Maulana Wahiduddin Khan
34 min left
0:00

← Diary 1989-1990
Diary 1989-1990

June 1990

English · 34 min read

یکم جون 1990

قرآن میں منکرین کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ جب ان کو قرآن کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ متکبرانہ طور پر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ لیکن اگر وہ آیات قرآن میں کوئی"شئی" جان لیں تو فوراً اس کا استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے ۔ (الجاثیہ 9-8 )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں ایسی" شئ "رکھی ہی کیوں گئی جس میں استہزاء کی گنجائش ہو۔ اس کا مقصد آزمائش ہے ۔ تاکہ خدا قیامت میں ان سے کہے کہ تم جب شوشہ والی بات کو جاننے میں اتنے ذہین تھے توحقائق کو جانے میں اتنے بے وقوف کیوں بن گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2 جون 1990

دہلی کے انگریزی ہفت روزہ نیشن (یکم جون 1990) میں قدیم دہلی کی شخصیتوں کا حال چھپاہے۔ ان میں سے ایک لالہ کیدار ناتھ ہیں۔ وہ لالہ رام جس کے لڑ کے تھے ۔ لالہ رام دہلی کے ایک حلوائی تھے۔ ان کے لڑکے لالہ کیدار ناتھ نے تعلیم حاصل کی اور برطانی دور میں سشن جج بنے ۔

other sourceWords of another person or source

لالہ کیدار ناتھ نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا۔ انھوں نے اپنے باپ کے نام پر رام جس کالج قائم کیا۔ اس کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں دہلی میں اسکول کھولے حتی کہ ان کے قائم کردہ پرائمری اسکولوں کی تعداد میونسپیل پر ائمری اسکولوں سے بھی زیادہ ہوگئی۔

لالہ کیدار ناتھ نے اپنی پوری زندگی تعلیم کے لئے وقف کر دی۔ اپنی کمائی اور اپنے باپ کی کمائی سب انھوں نے اسی راہ میں لگا دی ۔حتی کہ اپنا گھر بھی دے دیا۔ آخر عمر میں وہ ایک ہوسٹل میں رہتے تھے اور عام طلبہ کی طرح خوراک اور قیام کے لئے پندرہ روپیہ ماہانہ اداکرتے تھے :

The founder of the college gave away all his savings to these institutions. He himself lived in the hostel along with the Students and paid Rs. 15 for

monthly boarding and lodging.

موجودہ زمانہ میں ہندوؤں میں ایسے ہزاروں افراد پیدا ہوئے ۔ مگرمسلمانوں میں غالباً کوئی بھی نہیں۔ سرسید نے بھی صرف کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر سوچا۔ ابتدائی اسکولوں کی اہمیت کو دہ بھی نہ سمجھ سکے۔

3 جون 1990

الطاف حسین حالی (1914 - 1837) نے سوسال پہلے اپنی مشہور کتاب مسدس لکھی۔ اس میں اس وقت کے مسلمانوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا :

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پر تری آکے عجب وقت پڑا ہے۔

اس کے بعد پچھلے سو برس کے درمیان مسلمانوں کے اندر بے شمار تحریکیں اٹھیں۔ انھوں نے زلزلہ خیز ہنگامے بر پا کئے اور ہمالیائی شخصیتیں پیدا کیں ۔ انھیں میں سے ایک پاکستان کی تحریک بھی ہے جس کے بانی کو پاکستان میں صرف "قائد اعظم" کہا جاسکتا ہے ۔ کیوں کہ ان کے نام کے ساتھ (مسٹر محمد علی جناح ) کہنا ان کی توہین ہے ۔

مگر سو برس بعد آج بھی مسلمانوںکی حالت ویسی ہی ہے یا اس سے بھی بدتر ۔ پاکستان کے روزنامہ نوائے وقت (30 مئی 1990 )میں اس موضوع پر ایک مضمون چھپا ہے ۔ اس مضمون کا عنوان دوبارہ حسب ذیل ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امت پرتری آکے عجب وقت پڑا ہے

اس مضمون کا پہلا پیراگراف یہ ہے : ہر باشعور مسلمان کو یہ احساس ہے کہ امت مسلمہ دنیا بھر میں ظالم اور جابرقوتوں کی مشق ستم بنی ہوئی ہے ۔ ہر سمت سے مسلمانوں پر ایک متحد اور منظم یلغار ہے ۔ جس کے ایسے مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کا جذبہ کارفرما ہے۔ خون مسلم کی اس قدر ارزانی شاید چشم فلک نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔ (صفحہ 3)

سوال یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمن کیوں سرگرم ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ دشمن مسلسل اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اور مسلمانوں کی تمام جوابی کوششیں جبط اعمال کاشکار ہوتی چلی جارہی ہیں ۔

4 جون 1990

سعودی حکومت اور سوویت روس کے درمیان سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ ایک ملک کا جہاز دوسرے ملک میں اترنا اب تک مطلق ممنوع تھا۔مگر حال میں سوویت روس کے اندر جو تبدیلیاں ہوئی ہیں ، اس کے بعد نئے واقعات سامنے آرہے ہیں۔

مئی 1990 میں سوویت یونین کی ایر و فلاٹ ( (Aeroflot) نے جدہ اور ماسکو کے درمیان 28 پرواز یں ہیں۔ اور قرآن کے ایک ملین نسخے جدہ سے ماسکو پہنچائے۔ قرآن کے یہ نسخے سعودی کنگ فہد نے روسی مسلمانوں کوہدیتہ دئے ہیں ۔ اور وہ تاشقند ، سمرقند ، قازان اور باکو وغیرہ میں رہنے والے مسلمانوں کو دیئے جائیں گے۔ اس معاملہ کوطے کرنے کے لئے ایک سعودی ٹیم ماسکوگئی تھی جس کے قائد یوسف اخضر تھے۔ کنگ فہد نے اس کے لئے ایروفلاٹ کرخصوصی اجازت دی کہ وہ جدہ میں اتر سکے۔ نیز اس کے جہازوں کو ائیر پورٹ ٹیکس سے مستشنیٰ کر دیاگیا۔

یہ واقعاتی طور پر بتا تا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کیسی عجیب تبدیلیاں ظہور میں آئی ہیں جو عین اسلامی دعوت کے حق میں ہیں۔

