Maulana Wahiduddin Khan
34 min left
0:00

← Diary 1989-1990
Diary 1989-1990

December 1990

English · 34 min read

یکم دسمبر 1990

ابوسفیان اصلاحی صاحب (علی گڑھ) پاکستان گئے۔ وہاں انھوں نے لاہور میں مو لا نا امین احسن اصلاحی سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں جو باتیں ہوئیں اس کا ایک جزء یہ تھا: مولانا امین احسن اصلاحی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک مرتبہ جب مولاناحسین احمد مدنی مدرستہ الاصلاح میں آئے تو میں انھیں رخصت کرنے کے لئے اسٹیشن تک گیا۔ اس دوران سیاست ہی موضوع بحث رہی ۔ میں نے مولانا سے کہا کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں ،اس کے مسلمانوں پر اچھے اثرات نہیں پڑیں گے۔ اس کے جواب میں مولانا حسین احمد مدنی نے فرمایاکہ تم مجھے پہلے انگریزوں کو ٹھکانے لگانے دو، اس کے بعد سارے مسائل طے کر دوں گا (حیات نو ، اکتوبر نومبر ۱۹۹۰ ، صفحه ۶۷)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی اس زمانہ میں تمام مسلم لیڈروں کاحال تھا۔ ان کا ایک طبقہ کہتا تھا کہ پہلے انگریزوں کو ملک سے نکال لینے دو ، اس کے بعد تمام دوسرے مسائل حل ہو جائیں گے۔ دوسرا طبقہ یہ کہتا تھا کہ پہلے پاکستان بن جانے دو اس کے بعد تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ ۱۹۴۷ میں انگریز اس ملک سے چلے گئے اور پاکستان بھی مسلم لیڈروں کے مطالبے کے مطابق بن گیا ۔مگر ان "کامیابیوں " پر نصف صدی گزرنے کے باوجود بر صغیر ہند میں مسلمانوں کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا بلکہ مسائل میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔

2 دسمبر 1990

خلیفہ دوم عمرفاروق نے زمانہ میں فلسطین فتح ہوا۔یہ واقعہ 16ھ (1637) کا ہے۔ حضرت عمرجب فلسطین سے واپس آ رہے تھے تو مدینہ پہنچنے سے پہلے راستہ میں ایک خیمہ نظر آیا۔ آپ اونٹنی سے اترکر وہاں گئے ۔ اس کے اندر ایک بوڑھی عورت تھی۔ حضرت عمر نے اپنی شخصیت کو بتائے بغیراس سے پوچھا کہ خلیفہ عمر کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ۔ بوڑھی عورت نے کہا: لاجزاء الله عنی (خداعمرکو میری طرف سے بدلہ نہ دے)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عمریہ فقرہ سن کر سہم گئے۔ پوچھاکہ عمرکی خطا کیا ہے۔ عورت نے کہا کہ اس نے اب تک میرا وظیفہ نہیں بھیجا۔ حضرت عمر نے کہاکہ پھرتم کو چاہئے تھاکہ خلیفہ کوخبر کرو۔ عورت نے کہاکہ یہ خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رعایا کے حالات کو جانے۔ حضرت عمر کے پاس جو کچھ سامان تھا سب اسے دیدیا اور کہاکہ مجھے معاف کر دو۔ اس کے بعد حضرت عمر نے اس بوڑھی عورت سے کہ کہ اس سے تحریری معافی نامہ لیا۔ یہ تحریر ایک چرمی کا غذ پر عبداللہ بن مسعود نے لکھی اور اس پر حضرت حسن اور حضرت انس نے اپنی گواہی درج کی۔ عورت نے اس پر اپنے انگوٹھے کانشان لگایا (ازالة الخفاء)

3 دسمبر 1990

سلطان شہاب الدین غوری اور امام فخرالدین رازی دونوں ہم عصر تھے۔ امام رازی ایک بارسلطان شہاب الدین کے دربار میں گئے ۔ سلطان نے نصیحت کی فرمائش کی۔ انھوں نے کہا کہ اے دنیا کے بادشاہ ، نہ تہاری بادشاہت باقی رہے گی اور نہ میری خوش کرنے والی باتیں ۔ ہم دونوں کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے (ياسلطان العالم ، لاسلطانك يبقى ولا تلبيس الرازي يبقى۔ وان مردنا الى الله)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام ذہبی نے کتاب العبر میں یہ قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بات سن کر سلطان بری طرح روپڑ ا ( فا نتحب السلطان بالبكاء)

other sourceWords of another person or source

4 دسمبر 1990

صحیحین کی مشہور روایت ہے : لا يؤمن احدكم حتى يحب لاخيه ما يحب لنفسه ( تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کیے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ) اس حدیث کو اگر خالص لفظی مفہوم میں لیا جائے تو آج دنیا میں بہت ہی کم ایسے لوگ ملیں گے جو حقیقی معنوں میں اس معیار پر پورے اتریں۔ میں نے تو جن مسلمانوں کا تجربہ کیا ہے ، ان کا حال عام طور پر یہ پایا کہ وہ سب ڈبل اسٹینڈرڈ تھے ۔ وہ اپنے لئے کچھ پسند کر رہے تھے اور دوسرے کے لئے کچھ ۔ میں نے اپنے تجربہ میں یہی حال اصاغر کا بھی پایا۔ اور یہی حال اکا بر کابھی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

5 دسمبر 1990

اورنگ آباد کے دو صاحبان ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایاکہ مہاراشٹر اسمبلی کے پچھلے الیکشن میں شیو سینا کے لیڈربال ٹھاکرے اورنگ آباد آئے۔ ان کی انتخابی تقریر ہونے والی تھی۔ وہ اجتماع گاہ میں آئے تو وہاں اخباری رپورٹر موجود نہ تھے ۔ بال ٹھاکرے نے کہا : کوٹا گیلے گھربڑ (کہاں گئے گدھ)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ اخبار والوں کی سخت تو ہین تھی ۔ چنانچہ وہ لوگ بگڑ گئے۔ خاص طور پر روز نامہ لوک مت جو مرہٹی ، انگریزی اور ہندی میں نکلتا ہے ، اس نے بال ٹھاکرے کے خلاف زبردست مہم چلائی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسمبلی میں بال ٹھاکرے کی پارٹی صرف اپوزیشن کا مقام حاصل کرسکی ورنہ عام خیال یہ تھاکہ اس بار وہ حکومت بنائے گی۔

