Maulana Wahiduddin Khan
33 min left
0:00

← Diary 1989-1990
Diary 1989-1990

July 1990

English · 33 min read

یکم جولائی 1990

عزیز الرحمن صاحب ملاقات کے لئے آۓ۔ وہ حافظ محمد ابرا ہیم صاحب (۱۹۹۸-۱۸۸۹)کے صاحبزادے ہیں۔ یوپی میں تین بار وزیر رہ چکے ہیں۔ ان کا وطن نگینہ ہے۔

انھوں نے اپنے والد کے حوالہ سے بتایاکہ تقسیم کے بعد جب پہلی بار جواہرلال نہرو( سابق وزیراعظم ہند)، کراچی (سابق دارالسلطنت پاکستان )گئے توحافظ محمد ابراہیم صاحب بھی ان کے ساتھ تھے ۔ وہاں ان کی ملاقات چو دھری خلیق الزماں سے ہوئی جو1947 سے پہلے مسلم لیگ کے لیڈر تھے اورتقسیم کے بعد لکھنؤ چھوڑ کر پاکستان چلے گئے تھے۔ گفتگو کے دوران چودھری خلیق الزماں نے نہروسے کہا : پاکستان تو حافظ ابراہیم نے بنوایا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہاکہ پاکستان کومسلمانوں کی حماقت نے بنوایاہے۔1937میں یوپی میں کانگرسی وزارت بنی تو کانگریس نے کانگرسی مسلمان (حافظ ابراہیم) کو کیبنٹ میں لے لیا۔ جبکہ مسلم لیگ یہ چاہتی تھی کسی مسلمان ونواب زادہ لیاقت علی کوکیبینٹ میں لیا جائے ۔ اس پرمسلم لیگ کے لیڈر ا تنابر ہم ہوئے کہ ملک کے بٹوارہ کا جھنڈالے کر کھڑے ہوگئے۔

یہ سراسر ایک احمقانہ فعل تھا۔ قوموں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اس طرح کے شخصی واقعات پر نہیں ہوتا، بلکہ وسیع تر حقائق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جو لوگ اس بنیادی حقیقت کو نہیں جانتے ، وہ وہ آخرسیاست کے میدان میں کیوں کودتے ہیں ۔

2 جولائی 1990

ایک صاحب نے حالات کی ناموافقت کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے خلاف یہ کیا جارہا ہے، ہمارے خلاف دہ کیا جا رہا ہے۔ایسے سخت حالات میں بھلا کس طرح کوئی کام کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کہاکہ میں آپ سے صرف ایک بات کہتا ہوں۔ اس کو اپنی ڈائری میں لکھ لیجئے۔ آج سے پچاس برس بعد بھی اگر آپ نے اپنی ڈائری کا یہ صفحہ کھولا تو وہ آپ کو پتھر کی لکیر کی طرح صداقت نظر آئے گی۔ وہ بات یہ ہے :

اس دنیا میں وہی لوگ کوئی بڑا کام کرتے ہیں جو کام نہ کرنے والے حالات میں کام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ جو لوگ کام کرنے لئے موافق حالات کا انتظار کریں ، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کرسکتے۔

3 جولائی 1990

کلکتہ کے تین مسلمان ملاقات کے لئے آئے۔ تینوں نوجوان طبقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ میں نے طارق زکی صدیقی سے پوچھا کہ آپ ڈاکٹر مقبول احمد (ایف آر سی ایس) کو جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا که خوب اچھی طرح ۔ میں نے کہا کہ کلکتہ کے مسلمان ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ بہت بری رائے ۔ تفصیل پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ وہ ایک اچھے سرجن ہیں مگر ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ آپریشن کو بیچ میں روک کر کہتے کہ پہلے پیسہ لاؤ۔ اب آدی مجبور ہوکر ان کے مطالبہ کوپوراکرتا ہے۔ مزید پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ خود میرے چچا کے ساتھ ایسا ہی ہوا ۔ میرے چا کا اپنڈکس کا کیس تھا۔ ان کو وہ اپنے آپریشن تھیٹر میں لے گئے اور نشتر سے پیٹ کو چیر دیا اور اس کے بعد کہا کہ پہلے دس ہزار روپیہ لاؤ پھر آپرین مکمل کریں گے۔ اس وقت بارش ہو ر ہی تھی ، میرے والد بھاگ کر گئے اور بڑی مشکلوں سے پیسہ جمع کر کے لائے ۔ تب انھوں نے آپریشن کیا۔

مجھے یہ بات کا من سنس کے خلاف معلوم ہوئی ۔ اس لئے کہ جب پیٹ پر نشتر چلا دیا جائے تو اس کے بعد تحفظاتی تد بیروں کے باوجود آدمی کا خون نکلتا رہتا ہے۔ اس کے بعد ضروری ہوتا ہے کہ بلاتاخیر جلد سے جلد آپریشن کو مکمل کیا جائے ورنہ آدمی خون کے اخراج کی وجہ سے مرجائے گا اورخودڈاکٹر کے خلاف قتل کا کیس بن جاۓ گا ۔

میں نے بقیہ دو صاحبان سے مزید پوچھ گچھ کی۔ آخر کار معلوم ہواکہ اصل بات یہ ہے کہ ڈاکٹر مقبول احمد آپریشن سے پہلے پیشگی طور پر رقم جمع کراتے ہیں( ایسا غالبا بعض تلخ تجربات کی بنا پرہوا ہے) پیشگی طور پر آپریشن کی فیس وصول کرنے کے بعد آپریشن کرتے ہیں ورنہ معذوری ظاہر کر دیتے ہیں۔ اسی بات کو مذکورہ غلط صورت میں مشہور کر دیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ خبر کی تحقیق نہایت ضروری ہے۔ تحقیق کے بغیر آدمی کو کبھی صحیح صورتحال معلوم نہیں ہوسکتی۔

4 جولائی 1990

مسٹروی دی گری (1980-1894) مدراس کے رہنے والے تھے۔ وہ1969 سے 1947 تک انڈیا کے پریسیڈنٹ رہے ۔ اطہر صدیقی صاحب نے ان کا ایک واقعہ بتایا۔

راشٹرپتی بھون (نئی دہلی) کے اندر ایک مسجد ہے جو برٹش دور سے چلی آرہی ہے ۔ جمعہ کے دن اس میں باہر کے لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں ۔ ایک با رجب کہ مسٹر دی دی گری دہرہ دون گئے ہوئے تھے ، ان کے سیکورٹی اسٹاف کے ایک ہندو افسر نے مسجد کو بند کروا دیا۔ اس سے وہاں کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ۔