5 جون 1990

خواجہ حسن نظامی کو مولانا محمد علی جوہر نے اپنے اخبار میں لکھا تھا کہ وہ " برٹش ایجنٹ" ہیں (نیشن ویکلی، نئی دہلی ، ۱ - ۱۵ جون ۱۹۹۰ ) موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ طریقہ عام رہا ہے ۔ ابوالکلام آزاد کو ہندوؤں کا ایجنٹ کہا گیا، محمد علی جناح کو انگریزوں کا ایجنٹ۔ وغیرہ ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تنقید کا یہ طریقہ نہایت لغو ہے۔ یہ غیراسلامی بھی ہے اور اسی کے ساتھ حد در جہ سطحی بھی۔ مسلمانوں میں اس طرز تنقید کار و ارج بتاتا ہے کہ مسلمان اپنے کردار کے اعتبارسے کتنازیادہ پیچھے جاچکے ہیں۔

6 جون 1990

رنگون (Rangon) برما کا مشہور شہر ہے۔ اب اس کا نام یا نگون (Yangon) کر دیاگیا ہے ۔ یہ حقیقتہ تبدیلی نہیں ہے ، بلکہ سابقہ نام کی طرف واپسی ہے ۔ برمی زبان میں اس شہر کو یا نگون کہا جاتا تھا۔ انگریزوں نے اپنے تلفظ کے مطابق ، اس کو رنگون لکھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد وہ رنگون کے نام سے مشہور ہوگیا۔ اب قومی حکومت نے دوبارہ اس کو یانگون کہنا شروع کر دیا ہے۔

تلفظ کے فرق کا یہ مسئلہ ہر زبان میں ہو تا ہے ۔ یہی فرق عربی زبان میں بھی پایا جاتا تھا۔ ایک ہی لفظ کو مختلف قبائل مختلف تلفظ کے ساتھ بولتے تھے۔ چنانچہ قرآن نازل ہوا تو لوگوں نے اس کو اپنے لہجے میں لکھنا شروع کر دیا۔ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جب قرآن با ضابطہ طور پر لکھا گیا تو اس کو صرف قریش کے لہجہ پر لکھا گیا۔ بقیہ لہجوں پر لکھے ہوئے قرآن کے حصوں کو جلا دیا گیا۔ اس جلانے کی وجہ یہی لہجہ کا اور تلفظ کا فرق تھا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو قرآن کے بارہ میں لوگوں کے درمیان غیرضروری طور پر بے شمار اختلافات پیدا ہوجاتے۔

7 جون 1990

پاکستان کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف امتیاز (Discrimination)پایا جا تا ہے۔ اور یہی یہاں کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے ۔ یہ چیزان کی ترقی کو روکے ہوئے ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ ہندستان کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ دوسروں کا تعصب اور امتیاز نہیں بلکہ ان کی اپنی ذہنی پسماندگی (Intellectual backwardness ) ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انھوں نے کہا کہ یہ تو ایک نیا نقطہ نظر ہے۔ معاشی پسماندگی اور علمی پسماندگی کا لفظ ہم نے سناتھا مگر ذہنی پسماندگی کا لفظ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا۔ میں نے کہا کہ ذہنی پسماندگی سے مراد یہ ہے کہ آدمی فکری محدودیت میں مبتلا ہو ۔ اس کی سوچ اس قابل نہ ہو کہ وہ حقائق کو سمجھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثلا اسی امتیاز والی بات کو لیجئے۔ مجھے اس سے اختلاف نہیں کہ ہندستان میں وہ چیز پائی جاتی ہے جس کو آپ جیسے لوگ امتیاز سے تعبیر کرتے ہیں مگر جب ہم مختلف سما جوں کا تقابل کرتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا امتیاز ہر سماج میں پایا جاتا ہے۔ وہ جس طرح ہندستان میں ہے اسی طرح پاکستان اور عرب ممالک میں ہے۔ یہ وا قعہ بتاتا ہے کہ امتیاز زندگی کی ایک ناگزیرحقیقت ہے نہ کہ سادہ معنوں میں ایک کے خلاف دوسرے کا امتیاز۔

8 جون 1990

پاکستان کی ایک انگریزی جرنلسٹ مسنرنسیم زہرہ انٹرویو کے لئے آئیں۔ میں نے وہی باتیں کہیں جو میں الرسالہ میں لکھتا رہتا ہوں ۔ انھوں نے کہاکہ آپ ایسی باتیں کرتے ہیں گویاکہ ہندستان میں مسلمانوں کا کوئی مسئلہ نہیں۔ مگر میں نے دہلی میں مسٹر کے آرملکانی اور دوسرے ہندو دانشوروں سے بات کی ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کومسلمانوں سے اپنا تاریخی بدلہ چکاناہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

We have to settle, historical scores.

میں نے کہاکہ میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ ایسا کہتے ہیں مگر میں ان باتوں کو نہ کوئی حقیقی خطرہ سمجھتا او رنہ مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں کوئی واقعی رکاوٹ۔

میں نے کہاکہ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں اس طرح کا چیلنج ہمیشہ باقی رہے گا ۔ آپ اس کو کبھی ختم نہیں کر سکتے۔ آپ کا اصل کام یہ ہے کہ حسن تد بیرا ور اپنی منصوبہ بندی کے ذریعہ اپنے آپ کو اتنا طاقت ور بنائیں کہ لوگوں کی اس طرح کی باتیں بے اثر ہو کر رہ جائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عرب کے لوگ اس سے بھی زیادہ سخت باتیں کہتے تھے مگر آپ نے اپنے اعلی منصوبوں کے ذریعہ اس کو بے اثر بنادیا۔

9 جون 1990

1982 میں لندن کے سفر میں میری ملاقات ایک ہندوستانی مسلمان سے ہوئی ۔ ان سے میری پہلی ملاقات ان کے مکان پر ہوئی تھی۔ انھوں نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ہندستان کی فلاں یونیورسٹی سے میں نے فلاں سبجکٹ پر ماسٹر ڈگری لے لی تھی۔ اس لئے مجھے لندن میں آسانی سے کام مل گیا۔ اگر میرے پاس ماسٹر ڈگری نہ ہوتی تو یہاں کوئی معقول کام تلاش کرنامشکل ہوتا۔ انھوں نے اپنے بچوں کے بارے میں فخر کے ساتھ بتایا کہ وہ یہاں کے اسکولوں میں باقاعدہ پڑھ رہے ہیں۔

اس کے دو دن بعد لندن کے ایک اسلامک سنٹر میں پروگرام تھا۔ اس موقع پر میں نے "علم" کی اہمیت پر کچھ باتیں کہیں اور کہا کہ ہندستان کے مسلمانوں کے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ انھیں تعلیم میں آگے بڑھایا جاۓ ۔ اس کے بعد سوال و جواب کا مرحلہ شروع ہوا۔ مذکورہ صاحب نے سوال و جواب کے وقفہ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آپ علم کی باتیں کرتے ہیں ۔ حالاں کہ اب یورپ میں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو بے علمی (De-learning) کی تبلیغ کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے تمام مسائل علم کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ قدیم زمانہ میں جب کہ انسان کے پاس علم کم تھا اس وقت انسان زیادہ پرامن زندگی گزار رہا تھا۔ اس لئے اب میں سابقہ دور کی طرف واپس جانا چاہئے ۔

