← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
August 1990
English · 36 min read
یکم اگست 1990
عباس محمود العقاد (1889- 1964 ) ایک مصری ادیب اور صحافی ہیں ۔ سیرت پر ان کی ایک مشہور کتاب ہے جس کا نام 'عبقرية محمد' ہے۔ اس کتاب کا سبب تالیف انھوں نے کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی مجلس میں کار لائل کی کتاب کا تذکرہ تھا جس نے پیغمبر اسلام کو نبیوں کا ہیرو (بطل) قرار دیا ہے۔ اس پر حاضرین میں سے ایک غیرمسلم،شخص اٹھا کہ پیغمبر اسلام کا ہیروانہ کر دار تلوار اور خون پر مبنی تھا ( ان بطولة محمد انما ھي بطولة سيف ودماء) اس تبصرہ کا عباس محمود العقاد پر اتنا اثر ہوا کہ انھوں نے اپنی ند کورہ کتاب لکھ ڈالی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ صرف العقاد کی بات نہیں۔ یہی مسلمانوں کی عام نفسیات ہے ۔ مگر عجیب بات ہے کہ اگر کوئی مسلم یہ کہ دے کہ اسلام تلوار کا مذہب ہے یا محمد نے تلوار کے ذریعہ اسلام کو پھیلایاتو تمام مسلمان بھڑک اٹھیں گے مگر یہی مسلمان تمام دنیا میں تلوار کے ذریعہ اسلام کونا نذکر نے پر تقریر کر رہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رشدی فتنہ کا مقابلہ تلوار سے کرنا ، کشمیر میں تلوار کے ذریعہ اسلام نافذ کرنا، مصر میں تلوار کے زور پر انقلاب لانا ، یہ سب کیا ہے ، یہ دنیا کے سامنے گویایہ اعلان کرنا ہے کہ محمد کا مذہب تلوار کا تھا۔ کیسے عجیب ہیں وہ مسلمان جنھیں خود اپنے تضاد کی خبرنہیں۔
2 اگست 1990
28 جولائی کو میں سوویت یونین( ماسکو) گیا تھا۔ آج وہاں سے واپس آیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ سب سے زیادہ عظمت اور تقدیس لینن کو حاصل ہے۔ اس کی لاش مومیائی کر کے شیشہ کے کیس میں رکھی ہوئی ہے۔ اس کے شاندار مقبرہ پر بے شمار عظیم اہتمامات کئے گئے ہیں۔ ساری مملکت میں اس کے شاندار مجسمے لگے ہوئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
سوویت یونین کیمونسٹ نظریہ پر عقیدہ رکھتا ہے۔ کمیونزم کا عقیدہ خدا کے انکار پر قائم ہوا تھا۔ مگرلینن کی عظمت و تقدیس دیکھ کر خیال آیا کہ اشتراکی دنیا نے خداکر چھوڑا نہیں، صرف خدا کو بد لاہے۔ خدا کا عقیدہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے ۔اگرانسان خالق کو چھوڑے تو اس کے بعد مخلوق کو اسے خدا کی جگہ پر بٹھانا پڑے گا۔
3 اگست 1990
20 مارچ 1990 کو میں طرابلس لیبیا میں تھا۔ وہاں ایک انٹرنیشنل کانفرنس کے تحت مختلف ملکوں کے لوگ آئے تھے۔ ان میں سے ایک جناب ایس آئی حسن تھے۔ وہ آزادکشمیر کے لیڈر تھے اور پاکستان کے وفد کے ساتھ آئے تھے۔
ایس آئی حسن صاحب مجھ کو تنہائی میں لے گئے اور کہا کہ میرے ضیا الحق صاحب سے بہت قریبی تعلقات تھے۔ وہ ایک مرد مومن تھا۔ ضیاء الحق صاحب کہا کرتے تھے کہ انڈیا کو ہمیں (disintegrate) کرنا ہے، ور نہ وہ ہمیں جینے نہیں دے گا۔ انھوں نے پاکستانی کشمیر میں فوجی ٹرین کے کیمپ بنائے اور وادی کشمیر کے نوجوانوں کو بلا کہ وہاں انھیں فوجی ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دینا شروع کیا۔ یہی تربیت یافتہ نوجوان ہیں جو اس وقت کشمیر میں جہاد آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ موجودہ کشمیری تحریک کا کریڈٹ ضیاء الحق کو جا تا ہے۔
other sourceWords of another person or source
یہ روایت اگر درست ہے تو یہ ایک بدترین کام ہے جو ضیاء الحق صاحب نے کیا۔ یہ صرف تخریب کاری کا ایک کام ہے ، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ضیا ءالحق اگر واقعتہ اسلام کو جانتے تو وہ پاکستانی کشمیر میں دعوتی تربیت کے کمیپ کھولتے ۔ وہ کشمیری نوجوانوں کو وہاں بلاکر نھیں سچا داعی بناتے ۔ وہ ان کے اندر یہ جذبہ بھرتے کہ وہ اولا کشمیر کے ہندوؤں میں اور پھر سارے ہندستان کے غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کریں۔
مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ضیاء الحق صاحب یا کوئی اور لیڈر اس قسم کا تربیتی کیمپ کھولے تو ایسا کیمپ خالی پڑا رہے گا۔فوجی کیمپ کو بھرنے کے لئے نفرت ہندو کا سرمایہ درکار ہے ، اور وہ موجودہ مسلمانوں میں افراط کے ساتھ موجود ہے۔ مگر دعوتی کیمپ کو بھرنے کے لئے محبت ہندو کی ضرورت ہے ، اور اس سے موجودہ زمانہ کے تمام مسلمان خالی ہو چکے ہیں۔
4 اگست 1990
مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک کتاب امام حسین اور ان کی شہادت کے بارہ میں ہے ۔ اس کا نام' شہید اعظم 'ہے ۔ یہ غالبا ان کا مفصل مقالہ تھا جو بعد کو کتاب کی صورت میں شائع کر دیا گیا۔
امام حسین کے بارہ میں عام تاثر یہی ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ان کی شہادت پر مضمون لکھا تو اس کا عنوان 'شہادت کبریٰ' قرار دیا ۔ اسی طرح ہر لکھنے اور بولنے والا ان کی شہادت کی بابت بڑے بڑے الفاظ بولتا ہے۔ مگر یہ قرآن کی صراحت کے سراسر خلاف ہے۔ کیوں کہ یہ قرآن (الحدید۱۰ )سے براہ راست ٹکراتا ہے ۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق فتح مکہ سے پہلے جو لوگ شہید ہوئے وہ درجہ میں ان لوگوں سے اعظم تھے جو فتح مکہ کے بعد لڑیں یا شہید ہوں۔ پھر حضرت امام حسین جوفتح مکہ کے 53 سال بعد شہید ہوئے ، وہ شہید اعظم کیسے قرار دئے جاسکتے ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے لکھنے اور بولنے والے کس طرح مسلمانوں کو صحیح رہنمائی نہ دے سکے ۔ انھوں نے اپنی تقریروں اور تحریروں سے مسلمانوں کے اندر غلط ذہن پیدا کر دیا۔ اسی غلط رھنمائی کا ہی نتیجہ ہے جو آج ہر جگہ مختلف صورتوں میں نظر آرہا ہے۔
5 اگست 1990
