Maulana Wahiduddin Khan
32 min left
0:00

← Diary 1989-1990
Diary 1989-1990

April 1990

English · 32 min read

یکم اپریل 1990

میرے اندر سوچنے کی عادت ہے۔ میں اکثر کسی آیت یاکسی حدیث کے بارہ میں سوچتا رہتا ہوں۔ آج نماز کے لئے مسجد جاتے ہوئے یہ بات میرے ذہن میں آئی کی صف بندی کے لئے حدیث میں جوحکم آیا ہے اس کا مطلب کیا ہے، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نماز کی صف میں خوب مل کر کھڑے ہو کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ شیطان صف کے خلل میں بکری کے بچہ کی طرح داخل ہورہا ہے (انی لارى الشيطان يدخل من خلل الصف كأنها الحذف)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث میں خلل کا مطلب مجرد جگہ (space) نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ جب لوگ پاؤں کو پھیلا کر ایک دوسرے سے ملیں گے تو خود ایک آدمی کے دونوں پیروں کے درمیان میں اتنی جگہ ہو جائے گی کہ اس کے اندر سے "بکری کا بچہ" گزرسکے ۔حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں خلل سے مراد دو آدمیوں کے درمیان خلل ہے نہ کہ دو پیروں کے درمیان خلل۔

اس حدیث میں اصل زور باہم مل کر کھڑے ہونے پر ہے ۔ باہم مل کر کھڑا ہونا اتفاق کی علامت ہے اور منتشرانداز میں کھڑا ہونا اختلاف کی علامت۔ چنانچہ یہی بات دوسری روایت میں ان لفظوں میں ہے: استوواولاتختلفوافختلف قلوبكم۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2 اپریل 1990

اسٹیوسن (R.L. Stevenson) 1850 میں اڈنبرا میں پیدا ہوا ،1894 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ایک رائٹر تھا۔ اس کا ایک قول ہے کہ وقت گزارنے کے ساتھ ہم ان چیزوں سے محبت کرنے لگتے ہیں جن سے ہم نے نفرت کی تھی ، اور وہ چیزیں ہمارے لئے قابل نفرت بن جاتی ہیں جن سے ہم نے محبت کی تھی :

other sourceWords of another person or source

In the course of time, we grow to love things we once hated and hate thing

we loved.

کشمیریوں کے بارہ میں یہ بات نہایت درست ہے۔ شیخ عبداللہ کی زندگی میں تمام کشمیری ان کو پوجتے تھے۔ اب وہی کشمیری شیخ عبداللہ کو غدار کہتے ہیں ۔ انھوں نے ان کا گھر جلا دیا۔ وہ اس پر تلے ہوئے ہیں کہ شیخ عبداللہ کی قبرکو کھود کر ان کی ہڈیاں نکالیں اور ان کی بے حرمتی کریں ۔

آجکل کشمیریوں پر پاکستان کی محبت سوار ہے۔ لیکن اگر بالفرض ایسا ہو جائے کشمیر انڈیا سے الگ ہو کر پاکستان کے ساتھ شامل ہو جائے تو یقینی ہے کہ آئندہ انھیں پاکستان سے نفرت ہوجائے گی کیونکہ تخیل کے مقابلہ میں عملی حقیقت ہمیشہ کمتر ہوتی ہے۔

اس معاملہ میں کشمیریوں کا حال وہی ہو گا جو مشرقی بنگال (بنگلہ دیش) کا ہو ا۔ پہلے انہوں نے انڈیاسے نفرت کر کے اپنے آپ کو پاکستان میں شامل کیا۔ اس کے بعد وہ پاکستان کے دشمن اور انڈیا کے دوست بن گئے اور 1971 میں انڈیا کی مدد سے پاکستان سے لڑ کر علٰیحدہ ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی محبت بھی بے معنی ہے اور اس قسم کی نفرت بھی بے معنی۔

3 اپریل 1990

1929 کاسال جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) کے لئے بڑا سخت سال تھا۔ مالی بحران کی وجہ سے جامعہ کے استادوں کی تنخواہیں رک گئیں۔ یہاں تک کہ آٹھ مہینے تک کسی کو تنخواہ نہیں ملی۔ حکیم اجمل خاں اس کی وجہ سے بہت فکرمند تھے۔ ایک دن انھوں نے قاضی عبدالغفار صاحب (استاد جامعہ) کو بلاکر انھیں اپنے پاس سے ایک ہیرے کی انگوٹھی دی۔ اور یہ کہ اس کو بمبئی لے جائیے اور اس کو بیچ کر جو رقم ملے اس سے استادوں کی تنخواہ ادا کیجئے۔ اس کے ساتھ حکیم صاحب نے ہدایت کی کہ اس انگوٹھی کو دلی میں فروخت نہ کرنا۔ 1929 میں اس انگوٹھی کی قیمت بیس ہزار روپیہ ملی تھی۔ اس رقم سے جامعہ کے استادوں کو تنخواہیں دی گئیں اور جورقم بچی وہ جامعہ کے فنڈ میں جمع کر دی گئی ۔

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1929 میں جو لوگ جامعہ کی تحریک میں شریک ہوئے وہ اس میں کن جذبات کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ مگرجا معہ اپنی پوری مدت میں اپنے بانیوں جیسا ایک انسان بھی پیدا نہ کر سکا۔ حکیم اجمل خان جیسے لوگ جامعہ کے باہر پیدا ہوۓ۔ مگر وہ جامعہ کے اندر پیدا نہ ہو سکے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ مقصدی انسان بھی مقصدی درس گاہوں میں پیدا نہیں ہوتے ۔ وہ ہمیشہ حالات کی درس گاہ اور انکار کے سیلاب میں پیدا ہوتے ہیں۔

4 اپریل 1990

نوائے وقت (یکم اپریل 1990 ) کے ایک مضمون میں پاکستان کی پچاس سالہ سیاست کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ سابق صدر محمد ایوب خان کی بابت یہ الفاظ درج ہیں :

other sourceWords of another person or source

'' صدارتی نظام کے تحت ایوب خان مرحوم کے دور میں اتنی صنعت کاری ہوئی کہ لوگ اب تک ان کے گن گاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہرسو آسودگی دامن دامان کا دور دورہ جاری رہا۔ خوراک و دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں میں اتنا حقیر اضافہ ہوا کہ کسی نے محسوس تک نہ کیا۔ بحیثیت گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمدخان کالا باغ نے سیاست دانوں کو سرکاری معاملات میں دخیل نہ ہونے دیا۔ اور حکومت کا کاروبار کلیتہ انتظامیہ کے ہاتھوں میں رہا۔ محکموں کے سکریٹری اور سربراہ اپنے ذاتی فرائض کی انجام دہی کے ذمہ دار تھے جسے انھوں نے بطریق احسن نبھایا، کیونکہ قواعد وضوابط کی پابندی کی راہ میں سیاست دانوں کی مداخلت آڑے نہ آتی تھی۔" صفحہ 10

