← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
February 1990
English · 29 min read
یکم فروری 1990
ابن تیمیہ کی ایک مشہور کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول ہے ۔ اس کتاب میں انھوں نے اس نقطہ نظر کی حمایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر شتم کرنے والاعلی الاطلاق طور پر قابل قتل ہے۔
other sourceWords of another person or source
اس سلسلہ میں ابن تیمیہ کے سامنے یہ سوال آیا کہ عرب کے بہت سے لوگ جو مسلمہ طورپرشتم اور ایذارسانی کے مجرم تھے، اس کے با وجو د رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قتل نہیں کرایا۔ مثلا عبد اللہ بن ابی کو ۔ ابن تیمیہ نے اس کی جو توجیہ کی ہے وہ نہایت عجیب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تو یہ فرمایا کہ عبداللہ بن ابی کو ہم اس لئے قتل نہیں کر رہے ہیں کہ لوگ یہ کہ کر ہم کو بدنام کریں گے کہ محمداپنے ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ مگرابن تیمیہ نے یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی کو اس لئے قتل نہیں کیاکہ اسلام اسوقت کمزور تھا۔ (صفحہ 175)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسرے لفظوں میں یہ کہ رسول اللہ نے اپنے قول کے مطابق عبداللہ بن ابی کو بر بنائے اصول قتل نہیں کیا۔ مگر ابن تیمیہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو بربنائے ضعف قتل نہیں کیا۔ استغفراللہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 فروری 1990
3جنوری 1990 کو حیدر آباد میں ایک نام نہاد سمینار ہوا۔ اس کا موضوع " اسلام میں اہانت رسول کی سزا" تھا۔ حیدر آباد کے کچھ لوگوں نے مجھے بتایاکہ سیمینار میرے مخالفین نے کیا تھا اور اس کا مقصد میرے بارہ میں یہ بیان جاری کر نا تھا کہ میں نے نعوذ باللہ اہانت رسول کا جرم کیا ہے۔ سمینار کے شرکاء اس کی جرات تو نہ کر سکے ۔ البتہ اس کے صدر نے اپنے خطبہ میں دملی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا یہ جملہ نقل کیا کہ وحید الدین خاں صاحب کو اہانت امت کی سزا ملنی چاہئے:( ماہنامہ دعوت و عزیمت، دہلی ، فروری 1990 ، صفحہ 37 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ' خطبہ' میں مزید کہا گیا کہ' ہندستان کے تمام چوٹی کے علماء ،خواہ ان کا تعلق مدارس اسلامیہ سے ہو یا مختلف اسلامی تحریکوں سے ، وہ سب وحید الدین خان کی تحریروں کو وقت کا ایک بڑافتنہ سمجھتے ہیں۔” صفحہ38
other sourceWords of another person or source
آج اگر میں اس پر کوئی تبصرہ کروں توشاید وہ قبل از وقت ہوگا۔ اس لئے میں اس پر فیصلہ کو مستقبل کے لئے چھوڑتا ہوں۔ اور اگر دنیا میں اس کا فیصلہ نہ ہوسکا تو قیامت کے دن تو بہرحال اس کا فیصلہ ہونا ہے جہاں فیصلہ کا اختیار تمام تر خداوند ذوالجلال کو ہوگا نہ کہ ان شخصیتوں کو جن کو لوگوں نے آج "چوٹی کے علماء" کا لقب دے رکھا ہے ۔
۳3 فروری 1990
آج ٹائمس آف انڈیا نے ایک شخص کا قول نقل کیا ہے ـــــ صرف داعیہ وہ چیز ہے جو لوگوں کے اعمال میں کردار کی صفت پیدا کرتا ہے :
other sourceWords of another person or source
It is motive alone that gives character to the actions of men
یہ بات فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔ انسان کے ظاہری اعضاء سب کے سب دماغ کی ہدایت کے تحت متحرک ہوتے ہیں۔ اس لئے قدرتی طور پر اعمال میں اصل اہمیت داعیہ یا محرک کی ہو جاتی ہے ۔کسی فرد یا قوم کو دوبارہ اٹھانے کے سلسلہ میں اصل کام یہ ہے کہ اس کے اندر گہرا داعیہ پیدا کر دیا جائے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ حرکت میں آ جائے گا۔ داعیہ پیدا ہونے کے بعد کوئی روک نہیں سکتا۔ اسی طرح داعیہ کے بغیر عملی سرگرمیوں کا ظہور میں آنا بھی ممکن نہیں۔
4 فروری 1990
مولانا بدرجمال اصلاحی (42 سال) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ سرا ئمیراعظم گڑھ کے رہنے والے ہیں اور آجکل جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ میں استاد ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ عرب عالم محمد المجذوب کی ایک کتاب مشاہداتی فی الہند ہے ۔ اس کتاب میں انھوں نے تفصیل سے میراذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ وحید الدین خاں جس انداز میں دین کی خدمت کر رہے ہیں ، وہی آج دین کی خدمت کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔ وغیرہ
مولانا بدرجمال صاحب نے بتایاکہ مولانا ابو بکر غازی پوری سعودی عرب گئے ۔ وہاں ان کی ملاقات شیخ محمد المجذوب سے ہوئی۔ مولانا ابوبکر نے ان سے کہا کہ وحید الدین خاں کا آپ نے اپنی کتاب میں اتنے شاندار انداز میں تذکرہ کیا ہے۔ حالاں کہ وہ تو ایک بے حیثیت آدمی ہیں۔ شیخ محمد المجذوب نے جواب دیا کہ اس معاملہ میں آپ مجھے معاف رکھیں۔ کیوں کہ آپ لوگوں ( ہندوستانی علماء) کا ذہن بہت تنگ ہے ۔ وہ اپنے سوا کسی کا اعتراف کرنا نہیں جانتے ۔
other sourceWords of another person or source
5 فروری 1990
ٹائمس آف انڈیا نے کسی کا یہ قول نقل کیا ہے کہــــــ کچھ لوگوں کے لئے سونے سے بھی زیادہ محبوب چیز عزت ہوتی ہے
other sourceWords of another person or source
To few is honour dearer than gold.
