Maulana Wahiduddin Khan
33 min left
0:00

← Diary 1989-1990
Diary 1989-1990

November 1990

English · 33 min read

یکم نومبر 1990

سورہ بلد میں نجدین کا لفظ ہے۔ یعنی دو بلندیاں۔ آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ دو بلندیوں سے مراد دومطلوب چیزیں ہیںـــــ اخلاقی نجد اور شرعی نجد ۔ اخلاقی نجد سے مرادوہ بھلائیاں ہیں جو خود فطرت کے زور پر آدمی کو معلوم ہیں اور شری نجد سے مراد وہ بھلائیاں ہیں جو وحی کے ذریعہ معلوم ہوتی ہیں۔

آجکل انسان جس طرح ظالم اورسرکش ہو گیا ہے ، اس کو سوچ کر میری زبان سے نکلا : شرعی معیار پر جانچنا تو درکنار، یہ انسان تو اخلاقی معیار پر ہی اپنے آپ کور دکر رہا ہے۔

2 نومبر 1990

آج جمعہ کا دن تھا۔ مقامی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ اولا خطبہ میں اور اس کے بعد دوسری رکعت کے آخر میں قنوت نازلہ پڑھی گئی ۔ کافروں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت اور بربادی کی بد دعا کی گئی ۔ اس بد دعا کا پس منظر بابری مسجد کا مسئلہ ہے۔

بابری مسجد کے نام پر مسلمانوں نے "ایکشن کمیٹی" بنائی ۔ اس کے بعد دھواں دھار تقریریں کی جانے لگیں۔ بائیکاٹ ، ریلی، جلوس، مارچ ،اسلامی لشکر ، آدم سینا وغیرہ کے پر شور ہنگاموں کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ بابری مسجد کسی کو چھونے نہیں دی جائے گی۔ آخر میں بار بار اعلان کیا گیا کہ ہم نے مسلمانوں کے حفاظتی دستے تیار کر لئے ہیں۔ وہ ہر جگہ ہندووں کو روک دیں گے۔ مگر ان سب کے باوجود30 اکتوبر 1990کو ہندو بڑی تعداد میں اجودھیا کے اندر داخل ہوگئے۔ انھوں نے بابری مسجد کا ایک گنبد توڑ ڈالا۔ اس کے اوپر بھگوا جھنڈالہرادیا۔ وغیرہ ۔کوئی ایک مسلمان بھی بابری مسجد کی حفاظت کے لئے نہیں نکلا۔

اب ہر جگہ مسجدوں میں ہندوؤں کے خلاف بد دعائیں کی جار ہی ہیں۔ میرے نزدیک وہ بھی غلط تھا اور یہ بھی غلط ہے۔ پہلے مسلمانوں کو یہ کرنا تھا کہ وہ پر امن تحریک چلائیں ۔ اور اب یہ چاہئے کہ وہ ہندوئوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے دعائیں کریں۔ مگرمسلمان نہ پہلے مرحلہ میں صحیح روش اختیار کر سکے اور نہ اب وہ صحیح روش اختیار کر رہے ہیں۔

3 نومبر 1990

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی شادی ان کے والدین نے کر دی تھی ۔ اب وہ اپنی موجودہ بیوی سے غیر مطمئن ہیں ، اور اس کو چھوڑ کر دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی مخالفت کی۔ میں نے ان سے کہا :

زندگی کو کامیاب بنانے کے لئے ہمیشہ ایک ایسی رفیقہ حیات کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے شوہر کے ساتھ قربانی کی حد تک مساعدت کرے اورکسی آدمی کے لئے ایسی رفیقہ حیات صرف اس کی پہلی بیوی بن سکتی ہے ۔ اس کی دوسری بیوی کبھی اس کے لئے ایسی رفیقۂ حیات نہیں بن سکتی۔

4 نومبر 1990

آج کا انسان يعلمون ظاهراً من الحياة الدنيا وهم عن الآخرة هم غافلون کی تصویر بنا ہوا ہے۔ لوگوں کو شہروں کی رونقیں دکھائی دیتی ہیں۔ حکومتی ایوان کی بلند یاں نظر آتی ہیں ۔ انٹرنیشنل کانفرنسوں کی دھوم کی انھیں خبر ہے۔ بڑے بڑے اداروں کے اونچے در و دیوار کو وہ فورا جان لیتے ہیں ۔ مگر حقائق کو دیکھنے کے لئے ہر آدمی اندھا بنا ہو اہے ۔معانی کی دنیا کے جلوےکسی کو نظر نہیں آتے۔ یہی وہ بے آنکھ والے لوگ ہیں جو آخرت میں اس طرح اٹھائے جائیں گے کہ وہاں وہ اندھے ہوں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

5 نومبر 1990

قدیم زمانہ میں ترکی کے پاس بہت بڑا بحری بیڑا تھا۔ مگرجب بحری جہازوں کو بھاپ سے چلانے کا دور آیا تو وہ اتنا پچھڑ گئے کہ نئے طرز کی کشتیوں کو حاصل کرنے اور ان کو استعمال کرنے کو بھی وہ اپنے لئے خطرناک سمجھنے لگے۔

کہا جا تا ہے کہ سلطان عبدالحمید ثانی نے بھاپ کی طاقت سے چلنے والا بحری بیڑہ (اسطول )تیار کرایا تو ترکی کے علماء نے اصرار کیا کہ اس کو استعمال کرنے سے پہلے اس پر بخا ری شریف کا ختم ہونا چاہئے۔ علماء کا اصرار جب بڑھ گیا توکسی فوجی افسر نے ان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بحری بیٹرہ بخار ( بھاپ )سے چلتا ہے نہ کہ بخاری سے( ان الأسطول يسير بالبخار لا بالبخاری).

