← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
September 1990
English · 37 min read
یکم ستمبر 1990
ڈاکٹرشمس الآفاق صاحب نے کہاکہ عراق کے صدام حسین نے ایران کے ساتھ اپنے تمام جھگڑے ختم کردئے ہیں ۔ پانچ ہزار ایرانی قیدیوں کو واپس کر دیا۔ زیر قبضہ ایرانی علاقوں کو خالی کر دیا۔ شط العرب کے بارہ میں اپنا مطالبہ ختم کر دیا۔ صدام حسین کا یہ اقدام "صلح حدیبیہ" والی تیکنیک کی مثال ہے ۔ انھوں نے کہا کہ صدام حسین کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ کویت ، سعودی عرب اور دوسرے ممالک پر قبضہ کر کے ایک عظیم مسلم سلطنت بنائے اور پھر یہودیوں اور عیسائیوں نے مسلم دنیا کو پاک کرے۔
other sourceWords of another person or source
یہ صرف ڈاکٹر آفاق صاحب کی بات نہیں۔ آجکل مسلم دنیا کے بیشتر لوگ اسی انداز میں سوچتے ہیں۔ چنانچہ ملوک کو چھوڑ کر بیشتر مسلمان صدام حسین کے حامی ہیں۔ وہ صرف امریکہ سے کہہ رہے ہیں کہ تم عرب دنیا سے اپنی فوجیں واپس لے جاؤ۔ وہ صدام حسین سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ کویت سے اپنی فوجیں واپس بلالے۔
بظاہر ایسامعلوم ہوتا ہے کہ کویت پر صدام حسین کے قبضہ کو مسلمان قدیم سلطنت بغداد کے احیاء کی طرف اقدام سمجھتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان کس قدر خوش فہم ہیں۔ مسلمان اپنی خوش فہمی میں بے وقوفی کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔ دور عباسی کی سلطنت بغداد کا احیاء حقائق تاریخی کو جمع کرنے سے ہو گا ، وہ کویت پر قبضہ کرنے سے نہیں ہوگا۔ صدام حسین کے موجودہ اقدام سے مسلم دنیا کو کھولنے والا نہیں۔ البتہ اس کو جو کچھ حاصل ہے ، اس کا ایک حصہ تو ضرور کھو دیں گے۔
2 ستمبر 1990
مولانا انیس لقمان ندوی نے بتایا کہ مالیگاؤں میں ایک انگریزی تعلیم یافتہ ہیں ۔ انگریزی میں ان کا اچھا مطالعہ ہے ۔مگر وہ فکر کے اعتبار سے ایک سیکولر آدمی ہیں۔ انہیں لقمان صاحب نے ان کو میری کچھ کتابیں پڑھنے کے لئے دیں۔ پڑھنے کے بعد انھوں نے کہاکہ میں برٹرینڈرسل کے انداز تحریر سے بہت متاثر تھا۔ میرا خیال تھا کہ اس انداز پر لکھنے والا کوئی دوسرانہیں ہے۔مگر یہ کتا بیں عین اسی انداز پر لکھی گئی ہیں۔
other sourceWords of another person or source
میں نے کہا کہ برٹرینڈرسل اگرچہ ایک ملحد آدمی تھا۔ مگر اس کی تحریر میں ایک خاص صفت ہوتی ہے جو نہ انگریزی میں کسی کے یہاں ہے اور نہ اردو یا عربی میں۔ اس اسلوب کو ایک لفظ میں، ترتیب حقائق (Arangement of facts) کہہ سکتے ہیں۔ عام طور پر لوگ بیانیہ انداز میں لکھتے ہیں جس کو بیان حقائق کہا جاسکتا ہے۔ ترتیب حقائق کے انداز میں لکھنے والا میرے علم میں برٹرینڈ رسل کے سوا اور کوئی نہیں ۔
میرا انداز ترتیب حقائق کا انداز ہوتا ہے۔ مگر یہ برٹرینڈ رسل کی تقلید میں نہیں ہے۔ یہ میری فطرت اور کثرت مطالعہ سے بناہے۔
3 ستمبر 1990
مدن کمیشن کی رپورٹ میں پسماندہ ذاتوں کے لئے گورنمنٹ سروسوں میں27 فی صد رزرویشن کی سفارش کی گئی ہے ۔ اس کے خلاف آج کل تنشد دانہ تحریک چل رہی ہے۔ کچھ مسلمان وزیر اعظم وی پی سنگھ سے ملے اور کہاکہ مسلمانوں کو بھی سروسوں میں ریزرویشن دیا جانا چاہئے، کیوں کہ خود سرکاری جائزہ کے مطابق، مسلمان اس ملک میں اقتصادی اورتعلیمی اعتبارسے سب سے زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں۔ وی پی سنگھ نے اس مانگ کو قابل لحاظ قرار دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے پریسیڈنٹ مسٹرایل کے ایڈوانی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ہندستان ٹائمس دس ستمبر 1990 کی رپورٹ کے مطابق ، انھوں نے کہاکہ مسلم اقلیت کو رزرویشن دینا ملک کو دوبارہ تقسیم کی اجازت دینے کے ہم معنی ہوگا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
It would invite unwanted second partition of the country.