2اگست 1990 کو عراق نے اپنی فوجیں کویت کے اندر داخل کر دی تھیں۔ اب تک کی خبر کے مطابق، وہ سابقہ حالت پر واپس جانے کے لئے راضی نہیں۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ عراق نے کویت کے کچھ گم نام قسم کے چھوٹے فوجی افسروں کو لے کر عراق نواز انقلاب حکومت کویت میں قائم کر دی ہے ۔ عراقی حکمراں صدام حسین نے اعلان کیا ہے کہ کویت کے جابر الاحمد الصباح یا ان کی فیملی کے لئے اب کویت واپس آنے کا کوئی سوال نہیں۔
اس معاملہ میں آئندہ کیا ہوگا، کچھ نہیں معلوم ۔ مگر میرے نزدیک یہ سراسر بز دلانہ حرکت ہے۔ اگر عراق بہادر اور طاقت ور ہے تو وہ اپنی فوجیں اسرائیل میں کیوں نہیں داخل کرتا ۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان ، خواہ وہ افراد ہوں یا حکومتیں ، ان کا عام حال یہ ہے کہ وہ اپنوں کے لئے سخت اور دوسروں کے لئے نرم بن گئے ہیں۔ ہر ایک موقع پا کر اپنے بھائیوں کو روند رہا ہے۔مگر ان میں سے کسی کی یہ ہمت نہیں کہ وہ غیرمسلم طاقتوں کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرے۔ یہ ایک علامت ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان اپنے زوال کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں۔
6 اگست 1990
پاکستان کے دانشوروں اور اسلام پسندوں کو ایک لفظ بہت پسند ہے ، اور وہ 'نظریہ پاکستان 'ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک نظریہ کے تحت وجود میں آیا ، اور وہ نظریہ اسلام تھا۔ اس لئے اسلام اور پاکستان دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر میری رائے اس سے بالکل برعکس ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا مطالبہ اور پاکستان کا قیام اسلام کی نفی کے ہم معنی تھا ۔ 1947 سے پہلے جب پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تو اس کی دلیل یہ دی گئی کہ متحدہ ہندستان میں ہندوؤں کی اکثریت ہوگی۔ جمہوری نظام کے تحت غیرمنقسم ہندستان میں مسلم اقلیت ہندو اکثریت کی محکوم ہو جائے گی۔ اس لئے مسلمانوں کو ایک علیحدہ خطہ درکا رہے جہاں ان کی اپنی حکومت ہو اور وہ اپنے اسلامی عقیدہ کے مطابق وہاں زندگی گزارسکیں۔
1947 سے پہلے مسلمانوں کے پاس ایک علیحدہ قومی جغرافیہ یا علیحد ہ قومی حکومت موجود نہ تھی۔ مگر اسلام اس وقت بھی پوری طرح ان کے پاس موجود تھا۔ ایسی حالت میں اس مطالبہ کے معنی واضح طور پر یہ تھے کہ اسلام مسلمانوں کو بچانے کے لئے کافی نہیں۔ مسلمانوں کے تحفظ کے لئے اس کے علاوہ ایک چیز در کار ہے ، اور وہ مسلمانوں کی قومی حکومت ہے۔
اس قسم کا مطالبہ بلاشبہ اسلام کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار تھا۔ اور جو تحریک اسلام کے خلاف عدم اعتماد کی بنیا د پر اٹھے ، اس سے ہرگز اسلام کا نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نصف صدی کی مدت گزرنے کے بعد بھی پاکستان سے اسلام برآمد نہیں ہوا۔
7 اگست 1990
ایک پاکستانی مسلمان سے کشیمر کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی تقسیم اس بنیادی اصول پر ہوئی تھی کہ ہندو آبادی والا علاقہ بھارت میں شامل ہوگا اور مسلم آبادی پاکستان میں اس اعتبار سے کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ۔ مگر بھارت دھاندلی کر کے کشمیر پرقبضہ کئے ہوئے ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ اس اصول کو سب سے پہلے خود پاکستان نے توڑا ۔ 1947 میں جوناگڑھ کے مسلم نواب نے پاکستان سے الحاق کی درخواست کی۔ پاکستان نے اس کو منظور کرلیا۔ حالاں کہ اصولی موقف یہ تھا کہ پاکستان یہ کہ کر انکار کر دیتا کہ جونا گڈھ میں ہندو اکثریت ہے ، اس لئے اس کا الحاق بھارت سے ہونا چاہئے ۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے دھاندلی کی ۔ فرق یہ ہے کہ بھارت کی دھاندلی چل گئی ، پاکستان کی دھاندلی نہیں چلی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھوں نے کہا کہ جواہر لال نہرو نے وزیر اعظم ہند کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیر میں ریفرنڈم کرائیں گے مگر انھوں نے اور ان کے بعد بھارت کے حکمرانوں نے اس وعدہ کو پورا نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ پاکستان نے تو خدا سے کئے ہوئے وعدہ کو پورا نہیں کیا۔ پھراگر انڈیا نے اقوام متحدہ سے کئے ہوئے وعدہ کو پورا نہیں کیا تو اس میں تعجب یا شکایت کی بات کیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پاکستانیوں نے خدا سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اس نے انھیں علیحدہ ریاست دیدی تو وہ وہاں اسلام کو قائم کریں گے۔ مگر پاکستانیوں نے اپنا یہ وعدہ آج تک پورا نہیں کیا۔ پاکستان کے لوگوں نے اس طرح یہ گواہی دی ہے کہ خدا کے ساتھ بھی وعدہ خلافی کی جاسکتی ہے ، پھر اگر بھارت اقوام متحدہ کے ساتھ وعدہ خلافی کرے تو اس پر پاکستان کے لوگوں کو شکایت کیوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
8 اگست 1990
ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہاکہ آپ اس میں مسلم بادشاہوں پر تنقید کرتے ہیں ۔حالانکہ یہ مسلم بادشاہ اس ملک میں مسلمانوں کی عظمت ماضی کا نشان ہیں۔ اس طرح تو مسلمانوں کے اندر احساس کمتری پیدا ہو جائے گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ آپ کے سامنے عظمت مسلم کامسئلہ ہے اور میرے سامنے عظمت خداوندی کا۔ اگر مسلم بادشاہوں نے غلطی کی ہے تو ان کی غلطی کو غلطی کہئے ۔ تاکہ اسلام کی صداقت لوگوں کی نظروں میں باقی رہے۔ اگر آپ نے مسلم بادشاہوں کی غلطی کوغلطی نہ کہا جب کہ لوگ اچھی طرح ان کا غلط ہونا جانتے ہیں تو اسلام ایک قومی مذہب بن جائے گا۔ اس کے بعد لوگوں کی نظر میں کامل صداقت کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا۔