اگلے دن مسٹرگری واپس آئے تو راشٹرپتی بھون کے ایک مسلمان ملازم (عبد الحمید صاحب) ان سے ملے اور کہا کہ آپ کی غیر موجودگی میں راشٹرپتی بھون کی مسجد کو بند کر دیا گیا ہے ۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت دکھ ہے۔

یہ رات کا وقت تھا اور مسٹر گری ابھی ابھی سفر سے واپس آئے تھے۔ انھوں نے اس کے بعد فور اسکورٹی اسٹاف کے مذکورہ ہندو افسرکو بلایا اور اس سے پوچھا کرتم نے مسجد کیوں بند کرادی۔ اس نے کہا کہ حفاظتی نقطہ نظر سے ایسا کرنا ضروری تھا۔ مسٹرگری اس جواب پر غصہ ہو گئے۔ انھوں نے کہا: مجھے اس سے بالکل اتفاق نہیں ۔ تم ابھی جا کر مسجد کو کھول دو ۔ اور کل سے تم راشٹرپتی بھون میں نہیں ہوگے۔ اس کے بعد انھوں نے تعزیری تبادلہ (Punitive transfer) کے طور پر اگلے ہی دن اس کو لداخ بھیج دیا۔

یہ واقع علامتی طور پر بتارہا ہے کہ ہندوؤں میں اگر کچھ افراد تعصب اور تنگ نظری کا شکار ہیں تو اسی کے ساتھ انہیں ہندووں میں ایسے افراد بھی ہیں جو بے تعصب اور انصاف پسند ہیں۔ مزیدیہ کہ ثانی الذکر افراد اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ اول الذکر افرادکی کارروائیوں کو کالعدم کرسکیں ۔ جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں ہوا۔

5 جولائی 1990

استانبول (ترکی) سے ہمارے یہاں ایک انگریزی پرچہ آتا ہے۔ اس کا نام نیوز لیٹر ہے۔ اس کے شمارہ دسمبر1989 میں ایک صفحہ پر جلی حرفوں میں یہ شعر لکھا ہوا ہے :

كل علم ليس في القرطاس ضاع كل سرجاوز الاثينین شاع

ہر علم جو کاغذمیں نہ ہو وہ ضائع ہوگیا۔ ہرراز جو دو تک پہنچ جائے وہ عام ہوگیا۔

6 جولائی 1990

4 جولائی کو عید الاضحی کی نماز میں نے تبلیغی جماعت کی مسجد میں پڑھی ۔ وہاں انسانوں کا ہجوم تھا۔ وہاں کے ماحول کو دیکھ کر ایک بات ذہن میں آئی۔

دین کے دو پہلو ہیں۔ ایک معنی کے اعتبار سے ، اور دوسرا شکل کے اعتبار سے۔ دین کے ان دونوں پہلوؤں کا تسلسل امت میں جاری رہے گا ، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ میرا حساس یہ ہے کہ تبلیغی تحریک، موجودہ زمانہ میں ، دین کے شکلی پہلو کا تسلسل ہے، اور الرسالہ کامشن دین کے معنوی پہلو کا تسلسل۔ تبلیغ کے لوگ اس تقسیم کو ہرگز نہیں مانیں گے ۔ میرے نزدیک حقیقت واقعہ یہی ہے۔

7 جولائی 1990

مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی (۱۹۵۲ - ۱۸۷۵) کے زمانہ میں ایک بار جامعہ الازہر(قاہرہ ) کے امیر شیخ مصطفی المراغی ہندستان آئے ۔ ان کی ملاقات مفتی کفایت اللہ صاحب سے ہوئی ۔ ان کو دیکھ کر شیخ مراغی نے کہا : ينبلج العلم والوقارمن جسینہ (ان کی پیشانی سے علم اور وقار جھلک رہاہے)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سید جمال الدین افغانی کی ملاقات پہلی بار امیر شکیب ارسلان (۱۹۴۶-۱۸۷۹) ہوئی تو وہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے ۔ انھوں نے کہا : انا هنئ ارض الاسلام التي انبتتك (میں اسلام کی اس سرزمین کو مبارک با ددتیا ہوں جس نے تم کو جنم دیا ۔)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا اقبال احمد سہیل (۱۹۵۵- ۱۸۸۷ )جس زمانہ میں علی گڑھ میں ایم اے کے طالب علم تھے ،خواجہ کمال الدین وہاں آئے ۔ ایک موقع پر انھوں نے یونین ہال میں مولانا سہیل کی تقریرسنی۔ اس سے اتناخوش ہوئے کہ انھوں نے کہا : اگر تمہارے جیسا آدمی مجھے کام کرنے کے لئے مل جائے۔ تو میں یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر اسلام کا جھنڈا لہرادوں۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں کیسے کیسے اعلی صلاحیت کے لوگ مسلمانوں کے اندر پیدا ہوئے مگر یہ تمام اعلی صلاحیتیں سیاست میں ضائع ہو گئیں ۔ ان میں سے کوئی شخص کی دعوت کے اصل کام میں استعمال نہ ہوسکا۔

8 جولائی 1990

حیدر آباد سے دو صاحبان تشریف لائے۔ ڈاکٹرحسن الدین احمد ( آئی اے ایس) اورایم کے عارف الدین( ایڈوکیٹ) ان لوگوں سے حیدر آباد کی بلڈنگ کے سلسلہ میں پہلے سے بات ہورہی تھی۔ آج کی گفتگومیں فائنل کیا گیا۔ عارف الدین صاحب نہایت تیز آدمی ہیں۔ اس کے ساتھ وہ ہر قسم کے وسائل بھی رکھتے ہیں۔ انھوں نے پوری ذمہ داری لی کہ حیدر آباد کی بلڈنگ کو ہاشم القاسمی صاحب کے قبضہ سے نکالیں گے۔ مجھے قوی امید ہے کہ وہ ایک سال کے اندر اپنے مشن میں کامیاب ہو جائیں گے۔