جولوگ خدا سے ڈرنے والے نہ ہوں ، ان کی کامیابی انھیں گھمنڈ میں مبتلا کر دیتی ہے۔اور اس طرح ان کی کامیابی انھیں ناکامی کے راستہ پر ڈالنے کا سبب بن جاتی ہے۔

6 دسمبر 1990

ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (19 جمادی الاولی 114ھ ، دسمبر1990) میں موضوع الغلاف (کوراسٹوری) کے طور پر ایک مفصل مضمون عراق کی جارحیت کے مسئلہ پر چھپا ۔ اس کا عنوان ہے : آخرالدواء،الحرب (آخری علاج جنگ ہے)

other sourceWords of another person or source

یہ بڑی مجاہدانہ بات ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ عراق کے فوجی حملہ کے خلاف یہ مجاہدانہ اقدام کون کرے گا۔ اس مجاہدانہ اقدام کی طاقت نہ کویت میں ہے اور نہ سعودی عرب میں۔اس اقدام کا واحد ہیرو امریکہ ہے جس کو انھوں نے دعوت دے کر اس سرزمین پر بلایا ہے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عجیب حال ہے۔ آج ساری دنیا کے مسلم رہنما اور دانشور جنگ کی باتیں کر رہے ہیں ۔ حالاں کہ ان میں کوئی شخص بھی لڑنے کے لئے تیار نہیں۔ بہر آدمی خود وساحل پر کھڑا رہنا چاہتا ہے اور دوسروں کو اکسا رہا ہے کہ وہ جنگ کے سمندر میں کود پڑیں۔

7 دسمبر 1990

انگریزی کا ایک مثل ہے کہـــــ گھمنڈ جب جاتا ہے تو وہ گھوڑے پر سوار ہو کر جا تا ہے اور جب واپس آتا ہے تو وہ پیدل واپس آتاہے :

other sourceWords of another person or source

Pride goeth on horseback, and cometh back on foot.

یہ وہی بات ہے جس کو اردو میں کہا جا تا ہے۔ "بڑے بول کاسرینچا" اس دنیا میں جو شخص تواضع اختیار کرے اس کو بلندی ملتی ہے۔ اور جو آدمی گھمنڈ میں مبتلا ہو اس کے آخری کارپستی کے سوا اور کہیں جگہ نہیں ملتی ۔

8 دسمبر 1990

مولانایوسف بھوپالی ندوی نے بتایا کہ ندوہ کے طلبہ ندوہ کے طالب علم ہونے پر فخر کرتے ہیں ۔ اور وہ دیو بند والوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ میں نے مثال پوچھی۔ انھوں نے کہا کہ ندوہ کے طلبہ کا یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ عربی زبان جانتے ہیں اور دیوبند کے طلبہ عربی نہیں جانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں ندوہ کا طالب علم انا اتوضا کہتا ہے ، وہاں دیوبند کا طالب علم أنا الفعل الوضوء کہے گا۔ جہاں ندوہ کا طالب علم انا اصلی کہتا ہے وہاں وہ انا اقرأ الصلاۃ کہیں گے۔ جہاں ندوہ کا طالب علم انا اصوم کہتا ہے وہاں وہ انا اضع الصوم کہیں گے۔ جہاں ندوہ کا طالب علم انا أحج کہتا ہے وہاں وہ انا الفعل الحج کہیں گے۔ وغیرہ

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ یہ بات خلاف واقعہ بھی ہے اور اس کے ساتھ مومن کی تحقیر بھی۔ ندوہ کے طالب علموں نے شاید عربی ادب کو پڑھامگر انھوں نے اس حدیث کو نہیں پڑھا کہ کفیٰ بالمرء اثما ان يحقر أخاه المسلم ( آدمی کے گنہ گار ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9 دسمبر 1990

ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ ( 5 جمادی الاولی 1411ھ ، 22 نومبر1990ء ) میں غالبا کسی ندوی کا مضمون ہندستان میں اسلام اور مسلمانوں کے بارہ میں چھپا ہے ۔صفحہ40 پر ہندستان کے اسلامی جرائد کا ذکر ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل تین پرچوں کا ذکر ہےجو کہ ندوہ( لکھنو) سے نکلتے ہیں:

الرائد ہفتہ وار ، البعث الاسلامی ماہوار ، تعمیرحیات پندرہ روزہ۔ الرسالہ کی تعدا داشاعت مذکورہ تینوں جرائد کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے ۔ اسی طرح اثرات کے اعتبار سے وہ ان تینوں جرائد کے مجموعی اثرات سے کئی گنا زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ مگر اس میں الرسالہ کا کوئی ذکر نہیں۔ یہی فعل اگر ہند وکرے تو وہ تعصب قرار دیا جائے گا۔ اور یہی فعل مسلمان کرے تو وہ عین حق وصداقت ہے۔

10 دسمبر 1990

آج جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے کانفرنس ہال میں ایک سمینار تھا۔ اس کا موضوع تھا :" آزاد ہندستان میں سیکولرزم اور قومی یک جہتی" اس کے آرگنائزر نظر برنی صاحب کی دعوت پر میں بھی اس میں شریک ہو ا۔ چیف گیسٹ کے طور پر حکومت ہند کے ہیلتھ منسٹر جناب شکیل الرحمان صاحب آنے والے تھے۔

میں ہال کے اندر بیٹھا ہواتھا۔ ابھی جلسہ کی کارروائی شروع نہیں ہوئی تھی۔ اچانک گیٹ پرشور وغل سنائی دیا۔ چند منٹ کے بعد مسلم نوجوانوں کا ایک غول وحشیانہ انداز میں اندر گھس آیا۔ وہ شکیل الرحمان ہائے ہائے ،شکیل الرحمان مردہ باد ، جیسے نعرے لگارہاتھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ علی گڑھ ، حیدر آباد وغیرہ مقامات پر مسلمانوں کے خلاف جو فسادات ہورہے ہیں اور ایڈمنسٹریشن ان کو روکنے میں ناکام ثابت ہوا ہے ، ان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مسٹر شکیل الرحمان کو وزارت کے عہدہ سے استعفا دید نا چاہئے۔ مسٹرشکیل الرحمان نے استعفات نہیں دیا، البتہ جلسہ شروع ہونے سے پہلے منتشرہوگیا۔

میرے نزدیک یہ سراسر بزدلی کا مظاہرہ تھا ۔مسلمان اب ہندوؤں کے خلاف اقدام کی جرات کھو بیٹھے ہیں ۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہنگامہ کرنے میں مصروف ہیں۔