میرے نز دیک صدر ایوب خان پاکستان کے سب سے بہترحکمراں تھے۔ ان کو کھونے کی سب سے زیادہ سرداری نام نہاد اسلام پسند گروہ پر ہے۔ اس نے ایوب خان کی بعض کمیاں کو اچھالا۔ او ر عوام کو ان کے خلاف بھڑ کا دیا۔حالانکہ اس طرح کی جزئی کمیاں ہر شخص میں ہوتی ہیں اور ان کے سلسلہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ یا توانہیں نظرانداز کیا جائے یا خیرخواہانہ انداز میں خاموشی کے ساتھ ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو بھی کوئی پا ئدار حکومت قائم نہیں ہوسکتی۔

5 اپریل 1990

سعودی عرب میں مسجدوں میں اجتماع کرنا منع ہے مسجدوں میں صرف نماز کے لئے جمع ہونے کی اجازت ہے ، کسی اور مقصد کے لئے نہیں۔ تبلیغی جماعت مسجد کوبنیادبنا کر اپنا کام کرتی ہے۔ اس بنا پر سعودی عرب میں ان کا کام بالکل بند ہوگیا تھا۔

ایک تبلیغی بزرگ نے بتایا کہ اب تبلیغ والوں نے اس کا حل تلاش کر لیا ہے۔ وہ یہ کہ مسجد کے بجائے گھر کو بنیاد بناکر وہ اپنا کام کر رہے ہیں ۔ وہ سب کچھ جو پہلے مسجدوں میں ہوتا تھا اب گھروں میں کیا جارہا ہے۔ البتہ یہ کام چھوٹے چھوٹے اجتماعات کی صورت میں کیا جارہا ہے کیونکہ گھروں کے اندربڑے اجتماعات کئے جائیں تو دوبارہ حکومت باخبر ہوجائے گی اور یہاں بھی کام بند کرنے کا حکم جاری ہو جائے گا۔

other sourceWords of another person or source

میں نے کہاکہ یہ بالکل درست ہے ۔ یہ اسی روح کے مطابق ہے جو قرآن میں ہے کہ واجعلوا بیوتکم قبلة واقيموا الصلاة . مگر عجیب بات ہے کہ سعودی عرب میں تو مسلمان مسجد کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو گئے اور ہندستان میں سڑک چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ ہندستان کے فسادات زیادہ تر سٹرک کی سیاست کے نتیجہ میں ہوتے ہیں۔ مگرمسلمان اس کے لئے تیار نہیں۔ سعودی عرب میں مسجد کو بنیاد بناکر کام کرنے کے مواقع نہیں تھے تو انہوں نے گھرکوبنیادبناکر کام کرناشروع کیا۔ یہی ہندستان میں کر نا چاہئے۔ یہاں اگر سٹرک کو بنیاد بنا کر قومی تعمیر کے مواقع نہیں ہیں تو وہ سڑک کے باہر دوسرامیدان اپنے لئے تلاش کرلیں اور وہاں اپنا تعمیری کام جاری کر دیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

6 اپریل 1990

کالی مسجد میں فجرکی نماز پڑھ کر نکلا۔ ذہن میں امام صاحب کی پرجوش تقریر تھی جو انھوں نے نماز کے بعد مقتدیوں کے سامنے کی تھی ۔سوچتے ہوئے اچانک زبان سے نکلا" مسئلہ خدا کاہے، لڑ رہے ہیں انسان سے "

آج تمام دنیا کے مسلمان عمل یا زبان کے ذریعہ دوسری قوموں سے لڑ رہے ہیں۔ دوسری قوموں کے ظلم اور موامرہ (سازش) کے خلاف ہر جگہ چیخ پکار برپا ہے۔ میں اس کو بالکل لغو سمجھتا ہوں۔ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آ رہا ہے، وہ انسان کی طرف سے نہیں ہے بلکہ براہ راست خدا کی طرف سے ہے۔ عہد خداوندی کے معاملہ میں مسلمانوں نے جو کوتاہی کر رکھی ہے۔ اس پر انھیں ہرجگہ تنبیہ کی جارہی ہے۔ مسلمان خدا کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کر کے اس صورتحال سے نجات پاسکتے ہیں۔ دوسری قوموں سے لڑنا یا ان کے خلاف احتجاج کرنا کسی بھی درجہ میں ان کے مسئلہ کو حل کرنے والا نہیں۔

7 اپریل 1990

انڈین ایئر لائن نے فرانس سے پندرہ ایربس (اے 320) خریدی - 8 فروری 1990 کران میں سے ایک ایٹربس بنگلور ہوائی اڈہ کے پاس گرکرتباہ ہوگئی ۔ اس کے بعد بقیہ چودہ جہاز زمین پر اتار دئے گئے ہیں۔ ان کا استعمال بند کر دیاگیا ہے۔

ٹائمس آف انڈیا ( 7 اپریل1990) کی ایک رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ اس کی وجہ سے انڈیا کو پچھلے چھ ہفتہ میں 25 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ کرایہ کا نقصان اور ہوائی اڈوں پر ٹھہرانے کا جرمانہ سب ملا کر روزانہ چودہ لاکھ روپے کانقصان ہو رہا ہے۔ دوسری طرف آج ہی کے اخبار میں یہ خبر ہے کہ 11 اپریل 1990 سے انڈین ایئر لائنز کے کرایہ میں پندرہ فیصد کا اضافہ کر دیاگیا ہے۔

other sourceWords of another person or source

آزادی کے بعد ملک میں جو حکومتیں قائم ہوئیں، ان کا مستقل ریکارڈ یہی ہے کہ وہ اپنے نکمے پن کی وجہ سے ملکی خزانے پر بوجھ بڑھاتی ہیں اور پھر اس کی تلافی کے لئے ہر سال ٹیکس میں اضافہ کر دیتی ہیں ۔ آزادی سے ہندستان کو ایک نفسیاتی فخرکے سوا اور کچھ نہیں ملا۔ بظاہر 1947 کے بعد جو ترقیاں نظر آتی ہیں وہ زمانہ کا عطیہ ہیں نہ کہ ہماری حکومتوں کا عطیہ۔

