← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
May 1990
English · 33 min read
یکم مئی 1990
مشتاق احمد صاحب ایڈوکیٹ (پیدائش 1953) سپریم کورٹ دل میں پریکٹس کرتے ہیں ۔بھاگلپور کے فساد( فروری 1990)کا جائزہ لینے کے لئے وہ بھاگلپور گئے تھے۔ تین ہفتہ کے بعد واپس آئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہندستان میں فسادات کارکنا بہت مشکل ہے کیوں کہ وہ براہ راست مصیبت زدگان کے سوا ہر ایک کے لئے انٹرسٹ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ (1) فسادجب ہوتا ہے تو غریب طبقہ کو لوٹنے کا موقع ملتا ہے (2) گورنمنٹ کے کروروں روپیہ اور سامان کی شکل میں ریلیف دیتی ہے۔ اس کا بیشتر حصہ انتظامی افسران کی جیب میں جاتا ہے ۔حتی کہ ایک بڑے فساد میں ایک ایک افسردس دس لاکھ روپیہ تک کھالیتا ہے۔(3) لیڈروں کی لیڈری چمکتی ہے وہ ریلیف فنڈ کھول کر دوسروں کے پیسہ پر مفت کا کریڈٹ وصول کرتے ہیں (4) اخبارات کی اشاعت بڑھ جاتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حتی کہ اس انٹرسٹ میں خود مسلم لیڈروں کا بھی حصہ ہے جوفساد کے خلاف بیان دینے میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں سمجھ میں نہیں آتا کہ اس ملک میں فرقہ وارانہ فسادکس طرح ختم ہوگا۔
2 مئی 1990
ایک صاحب نے کہا کہ سلمان رشدی کے معاملہ میں تمام علماء اور دانشوروں نے اعلان کیا کہ وہ اہانت رسول کا مجرم ہے اس لئے وہ مستوجب قتل ہے۔ مگر ایک آپ تھے جس نے رشدی کوقا بل قتل قرار نہیں دیا۔ میں نے کہاکہ یوں نہ کئیے۔ اس طرح کہئے کہ رشدی کے معاملہ میں تمام علماء اور دانشوروں نے بے اصولی کا مظاہرہ کیا۔ صرف آپ تھے جس نے اس معاملہ میں اصول پسندی کا ثبوت دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سوال یہ ہے کہ رشدی جب واجب القتل ہے اور علماء اور دانشوروں کے نزدیک اس کا جرم ایسا ہے کہ کوئی شخص جو کہ اسے قتل کر دے توان تمام لوگوں نے رشدی کو قتل کیوں نہیں کیا۔ یالندن پہنچ کر اس کو قتل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ نے رشدی سے زیادہ خود علماء اور دانشوروں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ ہمارے تمام لکھنے اور بولنے والے قول بلا فعل کی سطح پر ہیں۔ اور یہ بلاشبہ امت کے لئے بد ترین علامت ہے۔
3 مئی 1990
تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمدالیاس صاحب (1944- 1885) کے بارہ میں ایک پرانے تبلیغی نے بتایاکہ ہندستان میں پہلی بارجب کچھ افراد جماعت بن کر نکلے تومولانا الیاس صاحب نے نے فرمایا : اللہ نے انگلینڈ کے سر پر ہتھوڑ امروادیا۔
other sourceWords of another person or source
یہ واقعہ 50 سال سے زیادہ کا ہے مگر اب تک انگلینڈ کے سرپر ہتھوڑا نہ پڑسکا۔ اب تک تمام ہتھوڑے خود مسلمانوں کے سروں پر پڑرہے ہیں۔ خود تبلیغی جماعت کا سارا کام مسلمانوں کے درمیان چل رہا ہے۔" انگلینڈ " بالفاظ دیگر غیرمسلم قوموں کو ابھی تبلیغ نے چھوا بھی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے تمام لمصلحین نے مسلمانوں کو اپنے کام کا مرکز بنایا اور امید قائم کی کہ اس سے عمومی سطح پر اسلامی انقلاب آ جائے گا۔ یہ میرے نزدیک خوش فہمی ہے ، اورموجو دہ زمانہ کے تمام مصلحین اسی خوش فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔
4 مئی 1990
آج میں انشاءاللہ جنیوا کے راستہ سے سینیگال (افریقہ) کے لئے روانہ ہور ہا ہوں ۔ وہاں ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے مجھے بلایا گیا ہے۔ الرسالہ نکلنے کے بعدمسلسل مجھے بیرونی اسفارپیش آئے ہیں۔ ان سفروں میں خدا کی معجزاتی مدد سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ تمام مسلم جماعتوں اور مسلم شخصیتوں نے متحدہ طور پر میرے خلاف عالمی سطح پر اتنا زیادہ پروپیگنڈہ کیا اور مجھ کواتنا زیادہ بدنام کیا کسی بھی کانفرنس کی طرف سے میرے نام دعوت نامہ نہیں آنا چاہئے تھا۔ مگراللہ تعالیٰ نے دنیا کے ہرحصہ میں مجھے کانفرنسوں میں شرکت کا موقع دیا۔
یہ الرسالہ کے مشن کے لئے انتہائی ضروری تھا۔ ان کی وجہ سے الرسالہ میں جو سفرنامے چھپتے رہے۔ اس نے الرسالہ کی عمومی اشاعت میں بہت زیادہ مدد کی۔ اس کے ساتھ مجھے ان سفروں کے ذریعہ جو بے شمار تجر بے ہوۓ وہ کسی اور ذریعہ سے نہیں ہو سکتے تھے۔ مشن کو پھیلانے میں یہ اسفار بہت معاون ثابت ہوئے۔
5 مئی 1990
ٹائمس آف انڈیا (یکم مئی1990) میں لندن کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک خبرچھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک پرانی کارجو تقریبا 40 سال پہلے بنائی گئی تھی، وہ حال میں 9 ملین پونڈمیں فروخت ہوگئی۔ 1931 میں پہلی بار اس کے خریدار نے اس کو6500 پونڈ میں خریدا تھا۔ اس قسم کی چھ کاریں اس وقت دنیا میں موجود ہیں۔
other sourceWords of another person or source
London: A 59-year-old Bugati Royale has become th world's most expensive car, drawing a price of more than £ 9 million from a group of Japanese businessmen. The 3-ton luxury saloon -- one of only six of its kind in existence
- surpassed the previous record price of £ 8.5 million paid last November by a Japanese buyer for a 1963 Ferrari GTO, The Sunday Times of London reported.
other sourceWords of another person or source
The Bugatti cost 6,500 pounds when it was built in 1931.