11 دسمبر 1990

یکم دسمبر1990 کو میں کیلی فورنیا کے مسلمانوں کی ایک مٹینگ میں شریک ہوا۔ اس میٹنگ میں لوگوں کو بتایا گیا کہ امریکہ کا دستور مذہب کی بنیا د پرکسی قانون سازی کو غلط بتاتا ہے۔ اس لئے یہاں ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ ہمارے لئے" مسلم پرسنل لاء" جیسا کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے۔ ہم کو یہاں کے موجودہ قانونی ڈھانچہ ہی میں اپنے مسائل کا حل دریافت کرنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مقرر حضرات نے بتایا کہ امریکی قانون کے مطابق سب سے اہم چیز مالک کی وصیت (Will) ہے۔ اگر آ دمی جائدا د چھوڑ کر مرے تو اس کی جائداد کا چالیس فی صد حصہ حکومت کے قبضہ میں چلا جائے گا۔ بقیہ جائداد کا بھی بیشتر حصہ اس کی بیوی (spouse) کومل جائے گا۔ اور بقیہ کم حصہ اس کی اولاد کو ملے گا۔ یہ اسلام کے قانون وراثت کے خلاف ہے۔ مگر یہاں کے قانون میں وصیت رول کوتقسیم جائداد میں اہم ترین حیثیت حاصل ہے ۔ ہم کو چاہئے کہ ہم اس قانونی گنجائش کو استعمال کریں ۔ یعنی ہرمسلمان جس کے پاس جائداد ہے وہ موت سے پہلے ایک تحریری وصیت تیار کر دے اور اس وصیت میں وہ شرعی حقوق کے مطابق، ہر ایک کے لئے اس کا حصہ مقرر کر دے ۔ جو لوگ اپنی موت کے بعد اس قسم کا وصیت نامہ چھوڑیں گے۔ ان کی جائداد ان کی منشاء کے مطابق اس کے شرعی وارثوں کو پہنچ جائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ مجھےاس بات سے پورا اتفاق ہے۔ آپ کو اسی طرح یہاں کے قانونی نظام سے ٹکرانے کے ببجائے اس کے دائرہ کے اندر اپنا راستہ نکالنا چاہئے۔ مگر مجھے آپ لوگوں سے شکایت ہے کہ آپ لوگ یہی بات ہندوستان کے مسلمانوں کو نہیں بتاتے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو آپ ٹکراؤ کا سبق دیتے ہیں اور خود اپنے آپ کو ایڈجسٹمنٹ پر عمل کر رہے ہیں ۔

12 دسمبر 1990

امریکہ کے سفرمیں کیلی فورنیا کے ایک بڑے سرمایہ دار کے گھرجانے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے اپنے یہاں کھانے پر بلایا تھا۔ کھانے کے بعد ان کے گھر والوں اور رشتہ داروں کی ایک مختصر میٹنگ ہوئی۔ اس میں میں نے کچھ باتیں کہیں ۔ واپسی کے بعد ان کی اہلیہ کاٹیلیفون آیا کروہ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔

25 دسمبر کو وہ میری رہائش گاہ پر آئیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے تنہائی میں گفتگوکرنا ہے۔ چنانچہ ایک الگ کمرہ میں ملاقات ہوئی ۔ جب میں خاتون کے مکان میں گیا تھا تو وہاں وہ لوگوں سے نہایت ہنس ہنس کر ملاقات کر رہی تھیں ، مگرجب دوسری بار وہ مجھ سے ملنے آئیں تو معاملہ بر عکس تھا ۔ میں نے پوچھاکہ آپ کے سوالات کیا ہیں۔ یہ کہتے ہی خاتون رونے لگیں اور

دیر تک روتی رہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کچھ مسائل بتائے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی سکھی نہیں۔ ہرآدمی کسی نہ کسی المناک تجربہ سے دوچار ہے۔ اس دنیا میں سکھ کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی قناعت کرنا سیکھ جائے۔

13 دسمبر 1990

5 دسمبرکی شام کو اسلامک سنٹر آرنج کاونٹی کے ہال میں مسلم ،مسیحی اور یہودی کانفرنس (Tialogue) تھی ۔ یہودی عالم اورعیسائی عالم کے بعد آخر میں ڈاکٹرمزمل حسین صدیقی نے اسلام کے تعارف پر تقریر کی۔ اسلام اپنی ذات میں حد درجہ کشش رکھتا ہے چنانچہ جب دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کو صحیح انداز میں پیش کیا جائے تو عین وہی منظر ہو تا ہے جو قرآن کی اس آیت میں ہے کہ: فاذا هي تلقف ما يأفكون (الاعراف ، 117 الشعراء 45)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تقریر کے بعد غیر مسلم سامعین پر بہت اچھا اثر پڑا۔ حتی کہ اپنے قریب بیٹھے ہوئے ایک عیسائی نوجوان کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اپنے موجودہ عقیدہ پر شک ہوگیا ہے۔اب مجھے اسلام کے بارہ میں پھر سے مطالعہ کرنا ہوگا۔

مگر تقریرختم ہوتے ہی مسلمانوں نے اٹھ اٹھ کر بے معنی سوالات شروع کر دیئے ۔ یہ سوالات سب کے سب جارحانہ اور مناظرانہ قسم کے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر صدیقی کی تقریر سےجو فضا بنی تھی ، وہ فضا بالکل برباد ہوگئ۔ حتی کہ میں نے دیکھا کئی غیر مسلم اٹھ اٹھ کر چلے گئے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ " دشمنان اسلام" کی سازشیں نہیں ہیں بلکہ خود مسلمانوں کی یہ کمزوری ہے کہ ان کے اندر جارحانہ انداز پیدا ہوگیا ہے۔ یہ جارحانہ انداز اسلام کی اشاعت و ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ میرے نزدیک اس جارحانہ انداز کی سب سے بڑی ذمہ داری ان نااہل لیڈروں پر ہے جنھوں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر دعوتی مزاج بنانے کے بجائے سیاسی اور جہادی مزاج بنایا ۔