اسی طرح مسٹر گری لال چین نے اس سے پہلے بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کے مطالبہ کو ماننا ہندوؤں کے لئے دوسری شکست (second defeat) قبول کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اور ہندو کبھی اس کے لئے راضی نہیں ہو سکتے۔
other sourceWords of another person or source
یہ ایک بے حد نازک صورتحال ہے۔ پاکستانی سیاست کے نتیجہ میں اس ملک میں جو صورت حال بنی ہے ، اس کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان اگر کسی معاملہ میں شدید ہوتے ہیں تو فورا ہندو کے ذہن میں پچھلی تاریخ تازہ ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ پارٹیشن پسند مسلمان اب سکنڈ پارٹیشن کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ مسلمانوں کی اس قسم کی کسی کامیابی کو ہندو سکنڈ ڈیفیٹ کے ہم منی سمجھنے لگتا ہے۔ اس صورت حال کا واحد علاج یہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں مطالبہ کی سیاست بالکل ختم کر دیں۔ دہ محنت کی سیاست اختیار کریں۔
4 ستمبر 1990
میری زندگی کی داستان بڑی عجیب ہے۔ میری پیدائش کے صرف پانچ سال بعد میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد میں پورے معنوں میں یتیم ہوگیا ۔ اس وقت سے اب تک میری زندگی مسلسل محرومی کی زندگی ہے حتی کہ مجھے خیال ہوتا ہے کہ شاید دنیا میں کوئی شخص نہیں جس کو اتنا زیادہ محرومی کا تجربہ ہوا ہو۔
ایسا کیوں ہوا۔ میرے ان اعصاب شکن تجربات میں ایک پہلو ایسا ہے جس میں اس کا ایک جواب ملتا ہے۔ وہ یہ کہ دنیا کی ہر محر ومی مجھ کو آخرت کی محرومی کی یاد دلاتی ہے۔ایسامحسوس ہوتا ہے جیسے میرے اندر کوئی چوکیدار بیٹھا ہوا ہے جو ہر تجربہ میں تجھ کو آخرت کی تصویر دکھا تارہتا ہے۔ جو میرے ہر تجربہ کواخروی تجربہ میں کنورٹ کر دیتا ہے ۔ یہ میرے مزاج کی ایک انوکھی صفت ہے جو میں نے اپنے علم کے مطابق کسی کے اندر نہیں پائی۔
موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر بے شمار کام جاری ہیں ۔ مگر اعلان آخرت کا اہم ترین کام ساری دنیامیں کہیں نہیں ہورہا تھا۔ لوگ دنیا کی چھوٹی محرومیوں میں اتناگم ہیں کہ انھیں آخرت کی بڑی محرومی کی خبر نہیں ۔ مجھ کو دنیا کی محرومیوں میں شاید اس لئے ڈالا گیا تاکہ میں اس حقیقت کا شدت کے ساتھ احساس کروں اور لوگوں کے سامنے اس کا منذر بنوں۔ مجھ کو چھوٹی محرومی کا اس لئے تجربہ کر دیا گیا تاکہ میں لوگوں کو بڑی محرومی کی چیتاونی دے سکوں۔
5 ستمبر 1990
عرب لیگ1945 میں قائم ہوئی۔ اس وقت اس کے دو درجن ممبرہیں۔ مگر عرب ملکوں کے باہمی اختلاف نے عرب لیگ کوعملا بے معنی بنا دیا ہے۔ 2 اگست 1990 کو عراق نے کویت پر حملہ کر دیا اور اس پر قبضہ کر کے اس کو عراق میں شامل کر دیا۔ اس مسئلہ پر10 اگست کوقاہرہ میں عرب ملکوں کی کانفرنس ہوئی ۔ مگر کوئی متفقہ فیصلہ نہ ہوسکا۔
عرب لیگ کے چارٹر کے مطابق ، وہی فیصلہ عرب لیگ کا فیصلہ کہا جائے گا جوتمام وابستہ عرب ملکوں کے اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ مصر کے اجلاس میں12 ملکوں نے مذمت کی قرار داد پر دستخط کی اور بقیہ ملک مختلف وجوہ سے اس پر دستخط نہ کرسکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب برادری اس کھلی ہوئی جارحیت کے خلاف لفظی مذمت پر متفق نہ ہوسکی۔عملی طور پر عراق کا مقابلہ کرنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔
امریکہ اور روس اور چین کے بعد صدام حسین کے پاس اس وقت سب سے بڑی فوج موجود ہے ۔ مگرامریکہ اپنے حلیفوں کو لے کر مقابلہ پر نہ گیا ہوتا تو اب تک صدام حسین کئی عرب ملکوں کو نگل چکے ہوتے حتی کہ خود سعودی عرب کو بھی۔
6 ستمبر 1990
آج کی خبروں میں سے ایک خبر، ٹائمس آف انڈیا ،6 ستمبر1990 کے مطابق یہ ہے کہ پی ایل او کے چیئرمین مسٹر یاسرعرفات کے ذاتی جہاز کو ابوظبی کے ہوائی اڈہ پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی حالاں کہ اس کا پٹرول بہت کم ہو گیا تھا ۔
other sourceWords of another person or source
The PLO Chairman, Mr. Yasser Arafat's personal jet was refused
permission to land at Abu Dhabi although it was running short of fuel.
عراق کے حکمراں صدام حسین نے 12 اگست کو کویت پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد جب ساری دنیا کی طرف سے مطالبہ کیاگیا کہ عراق اور کویت کو خالی کرے توصدام حسین نے بیان دیا کہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کرے تو میں بھی کویت کو خالی کر دوں گا ۔ اس بیان کے بعد تمام فلسطینی صدام حسین کے طرف دار ہو گئے ۔ ہر ملک میں فلسطینیوں نے صدام کی موافقت میں مظاہرے شروع کر دے۔ فلسطینیوں کے اس رویہ کی بنا پر عرب ممالک ان سے سخت بیزار ہو گئے ہیں۔ یاسر عرفات سعودی عرب کا دورہ کر نا چاہتے تھے ۔ مگر سعودی ذمہ داروں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
فلسطینی اس سے پہلے اپنی نادان سیاست کے نتیجہ میں مصر ، شام ، اردن، لبنان، ہر جگہ سے نکالے گئے تھے۔ تاہم اخلاقی ہمدردی پھر بھی پورے عالم عرب میں انہیں حاصل تھی۔اور بے شمار مالی تعاون انھیں حاصل ہو رہا تھا ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے موجودہ رویہ کی بنا پر وہ عرب دنیا کی اخلاقی ہمدردی بھی کھو دیں گے۔
7 ستمبر 1990
