← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
March 1990
English · 28 min read
یکم مارچ 1990
ایک صاحب نے کہاکہ موجودہ زمانہ میں بہت سے بڑے بڑے مصلح پیدا ہوئے۔ بہت بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ مگر سب بے فائدہ ثابت ہوئیں۔ میں نے کہاکہ ان تحریکوں اور ان شخصیتوں نے نتیجہ سے آغازکرناچاہا، اور اس دنیا میں نیتجہ سے آغاز ممکن نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صحابہ کرام نے مکہ اور مدینہ میں ایک عمل کیا۔ اس کے بعد عالمی انقلاب کی صورت میں اس کا نتیجہ برآمد ہوا موجودہ زمانہ کے مسلم مسلمین کو صرف نتیجہ کی خبر تھی ، انھیں عمل کی خبر نہیں تھی۔ چنانچہ وہ نتیجہ کو جذباتی انداز میں مسلمانوں کے سامنے بیان کرتے رہے۔
مثلا اقبال کا یہ شعر :
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تمام مصلحین دور نتیجہ کے بارہ میں اس قسم کی رومانی باتیں کہہ کرمسلمانوں کو جوش دلاتے رہے کسی نے دور عمل کی حقیقتتیں مسلمانوں کے سامنے بیان نہیں ہیں ۔ ایسی حالت میں وہی ہوسکتا تھا جو ہوا۔
2 مارچ 1990
ہمارے دفتر سےمتصل پارک آجکل بہت ہرا بھرا ہورہا ہے ۔ رنگ برنگ کے پھولوں کی کیاریاں اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی ہیں۔ کئی دن کی بد لی اور کہر کے بعد آج پوری دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ صبح گیارہ بجے میں نے چھت پر کھڑے ہو کر پارک کی طرف دیکھا تو وہ نہایت خوش نمامعلوم ہوا ۔
میں ابھی دیکھ رہا تھا کہ معمولی کپڑے میں ایک غریب عورت پارک کے اندر داخل ہوئی۔ وہ اس کے ایک کنارے بیٹھ گئی۔ اس کے ساتھ کچھ کھانے کی چیز تھی۔ وہ کنارے ایک جگہ بیٹھ کر کھانے لگی۔ میں نے عورت کو دیکھا تومیرے دل نے کہا کہ یہ عورت اپنی ذات کی بنیاد پر اس قسم کے پارک کی مالک نہیں رہتی۔ تاہم وقت کا نظام اس کو اجازت دے رہا ہے کہ وہ اس کے کنارے آکر بیٹھ سکے اور اس کی پر بہار فضا میں شریک ہو۔
دل سے دعا نکلی کہ خدایا ، میں اپنے عمل کے اعتبار سے جنت کا مستحق نہیں ہوں۔ تو چاہے تو اس غریب عورت کی طرح مجھے یہ اجازت دیدے کہ میں جنت کے ایک گوشہ میں قیام کرسکوں۔
3 مارچ 1990
اقبال احمد صاحب (59 سال) مراد آباد کے رہنے والے ہیں ۔ 13 اگست 1980 کومراد آباد میں جو فساد ہوا تھا ، اس کے بارہ میں انھوں نے تفصیلات بتائیں۔ یہ عید کا دن تھا۔ مسلمان عیدگاہ میں نماز کے بعد خطبہ سننے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں عید گاہ سے متصل ایک نالہ ہے۔ اس کی طرف سے ایک خنزیر عید گاہ میں گھس آیا۔ لوگوں نے اس کو بھگایاتو وہ دوڑتے ہوئے ایک صاحب کے پاس سے گزرا جو چادر بچھائے ہوئے اس پر بیٹھے تھے ۔ خنزیر جب اس چادر کے پاس سے دوڑتا ہوا گزرا تو ان کی چادر پر اس کی کچھ چھینٹیں آگئیں۔
پاس ہی پولیس کا آدمی کھڑا ہوا تھا۔ انھوں نے درشت انداز میں پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تم یہاں کھڑے ہوئے کیا دیکھ رہے ہو۔ دیکھتے نہیں کہ خنزیر نے میری چادرگندی کر دی ۔ ان کے غصہ پر پولیس والا بھی غصہ ہوگیا۔ اس نے کہا : ہم یہاں کیا سور کی رکھوالی کے لئے کھڑے ہیں۔ اب دونوں طرف سے تیزی بڑھی۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے ایک پولیس کو پکڑ کر اتنا مارا کہ وہ مرگیا۔
اس کے بعد پولیس والے آپے سے باہر ہوگئے اور انھوں نے ہندوؤں کو ساتھ لے کر مراد آباد کو بھون ڈالا۔ اقبال صاحب نے کہا کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ کسی کے ایگو (انا) کو ٹچ ( مس ) نہ کرے ورنہ اس کا ایگور سپرا یگو بن جائے گا اور اس کے بعد اگلامرحلہ بر یک ڈاؤن ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4 مارچ 1990
مولا ناانیس لقمان ندوی کے ساتھ فجر کی نماز کالی مسجد (نظام الدین) میں پڑھی۔ نماز سے واپس آتے ہوئے میں نے کہا کہ بعد کے دور میں مسلمانوں میں اسلام کا ظاہری ڈھانچہ تو باقی رہا مگر اسلام کی اصل اسپرٹ کم ہوگئی۔ میں نے مثال دیتے ہوئے چند باتوں کا ذکرکیاــــــ مثلا مکہ اسپرٹ ،حدیبیہ اسپرٹ ،افعل ولاحرج اسپرٹ ،حسن اسپرٹ ۔