سونا صرف اس شخص کے لئے اہمیت رکھتا ہے جس کو ابھی سونا نہ ملا ہوں ۔ جس آدمی کو سونامل جائے ، اس کے لئے ساری اہمیت عزت وشہرت کی ہوجاتی ہے ۔ ایک صاحب منصب نے ایک بارفخرکے ساتھ کہا تھا کہ مجھ کو سونے اور چاندی کے سکوں سے خریدا نہیں جانتا۔ اس پر میں نے یہ تاثر درج کیا تھا کہ کچھ لوگ فخر کرتے ہیں کہ وہ چاندی اور سونے کے سکوں میں بک نہیں سکتے۔ مگر عین اسی وقت وہ شہرت وعزت کے سکوں میں بکے ہوئے ہوتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
6 فروری 1990
آج اردو اخبار قومی آواز کے پہلے صفحہ کی جلی سرخی یہ تھی: 4 ہزار پاکستانی در انداز وں کی جموں میں تخریب کاری " بظاہر اس کا مطلب یہ تھاکہ چار ہزار پاکستانی جموں کی آبادی میں گھس آئےہیں اور ہندستانی علاقہ (جموں) میں تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں ۔
اس کو پڑھ کر میں نے سمجھاکہ آجکل دونوں ملکوں میں جس جنگ کی بات ہو رہی تھی، وہ جنگ شاید شروع ہوئی ۔ مگر آج کا ٹائمس آف انڈیا دیکھا تو اس کی سرخی یہ تھی :
4000 Pakistanis try to cross over
واقعہ کے اعتبار سے انگریزی سرخی صحیح تھی ۔ کیوں کہ اصل واقعہ یہ تھا کہ جموں شہر سے 25 کیلومیٹر کے فاصلہ پر رنبیرسنگھ پورہ کے پاس پاکستان کی طرف سے تقریبا 4 ہزار آدمی ہندستان مخالف نعرہ لگاتے ہوئے آئے۔ اور سرحد پار کر کے ہندستانی علاقہ میں گھسنے کی کوشش کی مگر ہندستانی فوجیوں نے ان کے اوپر فائرنگ کی چند آدمی مرے اور کچھ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد وہ لوگ واپس بھاگ گئے۔
اردو اخبار کی سرخی زرد صحافت کی مثال ہے۔ اور یہ زرد صحافت اردو اخبارات میں شروع سے چھائی رہی۔ الہلال سے لے کر اب تک اردو اخبارات کا ہی انداز رہا ہے۔
7 فروری 1990
میرے لڑکے ثانی اثنین کے یہاں پچھلے ماہ چوتھا بچہ پیدا ہوا ہے۔ مگر ہمارے یہاں ابھی تک کوئی کھلونا نہیں آیا ہے۔ میں نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ گھر میں کھلونا داخل نہ ہو ۔ کل میں گھر کے اندر گیا تو ثانی اثنین کی بچی سعدیہ (10اسال) خوشی خوشی ایک کھلونالائی اور مجھ کو دکھا کر کہنے لگی کہ یہ ہماری پھوپھی نے ہم کو دیاہے ۔ مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کھلونا اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور اس کو نیچے الماری میں بند کر دیا۔
سعدیہ روتی رہی۔ مگر میں نے کھلونا اس کو نہیں دیا۔ اگلے دن میں گھر کے اندر گیا تو میری بیوی ( سعودیہ کی دادی )نے کہا کہ سعدیہ مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ اللہ میاں تو دادا سے بھی زیادہ بڑے ہیں ۔ میں نے کہا ہاں ۔ اس نے کہا کہ اگر اللہ میاں چاہیں تو وہ داداسے ہم کو کھلونا دلوا دیں گے۔ میں نے کہا کہ ہاں ۔ اس کے بعد سعدیہ سجدہ کی حالت میں جا کر کہنے لگی : اللہ میاں ، داد اسے ہم کو کھلونا دلوا دیجئے۔
یہ واقعہ سن کر میرا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ میں نے کھلونالا کر سعدیہ کو دے دیا۔ خدا کا نام درمیان میں آنے کے بعد مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں کھلونا سعدیہ کو نہ دوں۔
8 فروری 1990