پاکستان کے ایک صاحب تشریف لائے ۔ گفتگو کے دوران پاکستان کے سابق صدر جنرل ضیاء الحق صاحب کا ذکر کیا۔ انھوں نے ان کی اسلامیت کی تعریف کی۔ میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ آپ کے ارشاد کے مطابق جب وہ اتنے اسلامی تھے تو انھوں نے اپنا وعدہ کیوں نہیں پورا کیا۔ انھوں نے جب فوجی بغاوت کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو انھوں نے کہا کہ میں صرف ریفری کے طور پرحکومت میں آیا ہوں ۔ الیکشن کرانے کے بعد میں دوبارہ فوجی بیرک میں واپس چلا جاؤں گا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ دو دن میں لاز ما پاکستان میں الکشن کرائے جائیں گے ۔ مگر انھوں نے الکشن نہیں کرایا اور ساڑھے گیارہ سال تک حکومت پر قابض رہے۔ یہاں تک کہ فضائی حادثہ میں ان کا خاتمہ ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پاکستانی بزرگ نے کہا کہ اصل بات یہ ہوئی کہ پاکستان کی تمام جماعتوں (بشمول جماعت اسلامی) نے یہ مطالبہ کیاکہ آپ الکشن ملتوی کر دیں اور پہلے لیڈروں کا احتساب کریں ۔ اس لئے عمومی دباؤ کے تحت انھوں نے الکشن ملتوی کر دیا ۔
other sourceWords of another person or source
میں نے کہا کہ گریہی ضیاء الحق صاحب تھے جنھوں نے ذوالفقارعلی بھٹو کو معافی دینے کے معاملہ میں ساری دنیا کا دباؤ قبول نہیں کیا۔ پاکستانی بزرگ نے کہاکہ وہ ایک مجرم کو سزا دینے کا معاملہ تھا۔ اور خدا کا حکم ہے کہ مجرم کو اس کے جرم کی سزا دو۔ میں نے کہا کہ میں خدا نے مجرم کو سزا دینے کاحکم دیا ہے اسی خدا نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ وعدہ کو ضرور پور اکر و ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ضیاء الحق صاحب نے ایک معاملہ میں خدا کے حکم کو پورا کیا اور دوسرے معاملہ میں خدا کے حکم کو نظرانداز کر دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
8 ستمبر 1990
جناب سرفراز نواز صاحب (پیدئش1959) 4 ستمبر کو ہمارے دفتر میں آئے۔ وہ مغل سرائے کے رہنے والے ہیں۔ وہ وہاں بزنس کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے یہاں کا ایک واقعہ بتایا۔ جس میں بڑا سبق ہے۔
غالبا1984 کا واقعہ ہے۔ مغل سرائے اسلام پور کے مدرسہ میں تعلیل تھی۔ کچھ مسلمان لڑکے اس کے میدان میں کھیل رہے تھے۔ اتفاق سے وہاں ایک ہر یجن لڑکی آگئی، مسلمان لڑکے اس کو پکڑ کر اندر لے گئے اور زبردستی اس کے ساتھ بدکاری کی۔ اس فعل کا اصل مجرم ایک مسلمان لڑکا تھا۔
لڑکی روتی پیٹتی ہند و محلہ میں گئی۔ آنا فانا خبر پھیل گئی۔ اس کے بعد ہندو تقریبا500 کی تعداد میں جمع ہوکر مسلمانوں کے محلہ ( اسلام پور) میں گھس آئے۔ وہ غصہ میں تھے اور مسلمانوں کو جلا نا پھو نکھنا چاہتے تھے ۔
سرفراز نواز صاحب اور وہاں کے کئی دوسرے لوگ کئی سال سے الرسالہ کا پابندی سے مطالعہ کر رہے ہیں ۔ ان لوگوں کی کوشش سے یہ ہوا کہ مسلمان باہر نہیں آئے۔ ہندو مجمع اگر چہ اشتعال انگیز نعرہ لگارہا تھا۔ مگر مسلمان اعراض کا طریقہ اختیا ر کرتے ہوئے اپنے گھروں میں خاموش رہے ۔ البتہ فوری طور پر انھوں نے یہ کیا کہ ایک مقامی ہند و لیڈرمنی لال گپتا( سابق گرام پردھان) کو خبر کر دی ۔ وہ تھوڑی دیر میں آگئے۔ آتے ہی وہ مجمع کے سامنے کھڑے ہو گئے وہ مجمع کو پیچھے ہٹاکر ایک میدان میں لے گئے اور وہاں اس کے سامنے تقریر شروع کر دی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایک مسلمان لڑکے نے شرارت کی ہے تو کیا تم اس کی سزا سارے مسلمانوں کو دینا چاہتے ہو۔
منی لال گپتا نے اسی کے ساتھ یہ کیا کہ فورا پولیس کوخبر کر دی کہ یہاں ہندوئوں کا مجمع اکھٹا ہے اور فساد کاسخت اندیشہ ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد پولیس آگئی اس نے مجمع سے منتشرہونے کو کہا جب وہ منتشر نہیں ہوئے تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کر دیا۔ اس کے بعد وہ لوگ بھاگ گئے۔
other sourceWords of another person or source
اس طرح کے مواقع پر بہترین عقلمندی یہ ہے کہ مسئلہ کو ہند ومسلم مسئلہ نہ بننے دیا جائے۔ بلکہ اس کو ہندو اور پولیس کا مسئلہ بنا دیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو ہر جگہ وہی ہو گا جومغل سرائے میں ہوا۔
9 ستمبر 1990
ہندستان ٹائمس (9 ستمبر ) میں سابق وزیر اعظم مسٹر راجیو گاندھی کا ایک بیان چھپاہے۔ انھوں نے کہا کہ (میری حکومت کے زمانہ) میں بوفورس کے معاملہ میں جس بدعنوانی کا الزام لگایا جاتا ہے اس کی مقدار70۔۔۔ 60 کروڑ رو پیہ تھی مگرموجودہ وی پی سنگھ کی حکومت کے زمانہ میں اکسائز ڈیوٹی کے سلسلہ میں جو اسکینڈل ہوا ہے اس میں350 کروڑ روپیہ خورد بردکیا گیا ہے ۔
other sourceWords of another person or source
اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ میں نے تو صرف 70 کروڑ روپیہ کی رشوت لی تھی۔ اور تم نے 350 کروڑ روپیہ کی رشوت لے رکھی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندستان کی سیاست کتنی پست اور کتنی گندی ہوچکی ہے۔
10 ستمبر 1990
سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف اسلام آباد (پاکستان) میں12 فروری1989 کو ایک جلوس نکا تھا۔ جلوس نے تشدد کا مظاہرہ کیا ۔ اس کے نتیجہ میں پولیس نے فائرنگ کی۔ فائرنگ میں سات مسلمان مارے گئے اور سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ اس فائرنگ کی تحقیقات کے لئے پاکستانی حکومت نے ایک کمیشن مقرر کیا تھا۔ اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے نوائے وقت 28 اگست 1990 میں یہ ادارتی نوٹ شائع ہوا ہے : کمیشن نے بالکل درست کہا ہے کہ اسلام کے خلاف ایسی کتاب کی اشاعت پر غم وغصہ کا اظہارمسلمانوں کا حق تھا۔ کمیشن کے اس فیصلہ کے بعد یہ ضروری ہے کہ انتظامی عہدوں پر فائز جن افراد نے فائرنگ کے احکام دئے تھے ان کا احتساب کیا جائے ۔ بالخصوص انتظامیہ سے متعلق افراد کا جنھوں نے صبر و تحمل کے بجائے زیا دتی کی۔ انتظامیہ جلوس کے موقع پر دانش مندی کا مظاہرہ کرتی تو حالات پرقابو پایا جا سکتا تھا۔ (صفحہ ۱۰)
اخبار کے اڈیٹر کے پاس دو معیا ر ہیں ۔ ایک مسلمانوں کے لئے اور دوسرا انتظامیہ کے لئے۔ انتظامیہ سے تو اس کا مطالبہ ہے کہ وہ صبر اور دانش مندی سے کام لیں ۔ مگرمسلمانوں کے لئے نہ صبر کی ضرورت ہے اور نہ دانش مندی کی۔ انتظامیہ کو ناپنے کے لئے اس کے یہاں ایک باٹ ہے اور مسلمانوں کو ناپنے کے لئے دوسرا باٹ ۔