میں نے سوچا کہ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خود اپنا اور اپنے بچوں کا مسئہ علم کے ذریعہ حل کر رہے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو بے علمی کا سبق دینا چاہتے ہیں ۔

10 جون 1990

آجکل سندھ) پاکستان( میں آگ لگی ہوئی ہے ۔ جہاجرین کے خلاف نفرت اتنی بڑھ گئی ہے کہ سندھی جہاں انہیں پاتے ہیں ، مارتے ہیں ۔ مہاجر مرد اور عورتیں اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ہر طرف عدم تحفظ کا احساس چھایاہوا ہے۔ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے29 مئی1990 کوحیدرآباد سندھ کا دورہ کیاجو بدترین فساد کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پاکستان کے اخبار وفاق (30 مئی1990) کے صف اول پر ایک نمایاں خبرمیں بتایا گیا ہے کہ جنرل اسلم بیگ جب حیدر آباد سندھ کی سڑکوں سے گزرے تو وہاں سے شہریوں نے نعرے لگائے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

المدد المدد ، پاک فوج المدد

سندھ کے مسلمان پاکستانی فوج کی مددکس کے خلاف مانگ رہے تھے۔ جواب یہ ہے کہ خود وہاں کے مسلمانوں کے خلاف پاکستانی مسلمانوں کا ایک طبقہ پاکستانی مسلمانوں کے دوسرے طبقہ سے اپنےآپ کو سخت خطرہ میں محسوس کرتا ہے ،اس لئے وہ فوج کی مدد مانگ رہا ہے۔

پاکستان یہ کہہ کر بنایا گیا تھا مسلمانوں کو ہندوؤں سے خطرہ ہے ۔ مگر پاکستان بننے کے 50 سال بعد یہ حال ہے کہ مسلمانوں کو اس سے بھی زیادہ بڑا خطرہ خود اپنے مسلم بھائیوں کی طرف سےپیش آرہا ہے۔

سندھ کی کل آبادی20 ملین ہے۔ اس میں مہاجرین 6 فیصد ہیں۔ یہ مہاجر زیادہ ترکراچی اور حیدر آباد میں آباد ہیں ۔

11 جون 1990

13 مئی 1990 کو میں فرینکفرٹ سے دلی آرہا تھا۔ یہ لفتھانسا کا جہاز تھا۔ میں نے ایرہاسٹس سے کہہ دیا تھا کہ ڈرنگ میں مجھے صرف فروٹ جوس چاہئے ۔ ناشتہ آیا تو ایک چھوٹے سفید پلاسٹک کے گلاس میں عنابی رنگ کا مشروب تھا ۔ میں نے سمجھا کہ یہ سیب کا جوس ہے۔اٹھا کرمنھ سے لگایا۔ ایک قطرہ منھ میں گیا تھا کہ سخت کڑ وا معلوم ہوا۔ میں نے فورا گلاس کو ٹرے میں رکھ دیا۔

کچھ دیر کے بعد ایر ہائٹس آئی۔ میں نے پوچھا کہ کیایہ شراب ہے۔ اس نے بتایا کہ ہاں یہ انگور کی بنی ہوئی ہلکی شراب ہے جس کو کا گنیک (cognac) کہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ جب ہلکی شراب اتنی کڑ وی ہے تو دوسری شراب کتنی زیادہ کڑوی ہوتی ہوگی ۔ مگرجب کوئی چیز نشہ بن جائے تو آدمی اس کو چھوڑ نہیں پاتا ،خواہ وہ فی الحقیقت کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو ۔

12 جون 1990

ایک مسلمان شاعر نے "دہلی" کا مرثیہ لکھا ہے۔ اس کا ایک شعر یہ ہے:

داستان دہلی مرحوم کی اے دوست نہ چھیڑ نہ سناجاۓ گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز

اس شعر میں بظا ہر'' دہلی'' کا لفظ ہے۔ مگر اس سے مرا دمسلم اقتدار والی دہلی ہے۔ ورنہ دہلی سے مراد اگر دہلی شہر ہو تو دہلی شہر تو آج بھی مزید ترقی یافتہ صورت میں موجود ہے ۔ پھر اس کو مرحوم کہنے یا اس کامرثیہ لکھنے کی کیا ضرورت ۔

موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کے اندر جونفسیات بنائی، وہ تمام تر حکومتی نفیات ہے۔ موجودہ مسلمانوں کو صرف اس دنیا سے دلچسپی ہے جس میں مسلمان حکومت کر رہے ہوں۔ جس دنیا میں مسلمانوں کو سیاسی حکمراں کی حیثیت حاصل نہ ہو اس سے مسلمانوں کو کوئی دلچسپی نہیں۔

یہ نفسیات سراسر باطل ہے ۔ مسلمان وہ ہے جو داعی ہو ۔ اور داعی ہرحال میں اہل عالم سے محبت کرنے والا ہو تا ہے ۔ مسلمانوں کو اپنا سیاسی مزاج بدلنا ہو گا۔ اور اس کے بجائے داعیانہ مزاج اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔ ورنہ خدا کی دنیا میں ان کے لئے ذلت اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

13 جون 1990

مہاراشٹر کی حکومت مہاراشٹر کی اردو اکیڈمی (بمبئی) کو اس سے پہلے پانچ لاکھ روپیہ سالانہ کی مالی امداد دیتی تھی۔ مہاراشٹر کے موجودہ وزیرا وقاف مسٹر جاوید خان نے ریاست کے وزیر اعلی شری شردپوار سے اپیل کی کہ اس امداد میں اضاف کیا جائے ۔ وزیر اعلی نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے مہاراشٹرکی اردو اکیڈمی کی امداد کو بڑھا کر25 لاکھ روپیہ سالانہ کر دیا۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ آج بھی ہندستان میں مسلمانوں کے لئے کتنے زیادہ مواقع حاصل ہیں۔ اگر مہاراشٹر میں20 لاکھ روپیہ سالانہ کی اس رقم کو اردو کی ترقی کے لئے واقعتہ استعمال کیا جائے تو چند سال میں ریاست کے اندر اردو انقلاب آجائے مگر مجھے امید نہیں کہ اس گراں قدر رقم کاکوئی واقعی فائدہ اردو کو پہنچ سکے گا۔ کیوں کہ اس کے لئے ضرورت ہے کہ لگن اور دیانت داری اور اتحاد کے ساتھ کام کیا جائے، اور یہ چیز موجودہ مسلمانوں کے اندر موجود نہیں۔