8 اپریل 1990

قاضی عبد الغفار صاحب (1956- 1889 ) مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ وہ آزادی کی تحریک میں شامل تھے۔ قومی آواز (18 اپر یل 1990 ) میں ان کے بارہ میں ایک مضمون سری نواس لاہوٹی کے قلم سے شائع ہوا ہے۔ وہ قاضی عبدالغفار کے حالات کے ذیل میں لکھتے ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

"قاضی صاحب نے علی گڑھ سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ ان کے والد خان بہادر ابرار احمد نے گورنر سے کہہ کہ ان کو آپ سے مکہ میں ملازم کرا دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ گورنرسے کوئی ہندستانی ملنے جاتاتو اسے اپنے جوتے اتار کر ننگے پیرجانا پڑتا تھا، اور یہی صورتحال قاضی صاحب کے ساتھ پیش آئی۔ حالانکہ فل سوٹ زیب تن کئے ہوئے تھے۔ اس واقعہ سے ان کو بڑا صدمہ ہوا۔ (جلد ہی بعد انھوں نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی۔)

قاضی صاحب اگر سوچتے کہ ملاقات کے یہی آداب مسلم بادشاہوں اورمسلم نوابوں کے یہاں بھی رائج ہیں تو یہ بات ان کو زمانہ کی بات لگتی ، مگر اس طرح نہ سوچنے کی وجہ سے یہ بات انہیں انگریز کی بات محسوس ہوئی۔ پہلی صورت میں وہ اس کو زمانہ کے خانہ میں ڈالتے ، دوسری صورت میں انھوں نے اس کو انگریز کے خانہ میں ڈال دیا ۔

یہی غیر حقیقت پسندانہ طرزفکر ہے جس کی وجہ سے بے شمارمسلمان ردعمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے۔ وہ انگریز نفرت میں مبتلا ہو کر انگریز سے لڑنے لگے۔ حالاں کہ اصل ضرورت یہی تھی انگریز کی طاقت اور مغربی تہذیب کو سمجھا جائے ۔ مگر نفرت کی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ معاملہ کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیں اور اس کے مطابق ملی تعمیر کا عمل جاری کریں۔

9 اپریل 1990

روی ابوداود والنسائي وابن ماجه والامام احمد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : يأتى على الناس زمان يأكلون فيه الربا قيل له الناس كلهم قال من لم يأكله ناله غباره

hadithQuotes a hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں لوگ سود کھائیں گے۔ کہا گیا کہ سب لوگ۔ آپ نے فرمایا کہ جو شخص اس کو نہیں کھائے گا اس تک بھی اس کا غبار پہنچے گا۔

quoted sourceQuoted from another author or source

میرا خیال ہے کہ یہ حدیث دلائل نبوت میں سے ہے۔ موجودہ صنعتی دور میں تمام اقتصادی سرگرمیاں بنیک سے وابستہ ہوگئی ہیں۔ آج آپ بازار سے ایک دیا سلائی بھی خریدتے ہیں تو اس کے ساتھ بالواسطہ طور پر سود کی ایک رقم ادا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال تمام تر جد ید صنعتی نظام کی پیداوار ہے۔ یہ ماضی میں بالکل موجود نہ تھی ۔ ایسی حالت میں چودہ سو سال پہلے کسی کا ایسی بات کہنا صرف اسی وقت ممکن تھا جب عالم الغیب کی طرف سے اس کو مستقبل کے اس واقعہ کی خبر دے دی گئی ہو ۔

یہ آپ کے پیغمبرخداہو نے کا ایک ثبوت ہے ۔

10 اپریل 1990

ایک اعلی تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ گورنمنٹ میں بڑے عہدہ پر تھے۔ اب دہلی میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ جیسے علماء اسلام کو بالکل نہیں سمجھتے۔ آپ لوگ اسلام اور مسلمانوں کو الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ حالاں کہ اسلام اور مسلمان دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں ۔ آپ لوگوں کے اس نظریہ نے اسلام کو جامد اور غیرترقی یافتہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ بات اس طرح نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ جیسے لوگوں کا خیال ہے کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے جانچنا چاہئے۔ اس کے برعکس ہمارا کہنا ہے کہ اس معیار اسلام ہے۔ اور ہمیں چاہئے کہ مسلمانوں کے عمل کو اسلام کے معیار سے جانچیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

11 اپریل 1990

پاکستان کے مشہور اخبار نوائے وقت (یکم اپریل 1990) میں محمد ابراہیم صاحب کا ایک مضمون چھپا ہے ۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں کا کر دار کبھی مستحسن نہیں ہوا۔ ان کی بدعنوانیاں آغاز کارسے ہی سطح پر آگئیں ۔ چنانچہ قائدعظم (محمدعلی جناح )کو بادل ناخواستہ یہ کہنا پڑا کہ ان کے پاس سب سکے کھوٹے ہیں۔"

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں کہوں گا کہ مسٹر جناح نے اپنی غلطی دوسروں کے سرڈال دی ۔ ان کو یہ بات پاکستان بنوانے سے پہلے جاننا چاہئے تھا کہ ان کے تمام سکے کھوٹے ہیں۔ اگر وہ پیشگی سوچ کے تحت نہ جان سکے ، اس کو انھوں نے ملی تجربہ کے بعد جاناتو وہ قائد اعظم تو درکنار قائد اصغر بھی نہ تھے۔