11 ستمبر 1990
بنگالی شاعررابندر ناتھ ٹیگور (1861-1941 ) نے اپنے بارہ میں کہا تھا ۔۔۔۔ ساری عمر بینا کے تاروں کو درست کرنے میں بیت گئی۔ انتم گیت جو میں گانا چاہتا تھا وہ میں نہ گاسکا۔ ٹیگور نے یہ بات کسی شاعرانہ مفہوم میں کہی ہو گی ۔ مگراسی قسم کی ایک بات میری زبان سے بے اختیار خدا کی نسبت سے نکل جاتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میری زبان پر بےتا بانہ یہ الفاظ آجاتے ہیں کہ خدایا ، میں تیری حمد کا ترانہ گانا چاہتا تھا مگر میں گا نہ سکا۔ میرا عجز ، میرے سقیم حالات ، دنیا کی محدودیت اور الفاظ کی بے مائگی،،اس میں حائل ہو گئے کہ میں تیری حمد کا ترانہ گاؤں ۔ اب تو مجھے جنت کے باغوں کا ایک پنچھی بنادے میں جنت کے باغوں میں اڑوں اور ابد تک تیری حمد کے ترانے گاتا ر ہوں۔
12 ستمبر 1990
ڈاکٹر انورعبا س امرو ہہ ( یو پی) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے ہمدرد طبی کالج سے بی یو ایم ایس (BUMS) کا کورس کیا اور اس کے بعد اپنے وطن امرو ہہ میں مطلب شروع کیا۔ ان کے کلنک کے سامنے بورڈ پر ڈاکٹر انورعباس، بی ئو ایم ایس لکھا ہوا تھا۔
شروع میں ان کا مطب چل نہیں رہا تھا۔ اس کے بعد ان کے بھائی نے یہ کیا کہ مطلب کے سامنے ایک بینر لگا دیا۔ اس پر موٹے حرفوں میں لکھا ہوا تھا ” ڈاکٹر دہلی والے " اس کے بعد ان کا مطب تیزی سے چل پڑا۔ وہ شہر میں" دہلی والے ڈاکٹر" کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ان کے یہاں مریضوں کی بھیڑ لگنے لگی۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام پسند بولی کا مطلب کیا ہے۔ آجکل کی دنیا میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی عام پسند کی بولی بولنا جاتا ہو۔ آجکل کے تمام مقبول لیڈر اسی تدبیر کو اختیار کر کے مقبول بنے ہوئے ہیں۔ مگر مجھے عام پسند بولی بولنا بالکل نہیں آتا۔ میں لاجک اور ریزن کی زبان میں کلام کرتا ہوں ، اور آجکل کی دنیا میں جو زبان سب سے کم سمجھی جاتی ہے وہ یہی لاجک اور ریزن کی زبان ہے۔
13 ستمبر 1990
رابطة العالم الاسلامی کا ہفت روزہ اخبار العالم الاسلامی (مکه کاشماره 14 صفر 1411 مطابق ستمبر1990ء) آج کی ڈاک سے ملا ۔ اس کے صفحہ اول کی خبروں میں سے ایک خبر کی سرخی ہے کر مولانا ابوالحسن علی ندوی نے کویت پر عراق کے جارحانہ حملہ کی مذمت کی ہے۔( الشیخ ابو الحسن الندوي يدين العدوان العراقي على الكويت )
خبر میں بتایا گیا ہے کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے ملک فہد بن عبد العزیز کے نام ایک ٹیلیگرام روانہ کیا ہے۔ اس میں انھوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور اس پر اپنے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے کہ عراق نے کویت پر حملہ کر کے اس کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جلد از جلد عراق اپنے قبضہ کوختم کر کے کویت سے واپس چلاجائے گا۔
other sourceWords of another person or source
پانچ سال پہلے ٹھیک اسی قسم کا واقعہ ہمارے خلاف حیدر آباد میں ہوا ۔ ہاشم القاسمی صاحب نے وہاں ہمارے مرکز کی عمارت پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اس معاملہ میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کو توجہ دلائی گئی تو انھوں نے اس کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا۔ بلکہ ملا ہاشم القاسمی صاحب کے سرپرست بن گئے ۔ وہ خود ایک استقبالیہ پروگرام میں شرکت کے لئے مغصوب عمارت میں گئے اور اس طرح بالواسطہ طور پر اس غصب کی تائید فرمائی۔ دوسری طرف عراق کے قبضہ غاصبانہ کے معاملہ میں وہ سعودی کنگ کو از خود مذمت کا ٹیلی گرام بھیج رہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مو لا نا ابوالحسن علی ندوی نے کن جذ بات کے تحت حیدرآباد کے غاصبانہ قبضہ کی مذمت نہیں کی اور کن جذبات کے تحت وہ کویت کے قبضہ غاصبانہ پر مذمت کاٹیلگرام بھیج رہے ہیں، اس کو کوئی بھی انسان سمجھ سکتا ہے۔ پھر کیا خدا ایک عام انسان سے بھی کم عقل رکھتا ہے جو دونوں کی حقیقت کو نہ سمجھے۔
14 ستمبر 1990
11ستمبرکو تمام اخباروں کے پہلے صفحہ کی ایک نمایاں سرخی یہ تھی ۔۔۔ صدام کی طرف سے تیسری دنیا کے ملکوں کو مفت تیل کی پیش کش :
Saddam offers free oil to Third World.
صدام حسین کی طرف سے بغداد ٹیلی ویژن پر یہ پڑھا گیا کہ موجودہ بحران کی وجہ سے تیسری دنیا کے ملکوں کو تیل کی پریشانی ہورہی ہے ۔ ہم پیش کش کر رہے ہیں کہ تیسری دنیا کے ممالک ہمارے یہاں سے جس قسم کا اور جتنا تیل چاہیں ، مفت لے جائیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ خو دا پناٹینکر لے کر آئیں ۔ اور اپنے ٹینکر میں تیل لے جائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگلے دن واشنگٹن میں امریکی حکومت کے ترجمان نے بجا طور پر کہا کہ صدام حسین کی ایک چال (timnnick )ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انھیں ایک بیرل تیل بھی کسی کو مفت دینانہیں پڑے گا۔ کیوں کہ اقوام متحدہ کی تجویز کے مطابق ،امریکہ اور دوسرے ملکوں نے عراق کی جو ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس میں تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں ۔ تیل کا کوئی جہاز نہ عراق کی طرف جاسکتا اور نہ عراق سے آسکتا۔
اسی طرح اس سے پہلے صدام حسین نے اعلان کیا کہ ہم کو یت خالی کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے۔ یہاں بھی صدام حسین جانتے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کو خالی نہیں کرے گا۔ اور امریکا ایسا کرے گا کہ وہ اس مقصد کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔ صدام حسین کا اصل مقصد یہ تھا کہ مفت تیل کی پیش کش ہے وہ تیسری دنیا کے لوگوں کے درمیان خوش نام ہو جائیں اور کویت کے مسئلہ کو اسرائیل کے مسئلہ سے جوڑ کرعربوں اورفلسطینیوں کی حمایت حاصل کر لیں ۔ اور اس مقصد میں وہ کم ازکم وقتی طور پر کامیاب ہو گئے۔