1988کے آخر میں سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (The Satanic Verses) شائع ہوئی ۔14 فروری 1989 کو ایران کے آیت اللہ الخمینی نے فتوی دیاکہ رشدی سزائے موت کا مستحق ہے ، اس کو قتل کر دیا جائے ۔مسلم علماء اور دانشوروں اور رہنماؤں نے اس فتوے کی پر زورحمایت کی۔
رشدی کے خلاف بے شمار جلسے اور جلوس کے مظاہرے ہوۓ ۔ گمر رشدی برطانی پولیس کی حفاظت میں زندہ رہا۔ اور آیت اللہ خمینی 3 جون1989کو انتقال کر گئے ۔ اس کے علاوہ بہت سے مسلمان اپنے پرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہوگئے۔
ہفت روزہ نئی دنیا (9 فروری 1990) نے لکھا ہے کہ" لندن کے ایک ہوٹل کے کمرہ میں ایک بم دھماکہ میں ایک 21 سالہ فرانسیسی مسلمان ہلاک ہوگیا۔ اس واقعہ کی تحقیقات کے نتیجہ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہوٹل کے کمرہ میں یہ فرانسیسی مسلمان بم بنارہا تھا جس کے اچانک پھٹ جانے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ ایک گروپ نے جس کا ہیڈ کوارٹر بیروت میں ہے ، دعوا کیا ہے کہ یہ بم سلمان رشدی کو قتل کرنے کے لئے بنایا جارہا تھامگر بدقسمتی سے بم بنانے والا خود ہی اپنے ہم کاشکار ہوگیا۔ وہ رشدی کو اس کا نشانہ نہ بنا سکا۔ صفحہ 4
other sourceWords of another person or source
اس قسم کے واقعات محض اتفاقی ہوتے ہیں۔ مگر اس قسم کا کوئی اتفاق جب کسی مفروضہ بزرگ کے معاملہ میں پیش آجائے تو وہ ان کے معتقدین کی نگاہ میں بزرگ کی بزرگی کو آخری طور پر مسلم اور ثابت شدہ بنادیتا ہے۔ اگر یہ کوئی معیار ہو تو ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس کے مطابق رشدی کو بھی ایک بزرگ تسلیم کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
9 فروری 1990
پاکستان کے اخبار نوائے وقت (یکم فروری 1990 ) میں صفحہ اول پر ایک خبر ہے ۔ اس میں بتایاگیا ہے کہ لاہورمیں 31 جنوری 1990 کو ایک جلسہ ہوا۔ اس کے مقررین میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس یعقوب علی خاں بھی تھے ۔ انھوں نے کہا کہ :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
" عدلیہ کے ارکان کا فرض انصاف فراہم کرنا ہو تا ہے۔ انھیں اس بات کو پیش نظر نہیں رکھنا چاہئے کہ ان کے فیصلہ سے کوئی خوش ہو تا ہے یا نا خوش ۔ اور اس کے فیصلہ سے اس کی ذات پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اگر کسی جج کو اس کے حلف کے خلاف کسی عہدہ پر فائز رہنے پر مجبور کیا جائے تو اس کے لئے اس عہدہ کو خیر باد کہنا ہی دانش مندی ہوگی ۔ پاکستان کی عدلیہ سے بعض ایسے فیصلے صادر ہوئے ہیں جن سے خود عدلیہ نے اپنے ہی مختلف فیصلوں کےبخیے ادھیر دئے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر نصرت بھٹو کیس (بمقابلہ ضیاءلحق ) میں نظریہ ضرورت کے تحت "انحراف "کی اصطلاح نہ نکالی جاتی تو ہماری سیاسی تاریخ آج قطعی مختلف ہوتی ۔ سپریم کورٹ اگر نصرت بھٹو کیس میں یہی فیصلہ دیتی کہ مارشل لا حکومت قانونی نہیں ہے تو اس سے پوری قوم کا ضمیر جاگ اٹھتا۔"
جنرل ضیا الحق نے 5 جولائی 1977 کو پاکستان میں فوجی انقلاب کیا اور دوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کو ختم کر کے خود صدارت کے تخت پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد انھوں نے قانون ضرورت کے تحت اپنی حکومت کے حق میں جواز کا فیصلہ حاصل کر لیا۔ یہ ایک روایت کو توڑنا تھا۔ جب صدر ریاست اس طرح کی روایت کو توڑے تو پوری قوم روایت شکنی کی راہ پر چل پڑتی ہے۔ اس کے بعد کوڑے کی منطق سے اس کو روایت شکنی سے روکا نہیں جاسکتا۔