حیدر آباد کی عمارت کا مسئلہ آخری حد تک سنگین ہوچکا تھا۔ ہاشم القاسمی نے اپنی بد دیانتی کو چھپانے کے لئے ہرقسم کی تدبیریں اختیار کیں۔ مولانا علی میاں ، صلاح الدین اویسی، منت اللہ رحمانی، سید شہاب الدین اور دوسرے اکثر''ا کا بر ملت'' براہ راست یابالواسطہ طور پر ان کے مددگار بن گئے۔ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگا کہ ہم اس عمارت کو ہاشم القاسمی صاحب کے ناجائز قبضہ سے نکالنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے مگر اللہ تعالی نے عارف الدین صاحب کو کھڑا کر دیا ۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں قرآن کے وہ الفاظ صادق آنے والے ہیں کہ ان کی سازشیں ہرگز کامیاب ہونے والی نہیں و ان كان مكرهم لتزول منه الجبال –

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

10 جولائی 1990

سید لیاقت علی (پیدائش 1956) ناگپور کے رہنے والے ہیں۔ وہاں ان کا آفسٹ پرنٹنگ پریس ہے ۔ وہ ملاقات کے لئے آۓ۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کا تعلق ناگپور سے ہے اور ناپور آرایس ایس کا گڑھ ہے۔ آپ ذاتی واقفیت کے مطابق آرایس ایس کے بارہ میں کچھ بتائیے ۔

انھوں نے کہا کہ جس علاقہ میں میں رہتا ہوں، وہاں بہت سے آرایس ایس کے لوگ آباد ہیں اور میں20 برس سے ان کو جانتا ہوں۔ انھوں نے کہاکہ میں نے تو انھیں نہایت اچھا انسان پایا ۔ میرے کہنے پر انھوں نے دوسری ڈائری میں یہ سطریں لکھیں :

other sourceWords of another person or source

میں خود یہ بات کہتا ہوں کہ ناگپور میں جن آرایس ایس والوں سے میرا تعلق اور میرے خاندان کا تعلق تقریبا20 برسوں سے ہے ، ان سے زیادہ شریف لوگ ہم نے نہیں پایا "

انھوں نے ان کی شرافت اور اصول پسندی کے بہت سے واقعات سناۓ. میں نے کہا کہ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ آر ایس ایس در اصل ایک پرو ہندو (ہندو نواز) تنظیم ہے۔ اس کو مسلمانوں نے اینٹی مسلم (مسلم دشمن )تنظیم فرض کر لیا۔ اس غلط فہمی سے تمام خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔ لیاقت علی صاحب نے اتفاق کیا۔

11 جولائی 1990

اقبال کا ایک شعر ہے۔ اس میں وہ خداسے کہتے ہیں کہ اگر تو محشر کے دن میرا حساب لینا ضروری سمجھتا ہے تو مصطفی کی نگاہوں سے چھپا کر میرا حساب لینا۔

گرتومی بینی حسابم ناگزیر از نگاه مصطفی پنہاں بگیر

اقبال کے ایک معتقد نے اس شعر کو پڑھ کر کہاکہ یہ شعراقبال کے عشق رسول کو بتاتا ہے۔ میں نے کہا کہ وہ عشق رسول کو بتاتا ہوگا مگروہ خوف خدا کونہیں بتاتا ۔ اور عشق رسول بہرحال خوف خدا کے تابع ہے۔

12 جولائی 1990

جنوری 1983میں میں ایک کانفرنس کی دعوت پر مالدیپ کیا تھا۔ وہاں میری ملاقات اقبال کے صاحبزادے جاوید اقبال سے ہوئی۔ جاوید اقبال سے میں نے کہا کہ اقبال موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ ہیں۔ ان کے اشعار نے مسلمانوں کے اندر نہایت غلط ذ ہن پیدا کیا جس کی قیمت وہ ہرمحاذ پر ادا کر رہے ہیں مثلا قبال کا ایک شعر ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسہ ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو ہر مقام پر غیراقوام کے مقابلہ میں شکست ہوئی ہے۔ مثلا1831میں سید احمد بریلوی کی شکست سکھوں کے مقابلہ میں۔ 1857 میں علماء ہند کی شکست انگریزوں کے مقابلہ میں۔1948میں حسن البناء اور ان کے ساتھیوں کی شکست یہودیوں کے مقابلہ میں ۔پھر کیایہ سارے لوگ ایمان سے خالی تھے ۔

حقیقت یہ ہے کہ ان شکستوں کا سبب نا کافی تیاری تھی نہ کہ نا کافی ایمان۔ اقبال کی پوری شاعری اسی قسم کی غیرحقیقی باتوں سے بھری ہوئی ہے اور مسلمانوں کے ذہن کو غیرحقیقت پسند بنانے میں اس کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔

13 جولائی 1990

پاکستان کی تحریک کے زمانہ میں اس کے حامی یہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ الاللہ۔ پاکستان بننے کے بعد سید ابوالاعلی مودودی نے اعلان کیاکہ پاکستان اسلام کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے میثاق (جولائی۱۹۹۰ )میں لکھا ہے کہ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کی ولدیت اسلام ہے۔ حضرت سلمان فارسی اپنا نام بناتے ہوئے کہا کرتے تھے سلمان ابن اسلام ، اسی طرح یہ ملک پاکستان ابن اسلام ہے۔ (صفحہ35)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ سب لفظی شعبدہ بازی ہےنہ کہ کوئی حقیقی بات۔ اورافسوس یہ ہے کہ مسلمان ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے اس قسم کی نقلی شعبدہ بازیوں کے فریب میں پڑے ہوئے ہیں۔

14 جولائی 1990

شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۷۲۲ - ۱۷۰۳ ) نے اپنی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ کے دیبا چہ میں لکھا ہے کہ مصطفوی شریعت کے لئے وقت آ گیا ہے کہ برہان اور دلیل کے پیرا ہنوں میں ملبوس کرکے اس کو میدان میں لایا جائے۔"

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان سطرون کے لکھے ہوئے ڈھائی سو سال گزر گئے مگر ابھی تک صحیح معنوں میں مذکورہ قسم کی مدلل کتاب اسلام پرنہ لکھی جاسکی۔ شاہ ولی اللہ صاحب کی کتاب ( حجت اللہ البالغہ) روایتی انداز کی کتاب ہے۔ شیخ حسین جسر کی کتاب قصه الايمان بين العلم والفلسفة والقرآن فرضی مکالمہ کے روپ میں ہے جوایک غیرعلمی طریقہ ہے۔ شبلی نعمانی کی کتاب (الکلام،)قدیم کلامیات کا اردو زبان میں اعادہ ہے۔ سید قطب ،اقبال، ابو الاعلی مودودی، ابو الحسن علی ندوی وغیرہ کی کتابوں میں سے کوئی کتاب ایسی نہیں جس کو جدید استدلالی معیار پر رکھا جاسکے۔