14 دسمبر 1990

آج جمعہ کا دن تھا۔ میں نے مقامی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ آخری رکعت میں قنوت نازلہ پڑھی گئی۔ اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ الفاظ بھی تھے : اللهم اخرج الیہود والنصاریٰ من جزيرةالعرب (اےاللہ یہود و نصاری کو عرب سے نکال دے)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پچھلے چار مہینے سے عراق کے صدر صدام حسین کی فوجیں کویت پر قبضہ کر کے بیٹھی ہوئی ہیں ۔ عربوں کے بیان کے مطابق ، وہ سعودی عرب پر بھی قبضہ کر نا چاہتی ہیں ۔ چنانچہ سعودی عرب اور کویت نے مشترکہ درخواست کے ذریعہ امریکہ (نصرانی قوم )کو اپنی حفاظت کے سائے عرب کی سرزمین پر بلایا ہے۔ سعودی عرب اور کویت کا خیال ہے کہ امریکہ کی موجودگی عرب دنیا میں ضروری ہے ، ورنہ صدام حسین ہم کو کھا جائے گا۔ دوسری طرف ہماری مسجدوں میں یہپ دعائیں ہورہی ہیں کہ نصرانی قوم عرب کی سرزمین کو خالی کر دے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ باتیں مجھے اتنی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہیں کہ میری سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ ان کو کس خانہ میں رکھا جائے۔

15 دسمبر 1990

آج صبح کو" روشن مستقبل" چھپ کر آئی تو میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہندستان کی پچھلی پچاس سالہ تاریخ میں پہلی بار ہندستان کے مسلمانوں کے سامنے ایک ایسی چیز آئی ہے جس میں ان کے لئے واضح رہنمائی ہے۔ ۱۹۴۸ میں مولانا ابو الکلام آزاد کے مسلم کونشن سے لے کر آل انڈیامسلم مجلس مشاورت کے حالیہ اجلاس تک مسلمانوں کے بے شمار جلسے ہو چکے ہیں ۔ مگر ہر جلسہ کاخلاصہ صرف احتجاج اور مطالبہ ہوتا ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی قابل عمل رہنمائی۔

16 دسمبر 1990

پاکستان کے روزنامہ نوائے وقت (16 دسمبر1990) کی ایک خبر میں بتایاگیا ہے کہ1971 میں سقوط ڈھاکہ اور پاکستانی فوج کی شکست سے متعلق واقعات کی جانچ کے لئے سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے مقرر کردہ حمودالرحمن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سابق صدر جنرل یحیٰ خان اور ان کے نائب جنرل عبد الحامدسمیت چھ فوجی جنرلوں کو قصور وار ٹھہرایاہے ۔ یہ رپورٹ 2 سال کی جانچ کے بعد سامنے آئی ہے ۔ رپورٹ میں جنرل یحیٰ خان ، جنرل عبد الحامد جنرل عمر، جنرل گل حسن ، جنرل پیر زادہ ، اور جرنل مٹھا کے کورٹ مارشل کی سفارش کی گئی ہے ۔ ان میں تین جنرلوں کا انتقال ہوچکا ہے۔

other sourceWords of another person or source

یہ رپورٹ مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1971 میں پاکستان کے ٹوٹنے کی اصل ذمہ داری مسٹر جناح پر ہےنہ کہ مذکورہ فوجی جنرلوں پر ۔ تاریخ میں کبھی کوئی ایسا ملک نہیں بنا جس کے دو حصے ہوں ۔ اور دونوں کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ ہو۔ مزیدیہ کہ ان دونوں کے درمیان وہی " دشمن ملک " حائل ہو جس سے لڑ کر یہ پرعجوبہ ملک بنایا گیا ہے۔ ایسے ملک کو بہرحال ٹوٹنا تھا۔ اور وہ آخر کارٹوٹ گیا۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ مسٹر جناح تو بدستور قائد اعظم بنے ہوئے ہیں اور بے قصور لوگوں کو مجرم ٹھہرا کران کا کورٹ مارشل کیا جا رہا ہے۔

17 دسمبر 1990

قومی آواز (۱۴ دسمبر۱۹۹۰ ) کے صفحہ اول پر یہ خبر تھی : حزب المجاہدین نے جو جماعت اسلامی کشمیر کی ذیلی دہشت گرد تنظیم ہے ، کشمیر کے 87 سالہ مولانا سید محمد مسعودی کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔ مولانا مسعودی طویل مدت سے بیمار تھے اور بسترمرگ پر تھے۔ وہ1903 میں پیدا ہوئے۔ دومسلم دہشت گردان کے بیڈروم میں زبر دستی گھس گئے اور پستول سے ان پر فائر کر کے بھاگ گئے۔ اس سے پہلے اپریل،1990 کو یہی نام نہاد مجاہدین ڈاکٹر مشیر الحق کو اسی طرح ہلاک کر چکے ہیں۔

اسلام میں اس قسم کاقتل یقینی طور پر حرام ہے ۔ بالفرض اگر مولانا مسعودی کشمیری مجاہدین کے خلاف ہوں تب بھی انہیں مارنا جائز نہیں کیوں کہ بوڑھوں ،عورتوں اور بچوں کو تومیدان جنگ میں مارنا بھی منع ہے ، کجا کہ انھیں بستر مرض پر مارا جائے۔ میں نے غور کیا کہ اس کا سبب کیا ہے ۔

اس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ قطب اور خمینی او رمود و دی جیسے لوگوں نے اسلام کی سیاسی تفسیر کر کے نوجوانوں کا ذہن بگاڑ دیا ہے ۔ اس تفسیر میں اصل اہمیت یہ ہوگئی ہے کہ موجودہ نظام کو توڑا جائے ۔ انسان کی عزت واحترام اور اس کے جان و مال کا تقدس اس وقت ثانوی بن جاتا ہے جب کہ نظام توڑنے کی راہ میں اس کا وجود حائل نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے لوگ ہر جگہ تشدد کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ یہ بلاشبہ کمیونسٹ مزاج ہے نہ کہ اسلامی مزاج۔

18 دسمبر 1990

ٹائمس آف انڈیا (15دسبر 1990) میں شہر دہلی کی خبروں میں سے ایک خبر کی سرخی یہ ہے کہ امام جامع مسجد نے کہا کہ ملک کے فساد زدہ علاقوں میں اقوام متحدہ کی فوج متعین کی جائے :'

other sourceWords of another person or source

Imam for UN force in riot-hit areas

رپورٹ کے مطابق جامع مسجد دہلی کے امام سید عبداللہ بخاری نے جمعہ کے خطبہ میں تقریر کرتے ہوئے اس کا مطالبہ کیا اور کہاکہ فساد زدہ علاقوں میں امن قائم کرنے کا یہی ایک راستہ ہے۔ اس پر مسجد میں موجو د نمازیوں نے زور دار تالیاں بجائیں ۔

other sourceWords of another person or source

اس قسم کا مطالبہ لغویت کی حد تک غیر سنجیدہ ہے۔ یہ کسی بھی درجہ میں مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔ اس کے باوجود مسلمانوں کے نام نہادلیڈرکیوں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی باتیں کہنے میں بڑی معلوم ہوتی ہیں۔ اس پر عوام کی تالیاں ملتی ہیں ۔ اس کے برعکس اگر یہ نام نہا لیڈر صبرو اعراض کی بات کریں تو کوئی انکی تقریر پر تالی نہیں بجائے گا۔ کیوں کہ وہ کہنے میں بڑی معلوم نہیں ہوتی ۔