دنیا میں کوئی کار اب تک اتنی مہنگی قیمت پر فروخت نہیں ہوئی ، جبکہ مشینی معیار کے لحاظ سے آج کی ایک اعلی کار کے مقابلہ میں وہ ایک معمولی کا رہے۔ اس کے قیمتی ہونے کاراز اس کی مشینی حیثیت میں نہیں ہے بلکہ اس کی تاریخی حیثیت میں ہے تاریخ ہرچیزسے زیادہ قیمتی ہے ۔ اعلی ٹکنالوجی اور سونے چاندی سے بھی زیادہ ۔
عام کارمحض کار ہے اور مذکورہ کار ایک تاریخی کار۔
6 مئی 1990
ٹائم میگزین (یکم جنوری1990) کے صفحہ ۱۴ - ۱۵ پر ایک تصویر ہے۔ اس میں دکھائی دے رہا ہے کہ ایک اونچی دیوار ٹوٹ گئی ہے اور اس ٹوٹے ہوئے مقام سے انسانوں کا سیلاب ایک طرف سے دوسری طرف جا رہا ہے۔ اس تصویر کے نیچے لکھا ہے :
other sourceWords of another person or source
A wall comes tumbling down.
یہ دیوار برلن (Berlin Wall) ہے۔ دوسری عالمی جنگ (18-1914 )کے بعد جرمنی تقسیم ہوئی۔ مشرقی برلن سوویت روس کے حصہ میں آیا ۔ تاہم یہاں کے لوگوں میں روس کے خلاف ناراضگی تھی۔ 17 جون 1953کو تقریبا 50 ہزار ورکروں نے ایسٹ برلن میں بغاوت کر دی۔ اس وقت سوویت روس نے روایات سے اس کا تاریخی ایران کے درمیان فار خاردار تار کھینچ دیا گیا۔
تاہم یہ دیوار لوگوں کو روکنے والی ثابت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اگست 1961 میں دونوں کے درمیان سخت کنکریٹ کی دیوار بنائی گئی۔ یہ دیوار9 فٹ اونچی اور 850 میل لمبی تھی۔ دیوار کے اوپر برقی تار( (Electrified fence مزید لگائے گئے اور جگہ جگہ نگراں چوکیاں قائم کی گئیں۔ مگر انسانی سیلاب کے مقابلہ میں یہ تمام تیاریاں نا کا فی ثابت ہوئیں۔ حالات کے دباؤ سے مجبور ہوکر خوسوویت روس نے دسمبر1989 میں اس دیوار کو توڑنے کا حکم دے دیا۔
دیوار برلن کا ٹوٹنا گویا آخری نظام جبر کاٹوٹنا ہے۔ اب تاریخ آخری طور پر آزادی کے مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ آزادی کامل کامرحلہ خدا کی طرف سے اس لئے لایا گیا ہے تاکہ اہل اسلام کے لئے دعوت و تبلیغ کے تمام مواقع کو آخری حد تک کھول دیا جائے۔
7 مئی 1990
اقبال ، سیدقطب، ابو الاعلی مودودی، ابوالحسن علی ندوی ان سب کے فکر کا مشترک خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان خدائی فوجدار اور محتسب کائنات ہیں ۔ ان کا فرض ہے کہ ساری دنیا میں نظام غیر حق کو توڑ کر نظام حق قائم کریں۔
یہ نظریہ موجودہ زمانہ میں ایک داخلی تضاد سے دوچارہے۔ آدمی اگر واقعہ اس پر چلے تو وہ حکمرانوں کی طرف سے تعذیب کا شکار ہو گا ۔ اور اگر وہ اس کو عملا اختیار نہ کرے تو اپنے عقیدہ کی روسے وہ منافق ٹھہرے گا۔ اسی تضاد کا یہ نتیجہ کہ آج اس نظریہ کو ماننے والے 95 فیصد سے زیادہ منافقت کی زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ خلیجی ممالک یا مغربی ممالک میں عملا پوری طرح مصالحانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ البتہ اپنے کمرہ کے اندر تفریحی طور پر سیاسی باتیں کر کے اپنے کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ وہ اپنےعقیدہ پرقائم ہیں۔
اس نظریہ کا یہ داخلی تضاد لازمی طور پر مستقبل میں اس کو موت سے دو چار کرے گا۔ اس کے مقابلہ میں الرسالہ کافکر اس قسم کے تضاد سے مکمل طور پر خالی ہے ۔ الرسالہ کے فکر سے متاثر ہونے والے آدمی کو زندہ رہنے کے لئے منافق بننے کی ضرورت نہیں۔ الرسالہ کے مشن کی یہی خصوصیت اس بات کی ضامن ہے کہ وہ مستقبل میں مذکورہ فکر کے اوپر غلبہ حاصل کر لے گا۔
8 مئی 1990
ریاض کے ہفت روزہ الدعوۃ (31مئی 1990) کے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے 88 میں35 مسلم ملکوں کے 77000 ملین(77 بلین) ریال مدد کے طور پر دیا ۔ اگرچہ یہ امرمشتبہ ہے کہ ان ملکوں نے اس عظیم رقم کو واقعتہ ترقی کے کاموں میں صرف کیا ہے۔ تاہم یہ بات بجائے خود اہم ہے کہ ایک مسلم ملک آج اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ایک سال میں77 بلین ریال مالی تعاون کے طور پر دوسروں کو دے سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
9 مئی 1990
سوویت روس میں ایک سو مسجدیں مسلمانوں کو واپس کر دی گئی ہیں۔ حکومت روس نے سرکاری طور پر یہ اجازت دے دی ہے کہ سعودی عرب قرآن کی ایک ملین کاپیاں جدہ سے ماسکو پہنچائے۔ حال میں روس کے مسلمانوں نے ایک رسالہ نورالاسلام کے نام سے جاری کیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ( الدعوة 15شوال المکرم 1410ھ)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سوویت روس کے بارہ میں اس طرح کے واقعات ابھی صرف چند سال پہلے تک ناقابل قیاس تھے۔ کیسی عجیب ہے یہ بات۔ مجھے یقین ہے کہ عالمی سیاست میں یہ تبدیلیاں براہ راست خدا کی طرف سے پیداکی گئی ہیں تاکہ خدا کے دین کی اشاعت کسی روک اور مداخلت کے بغیر جاری رہ سکے۔