مکہ اسپرٹ سے مراد ہے یک طرفہ صبر کرتے ہوئے دعوت دینا ۔حدیبیہ اسپرٹ سے مرادہے مشکلات کو چھوڑ کرمواقع کو استعمال (Avail) کرنا۔ اصل ولاحرج اسپرٹ یہ ہے کہ جزئیاتی مسائل کے اختلاف کو توسع کے خانہ میں ڈالتے ہوئے اصل دین پر تو جہ صرف کرنا۔ حسن اسپرٹ یہ ہے کہ باہمی اختلاف اگر دو طرفہ بنیاد پر حل نہ ہورہا ہو تو یک طرفہ دست برداری کے ذریعہ اختلاف کو ختم کر دیا۔
5 مارچ 1990
بھائی حبیب محمدصاحب (حیدرآباد) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہاکہ میں نے اپنا کام پڑھایا،اسی کے ساتھ ذہنی الجھنیں بھی بڑھ گئیں ۔ صنعت کے بارہ میں گورنمنٹ کے قوانین سخت پریشانی میں ڈالنے والے ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہاکہ آپ مسئلہ اور مقصد کو ایک دوسرے سے الگ کر لیجئے ۔ مسئلہ پر اسی وقت تک توجہ دیجیے جب تک مقصد متاثر نہ ہو رہا ہے۔ جب مقصد متاثر ہوتا ہوا نظر آئے تومسئلہ کو حالات کے حوالہ کر کے مقصد کو اختیار کر لیجئے ۔ ذہنی پریشانی ہمیشہ ضروری اور غیر ضروری یا اہم اور غیراہم کے درمیان فرق نہ کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔
6 مارچ 1990
کلیم اللہ صاحب ایم ایس سی (سرینگر) شروع سے الرسالہ کے قاری ہیں۔ان سے کشمیر کی موجودہ صورتحال پرگفتگو ہو رہی تھی۔ انھوں نے کہاکہ آجکل جس طرح کشمیر کے عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں، وہ بظاہر لوگوں کو حیرت انگیز لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ اس کو اچانک سمجھتے ہیں ۔مگر یہ تو ایک لاوا ہے جو پچھلے 40سال سے پک رہا تھا ، اب وہ اپنی حد پر پہنچ کر پھٹ گیا۔
اس کے بعد الرسالہ کے مشن پرگفتگو ہوتی رہی۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ کو ایک پانیزینگ ورک سمجھتا ہوں۔ بظاہر الرسالہ صبر اور اعراض سکھا رہا ہے۔ مگر یہ بھی گویا ایک تعمیری لاوا ہے جو خاموشی سے اندر اندر پک رہا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ یہ تعیری لاوا پھٹ پڑے گا۔ اس وقت تمام دوسرے نظریات اس کے سیلاب میں بہہ جائیں گے۔
7 مارچ 1990
ندوہ کے پندرہ روزہ اخبار تعمیرحیات (لکھنؤ) میں ایک مستقل صفحہ کھولا گیا ہے۔اس میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کے نام 'مشاہیر' کے خطوط چھاپے جار ہے ہیں۔ ایک صاحب نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ تعمیرحیات میں مشاہیر کے خطوط چھپ رہے ہیں ، آپ کے الرسالہ میں اس قسم کے خطوط شائع نہیں ہوتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ' تعمیر حیات 'مشاہیر کے خطوط چھاپتا ہے ، ہم خالق مشاہیر کے خطوط چھاپ رہے ہیں۔
8 مارچ 1990
ابو داؤد (کتاب الزکاۃ) میں ایک حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں : لاتمل الصدقۃ لغنی الا فی سبیل اللہ (ایک مالدار شخص کو زکوٰۃ لینا جائز نہیں ۔ الایہ کہ وہ اللہ کے راستہ میں ہو ۔)
hadithQuotes a hadith
یہ استثناء نہایت با معنی ہے۔ عام لوگوں کی ضرورت صرف کھانا، کپڑا، اور بقدر ضرورت مکان ہے ۔ مگرمجاہدین فی سبیل اللہ (داعی حق) کی ضروریات صرف انہیں چیزوں تک محدود نہیں ہوتیں۔ مثلاً ایک داعی حق ، جو علم کی راہ سے دعوت کا کام کر رہا ہو، اس کے پاس لاکھوں روپیہ کی کتابیں ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے قیمتی وسائل ہوسکتے ہیں۔ مگر ان سب کے باوجودیہ ممکن ہے کہ اس کو مدد کی ضرورت ہو۔ عام انسان با عتبار ضرورت محتاج ہوتے ہیں اور داعی با عتبار وسائل۔ اور وسائل کی کوئی حد نہیں۔
9 مارچ 1990
جان کیمبل (John W. Campbell) نے مسلمانوں کے سائنسی کارناموں کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام نے سائنس کو ایجادکیا:
other sourceWords of another person or source
Islam invented science.