9 اگست 1990
دعوتی کلام وہ ہے جس میں ابہام اور پیچیدگی نہ ہو۔ اس کو ایسا ہونا چاہئے کہ داعی کہے اور مدعو فورا سمجھ جائے۔ کلام کی اس خصوصیت کو وضوح (clarity) کہا جاتا ہے۔
کلام میں وضوح کی صفت کا تعلق حساسیت سے ہے اور حساسیت کا تعلق مصیبت سے ۔مصیبتیں انسان کو حساس بناتی ہیں اور جو آدمی حساس ہو ، اس کی زبان سے واضح کلام ظاہر ہوتا ہے۔ اس معاملہ میں اصول یہ ہے کہ جتنی زیادہ مصیبت اتنی ہی زیادہ حساسیت ، اور جتنی زیادہ حساسیت اتنا ہی زیادہ واضح کلام ۔
حقیقت یہ ہے کہ واضح کلام مشکل ترین عمل ہے ۔ وہ مشکل ترین عمل اس لئے ہے کہ اس کی قیمت اتنی زیادہ دینی پڑتی ہے کہ عام آدمیوں کے لئے اس کی قیمت کی ادائیگی ممکن ہی نہیں۔
10 اگست 1990
نوائے وقت (31جولائی1990) میں یہ خبر پڑھی کہ روسی مسلمانوں کا ایک وفد آجکل پاکستان آیا ہو اہے ۔ ان کے اعزاز میں ایک تقریب کے موقع پر وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے روسی مسلمانوں کی مدد کے لئے ایک کروڑ روپے کی منظوری کا اعلان کیا ہے۔ اس رقم سے روس کی وسط ایشیا کی مسلمان جمہوریتوں میں مساجد اور مدارس تعمیر کئے جائیں گے اور روسی مسلمانوں کو اسلامی لٹریچر فراہم کیا جائے گا۔
اس قسم کی خبریں آجکل سوویت یونین کے بارہ میں آتی رہتی ہیں ۔ کچھ سال پہلے تک یہ نا قابل گمان تھا کہ باہر کاکوئی ملک روسی مسلمانوں کو اس مقصد کے لئے رقم دے کہ وہ وہاں اس کو دین مقاصد میں استعمال کریں۔ یہ ایک نیا انقلاب ہے۔ اس انقلاب میں کسی بھی مسلم شخصیت یامسلم تنظیم کا کوئی دخل نہیں۔ یہ براہ راست خدائی نصرت کے تحت ظہور میں آیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کے خلاف خارجی رکاوٹیں ، خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہوں، وہ خدا کی طرف سے ختم کر دی جائیں گی۔ نہیں رکاوٹوں کے خلاف فریادو احتجاج کرنے کے بجائے اسلام کامثبت کام کرنے میں مصروف رہنا چاہئے۔
11 اگست 1990
ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (9 اگست 1990 ) نے افغانی مجاہدین کے لیڈر برہان الدین ربانی کا انٹرویو چھاپا ہے۔ گفتگو کے دوران انٹرویور (عبد اللہ انجلی) نے پوچھا، کیا آپ کا خیال ہے کہ جہاد افغانستان کی تحریک اشتراکیت کے انہدام کا سبب بنی ہے ۔ (ھل تری ان حركة الجهاد الافغاني كانت سببا في انھيار الشيوعية ) برہان الدین ربانی نے کہا کہ ہاں ، ہمارا یقین یہی ہے۔
انٹرویور نے دوبارہ پوچھاکہ پر کیا وجہ ہے کہ نجیب کی حکومت ابھی تک بدستور باقی ہے۔ اس کا خاتمہ ممکن نہ ہوسکا۔ برہان الدین ربانی کا جواب یہ تھا کہ روسی فوجیں اگرچہ افغانستان سے واپس چلی گئی ہیں ،مگر ہوائی جہازوں کے ذریعہ اب بھی وہ نجیب حکومت کے لئے ہتھیاربھیج رہے ہیں۔
other sourceWords of another person or source
میرے نزدیک یہ جواب بالکل لغو ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب روس اپنی فوجوں اور اپنے ہتھیاروں سے کلی طور پر نجیب کی مدد کر رہا تھا ، اس وقت ، اپنے دعوے کے مطابق، افغان مجاہدین نے روسیوں کو شکست دیدی۔ اب جب کہ روسی فوجیں افغانستان سے واپس جاچکی ہیں، اور روس صرف جزئی طور پر نجیب اللہ کی مدد کر رہا ہے تو افغانی مجاہدین اس کو زیر کرنے سے کیوں عاجز ہو گئے۔
اصل میں ہے کہ پہلے امریکہ مکمل طور پر افغانی مجاہدین کی مد دکر رہا تھا۔ امریکہ کی مدد سے افغانی مجاہدین نے روسی فوجوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ اب امریکہ نے اپنی مدد واپس لے لی تو افغانی مجاہدین عاجز ثابت ہو رہے ہیں۔
12 اگست 1990
مولانا انیس لقمان ندوی مالیگاؤں کے رہنے والے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ پچھلے کئی سال سے مالیگاؤں میں کوئی ہندومسلم فساد نہیں ہوا۔ اس کی وجہ مالیگاؤں کے ایک مقامی مسلم لیڈر نے یہ بتائی کہ جب بھی ہندو حرکت میں آتے ہیں تو مسلمان ان کو چھرا دکھاتے ہیں۔ اس طرح وہ ڈر کر بیٹھ جاتے ہیں اور فساد برپا کرنے سے باز رہتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ مالیگاؤں کے مسلمان اپنی اسی روش کی بنا پر اپنے خلاف زیادہ بڑا فسادکروا رہے ہیں ۔ اس کی وجہ سے مالیگاؤں کو حکومت نے نظرانداز کر رکھاہے۔ وہاں کوئی ترقی کا کام نہیں کیا جاتا ۔ مزیدیہ کہ مالیگاؤں کے مسلمانوں کی اقتصادیات کا انحصار پاور لوم پر تھا حکومت نے پاور لوم پر ایسی پابندیاں لگا دیں کہ مسلمانوں کی معاشیات تہس نہس ہو کر رہ گئیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ' چھرا' فساد کے مسئلہ کا صرف وقتی حل ہے ، وہ مستقل حل نہیں مسلمانوں نے کئی جگہ ایساکیا۔ مثال کے طور پر بھاگلپور میں ۔مگرہندووں نے اس کے بعد یہ کیا کہ اندر اندر منصو بہ بندی کی ۔ انھوں نے پولیس اور ایڈمنسٹریشن کو مسلمانوں کی مبالغہ آمیز کہانیاں سناکر اپنا طرفدار بنالیا۔ اس کے بعد انھوں نے پولیس کو ساتھ لے کر ایسافساد کیا کہ مسلمانوں کی تمام چھرے بازی اس کے مقابلہ میں ناقابل ذکر ہوکر رہ گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ وہ ہندووں کے ساتھ بھائی کی طرح مل کرر ہیں۔ اختلافی باتوں سے اعراض کریں۔ اپنے معاملات کو حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ حل کریں نہ کہ میرے اور بندوق سے۔
13 اگست 1990