10 مئی 1990
قادیانی جماعت کا ایک اردو سہ روزہ قادیان سے نکلتا ہے۔ اس کا نام " بدر" ہے ۔ اس کے شماره 10مئی 1990 کےصفحہ اول پر جو مضمون ہے، اس کی مفصل سرخی ان الفاظ میں قائم کی گئی ہے:
صدسالہ جشن تشکرادر مباہلہ کے سال میں ایک لاکھ آٹھ ہزار افراد کا قبول احمدیت ۔جمہوریہ مالی میں سابقہ چالیس ہزار کے علاوہ مزیدگیارہ ہزارافراد بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔ "
جماعت احمدیہ (یاقادیانی جماعت )کو تمام علماء نے متفقہ طور پر کافرقرار دیا ہے۔ اس کے مطابق وہ لوگ سراسر باطل پر ہیں ۔ اس کے باوجود لاکھوں لوگ ان کے حلقہ میں داخل ہورہے ہیں۔ موجودہ زمانہ عجیب زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم اور کافر ہرایک کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آخرت نہ آئے تو معلوم کرنا ممکن نہیں کہ حق پر کون تھا اور باطل پر کون ۔
11 مئی 1990
آج دکار (سنیگال) کی کانفرنس میں کچھ لوگوں نے کشمیر کے بارہ میں تجویز پیش کی ۔ ڈاکٹر معین الاسلام (ڈھاکہ) پیش پیش تھے۔ اس پربحث ہورہی تھی کہ تجویز کوزیادہ سخت الفاظ میں منظور کیا جانا چاہئے ۔
میں نے کہاکہ کشمیر کامسئلہ اس طرح حل نہیں ہوسکتا کہ آپ یہاں مغربی افریقہ میں بیٹھ کر ایک تجویز پیش کریں ، اور اس پر بحث کریں کہ اس میں یہ لفظ رکھا جائے کہ وہ لفظ رکھا جائے ۔ کچھ الفاظ گھٹ کر یا کچھ الفاظ بڑھاکر شاعری کی جاسکتی ہے، اس طرح کبھی تاریخ نہیں بنتی۔ کشمیر کا مسئلہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے کہ وہ لفظی تجویز وں کے ذریعہ حل ہوسکے۔
پھرمیں نے کہاکہ مسلمان خود غلطی کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے اس کی قیمت ادکریں۔ اصل حقیقت یہ ہے کشمیر کے مسلمانوں نے شیخ عبد اللہ کو اپنالیڈربنایا۔ تمام کشمیری مسلمان شیخ عبد اللہ کے ساتھ ہوگئے۔ شیخ عبداللہ نے کشمیر الحاق ہندستان کے ساتھ کر دیا۔ اب اپنے لیڈری غلطی کی قیمت آپ کو خود اداکرنی پڑے گی۔ یہ ناممکن ہے کہ نئی دہلی آپ کی طرف سے اس کی قیمت ادا کرے۔
12 مئی 1990
مکہ سے ایک عربی پرچہ نکلتا ہے جس کا نام الرابطہ ہے۔ اس کے شمارہ مئی 1990 میں نیپال کے مسلمانوں کے بارہ میں ایک مضمون المسلمون في نيبال شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ شکایت کی گئی ہے کہ اسلام اور عربی زبان کی تعلیم کی اجازت نیپال کے سرکاری اسکولوں میں نہیں ہے۔ (تعليم الاسلام واللغة العربية غير مسموح به في المدارس الحكومية )
اس قسم کی شکایت کو میں بالکل بے معنی سمجھتا ہوں ۔ پاکستان کے ہند و اگر چہ شکایت کی کہ پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں ہندو دھرم اور سنسکرت کے علم کا انتظام نہیں ہے تو مسلمان اس شکایت کر بے وزن قرار دیں گے مگر خود مسلمان اپنا حق سمجھتےہیں کہ وہ دوسروں کے بارہ میں اس قسم کی شکایت کریں اور یہ سمجھیں کہ وہ اپنی اس شکایت میں حق بجانب ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
13 مئی 1990
مسٹر محمد مدار باوا(M.M. Bawa) مدراس سے تعلق رکھتے ہیں ۔وہ ہندستانی فوج میں تھے۔ چار سال پہلے کرنل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد سے وقف کونسل (نئی دہلی) کے سکریٹری ہیں۔
آج وہ ہمارے دفتر میں آئے۔ انھوں نے بتایاکہ 1963 میں وہ راجوری( جموں وکشمیر) میں کیپٹن کی حیثیت سے تعینات تھے۔ وہ وہاں انہیں ٹرانسپورٹ کمپنی (.Animal Transport Co) کے انچارج تھے۔ اس شعبہ کے تحت 300 خچراور کچھ گھوڑے تھے ۔ ان حیوانات کا گو بر ایک بڑے گڑھے میں ڈال دیا جاتا تھا اور اس کے اوپر مٹی پھیلا دی جاتی تھی۔ چھ ماہ کے بعد وہ نہایت عمدہ کھادبن جاتی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنے جونئیر افسروں کے ذریعہ راجوری کے کشمیری مسلمانوں کے یہاں یہ پیغام بھیجاکہ ہمارے پاس کافی مقدار میں قیمتی کھا د موجود ہے۔ یہ ساری کھاد ہم آپ کو مفت دے دیں گے۔ اس کے ساتھ ہم آپ کو بلاقمیت ٹرانسپورٹ بھی مہیا کریں گے۔ تاکہ آپ اس کھاد کو اپنے کھیت تک لے جاسکیں۔ مگر وہاں کے مسلمان اس پیش کش کوقبول نہ کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کھادکی ضرورت نہیں ۔ ہم کو یہاں نہایت سستا غلہ (8آنہ کیلو گیہوں اور چاول) مل جا تا ہے۔ پھر ہم اس جھنجھٹ میں کیوں پڑیں۔
یہی کشمیری مسلمانوں کا اصل المیہ ہے ۔ انھوں نے پچھلے 5 سال بے فائدہ سرگرمیوں میں کھو دئے۔ ان کو زراعت ، تجارت، تعلیم اور دوسرے تعمیری میدانوں میں کام کرنے کے قیمت مواقع حاصل تھے ۔ مگروہ ان مواقع کو استعال کرنے میں نا کام رہے۔ اب جب کہ وہ زندگی کی دوڑ میں بچھڑ گئے ہیں وہ نئی دہلی سے اپنے پچھڑےپن کی قیمت وصول کر نا چاہتے ہیں۔ مگر حقائق کی دنیا میں ایسا ہو ناممکن نہیں۔
14 مئی 1990