12 اپریل 1990

پروفیسر مشیر الحق کی (وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی) کو کشمیر کے جنگ جو نوجوانوں نے گولی مارکہ ہلاک کر دیا۔11 اپریل کو ان کی لاش سرینگر سے دہلی بذریہ ہوائی جہاز لائی گئی ۔ 11 اور12 اپریل کی درمیانی رات کو ساڑھے دس بجے نماز جنازہ جامعہ کے احاطہ میں پڑھی گئی۔ تقریب پانچ ہزار آدمی جنازہ میں موجود تھے۔

other sourceWords of another person or source

جامعہ مڈل اسکول کے گراؤنڈ میں میں انتظار میں کھڑا تھا کہ نماز جنازہ شروع ہوتو میں اس میں شرکت کروں۔ اتنے میں شور بلند ہوا کہ مرکزی وزیر عارف محمد خاں جنازہ میں شرکت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ جامعہ کے کچھ لڑکوں نے ان کے آتے ہی "واپس جاؤ" کے نعرے بلند کئے ۔ ان پر پتھرمارے جس سے ان کے سرمیں زخم آئے۔ ان کی کارکونقصان پہنچا۔ وغیرہ ۔ یہ پرتشدد مظاہرہ جامعہ کی اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کی قیادت میں ہوا۔ عارف محمد خاں پر وفسیر مشیرالحق کے شاگرد ہیں ۔ مگر انھیں جنازہ میں شرکت کے بغیر واپس جانا پڑا۔

جامعہ کے ایک استاد نے کہا کہ لڑکوں میں غم وغصہ تھا ، اس لئے مرکزی حکومت میں کہلا دیا گیا تھا کہ وہاں کاکوئی آدمی جنازہ میں شریک نہ ہو ۔ ورنہ لڑ کے ہنگامہ کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو چاہئے تھا کہ اپنے لڑکوں کومنع کر یں نہ کہ دوسروں کو شرکت جنازہ سے روکیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جنازہ کا وقت وہ ہے جب کہ آدمی کا ذہن زندگی سے موت کی طرف مڑ جائے ، وہ دنیا کے بجائے آخرت کے بارہ میں سوچنے لگے۔ ایسے وقت میں بھی مسلمانوں کے دل نرم نہیں ہوتے۔جنازہ کے وقت نعرہ بازی اور سنگ باری کرنا خدا کے غضب کو بھڑ کا نا ہے ۔ مگرمسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے نوجوان اس قسم کے بیہودہ کاموں میں مشغول ہیں اوران کے بڑے بالواسطہ طور پر ان کی تائید کر رہے ہیں۔

13 اپریل 1990

آج ٹائمس آف انڈیا نے ٹامس کارلائل (Thomas Carlyle کا قول نقل کیا ہے کہ محبت کرنے والادل تمام علم کا آغاز ہے:

A loving heart is the beginning of all knowledge.

"محبت کرنے والا دل" ایک سادہ سی بات نہیں۔ محبت کرنے والا دل کسی شخص کو سخت محنت کے بعدحاصل ہوتا ہے۔ اس دنیا میں طرح طرح کے شخصی اور قومی اسباب پیش آتے ہیں جو آدمی کے اندر دوسروں کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑکاتے ہیں۔ اس لئے اس دنیا میں وہی شخص محبت کر سکتا ہے جو نفرت کے اسباب کے باوجود محبت کر سکے۔

جو آدمی اس اعلی صلاحیت کا ثبوت دے، اس نے گویا اپنے اندربلند فکری پیدا کرلی۔ اور بلندفکری ہی بلاشبہ تمام علمی و فکری ترقی کا سر چشمہ ہے۔

14 اپریل 1990

کویت کا عربی ماہنامہ الوعی الاسلامی (رمضان 1410ھ ، اپریل 1990) پڑھ رہا تھا۔ اس کے صفحہ 62 پر عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی ایک دعا نقل کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں :

يارب انت انت وأنا أنا. أنا المواد بالذنب وأنت المواد بالغيرة

اے میرے رب ، تو تو ہے اور میں میں ہوں ۔ میں بار بارگناہ کرتا ہوں اور تو بار با بخشش فرماتا ہے۔ پس تو مجھے بخش دے۔

اس دعا میں اپنی عبدیت اور خدا کی عبودیت کا جو والہانہ اعتراف ہے، وہ بہت عجیب ہے۔ اس میں دوسرا سبق یہ ہے کہ اسلام ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے کہ بادشاہ اپنی ساری بادشاہی کے باوجود اپنے کوچھوٹا سمجھنے پرمجبور ہوجائے۔

15 اپریل 1990

کشمیر میں آجکل دہشت گردی کی جو تحریک چل رہی ہے ، اس میں اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کو بھی برباد کر دیاگیا ہے۔ قومی آواز14 اپریل 1990 کی ایک رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ کشمیر میں بہت سے دہشت گرد پکڑے گئے ہیں۔ پولیس ان سے سوال و جواب کر رہی ہے ۔ اس سلسلہ میں رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے :

" جب دہشت گردوں سے پوچھا گیا کہ انھوں نے وادی کشمیر میں اسکولوں کی عمارتوں کو کیوں آگ لگادی۔ انھوں نے اس کے جواب میں کہاکہ ان اسکولوں میں سیکولرزم کا سبق سکھا یا جاتا ہے ، جب کہ ہم نظام مصطفی قائم کرنا چاہتے ہیں۔

other sourceWords of another person or source

کشمیر کے ان انتہا پسندوں کے فکری رہنما اقبال ، سید قطب اور ابوالاعلی مودودی ہیں۔ اور ان کو ایران اور افغانستان کے جہاد سے عملی جوش ملاہے ۔ اور یہ تمام لوگ مغربی طرزتعلیم کے سخت خلاف رہے ہیں ، مثلا ابو الاعلی مودودی نے جدید تعلیم گاہوں کو قتل گاہ بتایا ہے۔ وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میرے نزدیک یہ سب مجنونانہ باتیں ہیں۔ ان کا آخری انجام ملت کی بربادی کے سواکسی اور شکل میں نکلنے والا نہیں۔

16 اپریل 1990

آج رمضان 1410ھ کی 19 تاریخ ہے۔ روزہ کے سال میں میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر کم کھاؤں تو پیٹ ہلکا رہتا ہے مگر دن بھر بھوک کا احساس غالب رہتا ہے۔ اور اگر زیادہ کھاؤں تو بھوک کا احساس نہیں ہوتا ، مگر سارے دن پیٹ بھاری رہتا ہے۔ میں نے دوسری صورت کے مقابلہ میں پہلی صورت کوترجیح دی ہے۔ دن بھر پیٹ کا بھاری رہنا مجھے پسند نہیں۔ مجھ کو یہ بات زیادہ پسند ہے کہ طبعیت ہلکی رہے ، خواہ وہ بھوک کی قمیت پرکیوں نہ ہو ۔

