسول اللہ نے اپنی زندگی سے ایک demonstration دیا کہ اگر تم امی ہو تب بھی تم man of wisdom بن سکتے ہو۔ رسول اللہ کی یہ سنت بہت بڑی گائڈنس ہے۔ سب سے بڑی بات یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس بہت معلومات ہو۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ ایک man of wisdom ہوں ۔ رسول اللہﷺ ہر اعتبار سے انسان کے لیے گائیڈ تھے۔ اس گائڈنس کا ایک پہلو تم بڑے crative thinker بن سکتے ہو۔

30 Friday, January

30 جنوری 2015 کو مالیگاؤں (مہاراشٹر) میں الرسالہ متن گلی برانج قائم ہوئی ۔ یہ بلاشبہ بہت بڑی خبر ہے۔ الرسالہ منتھلی اور دوسری کتابیں بہت عرصے سے مالیگاؤں میں پھیل رہی تھیں۔ کئی سال پہلے مولانا انیس عثمان ندوی نے مالیگاؤں میں میرا ایک پروگرام بنایا تھا۔ میں سفر کرکے وہاں گیا تو کچھ مخالفین نے اتنا ہنگامہ کی میری تقریر نہ ہوسکی ۔ مجھے مالیگاؤں میں الرسالہ مت کا ایک طاقتور حلوہ بن گیا ہے، انھوں نے اس کی ایک باقاعدہ برانج کھول دی ہے۔ اور 30 جنوری سے عاجز اس کے تحت کام شروع کردیا ہے مجھے یقین ہے کہ اس کام میں ان لوگوں کو اللہ کی مد د ملے گی ،اور اللہ کی مدد سے ان کا کام کامیابی کے ساتھ چلنے لگے گا۔

31 Saturday January

قرآن میں حضرت یوسف کے قصے میں ہے۔اجعلنی علی خزائن الأرض(55:12)۔ اس آیت میں اجعلنی علی خزائن الأرض یا علی سلطۃ الأرض نہیں ہے۔ بلکہ علی خزائن الأرض ہے۔ خزائن سے مراد وسائل (resourses) ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں خزائن سے مراد مواقع ارض ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت یوسف کا زمانہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس وقت جو واقعہ انفرادی طور پر ہوا تھا ۔وہ اب اعلی طور ہوچکا ہے ۔ قرآن میں اس معاملے کو احسن القصص ( best story) کہا گیا ہے۔ یعنی حاکم (ruler)سے اس کے تخت کے بارے میں ٹکراؤ نہ کرنے کی پالیسی اختیار کرو۔ اس کے بعد زمین کے تما م مواقع تمہارے لیے کھل جائیں گے۔قدیم زمانے میں مصر کے منفرد مزاج بادشاہ کی بنا پر ایسا ممکن ہواتھا ۔ یہ امکان اب دنیا کے دو سو ملکوں میں موجود ہے ۔اگر آپ کسی ملک میں پولیٹیکل اپوزیشن کی پالیسی اختیار نہ کریں ۔ بلکہ نان پالیٹیکل انداز میں کام کریں تو تمام مواقو آپ کے لیے کھلے ہوئے ہیں ۔ دعوت کا میدان ، تعلیم کا میدان وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content