موجودہ زمانہ کے مسلم علما نے اپنی روش سے جدید انسان کے لئے اسلام کو ایک مضحکہ بنا دیا۔ اگر وہ مسجدوں اور مدرسوں میں خاموش رہ کر اپنا روایتی کام کرتے تو یہ ان کے لئے اس سے بہتر تھا کہ وہ نا کافی لیاقت کے ساتھ مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے باہر نکل پڑیں۔

6 نومبر 1990

گوئٹے (Goethe) 1749میں جرمنی میں پیدا ہوا ، اور 1832 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کی عظمت اتنی زیا دہ ہے کہ اس کولٹر ری جائنٹ( literary giant) کہا جا تا ہے۔ اس کا ایک قول انگریزی میں میں نے ان لفظوں میں پڑھا کہ انسانیت قوموں کے اوپر ہے:

Mankind is above nations

گوئٹے کے زمانہ میں قومی تحریک کا دور تھا۔ لوگ یہ کہنے لگے تھے کہ میرا ملک خواہ وہ حق پر ہو یا ناحق پر (my country, tight or wrong) مگر گوئٹے کی فطرت انسانیت کو زیادہ بلند سمجھتی تھی، اس لئے وہ اس قسم کے تصور قومیت کو قبول نہ کرسکی۔ اسی طرح اگر کچھ لوگ مذہب کا ایسا ایڈیشن پیش کریں جس میں انسانیت کو بلند درجہ نہ مل رہا ہو تو لوگوں کی فطرت ایسے مذہب کا بھی انکار کر دے گی۔

7 نومبر 1990

مصطفی کمال پاشا (۱۹۰۸ – ۱۹۷۴ ) قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ وہ مصرکی النهضة الوطنیہ کے بانیوں میں سے تھے۔ وہ عربی کے علاوہ فرانسیسی اور انگریزی زبان بھی جانتے تھے۔ وہ ساحر البیان مقرر تھے۔ ان کے حیات اور کارناموں کے بارہ میں عربی میں کئی کتابیں چھپ چکی ہیں ۔ ایک عربی مجلہ میں ان کا یہ قول نظر سے گزرا : ان انجلترا في العدو الابدي لإسـلام-عدوالامسواليوم والغد( انگلستان اسلام کا ابدی دشمن ہے، وکل بھی دشمن تھا اور آج بھی دشمن ہے اور آئندہ بھی دشمن رہے گا۔)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا یہی عام ذہن رہا ہے ۔ نہ صرف انگریزوں کو بلکہ تمام قوموں کو وہ اپنا دشمن سمجھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان کوئی دعوتی تحریک ابھر نہ سکی ۔ دوسرے دوسرے کاموں پر تو مسلمانوں نے ضرور" دعوت " کا لیبل لگارکھا ہےمگر حقیقی دعوتی عمل کا ان کے درمیان کوئی وجود نہیں۔ دعوت کا کام ہمیشہ خیرخواہی کے جذبہ کے تحت انجام پاتا ہے۔ جب مسلمانوں نے اپنی مدعو قوموں کو دشمن کے خانہ میں ڈال رکھا ہو تو ان کے لئے کسی خیر خواہا نہ عمل کا جذبہ مسلمانوں میں کیونکر پیدا ہو گا۔

8 نومبر 1990

طرابلس میں کلیتہ الدعوة الاسلامیہ کے نام سے ایک کالج ہے۔ اس کا ایک سالانہ مجلہ عربی زبان میں نکلتا ہے جس کا نام "مجلة الدعوة الاسلامية“ ہے۔ اس کا شمارہ 1988 ۱(العدد الخامس ) پچھلے دنوں ملا ۔ اس کے آخر میں ایک خبر درج تھی جو میرے لئے ایک ذاتی اہمیت رکھتی ہے ۔

الاستاد الهوني في ذمة اللہ کے عنوان کے تحت بتایا گیا تھا کہ عبداللہ محمد الھونی 4 فروری1988 کو انتقال کر گئے ۔ وہ طرابلس کی جامعتہ الفاتح (فاتح یونیورسٹی) میں ذمہ دارانہ منصب پر فائز تھے۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ وہ نہایت مومن ومخلص آدمی تھے۔ اس کے ساتھ وہ اعلیٰ علمی ذوق رکھتے تھے۔ وہ مصر کے شہر سلوم میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد وہ ہجرت کر کے لیبیا آئے۔ انھوں نے طرابلس یونیورسٹی سے 1971 میں ممتازنمبروں کے ساتھ ایم اے پاس کیا تھا۔

خبرمیں بتایاگیا تھا ان کی عظیم شخصیت کی کلید تمام لوگوں سے محبت کرنا تھا ۔(کان مفتاح شخصيته العظيمة هو الحب للجميع) موصوف کا واقعہ میں نے اپنے سفرنامہ (1/ 40 - 41) میں لکھا ہے ۔ انھوں نے ہمارے مشن کو پھیلانے کے لئے ایک نہایت اہم اور خاموش رول اداکیا۔ انھوں نے الاسلام یتحدی ہزاروں کی تعداد میں قاہرہ سے منگائی اور اس کو نہایت سستی قیمت پر لوگوں کے درمیان تقسیم کر وایا۔ اس طرح یہ کتاب طرابلس کے تقریبا ہر پڑھے لکھے آدمی کے پاس پہنچ گئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9 نومبر 1990

اخبار العالم الاسلامی (مکہ ) کے شمارہ 11 ربیع الثانی1411ھ 29 اکتوبر1990 کے صفحہ2 پر" رؤوس اقلام" کے عنوان کے تحت ایک مضمون چھپا ہے۔ مضمون نگار عادل حسن جمدار لکھتے ہیں کہ یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں کہ کویت کی افتاد اور خلیج اسلامی اور وطن عربی بلکہ تمام عالم کی ساری مشکلات و مصائب یہود کی کارستانی ہیں۔ (وليس هناك مبالغة في القول بان مصيبة الكويت وكافة مصائب ومشكلات منطقة الخليج الاسلامي والوطن العربي ثم العالم اجمع نماهى فى الواقع من صنع اليهود)

other sourceWords of another person or source

اگریہ صحیح ہو تو اسی کے ساتھ یہ اعلان کر نا چاہئے کہ حسن البنا ءسے لے کر اب تک ہمارے تمام علماء ، تمام اکابر،تمام مفکرین ، تمام قائدین اور تمام ادارے اور حکومتیں سب کی سب نااہل اور نالائق تھے۔ کیوں کہ بلا استثنا سب کے سب پچاس سال سے یہود کے فتنہ کوختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اب تک وہ اس فتنہ کو ایک فیصد میں ختم نہ کر سکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

11 نومبر 1990

ہندستان ٹائمس(10 نومبر 1990 ) کے صفحہ 12 پر یہ خبر ہے کہ سوویت یونین اپنے نام میں سے سوویت اور سوشلسٹ کا لفظ نکال دے گا اور اب اس کا نام یونین آف ساورین ریپبلیکن ہوگا :

other sourceWords of another person or source

The Soviet Union will drop the words of "Soviet" and "Socialist" from

its name and become the "Union of Sovereign Republics."