10 فروری 1990
طرابلس سے ٹیلیفون آیا۔ شیخ محمد سلیمان القائد نے انگریزی کتا بیں زیادہ تعداد میں مانگی ہیں۔ اس کے علاوہ انگریزی الرسالہ ہر ماہ 30 عدد بھیجنے کے لئے کہا۔ انھوں نے بتا یا کہ لیبیاکے علاوہ مغرب اور تیونس وغیرہ میں بھی الرسالہ کامشن پھیل گیا ہے۔ اور بڑی تعداد میں لوگ اس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں ۔
شیخ سلمان القائد میں تنظیم کی غیرمعمولی صلاحیت ہے۔ انھوں نے الرسالہ کے مشن کو بخوبی طور پر سمجھا ہے۔ وہ رات دن محنت کر کے اس مشن کو پھیلانے میں مشغول ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس مشن کے " لینن" ہیں۔ جس طرح مارکس کے نظریہ کولینن نے قائم کیا۔ الرسالہ کی فکر کوانشاءاللہ وہ عملا قائم کریں گے۔اس رخ پر وہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
11 فروری 1990
آج ایک نوجوان ڈاکٹر آۓ۔ انھیں عرب میں ایک کام مل گیا ہے۔ وہ 3 مارچ کو وہاں کے لئے روانہ ہورہے ہیں۔ ان کے ماموں اس سے پہلے عرب میں رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میرے ماموں نے مجھ کو یہ نصیحت کی ہے کہ تم جب وہاں پہنچو توبس اپنے کام سے کام رکھنا کوئی چیز خلاف مزاج دیکھو تو اس پر تنقید نہ کرنا۔ وہاں کے نظام سے مکمل مطابقت کر کے رہنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ آپ کے ماموں صاحب نے آپ کو بہت اچھی اور کار آمد نصیحت کی ہے۔ مگر ماموں صاحب سے کہئے کہ یہی نصیحت وہ ہندستان کے مسلمانوں کو بھی کریں۔ میں نے کہاکہ یہ عجیب بات ہے کہ مسلمان عرب میں جاتے ہیں تو وہاں کے نظام سے خوب ایڈجسٹ کر کے رہتے ہیں۔ گر ہندستان میں وہ ایڈجسٹ کر کے رہنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمان جس طرح باہر کے ملکوں میں وہاں کے حالات سے مطابقت کر کے رہتے ہیں ،اسی طرح اگر وہ ہندستان میں رہنے لگیں تو ان کے سارے مسائل اپنے آپ حل ہوجائیں۔
12 فروری 1990
انڈین اکسپریس (10فروری1990) میں کشمیر کے بارہ میں ایک نہایت منصفانہ اور آزادانہ مضمون چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے ایک ہندو صحافی اروندکلا (Arvind Kala) ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وادی کشمیر، جہاں 95 فیصد مسلمان آباد ہیں ، ان کے ساتھ آزادی کے بعد سے برابر نا انصافی ہوتی رہی ہے۔ خاص طور پر الکشن میں بہت زیادہ دھاندلی کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ان کے اندر مایوسی پید اہوئی ہے۔ اور وہ آزاد کشمیر یا الحاق پاکستان جیسے نعرے لگا رہے ہیں ۔ اس کا جواب گولی نہیں ہے بلکہ ان کو مطمئن کرنا ہے۔
اس سلسلہ میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ عقلمندی یہ ہے کہ جب کشمیری یہ ہیں کہ ہم انڈیا سے الگ ہونا چاہتے ہیں تو اس پر بہت زیادہ رد عمل ظاہر نہ کیا جاۓ :
other sourceWords of another person or source
It is wise not to over-react when Kashmiris say they want to leave the
Indian Union.