غیرمسلموں نے البتہ اس موضوع پر قابل قدر کام کیا ہے۔ مثلا فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی ۔

15 جولائی 1990

مسٹر محمد علی جناح نے جس پاکستان کا نقشہ پیش کیا تھا اس کا نصف حصہ مشرق میں تھا اور نصف حصہ مغرب میں تھا۔ اور دونوں کے درمیان اسی دشمن ملک کا ایک ہزار میل کا رقبہ حائل تھا۔ جس سے الگ ہونے کے لئے مسٹر جناح اپنا پاکستان بنا رہے تھے۔

کہا جا تا ہے کہ تحریک کے زمانہ میں ایک انگریز نے مسٹر جناح سے سوال کیا کہ آپ پاکستان کی صورت میں ایک علیحدہ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ جغرافیہ کاقانون واضح طور پر آپ کے خلاف ہے۔ اس کے جواب میں مسٹر جناح نے اپنی ایک تقریر میں کہا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

*Some people are talking about some Geographical difficulties in the way

opposing viewA view stated in order to be argued against

of Pakistan. May I ask them by what rule of Geography are they here."

کچھ لوگ کہہ رہے کہ پاکستان کی راہ میں کچھ جغرافی مشکلیں ہیں۔ کیا میں ان سے پوچھ سکتا ہوں کہ جغرافیہ کے کس قانون کے تحت وہ یہاں ہیں۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

انگریز انگلینڈ اور انڈیا کو ایک ملک نہیں کہتے تھے۔ ان کی حیثیت حاکم کی تھی جو اپنی برتر طاقت کے ذریعہ ا نڈ یا پر حکومت کر رہی تھی۔ اس کے برعکس مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) مسٹرجناح کے بیان کے مطابق، دونوں ملک ایک تھے ۔ ان دونوں بعید الوقوع خطوں کو ایک ایسے واحد ملک کی حیثیت دی جار ہی تھی جہاں صرف ایک قوم بستی تھی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسٹر جناح کا یہ جواب ظاہری حسن کے باوجود بالکل لغو تھا۔ مگر آجکل کے زمانہ میں وہی شخص لیڈر بنتا ہے جو ایسے الفاظ بول سکے جو بظاہر خوبصورت مگرحقیقتہ بالکل بے معنیٰ ہوں۔

16 جولائی 1990

ڈاکٹراسرار احمد صاحب کی ایک تقریر ماہنامہ میثاق (جولائی1990)میں چھپی ہے۔ اس تقریر میں وہ کہتے ہیں کہ :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

" قیام پاکستان کے 33 برس بعد 1980 میں پہلی مرتبہ بھارت گیا ہوں تو آپ اندازہ نہیں کرسکتے که علی گڑھ کے مسلمانوں کی باتوں سے کس طرح میرا کلیجہ شق ہوا ہے۔ وہ لوگ کہتے تھے کہ 1971 تک ہمارا یہ خیال تھا کہ پاکستان ہمارا محافظ ہے ، لیکن اب ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی حفاظت ہی کرلے تو بڑی بات ہے۔ ہمیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔ اب ہم بھیڑ بکریوں کی طرح نہیںمریں گے، بلکہ مارکر مریں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مجھے نہیں معلوم کہ علی گڑھ کے کن مسلمانوں نے ڈاکٹراسرار احمد صاحب سے مذکورہ بات کہی۔ تاہم ان کی پہلی بات بھی بے معنی تھی اور دوسری بات بھی بے معنی۔ ہندستان کے مسلمانوں کی حفالت نہ پاکستان کرتا ہے اور نہ ان کا" مار کر مرنے" کا مزاج ۔ حقیقت یہ ہے ہندستانی مسلمانوں کے مسئلہ کاحل صرف ایک ہے، اور وہ حقیقت پسندی ہے۔ مسلمانوں کی جذباتیت ان کا مسئلہ ہے اور حقیقت پسندی ہی وہ چیز ہے جو ان تمام مسائل کو حل کر سکتی ہے۔

17 جولائی 1990

کچھ ہندستانی اخبار نویس ہندستان کی شمالی سرحد پر لے جائے گئے۔ وہاں ان کی ملاقات چار کشمیری دہشت گردوں سے کرائی گئی جن میں سے ایک سلیم زر گر (وفیسر مشیر الحق کا قاتل) بھی تھا۔ اس کی رپورٹ دہلی کے 17جولائی1990 کے اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ، چار میں سے تین دہشت گردوں نے اپنی تحریک کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا۔ سلیم زرگر نے اخبار نویسوں کے ایک جواب میں کہا ہم کو پاکستان نے دھوکہ دیا۔ انھوں نے کہا تھاکہ تحریک تم شروع کر و ، جنگ ہم کریں گے لیکن جنگ نہ ہوئی اور نہ ہم کامیاب ہوئے۔ "

other sourceWords of another person or source

یہ بات بظا ہر صحیح معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے (میثاق جولائی۱۹۹۰ )میں پرجوش طور پر کہا ہے کہ پاکستانی قوم کشمیر کے معاملہ میں انتہائی بزدل ہوگئی ہے ۔ آج کشمیر کے معاملہ میں ہمارا اجماع ہے کہ دیکھنا، کوئی ایسی حرکت نہ کر ناکہ بھارت کو جنگ چھیڑنے کا موقع مل جائے ۔ یہ ہے ہمارے خوف کا عالم اور ہمارے لرزہ براندام ہونے کی کیفیت ۔ ” مجاہد اول " سے لیکر " مجاهد آخر" تک سب جنگ سے خائف ہیں۔ مجاہداول کی ساری مجاہدانہ تقریریں ہباء منثورا ہوگئی ہیں۔ اور اب وہ ایک ہی بات کہ رہے ہیں کہ احتیاط ، احتیاط ،احتیاط۔ مجاہد آخر قاضی حسین احمد (امیر جماعت) کا حال یہ ہے کہ ایک ہی سانس میں دو باتیں کہتے ہیں، جہاد و قتال کی بھی اور جنگ سے گریز کی بھی۔ (صفحہ ۲۳-۲۴ )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ غیر ذمہ داری کی انتہا ہے کہ جذباتی تقریریں کرکے قوم کے نوجوانوں کولڑنے بھڑنے پر لگایا جائے ، حالاں کہ خود جنگ لڑنے کا کوئی حقیقی ارا دہ نہ ہو ۔