موجودہ دنیا صرف کھونے کی دنیا ہے اور آخرت کی دنیا صرف پانے کی دنیا ۔ آدمی کاحال بھی کیا عجیب ہے ۔ وہ محرومی کی دنیا میں پانا چاہتا ہے۔ اور جو دنیا پانے کے لئے ہے وہاں وہ مسلسل کھو رہا ہے۔

17 اپریل 1990

کارل مارکس(1883- 1818 ) کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے موجودہ دنیا پر سب سے زیادہ فکری اثر ڈالا ہے ۔ یہ بات اس اضافے کے ساتھ صحیح ہے کہ اس سے متاثر ہونے والے لوگوں میں مسلمان بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔

مارکس سے متاثر ہونے والے مسلمانوں میں ایک طبقہ ہے جو باقاعدہ مارکسسٹ بن گیا۔ ان کے علاوہ بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو اپنے آپ کو مارکسی نہیں کہتے۔ مگروہ نہایت گہرے طور پرمارکسی فکر سے متاثر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے مارکسیت کو اسلامائز کیا۔

مارکسی فکر کے دو بڑے حصے ہیں ۔ ایک اس کا مخصوص نظری ، دوسرا اس کا طریقہ (Method) میرے نزدیک غلام احمد پرویز (۱۹۸۵ - ۱۹۱۰) نے مارکس کے نظریہ کو اسلامائز کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور ابو الاعلی مودودی( ۱۹۷۹-۱۹۰۳ وہ شخص ہیںجنہوں نےمارکسزم کے طریقہ کو اسلامائز کیا۔ مارکس کے طریقہ کا بنیادی پہلو" شکست نظام "ہے۔ اس کو ابوالاعلی مودودی نے اسلامی اصطلاحوں میں لے لیا۔

حالانکہ مارکسی طریقہ اسلام کی عین ضد ہے۔ اسلام کا طریقہ اصلا شکست ذہن ہے نہ کہ شکست نظام - ابو الاعلی مودودی کی اسی فکرکا یہ نتیجہ ہے کہ ان کے لڑ پچر سے متاثر ہونے والے لوگ ساری دنیا میں سٹم کو توڑنے والی باتیں کر رہے ہیں۔ اور جہاں مواقع ہیں ، وہاں تشدد کے ذریعہ نظام کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ان کے اندر صحیح اسلامی ذہن ہو تاتو وه فکر میں تبدیلی لانے پر ساری طاقت خرچ کرتے نہ کہ سیاسی ڈھانچہ کو توڑنے پر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

18 اپریل 1990

مسلمانوں نے پیدائش ، موت، شادی بیاہ وغیرہ مواقع پر بہت سے بدعتی طریقے اختیار کرلئے ہیں ۔ مگر ان کی سب سے بڑی باتیں وہ ہیں جو انھوں نے مسجد اور عبادت کے ساتھ شامل کر رکھی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک اشتعال انگیز حد تک لغو بدعت یہ ہے کہ درود وسلام کے نام پرمسلمانوں نے کچھ خود ساختہ کلمات اور اشعار وضع کر لئے ہیں۔ مثلا الصلاۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ ، یا اے خدا کے لاڈلے ، وغیرہ ۔ فجر کے وقت اذان سے پہلے یہ کلمات دیر تک مسجد میں دہرائے جاتے ہیں۔ اور نماز فجر کے بعد دوبارہ کئی مسلمان مل کر ان کو ادا کرتے ہیں۔

یہ خودساختہ درود و سلام ہمیشہ لاؤڈاسپیکر پر ہو تا ہے ۔ یہ آوازیں تقریبا ایک میل کے دائرہ میں پھیلتی ہیں ۔ مگروہ دوسروں کے لئے صرف شور وغل ہو تا ہے ، کیوں کہ مسجد کے باہر وہ صرف شور کی صورت میں سنائی دیتا ہے۔ غیر مسلموں کو بھی مجبور کیا جا تا ہے کہ وہ اس شور کوسنیں۔ نماز کسی زمانہ میں پرسکون عبادت کا نام تھی۔ اب لاؤڈ اسپیکر کے زمانہ میں وہ لوگوں کی نیند میں خلل ڈالنے اور لوگوں کے سکون کو برہم کرنے کا نام بن گئی ہے ۔

ہندستان کے علماء اور رہنما آجکل سب سے زیادہ ملی تشخص کے مسئلہ پر تقریر یں کر رہے ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس سے کہیں زیادہ بڑا مسئلہ اس قسم کی بدعتیں ہیں جنھوں نے اسلام کے تشخص کو بگاڑ رکھا ہے۔ اس کی وجہ سے غیر مسلموں کی نظر میں نماز کی تصویر ایک مجنونانہ قسم کے شور وغل کی ہوکر رہ جاتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ جو لوگ ملی تشخص کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں ، وہ اسلامی اور عبادتی تشخص کے اس سنگین ترمسئلہ پر بالکل خاموش ہیں۔

19 اپریل 1990

قرآن سے استدلال کی دوقسمیں ہیں۔ ایک ہے خدا کے کلام سے خدا کی بات نکالنا۔ دوسرا ہے خدا کے کلام سے اپنی بات نکالنا۔ دوسرے طریقہ استدلال کی مثالیں شیعہ حضرات کے یہاں بہت پائی جاتی ہیں۔ مثلا امام کے بارہ میں ان عقیدہ ۔ ان کا کہنا ہے کہ نبوت کے بعد امامت کا تسلسل جاری ہے ۔ امام بنی کی طرح مامورمن اللہ ہو تا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ الائمة نوراللہ ۔ اس کا ثبوت : عن الى خالد الكابلى سألت أبا جعفر عن قول الله عزوجل آمنوا بالله ورسله والنور الذي انزلنا) فقال يا أبا خالد النور و الله الائمة (اصول کافی )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابوخالد الکابلی کہتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر امام باقر سے اس آیت کے بارہ میں پوچھاکہ " ایمان لاو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اس نور پر جو ہم نے اتارا۔ انھوں نے جواب دیا کہ اے ابوخالد ، نور سے مرادخد اکی قسم ائمہ ہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ حقیقی معنوں میں کوئی استدلال نہیں۔ یہ خد اکے کلام میں اپنی بات کو جوڑنا ہے۔ یہ میدان بے حد وسیع ہے۔ آپ قرآن سے ایک لفظ لیں اور اس میں جو لفظ چا ہیں جوڑ دیں ، اور کہیں کہ دیکھو ، یہ میری بات قرآن میں موجو دہے۔