یہ ایک نہایت اہم اصول ہے۔ اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی جولفظ بولتا ہے وہ اس کے اصل جذبات سے زیادہ ہوتا ہے۔ وہ شدت اظہار کا مظہر ہوتا ہے نہ کہ بیان واقعہ کا۔ اگر اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو مخالف فریق سے معاملہ کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔
13 فروری 1990
آج رات کو خواب میں ایک چھپا ہوا اخباری مضمون پڑھا۔ اس میں ایک "ٹاپر" کا قصہ تھا۔ اس سے پوچھا کیا تم کو یہ کامیابی کیسے ملی۔ اس نے مختصر جواب دیا کہ میں نے پڑھا ، میں نے ٹاپ کیا۔ اس کے بعد میں نے خواب ہی میں الرسالہ کے صفحہ اول کے لئے ایک مضمون بنایا جو اس طرح تھا۔
طالب علم : میں نے پڑھا
میں نے محنت کی
میں نے ٹاپ کیا
14 فروری 1990
کچھ مسلم نوجوانوں سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ آپ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرو مگرجب مسلمانوں کو اسکول اور کالج میں داخلہ ہی نہ ملے تو پڑھیں گے کیوں کر ۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل بے بنیاد عذر ہے۔ میرے بھائی عبدالمحیط خاں اور میرے بھتیجے شکیل احمد خاں کو بنارس ہندو یونیورسٹی میں داخلہ ملا۔ اور دونوں نے وہاں انجنیئرنگ کی ڈگری امتیاز کے ساتھ حاصل کی۔ آپ اگر واقعی پڑھنا چاہیں تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر میں نے اپنی مثال دی۔ عربی مدرسہ میں عربی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں نے یہ چاہا کہ انگریزی زبان کی اعلی تعلیم حاصل کروں۔ یہ غالباً1944 کی بات ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) میں عربی مدارس کے طلبہ کے لئے داخلہ کی ایک صورت پہلے سے موجود ہے ۔ اس کے مطابق میں نے جامعہ ملیہ میں داخلہ کا ارادہ کیا تھا۔
میرے چچا زاد بھائی مولانا اقبال احمد سہیل کا ڈاکٹر ذاکر حسین سے بہت قریبی تعلق تھا۔ میں سہیل صاحب کا ایک سفارشی خط لے کر اعظم گڑھ سے دل آیا اور ا و کھلا پہنچ کر ڈاکٹر ذاکر حسین سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی ملنساری اور خوش اخلاقی مشہور ہے۔ مگرکسی نامعلوم سبب کے تحت انھوں نے میرے ساتھ نہایت خشک رویہ اختیا رکیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے انھوں نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کے لئے بھی نہیں کہا۔ میں سہیل صاحب کا خط دے کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔ انھوں نے خط پڑھا اور اس کے بعد مزید کچھ پوچھے بغیر سادہ طور پر داخلہ لینے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں پرائیویٹ طور پر انگریزی پڑھوں گا۔ سالہا سال کی محنت کے بعد خدا کے فضل سے میں نے اتنی انگریزی سیکھ لی کہ ہر طرح کی انگریزی کتاب پڑھ سکتا ہوں ۔جامعہ کے انگریزی کے استاد انوار علی خاں سوز مرحوم الرسالہ کے قاری تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ دحیدالدین خان انگریزی عبارتوں کا جو ترجمہ کرتے ہیں اس سے اچھا ترجمہ ہم لوگ نہیں کر سکتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
15 فروری 1990
قرآن میں منکرین کو یہ چیلینج دیاگیا کہ ان کی اس اگر تم کو اس کتاب کے کتاب الہی ہونے میں شک ہے تو اس کے جیسی ایک سورہ بنا کر لاؤ (فاتو بسورة من مثله) اس پر ایک شخص نے کہا کہ میں اس چیلنج کا جواب دیتا ہوں۔ دیکھو قرآن میں ہے کہ والسماء ذات البروج ۔ اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ والنساء ذات الفروج
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ چیلنج کا جواب نہیں بلکہ مسخرہ پن ہے۔ اس جملہ کی ساخت ہی بتارہی ہے کہ کہنے والے نے بطورتمسخر یہ بات کہی تھی نہ کہ سنجیدہ جواب کے طور پر۔
16 فروری 1990