سائنس مظاہر فطرت کی تسخیرسے ظہور میں آتی ہے۔ اسلام سے پہلے ساری دنیا میں انسان مظاہر فطرت کو پرستش کی چیز سمجھتا تھا۔ اس کا یہ ذہن مظاہر فطرت کے سفر میں رکاوٹ تھا۔ اسلام نے توحید کو غالب کیا اور شرک کا خاتمہ کیا تو اس کے بعد لوگوں میں تسخیری سوچ ابھری۔ اگر مظاہر پرستی (شرک) کا خاتمہ کیا جاتا تو انسان کے اوپر سائنسی دور کا آغاز بھی نہ ہوتا۔
10 مارچ 1990
ٹائمس آف ( 10 مارچ 1990 )میں صفحہ اول پر یہ خبرہے کہ ہندستان کے محکمہ انکم ٹیکس نے وشو ہندو پریشد کے جنرل سکر یٹری مسٹر اشوک سنگھل کو نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ محکمہ کے دفتر میں حاضر ہوں اور سات سو کر و ر (سات ارب) روپیہ کی اس رقم کا حساب دیں جوان کی پارٹی نے رام جنم بھومی کی تعمیر کے نام پر جمع کیا ہے۔ یہ رقم1988 اور1989 کے درمیان دو سالوں کے اندر جمع کی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق ، اس رقم میں سے 200 کروڑ روپیہ امریکہ میں مقیم ہندوئوں کی طرف سے آیا ہے ۔
other sourceWords of another person or source
فروری 1987 میں نئی دہلی کی مشترک میٹنگ میں میں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے جھگڑے کو تاریخ دانوں کے ایک بورڈ کے حوالہ کر دیا جائے۔ اس وقت ہندو سائیڈ کے تمام لوگ اس تجویز پر راضی ہو گئے تھے۔ مگر اس وقت مسٹر شہاب الدین نے شور وغل کرکے اس تجویز کو منظور نہیں ہونے دیا۔ اب جب کہ وہ لوگ اس نام پر سات ارب روپیہ جمع کر چکے ہیں ۔ اب ناممکن ہے کہ وہ اس معاملہ میں سابقہ تجویز پر راضی ہو سکیں ۔
11 مارچ 1990
ایمرسن (Ralph Waldo Emerson) بوسٹن میں 1803 میں پیدا ہوا۔ 1882 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ایک استاد اور مصنف تھا۔ اس کا ایک قول ہے کہ حالات کی کوئی تبدیلی کر دار میں خرابیکو درست نہیں کرسکتی:
No change of circumstances can repair a defect of character.
عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کہیں بگاڑ دیکھتے ہیں تو اس کا سبب نظام (سسٹم) کوقرار دیکر مروجہ سیاسی نظام کو توڑنے کی دھواں دھار مہم شروع کر دیتے ہیں۔ مگرسیاسی نظام ٹوٹنے کے بعدبھی بگاڑ درست نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بگاڑ ہمیشہ افراد کے کردار میں خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے بگاڑ کی درستگی افراد کی خرابی کو دور کرنے سے آئے گی نہ کہ حکمرانی کا نظام توڑنے سے۔
12 مارچ 1990
رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمیتی کے جنرل سکریٹری داؤ دیال کھنہ ، وشو ہندو پریٹ جنرل سکریٹری اشوک سنگھل، بجرنگ دل کے لیڈر راجندر پنکج ودنے کٹیار نے رامپور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا :
other sourceWords of another person or source
" عدالت کا کوئی فیصلہ اس معاملہ میں ہم ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ رام جنم بھومی کا تعلق ہمارے جذبات سے ہے۔ کچھ شرپسند ہندوؤں نے 313 مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کرنے کی ایک لسٹ جاری کر کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑانے کی کوشش کی ہے۔ مگر ہم اعلانیہ کہتے ہیں کہ رام جنم بھومی، بنارس کا مندر اور متھرا میں کرشن جنم بھومی، یہ تین ہمیں دیدیا جائے ، پھر تو ہم کسی دوسری عبادت گاہ کا مطالبہ کریں گے اور نہ ہی وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور رام جنم بھومی کمیٹی رہے گی ۔ تینوں مسجدوں اور عید گاہ کوحکومت ہندوئوں کے حوالے کر کے ایک قانون بنادے جس کو ہم ماننے کے لئے تیار ہیں۔" قومی آواز ،نئی دہلی ، 11 مارچ 1990
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمانوں میں کوئی سنجیدہ لیڈر نہیں۔ ورنہ وہ ہند و ذمہ داروں کی میٹنگ کر کے کہتے کہ دوشرط کے ساتھ ہمیں یہ تجویز منظور ہے ۔ ایک یہ کہ انھیں تین مسجدوں پر فل اسٹاپ ہو گا ، اس کے بعد کسی اور مسجد کا چیٹر نہیں کھولا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ ان تین مسجدوں کے معاملہ کو تاریخ داں پر وفیسروں کے ایک بورڈ کے حوالے کر دیا جائے اور وہ جوفیصلہ دے اس کو دونوں فریق تسلیم کرلیں۔ مجرد کلیم کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
اس طرح کے معاملات کا فیصلہ تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ محض کہ دعوے کی بنیاد پر۔
13 مارچ 1990