عراق کے صدر صدام حسین نے 12اگست 1990 کو اپنی فوجیں کویت میں داخل کر دیں ۔ 8 اگست کو انھوں نے عراق کے ساتھ کویت کے انضمام کا اعلان کر دیا۔ اپنے اعلان کے مطابق اب صدام حسین اس مشترک ملک کے صدر ہیں۔ عراقی حکومت نے کو یتی افسروں کو پکڑا اور انھیں بغداد لے جا کر گولی ماردی ۔ بہت سی سرکاری عمارتوں کو بم سے اڑا دیا۔ ان کے سفاکانہ عمل سے صرف کویت کا تیل اور اس کے متعلقات بچے ہیں۔ کویت کی زمین کے نیچے دنیا کے محفوظ تیل کے ذخیرے کا20 فیصد حصہ موجود ہے اور صدام حسین کو اس تیل کی شدید ضرورت ہے۔ کیوں کہ وہ عراق – ایران جنگ (۸۸۔ ۱۹۸۰ ) میں تقریبا50 ملین ڈالر کے مقروض ہو چکے ہیں ۔ 9 اگست کو اگرچہ اقوام متحدہ نے متفقہ طور پر اس انضمام کے خلاف قانون اور کالعدم قرار دیا ہے اور امریکہ نے اپنی فوجیں کویت سے ملی ہوئی سعودی سرحد پر اتار دی ہیں۔ مگر صورتحال ابھی تک غیریقینی نظر آتی ہے۔
واشنگٹن میں کویت کی عالی شان ایمبیسی ہے ۔ ایک امریکی صحافی اس ایمبیسی میں گیا۔ اس سلسلہ میں اس نے بڑی سبق آموز رپورٹ تیار کی جو ہندوستان ٹائمس (10اگست1990) میں صفحه13 پر نقل کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کویت کے سفیر سعود الناصرالصباح (45سال) اس شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو256 سال سے کویت پر حکومت کر رہا تھا۔ اس خاندان کے تقریبا ایک ہزار افراد ہیں اور یہی حکومت کے تمام اعلا شعبوں پر قابض ہیں۔
امریکی صحافی کی ملاقات ایمببیسی میں سفیر کے صاحبزادہ نواف سے ہوئی جو پرنسٹن یونیورسٹی کے ایک طالب علم ہیں۔ چند دن پہلے تک وہ کویت کی حکمراں فیملی کے ایک خوش قسمت فرد تھے ۔ گر آج وہ زمین پر اپنے آپ کو بے جگہ محسوس کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں واپس جائیں۔ اگر ضرورت ہو تو وہ کویت کے لئے لڑ کرمرجائیں گے۔ انھوں نے جذبات سے بھری ہوئی آواز میں کہا کہ ایک ملک کے بغیر میرا کوئی انسانی وجو دنہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Without a country, I am not a man.
اس کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ شہزادہ نواف نے اس وقت بظاہر صرف ملک کھویا ہے۔ بقیہ تمام چیزیں اب بھی ان کے پاس موجود ہیں۔ پھر آخرت میں انسان کا حال کیا ہوگا جب وہ اپنا ملک بھی کھو دے گا اور اسی کے ساتھ بقیہ تمام چیزیں بھی۔
14 اگست 1990
لاہور سے ایک ماہنامہ اشراق کے نام سے نکلتا ہے ۔ اس کے شمارہ اگست 1990میں شذرات (اڈیٹوریل) کے تحت درج ہے:" پاکستان میں سیاسی خود مختاری حاصل کر لینے کے بعد ہمارا فرض ہے کہ ہم یہاں اپنے نظام پر دین حق کی بالادستی قائم کریں۔ ہر حکم جو قرآن میں ہے اسے بہرحال نافذ قرار پانا چاہئے ۔ اس قوم کی معیشت ، معاشرت ، سیاست ، قانون تہدیب ثقافت ہر چیز کو لازما ان اصول و ضوابط کا تابع ہونا چاہئے جو قرآن وسنت میں بیان ہوئے ہیں۔ اسی طرح یہاں وہ انقلاب برپا ہو گا جس کو اسلامی انقلاب کہا گیا ہے۔" صفحہ 4
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پاکستان کے تمام اسلام پسند اسی بات کو ایک یا دوسرے الفاظ میں بیان کرتے ہیں ۔مگریہ بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔ اسلامی نظام کا قیام ، پاکستان کے قیام کا اگلامرحلہ نہیں ہے ۔ اسلامی نظام کا قیام، ایمان کے قیام کا اگلا مرحلہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پاکستان کے اسلام پسندوں نے یہ ترتیب اختیار کی کہ پہلے ایک علیحدہ خطہ زمین (پاکستان) حاصل کرو ، اس کے بعد وہاں اسلامی نظام قائم کرو ۔ یہ ترتیب بالکل لغو ہے۔ صحیح ترتیب یہ ہے کہ پہلے افراد کے اندر ایمانی انقلاب لاؤ ، اس کے بعد ملک کے نظام میں وہ ہر چیز برپا ہوگی جس کو اجتماعی انقلاب کہا جا تا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پاکستان کے لوگ جس ترتیب سے کام کرنا چاہتے ہیں ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو جاہل رکھے ۔ اس کے بعد وہ بازار میں ایک دکان لے اور اس پر" کلنک" کا بورڈ لگا کر اپنے جاہل بیٹے سے کہے کہ میں نے دکان حاصل کر لیا ہے، اب تم وہاں باقاعدہ مطب شروع کر دو ۔
15 اگست 1990
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اکتوبر1989 سے بات باقاعدہ وائس چانسلر کے بغیر ہے ۔ وہ ایکٹنگ وائس چانسلر کے اوپر چل رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ اوراساندہ کا پرشور مطالبہ ہے کہ وہ کسی بیوروکریٹ کو وائس چانسر کی حیثیت سے قبول نہیں کریں گے۔ جب کہ مسلمانوں میں قحط الرجال کا عالم یہ ہے کہ بیوروکریٹوں کو اگر چھوڑ دیا جائے تو وائس چانسلر کے لئے پانچ ناموں کا وہ" پنیل" نہیں بنتا جو صدرجمہوریہ کے پاس از روئے قاعدہ بھیجنا ضروری ہے۔ تفصیل کے لئے: سید حامد آئی اے ایس کا مضمون جو تین قسطوں میں قومی آواز ۱۲-۱۳-۱۳ اگست۱۹۹۰ میں چھپاہے)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔ انھیں صرف سطحی ظواہر دکھائی دیتے ہیں جن پر وہ بے معنی ہنگامہ کرتے ہیں۔ اسی کی ایک مثال مسلم یونیورسٹی کا مسئلہ بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر میں صرف ذاتی اہلیت کو دیکھا چاہئے، نہ یہ کہ وہ بیوروکریٹ ہے بالکنوکریٹ۔ سرسید احمد خان مسلم یونیورسٹی کے بانی تھے، وہ خود ایک بیوروکریٹ تھے ۔اولامغل سلطنت اور اس کے بعد برطانی سلطنت میں وہ 40 سال تک ملازمت کرتے رہے۔ سرسید کے نہایت اہم ساتھیوں میں بھی کئی بیورو کریٹ تھے مثلا حسن الملک اور وقار الملک۔ اس قسم کےلایعنی ہنگاموں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے وہ دشمنوں کے پہنچائے ہوئے نقصانات سے ہزاروں گنا زیادہ ہے۔
16 اگست 1990