15 ستمبر 1990
حکیم حمدابراهیم صاحب ( پیدائش1903 ) جے پور کے رہنے والے ہیں۔ آزادی کی تحریک کے زمانہ میں انھوں نے جواہرلال نہرو اور ابوالکلام آزاد کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ ہندستان مسلمانوں کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہماری اس زبوں حالی کا سبب یہ ہے کہ ہندستان میں ڈیموکریسی کانظام رائج کیا گیا۔ اس کے تحت ہم اقلیت میں آگئے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھوں نے کہا کہ ڈیموکریسی کا نظام ان ملکوں کے لئے درست ہے جہاں صرف ایک مذہب کے لوگ رہتے ہوں۔ ہندستان میں چھ مذہب (ہندوازم، اسلام، مسیحیت ، سکھ ازم ، بدھ ازم ، پارسیت) کے ماننے والے ہیں۔ یہاں کے لئے صحیح نظام یہ ہے کہ ایک سپریم کونسل بنائی جائے جس میں ہر مذہب کا ایک ایک نمائندہ ہو ۔ ان چھ مبروں کو اعلی اختیار حاصل ہو ۔ اس طرح اس ملک میں برابری کا نظام قائم ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس تجویز کو وزیر اعظم وغیرہ کے پاس بھیجنے والا ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ تجویز سن کر مجھے حیرت ہوئی کہ مسلمان بھی کتنے زیادہ نادان ہیں ۔ یہ نادانی صرف حکیم ابراہیم تک محدود نہیں ہے۔ اس میں مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابو الکلام آزاد جیسے اکابر بھی شریک ہیں۔ ان حضرات نے مد نی فارمولا اور آزاد فارمولا کے نام سے 1947 سے پہلے جو تجویز پیش کی ، وہ بھی باعتبار نوعیت یہی تھی ۔ اس میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ مرکزی اسمبلی میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ممبران برابر کی تعداد میں ہوں۔
ان حضرات نے اپنی خوش فہمی کی بنا پر اس سادہ سی بات کو نہیں سمجھا کہ جو چیز زندگی تشکیل کرتی ہے وہ لفظی تجویزیں نہیں ہیں بلکہ سماجی حقیقتیں اور تاریخی طاقتیں ہیں ۔
16 ستمبر 1990
مولانا اکبرالدین قاسمی( مجلس علمیہ ، حیدرآباد) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں ایک محمد بہاء الدین صاحب ہیں۔ وہ ریلوے گارڈ سے ریٹائر ہوئے ہیں اور یاقوت پورہ حیدرآباد میں رہتے ہیں ۔ وہ مولانا ابوالحسن علی ندوی کے معتقداور مرید ہیں۔ انھوں نے مولانا علی میاں کا یہ قول میرے بارہ میں نقل کیاکہ اگر ہم نےکچھ غلطی کی تھی تو وحید الدین خاں ہم سے اس کا بدلہ لیتے، وہ پوری قوم سے کیوں اس کا بدلہ لے رہے ہیں۔"
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کا قصہ یہ ہے کہ مولانا علی میاں کے والد محترم حکیم سید عبدالحئی صاحب کی کتاب ہندستان اسلامی عہد 1973 میں ندوہ سے چھاپی گئی۔ اس پر مولاناعلی میاں کا مبسوط مقدمہ ہے جس میں مولانا نے کتاب کے اندراجات کی تصویب فرمائی ہے۔ اس کتاب میں بابری مسجد اجودھیا ۔ کے ذیل میں لکھا ہوا ہے کہ " کہا جاتا ہے کہ سیتا کا یہاں ایک مندر تھا ، اسی جگہ بابر نے 923ھ میں مسجد تعمیرکی ؛ (141)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ کتاب جو 1973 میں چھپی تھی ، کہیں سے مسٹرارن شوری کومل گئی۔ اس نے انڈین اکسپرس میں اپنے مضمون میں اس کا حوالہ دیا ۔ اس کے بعد ہندوں نے اس کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔مثلا رامجنم بھومی مکتی سمیتی کے نائب صدر داؤد دیال کھنہ نے کہا کہ" لکھنؤ کے دارالعلوم ندوۃ العلماء سے ایک کتاب ہندستان اسلامی عہد میں کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اس کے بیان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ بابری مسجد اسی جگہ تعمیرکی گئی جہاں رام مندر تھا۔" (قومی آواز2 ستمبر1990)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مولانا علی میاں اور ان کے حلقہ کا خیال ہے کہ یہ کتاب میں نے ہندوئوں کوفراہم کی ہے۔ یہ سراسر بہتان ہے۔ میں نے مولانا اکبرالدین قاسمی سے کہا کہ قرآن کے حکم کے مطابق ، مولانا علی میاں کو چاہئے تھا کہ اتنا بڑا الزام لگانے سے پہلے وہ اس کی تحقیق کرتے۔ بلاتحقیق اس قسم کا الزام لگانا کی سراسر نا جائز ہے ۔ پھر میں نے کہا کہ اس معاملہ میں میں مولانا علی میاں سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگر وہ اپنے کو برحق سمجھتے ہیں تو مجھ سے مباہلہ کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
17 ستمبر 1990
6 ستمبر کی رات کودہلی میں خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک چوڑا راستہ ہے۔ اس کے دونوں طرف تقریبا قد آدم دیواریں بنی ہوئی ہیں۔ یہ راستہ اور دیوار اپنے طرز کے اعتبار سے ویسا ہی ہے بجیسا ریلوے اسٹیشن پر دو طرفہ اونچے پلیٹ فارم کے درمیان گزرنے والا راستہ ہوتا ہے۔ میں اور ثانی اثنین بائیں طرف کنارے کنارے چل رہے ہیں ۔ میں آگے ہوں اور ثانی اثنین میرے پیچھے۔ اتنے میں سامنے ایک بہت بڑا ہاتھی نظر آیا ۔ وہ دوسرے کنارے سے چلتا ہوا ہماری طرف آرہا تھا۔
ہاتھی جب قریب آگیا تو وہ اس طرح گھوما کہ اس کا سونڈ دیوار کی طرف تھا اور اس کا پچھلا حصہ راستہ کی طرف۔ اس وقت میرے ذہن میں آیا کہ ہاتھی پیچھے کی طرف سے آکر آدمی کو اس طرح دبا تا ہے کہ آدمی ہاتھی کے جسم اور دیوار کے درمیان کچل کر رہ جا تا ہے ۔ اس وقت ثانی اثنین کی آواز میرے کان میں آئی کہ ہاتھی ہم لوگوں کو دبانا چاہتا ہے ۔ یہ سن کر میں نے ایک لمحہ کے لئے سوچا اور پھر بائیں طرف دیوار پر چڑھنے لگا۔ چڑھنے میں تھوڑی سی زحمت ہوئی۔ مگر ایک منٹ کے اندر میں دیوار کے اوپر چڑھ گیا۔ غالبا ثانی اثنین نے بھی ایسا ہی کیا۔ ہم دونوں ہاتھی کی زد سے باہر آگئے (خواب ختم )