قرآن میں صحابہ اکرام کے بارہ میں ہے کہ رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ ۔ وہ اللہ سے راضی ہو گئے " کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کرنے پر راضی ہو گئے ، خواہ اس کی راہ میں جوبھی قربانی دینی پڑے۔ صحابہ کے زمانہ میں اللہ کا خاص منصوبہ فتنہ (شرک جارح) کو ختم کرنا تھا۔ صحابہ کرام نے اس منصوبہ میں اپنے آپ کو پوری طرح دیدیا۔ اس کے لئے انھوں نے ہرقسم کی قربانیاں دیں۔ اور سب سے زیادہ مشکل قربانی جو انھوں نے دی وہ نفسیاتی قربانی تھی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ دور آخر میں اللہ تعالی کو مطلوب ہے حق کا کلمہ ہرگھراور ہر خیمہ میں داخل ہو جائے۔ موجودہ زمانہ میں وسائل اعلام ( پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا) کی ترقی اس بات کا اشارہ ہے کہ اس دوسرے منصوبہ الہی کی تکمیل کا وقت اب آگیا ہے۔ آج دوبارہ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اس خدائی منصوبہ میں شامل کریں اور اس کے لئے ہم قربانی دیں ۔یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جولوگ ایسا کریں وہ " رضوا عنہ“ کے مصداق ٹھہریں گے۔ اور پھر وہ " رضی اللہ عنہم" کے انعام کے مستحق قرار دئے جائیں گے ۔
14 مارچ 1990
دین کی بہت سی باتیں مجھ کو اپنے ذاتی تجربہ سے سمجھ میں آئی ہیں۔ آجکل میں مضامین اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میری تشخیص کے مطابق، امت اس وقت فکری تزکیہ کے مرحلہ میں ہے۔ ابھی وہ عملی اقدام کے مرحلہ میں نہیں۔ میری مسلسل کوشش یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صحیح دینی فکر پیدا کروں۔اس وقت ہی میرے نزدیک اصل کام ہے۔
یہ کام ابھی تکمیل کے درجہ تک نہیں پہنچا ہے۔ اگر جلد ہی میری وفات ہو جاۓ تو میں چاہتاہوں کہ تعمیر فکرکا یہ کام میرے بعد بھی عرصہ تک جاری رہے۔ اس مقصد کے لئے میں مضامین جمع کر رہاہوں جو میرے بعد الرسالہ میں سمجھتے ر ہیں۔ اس طرح کئی سال تک لوگ الرسالہ ، اس کی ایجنسی وغیرہ کے موجودہ کام میں مشغول رہیں گے۔
اس کام کے دوران سمجھ میں آیاکہ لاتکتبوا عنى غير القرآن کی شاید ایک مصلحت یہ بھی تھی رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم نے لوگوں کو حدیث کی کتابت سے روک دیا۔ اس طرح آپ نے امت کو اپنے بعد ایک عظیم الشان قسم کی علمی اور تعمیری مشغولیت دیدی۔ اگر تمام حدیثیں قرآن کی طرح آپ کی زندگی میں مدون ہو جاتیں تو آپ کے بعد لوگوں کے پاس تعمیری سرگرمیوں کا کوئی بڑا میدان نہ ہوتا۔
جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے ، آپ کے بعد کئی سو سال تک مسلمانوں کے درمیان حدیث کی جمع و تدوین اور اس سے متعلق علوم کے لئے زبردست سرگرمیاں جاری رہیں۔ اس سے لوگوں کے اندر علمی ذوق بنا ، انھیں تعمیری سرگرمیوں میں مشغولیت کا ایک وسیع میدان مل گیا۔ اس کام کے لیے شمار براہ راست اور بالواسطہ فائدے ہوۓ ۔ اس طرح جوعلمی فضا بنی اس کے نتیجہ میں دوسرے علوم پیدا ہوئے۔ انسانی تاریخ تو ہماتی دور سے نکل کو حقیقی علمی دور میں داخل ہوئی۔
15 مارچ 1990
منظور احمد (ا بن محمد اسماعیل) 22 ساله کشمیری نوجوان ہیں ۔ وہ سرینگر کے محلہ خواجہ بازار میں رہتے ہیں۔ وہ ملاقات کے لئے آئے ۔گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ مجاہدین میں سے ہیں جو کہ آجکل کشمیر میں گولی اور بم کی سیاست چلا رہے ہیں۔
میں نے کہا کہ یہ سب کوئی کام نہیں۔ اصل کام پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ کشمیر کے مسلمان تعلیم حاصل کریں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی یوسی کر کے چھوڑ دیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں عمر میں آپ کے باپ کے برابر ہوں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ موجودہ سرگرمیوں کو چھوڑ دیں اور تعلیم حاصل کریں۔ میں نے مزید کہا کہ اگر آپ کے گھر کے لوگ آپ کا تعلیمی خرچ نہ دیں تو میں انشا اللہ آپ کا پورا تعلیمی خرچ دوں گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ علم کی تکمیل تک آپ ہردوسری مشغولیت کو بالکل چھوڑ دیں مگر وہ اتنے جوش میں تھے کہ میری پیشکش کوقبول نہ کر سکے ۔
16 مارچ 1990
پرانی فائل دیکھ رہا تھا۔ اس میں ایک کا غذ ملا ۔ اس کا غذ په28 جنوری 1979 کی تاریخ درج ہے اور اس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔
" خدا کا شکر ہے کہ میں ایک ایسے ملک میں ہوں جہاں قانون کی حکومت ہے۔ اگر یہاں پیلاطس رومی Pilate) ) کی حکومت ہوتی تو یہ ظالم مجھ کوسولی پر چڑھانے سے کسی چیز پر راضی نہ ہوتے۔"