کشمیر کے جنگ جو نوجوانوں نے 16 پر یل 1990کو دو اعلی سرکاری افسروں کا اغوا کرلیا ۔ ایک کے ایل کھیرا ، اور دوسرے، پروفیسر مشیر الحق ۔ ان دونوں کو انھوں نے یرغمال بنالیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمارے چار گرفتار ساتھیوں کو رہا کر دو توہم ان کو چھوڑ دیں گے ۔ حکومت نے کوئی توجہ نہ دی یہاں تک کہ8 اپریل کو انھوں نے مسٹر کھیرا کو مار کر ان کی لاش سڑک پر پھینک دی۔ حکومت نے اب بھی کوئی توجہ نہ دی۔ چنانچہ انھوں نے دو دن بعد 11 اپریل کی شام کو پروفیسر مشیر الحق کوبھی گولی ماردی ۔ ان کی لاش سڑک پر پڑی ہوئی ملی ۔
مسلم دانشوروں کے نزدیک یہ حکومت کے تعصب کا ثبوت ہے۔مسٹر کھیرا ہندو تھے اور مشیرالحق مسلمان ۔ جب ہندومرچکا اور مسلمان باقی رہ گیا تو حکومت نے اس معاملہ میں اپنی دلچسپی کھودی۔ اس نے جنگ جوؤں کے مطالبہ کو نظرانداز کیا ۔ یہاں تک کہ انھوں نے مشیرالحق کو بھی مار ڈالا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلم دانشور اور رہنما ساری دنیا میں اس قسم کے تبصرے کرنے میں مشغول ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں ایک غیر دانش مند قوم بن گئے ہیں۔ دانشمندی واقعات سے سبق لینے سے آتی ہے۔ اور مسلمانوں کو ہر وا قعہ میں اغیار کاظلم اور تعصب دکھایا جاتا ہے۔ انھیں کسی واقعہ میں کوئی سبق کی بات نہیں بتائی جاتی ۔
مذکورہ واقعہ پرمسلمانوں کو سیکھنا چاہئے تھا کہ یہ جنگ جو نوجوانوں کی بے تدبیری تھی۔ انہیں پیشگی طور پر یہ جاننا چاہئے تھا کہ ہندو کو مار دینے کے بعد حکومت اس معاملہ میں اپنی دل چسپی کھو دے گی۔ جو واقعہ خود کشمیری نوجوانوں کی بے تدبیری کوبتارہا تھا، اس کو انھوں نے حکومت ہند کے تعصب کے خانہ میں ڈال دیا ۔ اس قسم کے تبصرے کسی قوم کے ساتھ سب سے بڑا ظلم ہیں ۔ وہ قوم کی تحمیق کے ہم معنیٰ ہیں۔
15 مئی 1990
مولانا حسرت موہانی( 1951 -1881) تحریک آزادی کے دوران نمایاں ہوئے ۔مسلمان ان کے بارے میں فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے 1921 میں مکمل آزادی کا رزولیوشن پیش کیا۔ جب کہ کانگریس نے پہلی بار1927 میں پورن سوراج کی تجویز منظور کی۔ انھوں نے پانچ سال قید میں گزاری۔
ان کے بارے میں ایک مضمون قومی آواز (13 مئی1990) میں شائع ہوا ہے۔ مضمون نگار لکھتے ہیں کہ " علی گڑھ کالج میں ایک مرتبہ طلبہ میں یہ بات چل نکلی کہ وہ کس کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں۔ کسی نے سرسید احمد کانام لیا کسی نے دادابھائی نوروجی کا اور کسی نے سریندرناتھ بنرجی کا۔ مگر حسرت نے کہاکہ میں بال گنگا دھر تلک کو اپنا پیشوا سمجھتا ہوں ۔ علی گڑھ کے ماحول میں حسرت کا کانگریس کی ہمنوائی کرنا اور بال گنگا دھر تلک کوا پنا سیاسی پیشوا سمجھنا ان کے سیاسی شعور اور انقلابی ذہنیت کا مظہر ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1947 سے پہلے کے دور میں مسلمانوں کے اندر کتنا زیادہ سیاسی جنون تھا۔ ہرآدمی جوش سیاست میں سرشار تھا اور کسی نہ کسی سیاسی لیڈر کو اپنا پیشوا بنائے ہوئے تھا۔ میرے نزدیک یہ سیاست غیردینی بھی تھی اور احمقانہ بھی۔ غیر دینی اس لئے کہ مسلمان کا اصل کام دعوت آخرت ہے نہ سیاست آزادی. احمقانہ اس لئے کہ موجو دہ حالات میں مسلمانوں کو سیاست سے کچھ ملنے والانہیں تھا۔ کیوں کہ سیاسی انقلاب سے فائدہ اٹھانے کے لئے جوبنیاد (Base) ضروری ہے، وہ مسلمانوں کے پاس موجو دہ نہ تھی۔
16 مئی 1990
17 اپریل 1990 کے اخبار میں ایئربس (320-A) کا قصہ درج ہے۔ پندرہ ایربس فرانس سے خریدی گئی۔ ہر ایک ائیربس کی قیمت65 کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔ مگر وہ ہندستان کے لئے ناقص یا غیرموزوں ثابت ہوئی۔ بظاہر اس کی خریداری صرف اس لئے کی گئی کہ اس خریداری کے تحت حکومت کی کچھ اعلی شخصیتوں کو پچاس کروڑ روپے سے زیادہ بطور رشوت کمانے کاموقع مل گیا۔
سودا راجیو گاندھی کی حکومت کے زمانہ میں ہوا تھا۔ موجودہ وی پی سنگھ کی حکومت اس سودے کی تحقیق کر رہی ہے ۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں اصل مجرم پکڑے نہ جاسکیں گے۔ کیونکہ حکومت کے دفتر میں وہ فائل موجود نہیں جو اس معاملہ میں دستاویزی شہادت کا کام دیتی ۔ ٹائمس آف انڈیا (9 مئی1990) میں شہری ہوابازی کے وزیر مسٹر عارف محمد خان کا پارلیمینٹ کا بیان شائع ہوا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھوں نے کہا کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ دہ اس معاملہ کی تمام دستاویز میں پارلیمنٹ میں پیش کرسکیں ۔ کیوں کہ ایک بہت اہم فائل غائب ہے:
other sourceWords of another person or source
He was not in a position to place all documents relating to the deal because
one very vital file was missing.