اس خواب کی تعبیرسو چ رہا تھا کہ آج ہی انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا میں ہاتھی پر ایک باتصور مضمون دیکھا۔ اس میں ہاتھی کو سب سے بڑا دودھیلا جانور(Largest mammal on land) بتایاگیا تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کے پاس جو آخری سب سے بڑاحربہ ہے ، اس کو وہ میرے خلاف استعمال کرے گا۔ اور اگر چہ اس وقت کوئی میری مدد کرنے والا نہ ہوگا مگر انشاء اللہ اس کا حربہ کارگر نہیں ہوگا ، اور میں اللہ کی مدد سے اس کانشانہ بننے سے محفوظ رہوں گا۔
18 ستمبر 1990
ایک مسلمان لیڈر سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی مصیبت آپ لوگوں کے اخباری بیانات ہیں ۔ جب بھی کوئی ہندومسلم معاملہ پیداہوتاہے، او ر آپ لوگ ایک تند و تیز بیان تیار کر کے اخباروں میں شائع کر دیتے ہیں۔ان بیانوں سے مسلمانوں کا ذہن خراب ہو تا ہے۔ اگر آپ لوگ اس قسم کا بیان نہ دیں تو مسلمانوں کی فطرت ان کی رہنمائی کرے گی ۔ مگر آپ لوگوں کے بیانات مسلمانوں کو غلط رہنمائی دے کر انھیں فطرت کے راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔
مسلمان لیڈر نے کہا : اپنے معاملات میں اگر ہم چپ رہیں تو ہم عوام سے کٹ جائیں گے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ چپ رہتے تو آپ خدا سے جڑ جاتے۔ مگر جب آپ بولے تو آپ عوام سے تو جڑے مگر آپ خدا سے کٹ گئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
19 ستمبر 1990
ایک مقام پر ہندوسلم فساد ہو گیا۔ وہاں کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھاکہ مارکیسے شروع ہوا ۔ اور اس کا ابتدائی سبب کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوؤں کا جلوس مسلمان محلہ سے گزرا وہ نعرہ لگارہا تھا" بابر کی سنتان ، تم سب جاؤ قبرستان " اس پرمسلمان مشتعل ہو گئے اور ہندوؤں پر پتھر پھینکے۔ اس کے بعد فساد شروع ہوگیا۔
میں نے کہا کہ اصل مسئلہ ہندوؤں کا اشتعال انگیز نعرہ نہیں ہے ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر احتساب خویش کا مادہ ختم ہو گیا ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر احتساب خویش کی صفت ہوتی تو وہ سوچتے کہ ہندو ان کے خلاف جو بات کہہ رہے ہیں ، وہ بطور واقعہ بالکل درست ہے۔ 1947 کے انقلاب کے بعد اس ملک میں ہزاروںمسجدوں کے ساتھ اس قسم کا قصہ پیش آیا ہے جو جو دھیاکی بابری مسجد کے ساتھ پیش آیا ہے ۔ ہریانہ، راجستھان ، پنجاب میں آج بھی کوئی شخص جاکر اس کو دیکھ سکتا ہے ۔ مگر ان ہزاروں مسجدوں کی بے حرمتی اور انہدام پرمسلمانوں میں کبھی کوئی پرشور دہ تحریک نہیں اٹھی۔ اور اجودھیا کی مسجد کی بے حرمتی پر سارے ہندستان کے مسلمانوں میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا کیوں کہ اس کے ساتھ شہنشاہ بابر کا نام جڑا ہوا تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خدائی مسجد سے مسلمانوں کو وہ لگاؤ نہیں ہے جو ان کو بابری مسجد سے ہے ۔ پھر بابر تو ایک فانی انسان تھا وہ قبر میں چلا گیا۔ اس لئے غیرمسلم اگرمسلمانوں کے بارہ میں مذکورہ تجربہ کے بعد ایسا کہتے ہی کہ با برقبر میں گیا تم بھی میں جاؤ تو اس میں ان کی کیا غلطی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
20 ستمبر 1990
پاکستان کے اخبار میں پڑھا کہ وہاں جرنل محمد ضیاء الحق کی یاد میں جلسہ ہوا تو اس موقع پر نعرہ لگایا گیا : ” مردمومن مردحق ، ضیاء الحق ، ضیا الحق"۔ دوسراجلسہ سید ابوالاعلی مودودی کی یاد میں منعقد ہوا ۔ وہاں نعرہ لگایا گیا : سیدی مرشدی ، مودودی مو دودی ۔
اس خبر کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ جس طرح آج ضیاء الحق اور ابوالاعلی مودودی کی وفات ہوئی ہے ، اسی طرح صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں بھی ہزاروں لوگوں کی وفات ہوئی ۔مگر ان لوگوں نے کبھی اس قسم کے نعرے نہیں لگائے ۔سوچتے ہوئے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ صحابہ و تابعین خدا میں جینے والے لوگ تھے۔ وہ لوگ ہمیشہ خدا کی یاد میں مشغول رہتے تھے۔ اس کے برعکس موجودہ مسلمان اپنی شخصیتوں میں جیتے ہیں ۔ اس لئے وہ اپنی شخصیتوں کے نعرے لگارہے ہیں۔
21 ستمبر 1990
ایک صاحب تشریف لائے ۔ انھوں نے چند سوالات کئے ۔ ایک سوال یہ تھاکہ قرآن میں سورہ النساء میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان لانے والے ایمان لاؤ (آیت136) اس کا مطلب کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ اس کی تشریح قرآن کی دوسری آیت کر رہی ہے جس میں فرمایاگیا ہے کہ عراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاۓ ، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اطاعت کی۔ (الحجرات 14 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ آیت سورہ النساء میں ہے جو کہ مدنی سورۃ ہے۔ اصل یہ ہے کہ مکہ کے دورمیں حالات بہت سخت تھے، وہاں کفروشرک کا اتنا زیادہ دباؤ تھا کہ وہی شخص ایمان قبول کرتاتھاجو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کر تا تھا کہ اسے ایمان والی زندگی اختیار کرنا ہے۔ اس لئے ایمان لاتے ہی فورا وہ باعمل مومن بن جاتا تھا۔ مگر مدنی دور میں حالات مختلف ہو گئے۔ اب فضا اتنی بدل کہ لوگوں کے اوپرخو داسلام کا دباؤ پڑنے لگا۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے حالات کے دباؤ کے تحت اسلام کاکلمہ پڑھ لیا۔
مگر ان کی زندگیوں میں اس طرح اسلام نہیں آیا جس طرح مکی دور کے مسلمانوں میں آیا تھا۔ چنانچہ ان سے کہا گیا کہ جب تم نے ایمان قبول کیا ہے تو اب ایمان کے عملی تقاضے بھی پورے کرو ۔ ایک شخص کا ایک لڑکا ہو مگر وہ اپنے لڑکے کے معاملہ میں پدر انہ حقوق ادا نہ کر رہا ہو تو اس معاملہ میں اس کو توجہ دلانے کا ایک اسلوب یہ ہے کہ آپ اس سے کہیں کہ تم باپ ہوتو باپ کے فرائض اور حقوق اداکرو۔ دوسرا اسلوب یہ ہے کہ اس کو مختصر کر کے یوں کہیں کہ جب تم باپ ہو تو باپ بن کر رہو۔