17 مارچ 1990
سرینگر میں سورہ کے مقام پر شیخ عبد اللہ ( شیرکشمیر) کا مکان ہے۔ کشمیر کے لوگوں نے اس میں آگ لگا دی۔ اس کا بڑا حصہ جل گیا۔ سرینگر میں شیخ محمد عبد اللہ کی قبر پر مستقل پہرہ رہتا ہے۔ کیوں کہ اندیشہ ہے کہ کشمیر کے انتہا پسندان کی قبرتوڑ کر ان کی لاش نکالنے کی کوشش کریں گے تاکہ اس کی بے حرمتیں کر سکیں ۔
شیخ عبد الله ( 1982- 1905) کی پوری زندگی میں کشمیری ان کو پوجتے رہے۔ اب یہی کشمیری ان کے غدار کہتے ہیں۔ ان کے جو اعلی جذبات پہلے شیخ عبد اللہ کے لئے تھے، وہ جذبات اب پاکستان کے حق میں ہو گئے ہیں۔ آجکل ہر کشمیری بیتاب ہے کہ وہ ہندستان سے کٹ کر پاکستان سے مل جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کچھ کشمیریوں سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ جس طرح آپ لوگوں نے شیخ عبد اللہ کو سمجھنے میں غلطی کی ۔ اسی طرح آپ لوگ اب پاکستان کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہیں ۔اگر آپ لوگوں کی ہندستان سے علاحدگی کی تحریک کامیاب ہوگئی تو آئندہ آپ لوگ ٹھیک اسی طرح پاکستان سے بیزار ہو جائیں گے جس طرح آج شیخ عبد اللہ سے بیزار ہیں۔ مگر اس وقت آپ کے لئے کچھ بھی کرنے کا موقع نہ ہوگا ۔
18 مارچ 1990
مسز انیس جنگ ایک الٹرا ماڈرن خاتون ہیں۔ اس کے باوجود وہ ہر ہفتہ نظام الدین میں ایک بزرگ کے مزار (پتے شاہ) کے یہاں حاضری دیتی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ جیسی ایک خاتون ایساکیونکر کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ خواہ کتنا ہی زیادہ ماڈرن بن جائیں، مگر ہم کو اندرونی اعتماد حاصل نہیں ہوتا۔
انھوں نے کہا کہ جدت پسندی یقین واعتماد کے مسئلہ سے دوچا رہے۔ ہم نے قدیم اعتماد کوکھو دیا ہے ، اور اس کی جگہ اب تک ہم نئی بنیاد حاصل نہیں کر سکے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Modernity is facing the problem of conviction. Wehave lost it, and we have not replaced as it yet.
حقیقت یہ ہے کہ’’ ما ڈرن ‘لوگ سب سے زیادہ سچائی کے آگے جھکنے کے لئے تیار ہوتے ہیں،بشرطیکہ ان کی قابل فہم زبان میں سچائی کو ان کے سامنے پیش کر دیا جائے۔
یہ دور جدید کی ایک اہم دعوتی حقیقت ہے۔
19 مارچ 1990
ہندستان کے مسلم لیڈروں نے ہندستان کے مسلمانوں کے مسئلہ کاحل پہلے یہ بتا یا کرملک تقسیم کر دیا جائے۔1947 میں تقسیم ہوگئی ۔مگرخودمسلم لیڈروں کی نادانی سے کشمیرکامسئلہ غیرحل شده باقی رہ گیا۔ اس کے لئے پاکستان نے ایک سے زیادہ بار حملہ کیا۔ مگر وہ اس کو حاصل نہ کر سکے ۔ اب وہ کشمیر کے نوجوانوں کو تربیت دے کر اور انھیں امداد دے کرکشمیر کے اندر تخریب کاری کر وا رہے ہیں۔
یہ مسئلہ کاحل نہیں۔یہ مسئلہ کومزید پیچیدہ بنانا ہے ۔مسلمانوں کے نام نہا دلیڈر اگر کچھ کرتے وہ صرف خاموش رہتے تو اب تک فطرت (نیچر) مسئلہ کوحل کر چکی ہوتی۔ مگر ان کی احمقانہ مداخلت صرف مسئلہ میں اضافہ کرتی جارہی ہے۔
20 مارچ 1990
بے شمار لوگ کسی تبلیغ کے بغیر اپنے آپ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام عین فطرت انسانی کے مطابق ہے ۔
ہر آدمی میں پیشگی طور پر ہرقسم کے اچھائی کے ماڈل موجود ہیں۔ آدمی جب ایک لذیذ پھل یا ایک خوبصورت پھول کو پسند کرتا ہے تو وہ اس لئے اس کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کے اپنے فطری ماڈل کے مطابق تھا۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ آدمی کے اندر پیدائشی طور پر دین مطلوب (دین حق ) کا ماڈل رکھ دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جب دین حق کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ فورا اس کو قبول کر لیتا ہے۔ کیوں کہ وہ اس کے اپنے ماڈل کے عین مطابق تھا۔
21 مارچ 1990
طرابلس میں سلیمان القائد کے مکان پر ٹیپ بج رہا تھا ۔ مدینہ کی مسجد نبوی کے امام کی قرأت سنائی دے رہی تھی۔ اچانک مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں قیامت کے میدان میں ہوں ، اور وہاں انسان کے بولے ہوئے الفاظ کو اس کے سامنے دہرایا جارہا ہے۔ یہ اعادہ اتنا کامل اور مشکل ہے کہ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔
ٹیپ کو سن کر اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جس طرح دنیا میں ایک انسان کی آواز دہرائی جا رہی ہے اسی طرح آخرت میں اس کی محفوظ آواز دہرائی جائے گی تو یہ ایک استنباط ہوگا۔ مگرمیرا مذکورہ واقعہ استباط نہیں تھا کہ وہ ایک تجربہ تھا۔ اس طرح کے تجربے مجھے کئی بار ہوئے ہیں۔