اشتراکی روس کی مارکسزم سے واپسی انسان عقل کی نارسائی کا بڑا عجیب ثبوت ہے۔

12 نومبر 1990

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اجودھیا میں رام مندر کی تحریک چلائی تو ہندو عوام کی ایک بھیڑ اس کے گرد جمع ہوگئی ۔ پارٹی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے سومناتھ سے اجودھیا تک دس ہزار کیلومیٹر کی رتھ یا ترا کی تو سارے راستہ میں ہندوؤں کی طرف سے انھیں زبردست استقبال ملا۔مگر اس بھیڑ کی وجہ سے وہ غلط فہمی میں نہیں پڑے۔

انگریزی ہفت روزہ انڈیاٹوڈے کے نمائندہ سے لال کرشن اڈوانی کی بات چیت ہوئی۔ انڈیاٹوڈے کے نمائندہ کا کہنا ہے کہ تاہم مسٹر اڈوانی ہندوں کے پرجوش استقبال کی اپنی پارٹی کی مقبولیت کے ہم معنی نہیں سمجھتے ۔ انھوں نے کہاکہ میں اس دھوکہ میں نہیں ہوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ یہ استقبال تمام تر رام بھکتی کی وجہ سے ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Advani, however, does not see the enthusiastic response as an indication of his or his party's popularity. "I am under no illusion that the popularity of the BJP is on the upswing. The response is all because of Ram Bhakti," he said.

other sourceWords of another person or source

اسی کا نام حقیقت پسندی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں حقیقت پسندی مفقود نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر مولانا ابوالاعلی مودودی نے پاکستان میں غلاف کعبہ (۱۹۶۳) اور یوم شوکت اسلام(۱۹۷۰) کا جلوس نکالا۔ انھوں نے قادیانی مخالف تحریک (۱۹۷۵) میں دھواں دار حصہ لیا۔ ان کے اس قسم کے جلسے اور جلوسوں میں مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ انھوں نے اس بھیڑ کو دیکھ کر سمجھ لیا کہ پاکستان کے مسلم عوام ان کے ساتھ ہیں۔ اور وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ پاکستان میں حکومت بناسکیں۔

اسی غلط فہمی کے تحت انھوں نے اپنی ساری طاقت بحالی جمہوریت کی تحریک (۱۹۶۵) میں لگا دی۔ مگر جب الکشن ہوا تو ان کے صرف چند آدمی پاکستان اسمبلی کے لئے منتخب ہو سکے ۔۲۴ اکتوبر ۱۹۹۰ کے الکشن میں بھی جماعت اسلامی نے بڑے بڑے نعروں کے ساتھ حصہ لیا۔ مگر اس بار بھی اپنے صرف چند آدمیوں ہی کو وہ اسمبلی میں پہنچا سکے۔ اس تباہ کن جد وجہد کا اتنا فا ئدہ بھی نہیں ہوا کہ مولانا مودودی آخر میں اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے۔

13 نومبر 1990

" جنگ کی تیاریاں " یا " جنگ کے لیے تیاریاں " دونوں فقرے اردو زبان میں استعمال کئے جاسکتے ہیں، اور دونوں ہی صحیح سمجھے جائیں گے۔ لیکن انگریزی میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ انگریزی میں اس مفہوم کے لئے ؟ preparations of war نہیں کہا جاۓ گا ، بلکہ preparations for war کا جملہ استعمال کیا جائے گا۔

یہ ایک سادہ سی مثال ہے جو اردو اور انگریزی کے فرق کو بتاتی ہے ۔ انگریزی میں ہر چیز کی معیار بندی ہو چکی ہے۔ معیار سے کم درجہ کی زبان وہاں قابل قبول نہیں ہوتی ۔ جبکہ اردو میں اس قسم کی معیار بندی نہیں ہوئی۔ اس لئے اردو میں معیاری زبان اور غیرمعیاری زبان دونوں ہی مل جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی زبان میں معیار سے کم درجہ کی کتابوں کا مارکٹ میں لا ناسخت مشکل ہے۔ اس کے برعکس اردو دنیا میں یہ حال ہے کہ کم تر معیار کی کتا بوں اور جرائد کا ہر طرف انبار لگا ہوا ہے ۔

14 نومبر 1990

ڈاکٹرمحسن عثمانی ندوی (استاد جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی) کا ایک مضمون حیدرآباد کے الفیصل نومبر ۱۹۹۰ میں چھپا ہے ۔ اس میں موصوف لکھتے ہیں ۔ عرب کی سرزمین وہ سرزمین ہے جس پر کائنات کے محسن اعظم ، دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل حضرت محمد کی بعثت مبارکہ ہوئی تھی ، اور اقبال نے یہ کہ کر ذرا بھی مبالغہ سے کام نہیں لیا کہ :

other sourceWords of another person or source

خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

قرآن میں اللہ تعالی کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہـــ ان الله يمسك السماوات والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسكهما من احدمن بعده (فاطر 41) یعنی بے شک اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں ، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی اور ان کو تھام نہیں سکتا۔ قرآن کے مطابق افلاک کے خیمہ کوکھڑا رکھنے والا صرف ایک اللہ ہے ۔ مسلمان اس کارنامہ کو اپنے پیغمبر کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لوگ اس طرح کی بے اصل بات کیوں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندراحساس استجاب (sense of awe) نہایت طاقت ور صورت میں موجود ہے۔ آدمی کو ایک ایسی ہستی چاہئے جس کو وہ انتہائی عظیم سمجھے، جس کا وہ غیرمعمولی اعتراف کرے۔ یہ احساس آدمی کے اندر خداوند ذوالجلال کے لئے تھا۔ مگر انسان خدا کو نہیں پاتا ، اس لئے وہ کسی انسان کو یہ برتر مقام دیدیتا ہے۔ اور اس کے حق میں غیرمعمولی برتری کا اظہار کر کے اپنے دل کو تسکین دیدیتا ہے۔