19 دسمبر 1990

سلمان رشدی کی کتاب "سیٹینک ورسز" کی اشاعت کے بعد میں نے کچھ مضامین لکھے تھے جو الرسالہ جون ــ جولائی۱۹۸۹ میں شائع ہوئے۔ ان مضامین کی تردید میں۶۴ صفحات کی ایک کتاب دہلی سے چھپی ہے۔ اس کا نام "اسلام میں اہانت رسول کی سزا" ہے۔ اصل کتاب کے مصنف جناب محسن عثمانی ندوی ہیں اور اس میں مزید تین صاحبان کی تحریریں بطور افتتاحیہ اور پیش لفظ اورمقدمہ شامل ہیں۔ وہ ہیں ۔۔۔۔ ماجدعلی خاں ندوی ،عبداللہ عباس ندوی، سیداجتباء ندوی۔

یہ کتاب نہ صرف ناقص استدلال بلکہ غلط بیانیوں پر مبنی ہے۔ مثلا اس میں میری طرف یہ عقیدہ منسوب کیاگیا ہے کہ میں آزادی فکر کو خیراعلی سمجھتا ہوں (صفحہ 9 ) اور پھر اس کو بنیاد بنا کر میرا حسب ذیل موقف برآمد کیا گیا ہے:

رسول کو برا کہنا آزادی رائے ہے۔

اور ہر آزادی راۓ خیرا علی کی حیثیت رکھتی ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ

رسول کو برا کہنا خیر اعلی کی حیثیت رکھتا ہے (صفحہ۵۶)

یہ بلاشبہ بہتان ہے۔ میں نے اپنے مضمون میں یہ لکھا تھا کہ جدید مغربی ذہن آزادی رائےکو خیراعلی سمجھتا ہے۔ اس کو میری طرف منسوب کرکے کہ دیاگیا کہ خود میں آزادی رائے کوخیراعلی سمجھتا ہوں۔ اور بنا فاسد علی الفاسد کے طریق پر مذکورہ بالاموقف میری طرف منسوب کر دیا گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

20 دسمبر 1990

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام حال یہ ہے کہ انھیں رسول کی اہانت کا مسئلہ معلوم ہے ، مگر انہیں ایک مسلم کی اہانت اور اس کے خلاف بہتان تراشی کا مسئلہ معلوم نہیں ۔ اہانت رسول پر ان کا مشتعل ہونا اگر ان کی اسلامیت کی بنا پر ہوتا تو یہی اسلامیت انھیں مجبور کرتی کہ وہ کسی مسلمان کی اہانت اور بہتان تراشی کو گوارا نہ کریں۔ مگر اول الذکر کے بارہ میں ان کی حساسیت اور ثانی الذکر کے بارہ میں ان کی بے حسی سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا سر چشمہ اسلامیت نہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ اہانت رسول پر ان کے موجودہ اشتعال کا سبب ان کی ہیرو پرستی ہے۔ رسول کو انھوں نے اپنا ہیرو بنارکھا ہے نہ کہ اپنا اسوہ ۔ اس کا ایک کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنے رسول کی اہانت پر تو فورا مشتعل ہو جاتے ہیں مگر دوسرے پیغمبروں کی اہانت پر انہیں کبھی غصہ نہیں آتا۔ حالاں کہ فقہ میں اہانت رسول کا جو حکم بتا یا گیا ہے وہ تمام پیغمبروں کے لئے نہ کہ صرف پیغمبراسلام کے لئے ۔ (الفقہ علی المذاہب الاربعہ، جلد5)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

21 دسمبر 1990

حالیہ بیرونی سفر میں ایک صاحب نے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ خدا پرستوں کوموت کے بعد جنت کا انعام ملے گا۔ مگر ہمارا تجربہ ہے کہ انسان کسی راحت سے بہت جلد اکتاجاتا ہے، پھر آدمی جب جنت کی راحتوں سے اکتا جائے گا تو وہاں وہ خوش کیسے رہے گا۔

other sourceWords of another person or source

میں نے کہا کہ اکتاہٹ کا سبب ہماری محدودیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان لا محدود طور پر راحت سے enjoy کرنا چاہتا ہے ۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جو چیز آدمی کے لئے لذت ہو اس سے وہ کبھی سیر نہ ہوئے ۔ لذت پسندی بذات خود نقطاع ناآشنا صلاحیت ہے۔ اکتاہٹ ہماری لذت پسندی کی حد نہیں ، وہ ہماری انجوائے کرنے کیcapacity کی حد ہے۔

انسان جب اپنی کسی پسندیدہ چیز سے enjoy کرنا شروع کرتا ہے تو کچھ دیر کے بعد اس کی اپنی استعداد کی حد (limit ) آجاتی ہے۔ یہ حد اس کو اس کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے جس کو اکتا ہٹ کہا جا تا ہے۔ آدمی جب کسی چیز سے اکتا تا ہے تو اس لئے نہیں کیا تا کہ اس چیز میں اس کے لئے لطف باقی نہیں رہا تھا۔ وہ صرف اس لئے اکتا تا ہے کہ اس کی اپنی محدودیت اس کے لئے مزیدenjoy enjoy کرنے میں رکاوٹ بن گئی تھی۔

جنت میں آدمی کو ابدی زندگی حاصل ہو گی۔ وہاں آدمی کی محدودیتیں (Limitations) ختم ہو جائیں گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے اندر لذیذ چیزوں سے onjoy کرنے کی لامحدود طاقت پیدا ہو جائے گی۔ اس کے بعد اکتا ہٹ میں مبتلا ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔

22 دسمبر 1990

موتی رام صراف کے لڑ کے برج بھوشن کا 52 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ ہندو رواج کے مطابق آج ان کے یہاں رسم پگڑی تھی۔ میں نے اس میں شرکت کی ۔