14 جون 1990

میں قرآن کا حافظ نہیں ہوں ۔ مگر بار بار پڑھنے کی وجہ سے قرآن کی بیشتر آیتیں مفہوم کے اعتبار سے میرے ذہن میں رہتی ہیں۔ جب بھی کوئی بات پیش آتی ہے تو اس سے متعلق آیت کا خاکہ ذہن میں آ جاتا ہے۔

ایسے مواقع پر کبھی آیت کے تمام الفاظ ذہن میں آتے ہیں اور کبھی آیت کا ایک دولفظ ۔جب آیت کا ایک دو لفظ ذہن میں آتا ہے تو میں قرآن کا انڈکس ( المعجم المفھرس لالفاظ القرآن الكريم) دیکھتا ہوں ۔ اس سے پوری آیت اور اس کا حوالہ فورا معلوم ہو جا تا ہے۔ جب میں گھر پر ہوتا ہوں تو قرآن کا یہ انڈکس ہروقت میرے پاس ہوتا ہے اور روزانہ بار بار اس سے مدد لیتا رہتا ہوں۔

ایک بار میں سفر میں تھا۔ کسی موضوع سے متعلق ایک آیت ذہن میں آئی ۔ آیت کا مفہوم ذہن میں تھا۔مگر اس کا صرف ایک عربی لفظ مجھ کو یاد تھا۔ میں نے حافظ کی تلاش کی ۔مسجد میں ایک حافظ مل گئے۔ ان کو میں نے آیت کا ایک لفظ بتایا۔ انھوں نے ایک لمحہ میں پوری آیت پڑھ دی۔ اور بتا دیا کہ یہ کس سورہ میں اور اس کے کس رکوع میں ہے ۔

اس تجربہ کے بعد میں نے سوچا کہ مسلمانوں میں قرآن سے رہنمائی کا ذوق نہیں۔ اگر قرآن سے رہنمائی لینے کا ذوق ہو تو یہ حفاظ قرآن کے چلتے پھرتے زندہ انڈکس بن جائیں۔ ہرجگہ اور ہر وقت لوگ ان سے آیتوں کے حوالے پر کچھ کر ان کے ذریعہ سے قرآنی رہنمائی لیتے رہیں۔

15 جون 1990

دین کا اصل مقصد انسان کو ربانی انسان بنانا ہے ۔ یہی تمام انبیاء کا مشترک مشن تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک مزید کام وہ تھا جس کو قرآن میں ختم فتنہ کہا گیا ہے ۔یعنی شرک کا تعلق اقتدار سے توڑ دیا تاکہ توحید کی راہ میں کوئی سیاسی رکاوٹ باقی نہ رہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے نتیجہ میں اسلام کی تاریخ وجود میں آئی اور مسلمانوں کی حکومت زمین کے بڑے رقبہ میں قائم ہوگئی ۔ اب حکومت کو چلانے کے لئے قانونی نظام کی ضرورت تھی ۔ اس ضرورت نے فقہائے اسلام کو پیدا کیا۔ انھوں نے حکومت کا نظام چلانے کے لئے احکام و قوانین کا ایک پورا ڈھانچہ مرتب کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں مغربی قوموں کا عروج ہوا اور مسلم حکومتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ٹوٹ گئیں ۔ مسلمانوں میں اس کا ردعمل ہوا ۔ اور دوبارہ حاکمانہ حیثیت حاصل کرنے کے لئے ساری دنیا میں اسلام کے نام پر سیاسی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں ۔

ان اسباب کے نتیجہ میں تمام مسلمانوں کے ذہن پر سیاسی طرز فکر غالب آگیا ہے ۔ پوری مسلم قوم (Power conscious) ہوگئی۔ مسلمانوں کے اس سیاسی مزاج نے ان کو حقیقی اسلام سےدور کر دیا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام میں مبتلا ہیں۔

ذہن کے بگاڑ کا مسئلہ سینکڑوں سال سے چلا آرہا ہے۔ تصوف کی تحریک غالبا یہی تھی کہ مسلمانوں کو دوبارہ سیاسی اسلام سے نکال کر ربانی اسلام کی طرف لایا جائے ۔ صوفیاء کا یہ مقصد درست تھا مگر اس کے لئے انھوں نے غلط طریق کار اختیار کیا۔ ربانیت حاصل کرنے کا اصل طریقہ تفکر ہے۔ مگر اس کو انھوں نے اوراو پرقائم کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں تبلیغی جماعت بھی اسی قسم کی اصلاحی کوشش کے طور پر اٹھی۔ مگر اس نے بھی یہ غلطی کی کہ فضائل کوربانی بیداری کا یہ بنایا۔ حالاں کہ ربانی بیداری کا صحیح ذریعہ ذہنی معرفت ہے۔

اب پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں میں سیاسی مزاج کو ختم کیا جائے۔ اور اس کی جگہ ربانی مزاج پیدا کیا جائے۔ جب تک یہ ذہنی اصلاح نہ ہومسلمانوں میں کوئی حقیقی اسلامی بیداری نہیں آسکتی۔

16 جون 1990

آرنلڈ ٹوائن بی (1975 - 1889) ایک ممتاز انگریز مورخ ہے ۔(1945ـ 55) میں اس کو غیرمعمولی شہرت حاصل ہوئی ۔ مگر اس کے بعد اس کا زوال ہوگیا۔ اس کی وجہ تھی کہ وہ یہودی قوم اور یہودی مذہب پر تنقید کرتا تھا۔ وہ اسرائیلی ریاست کا حامی نہ تھا۔ اس نے علانیہ طور پر عربوں کی حمایت کی۔ اس نے یروشلم جانے کے لئے اسرائیلی دعوت نامہ قبول نہیں کیا۔

other sourceWords of another person or source

اس کے نتیجہ میں یہودی اس کے مخالف ہوگئے۔ یہودیوں کے تعلیم یافتہ لوگوں نے اس کے خلاف کتا بیں اور مضامین لکھنا شروع کیا۔ اس کے یہودی مخالف خیالات (Anti-Jewish view ) کی بنا پر اس کو اتنا زیادہ بد نام کیا گیا کہ لائق ہونے کے باوجود اس کو نہ سرکا خطاب ملا اور نہ نو) انعام دیا گیا ۔