دنیا کے دفتروں میں مجرم لوگ اپنی فائلیں گم کر دیتے ہیں تاکہ وہ حکومت اور عدالت کی پکڑ سے بچ سکیں۔ اگر انھیں معلوم ہو کہ ان کی گم کر دو فائل دنیا میں گم ہوتی ہے۔ مگر آخرت میں وہ پوری طرح محفوظ رہتی ہے تو وہ کبھی ایسی بے فائدہ حرکت نہ کریں ۔
17 مئی 1990
مولانابشیر احمد بھٹہ ( پیدائش1885) میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ وہ جمعیۃ علماء ہند کے لیڈروں میں میں سے تھے۔ وہ اینٹوں کے بھٹہ کا کام کرتے تھے، اس لئے بھٹہ کے نام سے مشہور ہوگئے۔
ان کے بارے میں ایک مضمون قومی آواز (13 مئی 1990 ) میں چھپا ہے ۔ اس مضمون کا ایک اقتباس یہ ہے: " 1921 میں خلافت کمیٹی کا ایک بڑا جلسہ سیوہارہ میں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب ہندو اور مسلمان ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے تھے۔ ہند وسیاسی کارکن بھی خلافت کمیٹی کے ممبر بن گئے۔ اس کانفرنس میں دور دور تک آدمی ہی آدمی دکھائی دیتے تھے ۔ ایک راوی کا کہنا ہے کہ مو لا نا ظفر علی خان مالک اخبار' زمیندار' کانفرنس کی نجی محفل میں مجمع کو قہقہ زار بنائے ہوئے تھے۔ انھوں نے ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر حاضرین کے سامنے بڑھایا۔ لکھا تھا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جو بارش زور کی ہو گی تو گر جائیں گی دیواریں کہ اینٹیں ساری کچی ہیں احمد کے بھٹہ کی
ظفر علی خاں نے جو بات بشیراحمد کے بھٹہ کے بارے میں کہی ، وہی خود ظفر علی خان پر اور دوسرے تمام مسلم لیڈروں پر چسپاں ہوتی ہے۔ ہرایک نے"کچی اینٹوں " پر اپنا سیاسی قلعہ کھڑاکرنا چاہا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پہلی ہی بارش میں ان کا خیالی قلعہ مسمار ہوکر رہ گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
18 مئی 1990
میرا کام کرنے کاجوکمرہ ہے ، وہ گرمی کے موسم میں بہت زیادہ گرم رہتا ہے۔ ایک صاحب دو پہر کے وقت ملنے کے لئے آئے۔ انھوں نے کہاکہ آپ کا کمرہ تو تنور ہورہا ہے۔ آپ یہاں کسی طرح کام کرتے ہیں ۔ آپ یہاں کولر لگوا لیجئے ۔ اس سے آپ کو آرام ہو جائے گا اور آپ سکون کے ساتھ کام کر سکیں گے۔
میں نے کہا : آرام اچھی چیز ہے ، مگر تکلیف اس سے بھی زیادہ اچھی چیز ہے۔ آرام سے جسمانی سکون ملتا ہے اور تکلیف سے ذہنی تجربہ ۔ اور سکون کے مقابلہ میں تجربہ بلا شبہ زیادہ بڑی چیز ہے۔
19 مئی 1990
مولانا انیس لقمان ندوی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ فقہاء اسلام نے بلاد کی تقسیم دو طرح کی ہے ۔ دار الاسلام، دارالحرب موجودہ زمانہ میں بعض علماء نے اس میں ایک اضافہ " دار الامن " کاکیا ہے۔یہ تقسیم جزئی طور پر درست ہے، مگروہ کلی طور پر درست نہیں۔
صحیح تقسیم یہ ہے کہ بلاد کی تقسیم تین طرح پر کی جائے۔ (1) دار الدعوۃ (2) دار الاسلام (3) دار الحرب
فقہاء کے نزدیک وہ ملک جو دار الاسلام نہیں ہے ، دار الحرب ہے۔ یہ بات صحیح نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ جو ملک جارحیت کا آغاز کر کے مسلمانوں سے برسرجنگ ہو جاۓ ، وہ دار الحرب قرارپائےگا۔دارالاسلامسےمرادوہملکہےجہاںمسلمانوںکا غلبہ ہو اور وہاں اسلام کے احکام جاری کرنے کے لئے آزاد ہوں۔
بقیہ تمام ممالک دار الدعوۃ ہیں۔ یعنی ان ملکوں میں مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اسلام کی دعوت اس کے ضروری آداب وشرائط کے ساتھ پہنچائیں۔ اور مدعو قوم کی زیادتیوں کو یکطرفہ طور پر برداشت کرتے ہوئے اسے جاری رکھیں۔
20 مئی 1990
دیوبند کے ایک صاحب آئے۔ انھوں نے کہاکہ پہلے میں الرسالہ پڑھتا تھا۔ اب چھوڑ دیا ۔ وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ الرسالہ میں سب غیرمسلموں کی مثالیں ہوتی ہیں ۔ اسلامی تاریخ کی مثالیں نہیں ہوتیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
الرسالہ جون 1990 آج ہی پریس سے آیا تھا۔ میں نے اس کا ایک ایک صفحہ انھیں دکھایا ۔ بیشتر مضامین مسلمانوں سے متعلق تھے یا ان میں قرآن و حدیث کا حوالہ تھا۔ ایک مضمون چاوسسکو پر تھا۔ مگر اس سے موت اور آخرت کا سبق نکالا گیا تھا۔
پھر میں نے کہا کہ آپ قرآن کو صرف تلاقت کے طور پر نہ پڑھئے تو آپ دیکھیں گے قرآن میں مکھی مچھر کی مثالیں ہیں۔ زمین اور آسمان کی مثالیں ہیں۔ اسی طرح قرآن میں نمرود و فرعون کی مثالیں ہیں۔ عاد اور ثمود کی مثالیں ہیں۔ یہود اور نصاریٰ کی مثالیں ہیں۔ اس مثالوں کا ذکر کر کے قرآن میں سبق کا پہلو نکالا جاتا ہے۔
یہی انداز الرسالہ میں اختیار کیا گیا ہے۔اس میں مختلف قسم کے واقعات کو لیکر ان سے سبق کا پہلو نکالا جاتا ہے۔ یہ تو عین قرآنی انداز ہے۔ اس میں آخر اعتراض کی کیا بات ہے۔ وہ چپ ہو گئے۔
21 مئی 1990
پاکستان کے اخبار نوائے وقت (20مئی1990 ) کے صفحہ اول پر " کشمیرمیں بھارتی درندوں کے ظلم وستم" کا ذکر ہے۔ دوسری طرف میں اخبار پاکستانیوں کے اوپر پاکستانیوں کے ظلم کی خبروں سے بھی بھرا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے صفحہ کی پہلی خبرسندھ میں فساد کے بارہ میں ہے۔ اس کی تین سطروں کی سرخی کے الفاظ یہ ہیں :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