22 مارچ 1990
طرابلس میں ایک عرب نوجوان نے اپنا خواب بیان کیا۔ انھوں نے کہاکہ میں ان کے پاس ہوں اور ان سے کہہ رہا ہوں کہ میرے پاس عرب لباس موجود نہیں۔ اس پر عرب نوجوان نے کہاکہ میرے پاس دو عربی لباس ہیں۔ ان میں سے ایک لباس میں اپنے پاس رکھتا ہوں اور ایک آپ کو دیدیتا ہوں۔ آپ اس کو استعمال کریں۔
اس خواب کی تعبیر بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ عرب دنیا میں ہمارا مشن بڑے پیمانے پر پھیلنے والا ہے۔ انشاء اللہ العزیز ۔
23 مارچ 1990
23 مارچ کو پاکستان میں قومی دن سمجھا جاتا ہے اور اس کو" یوم پاکستان" کہا جا تاہے۔ پاکستان کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اعلان کیا کہ23 مارچ کو اس سال خصوصی اہتمام کے ساتھ منایا جائے کیوں کہ قرارداد پاکستان پر اب پچاس سال (1990 – 1940) پورے ہو گئے ہیں۔ اس کے جواب میں نواز شریف (چیف منسٹر پنجاب )نے اعلان کیا کہ پنجاب میں یوم پاکستان 20 مارچ کو منایاجائے گا۔( نوائے وقت 24مارچ 1990 )
تاریخی اعتبارسے یوم پاکستان 23 مارچ کو آتا ہے۔ مگر نواز شریف (اسلامی لیڈر) اور بے نظیر بھٹو (سیکولرلیڈر ) کے درمیان اختلافات یہاں تک بڑھے کہ انھوں نے تاریخ کو بھی اپنا تابع بنالیا۔ جو پاکستان اسلامی اتحاد کے نام پر بنایا گیا تھا، اس کا حال یہ ہے کہ اب تاریخ کے حقائق کے بارہ میں بھی وہاں کے لیڈروں میں اتفاق رائے نہیں۔ اس قسم کے سطحی لوگ اگر اسلامی نظام قائم کر دیں تو وہ ایک ایسا معجزہ ہو گا جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں موجود نہیں۔
24 مارچ 1990
18ــ 23 مارچ 1990 کو میں طرابلس (لیبیا) میں تھا۔ وہاں کے نوجوان طبقہ میں الرسالہ کا مشن بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ سیکڑوں کی تعداد میں تعلیم یافتہ عرب نوجوان اس سے متاثر ہیں۔ وہ لوگ دیوانہ وار میرے اجتماعات میں آتے تھے۔ میری تقریر سنتے تھے اور اس کو ٹیپ کی صورت میں محفوظ کرتے تھے۔
1976 میں میں پہلی بار طرابلس گیا تھا۔ اس وقت وہاں مصر کے دکتور عبدالصبور شاہین سے ملاقات ہوئی۔ میری عربی زبان انھیں غیر اہم معلوم ہوئی ۔ چنانچہ محمد سلیمان القائد سے بات کرتے ہوئے انھوں نے میرے بارہ میں کہا کہ میں سجھتا تھا کہ وحیدالدین خاں کچھ ہیں۔ مگروہ تو کچھ نہیں۔ میں نے ان کو بالکل کمزور پایا۔ حتی کہ ایسا لگا کہ وہ بول بھی نہیں سکتے۔ ایسا آدمی کیا کر سکتا ہے (کنت اتوقع انه شئ ولكن وجدته ضعيفا حتى انه لا يكاد يبين ۔ ماذ إيستطيع أن يفعل مثله)
اب پندرہ سال بعد اسی طرابلس کے تعلیم یافتہ طبقہ میں الرسالہ کا مشن سب سے طاقت ور مشن بن رہا ہے۔ میرے قیام کے دوران عرب نوجوان میری باتوں کو سننے کے لئے اس قدر بے تاب رہتے تھے کہ انھوں بتایا کہ آجکل ہم لوگ سونا ،کھانا، ہر چیز بھول گئے ہیں۔ آپ سے ملنے اور آپ کی بات سننے کے سوا نہیں کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں۔ تعلیم یافتہ عرب نوجوانوں کی ایک بھیڑ روزانہ میرے پاس موجود رہتی تھی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
25 مارچ 1990
محمد سلیمان القائد نے ایک تعلیم یافتہ عرب کے بارہ میں بتایا کہ انھوں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابیں پڑھی تھیں اور ان سے بہت متاثر تھے۔ اس کے بعد محمد سلیمان القائد نے ان کو میری عربی کتابیں اور مضامین کے عربی ترجمے پڑھائے۔ اس مطالعہ کے بعد ان کا سابقہ جوش ختم ہوگیا۔ تاہم انھوں نے اعتراف نہیں کیا۔ انھوں نے کہاکہ دین کوسمجھنے کے لئے میں عجمیوں پر اعتمادنہیں کرسکتا۔ ( اننی لا استطيع ان اعتمد على الاعاجم في فھم الدين).
other sourceWords of another person or source
سید ابوالاعلی مودودی کا نظریہ ان کے ذوق کے مطابق تھا۔ اس لئے انھیں یاد نہیں آیا کہ وہ عجمی ہیں۔ میری بات ان کے ذوق کے خلاف تھی اور اس کو وہ دلیل سے رد نہیں کر سکتے تھے تو انھوں نے کہ دیا کہ وہ عجمی ہیں۔ اور دین کے معاملہ میں میں کمیوں پر اعتماد نہیں کرسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
26 مارچ 1990
امریکی میگزین ٹائم انٹرنیشنل کا شمارہ 26مارچ 1990 پڑھ رہا تھا۔ اس کے صفحہ 43 پر ایک اشتہار نظر سے گزرا۔ یہ ایک امریکی بنکJyske Bank)) کا اشتہار تھا۔ اس کا عنوان تھا۔
آپ کی سرمایہ کاری پر زیادہ بڑی واپسی:
Higher return of your investment.