آرنلڈ ٹوائن بی اسلام سے متاثر تھا۔ اس نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے مستقبل کا مذہب اسلام ہو گا۔ عرب ۔ اسرائیل معاملہ میں وہ ہمیشہ عربوں کی حمایت کرتا تھا۔ اس نے ہندستان اور پاکستان کا سفر کیا اور ایک کتاب Between Oxus and Jamuna) لکھی۔ اس میں وہ ہندستان کی جمہوریت کے مقابلہ میں صدر ایوب خان کی بینک ڈیموکریسی کی تعریف کر تا ہے ۔ وغیرہ ( ہندستان ٹائمس، 3جون 1990 )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان تمام باتوں کے با وجود کسی قابل ذکر مسلمان نے اس سے دعوتی ملاقات نہیں کی۔ ورنہ عین ممکن ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیتا ۔مسلم شخصیتوں کے اندر یہی دعوتی جذبہ یہ کافقدان موجودہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ حتی کہ مسلم دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جنھوں نے آرنلڈ ٹوائن بی اور اس قسم کے دوسرے لوگوں کا تفصیلی مطالعہ کیا ہو۔

17 جون 1990

پاکستان کے مشہور اردو اخبار نوائے وقت (9جون 1990) کے صفحہ اول کی ایک خبر یہ ہے : وزیر مملکت خزانہ مسٹر احسان الحق پراچہ نے 8 جون کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے موجودہ دفاعی اخراجات ہمارے مجموعی غیر ترقیاتی اخراجات کا 80 فیصد ہوچکے ہیں۔ مزیدیہ کہ پاکستان نے جو بین اقوامی قرض لے رکھے ہیں ، ان قرضوں پر سود کی ادائگی کی رقم اس سے بھی زیادہ ہے ۔ اس طرح اب دفاع سے زیادہ رقم سود کی ادائگی پر خرچ ہورہی ہے۔"

quoted sourceQuoted from another author or source

یہ ہے پچاس برس بعد اس پاکستان کا انجام جس کو مفکر اسلام اقبال، قائداعظم جناح اور شیخ التفسیرشبیراحمد عثمانی اور اس طرح کے دوسرے لوگوں نے بنوایا تھا۔ 47 سے پہلے جب کہ میں عقل پختگی کے دور تک نہیں پہنچا تھا ، اس وقت بھی وجدانی طور پر میں پاکستان کی تحریک کو ایک لغو تحریک سمجھتا تھا۔ اور اب تو میرا خیال ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں شاید سب سے بڑی حماقت وہی کی گئی ہے جس کا نام پاکستان ہے ۔

18 جون 1990

صفیہ ظفر( لکھنؤ) کا ایک قسط وار مضمون قومی آواز میں چھپا ہے۔ وہ یورپ کا سفرکرتی ہوئی امریکہ پہنچیں۔ ڈیرائٹ کی یادداشت کے تحت وہ لکھتی ہیں :

" ایر پورٹ پر ڈاکٹر عاصم بھائی موجود تھے۔ عاصم بھائی کے جماعت اسلامی سے زور دار رکن ہونے کی وجہ سے ان کی چھت کے نیچے بین اقوامی اجتماع ہوتا رہتا ہے۔ ان کے دوستوں میں کوئی ترکی کا ہے ۔ کوئی عرب ، کوئی مصر اور کوئی امریکن ، کوئی حبشی۔ اسلامیات پر بحثیں ہوتی رہتی ہیں۔ اسلامی انقلاب کے آنے کے امکانات پر مباحثہ ہوتا ہے۔ اور خوب کھانے پینے کا دوربھی چلتا رہتا ہے۔ امریکہ میں جتنے آرام کے ساتھ کام کرتے میں نے عاصم بھائی کو دیکھا اورکسی کونہیں دیکھا۔"

قومی آواز ،7 جون1990 -

ڈاکٹر عاصم کا نپورسے تعلق رکھتے ہیں۔ 1963 کے نصف اول میں ایک بارمیں کا نپور گیا تھا اور وہاں مرزا امتیاز بیگ کے یہاں ٹھہرا تھا۔ اس وقت کانپور میں ڈاکٹرعاصم صاحب سے ملاقات ہوئی تھی، ده مولانا مودودی کے پرجوش مداحوں میں سے تھے۔

اوپر کے اقتباس میں جماعت اسلامی کے افراد کا جر ذکر ہے، وہ ان کا صحیح ترین موجود نقش ہے ۔ اس وقت جماعت اسلامی کے افراد کی عین وہی حالت ہے جو موجودہ کمیونسٹوں کی ہے جماعت اسلامی کے افرادعام دنیاداروں کی طرح ” خوب کھانے پینے" کی زندگی گزارتے ہیں۔ البتہ فارغ اوقات میں وہ اسلامی سیاست پر گرماگرم گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ اسلام ان کے لئے ٹیبل ٹاک کا ایک موضوع ہے ۔ اور ٹیبل ٹاک کے لئے ظاہر ہے کہ خشوع اور تضرع اور انابت واجبات کا موضوع اتنا دلچسپ نہیں ہوسکتا جتنا اسلامی سیاست کا موضوع -

19 جون 1990

جون1967 میں میں دہلی آیا۔اسی ابتدائی زمانہ کی بات ہے۔ جماعت اسلامی ہند کی طرف سے جماعت کا ایک آل انڈیا اجتماع منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد میں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر دہلی میں گیا۔ وہاں میری ملاقات مرکزی قیم( جنرل سکریٹری) سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ آپ نے کل ہند اجتماع منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں ملک بھر سے جماعت اسلامی کے افراد جمع ہوں گے ۔ اس موقع پر آپ انہیں کیا خاص پیغام دینا چاہتے ہیں۔ انھوں نے میرا سوال سن کر معصومانہ اندر نہیں جواب دیا: ابھی تو اس پر زیادہ غور نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ یہی بات تو سب سے پہلے سوچنے کی تھی ، اور آپ حضرات نے اب تک اس پر غور ہی نہیں کیا۔

مجھےقیم صاحب کے اس جواب پر بہت تعجب ہوا۔ بعد کو میں نے سوچا تو سمجھ میں آیا کہ جماعت اسلامی کی موجودہ حالت کے اعتبار سے یہ جو اب بالکل درست ہے۔ کیوں کہ جماعت اب کوئی تحریک نہیں ہے بلکہ صرف ایک ڈھانچہ ہے ۔ اور جب کوئی جماعت تحریک کے مرحلہ سے گزر کے ڈھانچہ کے مرحلہ میں پہنچ جائے تو اس کا حال یہی ہوتا ہے ۔