15 نومبر 1990

عراق نے صدام حسین کی قیادت کے تحت 2 اگست کو کویت پر قبضہ کیا تھا۔ امریکہ ساڑھے تین مہینہ سے عراق اور کویت کا محاصرہ کئے ہوئے ہے۔ مگر اب تک اس نے حملہ کر کے جنگ شروع نہیں کی۔ جنگ امریکہ کے لئے بے حد مہنگی پڑے گی ۔ کیوں کہ ماہرین کے اندازہ کے مطابق ، جنگ کی قیمت ایک بلین ڈالر روزانہ ہو گی۔ یہ بے پناہ خرچ اور دوسرے نقصانات کا اندیشہ امریکہ کو جنگ کا آغاز کرنے سے روکے ہوئے ہے۔

میں نے اخبار میں اس رپورٹ کو پڑھا تو اس کے بعد میری مجھ میں آیا کہ قرآن میں قوم کو ہلاک کرنے کا ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ کیوں آئے ہیں کہ : ولا يخاف عقبها (الشمس) انجام کے اندیشہ سے بالا تر ہونا یہ صرف اللہ تعالی کی صفت ہے۔ انسان کبھی انجام کے اندیشہ سے خالی نہیں ہوسکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

16 نومبر 1990

قومی آواز کے شمارہ16 نومبر میں پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ (۱۸۳۹-۱۸۸۰) پر کے کے کھلر کا مضمون شائع ہوا ہے۔ مضمون نگار نے بتایا ہے کہ رنجیت سنگھ نہایت روشن خیال تھا۔ اس نے پنجاب میں پہلا چھا پہ خانہ قائم کیا۔ راوی ندی میں بھاپ سے چلنے والی مشینی کشتی چلائی ۔ اپنی فوج کو جدیدیورپی انداز سے ٹریننگ دی۔ انھوں نے پنجاب میں انگریزی تعلیم رائج کرنے کی کوشش کی۔ بندوق اور کارتوس کا کارخانہ قائم کیا۔ وغیرہ ۔

رنجیت سنگھ نہایت سادہ مزاج مہاراجہ تھا۔ وہ تخت کے بجائے معمولی نشست پر بیٹھتا تھا۔ اپنی ریاست میں سختی سے ظلم وزیادتی کو بند کر رکھا تھا۔ ہر مذہب کا احترام کرتاتھا۔

ایک مسلمان خوش نویس نے قرآن کا ایک نسخہ تیار کیا۔ وہ اس کا دس ہزار روپیہ چاہتے تھے۔ مگر رامپور ، لکھنؤ اور حیدر آباد کے نواب اتنی رقم دینے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس کے بعد وہ اس نسخہ کولے کرلاہور پہنچے اور رنجیت سنگھ کے سامنے اس کو پیش کیا۔ مہاراجہ اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ قرآن کو بوسہ دیا اور اسی وقت دس ہزار روپیہ کی ادائیگی کا حکم صادر کر دیا۔

مہارا بہ کا وزیر خارجہ ایک مسلمان فقیر عزیز الدین تھا۔ اور بہت سے مسلمان اس کے یہاں اعلی عہدوں پر تھے۔ رنجیت سنگھ ہندی اور پنجابی کے علاوہ اردو اور فارسی زبان بخوبی جانتا تھا۔ اس کے یہاں دفترکی زبان فارسی تھی۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کے حالات میں اس قسم کی چیزیں پڑھتا ہوں تو مجھ کو تعجب ہو تا ہے کہ سید احمد بریلوی کچھ خبروں اور افواہوں کو سن کر اس کے خلاف جنگ پر کیوں آمادہ ہو گئے۔ سید صاحب اور ان کے ساتھیوں کو چاہئے تھا کہ پہلے رنجیت سنگھ سے ملتے۔ اس سے نہ صرف موصولہ خبروں پر بات کرتے بلکہ اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرتے۔ یہ کتنی بڑی نعمت تھی کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ فارسی اور اردو جانتا تھا۔ اس سے خود اپنی زبان میں مکمل گفتگو کی جاسکتی تھی۔ مجھ کو تو سید احم شہید بریلوی کا اتمام جہاد محض بے معنی فعل معلوم ہوتا ہے۔

17 نومبر 1990

پاکستان کے روز نامہ نوائے وقت کے میگزین (21ستمبر 1990) میں مسٹر محمد علی جناح کا ایک وکیلانہ کارنامہ شائع کیا گیا ہے۔ مضمون نگار محمد مظفرالحق ایڈوکیٹ نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ انھیں کے الفاظ میں یہ ہے :

other sourceWords of another person or source

ایک ہندوونکٹاشک نے بمبئی کی عدالت میں دعوی دائر کیا کہ وہ ایک ہندو مندر کا متولی ہے۔ اس نے عدالت سے کہا کہ اس کو ڈھول باجہ کے ساتھ مسجد کے سامنے سے جلوس کی شکل میں گزارنے کا مذہبی طور پر اختیار حاصل ہے۔ اس نے استدعاکی کرسوری شناتھ کے تیوہار پر ہر سال اس کو اجازت ہونی چاہئے کہ وہ اپنے دیوتا کی پالکھی بھی مسجد کےسامنے سے گزارے ۔ اس ضمن میں ایک مسلمان عبد القادر کی درخواست پر سب ڈویژنل مجسٹریٹ نے جلوس کومسجد کے سامنے سے گزارنے پر ضابطہ فوجداری کے تحت حکم امتناعی جاری کر دیا کہ کوئی ہند و مسجد کے سامنے سے یا مسجد کے حدود میں باجہ ڈھول اور میوزک نہ بجائے اور نہ وہاں سے گزرے۔ یہ حکم متعلقہ ایس ڈی ایم نے ۲۴ نومبر۱۹۱۰ کو جاری کیا۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