موتی رام کے مکان (قرولباغ )کے پاس ایک پارک میں شامیانہ لگایا گیا۔ اس کے نیچے لوگ جمع ہوئے۔ غالباً ایک ہزار کی تعداد میں ہوں گے۔ جب میں ان کے در میان بیٹھا ہوا تھا تو مجھے خیال آیا کہ یہ ہندو بھائی اس ملک میں اتنی بڑی تعداد میں ہیں ، مگر سیکڑوں سال سے مسلمانوں میں کوئی ایک بھی ایسی تحریک نہیں اٹھی جس کا مقصد یہ ہوکہ ہندوں تک خد اکے سچے دین کی دعوت پہنچائی جائے ۔ البتہ ہرمسجد اور ہراجتماع میں ان کی ہلاکت کی دعائیں ہو رہی ہیں ۔ ہر جگہ اللهم اہلک الكفرةوالمشرکین پر آمین کی جارہی ہے۔

میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے. میں نے کہا کہ خدا تو جنت کے دروازہ پر اپنے بندوں کے استقبال کے لئے کھڑا ہوا ہے، اور مسلمان ان کو جہنم میں دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ آہ وہ مسلمان جن کا حال یہ ہے کہ ہدایت کے لئے عملی محنت کرنا تو درکنار ، وہ نیت کے درجہ میں بھی لوگوں کی ہدایت کے طالب نہیں۔

یہ سب دعوتی مزاج کے فقدان کانتیجہ ہے۔

23 دسمبر 1990

ہندستان ٹائمس (۶ دسمبر ۱۹۹۰ )کے ایک مضمون میں بتایاگیا ہے کہ سابق وزیر اعظم ہند جواہر لال نہرو سے پوچھا گیا کہ آپ لمبی مدت تک ہندستان کے وزیر اعظم رہے ہیں، اس ملک کے لئے آپ وزیراعظم کی حیثیت سے اپنی سب سے بڑی کامیابی کیا سمجھتے ہیں۔ انھوں نے فوراً جواب دیا کہ ہندستانی عورت کو آزاد کرانا:

other sourceWords of another person or source

the emancipation of Indian women. (p. 11)

کہنے میں یہ بہت شاندارلفظ ہے ، مگر حقیقتہ بالکل بے معنی ہے۔ نہرو کے دور میں جو ہوا وہ صرف یہ تھاکہ عورتیں جو پہلے زیادہ تر گھر سنبھالتی تھیں وہ دفتروں میں پہنچ گئیں۔ ہندستانی دفتروں میں جہاں جائیے عورتیں میز کرسی پر بیٹھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس چیز نے دفتری کام کو آخری حد تک بگاڑ دیا ہے۔ کیوں کہ ایک ہندستانی افسر کے الفاظ میںــــــــعورتیں دفتروں میں آتی ہیں تو یا تو وہ تفریحی باتیں کرتی ہیں یا اپنا دو پٹہ سنبھالتی رہتی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

24 دسمبر 1990

ایک مسلمان عالم ہیں۔ وہ ایک دینی مدرسہ چلاتے ہیں۔ انھوں نے ایک عرب ملک کو مالی امداد کی درخواست دی تھی ۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ان کی درخواست منظور ہوگئی اور رقم دہلی کے مذکورہ عربی سفارتخانہ میں بھیج دی گئی۔ وہ دہلی آکر اپنی رقم لے گئے۔

میں نے ان سے کہاکہ آپ جیسے ہزاروں لوگ اس طرح کی امداد وصول کر رہے ہیں۔ کچھ وہ لوگ جو بڑی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، وہ اس سے بھی زیادہ بڑے مواقع پا رہے ہیں۔ مگر میرے علم میں کوئی شخص نہیں جو اس کو خدا کی نعمت سمجھے اور علی الاعلان اس کا ذکر کر کے خدا کا اعتراف کرے۔شکر دین کا خلاصہ ہے اور وہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے نکل گیا ہے ۔

اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں جو دین کا کام کریں۔ مسجد اور مدرسہ چلانا ، دعوت اور تبلیغ کا کام کرنا ، اسلامی علوم کی خدمت کرنا وغیرہ۔ اس طرح کی خدمت کے ساتھ آدمی معاشی کام نہیں کرسکتا۔ اس بنا پر اﷲ تعالی نے بہت بڑے پیمانہ پر یہ انتظام کر دیا کہ ہر دور میں اہل دین معاش سے فارغ ہو کر دین کی خدمت میں مشغول رہیں ۔

اس اعتبار سے اسلام کی تاریخ کے تین دور ہیں ۔ سیاسی دور ، زراعتی دور، صنعتی دور ۔ قدیم دور سیاسی دور تھا۔ اس زمانہ میں اس قسم کے خادمان دین کے لئے اسلامی حکومت سے باقاعدہ وظیفے جاری کئے جاتے تھے۔ اس کے بعد ز میندار ، جاگیردار اور نواب پیدا ہوئے جو گویا زراعتی دور کے سرمایہ دار تھے۔ یہ لوگ مستقل طور پر دینی خادموں کا مالی تعاون کرتے رہے۔

جدید صنعتی دور میں مسلمان اقتصادی اعتبار سے بالکل پسماندہ ہو چکے تھے۔ اللہ تعالی نے یہ کیاکہ عرب سرزمین کے نیچے تیل کا زبردست ذخیرہ پیدا کر دیا جو ان کے لئے صنعتی پس ماندگی کی تلافی بن گیا۔ یہی تیل کی دولت ہے جو دنیا بھر کے تمام دینی اداروں اور دینی شخصیتوںکو مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ لاکھوں لوگ اس سے غیر معمولی فائدے حاصل کر رہے ہیں۔ مگر میرے علم کے مطابق کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس کے سینہ میں اس نعمت خداوندی کی بنا پرشکر کا سمندر موجزن ہو گیا ہو۔

25 دسمبر 1990

لما وصل مال كسرى وذخائرة إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال إن قوماً ادوا من الامناء - فقال له على ابن ابي طالب رضي الله عنه : لما رأوك عفيفا عفوا( الشفاء في مواعظ الملوك والخلفاء)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایران کی شکست کے بعد جب کسریٰ کا مال اور اس کا ساز و سامان خلیفہ عمرفاروق کے پاس مدینہ آیا تو اس کو دیکھ کر انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ چیز یں دی ہیں وہ یقینا امانت دار لوگ ہیں۔ حضرت علی نے اس کو سن کر کہا کہ چوں کہ انھوں نے آپ کو پاک باز دیکھا اس لئے وہ بھی پاک باز ہو گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ نہایت صحیح ہے۔ حقیقت ہے کہ قوم کا بناؤ اور بگاڑ حکمرانوں کے بناؤ اوربگاڑ پر منحصرہے ۔ اور حکمراں اگر درست ہوں تو حکومتی عملہ اور افراد قوم بھی درست ہوں گے۔ اورحکمراں اگر بگڑ جائیں تو حکومتی عملہ اور افراد قوم بھی بگڑ جائیں گے۔