20 جون 1990

مسٹرا یچ ایل کھیرا سری نگر ( کشمیر) میں ایچ ایم ٹی کے جنرل منیجر تھے۔ کشمیرکے مسلم جنگجوؤں نے ان کو اغوا کر کے یرغمال بنا لیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ہمارے گرفتارشدہ ساتھیوں کو رہاکیا جائے۔ جب ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تو وہ مسڑکھیرا کو گاڑی پر بٹھا کر سڑک پہ لائے۔ انھیں گاڑی سے اتار کر کہا کہ جائیے۔ جب وہ سڑک پر جانے لگے تو ان پر گولیوں کی بوچھار کر کے وہیں سڑک پر انھیں ڈھیر کر دیا ۔

یہ واقعہ 11 اپریل1990 کو دوپہر کے وقت ہوا ۔ جب ریڈیو سے خبر پھیلی تو ہند وؤں میں اشتعال پید اہوا۔ اس سلسلہ میں مولانا اجتباء ندوی نے 18جون کی ملاقات میں بتایا کہ لکھنؤ یونیورسٹی کے ہندولڑ کے ندوہ سے ملے ہوئے ہوسٹل کی چھت پر چڑھ گئے اور ندوہ کے اوپر پتھر برسانے لگے۔ وہ اشتعال انگیز نعرے لگا رہے تھے اور مسلمانوں کو گالیاں دے رہے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے پوچھا کہ پھرند وہ والوں نے کیا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا واضح صاحب (استادند وہ العلماء ) آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے بالکل خاموشی اختیار کرلی۔ ندوہ کی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔نہ ان کے نعروں کا جواب دیا گیا اور نہ ان پر پتھر پھینکاگیا۔ کچھ دیر تک وہ اپنی کارروائی کرتے رہے ، اس کے بعد خود ہی پیچھے چلے گئے۔

ندوہ والے کہتے ہیں کہ الرسالہ بزدلی کا پیغام دیتا ہے۔ وہ اپنی تقریروں میں پرجوش طور پر جہاد داور مقابلہ کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر جب خود اپنا وجود فسادیوں کی زد میں آیا تو انھوں نے وہی کیاجو الرسالہ میں بتایا جاتا ہے ۔ یعنی صبر و ا عراض ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

21 جون 1990

نیاز فتحپوری (1884-1966 ) کے یہاں پہلی اور دوسری بیوی سے لڑکا پیدا نہیں ہوا۔ بعد کو انھوں نے تیسری شادی کی اس سے دو لڑ کے پیدا ہوئے ۔ ابتدائی دور میں انھوں نے ایک شخص کو اپنا بیٹا بنالیا تھا۔ان کا نام غلام محمدخاں (وفات نومبر1981) تھا۔ نیا زفتحپوری نے اس نام کو" نہایت غیر شاعرانہ" قرار دیا۔ اور ان کا نام بدل کر مجدد نیازی کر دیا (قومی آواز 10جون 1990)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نیاز فتحپوری کے بارہ میں میں نے یہ بات پڑھی تو مجھے یاد آیا کہ نوجوانی کی عمرمیں میں بھی اکثر یہ لفظ بولاکرتا تھا۔ جو چیز میرے ذوق کے مطابق نہ ہوتی ، اس کو میں کہہ دیتا تھا کہ یہ غیرشاعرانہ ہے ، یہ غیر شاعرانہ حرکت ہے۔ نیاز فتچوری اسی ادبی سطح پر رہ گئے۔ اس بارے میں ان کا معاملہ من شب علی شئ شاب علیہ کا ہوا۔ مگر میں ادبی سطح پر ٹھہرنہ سکا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے موجودہ حالت تک پہنچایا۔

اس پر سوچتے ہوئے مجھے یاد آیا کہ پہلےجن مواقع پر میں" غیر شاعرانہ " کہا کرتا تھا، اب ان مواقع پر میری زبان سے "غیرسائنٹفک“ کا لفظ نکلتا ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ میں جو شاعرانہ کا لفظ بولتا تھا ، وہ حقیقتہ ادبی معنوں میں نہ تھا۔ اصل یہ ہے کہ میرے اندر سائنٹفک مزاج بچپن سے ہے ۔ ابتدائی زمانہ میں میرا ماحول شعروشاعری کا ماحول تھا۔ جب میں کسی بات کے متعلق کہتا تھا کہ یہ غیرشاعرانہ ہے تو یہ دراصل اپنے دل کی بات کو ماحول کی زبان میں ادا کرنا ہوتا تھا۔بعد کو جب ماحول کا اثر ختم ہوا اور میں اضافہ ہواتو "غیر شاعرانہ " لفظ کو ناموزوںسمجھ کر میں نے چھوڑ دیا۔ اور "غیرسائنٹفک " لفظ کو اپنے مدعا کے قریب تر پاکر اختیار کرلیا۔

22 جون 1990

نیوٹن اصلا ایک ریاضی داں اور سائنٹسٹ تھا۔ تاہم اس کو مذہب کے مطالعہ سے بھی دلچسپی تھی۔ اس نے بائبل کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا۔ اس کے سائنسی ذہن نے محسوس کیا کہ بائبل کی بہت کی باتیں درست نہیں ہیں۔ چنانچہ بائبل پر اس نے دو تنقیدی کتابیں لکھیں ۔

نیوٹن انگلینڈکا رہنے والا تھا۔ اس زمانہ میں پورے یورپ میں مسیحی چرچ کا اتناغلبہ تھاکہ نیوٹن اپنی ان تحریروں کو شائع کرنے کی جرات نہ کر سکا۔ اس کی یہ تحریر یں اس کے گھر میں ایک صندوق میں پڑی رہیں۔ نیوٹن کے مرنے کے دوسو برس بعد پہلی بار ان کو شائع کیا گیا۔ نیوٹن کا انتقال لندن میں1727 میں ہوا ۔ اور اس کی مسیحیت مخالف تحریروں کو مرتب کر کے شائع کرنے کا کام پہلی بار1934 میں ہوسکا۔

یہ زمانی فرق کی بات ہے۔ پچھلے زمانہ میں مذہب کے خلاف لکھنا یا بولنا بالکل ممنوع تھا۔ اس کے کفر سمجھاجاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں آزادی فکر کو انسان کا ایک مسلمہ حق سمجھا جاتا ہے۔ اس آزادی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کوئی شخص شام کو ایک مخالفانہ تحریر لکھے تو صبح کو وہ چھپ کر لوگوں کے سامنے آجائیگی۔ جب کہ پہلے نیوٹن جیسا آدمی بھی اس قسم کی تحریروں کو چھاپنے کی جرات نہیں کر تا تھا۔