اس حکم کے بعد مذکورہ ونکٹاشک نے اپنا دعوی عبدالقادر کے خلاف برائے استقرارحق بمبئی کی عدالت عالیہ میں دائرکیا۔ عدالت نے اس دعوی کوناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔ اس کے بعد مذکورہ ونکٹاشک نے ڈویژن بنچ کے سامنے اس حکم کے خلاف دوبارہ اپیل دائر کی۔ اس نے کہا کہ اس کا دعوی قابل سماعت ہے۔ اس کو بھی مذہبی آزادی اتنی ہی ہے جتنی کہ مسلمانوں کو ہے ۔ لہذا وہ اس کا حقدار ہے کہ مسجد کے سامنے جلوس کی شکل میں ڈھول بجانے پر اور میوزک کے ساتھ گزرنے پر مسلمان کوئی اعتراض نہ کریں ۔ اس اپیل کو مسٹر جایا کر ایڈوکیٹ نے دائر کیا۔ انھوں نے عدالت کے سامنے یہ دلیل دی کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس ڈی ایم کو ایسا حکم نامہ جاری کرنے کا حق نہ تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس مقدمہ میں مسلمان عبدالقادر کی پیروی مسٹر علی جناح نے کی ۔ انھوں نے عدالت کو بتایاکہ برسوں سے یہ روایت ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایسے اقدامات کریں گے کہ مذہبی تہواروں پر ایک دوسرے کے جذبات مشتعل نہ ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ ۵۰ تا ۱۰۰ کے قریب میوزک اور ڈھول بجانے والے لوگ جب مل کر مسجد کے سامنے سے گزریں گے تو اتنا شوروغل بر پا ہو گا کہ ہر مسلمان مشتعل ہو جائے گا۔ اس طرح لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔

other sourceWords of another person or source

اس مقد مہ کی سماعت مسٹرجسٹس بی مین اور مسٹر جسٹس ہرٹن نے کی۔ ان کا فیصلہ بمبئی لار پورٹ کے جرنل ( جلد ۲۰ ) میں موجود ہے۔ یہ فیصلہ24 جنوری۱1918 کو ہوا۔ عدالت نے مسٹرمحمد علی جناح کے دلائل کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ماتحت عدالت کا فیصلہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے جلوس کو ڈھول باجہ کے ساتھ مسجد کے سامنے سے گزرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس طرح ہندو کی اپیل خارج ہوگئی۔ مضمون نگار نے آخر میں یہ جملہ لکھا ہے: " قائد اعظم یہ اپیل مذہبی روایات کے خلاف اقدامات کرنے پرجیت گئے اور حق کا بول بالا ہوا۔"

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسٹر جناح نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح ہونے اور ان کو مشتعل ہونے سے بچانے کے لئے1918 میں جو عدالتی کامیابی حاصل کی تھی اس کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ سلمان پچھلے 70 سال سے زیادہ بڑے پیمانہ پر عین اسی مصیبت کا شکار ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسٹر جناح کا مذکورہ واقعہ ان کی وکالت کا ثبوت ہے نہ کہ ان کی قیادت کا۔ مسٹر جناح انسانوں کو یہ بتاتے کہ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ تم اشتعال انگیزی کے با وجود مشتعل نہ ہو تو یہ ایک رہنمائی ہوتی۔ مگروہ اپنے آپ کوقائد ثابت کرنے کے بجائے صرف وکیل ثابت کرسکے۔

18 نومبر 1990

برما میں عرصہ سے فوجی حکومت ہے۔ عوامی مطالبہ پر وہاں الکشن کرایاگیا۔ مئی۱۹۹۰ میں ہونے والے اس الکشن میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی ( N.L.D) بھاری اکثریت سے جیت گئی مگر وہاں کے فوجی جنرلوں نے اقتدار منتقل نہیں کیا۔ انھوں نے لیگ کے لیڈروں کو جیلوں میں بند کر دیا۔ عوام پرظلم کرنا شروع کیا۔ حتی کہ بدھوں کے عبادت خانوں میں بھی فوج گھس گئی۔ وغیرہ ۔

ٹائم میگزین (۱۹ نومبر ۱۹۹۰ )کی کور اسٹوری برما کے بارہ میں ہے ۔ ٹائم نے اس پریہ سرخی لگائی ہے کہ برما کے فوجی جنرل الیکشن ہار گئے۔ مگر وہ ڈیموکریسی کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہیں :

other sourceWords of another person or source

They lost an election, but Burma's generals will not surrender to

Democracy.

دنیا میں آدمی کے لئے ممکن ہے کہ وہ ہا ر کر بھی اپنی عظمت کا جھنڈا بلند رکھے۔ آخرت وہ مقام ہے جہاں آدمی یہ موقع کھو دے گا۔ وہاں عظمت صرف اس کو ملے گی جواقعتہ عظمت کا مستحق ہو نہ کہ وہ جس نے دھاندلی کے ذریعہ اپنے کو فرضی طور پر اونچا کر رکھا ہو۔

19 نومبر 1990

نوائے وقت (۱۸جولائی۱۹۹۰ )میں بتایاگیا ہے کہـــ امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے گزشتہ روز اپنے اعزاز میں دئے گئے استقبالیہ میں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ بھارت اور اسرائیل مسلمانوں کے بحر بیکراں میں دو چھوٹے چھوٹے جزیروں کی طرح ہیں۔ امت مسلمہ کے سیل رواں کو نہیں روکا جاسکتا۔ (صفحہ 3 )

other sourceWords of another person or source

یہ ایک غیر سنجیدہ کلام ہے ، اور پھر یہود کے ساتھ ہندوؤں کو بریکٹ کرنا اس کی غیرسنجیدگی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ پاکستانی دانشور اور رہنما عام طور پر یہی کرتے ہیں۔ مگر یہ نقطہ نظر لغویت کی حد تک غلط ہے۔ یہو دی قرآن کے مطابق ایک مغضوب قوم ہیں جبکہ ہندو ہمارے لئے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ سرکشی کی بات ہو گی کہ دونوں قوموں کو ایک درجہ دیا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

20 نومبر 1990

19 نومبر کو میں امریکہ کے سفر پر روانہ ہوا۔ اس سے ایک دن پہلے ریڈرس ڈائجسٹ (اکتوبر ۱۹۹۰ ) میں جیمز میکڈرموٹ (James McDermott) کا مضمون پڑھا۔ اس کا عنوان تھا ؛

Just Ten More Minutes

اس مضمون میں ایک امریکی ڈاکٹر ہو ورڈ ہالک ( Howard Balick ) کا قصہ بیان کیا گیا تھا۔ یہ بے حد دردناک قصہ تھا۔ اس کو میں نے آنسوؤں کی بارش کے درمیان پڑھا۔ ڈاکٹر بالک کے پاس پرائیویٹ پائلٹ کالائسنس تھا۔ 19 فروری۱۹۸۸ کو انھوں نے چار سیٹوں کا ایک جہاز (201 Mooney) کرایہ پر لیا۔ یہ چھوٹا جہاز ایک انجن پر چلتا تھا۔