" حیدرآباد سندھ پر دوسرے روز بھی راکٹوں کی بارش۔ آٹھ افراد ہلاک ۔بے شمارمکان تباہ ہو گئے۔ 25 سے زائد افراد زخمی غیر سندھیوں کی دکانوں کولوٹنے کے بعد آگ لگا دی گئی ۔ قومی شاہراہ کو آٹھ گھنٹہ تک بند رکھاگیا۔ ایک رکشا والے کو زندہ جلا دیا گیا۔ پولیس نے سندھیوں پر گولی چلانے سے انکار کر دیا۔ اعلی افسرکا حکم ماننے کے بجائے ہتھیار پھینک دئے ۔متاثر خاندانوں کی حیدر آبادسے نقل مکانی۔ مساجد سے اعلان ہوتے رہے کہ ہم سندھ کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔"
other sourceWords of another person or source
حقیقت یہ ہے کہ" یہ بھارتی درندوں " یا " پاکستانی ظالموں" کی بات نہیں ، مسلمانوں کے سیاست کے نتائج ہیں جو دونوں طرف کے مسلمان بھگت رہے ہیں اور شایدا بھی نامعلوم مدت تک بھگتتے رہیں گے۔
۲۲ 22 مئی 1990
11 اپریل 1990 کو دہلی کے تمام اخباروں میں پہلے صفحہ کی نمایاں خبر تھی کہ پروفیسرمشیرالحق کو کشمیری دہشت گردوں نے قتل کر دیا۔ آج کے اخبارات میں پہلے صفحہ کی اہم خبریہ ہے کہ میرواعظ مولوی فاروق کو دہشت گردوں نے مار ڈالا۔ پروفیسر مشیر الحق کو اس وقت اغوا کر لیاگیا تھا جب کہ وہ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے جارہے تھے۔ میرواعظ فاروق کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ دن کو گیارہ بجے تین نوجوان ملاقات کے لئے آئے ۔ وہ جب میرواعظ سے ملنے کے لئے ملاقات کے کمرہ میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیوالور نکال لیا ۔ پندرہ گولیوں سے انھیں چھلنی کر کے بھاگ گئے۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر کے نادان نوجوانوں کی متشددانہ تحریک ناکام ہوچکی ہے۔ وہ" ہندوکشی" سے مایوس ہو کر "مسلم کشی " کی سطح پر اتر آئے ہیں۔ اب تک بظاہر کشمیر کی نام نہادتحریک کا رخ حکومت ہند کی طرف تھا، اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کشمیری مختلف گروہ بن کر آپس میں لڑیں گے۔ نادانی کے تحت اٹھائی ہوئی تحریک کا انجام ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔
23 مئی 1990
یہ18 نومبر1977 کا واقعہ ہے۔ میں مانو پریوار( آصف علی روڈ) کی میٹنگ میں گیاتو میں نے دیکھا کہ موتی رام صرف وہاں ہیں اور خلاف معمول ایک پستول اپنے کندھے سے لٹکائے ہوئے ہیں ۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ موتی رام صراف کے مکان کے پاس پارک میں کچھ ہندؤوں نے ایک مندر بنالیا ہے اور وہاں گھنٹہ بجاناشروع کر دیا ہے ۔ موتی رام صراف نے اس کو پارک سے ہٹانے کے لئے مقدمہ کر دیا ہے ۔ وہ لوگ چوں کہ مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں، اس لئے موتی را م ہر وقت پستول اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔
میں نے موتی رام سے کہا کہ آپ اس مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ محلہ والے آپ کا ساتھ نہیں دیں گے، اور جہاں تک اجازت کا سوال ہے ، وہ لوگ کسی نہ کسی طرح ڈی ڈی اے سے اجازت حاصل کرلیں گے۔ موتی رام نے بگڑ کر کہا : آپ نے نہ مانو پر پیوارکو سمجھا اورنہ قرآن کو سمجھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آخر کار وہی ہوا ۔ مندر بنانے والے کامیاب رہے اور موتی رام شکست کھا کر چپ ہو گئے۔ ہندو سماج اور مسلم سماج دونوں کا آج ہی حال ہے۔ دونوں میں بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو خرافات کو پسند نہیں کرتی ، مگرخرافاتی لوگوں کے شر سے ڈر کہ ہر ایک نے خاموشی اختیار کرلی ہے۔
24 مئی 1990
پرتاب گڑھ (یو پی) کے دو صاحبان ملنے کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ اس علاقہ میں سیدمحمد امین نصیر آبادی ایک بزرگ گزرے ہیں۔ ہندستان کی آزادی(1947) سے پہلے ان کا انتقال ہوگیا۔ پڑتاب گڑھ میں ان کا اکثر دورہ ہوتا تھا۔ یہاں کے عوام میں ان کے بارہ میں طرح طرح کے قصے مشہور ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ وہ بہت جلالی آدمی تھے۔ وہ داڑھی منڈوں سے مصافحہ نہیں کرتے تھے۔ کسی کو دیکھتے کہ اس کی مونچھیں بڑی بڑی ہیں تو اس کو پکڑ کر قینچی سے اس کی مونچھیں کاٹ دیتے۔ پالکی پر سفر کرتے تھے۔
other sourceWords of another person or source
ایک مرتبہ وہ پر تاب گڑھ آئے۔ یہاں ایک مسلمان تھانہ دار تھا جو داڑھی مونڈتا تھا اور بڑی بڑی مونچھ رکھتا تھا۔ وہ ملاقات کے لئے آیا۔ بزرگ موصوف نے حسب عادت قینچی نکالی اور اس کی مونچھ کاٹ دینا چاہا۔ تھانہ دار کو اپنے عہدہ اور طاقت پر ناز تھا، اس نے مزاحمت کی ۔ بزرگ اس کو پٹک کر اس کے سینہ پر چڑھ گئے اورقینچی سے اس کی مونچھ کو کاٹ دیا۔ بعد کو کسی نے تھانہ دارسے پوچھا تم تو اتنے طاقتور ہو، تم نے کیوں اپنی مونچھ کٹو ا لی ، اس نے جواب دیاکہ میں نے دیکھاکہ میرے دائیں اور بائیں ایک ایک شیر ہیں، ایسی حالت میں میں کیا کر سکتا تھا۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان اس قسم کے جھوٹے قصے کہانیوں میں مشغول ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ان کے اندرحقیقت پسندانہ فکر پیدا نہ ہوسکا۔