20 اپریل 1990

پروفیسر مشیر الحق (1933-1990 کشمیر یونیورسٹی میں وائس چانسلر تھے ۔کئی دن سے ان کے بارہ میں تشویشناک خبریں آرہی تھیں۔ کشمیر کے ججنگجو نو جوانوں نے اپریل 1990 کو انھیں میں اس وقت اغوا کرلیا۔ جب کہ وہ سرینگر میں جمعہ کی نماز اداکرنے کے لئے مسجد جارہے تھے۔ وہ مسلسل دھمکی دے رہے تھے کہ ہمارے گرفتار ساتھیوں کو رہا کیا جائے ورنہ ہم مشیرالحق ( اور دوسرے یرغمالیوں) کو قتل کر دیں گے ۔

11 اپریل (14 رمضان 1410)ھ کوصبح 8بجے میں اپنے مطالعہ کے کمرے میں تھا کہ اچانک میری اہلیہ کمرہ میں داخل ہوئیں ۔ ریڈیو نے خبر کی تصدیق کر دی۔ انھوں نے کہا۔ آج صبح آل انڈیا ریڈیو نے بتایاکہ کشمیری دہشت پسندوں نے پروفیسر مشیرالحق اور ان کے سکریٹری مسٹر عبد الغنی کوگولی مار دی اور ان کی لاش کو سٹرک پرپھینک دیا۔

میری زبان سے بے ساختہ نکلا" یا اللہ یا اللہ" میں کتاب بند کر کے اٹھا غسل خانہ میں جاکر وضوکیا۔ میرا دل ٹوٹ رہا تھا ۔ غم کی شدت سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میرے دماغ سے الفاظ کا ذخرہ ختم ہوگیا ہے بے اختیاری کے عالم میں میری زبان سے نکلا : خدایا ، دورکعت صلاة استهدا قبول فرمائیے۔ طلب ہدایت کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھی۔ آخر میں ہاتھ اٹھا کر دعاکی کہ خدایا ، آپ کے رسول کی امت بھٹک گئی ۔ جھوٹے رہنماؤں نے دین رحمت کے ماننے والوں کو دین تخریب کے راستے پر ڈال دیا ۔ خدایا، اس امت کی ہدایت کا سامان کیجئے۔ اس امت کو بربادی سے بچا لیجئے۔

دین کے نام پر اسی بے دینی کا نام شاید دجالیت ہے۔

21 اپریل 1990

لاہور کے اخباروفاق (10 اپریل 1990)میں مسٹرمحمد علی جناح کے کچھ واقعات شائع ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ مضمون نگار کے الفاظ میں یہ ہے :

ایک مرتبہ ایک ہندوصحافی نے کہاکہ مسٹرجناح آج آپ کا نگریس کو بہت برا بھلا کہ رہے ہیں۔ حالاں کہ آپ خود پہلے کانگریس میں تھے۔ اور آپ وہیں سے ابھرے ہیں۔ مسٹر جناح نے اس کا پرلطف جواب دیا جس کو سن کر صحافی چپ ہوگیا۔ انھوں نے کہا : آپ کو معلوم ہے کہ میں کسی زمانہ میں مڈل اسکول میں بھی پڑھتا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسٹر جناح کے نظریات سے مجھے اتفاق نہیں۔ مگر ان کا یہ جواب مجھے پسند آیا۔ اس طرح کے سوال کا یہ بہترین جواب ہے۔

22 اپریل 1990

قدیم شاہی زمانہ میں ایک یا چند اشخاص بھی سیاست پر قابض ہو جاتے تھے۔ مگر جمہوریت کے زمانہ میں جو چیز فیصلہ کن ہے وہ تعداد ہے۔اس لئے کہا جا تا ہے کہ سیاست گنتیوں کا کھیل ہے :

Politics is the game of numbers

مگر مسلمان شاید یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست الفاظ کا کھیل ہے۔ چنانچہ ہر آدمی الفاظ کے شعبدے دکھا رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ سیاست کا اونچا مینار تعمیر کر رہا ہے۔ سیاسی اعتبار سے ہندستانی مسلمانوں کے لئے پہلا ممکن کام یہ تھاکہ وہ اپنے ووٹوں کومتحد کریں۔ مگر پچاس سال کی نا کام سیاست کے باوجود وہ ایسا نہ کر سکے۔

دوسری چیز یہ تھی کہ وہ ہندستان کے دوسرے طبقات کو کم ازکم سیاسی اعتبار سے اپنے ساتھ لے سکتے ۔ مثال کے طور پر ان کے لئے ممکن تھاکہ وہ ہریجنوں کو سیاسی طور پر اپنے ساتھ کرلیں ۔ بہت سے لیڈر یہ نعرہ لے کر اٹھے۔ مگرسب کے سب نا کام رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لیڈروں نے ہریجنوں کی ترقی کے لئے تو کچھ نہیں کیا۔ بس یک طرفہ طور پر ان کو اپنے لئے استعمال کرنے کی بات کرتے رہے۔ اسی صورتحال کی بابت ڈاکٹرا میڈ کرنے ان لفظوں میں شکوہ کیا تھاکہ مسلمان ہریجنوں کی حمایت تو چاہتے ہیں مگر انھوں نے کبھی بھی ہر یجنوں کو اپنی حمایت نہیں دی :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The Muslims wanted the support of the scheduled castes, but they never

gave their support to the scheduled castes. (p. 324)

اس قسم کی یک طرفہ ہوشیاری اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی ۔

23 اپریل 1990

پاکستان کے اخبار نوائے وقت( 14 اپریل 1990 ) کے اداریہ کی سرخی ہے : " جناب صدر، داخلی سینر فائر کر ائیے۔" اس سرخی کا پس منظر یہ ہے کہ پاکستان میں ، خاص طور پرسندھ میں تشدد کاطوفان برپا ہے۔ اخبار کے لفظ میں "باہمی سرپھٹول" اپنے شباب پر ہے۔ گولی اور آتش زنی روزانہ کا معمول بن گئے ہیں۔ نوائے وقت کے مطابق کراچی آتش فشاں کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور دس ہزار فوجی کراچی میں قیام امن کے لئے تعین کئے جاچکے ہیں۔"