18 جولائی 1990

ڈائری کے صفحہ ۲۰ اپریل۱۹۹۰ میں پروفیر مشیر الحق کے قتل کا ذکر ہے۔ ان کو عین روزہ کے دن سرینگر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کا قاتل 25سالہ سلیم زرگر تھا۔ کشمیرکی پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا ہے۔ 14 جولائی1990 کووہ اخبار نویسوں کے سامنے لایا گیا۔

قومی آواز (17 جولائی 1990) کا نمائندہ کہتا ہے کہ کشمیر کے شمالی علاقہ میں بار ڈرسکوریٹی فورس کے ایک انٹروگیشن سنٹر میں چار گرفتار دہشت گردوں سے ملنے کا موقع ملا۔ ان میں سے ایک پست قد نوجوان سلیم زرگر تھا۔ اس نے مشیر الحق جیسے مسلمان کو ہلاک کرنے کے لئے پندرہ گولیاں ان کے سینے میں اتار دیں۔ سلیم سے پوچھا گیا تم نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے کہا کہ اسلام کا نظام قائم کرنے کے لئے۔ جب میں نے کہاکہ مشیر الحق تو اسلامیات کا ماہر تھا۔ وہ باقاعدہ نماز روزہ کرتا تھا۔ پھر اس کو کیوں مارا۔ بولا کہ حکم جو ملا تھا۔ میرے کمانڈر کاحکم تھا، اس لئے میں نے ایسا کیا۔

other sourceWords of another person or source

سلیم زرگر کی تصویر اخبارات میں چھپی ہے۔ اس کے چہرہ پر داڑھی نظر نہیں آتی ۔ کشمیر کے یہ جو نوجوان اقبال اور خمینی اور مودودی کے افکار سے متاثر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم بندوق کی گولی کے زور پر اسلام لائیں گے ، پہلے کشمیرمیں اور پھر ساری دنیامیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خو د چنگیزی کر رہے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ ہم چنگیزی کومٹانا چاہتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

19جولائی 1990

موجودہ صدی میں مسلمانوں کے اندر جتنی بھی بڑی بڑی تحریکیں اٹھی ہیں، وہ سب کی سب خارجی اشو پر مبنی تھیں۔ خلافت کا اشو ، تقسیم کا اشو، ہند وخطرہ کا اشو، بابری مسجد کا اشو وغیرہ ۔ ہر بارمسلمان کسی نہ کسی خارجی مسئلہ پر بھڑک کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

مگر اس قسم کی تمام تحر یکیں بالکل بے فائدہ ہیں۔ اصل تحریک وہ ہے جو افراد قوم کو باشعور بنانے کے لئے اٹھائی جائے۔ مگر (الرسالہ مشن کے سوا)اس قسم کی کوئی تحریک پچھلی پوری صدی کے اندر نہیں اٹھی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اینٹ نہ بنائی جائے البتہ چھت کھڑی کرنے کے لئے دھوم مچائی جائے۔

20 جولائی 1990

" تجدید و احیا، دین" مولانا ابو الاعلی مودودی کےفکر کی بنیادی کتاب ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ Revivalist movement in Islam کے نام سے چھپا ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مفکرین اپنی تحریکوں کو احیاء اسلام یا تجدید دین کا نام دیتے ہیں۔ مگر ان کی کتابوں کو پڑھئے تومعلوم ہوگا کہ ان لوگوں کے نزدیک احیاء (Revival) سے مراد اسلامی غلبہ کا احیاء ہے نہ کہ اسلامی دعوت کا احیاء۔

یہ بنیادی غلطی ہے جس میں موجودہ زمانہ کے تمام مفکر ین مبتلا رہے ہیں۔ اسلامی احیاء کی تحریک صرف وہ ہستی ہے جو اپنا کام وہاں سے شروع کرے جہاں سے اسلام شروع ہوا ۔ اسلام مکہ میں دعوت توحید اور انذار آخرت سے شروع ہوا۔ مگرموجودہ زمانہ کے مفکرین کی تحریریں بتاتی ہیں کہ وہ دعوت الی اللہ کے حقیقی تصورسے بالکل نا آشنا تھے ۔ وہ صرف اسلام کے دور حکومت کو جانتے تھے اور کسی ایک یا دوسری شکل میں اسی دور حکومت کے اخبار کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

21 جولائی 1990

ڈاکٹر عابد سعید ( بلگراسی) نے الرسالہ کی صبرو اعراض کی پالیسی کی شکایت کی۔ پھر گفتگو کے دوران انھوں نے بتایاکہ میرا ایک لڑ کا انجنیر ہے۔ وہ سعودی عرب میں کام کرتا ہے۔ ایک روز اس کے ڈائر یکٹر نے اس کے کام کی تعریف کی۔ اس نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ اپنی ڈیوٹی پوری مستعدی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ ہم آپ کے کام سے خوش ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مذکورہ دفتر میں ایک سعودی شخص منیجر ہے ۔ وہ کچھ کام نہیں کیا۔ ڈاکٹر عابد سعید کے صاحبزادہ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلاں صاحب تو صرف اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے سگریٹ پیتے رہتے ہیں۔ اس سے دفترمیں کام کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ یہ سنتے ہی ان کا ڈائرکٹر سنجیدہ ہوگیا۔ اس نے کہا کہ وہ اعلی سعودی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ کچھ نہ کرنے ہی کی قیمت پاتا ہے۔ آپ کو اس کی سرگرمیوں پر اعتراض کی ضرورت نہیں۔

other sourceWords of another person or source

He is paid for doing nothing. You are not supposed to object about his activities.