25 مئی 1990
1980 میں دارالعلوم دیوبند میں انقلاب آیا۔ قاسمی گروپ کی جگہ مدنی گروپ دارالعلوم پر قابض ہوگیا۔ اس انقلاب میں مولانا وحید الزماں کیرانوی نے قائدانہ رول ادا کیا تھا۔ مگر اب مولا نا اسعد مدنی نے ان کو دارالعلوم سے نکال دیا ہے ۔ اس سلسلہ میں مولانا وحید الزماں کے حامی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں ۔
آج مولانا عبداللہ طارق نے بتایا کہ وہ ایک وفد لے کر بذریعہ کارعلی گڑ ھ گئے، تا کہ دارالعلوم کی مجلس شوری کے بعض ارکان سے ملیں اور انھیں اس " ظلم "کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے تیار کریں۔
other sourceWords of another person or source
میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ دوڑ دھوپ بالکل بے فائدہ ہے ۔ یہ تو وہی ہوا جو تاریخ میں ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔ اس قسم کی تحریکوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ انقلاب کی کامیابی سے پہلے نشانه خارجی نظام ہوتا ہے ، اس لئے سب متحد رہتے ہیں۔ مگر انقلاب کی تکمیل کے بعد "کریڈٹ کون لے گا" کے سوال پر وہ خود آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔
میں نے کہاکہ اس طرح کے انقلاب کی کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ اس کے لئے اٹھنے والے بے نفس ہوں۔ مثلا عرب میں مہاجرین اور انصارمل کے انقلاب لائے ، مگر انقلاب کے بعد جب خلافت کا سوال آیا تو انصار یک طرفہ طور پر مہاجرین کے حق میں دستبردار ہو گئے۔
دوسرے تمام انقلابات میں ہم دیکھتے ہیں کہ انقلاب کی تکمیل کے بعد لوگ آپس میں لڑنے لگتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک چا ہتا ہے کہ اس کا کریڈٹ مجھے دیا جائے مثلاً دیوبند کی مثال میں مولانا اسعد مدنی اس کو اپنا کارنامہ سجھتے ہیں، اور مولانا وحید الزماں اس کو اپنا کارنامہ بتاتے ہیں ۔ یہ دوا نا کا ٹکراؤ تھا جس کی قیمت مولانا وحید الزماں کوبھگتنی پڑی ۔ مولانا وحید الزماں نے اگر انصار مدینہ کی روش اختیار کی ہوتی تو ایسا نہ پیش آتا۔ (انتقال 15 اپریل1995 )
26 مئی 1990
مسٹر دھرم ویر(Dharam Vira) 1947 کے بعد مرکزی حکومت میں سکریٹری تھے۔ جواہرلال نہرو نے ان کو پاکستان سے آنے والے شرنارتھیوں کا شعبہ دیا تھا۔ انھوں نے ہندستان ٹائمس (26مئی ) میں اپنی یادداشت(Reminiscences) شائع کی ہے۔
وہ لکھتے ہی کہ تقسیم کے بعد پاکستان سے شرنارتھیوں کا سیلاب چلا رہا تھا۔ ان کے پاس ظلم و ستم کی ہولناک داستانیں ہوتی تھیں۔ مجھے اب تک یاد ہے کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ میں آفس سے گھر دن کا کھانا کھانے کے لئے گیا۔ وہاں میری رہائش پر شرنارتھیوں کا ہجوم موجود ہوتا۔ وہ میرا انتظار کر رہے ہوتے ۔ میں برداشت کے ساتھ ان کی باتیں سنتا اور اس کے بعد گھر کے اندر کھانے کے لئے جاتا۔ مگر ان کی مصیبت کی داستانیں سن کر میری بھوک اڑ جاتی۔ جب کھانا میز پر رکھا جاتا تو میں اپنی بیوی سے معذرت کرتے ہوئے یہ کہتا کہ مجھے افسوس ہے۔ مگر اس وقت میں کھا نہیں سکتا۔ ان کی مصیبت کی کہانیاں سننے کے بعد میرے اندر دہ دل اور دہ اشتہاء کیسے باقی رہ سکتی تھی کہ میں کھانا کھاؤں۔
تقسیم کے نتیجہ میں ٹھیک اسی قسم کے واقعات پاکستان میں بھی پیش آئے۔ تقسیم نے دونوں طرف مسائل میں اضافے کئے ، مگر کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کیا۔
27 مئی 1990
میرے لڑ کے ڈاکٹرشانی اثنین خان کا نکاح14 اکتوبر 1984 کو ہوا۔ ابتدا اس کے یہاں تین لڑکیاں ہوئیں ۔ اس کے بعد 20 جنوری1990 کو ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کا نام میرے والد کے نام پر سلمان فرید رکھاگیا۔ بچہ نہایت تندرست اور خوبصورت تھا۔ جوشخص دیکھتا اس کی تعریف کرتا۔ مگرکل وہ اچانک بیمار ہوا ، اور آج صبح 9 بجے گنگا رام اسپتال (نئی دہلی) میں اس کا انتقال ہوگیا۔
یہ واقعہ اتنا عجیب ہے کہ اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے کہ اس کی مصلحت کیا ہے ۔ آج دو پہربعد نظام الدین کے قبرستان میں اس کی تدفین ہوئی۔ جب ہم لوگ قبرستان پہنچے اور میں نے اس کی لاش گاڑی سے نکال کر اپنے ہاتھ پر لی اور اس کو اٹھائے ہوئے قبرکی طرف چلا تو بے اختیار میرے دل نے کہا: جو مجھ کو اٹھاتا اس کو آج میں اپنے بوڑھے ہاتھوں سے اٹھا رہا ہوں۔ خدا کے مقدرات بھی کیسے عجیب ہیں۔
28 مئی 1990
جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر مولانا ابواللیث ندوی جماعت کی امارت سے الگ ہوگئے ہیں۔ مولانامحمد سراج الحسن صاحب جماعت کے نئے امیر مقرر ہوئے ہیں۔ سہ روزہ دعوت (۲۸ مئی۱۹۹۰) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ نئے امیر کی صدارت میں جماعت کی مجلس شوری کا اجلاس دہلی میں ہوا۔ اس میں جو فیصلے کئے گئے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مولانا جلال الدین انصر عمری کو نائب امیر برائے تربیت مقرر کیا گیا ہے۔( دسمبر 1990 میں مولانا ابواللیث صاحب کا انتقال ہوگیا) میرے نزدیک یہ تقریر ساده لوحی کے سوا اور کچھ نہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جماعت اسلامی کے سنجیدہ حلقہ میں پچھلے پچاس برس سے یہ محسوس کیا جاتا رہا ہے کہ جماعت کے افراد میں سیاسی ذہن توخوب پیدا ہو جاتا ہے مگر روحانی پہلوبالکل کمزور رہتا ہے۔ غالباً ۱۹۵۳ میں مرکز جماعت ( رامپور) میں ایک شعبہ تربیت قائم ہوا۔ اس کے انچارج مولانا سید حامد علی تھے۔ اس کے تحت پندرہ روزہ تربیتی پروگرام چلایاگیا۔ میں اس کے پہلے بیچ میں شامل تھا۔ مگر چند ہی مہینے میں وہ بے فائدہ قرار دے کر ختم کر دیاگیا ۔ اب اسی مقصد کے لئے نائب امیر تربیت کاتقرر کیا گیا ہے۔
"تعبیر کی غلطی" میں میں اس کو تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں کہ جماعت اسلامی کے افراد میں روحانی پہلو پیدا نہ ہونے کا سبب ان کی سیاسی تفکیر ہے۔ مولانا ابو الاعلی مودودی کا نظریہ جس پر جماعت اسلامی اٹھی ہے، وہ عین اپنی فطرت کے اعتبار سے سیاسی ذہن بناتا ہے ۔ اس لئے جماعت کے افراد میں روحانیت لانے کے لئے سب سے پہلے اس سیاسی نظریہ کی غلطی کا اعلان کرنا ہوگا ۔ ہندو قوم کے افراد میں جو مالی کرپشن ہے، اس کے خلاف ان کے مصلحین برابر لکھتے اور بولتے رہتے ہیں ۔ مگر ایک فیصد بھی اس میں کمی نہ آ سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مالی کرپشن کا سبب یہ ہے کہ ہندوعقیدہ میں دولت ایک دیوی ہے۔ جب تک اس مشرکانہ عقیدہ کوختم نہ کیا جائے اس وقت تک ہندوؤں کا مالی کرپشن ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب تک ابو الاعلی مودودی کے سیاسی نظریہ کو ترک نہ کیا جائے۔ جماعت کے افراد میں روحانی مزاج نہیں لایا جا سکتا۔
29 مئی 1990
ٹائمس آف انڈیا (26مئی1990) میں بمبئی کے مسٹر ہنکشور کا خط چھپا ہے۔ انھوں نے پر فخرانداز میں لکھا ہے :
other sourceWords of another person or source
If democracy has succeeded at all in any Muslim-dominated country in the world, it has only been for a short while in Pakistan and Bangladesh. Thanks to the influence of India's example... The Muslim League, which fought for Pakistan, still exists in India. Can you ever imagine the Hindu mahasabha function in Pakistan or Bangladesh? (S.S. Bankeshwar) being allowed
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگر جمہوریت کبھی کسی مسلم اکثریت کے ملک میں کامیاب ہوئی ہے تو وہ صرف مختصر مدت کے لئے پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہوئی ہے ، اور وہ بھی ہندستان کی مثال کی بدولت جو کہ اب بھی یہاں پائی جارہی ہے۔ مسلم لیگ جو کہ پاکستان کے لئے لڑی تھی ، وہ اب بھی ہندستان میں موجود ہے ۔کیا آپ تصور کر سکتے کہ ہند ومہاسبھا کو پاکستان یا بنگلہ دیش میں کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
اس کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ اسی طرح مسلمانوں نے کچھ امتیازی باتیں اپنے موافق تلاش کر لی ہیں اور وہ ان پر فخر کرتے ہیں مثلا یہ کہ ہندستان میں برابر ہندو مسلم فسادات ہو رہے ہیں۔مگر پاکستان میں۱۹۴۷ کے بعد کوئی ہندومسلم فسادنہیں ہوا۔ ہندو ہندو مذہب کا نام لیتے ہیں اور مسلمان اسلام کا۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ دونوں کا مذہب صرف ایک ہے، اور وہ فخر ہے۔ دونوں ہی قومی فخرمیں جی رہے ہیں، البتہ دونوں الگ الگ الفاظ بولتے ہیں۔
۳۰ 30 مئی 1990
دارالعلوم دیوبند کے ایک طالب علم عبیداللہ احمدد حیدر آبادی (20 سال) ملاقات کے لئے آئے۔ ان کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اگر آپ زندگی میں بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو محنت کیجئے۔ محنت کے بغیریہاں کوئی ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ اس دنیا کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے ۔ کم محنت کم ترقی، زیادہ محنت زیادہ ترقی۔
31 مئی 1990
حیدر آباد کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے شکایت کے انداز میں کہاکہ پولیس ایکشن کے بعد جب ہندستان نے حیدر آباد پر قبضہ کیا تو اس کے بس منصوبہ بند طور پرمسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا گیا۔ میں نے کہاکہ یہ تو عین وہی فعل ہے جو اس سے پہلے خود مسلمان کر چکے ہیں۔ 1947 سے پہلے کے دور میں جب حیدر آباد میں مسلمانوں کا اقتدار تھا تو تمام سرکاری ملاززمتیں مسلمانوں کو دے دی گئی تھیں ۔ اب1947 کے بعد جب دوسرے فریق کی باری آئی تو وہ یہی طریقہ مسلمانوں کے ساتھ اختیار کر رہے ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ اس کے خلاف احتجاج اور فریاد کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ آپ حیدر آباد کے مسلمانوں سے کہئے کہ تم کو اگر سرکاری ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں تو اس پر افسوس نہ کرو بلکہ تجارت کے میدان میں داخل ہو کر ترقی کرو۔ اور تجارت کا میدان یقینا ملازمت کے میدان سے بہت زیادہ بڑاہے۔