اس قسم کی باتیں میرے نزدیک سراسر بے معنی ہیں۔ آجکل میرے پاس دو پاکستانی اخبار آرہے ہیں۔ ایک نوائے وقت، دوسرا وفاق ۔ دونوں اخبار کے صفحات کشمیری نوجوانوں کے پرتشدد واقعات سے بھرے ہوتے ہیں جن کو یہ اخبارات دہشت گردی کے بجائے جہاد کہتے ہیں ۔حتی کہ پروفیسر مشیر الحق جیسے بے ضر انسان کے مجرمانہ قتل کو پاکستانی اخباروں میں مذمت تو درکنار اظہار افسوس کا بھی کوئی لفظ پڑھنے کو نہیں ملا ۔ نوائے وقت (12اپریل 1990 ) میں اس کی خبران الفاظ میں دی گئی ہے : کشمیری حریت پسندوں نے کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مشیر الحق اور ان کے سکریٹری عبد الغنی کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔ اور گولیوں سے چھلنی دونوں کی نعشیں سرینگر میں مل گئی ہیں " ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک طرف پاکستان کے باہر تشدد کو گلوریفائی کرنا اور دوسری طرف پاکستان کے اندر تشد د بند کرنے کی اپیل کیا، دونوں متضاد باتیں ہیں۔ اور اس قسم کا تضاد کبھی اس دنیا میں واقعہ نہیں بنتا۔

24 اپریل 1990

ڈاکٹر غلام محمد شاہ کشمیری( ترہ گام )سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ کشمیر کے نام نہاد مجاہدین کا کہناہے کہ' ہم بندوق کی نوک پر کشمیرمیں اسلام لائیں گے'۔

میں نے کہا کہ پھر کشمیر کے ان مجاہدین کو کہنا چاہئے کہ وہ خدا و رسول سے بھی زیادہ طاقت ور ہیں ۔ کیوں کہ حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق ، عرب میں پہلے دلوں کو بدلا گیا ، اس کے بعد اسلام کاقانون نافذکیاگیا ۔ مگر کشمیری مجاہدین دلوں کو بدلے بغیر بم اور گولی کی منطق سے اسلام کا قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس طرح کشمیرمیں اسلام تو نہیں آسکتا، البتہ تباہی اور بربادی ضرور آئے گا، اور یہ تباہی پہلی تمام تباہیوں سے بڑھ کر ہوگی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ اسلام میں جنگ برائے دفاع ہے نہ کہ برائے نفاذ اسلام کسی گروہ میں اسلام کو لانے کے لئے سارا عمل دعوتی انداز میں کیا جاتا ہے ۔ جنگ صرف اس وقت کی جاتی ہے جب کہ دفاع کے لئے لڑنے کی ناگزیر ضرورت پیش آئے ۔ جنگ کو اشاعت اسلام کے ساتھ جوڑنے کا نظریہ سراسر لغونظریہ ہے۔ اس کا خدا کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ جنگ کو اشاعت اسلام یا نفاذ اسلام کا ذریعہ بنانا ابو الاعلی مودودی کی بدعت ہے جس کو انھوں نے الہاد فی الاسلام میں پیش کیا ہے، مگر یہ ایسا نظریہ ہے جس کے لئے قرآن وحدیث میں کوئی دلیل موجود نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

25 اپریل 1990

کراچی کے فضل الرحمان صاحب (1989 - 1936 ) اور فیصل آباد کے مولانا عبدالغفارحسن صاحب دونوں الرسالہ کے بہت قدرواں تھے ۔ دونوں کئی سال سے کوشش کر رہے تھے کہ ڈکلیریشن مل جائے تو پاکستان سے الرسالہ کا اڈیشن نکالیں ۔ مگرجنرل ضیا الحق کی حکومت (1988۔ 1977 ) کے زمانہ میں صحافت کے لئے قوانین اتنے سخت تھے کہ آخر وقت تک الرسالہ کا ڈکلیریشن نہ مل سکا۔

یہ بھی ایک مثال ہے کہ فوجی ڈکٹیٹر شپ اندھی ہوتی ہے ۔ الرسالہ جولوگ پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ ایک غیر سیاسی پرچہ ہے۔ مزید یہ کہ اس کا مسلک یہ ہے کہ حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے تعمیری اور دعوتی میدان میں کام کر و۔ اس کے باوجود ضیا الحق صاحب کی فوجی حکومت نے الرسالہ کے اجراءکے لئے ڈکلیریشن نہیں دیا۔

بے نظیر بھٹو کی جمہوری حکومت آئی تو صحافت کے قوانین نرم کر دئے گئے ۔ چنانچہ بیک وقت دو ڈکلریئشن مل گئے۔ میں نے فضل الرحمان صاحب( فضلی سنز لمینڈ) کو ترجیح دی۔ چنانچہ ان کے انتقال کے بعد ان کے صاجزادہ طارق رحمن صاحب نے الرسالہ کو کراچی سے چھاپنا شروع کر دیا ہے۔ مارچ 1990میں اس کا پہلا شمارہ شائع ہوا ہے ۔ یہ مکمل طور پر دہلی اڈیشن کی نقل ہو تا ہے ۔ پاکستان سے الرسالہ کی اشاعت الرسالہ مشن کے لئے ایک نئی جست ہے ۔اللہ تعالی اس جست کو کامیابی عطافرمائے۔

26 اپریل 1990

آج رمضان (1410ھ) کے مہینہ کا آخری روز ہ تھا۔ عید کے چاند کی عام رویت ہوئی۔ میں نے بھی نماز مغرب کے بعد چاند دیکھا۔ چاند کو دیکھتے ہی ایک عجیب احساس ہوا۔ زبان پرفورا یہ کلمات آگئے :

الم اهله علينا بالامن والامان والسلامة والاسلام

رمضان کی پہلی تاریخ آئی تو میں ڈر رہا تھا کہ اس شدید موسم میں ایک مہینہ کا روزہ کس طرح پورا ہو گا۔ مگر آج جب کہ روزہ کا مہینہ ختم ہوگیاتو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے روزہ کا مہینہ گو یا آیا نہ تھا۔ اسی طرح بندہ جب آخرت کے راستہ پر چلنے کی بنا پر دنیاکی تکلیف اٹھاتا ہے تو آج یہ تکلیفیں بظاہر بہت سخت معلوم ہوتی ہیں۔ مگر جب آخرت آئے گی اور آدمی دنیا کے صبر اور مشقت کی جزا کو دیکھے گا تو اس کو ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ اس نے بھی تکلیف اٹھائی ہی نہ تھی۔