میں نے کہا کہ پھر آپ نے اپنے صاحبزادہ کو کیا مشورہ دیا۔ انھوں نے بتایاکہ میں نے کہاکہ تم اس کی فکر چھوڑ دو ، اپنا کام کرو۔ میں نے کہا کہ اسی طرز عمل کا نام صبرو اعراض ہے۔ صبرو اعراض زندگی کا ایک اصول ہے ۔ اس کی ضرورت ہر جگہ ہے ، عرب میں بھی اور ہندستان میں بھی ۔میں مسلمانوں سے صرف یہ کہتا ہوں کہ تم جس طرح دوسرے ملکوں میں صبر واعراض اور ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ رہتے ہو اسی طرح ہندستان میں بھی رہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

22 جولائی 1990

آج کا انسان اصول کے معاملہ میں انتہائی بے حس مگر ذات کے معاملہ میں انتہائی حساس ہے۔ ۔ ایک منظر آنکھوں کے سامنے سے گزرا۔اس کے بعد یہ الفاظ میری زبان پر آگئے۔ آج کے انسان کا حال یہ ہے کہ اس کی اپنی ذات زدمیں آئے یا اس کا اپنا مفاد خطرہ میں پڑ جائے تو وہ آخری حد تک بے چین ہوجائے گا۔ لیکن اگر حق وصداقت کا اصول مجروح ہورہا ہو تو اس کے بارہ میں اس کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی ۔

آج سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انسان کے اس مزاج کو بدلا جائے۔ اگر یہ حالت زیادہ دیر تک باقی رہی تو یقینی ہے کہ ساری انسانیت خدا کے غضب کی مستحق ہو جائے گی۔ اور اس کے بعد اس کو کسی درخت کا سایہ بھی نہ ملے گاجہاں وہ پناہ لے سکے۔

23 جولائی 1990

مولانا شبلی نعمانی نے 1914 میں کہا تھا :

زوال دولت عثمان زوال شرع وملت ہے عزیزو فکر فرزند و عیال و خانماں کب تک

اس شعر کے بعد "دولت عثمانی" کا زوال آخری حد تک پہنچا۔ یہاں تک کہ 1924 میں اس کا خاتمہ ہوگیا۔اگر شبلی کی یہ بات صحیح ہوتی تو اس کے بعد شریعت اور ملت کا بھی خاتمہ ہوجانا چاہئے تھا۔ مگر آج شریعت و ملت پہلے سے زیادہ طاقت در حالت میں قائم ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر مسلمانوں کے نادان لکھنے اور بولنے والوں نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ وہ بار بار اسی قسم کی باتیں دہراتے رہے یا ملک کی تقسیم کے بعدکہاگیا کہ اردو زبان مسلمانوں کی حیات ملی کی علامت ہے۔ اگر اردوگئی توملت بھی گئی۔ اس کے بعد کہا گیا کہ مسلم یو نیورسٹی مسلمانوں کے کی بقا کی علامت ہے۔ اگر مسلم یونیورسٹی کا مسلم کر دارختم ہو ا تو مسلمان بھی اس ملک سے ختم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد کہا گیا کہ پرسنل لا محفوظ نہ رہا تو مسلمان بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اب آجکل یہی حیثیت بابری مسجد (اجودھیا ) نے لے لی ہے۔ مثال کے طور پر اس کے ایک پرجوش تحریری نقیب مولانا مجیب اللہ ندوی لکھتے ہیں :

" بابری مسجد کامسئلہ صرف ایک مسجد کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ علامت ہے ہندستان میں شعائر اسلامی کی حفاظت کی جدوجہد کی۔ اگرہم اس محاذ پر پیچھے ہٹ گئے تو پھرنہ جانے کتنے محاذوں پر ہمیں پیچھے ہٹنا پڑے گا (الرشاد جولائی1990،صفحه2)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ سب بالکل لغو باتیں ہیں۔ اور ان کی لغویت کا یہ ثبوت کافی ہے کہ ان تمام علامتی محاذوں پرمسلمان بار بار شکست کھا رہے ہیں۔ اس کے باوجود اسلام پوری طرح قائم اورمحفوظ ہے۔

24 جولائی 1990

آج عشاء کی نمازکسی قدر دیر سے پڑھی۔ نمازختم کی تو اچانک موت کا خیال آتے ہی جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ دل نے کہا کہ موت کسی شخص کے لئے بلاشبہ سب سے زیادہ سنگین واقعہ ہے۔ اس کی سنگینی کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ وہ دارالعمل سے ابدی انقطاع ہے اور دارالجزاء میں ابدی داخلہ۔ کس قدر بھیانک ہے حقیقت مگر دنیا میں شاید کوئی ایک آدمی بھی نہیں جو بھیانک حقیقت کا واقعی احساس رکھتا ہو ۔

25 جولائی 1990

جھینگر کی قسم کا ایک کیڑا ہے جوٍ زیادہ تر گرم ملکوں میں پایا جا تا ہے ۔ اس کو انگریزی میں مینٹس (Mantis) کہا جاتا ہے۔ وہ چھوٹے بڑے مختلف قد کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کی ایک ہزار سے زیادہ قسمیں دریافت کی گئی ہیں۔ اس کیڑے کی ایک قسم وہ ہے جو اپنے اگلے پاؤں اس طرح رکھتی ہے جیسے نماز پڑھنے والا نماز کے وقت ہاتھ باندھتا ہے، چنانچہ اس کو عبادت گزار کیڑا(Praying Mantis) کہا جاتا ہے۔

مگریہ بات صحیح نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جھینگر خدا کی عبادت کر تا ہے تو شیر اور ہا تھی جیسے جانور بھی اسی طرح خدا کی عبادت کیوں نہیں کرتے۔ کیا خدا کی عبادت گزاری صرف جھینگروں اور پتنگوں کے لئے ہے۔

یہ صحیح ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کی عبادت کر تی ہیں ۔ مگراس عبادت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مسجد کے نمازی کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا کے مقرر کئے ہوئے قوانین پر چلتی ہیں۔ اس اعتبار سے کائنات کی ہر چیز کامل عبادت گزار ہے ،خواہ وہ آسمانی چیزیں ہوں یازمینی چیزیں۔

26 جولائی 1990

جمعیتہ علماء ہند کے تحت ایک اردو ہفت روزہ'' الجمیعہ'' کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ20 - 26 جولائی1990 میں حافظ سہارنپوری کی ایک نظم چھپی ہے۔ اس کا ایک شعر یہ ہے :

ہورہا ہے یہ تقاضا گردش ایام کا لے کے جھنڈاہم اٹھیں اپنے خدا کے نام کا

اس کو پڑھ کر خیال آیا کہ اللہ کا مطلب مسلمانوں نے یا تو یہ سمجھا کہ لفظ اللہ کو لے کر اسے رٹا جائے۔ چنانچہ بے شمار لوگ گوشوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کی لفظی تکرار کر رہے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نام پر اقوام غیر سے جنگ چھیڑ دی جائے۔ اللہ اکبر کا نعرو لگا کر لوگوں کے اوپرحملہ کر دیا جائے۔