یہی معاملہ مذکورہ آیت کا ہے۔ کہنے کا ایک اسلوب یہ ہے کہ اے ایمان لانے والو، ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرو ۔ دوسرا اسلوب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اے ایمان والو ، ایمان والے بنو ۔ یہاں یہی دوسرا اسلوب اختیار کیا گیاہے۔
22ستمبر 1990
فیروز آباد کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ فیروز آباد میں قدیم زمانہ سے چوڑیوں کی صنعت ہے۔ 1947 سے پہلے یہاں کی صنعت پر مسلمان چھائے ہوئے تھے ۔ اب وہاں ہندو چھائے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ فرق کیسے ہو ا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا ایک خاص سبب مسلمانوں کا اسراف ہے۔ مسلمان جو کماتا ہے اس کو خرچ کر ڈالتا ہے۔ وہ بچا کر نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس ہندو اپنی کمائی میں سے تھوڑ ا خرچ کرتا ہے اور زیادہ حصہ بچا کر رکھتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قدیم زمانہ میں پوری صنعت دستکاری پر مبنی تھی، اس لئے مسلمان اپنے اسراف کے باوجود صنعت پر قابض رہے۔ موجودہ زمانہ مشینی زمانہ ہے۔ اب صنعت کو ترقی دینے کے لئے ہر جزء میں زیادہ رقم درکار ہوتی ہے ۔ ہندو کے پاس پس انداز کیا ہوا سرمایہ تھا، اس نے سرمایہ کار صنعت کو بڑھالیا۔ مسلمان کے پاس سرمایہ نہیں تھا ، اس لئے وہ مشینی مقابلہ میں پیچھے ہو گیا۔
اسراف سے بچنا اور اعتدال کے ساتھ خرچ کرنا اصلا ایک عبادت اور ایک دینی عمل ہے۔ لیکن اگر مسلمان اس پر عمل کریں تو وہ دیکھیں گے کہ اسی دینی عمل میں ان کا دنیوی فائدہ بھی چھپاہوا ہے۔
23 ستمبر 1990
پاکستان کے روز نامہ نوائے وقت (23 ستمبر1990) میں مسٹر محمدعلی جناح کی ایک تقریر کا اقتباس نقل کیا گیا ہے۔ یہ تقریر انھوں نے 1939 میں عربک کالج دہلی میں کی تھی ۔ اقتباس یہ ہے، تمام دشواریوں کے باوجود مجھے یقین ہے کہ مسلمان کسی دوسرے فرقہ کی بہ نسبت بہتر سیاسی دماغ رکھتے ہیں۔ سیاسی شعور مسلمانوں کے خون میں ملا ہوا ہے، وہ ان کی رگوں اور شریانوں میں دوڑ رہا ہے۔ اور اسلام کی تاریخی عظمت ان کے سینوں میں دھڑک رہی ہے۔"
other sourceWords of another person or source
مسٹر جناح کی یہ بات ایک تبدیلی کے ساتھ صحیح ہے ۔ مسلمانوں کے اندر" سیاسی شعور " تو موجود نہیں، البتہ حکومت پسندی ضرور ان میں مبالغہ آمیز حد تک موجو دہے۔ اورمسلمانوں کا یہی بگڑا ہوا مزاج موجودہ زمانہ میں ان کی تمام مصیبتوں کا اصل سبب ہے۔
24 ستمبر 1990
میرا خط معروف اصطلاح کے مطابق پختہ نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ میرا اندازہ یہ ہے کہ جب میں کوئی مضمون لکھتا ہوں تو میں اس میں بہت کاٹ چھانٹ کرتا ہوں۔ میں سمجھتا تھا کہ جس شخص کی تحریر پختہ نہ ہو وہ غالبا زیادہ کاٹتا ہے۔ مگر یہ مفروضہ درست نہیں۔
لندن سے ایک کتاب چھپی ہے اس کا نام ہے (Writers at work) اس کا ساتواں سلسلہ (Seventh series) میرے سامنے ہے۔ 330 صفحہ کی اس کتاب میں انگریزی کے مصنفین کے اد بی حالات درج ہیں۔ ہرشخص کے حالات کے ساتھ اس کے خط کا نمونہ بھی شامل کیا گیا ہے ۔صفحہ151 پر لارکن (Philip Larkin) کا نمونہ تحریر درج ہے۔
اس نمونہ کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ لارکن کا خط نہایت پختہ تھا ، مگر وہ بہت زیادہ کاٹتا تھا۔ اس کے جس صفحہ کی تصویر کتاب میں شامل کی گئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اس نے آدھے صفحہ میں ایک مضمون لکھا پھر اس کی تصحیح کی۔ پھراس عبارت کو کاٹ کر از سرنوبقیہ صفحہ پرنئی عبارت لکھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ خط کی پختگی یا ناپختگی کا کاٹ چھانٹ سے کوئی تعلق نہیں۔
25 ستمبر 1990
24 ستمبر کے تحت میں نے ایک کتاب کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب سے مزید ایک بات معلوم ہوئی۔ میں نے اپنی کتاب (کاروان ملت) میں پروفیسر ہاکنس کا ایک اقتباس نقل کیا ہے۔ اس میں ایک عورت کا قصہ ہے جس نے ایک پکچر ہال میں کہا تھا کہ زمین کچھوے کی پیٹھ پر ٹھہری ہوئی ہے۔ پروفیسر ہاکنس نے لکچر دینے والے کا نام برٹرینڈرسل اور مقام کا نام لندن لکھا ہے۔ مگر اس کتاب میں آرتھرکونسل کے حوالے سے لکچر دینے والا کا نام ٹامس گولڈ (Thomas Gold) بتایا گیا ہے ۔ یہ برطانی سائنس داں تھا اور اس نے یہ لکچر امریکہ میں دیاتھا۔ (صفحہ 36 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
26 ستمبر 1990
جمیعۃ الدعوۃ الاسلامیہ کے تحت ہونے والی چو تھی موتمر عام کے سلسلہ میں میں طرابلس میں تھا۔ ہندستان سے چند دوسرے حضرات بھی اس موتمر میں شریک تھے۔ حیدرآباد کے مسٹرایم خان نے 26 ستمبر کے اجلاس میں انگریزی میں ایک تقریر کی ۔ اس میں انھوں نے بابری مسجد کا مسئلہ اٹھایا اور حکومت ہند کو اور ہندؤوں کو کنڈم کیا۔
میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ اسٹیج پر اس کا مظاہرہ ہوکہ کسی ملک کا وفد آپس میں مختلف الرائے ہے۔ اس لئے میں اسٹیج پر خود اپنے ملک کے کسی آدمی کے خلاف بولنا پسند نہیں کرتا۔ مگرا جلاس کے بعد میں مسٹرخان سے ملا۔ اس وقت ان کے ساتھ مسٹر باب الدین خاں (تھرڈ کانسپٹ ویکلی) بھی تھے میں نے باب الدین صاحب کی موجودگی میں ان پر سخت تنقید کی ۔