7 ، فروری 1990 کو کراچی میں فساد ہوا ۔اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ پاکستان کے اخبار نوائے وقت (8 فروری 1990)کے صفحہ اول پر اس کی تفصیلی خبر تھی ۔ اس کا عنوان تھا : کراچی میں آگ اور خون کا کھیل۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بھاگلپور سے مولانا محمداکرام الدین قاسمی تشریف لائے۔ انھوں نے بھاگلپور کے فساد (24اکتوبر1990) کی مفصل رپورٹ تیار کی ہے جو104 صفحات پرمشتمل ہے۔ اس رپورٹ کا نام ہے:
آگ اور خون کی ہولی
میں نے کہا کہ بھاگلپور کے فساد کو آپ لوگ ہندو کے خانہ میں ڈالتے ہیں ۔ یہ بتائیے کہ کراچی کے فساد کو آپ کس کے خانہ میں ڈالیں گے۔ مسلمان اگر صرف اس ایک بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں تو وہ یقینا اس عمل کو پا لیں گے جس کو استعمال کرکے اس ملک سے فسادات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
7 فروری 1990
حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ دجال ایک نہیں بلکہ بہت سے ہوں گے۔ مثلا ایک روایت میں ہے کہ دجال 30 ہوں گے (ثلاثون دجالون) ایک روایت میں ہے کہ دجال جب بولے گا تو اس کی آواز مشرق سے مغرب تک سنائی دے گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ان روایتوں کی بنا پر میرا گمان یہ ہے کہ دجال دراصل دور پریس کے لیڈر ہیں ۔ موجودہ زمانہ کے لیڈر متفقہ طور پر تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ اور یہ لیڈر یقینی طور پر ان چیزوں کی بدولت ظہور میں آئے ہیں جن کو موجودہ زمانہ میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کہا جاتا ہے۔
پہلے زمانہ میں شہرت پسند اور جاہ طلب انسانوں کے لئے اپنے شوق کی ایک حد ہوتی تھی۔ آج اشاعت کے جدید ذرائع نے اس کولا محدود حد تک وسیع کر دیا ہے۔ اس لئے اس قسم کے لوگوں کا شوق بھی اتنا ہی طور پر بڑھ گیا ہے۔ یہی حال مسلم لیڈروں کا بھی ہے ، خواہ وہ بے ریش لیڈر ہوں یا باریش لیڈر ۔
موجودہ زمانہ کے تمام لیڈرشہرت کے لیڈر ہیں۔ یعنی وہ مشہور ہوگئے اس لئے وہ لیڈر بن گئے۔ لیڈری کے اس سستے ذریعے نے موجودہ زمانہ کے لیڈر پیدا کئے ہیں، اور یہی وہ لیڈر ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں ہمارے تمام مسائل پیدا کئے ہیں۔
18 فروری 1990
بمبئی کے دوصاحب ملنے کے لئے آئے۔ دونوں کاتعلق تبلیغی جماعت سے ہے ۔ ایک صاحب نے بتایا کہ آجکل عمرہ کو اسمگلنگ والوں نے اپنے کاروبار کا ذریعہ بنالیا ہے۔ وہ لوگوں کو عمرہ کے ویزا پر مکہ مدینہ بھیجتے ہیں ۔وہ وہاں سے ان کے لئے اسمگلنگ کا سامان لے کر آتے ہیں۔
دوسرے صاحب نے کہا کہ میں آپ کو اس سے بھی زیادہ سخت بات بتاؤں۔ پچھلے سال میں حج کے لئے گیا۔ وہاں میں نے ایک شخص کو دیکھا جو پاکٹ ماری میں بمبئی میں پکڑا گیا تھا۔ میں نے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک منظم کار و بار ہے۔ کچھ لوگ فقیروں اور پاکٹ ماروں کو حج کے زمانہ میں مکہ مدینہ بھیجتے ہیں۔ وہ وہاں جاکر بھیک مانگتے ہیں اور پاکٹ ماری کرتے ہیں ۔ آجکل یہ ایک زبردست بونس بنا ہوا ہے۔
other sourceWords of another person or source
میں نے کہا کہ بمبئی میں بال ٹھاکرے اور سلمان رشدی کے خلاف بڑی بڑی مہمیں چلائی جاتی ہیں ۔ پھر اس قسم کے مجرمین کے خلاف کوئی مہم کیوں نہیں چلائی جاتی ۔ انھوں نے کہاکہ علانیہ مہم چلا نا تو درکنار ،لوگ اس سے بھی ڈرتے ہیں کہ سعودی حکام کو خط لکھ کر اس کی خبرکر دیں کیوں کہ وہ ڈرتے ہیں کہ جو لوگ اس قسم کا کاروبار کر رہے ہیں ، وہ ان کو جان سے مار ڈالیں گے۔
19 فروری 1990
تو ہمات، قدیم زمانہ میں علم کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ یہ توہمات طفیلی پو دوں (Parasites)کی طرح علم کی ترقی کو روکے ہوئے تھے۔ اسلام نے تو ہمات کو ختم کیا۔ اس کے بعد علم کا سفر ترقی کی طرف شروع ہوگیا۔
خلافت راشدہ اور بنو امیہ کے زمانے تک نقلی علوم کو ترقی دی گئی۔ بنو عباس کے زمانہ میں بغداد میں بیت الحکمت قائم ہوا، اور سیکولر علوم کی ترقی کا دور شروع ہوگیا۔ ترقی کا یہی سلسلہ ہے جو اسپین ہوتا ہوا یورپ پہنچا اور یورپ کی جدید علمی ترقی کا سبب بنا۔