یہ دونوں ہی باتیں لغو ہیں۔ صحیح بات تکبیررب اور دعوت الی اللہ ہے۔تکبیررب کا مطلب ہے ان کی عظمت و کبریائی کو اپنے شعور میں داخل کرنا۔ اللہ کے وجود ، اس کی صفات کمال اور اس کے آلاء کی یاد میں جینا۔ اپنے اندر ایک ربانی انسان کی پرورش کرنا۔

دعوت الی اللہ اسی عمل کا خارجی رخ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے جس خدائےبرتر کو پایا ہے ، اس سے دوسروں کو باخبر کرے۔ وہ لوگوں کو بتائے کہ اس دنیا کا خالق و مالک ایک ایک ہے۔ موجودہ دنیا کو اس نے امتحان کے مقصد سے بنایا ہے، موت کے بعد وہ ہر آدمی کا حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق انعام یا سزا دے گا۔

27 جولائی 1990

اس دنیا میں سب سے نادر چیز کامل انسان ہے۔ کامل انسان وہ ہے جو متوازن شخصیت کا حامل ہو۔ جو عقدنفسی سے خالی ہو۔ جو ایک بے زور دلیل کے آگے اس طرح جھک جائے جس طرح کوئی شخص زور کے آگے جھکتا ہے۔ جو بات کو بات کے اعتبار سے دیکھے، نہ اس اعتبار سے کہ وہ اس کے موافق ہےیا اس کے خلاف ۔جوارنا الاشیاءکماھی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جواعلی ترین صلاحیت رکھنے کے باوجود آخری حد تک متواضع بن جائے۔ میں کادل ہرقسم کے منفی جذبات سے خالی ہو۔ جو اپنے اور غیر کا فرق کئے بغیرحقیقت کو دیکھ سکتا ہو جو ذاتی مفاد اور شخصی حرکات سے آخری حد تک بلند ہو ۔ جو اپنی ذات میں جینے کے بجائے بر تر حقائق میں جیتا ہو۔

خدا بلاشبہ ہر ہرانسان کو کامل انسان بناسکتا ہے۔ مگر اسباب کے دائرہ میں ایسے کسی انسان کا ظہور میں آنا اس دنیا کا سب سے زیادہ کمیاب واقعہ ہے۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعہ صحرائے عرب میں ایک نسل پیدا کرنے کی جو منصوبہ بندی کی اس میں اگر چہ ہزاروں اور لاکھوں قیمتی انسان پیدا ہوۓ ۔ مگرڈھائی ہزار سال کی لمبی مدت میں انسان کامل صرف تین پیدا ہو سکے :

محمد بن عبد الله اول الثلاثة

ابو بکر بن ابی قحافه ثانی الثلاثه

عمر بن الخطاب ثالث الثلاثة

28 جولائی 1990

پاکستانی ماہنامہ میثاق کا شمارہ اکتوبر 1987دیکھ رہا تھا۔ اس میں ڈاکٹر اسرار احمدصاحب کی ایک تقریرچھپی ہے جو انھوں نے 14اگست 1987 کولاہور کی مسجد دارالسلام میں کی تھی۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

" کراچی کے قریب نصف حصہ پر کرفیو نافذ ہے۔ شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔کر وروں رو پیہ کے کاروبار کا روز انہ نقصان ہو رہاہے۔ اس بگاڑ کی شروعات کی یہ بات ہے کہ وہاں کی ایک گنجان آبادی اور پولیس کے مابین تصادم سے صورت بگڑ گئی۔ پولیس نے لوٹ مار کی اور بڑی بے دردی کے ساتھ فائرنگ کی اور لوگوں کوقتل کیا۔ کراچی کی پولیس میں پنجابیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ فرض کیجئے، کہیں کوئی مظاہرہ یا ہنگامہ ہوتا ہے اور پولیس اس پرقا بو پانے اور اسے فرو کرنے کے لئے وہاں پہنچتی ہے۔ اب مجمع کے اندر کچھ تخریب کار بھی ہیں۔ انھوں نے نشانہ لیا اور دو چار پولیس والے مار دے۔ حالاں کہ وہاں پولیس آئی تھی نظم ونق کو بحال رکھنے کے لئے ۔ لیکن جب تخریب کاروں نے پولیس کے خلاف فائرنگ کھول دی تو ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ پولیس کی طرف سے رد عمل کی صورت میں ہوگا۔ اور یہ ہنگامے عوام مقابلہ (versus) پولیس رخ اختیار کر لیں گے۔ اور چونکہ پولیس میں زیادہ نفری پپنجابیوں کی ہے اور کراچی میں عوام کی اکثریت مہاجرین پر مشتمل ہے ،لہٰذا بڑی عیاری سے تخریبی عناصر کی جانب سے پنجابی ۔ مہاجر تصادم کا رنگ دیدیا جا تا ہے '' صفحہ69

ٹھیک یہی کہانی ہندستان میں بھی دہرائی جاتی ہے۔ نیز اس کے موقع پر پولیس نظم ونسق کی بحالی کے لئے آتی ہے۔ مگر مسلمان مشتعل ہو کر پولیس کے خلاف اقدام کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ جو مسلہ پہلے پولیس اور فسادیوں کے درمیان تھا، وہ پولیس اور مسلمانوں کے درمیان ہو جا تا ہے۔ اور پھر وہی کچھ پیشت آتا ہے جو کراچی میں پیش آیا ۔

29 جولائی 1990

حج کے مراسم میں ایک رمی جمارہے۔ یہ مقامی منیٰ میں ہے۔ منیٰ کا علاقہ پہاڑیوں سے گھرا ہواہے۔ آٹھ سال پہلے سعودی حکومت نے منیٰ جانے کے لئے ایک پہاڑی کو کاٹ کر سرنگ بنادی جس کو المعیصم کہا جاتا ہے۔ یہ سرنگ457 میٹرلمبی اور 18 میٹر چوڑی ہے۔ اس سے حاجیوں کے لئے 2 کیلو میٹر کا فاصلہ کم ہوجاتا ہے۔ 2 جولائی1990 کوحج کے موقع پر اس سرنگ میں حاجیوں کی بھگدڑ ہوگئی۔ اس سے 1426 حاجی دب کر مر گئے۔ بہت سے زخمی ہوئے ۔