23 جون 1990

شاہ ولی اللہ دہلوی (1762-1703 ) نے اپنی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ" مصطفوی شریعت کے لئے وقت آ گیا ہے کہ بر ہان اور دلیل کے پیراہنوں میں ملبوس کرکے اسے میدان میں لایا جائے ۔شاہ ولی اللہ کی کتاب حجتہ اللہ البالغہ حقیقتہ اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم زمانہ روایتی زمانہ تھا۔ قدیم زمانہ میں رویتی استدلال کافی ہوتا تھا، مگر آج کا انسان روایتی استدلال کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ عقلی اور سائنسی اسلوب میں بات کو سمجھنا چاہتا تھا۔

مثال کے طور پر ہندستان کے مسلم علماء سب کے سب یکساں سول کوڈ کے مخالف ہیں۔ مگر اس کی مخالفت کے لئے ان کے پاس کہنے کی جو بات ہے وہ صرف یہ کہ یہ ہماری شریعت میں مداخلت ہے اور ہم شرعی مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں جدید طبقہ کہتا ہے کہ یہ کوئی دلیل نہیں۔ اگر آپ یکساں سول کوڈ کے خلاف ہیں تو آپ عقلی اور سائنسی دلیل سے اسے رد کرنا ہوگا۔ ورنہ آپ کی بات نہیں مانی جائے گی۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ہم اپنے نقطہ نظر کو مخاطب کے مسلمہ دلائل سے ثابت کریں۔ ( دیکھیں : الرسالہ ستمبر 1995)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

24 جون 1990

پنجاب اور کشمیر دونوں ریاستوں میں آجکل آزادی کی تحریک چل رہی ہے۔ دونوں جگہ سے روزانہ مار دھاڑ اور خون خرابہ کی خبریں آ رہی ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ پنجاب اور کشمیر کا مسئلہ کے بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے۔

میں نے کہا کہ میری ایک ہی رائے دونوں جگہ کے بارے میں ہے۔ تحریک چلانے والوں کو چاہئے کہ وہ یہ نہ دیکھیں کہ ان کے اپنے خیالات کے مطابق صحیح کیا ہے۔ بلکہ وہ یہ دیکھیں کہ موجودہ حالات میں ان کے لئے ممکن کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ سیاست نہیں کرنا ممکن پر سر ٹکرایا جائے، جیسا کہ موجودہ زمانہ میں جاپان نے کیا ہے۔

25 جون 1990

ایک سفر کے دوران 20 مارچ 1990 کو میں طرابلس میں تھا۔ فندق المہاری میں اچانک ایک صاحب سامنے آ گئے۔ انہوں نے السلام علیکم کہا۔ میں نے جواب دیا۔ مگر میں ان کو پہچان نہ سکا۔ انہوں نے کہا: " آدم مکدا" تب میری سمجھ میں آیا کہ یہ وہی صاحب ہے جو ندوۃ ( لکھنؤ) کے زمانہ قیام ( 1964ــ 67) میں وہاں تھے اور ان سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ انہوں نے اپنا کارڈ دیا جس میں حسب ذیل پتہ لکھا ہوا تھا:

Adam Moosa Makda, P.O. Box 790 'Medina', 4. Hill Road, Beverley Hills, KweKwe (Que Que) Zimbabwe, Africa Tel. Office: 3991, Res, 3894

آدم مکدالیڈر قسم کے افریقی تھے۔ ندوہ میں قیام کرتے ہوئے انھوں نے لکھنؤ یونیورٹی کے عربی کورس میں داخلہ لے لیا تاکہ وہاں سے ''عالم'' کا سرٹیفکٹ لے سکیں ۔ ندوہ کے ذمہ داراسی قسم کے داخلہ کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ تاہم آدم مکدا جیسے افریقی طالب علم کے خلاف دہ کوئی کارروائی نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ یہ کہہ دیا گیا کہ آدم مکدا کو ظفرالاسلام نے بہکا کر یونیورسٹی میں داخل کیا ہے۔ میں نے سنا تو میں نے کہا : اگر یہی صحیح ہو کہ ظفرالاسلام نے واقعتہ ایسا کیا ہے تو یہ میرے لئے ایک دریافت ہو گی کہ میں ایسے لڑکے کا باپ ہوں جو آ دم مکدا کو بہکا سکتا ہے۔ خود آدم مکدا کار دعمل یہ تھا کہ انھوں نے جب یہ بات سنی تو کہا کہ Rediculous ( مضحکہ خیز)

26 جون 1990

پاکستان کے اخبار نوائے وقت (16 جون 1990 ) کے ایک ایڈیٹوریل نوٹ کا عنوان ہے : تربیت یافتہ تخریب کار" اس کے تحت درج ہے کہ" وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ انٹی جینس کی اطلاعات کے مطابق ، بھارت نے 150 دہشت گر د پاکستان پہنچائے ہیں جنھیں افغانستان میں تربیت دی گئی ہے اور ان کا کام پاکستان میں تباہی پھیلا ناہے"۔

other sourceWords of another person or source

اگر یہ خبرصحیح ہو تو یہ عین وہی ہے جو ہونا چاہئے۔ پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے زیر قبضہ کشمیرمیں تخریب کاری کی تربیت کے کیمپ قائم کئے اور ہزاروں کشمیریوں کو تشدد کی تربیت دیکر ہندستانی کشمیرمیں داخل کر دیا۔ یہ لوگ کشمیرمیں ہندستانی حکومت کے خلاف دہشت گردی کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد یہ ناممکن ہے کہ ہندستان خاموش رہے۔ پاکستان کو کشمیر میں تخریب کاری کا منصوبہ بناتے ہوئے لازمی طور پر یہ سوچنا چاہئے تھا کہ اسی قسم کی جوابی تخریب ہندستان کی طرف سے پاکستان (سندھ) میں کی جائے گی ۔اگر پاکستان کے حکمراں اس سے بے خبر تھے تو ان کا مقام ایران حکومت نہیں بلکہ عجائب خانہ ہے۔

کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جو اس سادہ حقیقت کو نہ جانیں۔

27 جون 1990

مسٹر محمد علی جناح نے تقسیم سے پہلے مسلمانوں کو ہندؤوں کے خلاف ابھاراتو بیشمار مسلمان ان کے گرد جمع ہو گئے۔ ان کو قائداعظم کا خطاب دیا گیا ۔ مگر انھیں" قائداعظم "نے تقسیم کے بعد بار بارمسلمانوں سے کہا کہ اب وہ سب کچھ کو ملا کر پاکستان کی تعمیرمیں لگ جائیں۔ مگرشاید پاکستان میں کوئی ایک بھی مسلمان نہ تھا جس نے ان کی اس آواز پر توجہ دی ہو۔