27 اپریل 1990

آج عید کادن ہے، جمعیتۃ علما ہند کا ہفت روزہ اخبار "الجمعیتہ" کاعید نمبر(یکم شوال1410) آیا تو اس کے ورق پر جلی حرفوں میں یہ مضمون لکھا ہوا تھا :

عید کادن مسلمانوں کی خوشی کا دن ہے۔

مگر جب خوشی کے حالات نہ ہوں

توعید کا دن عہد کا دن ہوتا ہے

میں نے اس کو پڑھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ عبارت میری لکھی ہوئی ہے۔ چنانچہ الجمعیہ ویکلی کی پرانی فائل نکالی جب کہ الجمعیہ میری ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ اس کے شمارہ 2 جنوری 1968میں صفحہ 4 پرعین یہی مضمون میرے نام کے ساتھ چھپا ہوا ہے۔ اسی کو موجودہ الجمعیہ میں میرے نام کے بغیرشائع کر دیاگیاہے۔

اردو اخبارات ورسائل کثرت سے ایسا کر رہے ہیں۔ انھیں میرانام چھاپنا تو گوارانہیں۔ البتہ میرے مضامین کو وہ حوالہ کے بغیر بے دھڑک چھاپ رہے ہیں۔ جو قوم پست اخلاقی کی اس سطح پر ہو، اس سے آخر کسی بڑے کارنامہ کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے۔

" اعتراف" تمام نیکیوں کا آغاز ہے۔ جن لوگوں میں سے اعتراف اٹھ جائے وہ کوئی اورنیکی کا کام ہرگز نہیں کر سکے۔

28 اپریل 1990

احمد شوقی (1932- 1868) ایک عرب شاعر تھے۔ ان کا دیوان شوقیات کے نام سے چھپاہے۔ ان کو امیرالشعراء کا خطاب دیا گیا تھا۔ امیرشکیب ارسلان (1871-1946 ) احمدشوقی سے بہت متاثر تھے۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں احمد شوقی کے بارہ میں کہا تھا:

فرایت شوقی لم یدع فی عصرہ قرنا۔ یھز قناتہ لقناتہ

میں سمجھتا ہوں کہ شوقی نے اپنے زمانہ میں کوئی ہمسر نہیں چھوڑا جو اپنی لاٹھی کو اس کی لاٹھی سے ٹکراسکے۔

شاعر الفاظ کی سطح پر اپنی دنیا تعیر کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر ایسے شاعر پیدا ہوئے جنھوں نے الفاظ کے ذریعہ بلند ترین خیالی قلعہ بنایا۔ مگرحقیقت کی دنیامیں وہ ملت کاکوئی قلعہ تعمیر کرنے سے عاجز رہے۔ الفاظ کی دنیا میں مسلمانوں کی لاٹھی سب سے زیادہ طاقت ورتھی، مگرواقعات کی دنیا میں دوسروں کی لاٹھی سب سے زیادہ طاقت ور ۔

29 اپریل 1990

27 اپریل کو عید الفطر کا دن تھا۔ میں نے مسجد سرائے (نئی دہلی) میں عید کی نماز پڑھی ۔یہاں میں مقبرہ کے گنبد کے نیچے تھا۔ اس گنبد کے تحت تقریبا سوآدمی موجو دتھے۔ جس وقت لوگ نماز کے بعد خطبہ سننے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک منظر میرے سامنے آیا۔ ایک مسلمان بچہ وہاں قبر کے پتھر پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک غبارہ تھا۔ اس غبارہ کو جوڑ کر بندر کی صورت میں بنایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ لنگور جیسی لمبی دم بھی موجود تھی۔

بچہ اس بندر نما غبارہ کو ادھر ادھر پھینک رہا تھا۔ وہ ہوا میں اڑ کرلوگوں کے سروں پر گر رہا تھا۔ میں نے دیکھا تو اس کی اس حرکت پر اس کے والد صاحب اس کو پیار کر رہے ہیں۔ اور دوسرے نمازی اس کو دیکھ کر مسکرارہے ہیں۔ اب فرض کیجئے کہ یہ بچہ ہندو ہوتا اور وہ بندر کی شکل کاغبارہ نمازیوں کے سروں پر اڑاتا توکیا ہوتا۔ فورا اس میں لوگوں کو ہند وسازش نظر آتی ۔ نمازیوں کی نماز خراب ہو جاتی۔ مسجد کا تقدس مجروح ہو جاتا۔ اور پھر نماز کے فورا بعد فرقہ وارانہ فسادر ونما ہوجاتا ۔

30 اپریل 1990

مجھے اچھی طرح یا دنہیں کہ میں نے کب سے باقاعدہ روزہ رکھنا شروع کیا۔ مگر یقینی ہے کہ جب سے روزہ رکھناشروع کیا ، اس کے بعد پھرکبھی نہیں چھوڑا ۔ مجھے شرم آتی ہے کہ رزق کامالک یہ ہے کہے کہ تم میرا کھانا اور پانی چھوڑ دو ، پھر بھی میں خدا کا دیا ہوا کھانا اور پانی استعمال کرتا ہوں۔

میں کم ازکم پچاس سال سے اس طرح مسلسل روزہ رکھ رہا ہوں ۔ مگر روزہ کی ایک لطیف حقیقت پہلی بار 50 سال بعد موجودہ رمضان (1410ھ) میں میری سمجھ میں آئی ۔ 25 رمضان کو شام کا وقت تھا۔ بھوک پیاس کی شدت سے جسم نڈھال ہو رہا تھا۔ میں عصر کی نماز کے لئے کھڑا ہوا تو اچانک یہ دعا زبان پر آگئی:

خدایا، میں نے رمضان کے دن کا روزہ رکھا۔ مگر دوسرے بے شمار دنوں کے روزے میں نہ رکھ سکا۔ آپ اپنی رحمت سے میرے رمضان کے روزہ کا ثواب اتنابڑھائے کہ وہ میری تمام بے روزہ داریوں کو ڈھانپ لے۔

حدیث میں آیا ہے کہ دوسرے اعمال کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہے۔ اور روزہ کا ثواب بے حساب گنا تک ، اگر اللہ تعالی اپنی رحمت سے روزہ کاثواب بڑھادے توکیا عجب کہ وہ دوسری تمام بے روزہ داریوں کی تلافی کے لئے کافی ہو جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it