ندوہ (لکھنؤ) سے ایک پندرہ اخبار نکلتا ہے جس کا نام" تعمیرحیات "ہے۔اس کے صفحہ اول پر جلی حرفوں میں مولانا سید سلیمان ندوی کی ایک عبارت سیرۃ النبی (جلد 4) سے نقل کی گئی ہے۔ اس کا پہلا جملہ یہ ہے : حقیقت میں نظر سے دیکھا جائے تومعلوم ہوا تعلیمی نے اخلاق کی اہمیت کو عبادات سے بھی زیادہ بڑھا دیا ہے۔"
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح کوئی کہتا ہے کہ اسلام میں عبادت سے بھی زیادہ اہمیت علم کی ہے۔ کوئی کہتاہے کہ اسلام میں عبادت سے بھی زیادہ اہمیت حکومتی انقلاب کی ہے۔ وغیرہ ۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
اس قسم کی باتیں کہنے کا سب یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں عبادت کا جو تصور ہے اس کے لحاظ سے عبادت انہیں علم اور اخلاق اور اقتدار سے کم تر محسوس ہوتی ہے۔ وہ عبادت کو مراسم ظاہری کا ایک مجموعہ سمجھتے ہیں۔ اس تقابل میں ان کو عبادت چھوٹی چیز دکھائی دیتی ہے اور دوسری چیزیں بڑی معلوم ہوتی ہیں۔
مگریہ تقابل غلط ہے اور اس غلطی کا سرچشمہ عبادت کا ناقص تصور ہے۔ عبادت اپنی حقیقت کے اعتبارسے عظیم تر فعل ہے عبادت ظاہری حرکات وسکنات کا مجوعہ ہیں۔ وہ خداوند ذو الجلال کی معرفت سے پیدا ہونے والاعمل ہے۔عبادت اگر حقیقی طور پرکسی شخص کی زندگی میں آجائے تو اس کے نتیجہ میں ہر دوسری چیز اپنے آپ آجاتی ہے۔ مذکورہ عبارت میں صاحب تحریر نے اخلاق کا تقابل عبادت سے کیا ہے۔ مگر زیادہ صحیح لفظوں میں یہ اخلاق کا تقابل عبادت کے ظاہری ڈھانچہ سے ہے۔
17 اگست 1990
عراق کی آمدنی کا 90 فیصد ذر یعہ تیل کی قدرتی دولت ہے عراق کے موجودہ فوجی صدر صدام حسین نے 1958میں شاہ کے خلاف فوجی انقلاب کرکے عراق پر قبضہ کر لیا ۔ صدام حسین نے عراق کوزرعی یا صنعتی ترقی نہیں دی۔ البتہ اس کی تیل کی دولت سے مضبوط فوج بنالی۔ ایران کے خلاف نا کام جنگ ( ۸۸ - ۱۹۸۰) میں عراق کا120 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ وہ 70 بلین ڈالر کا مقروض ہو گیا۔ دونوں طرف کے ایک ملین آدمی مارے گئے ۔ مگر صدام حسین کو عرب لیڈر بننے کا جنون ہے۔ چنانچہ انھوں نے ۲ اگست ۱۹۹۰ کو پڑوسی ملک کویت میں ایک لاکھ سے زیادہ فوج داخل کرکے اس پر قبضہ کر لیا۔ آجکل امریکہ کی قیادت میں مختلف ممالک کی فوجیں عراق کی ناکہ بندی کئے ہوئے ہیں۔
اخبارات میں آجکل روز انہ صدام حسین کے بارہ میں خبر یں ہوتی ہیں۔ ہندوستان ٹائمس( 17 اگست 1990) میں انگریزی صحافی فرینکل (Glenn Frankel) کی ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس نے لندن میں مقیم عراقیوں سے مل کر یہ رپورٹ مرتب کی ہے ۔ ان عراقیوں کا کہنا ہے کہ عراق میں فوجیوں اور غیر فوجیوں میں کثرت سے صدام حسین کے مخالف ہیں۔ مگرصدام حسین نے نہایت بے رحمانہ انداز میں انھیں کچل دیا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ریاض ابراہیم ایک عراقی تھے ۔ انھوں نے لندن میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی ۔1982میں وہ عراقی حکومت میں ہیلتھ منسٹر مقرر ہوئے۔ اس زمانہ میں عراق ایران کی جنگ کا مسئلہ عراق کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہو ا تھا۔ امن کی بات چیت کے لئے ایران کی شرط یہ تھی کہ پہلے صدام حسین کو صدارت سے ہٹایا جائے۔ ان حالات میں بغداد میں ایک کیبنٹ میٹنگ ہوئی۔ صدام نے لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ ایسی حالت میں کیا کیا جائے۔
ابتداء تمام منسٹروں نے یہ کہاکہ صدام حسین کو صدارت کے عہدے پر قائم رہنا چاہئے ۔ صدام نے آخر میں پیش کش کی کہ میں صدارت سے استعفادے دوں تاکہ ایران سے امن کی بات چیت شروع ہو سکے ۔ اس موقع پر ریاض ابراہیم نے یہ تجویز پیش کی کہ صدام حسین عارضی طور پر صدارت کے عہدے سے ہٹ جائیں۔ یہاں تک کہ ان کا معاہدہ (Peace Accord) فائنل ہو جائے ، صدام حسین نے ریاض ابراہیم کا شکریہ اداکیا۔ مگر اس کے بعد ہی صدام نے حکم دیاکہ انھیں گرفتار کر لیا جائے۔ اس کے بعد ریاض ابراہیم کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور ان کی لاش ایک کالے تھیلے میں بھر کر ان کے گھر کے سامنے پھینک دی گئی۔
18 اگست 1990
ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلام میں جنگ کسی اتفاقی سبب سے آتی ہے ، وہ اسلام کا کوئی مستقل حصہ نہیں۔ انھوں نے کہاکہ آپ نے تو اسلام کو بھکشوؤں کا مذہب بنادیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام ذہن ہے ۔ انسانوں کو نہ تو قرآن والے دین کا پتہ ہے اور نہ انھیں جدید کی کوئی خبر ہے. وہ صرف اسلام کے فاتحانہ قصوں کو جانتے ہیں جن کو وہ شاعرانہ اور خطیبانہ انداز میں پڑھتے اور سنتے رہے ہیں ۔ ان حالات نے مسلمانوں کی ذہن سازی کے کام کو پہلا کام بنا دیا ہے ، مگر یہی وہ کام ہے جس کا آج کہیں وجود نہیں۔ آج مسلانوں میں بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں، مگر کوئی بھی ایسی نہیں میں کو ذہن سازی کی مہم کہا جا سکے۔
19 اگست 1990
ہندستان ٹائمس کے شمارہ 15 اگست 1990 میں ڈاکٹرگوپال سنگھ (۱۹۹۰ - ۱۹۱۷ کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ تقسیم ( 1947) کے وقت ضلع گورداسپور میں 50 فیصدسے کچھ کم کی آبادی میں مسلمان نصف سے کچھ زیادہ ( نصف سے کچھ کم (r cent زیاده (per cent 50.4) اور (per cent 49.6) تھے۔
other sourceWords of another person or source
اب سوال یہ تھا کہ گرداسپور کو انڈیا سے ملایا جائے یا پاکستان سے۔ باؤنڈری کمیشن کے واحد ممبر (Mr. Radcliffe) کو ہندو نمائندہ نے مسلم علماء کا فتویٰ دکھایا جس میں قادیانیوں کو کا فرادر اسلام سے خارج قرار دیاگیا تھا۔ اس کے مطابق گورداسپور کے قادیانیوں کو مسلم تعداد سے الگ کر دیا۔ اور پھرگورداسپور کو انڈیا سے ملا دیا گیا۔ یہی گورداسپور ہے جس نے انڈیا کو کشمیر کے لئے راستہ (Road link) دیدیا ۔ ورنہ انڈیا کے لئے کشمیر تک پہنچنا ہی ناممکن تھا۔