26 دسمبر 1990

کراچی کے پندرہ روزہ یقین انٹرنیشنل( 22 اکتوبر 1990 ) کے عربی حصہ میں قبول اسلام کی ایک خبر ہے۔ اس میں بتایاگیا ہے کہ جاپان کے مشہور باکسر اینتونی انوکی نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ ان کا اسلامی نام محمد حسین انو کی ہے۔ اخبار کی عربی رپورٹنگ کے مطابق ، انھوں نے کہا : بحثت عن الامن والحق و ادت محاولاتي منه الى دخولى في حظيرة الاسلام (میں نے امن اور سچائی تلاش کی۔ میری اس کوشش کا نتیجہیہ ہو کہ میں اسلام کے دائرہ میں داخل ہوگیا۔) انسان کو سب سے زیادہ جس چیز کی تلاش ہے ، وہ اپنے داخل کے اعتبار سے سچائی ہے اور خارج کے اعتبار سے امن ہے۔ آج کا انسان ان دونوں چیزوں کے بارہ میں احساس محرومی میں مبتلا ہے۔ جب وہ اسلام کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو اسلام میں ان دو چیزوں کا جواب مل جاتا ہے۔ اور بالآخر وہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

27 دسمبر 1990

ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی اسلام آباد (پاکستان) میں رہتے ہیں ۔ آجکل وہ ہندستان آئے ہیں۔ ایک ملاقات میں انھوں نے بتایا کہ انھوں نے مولانا حمید الدین فراہی پر لمبی ریسرچ کی ہے۔ مولانافراہی کے حالات زندگی پر ان کی کتاب مکمل ہو چکی ہے۔ مولانا فراہی کے حالات کی تحقیق کرتے ہوئے انھیں اعظم گڑھ کی عدالت میں مولانافراہی کا اپنا لکھا ہوا ایک بیان ملا جس میں انھوں نے اپنے حالات خوداپنے قلم سے تحریر کئے ہیں۔ اس تحریر سے معلوم ہو اکہ مولانا فراہی1904 میں لارڈ کرزن کے ساتھ ترجمان کے طور پر خلیجی ملکوں میں گئے تھے۔

لارڈ کرزن 1898 سے لے کر 1905 تک غیر منقسم ہندستان کے وائسرائے تھے۔ عرب ملکوں سے بہتر تعلقات قائم کرنے کے لئے انھوں نے 1904 میں خلیج کا دورہ کیا۔ اس وقت انھیں ترجمان کے طور پر ایک ایسے مسلمان کی ضرورت تھی جوعربی اور انگریزی دونوں زبانیں جانتا ہو۔ اس زمانہ میں ایسے لوگ بہت کم تھے ۔ مولانا حمید الدین فراہی کا انتخاب ہوا تو وہ اس پر راضی نہیں تھے۔ آخر میں اپنے استاد مولانا شبلی نعمانی کے اصرار پر انھوں نے لارڈ کرزن کے ساتھ سفر کیا۔ مگرمولانا فراہی اور ان کے حلقہ کے لوگ اس واقعہ کو ہمیشہ چھپاتے رہے ۔ کیوں کہ انگریز دشمنی کی بنا پر وہ اس کو پسند نہیں کرتے تھے کرمولانافراہی انگریز وائسرائے کے ترجمان بنیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مولانا فراہی کے اندر تدبر قرآن کا ذہن تو تھامگران کے اندر دعوت قرآن کا ذہن نہ تھا۔ اگر ان کے اندر دعوتی ذہن ہوتا تو اس موقع کو وہ اپنے لئے سنہری موقع سمجھتے اور اس نیت سے لارڈ کرزن کے ساتھ جاتے کہ مناسب موقع پر انگریز کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کریں گے۔

28 دسمبر 1990

ابراہیم ذوق (1854 – 1788) اردو زبان کے مشہور شاعر ہیں۔ ان کا ایک شعر ہے جو ضرب المثل کے طور پر عوام میں رائج ہے :

اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کاملنا بہتر ہے ملاقات مسیحا وخضر سے

یہ شعر جو ڈیڑھ سو سال سے مسلمانوں میں رائج اور مقبول ہے سخت قابل اعتراض ہے۔ اس شعر میں کسی پرانے دوست کو حضرت مسیح علیہ السلام سے بہتر قرار دیا گیا ہے ۔ یہ واضح طور پر ایک جلیل القدر پیغمبرکی تو نہیں ہے۔ مگر مسلمان اس شعرکو ڈیڑھ سو سال سے دہرا رہے ہیں اور اس پوری مدت میں غالباً کسی ایک مسلمان نے بھی اس توہین کے خلاف احتجاج نہیں کیا، حالاں کہ اس شعر کے الفاظ اگر خدانخواستہ یہ ہوتے:

اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا بہتر ہے ملاقات محمد و عمر سے

اگر شعر اس دوسرے انداز میں ہوتا تو تمام مسلمان اس کو تو ہین رسول قرار دے کر دیوان ذوق کی کاپیاں جلاتے اور اگر ذوق زندہ ہوتے تو مطالبہ کرتے کہ شتم رسول کے جرم میں اس کو قتل کر دیا جائے۔

توہین رسول یاشتم رسول کی جوسزرافقہاء نے بتائی ہے ، وہ ان کے بیان کے مطابق تمام پیغمبروں کے لئے ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان اپنے پیغمبرکی توہین پر بھڑکتے ہیں اور دوسرے پیغمبروں کی توہین پر نہیں بھڑکتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا بھڑکنا ہیرو پرستی کی بنا پر ہے نہ کہ حقیقی شرعی قانوں کی بنا پر ۔اگرشرعی قانون اس کا محرک ہوتا تو وہ ہر پیغمبرکی توہین پر بھڑکتے نہ کہ صرف اس پیغمبرکی توہین پرجس کو انھوں نے اپنے قومی ہیرو کا درجہ دے رکھا ہے ۔

29 دسمبر 1990

زندگی میرے لئے اتنی کرب کی زندگی ہے کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں جینے کا تحمل نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود میں جئے چلا جارہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بار بار میرے سامنے ایسے نشانے آجاتے ہیں جس کی تکمیل کی خاطر دوبارہ میرے اندر جینے کی ہمت پیدا ہو جاتی ہے۔