امریکہ کے ہوائی اڈہ (Old Bridge Airpot) سے انھوں نے جہاز اڑایا۔ جہاز بلند ہوکر ۱۷۰ کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ رہا تھا کہ خراب موسم میں گھرگیا۔ اور آخر کار ایک دلدل میں گر پڑا ۔ ڈاکٹر بالک شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ وہ ٹوٹے ہوئے جہاز میں پھنسے ہوئے کراہتے ہرہے ۔ ان کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ بارش اور رات کے اندھیرے میں کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ انھوں نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا کہ تم کیوں نہیں آرہے ہو .(Why aren't you coming) یہاں تک کہ نو گھنٹے کے بعد پولیس کی ایک ٹیم وہاں پہنی بڑی مشکلوں سے وہ نکال کر اسپتال پہنچائے گئے ۔ علاج کے بعد وہ دوبارہ تندرست ہو گئے۔

اس واقعہ کی المناک تفصیلات بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہاں صرف یہ لکھنا ہے کہ جب میں اس قصہ کو پڑھ رہا تھا تو ایسا محسوس ہورہا تھا گویایہ خود میرا ہی قصہ ہے۔ یہ میرے موجودہ حالات کی ایک خارجی تصویر ہے۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا کہ خدایا میں بھی اسی طرح شدید حالات میں پھنسا ہوا آپ کی نصرت کا انتظار کر رہا ہوں۔ میں نے کہا: خدا وند تو کب آئے گا ۔ اس پکار پر پچاس سال پہلے میری کہانی کا آغاز ہوا تھا، اور اب دوبارہ خداوند تو کب آئے گا کے اوپر میری کہانی کا اختتام ہورہا ہے۔ ڈاکٹربالک کا جملہ میرے دل کی آواز بن گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Why aren't you coming.

21 نومبر 1990

ٹائمس آف انڈیا (15نومبر 1990) کے صفحہ 3 پر ایک فوٹو چھپا ہوا ہے۔ اس میں ٹوپی پوش نوجوانوں کی ایک بھیٹر دکھائی دے رہی ہے ۔ وہ کعبہ(مسجد حرام ) کی ایک بہت بڑی تصویر اٹھائے ہوئے چل رہی ہے ۔ یہ اس جلوس کا فوٹو ہے جو دہلی کے مسلم نوجوانوں نے 14نومبر1990 کو نکالا تھا۔ یہ جلوس چاندنی چوک سے صدر بازار کے علاقہ تک گیا۔

یہ جلوس جس میں کچھ سکھ نوجوان بھی شریک تھے ، اپنے اعلان کے مطابق خاموش امن مارچ (Silent peace march) کے نام پر نکالاگیا تھا۔ مگراس نے اشتعال انگیز نعرے لگائے۔ مثلا اس کا ایک نعرہ یہ تھا : سکھ اور مسلم بھائی بھائی ، ہند و قوم کہاں سے آئی۔ موتیاکھان پہنچ کر جلوس رکا۔ وہاں سخت اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں ۔

اس قسم کی حرکتوں کے نتیجہ میں علاقہ کے ہندووں میں جوابی اشتعال پیدا ہوا ۔ دونوں فرقوں میں ٹکراؤ ہوا۔ آزادانہ طور پر پتھراؤ اور چھرےبازی ہوئی ۔ پولیس نے گولی چلائی ۔ اطلاع کے مطابق ، اس میں آٹھ مسلمان مرگئے سیکڑوں آدمی زخمی ہوئے۔

احمق لیڈروں کی اشتعال انگیز حرکتوں کے نتیجہ میں اس وقت پورا شمالی ہند بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کا جلوس نکالنا بارود میں آگ لگانے کے ہم معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے وقت میں مذکورہ قسم کا جلوس نکالنا پاگل پن سے بھی زیادہ برا فعل ہے۔ مگر اس کا ایک فائدہ یہ ہو کر مسلمانوں کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ جلوس کی سیاست غلط اور نقصان دہ ہے۔ چنانچہ اب تمام مسلمان اس جلوس کو بر اکہہ رہے ہیں۔ جامع مسجد دہلی کے امام عبد اللہ بخاری جلسہ اور جلوس اور پرجوش تقریر بازی کے شہنشاہ بنے ہوئے تھے۔ مگر عوامی دباؤ کے تحت انھوں نے بھی اپنی زبان بدل دی۔ انھوں نے سخت الفاظ میں اس جلوس کی مذمت کی اور اس کو سر پھرے لوگوں کی کارروائی بتا یا (قومی آواز 17 نومبر 1990)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہندستان کی پچھلی پچاس سال کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنے لوگوں کے جلوس کی مذمت کر رہی ہے ۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 1990 کا خاتمہ مسلمانوں کے لئے نئے دور کا آغاز ہے۔ اب مسلمان جوش و خروش کی سیاست چھوڑ دینگے اور خاموش انداز میں زندہ رہنا سیکھیں گے۔

22 نومبر 1990

نکولس بٹلر Nicholas Murray Butler) ۱۸۶۲ میں پیداہوا۔ ۱۹۴۷میں اس کی وفات ہوئی ۔ اس کا قول ہے کہ ماہر وہ شخص ہے جو کم سے کم کے بارہ میں زیادہ سے زیادہ جانے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

An expert is one who knows more and more about less and less.