مسلم علما کی تکفیر بازی کے مشغلہ نے ملت اسلام کو بے شمار نقصان پہنچائے ہیں ،انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے۔
20 اگست 1990
میری عمرجب15 سال تھی۔ اس وقت ستمبر1939 میں جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر نے اپنی فوجیں پولینڈ میں داخل کر دیں اور نہایت تیزی سے پولینڈ پر قبضہ کر لیا۔ مجھے یاد ہے کہ اچانک ایک دن انگریزی اخبار (پانیر) میں صفحہ اول کی پہلی سرخی یہ تھی :
پو لینڈ جرمنی کے قبضہ میں
اب پچاس سال بعد 2اگست 1990 کو اچانک یہ خبرساری دنیا میں پھیل گئی کہ عراق کے حکمراں صدام حسین نے ایک لاکھ طاقتورفوج کو یت کے اندر داخل کر دی اور اس پر قبضہ کر کے اس کو عراق میں شامل کر دیا۔ ٹائمس آف انڈیا کا عنوان ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Iraq overruns Kuwait.
آجکل روز انہ اخبارات کے صفحہ اول کی سب سے اہم سرخی یہی ہوتی ہے ۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں سب سے کم جو چیز ہے وہ ہے تاریخ سے سبق لینا۔
21 اگست 1990
مالدیپ کے ایک سفر میں میری ملاقات احمد دیدات صاحب سے ہوئی۔ وہ ساؤتھ افریقہ میں رہتے ہیں۔ اور عیسائیوں سے مناظرہ کر کے انھوں نے کافی شہرت حاصل کی ہے ۔عربوں سے انھیں کافی مالی تعاون ملا ہے۔ چنانچہ انھوں نے ساؤتھ افریقہ میں اپنا ایک بہت بڑا سنٹر قائم کر لیا ہے۔
مالدیپ کے ایک ہوٹل میں احمد دیدات صاحب کو میں نے ایک بار دیکھا کہ وہ کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے قریب کی کرسی خالی تھی ۔ میں بھی وہاں جا کر بیٹھ گیا ۔ بات چیت کے دوران میں نے کہاکہ ایک سوال میں اکثر لوگوں سے کرتا ہوں و ہی سوال میں آپ سے بھی کر رہا ہوں ۔ آپ اس کے بارے میں مجھے کچھ بتائیں ۔ پھر میں نے کہا کہ مجھے بتائیے کہ آپ کی خاص دریافتDiscovery) کیا ہے۔
انھوں نے میرے سوال کو کوئی اہمیت نہ دی۔ اورکسی قدرغیرسنجیدہ انداز میں اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا : یہ سب موشگافی (Hair spliting )ہے۔ میں نے اس کے بعد ان سے مزید گفتگو نہ کی۔ کیوں کہ میں نے محسوس کیا کہ اس قسم کا سوال ان کی شعوری سطح سے باہر کی چیز ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عجیب بات ہے کہ موجودہ مسلمانوں کو گہرے سوالات سے کوئی دلچسپی نہیں۔
22 اگست 1990
ایک عربی پرچہ میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس میں بتایا گیا تھا۔ سوڈان کے جنوبی علاقہ میں کس طرح مسیحی مبلغین مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں سرگرم ہیں۔ جنوبی سوڈان میں 18 فیصد مسلمان ہیں۔ 17فیصد مسیحی ہیں اور بقیہ بت پرست ہیں ۔ عیسائی مبلغین کا کام زیادہ تر انہیں مسلمانوں میں ہورہا ہے۔ یہ مسلمان بیشتر بے پڑھے لکھے اور غریب ہیں۔ چنانچہ مضمون کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیاگیا تھا کہ مسیحی مبلغین سیدھے سادے مسلمانوں کا استحصال کر رہے ہیں:
النصارى يستغلون البسطاء
مسیحی مبلغین کے سلسلہ میں مسلمان اکثر اسی قسم کی بات کرتے ہیں۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں ۔ اس لئے کہ اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو یہی بات خود مسلم مبلغین پر بھی اسی طرح صادق آتی ہے ۔ قرآن میں ہے کہ پیغمبر کی تبلیغ پر جو لوگ ایمان لائے ان کو اہل شرک ارا ذلنا کہتے تھے ۔ ہندستان میں جن ہندووں نے اسلام قبول کیا وہ زیادہ ترنچلی سطح کے لوگ تھے۔ اونچی ذات کے ہندوؤں نے بہت کم اسلام قبول کیا۔ امریکہ میں آجکل بہت سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں مگروہ سب زیادہ تر سیاہ فام (Black Americans) ہوتے ہیں جو امریکہ کا سب سے زیادہ پست طبقہ شمار ہوتا ہے ۔ وغیرہ
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
23 اگست 1990
سعودی عرب کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (3 صفر1411ھ ، 23 اگست 1990) میں ایک عرب اہل قلم یوسف البدری کا مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے بتایا ہے کہ جس زمانہ ایران اور عراق کے درمیان جنگ جاری تھی ، اس زمانہ میں خمینی کے حامیوں کا کہنا تھا کہ قدس کاراستہ بغداد ہو کر جاتا ہے۔ (الطريق الى القدس يمر ببغداد ) دوسری طرف صدام کے حامی یہ نعرہ لگارہے تھے کہ قدس کا راستہ تہران ہوکر جاتا ہے ( الطريق الى القدس يمر بطهران)
ایران و عراق کی جنگ 8سال( ۱۹۸۸ - ۱۹۸۰) با ہمی کشت دخون کے بعد ختم ہوگئی ۔ قدس تک پہنچنے کا کارنامہ نہ امام خمینی انجام دے سکے نہ صدام حسین ۔ اب صدام نے دوبارہ اپنے پڑوس کے مسلم ملک کو یت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ دوبارہ صدام اور ان کے حامیوں کا نعرہ ہے کہ قدس کا راستہ کویت ہو کر جاتا ہے ( الطريق الى القدس يمربالكويت)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس قسم کےالفاظ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں کو قدس کی بازیابی سے کوئی حقیقی دلچسپی نہیں۔ ان کا واحد مقصد صرف یہ ہے کہ قدس کا نام لے کر مسلمانوں کا استعمال کریں اور ان کے اوپر اپنی قیادت قائم کریں ۔
24 اگست 1990