پچھلے دنوں میں سخت قسم کے ذہنی کرب میں مبتلا تھا۔ زندگی کا تحمل دشوار نظر آنے لگا تھا۔ مگر دسمبر کے آغاز میں ایک نئی کتاب کا خاکہ ذہن میں آگیا۔ میں ایک نئے حوصلہ کے ساتھ اس کتاب کی ترتیب میں مشغول ہو گیا ۔ اس کتاب کا نام میں نے "الربانیہ" تجویز کیا ہے۔اس کتاب نے آجکل مجھے اتنا زیادہ مشغول کر لیا ہے کہ مجھے محسوس ہونے لگا ہے کہ مجھے ابھی کچھ اور دن زندہ رہنا چاہئے تاکہ میں اس کتاب کی تکمیل کر سکوں۔ یہ صورت حال پچھلے 25 برس سے بار با رپیش آتی رہی ہے۔

30 دسمبر 1990

جان گالبریتھ (John Kenneth Galbraith) 5 اکتوبر1908کوکناڈا میں پیدا ہوۓ۔ 1937 میں وہ امریکی شہری بن گئے۔ وہ ایک مشہور مصنف ہیں۔ 63 - 1961 میں وہ انڈیا میں امریکہ کے سفیر رہ چکے ہیں۔ مساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں مسٹرگو تم ادھیکاری نے ان کا مفصل انٹرویو لیا جو ٹائمس آف انڈیا (30 دسمبر1990 ) میں چھپا ہے۔

سفیر کے عہدہ کی تکمیل کے بعد مسٹر گال بریتھ نے انڈیا کے بارہ میں کہا تھا کہ وہ ایک

فنکشنگ انارکی (a functioning anarchy) ہے۔ گوتم ادھیکاری نے پوچھا کہ کیا اب بھی آپ کا خیال یہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ انڈیا میں لڑائی جھگڑے بطورمعمول جاری رہیں گے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

I take conflict to be normal in India

انڈیا واحد ملک ہے جہاں اب بھی شرک زندہ حالت میں موجود ہے۔ یہ ہندو مذہب ہے۔ انڈیا کے سدھار کی واحد شرط یہ ہے کہ وہ اپنے مشرکانہ مذہب کو چھوڑ دے۔جب تک انڈیا میں مشرکانہ مذہب باقی رہے گا ، اس کا سدھار نہیں ہوسکتا۔

ہندو مذہب کو چھوڑنے کے بعد انڈیا کے لئے دو choice ہیں۔ ایک یہ کہ وہ پوری طرح مغربی سیکولرزم کو اختیار کر لے۔ دوسرا choiceیہ ہے کہ وہ بڑے پیمانہ پراسلام قبول کرلے۔ ان کے سوا کوئی تیسرا چوائس انڈیا کے لئے نہیں۔

31 دسمبر 1990

انڈیا ٹوڈے (31 دسمبر1990) میں دوصفحہ کا ایک رنگین چھپا ہوا اشتہار ہے۔ اس کے او پر موٹر کار کی ایک خوبصورت تصویر ہے۔ اس کے نیچے جو اشتہار درج ہے،اس کی ایک لائن یہ ہے کہ مشینی حرکت، بلاشبہ انسان کی ایک عظیم ایجاد ہے:

Powered motion. Undoubtedly one of man's greatest inventions.

موٹر کار یا دوسری مشینی چیزوں کو ایجاد (invention) کہنا بنیادی طور پر غلط ہے۔ ۔ چیزیں در حقیقت دریافت (discovery )ہیں نہ کہ ایجاد ۔ فطرت میں بے شمار طاقتیں چھپی ہوئی ہیں۔ ان میں سے کچھ چیزوں کو دریافت کر کے انسان انھیں استعمال کر رہا ہے۔ انسان ان چیزوں کا موجد نہیں، وہ ان کا دریافت کنندہ ہے۔

یہ محض لفظی فرق کی بات نہیں ۔ یہ حقیقت کے فرق کی بات ہے۔ کیوں کہ ایجاد کے لفظ سے انسانی عظمت کا تصور ابھرتا ہے۔ جب کہ دریافت کے لفظ سے خدا کی عظمت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ ایجاد کالفظ بولنے سے فخر اور تکبر کا مزاج بنتا ہے ،جب کہ دریافت کالفظ بولنا آدمی کے اندر شکر اور تواضع کا مزاج پیدا کر تا ہے۔

خدا کی نسبت سے انسان کے اندر سب سے زیادہ جو کیفیت مطلوب ہے وہ شکر ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی حمد وشکر کے الفاظ بار بار اپنی زبان سے دہرا تارہے ۔ اس قسم کا کوئی فعل صرف الفاظ کی تکرار ہے نہ کہ کفیی معنوں میں جذبہ شکر کا پیدا ہونا ۔

حقیقت یہ ہے کہ شکر کا سرچشمہ علم ہے۔ آدمی جب اپنے اندر اور اپنے باہرکی دنیا کواس اعتبار سے دریافت کرے کہ وہ قدرت خداوندی کا ظہور ہے ۔ جب وہ چیزوں کو خدا کے عطیات اور انعامات کی روپ میں جان لے تو اس کے بعد اس کے سینے کے اندر جو اتھاہ جذبہ اعتراف پیدا ہوتا ہے۔اسی کا نام شکر ہے ۔

کسی شکر کرنے والے کے اندر شکر کا جذبہ صرف ان چیزوں پر پیدا نہیں ہوتا جو اس کو ذاتی طور پر ملی ہوئی ہوں۔ بلکہ عالمی سطح پر انسانیت عام کوجو کچھ ملا ہوا ہے ان سب کو دیکھ کر وہ شکر کے جذبہ سے سرشار ہو جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ ایک چیز جو بظاہر اپنی کوشش سے ملی ہو اس کو بھی وہ سرتاسر عطیہ الہی کے خانہ میں ڈال دیتا ہے ، کیوں کہ آخری سبب کے طور پر یہ خدا ہی تھا جس نے اس یافت کو اس کے لیے ممکن بنایا۔

ڈائری ذاتی واردات اور مشاہدات کا روز نامچہ ہے ۔ وہ انسان کے لمحہ بہ لمحہ ذہنی سفر کا ریکارڈ ہے ۔ ڈائری میں آدمی بہت سی وہ باتیں لکھ دیتا ہے جو با قاعدہ تصنیف میں نہیں آ تیں ۔ اس اعتبار سے ڈائری کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ مزیدیہ کہ ڈائری خود لکھنے والے کی اپنی ذہنی تنظیم ہے۔ وہ منظم زندگی گزارنے کی کی راہ میں ایک قیمتی معاون کی حیثیت رکھتی ہے۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it