ڈاکٹر اشفاق احمد انجنیر (مقیم آسٹریلیا )کا بیان نئی دنیا(13 - 19 جولائی1990) میں چھپا ہے وہ خود اس سال حج کرنے گئے تھے اور حادثہ کے وقت اس سرنگ میں موجو دتھے۔

other sourceWords of another person or source

ڈاکٹر اشفاق احمد نے بتایا کہ سرنگ میں ایک ہی راستہ آنے اور جانے کے لئے ہے،اس لئے روزانہ آمدورفت کی وجہ سے سرنگ میں کا فی بھیڑ جمع ہوگئی ۔ 8 بجے صبح ملیشیا اور انڈونیشیا کے حاجیوں کا ایک بڑا ہجوم سرنگ میں داخل ہوا۔ دوسری جانب ترک حاجیوں کا ایک بڑا گروپ واپس آرہا تھا۔ اس کے نتیجہ میں سرنگ کے اندر بیک وقت 50 ہزار حا جی اکٹھا ہوگئے۔ ان میں سے کوئی پیچھے ہٹنےیا دوسروں کو راستہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوا ۔ اور اس کو انانیت کا مسئلہ بنالیا۔ یہاں تک کہ دھکا مکی شروع ہوگئی۔ حاجیوں نے افراتفری میں اپنا راستہ بنانے اور سرنگ سے نکل جانے کے لئے ایک دوسرے پر مکوں اور گھونسوں اور چھاتوں کی نوک سے حملے کرنے شروع کر دئے شیطان کو کنکری مارنے والے انسانیت سوز حرکت پر اتر آئے ۔اس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ نیچے گر پڑے اور بھیڑ نے انھیں روند ڈالا ۔ بھگدڑ میں لوگ کچل کر مرگئے (صفحہ9)

other sourceWords of another person or source

اس واقعہ نے دراصل مسلمانوں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہی انانیت مسلمان ہر جگہ دکھارہے ہیں۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ حج کا اجتماع بھی اب اس سے محفوظ نہیں رہا۔

30 جولائی 1990

پاکستانی اخبار نوائے وقت (22 جون 1990 ) نے لندن کے اخبار Observer) سے مسٹر ایلٹنAdrian Hamilton) کا مضمون نقل کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اسلام کے بھوت کو دفن کر دیا جائے :

other sourceWords of another person or source

Time to bury the bogy of Islam

اس میں مضمون نگار نے کہا ہے کہ ترک دوبارہ وائنا کے دروازہ پر پہنچ رہے ہیں۔ کمیونزم ہوسکتا ہے کہ مرگیا اور مگراب جو حقیقی خطرہ ہمارے لئے ہے وہ اسلام کا ہے:

other sourceWords of another person or source

Communism may be dead, but what we really need to fear is a resurgent Islam.

یہاں اسلام کا لفظ مسلمان کے معنی میں ہے۔ مہذب دنیا کے لوگ تشویش محسوس کر رہے ہیں کہ مسلم دیوانوں کے ہاتھ میں اگر ایٹم بم آ جائے تو وہ اس کو استعمال کر ڈالیں گے ، خواہ اس کے نتیجہ میں وہ خود بھی بر بادہوں اور ساری دنیا کو مصیبت میں مبتلا کر دیں کسی وقت اسلام سے لوگوں کو رحمت ملی تھی۔ آج دنیا کو اسلام سے صرف زحمت کا اندیشہ مل رہا ہے ۔کیسے عجیب ہیں یہ مسلمان ، جن کے پاس نہ اسلام ہے اور نہ عقل ، اس کے باوجود انھیں اصرار ہے کہ وہ احمقانہ ہنگاموں کا بازار ضرور گرم کریں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

31 جولائی 1990

29 جولائی 1990 کے تحت میں نے حج کے حادثہ کی بابت ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب کا بیان نقل کیا ہے ۔ اس کی مزید تائیدعبد الماجد ندوی صاحب کے بیان سے ہوئی ۔ وہ کشمیر (پونچھ) سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بھی اس سال حج کے لئے گئے تھے اور وہ سرنگ کے اندرخود بھی پھنس گئے تھے۔ بڑی مشکلوں سے وہ باہر آئے، واپسی کے بعد وہ ہمارے دفتر میں آئے اور ڈاکٹر اشفاق کے بیان کی تائید کی۔

مگر اس سے پہلے اس واقعہ کے بارہ میں ایرانیوں کے حوالے سے جو خبر پریس میں چھپی وہ سراسر اس سے مختلف تھی، ایرانی چوں کہ اس سال بطور احتجاج حج کے لئے نہیں گئے۔ اور ان کا مطالبہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کومسلم ممالک کی بین اقوامی نگرانی میں دیدیا جاۓ۔ اس لئے انھوں نے اس حادثہ کے بعد ایک جھوٹی رپورٹ تیار کی تاکہ ان کے دعوے کی تائید فراہم ہوسکے۔

ان کے بیان کے مطابق، مذکورہ تاریخ کو سرنگ میں حاجیوں کی بڑی تعداد اکھٹاہو گئی۔ اس وقت کچھ حاجیوں نے جوش میں آکر اللہ اکبر کا نعرہ لگا دیا۔ اس نعرہ کو سن کر سعودی پولیس یہ سمجھی کہ سرنگ کے اندرا پرانی گھس گئے ہیں اور وہی یہ نعرہ لگار ہے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے بجلی بن کر دی، بجلی بند ہونے سے سرنگ کے اندر اندھیرا چھا گیا اور ایئر کنڈیشنررک جانے کی وجہ سے آکسیجن کی سپلائی کم ہوگئی ۔ اس کو دیکھ کہ حاجیوں میں بھگدڑ مچ گئی اور بہت سے لوگ دب کر مر گئے ۔

یہ ساری خبر بالکل فرضی تھی ۔عبد الماجد صاحب نے بتایا کہ روشنی سرنگ کے اندر موجو د رہی. حادثہ کا سبب صرف یہ تھا کہ دونوں طرف سے بڑی تعدادمیں حاجی گھس آئے ۔ اور دونوں میں سے کوئی پیچھے ہٹے پر راضی نہ ہوا ، اس لئے یہ حادثہ پیش آیا۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it