پاکستانی تحریک کے لیڈر مسٹر محمد علی جناح نے27 مارچ 1947 کو میمن چیمبر آف کامرس کمیٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا: پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ اور برادرانہ سلوک کیا جائے گا۔ اس کے ثبوت میں ہماری تاریخ شاہد ہے ۔ اسلامی تعلیمات نے ہم کو یہی سکھایا ہے (نوائے وقت۲۱ اگست ۱۹۹۰ )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسٹر جناح نے جس منصفانہ اور بہادرانہ سلوک کا دعوی غیر مسلموں کے بارہ میں کیا تھا وہ سلوک پاکستان کے لوگ خود اپنے مسلم بھائیوں سے ٍبھی نہ کر سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کاقتدار" اسلامی تاریخ "کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی ایک زوال یافتہ نسل کے ہاتھ میں ہے۔ تاریخ کے الفاظ تاریخ کے صفحات سے نکل کرکبھی واقعہ نہیں بنتے۔ یہ در اصل افراد ہیں جو واقعات کو ظہور میں لاتے ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے تمام قائدین نے یہی کیا کہ وہ تاریخ کا حوالہ دے کر شاندار تقریریں کرتے رہے۔ ان میں سے کسی نے بھی موجودہ نسلوں کی ذہنی تعمیراوراخلاق اصلاح کے لئے کوئی حقیقی کوشش نہ کی ۔
25 اگست 1990
1989 کے لئے امن کا نوبیل انعام دلائی لاما کو دیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں ملنے والی رقم کر انھوں نے فور آخر ٖغریبوں کے لئے وقف کر دیا۔ نوبیل انعام کے بعد 1990 میں امریکہ سے ایک کتاب موجودہ دلائی لاما کے بارہ میں چھپی ہے جو چوتھے دلائی لاما ہیں ۔ یہ خوبصورت کتاب 150صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا نام ہے :
The Dalai Lama: A Policy of Kindness
اس کتاب میں مائیکل گڈمین (Michael Goodman) کا ایک تبصرہ دلائی لاما کے بارہ میں نقل کیاگیا ہے۔ اس نے دلائی لاما کے حلیہ کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بات کہ دلائی لاماکے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ مصیبت کے سامنے بھی مسکرائیں جس کا تجربہ انھیں پچھلے تیس برسوں سے ہو رہا ہے ، اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے آدمی ہیں جس نے اندرونی امن کو پالیا ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
That he is able to laugh in the face of adversity after all he has experienced during the past three decades, suggests that he is a man who has found inner peace.
داعی کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں کو نظرانداز کرے۔ اس کا ایسا کرنا دوسروں کی نظر میں اس کی یہ تصویر بناتا ہے کہ وہ ایک پایا ہو انسان ہے نہ کہ کھویا ہوا انسان ۔
26 اگست 1990
عبد الہادی علیم (1970) بستی کے رہنے والے ہیں۔ پچھلے رمضان میں وہ بمبئی سے بستی جانے کے لئے ٹرین سے سفر کر رہے تھے۔ ایک ہندو نوجوان سے ٹرین میں ملاقات ہوئی۔ وہ کانپور کا رہنے والا تھا۔ اس کا نام و پتہ یہ ہے :
Jetandra Gupta 405/8, Shastri Nagar, Kanpur 208 005
گفتگو کے دوران ہندو نوجوان نے کہا کہ ہم کو مسلمانوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ البتہ ہم کوان مسلمانوں سے نفرت ہے جو ہندستان میں رہ کر پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ ابھی کانپور میں ایک مسلمان نے کہا کہ آنے والے کرکٹ میچ میں اگر پاکستان ہار گیا اور ہندستان جیت گیا تومیری عید کی ساری خوشی ختم ہو جائے گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بات بالکل صحیح ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی اسی قسم کی نادانیوں نے اس ملک میں ہندومسلم مسئلہ پیدا کیا ہے۔ دوسری کوئی چیز اس کا سبب نہیں ۔
27 اگست 1990
عراق کے حکمراں صدام حسین نے 2 اگست کو فوجی کارروائی کر کے کویت پر قبضہ کرلیا۔ قاہرہ کی جامعۃ الازہر کے شیخ جاد الحق نے اس کو عذر قرار دیا اور کہا کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ صدام حسین سے جنگ کریں ۔ مصر کے مفتی اعظم محمد سید طنطاوی نے بھی شیخ الازہرکی تائید کی۔ اسی طرح ہندستان اور دوسرے تمام ملکوں کے علماء نے صدام کے خلاف سخت بیانات دئے ہیں۔ دوسرا طبقہ جوصدام حسین سے برہم ہے وہ ملوک کاطبقہ ہے۔ ان کے علاوہ عرب عوام کی اکثریت صدام حسین کے اقدام پر خوشی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ملوک کی برہمی اس لئے ہے کہ ان کا اقتدار چھین رہا ہے۔ علماء کے ردعمل کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت تمام دنیا کے علماء انھیں ملک کے مالی تعاون پر زندہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ عرب عوام کی رائے ان سے مختلف کیوں ہے ۔
ٹائم میگزین (۲۷ اگست ۱۹۹۰ ) کی ٹیم عرب ملکوں میں گئی اور وہاں اس نے براہ راست ربط کے ذریعہ عرب عوام کا تاثر معلوم کیا۔ اس کی رپورٹ یہ ہے کہ عرب عوام کے اوپر سب سے زیادہ جو احساس چھایا ہوا ہے ، وہ یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی قوموں نے ان کے قومی وقارکو مجروح کیاہے ۔ وہ اپنی اس عظمت کو واپس لانا چاہتے ہیں جو ماضی میں انھیں حاصل تھی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صدام حسین اگر طاقتور ہو جائے تو وہ عرب عظمت کو دوبارہ واپس لائے گا۔ چنانچہ وہ صدام حسین کو صلاح الدین ایوبی کاظہور ثانی (Reincarnation) سمجھتے ہیں ۔ ایک تعلیم یافتہ عرب یوسف کواس نے ٹائم کے نامہ نگار سے کہا کہ میں کسی بھی عرب قائد کو پسند کروں گا جوعربوں کومتحد کر دے ، خواہ بذریعہ طاقت ، ہم ایک بڑی عرب سلطنت دیکھنا چاہتے جو ہمارے کلچر کو قدیم عظمت پر قائم کر دی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
I love any Arab Leader who will unite the Arabs, even by force. We want
to see one empire restoring our culture to its former glory (p. 20).