میں نے کہا کہ اپنے ملک کے نازک مسائل کو باہر کے پلیٹ فارم پر اٹھانا بنیادی طور پر غلط اور ایک سطحی فعل ہے۔ مزیدیہ کہ آپ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالفانہ باتوں کا تو ذکرکیا۔مگر یو پی کے چیف منسٹر ملائم سنگھ کا بالکل ذکر نہیں کیا جو اس وقت فرقہ پرست ہندوؤں کے خلاف آہنی دیوار بنا ہوا ہے۔ ملائم سنگھ نے بار بار کھلے لفظوں میں اعلان کیا ہے کہ میں عدالتی فیصلہ کے خلاف اس معاملہ میں کسی کو کچھ نہیں کرنے دوں گا۔ جولوگ بھی بابری مسجد کو ڈھانے کے لئے آئیں گے ، ان کو میں سختی سے کچل دوں گا ، وغیرہ۔ انھوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا جو مخالفانہ کردار ہے وہ تومیٹر آف فیکٹ ہے۔ پھر اس کا کیوں نہ ذکر کیا جائے، میں نے کہاکہ چیف منسٹر ملائم سنگھ کا اعلان بھی تومیٹر آف فیکٹ ہے ، پھر آپ نے اس کا اعلان کیوں نہیں کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والوں کا یہی طریقہ ہے کہ وہ ایک پہلو کا ذکر کرتے ہیں اور دوسرا پہلو چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی اس غلط رہنمائی نے مسلمانوں کو حقیقت پسندانہ طرز سے آخری حد تک دور کر دیا ہے۔
27 ستمبر 1990
جمعیتہ الدعوۃ الاسلامیہ (طرابلس) کے تحت ایک ہفتہ وار عربی پرچہ الدعوۃ کے نام سے نکلتا ہے۔ میرے سامنے اس کا شمارہ 26 ستمبر1990 ہے۔ اس میں جمعیتہ الدعوۃ کے ذمہ دارکی ایک تقریر ہے جو انھوں نے ایک اسلامی موتمر کے اجلاس میں کی ۔ اس تقریر کے ایک جملہ کو بطور عنوان جلی حرفوں میں اس طرح لکھا گیا ہے: اننانسير دائما في طريق الحق (ہم ہميشہ حق کے راستہ پر چلتے ہیں۔)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ کے مسلم زعماء سب سے زیادہ جس چیز سے خالی ہو گئے ہیں، وہ حساسیت ہے۔ مذکورہ جملہ صرف ایک بے حس قلب ہی سے نکل سکتا ہے۔ حساس قلب ایسے موقع پر کہے گا کہ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری مدد کرے اور ہم کو ہمیشہ حق کے راستہ پر چلاۓ۔
28 ستمبر 1990
نوائے وقت (28 ستمبر1990 ) میں میاں محمدشفیع کی یادداشت بھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : " حافظ عبد المجید قابلیت کے دریا تھے ۔ ان کی گراسپ اتنی زبر دست تھی کہ ایک لحظہ میں معاملہ کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے ۔ وہ بالآخر ترقی کرتے کرتے برطانوی پنجاب کے چیف سکریٹری مقرر ہوئے۔ لیکن ایک معمولی غلطی پرقانون کی زد میں آگئے اور ان کا شاندار کیر ئرختم ہو گیا۔ آج پاکستان میں لوگ لاکھوں اور کروروں رو پیہ ہڑپ کر جاتے ہیں اور ان کا بال بیکا نہیں ہوتا۔ لیکن حافظ عبدالمجید جیسے عظیم پبلک سرونٹ نے لاہور سے راول پنڈی کے سفر میں کرایہ ریل کے بجاۓ ہوائی جہاز کا وصول کر لیا تھا، اور اسی جرم کی بنا پر انھیں ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔ (صفحہ8)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
"برطانوی پاکستان " میں اخلاق کا معیار بلند تھا اور" اسلامی پاکستان" میں اخلاق کا معیار آخری حد تک گر گیا۔ اس گراوٹ کی سب سے بڑی ذمہ داری ان نام نہادمسلم رہنماؤں پر ہے جنھوں نے اسلام کو سیاسی نعرہ کے طور پر استعمال کیا۔ ان لوگوں نے اپنی جھوٹی تحریکوں کے ذر یعہ مسلمانوں کی نفسیات کو بگاڑ دیا۔ انھوں نے اسلام کو" عمل“ کا عنوان بنانے کے بجائے "مطالبہ" کا عنوان بنادیا۔ یہی سب سے بڑا سبب ہے جس کی بنا پر ہم یہ عجیب وغریب منظر دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کی آوازوں سے فضا گونج رہی ہے اور افراد کی زندگیوں میں اسلامی کردار کا کوئی وجو دنہیں۔
29 ستمبر 1990
پاکستان بننے کے بعد سید ابو الاعلی مودودی پاکستان (لاہور) چلے گئے ۔ وہاں انھوں نے قانون اسلامی کے نفاذ کی مہم چلائی ۔ پاکستان میں ان کی تقریروں کا انداز کیا ہوتا تھا، اس کا اندازہ ایک اقتباس سے ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی ایک انتخابی تقریر میں کہا:
"یہ ملک مارکس اور لینن اور ماؤ کی امت کا نہیں،یہ محمدعربی کی امت کا ملک ہے اور جب تک ہمارے سر ہماری گردنوں پر قائم ہیں اس وقت تک اس ملک میں اسلام کے سوا کوئی دوسرا نظام نافذ نہیں کیا جاسکتا۔" ( وفاق ، لاہور ،29 ستمبر1990 )
other sourceWords of another person or source
بظاہر یہ تعمیر اسلام کی تقریر معلوم ہوتی ہے۔مگر حقیقتہ یہ تخریب اسلام کی تقریر ہے ۔ سید ابوالاعلی مودودی اگر پاکستان میں یہ تحریک چلاتے کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے، اس لئے یہاں کے ہر باشندے کو اپنی زندگی میں اسلام کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ اگر وہ ایسا کہتے تو اس سے لوگوں کے اندر ایمان کی روشنی ابھرتی ۔ ان کے اندر اسلامی عبادت اور اسلامی اخلاق کا داعیہ پیدا ہوتا۔ لوگ اپنے آپ کو مومن اورمسلم بنانے کی فکر میں لگ جاتے. مگرانھوں نے عمل کارخ تمام تر حکومت کی طرف کر دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اور دوسرے تمام مسلمان بس حکمرانوں سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ پاکستانی مسلمان تعمیر کے بجائے تخریب کے راستہ پر چل پڑے۔
30 ستمبر 1990
وقف بورڈ کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ ہندستان میں اس وقت 3 لاکھ سے زیادہ مسجد یں ہیں ۔مسلمانوں نے پچھلے دس برسوں میں بابری مسجد کے مسئلہ پر بے حساب وقت اور پیسہ لگایا ہے، اگر وہ ایسا کرتے کہ بابری مسجد کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کر دیتے اوربقیہ 13 لاکھ مسجدوں کی حالت کو درست کرنے پر یہی وقت اور پیسہ لگاتے تو انھیں دس برسوں میں ملک کے اندرنیا انقلاب آجاتا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لیکن یہ "اگر" ایسا ہے جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر عمل کسی جذبہ کے تحت ہوتا ہے۔ بابری مسجد کے مسئلہ پر جو تحریک چلی اس کا محرک مثبت نہیں بلکہ منفی تھا۔ یعنی اس کے پیچھے حقیقتہ ہندو نفرت کا جذبہ تھا۔ اور ہندو نفرت کا جذ بہ چوں کہ مسلمانوں میں نہایت افراط کے ساتھ موجو دہے۔ اس لئے انھوں نے اس مسئلہ پر دھواں دھار تحریک چلا ڈالی ۔ اس کے برعکس مسجدوں کی حالت کو سدھارنے کے لئے دین سے محبت کا جذبہ درکار ہے، اور وہ موجودہ مسلمانوں میں سرے سے موجود ہی نہیں۔