موجودہ زمانہ میں کائنات کا مطالعہ نہایت وسیع پیمانہ پر کیا گیا ہے۔ مگر اس مطالعہ نے انسان کو صرف یہ بتایا ہے کہ کائناتی علم اتنا زیادہ ہے کہ کسی انسان کا دماغ اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ چنانچہ علم کو اجزا اور پھر جزا کو مزید اجزاء تقسیم کر کے ان کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کتناعظیم ہے خالق اور کتنا حقیر ہے اس کے مقابلہ میں انسان۔

23 نومبر 1990

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ مسلم مفکرین کی لمبی فہرست گنانے لگے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ مفکرکس کو کہا جاتا ہے۔ ان کے پاس اس کا کوئی متعین جواب تھا۔ میں نے کہا کہ مفکر وہ انسان ہے جو حقائق متفرقہ کو حقیقت واحدہ میں تبدیل کر سکے ۔ آپ پہلے اس تعریف کوذہن میں رکھئے اور اس کے بعد مسلم مفکر کا نام بتائیے۔ وہ کوئی نام نہ بتا سکے ۔

24 نومبر 1990

اللہ نے دو دنیائیں بنائیں۔ ایک موجودہ دنیا جہاں آدمی شیطان کے پڑوس میں ہے۔ دوسری، آخرت کی دنیا جہاں آدمی اللہ کے پڑوس میں ہو گا۔ آخرت میں خدا کا پڑوس اس شخص کو ملے گا جو دنیا میں شیطان کے پڑوس پر راضی نہیں ہوا۔ جو آدمی موجودہ دنیا میں شیطان کے پڑوس پر راضی ہو جائے ، اس کے لئے یہاں بھی شیطان کا پڑوس ہے اور آخرت میں بھی شیطان کا پڑوس ۔

25 نومبر 1990

نومبر 1990 کے آخری عشرہ میں میں امریکہ میں تھا۔ اس قیام کے زمانہ میں اندازہ ہواکر یہاں کے مسلمانوں میں ایک نیا ماڈرن قسم کا اسلام پیدا ہو رہا ہے۔ یہاں مجھے ایک خصوصی تقریب میں لے جایا گیا۔ یہ ایک شاندار ہال میں نہایت اہتمام کے ساتھ انجام دی گئی تھی۔ میزوں پرکھانے کا انتظام تھا۔ ایک طرف مرد اور دوسری طرف عورتیں پوری زیبائش و آرائش کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ایک نوجوان لایا گیا اس کی ملاقات ایک نوجوان لڑکی سے کرائی گئی ۔ اس کے بعد اسٹیج پر تقریر ہوئی۔

تقریر میں بتایا گیا کہ یہ" خطبہ سریمنی" ہے۔ اور پھر ثابت کیا گیا کہ یہ عین سنت کے مطابق ہے ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی خطبہ کا رواج تھا۔ اس سر یمنی تقریب میں مذکورہ لڑکے کی منگنی ایک لڑکی سے کرائی گئی اور پھر اعلان کیا گیا کہ ایک سال کے اندر تاریخ مقرر کر کے زیادہ بڑی تقریب میں نکاح سریمنی منعقد کی جائے گی ۔ میں نے کہا کہ اسلام میں" خطبہ "تو ہے مگر" سریمنی" اسلام میں نہیں۔ خطبہ کا مطلب صرف انفرادی طور پر نکاح کا پیغام دینا ہے نہ کہ اس قسم کی عمومی تقریب منعقد کرنا ۔ تاہم اس تقریب کو دیکھ کر ایک نئی بات ذہن میں آئی۔ اسلام میں سیکڑوں سال سے اس قسم کی بدعات کی جارہی ہیں، اس کے باوجود وہ اسلام کا جزو نہ بن سکیں جیسا کہ دوسرے مذہبوں میں پیش آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے۔ اسلام میں ایک واضح معیار اور ایک واضح نمونه موجو دہے جس پر کسی بھی عمل کو جانچا جاسکے اور اس کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ دوسرے مذاہب میں غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے یہ کسوٹی موجود نہیں۔ اس لئے دوسرے مذاہب میں ہربدعت اس کاجزء بن جاتی ہے۔ مگر اسلام میں وہ اصل مذہب کا جز نہیں بن سکتی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

26 نومبر 1990

امریکہ کے زمانہ قیام میں میری ملاقات ایک عرب شیخ سے ہوئی۔ انھوں نے کویت پر عراق کے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عراقی ہمیشہ سے مفسد رہے ہیں۔ حجاج بن یوسف (وفات ۷۱۴) نے عراقیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : يا اهل العراق، اهل الشقاق والنفاق (اے اہل عراق ، جھگڑے اور منافقت والے) میں نے کہا کہ کویت پر عراق کے حملہ کو میں بھی اتنا ہی غلط سمجھتا ہوں جتنا آپ لوگ اسے غلط سمجھتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود مجھے آپ لوگوں کے طریقہ سے اتفاق نہیں ۔ عراق کے اسی صدام حسین نے جب ایران پرحملہ کیا اور آٹھ سال تک ان سے جنگ لڑا تارہا تو آپ لوگوں کے درمیان وہ ہیرو بن گیا۔ آپ لوگوں نے ببلینوں ڈالر سے اس کی مدد کی۔ اس زمانہ میں عرب اخبارات یکطرفہ طور پر صرف ایران کی مذمت سے بھرے ہوتے تھے ۔ اب اسی صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تو آپ لوگ اس کو دنیا کا سب سے برا انسان بتارہے ہیں ۔ میں نے خدا کے فضل سے اس وقت بھی صدام حسین کو غلط سمجھا تھا اور آج بھی اس کو غلط سجھتا ہوں۔ مگر آپ لوگوں کا حال یہ ہے کہ صدام حسین کی بندوق آپ کے مفروضہ دشمن کے خلاف ہو تو وہ جہاد ہے اور آپ کے اپنے خلاف ہوتوفساد۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

27 نومبر 1990

امریکہ میں 6 ملین مسلمان رہتے ہیں۔ ان میں ایک قابل لحاظ تعداد ہندستانی اور پاکستانی مسلمانوں کی ہے۔ مسلمان تقریبایہ رائے رکھتے ہیں کہ ہندستان کے فسادات وغیرہ میں میں یکطرفہ طور پر صرف ہند وقصور وار ہیں مسلمان مکمل طور پر مظلوم ہیں ۔ ہندستان سے جو لوگ امریکہ جاتے ہیں وہ اس کی تصدیق کرتے ہوئے مسلمانوں کی مظلومیت پر تقریریں کرتے ہیں اور وہاں سے بڑی بڑی رقمیں لاتے ہیں۔