28 اگست 1990
ڈاکٹر گوپال سنگھ گو ا اور ناگالینڈ کے گورنر تھے۔ گورنر کی حیثیت سے ان کو اپنی حکومت کی طرف سے بہت سے تلخ تجربات ہوئے جن کا ذکر انھوں نے اپنے مضمون مطبوعہ ہندستان ٹائمس (12اگست 1990) میں کیا ہے ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ہندستان کی سیاست میں منافقت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب کسی کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔ مثلا ایک بار ایک مرکزی وزیر نے مجھ سے نہایت عمدہ باتیں کیں اور چند ہی دن بعد مرکز سے یہ حکم موصول ہوا کہ یا تو استعفا دو ، ورنہ برخاست کر دیا جائے گا۔ انھوں نے اپنے انگریزی مضمون میں اردو کا یہ شعر نقل کیا ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آگے کانٹوں سے ڈر لگتا تھا اب پھولوں سے ڈر لگتا ہے
جس ملک میں گورنر کا یہ حال ہو ، وہاں عام انسان کی حالت کیا ہو گی ، اسی واقعہ سے اس کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔
29 اگست 1990
ٹائمس آف انڈیا (۲۹ اگست۱۹۹۰) میں ایک خبر عمان کے اخبار کے حوالہ سے چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یکم اگست اور ۲ اگست ۱۹۹۰ کی درمیانی رات کو ۱۲ بجکر10منٹ پر کویت کے امیر شیخ الصباح کے محل میں یہ خبر پہنچی کہ عراق کی فوجیں کویت میں داخل ہوگئی ہیں۔ امیر کویت نے اپنے محکمہ خفیہ سے پوچھاتو وہ اس پوزیشن میں نہ تھا کہ اس خبر کی تصدیق یا تر دید کر سکے۔ مصری ذرائع نے کہا کہ حملہ اتنا طاقت ور ہے کہ اس کا مقابلہ کویت کے لئے ممکن نہیں۔ چنانچہ الصباح فیملی کے افراد کاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ سعودی عرب اور بحرین پہنچ گئے۔
other sourceWords of another person or source
یہ خبر کو صحیح ہے تو بے حدتعجب خیز ہے ۔ کویت ایک انتہائی چھوٹا ملک ہے ۔ تاہم اس کے پاس دولت کا ڈھیر لگا ہوا ہے ۔ اگر ان کا انٹلی جنس کا محکمہ آتنا کمزور تھا تو آخر وہ کس لئے قائم تھا اوروہ کیا کر رہا تھا۔
30 اگست 1990
پاکستانی اخبارات نہایت فخر کے ساتھ مسٹر محمد علی جناح کا یہ جملہ نقل کرتے ہیں۔ انھوں نے 14 جولائی1947 کو ایک پریس کانفرنس میں غیر مسلم صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا : جب آپ جمہوریت کی باتیں کرتے ہیں تو مجھے شبہ ہوتا ہے کہ آپ نے اسلام کامطالعہ نہیں کیا ہے۔ ہم نے جمہوریت تیرہ سو سال پہلے سیکھ لی تھی۔ (نوائے وقت ،13اگست 1990 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پاکستان بننے کے بعد" اسلامی جمہوریت“ ایک دن کے لئے بھی پاکستان میں قائم نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اس طرح قائم نہیں ہوسکتی کہ تیرہ سو سال پہلے کی تا ریخ اپنے آپ آکر یہاں نافذ ہو جائے ۔ پاکستان میں جمہوریت کو وہاں کے موجودہ مسلم باشندے نافذ کریں گے اور پاکستان کے موجودہ باشندے اپنے زوال کے بدترین دور میں ہیں۔ وہ ایک مردہ قوم ہیں ، اور مردہ قوم کبھی کوئی زندہ کارنامہ انجام نہیں دیتی۔
31 اگست 1990
لیوس ویلسLewis Wallace))1827 میں پیدا ہوا۔1905 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک قول ہے کہ کسی آدمی کی سب سے زیادہ آزمائش کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ بہت زیادہ خوش قسمتی اس کے حصہ میں آگئی ہو :
A man is never so on trial as in the moment of excessive good-fortune
مشکل حالات میں آدمی کے لئے بہکنے کا اندیشہ نسبتا کم رہتا ہے ۔ لیکن اگر آدمی کو بڑی کامیابی ہوجائے تو بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ بہکنے سے بچ جائے ۔
اللہ تعالی نے موجودہ دنیاکا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی اچھی چیز بہت زیادہ دیر تک کسی ایک شخص یا ایک گروہ کے پاس نہ ر ہے۔ جوانی کچھ دنوں کے بعد ڈھل جاتی ہے۔ دولت کبھی آتی ہے اور کبھی چلی جاتی ہے۔ سیاسی اقتدار بار بار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جا تا رہتا ہے۔ کبھی کسی ایک کا دور دورہ رہتا ہے اور کبھی کسی دوسرے کا۔
یہ بگاڑ کے خلاف ایک فطری چیک ہے ۔ یہ اس لئے ہے کہ لوگ ایک حد کے اندرر ہیں۔ لوگ بہت زیادہ بگڑنے نہ پائیں۔
مزیدیہ کہ یہ صورت حال آدمی کی ذاتی اصلاح کے لئے بہت زیادہ معاون ہے۔ حالات کی تبدیلی بار بار لوگوں کوسبق دیتی ہے۔ اس سے ہر آدمی کو یہ موقع ملتار ہتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت واقعی کو جانے۔ وہ اپنے آپ کو سرکشی اور غرور سے بچائے۔ وہ اس حقیقت سے آشنا ہو کہ اس دنیامیں حالات کا سرا اس کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ اختیار اور عظمت کا مالک صرف خدا ہے۔ اس کے سوا کسی اور کے لئے حقیقی عظمت ہے اور نہ حقیقی اختیار۔