میں نے سوچاکہ بینکوں کے اس قسم کے اشتہارات پر یقین کر کے کر وروں آدمی اپناسرمایہ بینکوں میں رکھتے ہیں تاکہ ان کی اصل انہیں مزید اضافہ کے ساتھ واپس مل سکے ۔ اسی قسم کا زیادہ اہم اور زیادہ با معنی اعلان خدا کی طرف سے کیا گیا ہے کہ تم اپنا اثاثہ دین کی راہ میں لگاؤ اور آخرت میں اس کو بہت زیادہ انسان کے ساتھ تمہاری طرف لوٹا دوں گا ۔ مگر کوئی نہیں جو اس اعلان پر یقین کرے اور اپنا اثاثہ خدا کے سپرد کر دے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
27 مارچ 1990
آج کے ٹائمس آف انڈیا میں مسٹر راجیش کوپر (Rajesh Kochar) کا ایک مضمون چھپاہے۔ اس کا عنوان ہے ۔ رام کا اجو دھیا کیا افغانستان میں تھا۔
other sourceWords of another person or source
Was Rama's Ayodhya actually in Afghanistan?
مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اجودھیا میں محکمہ آثار قدیمہ نے نے بڑے پیمانہ پر کھدائی کی ہے۔ اس کھدائی سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی کہ رام اجودھیا میں پیدا ہوئے تھے۔ ظاہر ہے کہ جب رام کا تاریخی تعلق اجودھیا سے ثابت نہ ہو تو رام جنم بھومی کا عقیدہ بھی افسانہ بن جاتا ہے ۔
تعلیم یافتہ ہندووں کی طرف سے اس قسم کے مضامین کثرت سے چھپتے رہتے ہیں۔ وہ مسلم اخبارات میں بھی نقل ہوتے رہتے ہیں۔مگر فروری 1987 میں جب میں نے یہ تجویز پیش کی کہ تاریخ کے پروفیسروں کا بور ڈبطور ثالث مقرر کیا جائے اور اس کے ذریعہ فیصلہ کیا جائے، تومسلم قائدین اس تجویز کو قبول نہ کرسکے ۔مسلمانوں کے لیڈراس راز کو نہیں جانتے کہ مجرد دعوام سے اجودھیا کے مسئلے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے ہمیں ہندوؤں کو کسی متفق بنیاد پر لانا پڑے گا اور وہ بلاشبہ ثالث ہے۔ مگر مسلم لیڈراتنے غیر سنجیدہ ہیں کہ ان سے کسی بھی معقول تجویز کی تائید کی امید نہیں کی جاسکتی ۔
28 مارچ 1990
17 مارچ 1990 کو میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے طرابلس (لیبیا ) گیا تھا۔ 24 مارچ کی شام کو وہاں سے واپسی ہوئی سفر سے واپسی کے بعد ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے متعلق یہ کہا جا تا ہے کہ آپ قذافی کے آدمی ہیں۔ قذافی سے آپ کے خصوصی تعلقات ہیں اور اس سے آپ مالی فائدے حاصل کرتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹی بات ہے۔ میں نے آج یک قذافی سے کسی بھی قسم کی مالی امداد نہیں لی ہے ۔ حتی کہ آج تک میں نے کبھی قذافی سے بھی ملاقات بھی نہیں کی جس کے مواقع میرے لئے پوری طرح موجود تھے ۔ میں صرف کانفرنس کے لئے جاتا ہوں اور کانفرنس میں شرکت کے بعدواپس آجاتا ہوں۔
میں نے کہا کہ 19 مارچ کو طرابلس کے فندق المھاری کے وسیع ہال میں کانفرنس ہو رہی تھی۔ دنیا بھر کے تقریباً ڈھائی سو آدمی وہاں جمع تھے ۔ معمرقذافی وہاں آئے تو تمام لوگ کرسیوں سے اٹھاکر کھڑے ہو گئے۔ تقریر کے بعد جب وہ جانے لگے تو دو بارہ تمام لوگ کھڑے ہو گئے۔ میں اکیلا شخص تھا جو اپنی کرسی پر بیٹھا رہا۔ میں نہ آنے کے وقت کھڑا ہوا اور نہ جانے کے وقت ۔ آپ کو اگر شبہ ہو تو میں آپ کو اپنے قریب بیٹھے ہوئے ایک شخص کا پتہ دیتا ہوں اس کو خط لکھ کر آپ اس کی بابت پوچھ سکتے ہیں :
Phiroz Ahmad Khan, P.O. Box 20566
Gaborone, Botswana. (Tel. 374824)
اس سے پہلے جون 1987 میں میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے لیبیا گیا تھا۔ کانفرنس کے ممبران جن کی تعداد 40 تھی ، خصوصی طیارے کے ذریعہ بنغازی لے جائے گئے تاکہ وہاں معمرقذافی کے خیمہ میں ان سے ملاقات کر سکیں ۔ ہم سب لوگ خیمہ کے اندر بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں معمرقدانی وہاں آئے۔ ان کے آتے ہی تمام لوگ کھڑے ہو گئے۔ میں تنہا اپنی نشست پر بیٹھا رہا۔ یہ واقعد ڈاکٹر حیات اسماعیل صاحب نے ٹیلیویژن پر دیکھا۔ وہ بنگلور کے رہنے والے ہیں اور طرابلس میں بطور انجنیر کام کر رہے ہیں۔ آپ چاہیں تو ان سے اس واقعہ کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