ایک خصوصی اجتماع میں یہاں ہندستانی مسلمانوں کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا میری رائے بالکل بر عکس ہے ۔ میری رائے یہ ہے کہ ہندستان میں مسلمان ظالم ہیں اور ہندو مظلوم۔ یہ سن کر لوگ حیرت کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہند و اگرمسلمانوں کی دنیا چھین رہا ہے تو مسلمان ہندووں کی آخرت چھینے ہوئے ہیں۔ پھر زیادہ بڑا مظلوم کون ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ ہندوؤں کے سامنے اسلام پیش کرتے وہ ہندوؤں سے داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرتے مگر مسلمان اس کے برعکس ان سے عداوت کارشتہ قائم کئے ہوئے ہیں۔ یہ بلاشہ مسلمانوں کاظلم ہے۔ اس معاملے میں وہ خدا کے یہاں پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔

28 نومبر 1990

جون۶۲۱ء میں مدینہ سے ۲ ۷ مرد اور 3 عورتوں کاقافلہ مکہ آیا۔ وہ رات کے وقت عقبہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی۔ اس کو اسلام کی تاریخ میں بیعت عقبہ ثانی کہا جاتا ہے۔ اس بیعت میں مدینہ کے قبائل (اوس اور خزرج) کے جو افراد شریک ہوئے تھے ، سیرت کی کتابوں میں ان کی مکمل فہرست نام بنام دی گئی ہے۔

یہ بظاہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر یہ دیکھیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں یورپ کی تاریخ پر جوکچھ لکھا گیا، وہ انتہائی مبہم اور غیرمتعین انداز میں تھا تو یہ تعین (تحدید) حیرت ناک حد تک مختلف معلوم ہوتی ہے۔ انگریز مصنف گالی ایٹن (Gai Eaton) نے لکھا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Considering how misty are the outlines of European history in the seventh century, it is remarkable how detailed are records of events in Prophet's life. Islam and the Destiny of Man, p. 113.

29 نومبر 1990

صدام حسین کے کویت پر قبضہ کے بعد امریکہ کی فوجیں دو لاکھ کی تعداد میں سعودی عرب کی سرزمین پر اتر گئی ہیں۔ ان میں مرد بھی ہیں اور عورتیں تھیں۔ امریکہ کے مسلمان عام طور پر اس کے مخالف تھے کہ امریکہ اپنی فوجیں عرب کی مقدس سرزمین پر اتارے ۔ 29 نومبرکو سیکورٹی کونسل نے ایک رزولوشن کے ذریعہ امریکہ کویہ حق دے دیا کہ ۱۵ جنوری۱۹۹۱ تک اگرعراق اپنی فوجیں کویت سے نہ نکالے تو امریکہ عراق کے اوپر حملہ کرسکتا ہے۔ اس کے بعد امریکہ کے مسلمانوں کا غصہ اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔

اس فیصلہ کے خلاف بیانات ، تقریریں اور مظاہرے ہوۓ۔ میں نے ایک مسجد میں تقریر سنی ۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ہم نے جو حلف (Oath) لے کر امریکی شہریت قبول کی ہے اس میں لکھا ہوا ہے کہ جنگ کی صورت پیش آنے پر ہم امریکی فوج میں شامل ہو کر اس کے لئے لڑیں گے۔ اب اگر جنگ چھڑتی ہے تو امریکی مسلمانوں کو خلیج کے مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر مجبور کیا جائے گا اور یہ اسلام میں حرام ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان تجربات کے بعد میرا قیاس ہے کہ امریکہ کے6 ملین مسلمان جو امریکہ کو دنیوی جنت سمجھ کر یہاں مقیم ہو گئے تھے۔ اور شہریت کا حلف دے کر یہاں کے شہری بن گئے تھے اب یہاں ان کے لئے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ جنگ کی صورت میں اگر وہ امریکی فوج میں شامل ہوکرلڑیں تو وہ شریعت کی خلاف ورزی کریں گے اور اگر وہ اس سے انکار کریں تو وہ امریکی حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائیں گے۔

مسلمان اب تک یہاں عزت کے ساتھ رہ رہے تھے۔ مگر مجھے اندیشہ ہے کہ اب وہ یہاں بے عزت ہوجائیں گے۔ برطانیہ کے مسلمان سلمان رشدی کے معاملہ میں تخریب کا انداز اختیار کر کے برطانیہ میں حقیر ہو چکے ہیں۔ اب امریکہ کے مسلمانوں کے لئے بھی غالباً یہی مستقبل ان کا انتظار کر رہا ہے۔ لاقدراللہ۔

30 نومبر 1990

30 نومبر کو میں کیلی فورنیا امریکہ میں تھا۔ وہاں صغیر اسلم صاحب کی رہائش گاہ پرایک اجتماع ہوا۔ یہاں کی اصطلاح کے مطابق یہ اجتماعی کھانا (Potlunch) کی تقریب کے تحت تھا۔ کھانے کے بعد مجھ سے تقریر کی فرمائش کی گئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا مسئلہ دشمنان اسلام کا مسئلہ نہیں۔ اس کی وجہ تمام ترمسلمانوں کی اپنی بے شعوری ہے ۔ اس سلسلہ میں مختلف تقابلی مثالیں دیں ۔ ان میں سے ایک مثال یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے ذریعہ اسلام کا پہلا اسکول قائم کیا۔ حالانکہ یہ قیدی سب کے سب مشرک اور دشمن تھے ۔موجودہ زمانہ میں یہ حال ہے کہ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبد السلام نے حکومت پاکستان کو یہ پیش کش کی کہ پاکستان میں اعلی سائنسی تعلیم کے لئے ادارہ قائم کیا جائے۔ اور وہ کم معاوضہ پر اس میں اپنی خدمت انجام دیں گے۔ مگر حکومت پاکستان نے اس پیش کش کو اس بنا پر ر دکر دیا کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ہیں۔

کچھ پاکستانی حضرات جو اب امریکی شہری بن چکے ہیں انھوں نے کہاکہ پاکستانی حکومت نے صحیح کیا۔ کیوں کہ ڈاکٹر عبدالسلام کواگر وہاں پروفیسر کی حیثیت سے بلایا جاتا تو وہ پاکستان میں قادیانیت پھیلاتے۔ میں نے کہا کہ خود آپ لوگ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بتاتے ہیں۔ پھر یہ کیسا قلعہ ہے جو ایک نہتے آدمی کے مقابلہ میں بھی اپنا بچاؤ کرنے سے عاجز ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it