مثال کے طور پر نوائے وقت (16 جو1990) نے مسٹرمحمدعلی جناح کا یہ بیان ان الفاظ میں نقل کیا ہے :میں پاکستان کے ہر مسلمان مرد اور عورت سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے موجودہ غم واندوہ کے سیلاب میں نہ بہہ جائیں۔ انھوں نے اپنی قومی سلطنت قائم کرنے کے لئے بہت دکھ اٹھائے ہیں اور قربانیاں دی ہیں۔ اب یہ انھیں کا کام ہے کہ وہ پاکستان کی تعمیرکریں۔ (بیان، 24 اگست1947)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسٹر جناح کی مقبولیت کار از صرف یہ تھا کہ انھوں نے اینٹی ہندو لہجہ میں بات کیا جو مسلمان بھی اینٹی ہندو لہجہ میں بات کرتا ہے، مسلمان اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں ۔ ایسے بلانے والے بھی مجرم ہیں اور ایسے دوڑ نے والے بھی مجرم ۔صحیح پکار وہ ہے جس میں دوسروں کی خیر خواہی اور اپنا احتساب ہو۔ مگر ایسا پکارنے والا آج کوئی بھی نہیں۔

28 جون 1990

ایک صاحب نے کہا کہ آپ مسلمان لیڈروں پرتنقید کرتے رہتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے ۔ مثلا بابری مسجد کا حل کیا ہوسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ ہندو شاعرہ میرا بائی کے ایک بھجن کا شعر ہے جو مفہوم کے اعتبار سے کچھ اس طرح ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پتھر کی تو ناؤ بنا وے اور کہے کرشن تو بیڑا پار لگا

مسلمانوں نے اپنے جھوٹے لیڈروں کی پیروی میں بابری مسجد کے ان کو آخری حد تک بگاڑ ڈا لا ہے ۔ اب دہ کہتے ہیں کہ اس کا حل بتاؤ۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کسی نے اپنی ناؤ پتھر کی بنا رکھی ہو توکوئی ملاح اس کو کیسے پار لگاسکتا ہے ۔ یہی حال موجودہ زمانہ میں تمام مسلم مسائل کا ہے ۔ مسلمان مسئلہ کے حل کے نام پر صرف مسئلہ کو پیچیدہ بنا رہے ہیں، ایسی حالت میں کوئی کرنے والاکیا کر سکتا ہے۔ اس دنیا میں مسائل دانش مندی سے طے ہوتے ہیں نہ کہ جذباتی ہنگاموں سے ۔

29 جون 1990

بھاگلپور کے ایک ہندو تاجر سے ملاقات ہوئی ۔ عبدالغفورصاحب (سابق چیف منسٹر، بہار) نے ان کو مجھ سے ملنے کے لئے بھیجا تھا۔ گفتگو کے دوران تجارت اور تاجر کا ذکر آیا۔ انھوں نے کہا: بزنس مین کا بھگوان کون، اس کا گراہک ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ہندو ذہن کی صحیح تعبیر ہے۔ ہندو کا اصل مذہب پیسہ ہے۔ پیسہ گاہک سے ملتا ہے ، اس لئے وہ گاہک کا پجاری ہے۔ ہندووں کا یہی عقیدہ ہے جس نے ان کے اندر تجارتی اخلاقیات پیدا کیا ہے۔ یعنی شیریں کلامی اور صبرو اعراض۔

یہی اخلاق مسلمانوں سے بھی مطلوب ہے۔ فرق یہ ہے کہ ہندووں میں یہ کر داران کے مشرکانہ عقیدہ کے ذریعہ آیا ہے، اور مسلمانوں کے اندر یہ کر دار توحید اور آخرت کے عقیدہ کے تحت پیدا ہو گا۔ اس اخلاق کے بغیر موجودہ دنیا میں کامیابی ممکن نہیں۔

30 جون 1990

مولانا محمد اقبال (مالیر کوٹلہ) نے بتایا کہ1947 کے بعد اگرچہ پنجاب کا علاقہ مسلمانوں سے خالی ہوگیا تھا ، مگراب دوبارہ کثرت سے مسلمان آ کر وہاں آباد ہو رہے ہیں۔ مثلا لدھیانہ میں ایک لاکھ مسلمان دوبارہ آگئے ہیں ۔ چنڈی گڑھ میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان دوبارہ آکر رہ رہے ہیں۔ اسی طرح امرتسر ا ور پنجاب کے دوسرے شہروں میں مسلمان دوبارہ آکر آباد ہورہے ہیں۔ سردار لوگ ان کی دوبارہ آبادکاری اور مسجدوں کی بازیابی میں پورا تعاون دے رہے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سابق وزیر داخلہ سردار پٹیل (۱۹۵۰۱- ۱۸۷۵) کا نظریہ یہ تھا کہ پنجاب کو مسلمانوں سے خالی کرا نا ضروری ہے، ور نہ ہماری پاکستان سے ملنے والی سرحد کا دفاعی نظام مضبوط نہیں ہوسکتا۔ سردار پٹیل نے سکھوں کو اپنا سجھا اور مسلمانوں کو غیر۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ انسان کتناکم جانتا ہے۔ آج پنجاب کے سردار نئی دہلی کی حکومت کے سب سے بڑے دشمن ہورہے ہیں ۔ اور جن مسلمانوں کو پنجاب سے نکالا گیا تھا ، وہ دوبارہ اسی پنجاب میں عزت کے ساتھ بسائے جارہے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9 جون 1990

جون۱1987 میں افریقہ کے ایک سفر میں تھا۔ اس دوران ٹرانزٹ پسنجر کے طور پر میں24 گھنٹے کے لئے کراچی میں ٹھہرا تھا۔ یہاں کچھ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جو سندھ کے ہندوؤں میں خاموشی کے ساتھ تبلیغی کام کر رہے ہیں۔ یہ غیر معروف قسم کے عام مسلمان تھے۔ یہ ضروری کام پاکستان کے کسی مشہور عالم نے تونہیں کیا۔ البتہ چھ گمنام مسلمان اس کو انجام دے رہے ہیں۔

کراچی کے مسعود احمد انصاری (فون : ۱۴ ۶۵۶۷) کے خط سے معلوم ہوا کہ اب تک کی کوششوں سے کل2367ہندو اسلام قبول کر چکے ہیں ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ بھاولپور میں ان کے ادارہ کی چھ ایکڑ زمین ہے ۔ یہاں وہ ایک مرکز بنانا چاہتے ہیں جس میں نو مسلموں کی تعلیم و تربیت کے لئے مدرسہ مسجد، ہوسٹل، ہسپتال، رہائش گاہ وغیرہ ہو گی۔ فی الحال مسجد کی تعمیر سے انھوں نے اس کی ابتدا کر دی ہے۔

یہ بلاشبہ ایک صحیح اسلامی کام ہے ۔اللہ تعالی ان لوگوں کی مد فرمائے۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it