29 مارچ 1990
طرابلس میں عرب نوجوانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہاکہ قرآن کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ قرآن کی بات کو اپنے لفظوں میں ڈھال سکیں ۔ جب آپ لفظ بدل دیں اسی وقت آپ معنی تک پہنچتے ہیں (اذابدلت اللفظ فقد ادركت المعنى)
اس کی ایک مثال قرآن کی وہ آیت ہے جس میں کہاگیا ہے کہ اگر ہم فرشتوں کے ذریعہ اپنا پیغام بھیجتے تب بھی ان کو انسان کے روپ میں بھیجتے ،اور دوبارہ معاملہ کو اسی طرح مشتبہ کر دیتے جس طرح اب وہ مشتبہ ہو رہے ہیں ( والبسنا عليهم مايلبسون)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت میں میں چیز کو سنت التباس کہاگیا ہے، وہ تقریب وہی چیز ہے میں کو نظریہ تعلیم میں اکتشافی طریقہ (Discovery method) کہا جا تا ہے۔ ایک تعلیمی طریقہ یہ ہے کہ طالب علم کو پوری بات نہ بتائی جائے بلکہ کچھ بتایا جائے اور کچھ چھوڑ دیا جائے، اور طالب علم سے کہا جائے کرتم خود اپنی کوشش سے اس کو معلوم کر و۔ اس کی ایک سادہ مثال جغرافی نقشہ ہے۔ یعنی نقشہ کواس طرح چھاپاجائے کہ اس میں لکیروں کے ذریعہ حدو د ظاہر کئے گئے ہوں مگر ملکوں اور شہروں کے نام نہ لکھے گئے ہوں۔ پھر یہ سادہ نقشہ طالب علم کو دے کر کہا جائے کہ اس میں ملکوں کے نام لکھو۔
یہی طریقہ اللہ تعالی نے ہدایت اور معرفت کا رکھا ہے، اللہ کی طرف سے بہت کچھ بتانے کے باوجود کچھ چیزوں کو مشتبہ رکھا جاتا ہے تا کہ آ دمی محنت کر کے اس کو دریافت کرے ۔ بتائی ہوئی بات کو آدمی بہت زیا دہ پکڑ نہیں پاتا۔ مگر جب وہ خود اپنے غوروفکر کے ذریعہ ایک چیز دریافت کرتا ہے توده چیز آخری حد تک اس کے وجود میں سما جاتی ہے۔
30 مارچ 1990
کسی قوم کو محرومی اور حق تلفی کے احساس پر اٹھا نا اس کو ابدی بربادی کے گڑھے میں ڈالنا ہے۔ کیوں کہ ایسی قوم ہمیشہ محرومی کے احساس میں مبتلا رہے گی وہ بھی ترقی نہ کر سکے گی۔
پاکستان کی تحریک احساس محروی پر اٹھائی گئی۔ پاکستان بننے کے بعد یہی احساس محرومی بنگالیوں کے اندر پہنچا ہوں کے مقابلہ میں جاگ اٹھا اور پاکستان دو ٹکڑے ہوگیا۔ اب خود پاکستان میں یہی احساس محرومی مہاجروں اور سندھیوں کو آپس میں لڑائے ہوئے ہے۔ اسی احساس محرومی کولیکر کشمیر کے لوگ نام نہاد جہاد کر رہے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ یہ دنیامقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک آگے اور دوسرا پیچھے ہو جاتا ہے۔ یہ فرق کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ اس لئے بچھڑے ہوئے طبقات میں احساس محنت کو جگانا چاہئے نہ کہ احساس حق تلفی کو ۔ یعنی ان پڑے ہوئے لوگوں کو یہ کہ کر میں ابھار نا چاہئے کہ فلاں نے تم سے تمہارا اثاثہ چھین لیا ہے، بلکہ انہیں بتانا چاہئے اور ان کی ایک دوڑ ہے۔ تم وقتی طور پر پیچھے ہو گئے ہیں۔ اب زیادہ محنت کرو تاکہ تم دوبارہ آگے بڑھ سکو۔
31 مارچ 1990
آج فجر کی نماز کے بعد کالی مسجد (نظام الدین) میں ایک صاحب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ بھائیو ، قرآن کی تلاوت کرو. قرآن وہ کتاب ہے کہ اس کے ایک حرف پر دس دس نیکی ہے۔ تورات اور انجیل کو خصوصیت حاصل نہیں۔ یہ صرف قرآن کی خصوصیت ہے کہ اس کے ہرحرف پر دس نیکی رکھی گئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح کی اور بہت سی باتیں وہ کہتے رہے۔ میں نے سوچا کہ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں امانی (النساء 123) کہا گیا ہے۔ یعنی آرزوئیں اور خوش گمانیاں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جس دین پر کھڑے ہوئے ہیں وہ امانی کا دین ہے نہ کہ خدا کا اتارا ہوا دین۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it