اسلام نے علم کو توہمات سے آزاد کیا، مگر وہ اس کو اخلاقی دائرہ کا پابند بنائے ہوئے تھا۔ یورپ نے علم کو اخلاقی پابندی سے آزا دکر دیا۔ یہاں سے علم میں ایک نئی خرابی پیدا ہوگئی۔ جدید علم تو ہمات سے آزاد تھا۔ مگریورپ نے آزادی کی حد کو نہیں سمجھا ۔ اس نے علم کو اخلاقی حدود سے بھی آزاد کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں جدید علم میں دوبارہ نئی نئی برائیاں پیدا ہوگئیں۔
20 فروری 1990
مسٹر نانی اے پالکھی والا ہندستان کے مشہورقانون داں ہیں۔ ان کا ایک مضمون ٹائمس آف انڈیا( 20 فروری 1990) میں چھپا ہے ۔ یہ ہندستان کے انکم ٹیکس ایکٹ کے بارہ میں ہے۔
مسٹر پالکھی والا نے لکھا ہے کہ ہمارے ملک کی وزارت قانون تبدیلی کے خبط کی شکار ہے۔ اس کو گویا تبدیلی کا جنون ہے۔ چنانچہ پچھلے 30 سال میں ہندستان کے انکم ٹیکس ایکٹ میں تین ہزار ترمیماتAmendmerus) ) کی جاچکی ہیں ۔
other sourceWords of another person or source
ان تبدیلیوں کی بناپر انکم ٹیکس قانون میں بے حد پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مالی مقدمات کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ یونائٹڈ کنگڈم میں 29 ملینانکم ٹیکس دینے والے ہیں۔ مگر ان کے یہاں ہائی کورٹ میں آنے والے مقدمات کی تعداد سال میں صرف 30ہوتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں انڈیا میں صرف سات ملین ٹیکس ادا کرنے والے ہیں ۔ مگریہاں ہائی کورٹ میں جانے والے مقدمات کی تعداد سالانہ چھ ہزار سے زیادہ ہوتی ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The flood of litigation is heavier than ever before.
ہندستان میں آزادی (1947) کے بعد جو برائیاں پیدا ہوئیں ، ان میں سے ایک تبدیلی کا خبط تھا۔ ہر شعبہ میں مسلسل تبدیلی کی جانے لگی ۔ حتیٰ کہ تبدیلی کو ترقی کے معنیٰ سمجھ لیا گیا۔ اس خبط نے آخر کار ملک و برباد کر کے رکھ دیا۔
21 فروری 1990
میسور کے سلطان ٹیپو انگریزوں سے لڑتے ہوئے 1799 میں ہلاک ہو گئے۔ ان کی سلطنت ختم ہوگئی ۔ اقبال کے خیال کے مطابق مسلم دنیا کا ناقابل تلافی حادثہ تھا۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں کہاکہ ٹیپو سلطانوں کی ترکش کا آخری تیرتھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ترکش مارا خدنگ آخریں
میرے نزدیک یہ ایک لغو بات ہے۔ کوئی بھی شخص مسلمانوں( یا اسلام) کی ترکش کا آخری تیر نہیں۔ اسلام ایک کامل مذ ہب ہے۔ اس کی ترکش کے تیر کبھی ختم ہونے والے نہیں ، یہاں تک کہ قیامت آجاۓ۔
اس قسم کی تمام باتیں دعوتی ذہن نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسلام کی اصل طاقت دعوت ہے۔ اگر مسلمان اس کو جان لیں تو وہ کبھی کسی کے بارہ میں ترکش ما را خدنگ آخریں کالفظ نہ بولیں۔ کیوں کہ دعوت ایک ایسی طاقت ہے جو کبھی اور کسی حال میں ختم ہونے والی نہیں۔
22 فروری 1990
قومی آواز(22 فروری 1990 ) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ رام کی مفروضہ جنم بھومی ( اجودھیا) میں رام کی مندر تعمیرکرنے کے نام پر وشو ہندو پریشد اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے ایک ارب48 کروڑ روپیہ جمع کیا ہے۔
other sourceWords of another person or source
رام مندر کے نام پر جب اتنی بڑی رقم جمع ہوچکی ہے تو اب اس کا دو ہی انجام ہوسکتا ہے۔ یا تو اجودھیامیں مجوزہ رام مندر تعمیرہو ۔ اور اگر بالفرض رام مندر تعمیر نہ ہو تواس رقم کے بٹوارہ کے لئے خود ہندوئوں میں آپس کی جنگ شروع ہو جائے گی۔ دونوں میں سے ہر صورت ملک کے لئے تباہ کن ہے ۔ رام مندر کی تعمیر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے دوسرا پاکستان ہے۔ یہ ہند و مسلم جھگڑے کو مزید پچاس سال کے لئے زندہ کر دینا ہے ۔ اور اگر دوسری صورت ہو تو یہ ہند وسوسائٹی میں کرپشن میں اضافہ کے ہم معنی ہوگا جو پہلے ہی بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔
ملک کی ترقی کے لئے ضروری کہ اس قسم کے مردوں کو چھوڑ کر قومی اور کو مرکز توجہ بنایا جائے۔
23 فروری 1990
غالباً25 سال پہلے کی بات ہے۔ لکھنو میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ وہ ایک عربی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے۔ اس کے بعد انھوں نے کچھ انگریزی بھی سیکھی تھی ۔گفتگو کے دوران انھوں نے کہا : صحابہ کا یہ حال تھا کہ وہ اللہ کے خوف سے روتے تھے۔ آج بھلا کوئی شخص ایسا ہوسکتا ہے جو اللہ کے خوف سے روئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میرا احساس یہ ہے کہ یہی دوسرے مسلمانوں کا حال بھی ہے۔ موجودہ مسلمان اس اسلام سے آشنا نہیں جو تریٰ اعینھم تفيض من الدمع کی صفت رکھتا ہو ۔ مزید یہ کہ یہ محرومی صرف محرومی تک نہ رہی۔ اس نے لوگوں کے اندر ایک گمرا ہی بھی پیدا کر دی۔ لوگ کیفیت والے دین کونہیں پاسکتے تھے، اس لئے انھوں نے کمیت والے دین کو ایجاد کر لیا ۔
روزانہ ایک یاکئی قرآن ختم کرنا۔ اللہ یا لا الٰہ الا اللہ کا یس کسی اور کلمہ کاور دکرنا۔ نوافل کی کثرت ، وغیرہ۔ یہ سب اسی نوعیت کی چیزیں ہیں۔ کیفیت والا دین جب لوگوں کو حاصل نہ ہوا تو کمیت والے دین میں اضافہ کر کے انھوں نے اپنے آپ کو مطمئن کر لیا کہ انھوں نے دین کی بلندی کو پالیا ہے۔ حالاں کہ یہ سب گمراہی اور بدعت ہے نہ کہ ہدایت اور دین داری ۔
24 فروری 1990
ڈاکٹر شمس الآفاق (منسٹری آف ہیلتھ، نئی دہلی ) ملاقات کے لئے آئے ۔ وہ الرسالہ سے پوری طرح متفق ہیں. گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ " آپ کی انٹگریٹی ڈاؤٹ فل معلوم ہوتی ہے" ۔ یعنی یہ کہ میں خدانخواستہ ہندؤوں کا یاحکمرانوں کا ایجنٹ ہوں۔ جو کچھ کہتا ہوں مفاد کے تحت کہتا ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہاکہ ستمبر1989 کے آخری ہفتہ میں لیبیا میں انٹرنیشنل کانفرس تھی۔ مختلف لوگوں سے کئی سو آدمی وہاں آئے۔ میں بھی شریک ہوا۔ اخبار نو( دہلی) کے ایڈیٹرم افضل صاحب بھی اس میں شریک تھے۔ ان سے آپ پوچھ لیجئے۔ ہم لوگ طرابلس کے ہوٹل میں ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے بعد اسپیشل جہاز کے ذریعہ تمام لوگ طرابلس سے بنغازی لے جائے گئے تاکہ وہاں صدر قذافی سے ملاقات کرسکیں۔ تمام شرکا خوشی خوشی وہاں گئے۔ میں اکیلا طرابلس کے ہوٹل میں ٹھہرا رہا۔ میں قذافی سے ملنے نہیں گیا۔ اپنے اس استغنا کی وجہ سے میں نے پانچ سو ڈالر کھودیا۔
فروری 1990 کے دوسرے ہفتہ میں نئی دہلی میں مولانا ابوالکلام آزاد پر انٹرنیشل سیمینار ہوا۔ اس میں مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ پروگرام میں میرانام بھی چھاپ دیاگیا۔ اس سمینار میں نہ صرف باہر کے بہت سے لوگوں سے ربط قاائم کرنے کا موقع تھا، بلکہ وزیراعظم ہند وی پی سنگھ سے ملنا ، ان کے ساتھ ڈنر کھانا اور دوسرے فوائد تھے۔ میرے پاس سیمینار کی تمام چیزیں میرے گھر پر بھیج دی گئیں مگر میں وہاںسرے سے شریک ہی نہیں ہوا۔ کیا مفاد پرست لوگ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر آفاق صاحب نے کہا کہ یہ سب باتیں آپ کو الرسالہ میں شائع کر نی چاہئیں تاکہ لوگوں کے شبہات ختم ہوں۔ میں نے کہا کہ جولوگ الرسالہ کی سطروں سے مجھ کو نہ سمجھ سکے وہ اس کی خبروں سے بھی مجھ کو نہیں سمجھ سکتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
25 فروری 1990
رفیق احمد صدیقی (مٹیا محل ، دہلی) انجنیئر ہیں۔ آجکل وہ ظہران کی پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ انھوں نے بتا یا کہ ظہران میں جماعت اسلامی کے بہت سے لوگ ہیں ۔ وہ اپنا ہفتہ وار اجتماع کرتے تھے۔ اس کو گورنمنٹ نے روک دیا۔ مگر آجکل انھوں نے دوبارہ اجازت لے لی ہے۔اب وه برابر اپنے اجتماعات کر رہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہاکہ یہ اجازت ان کو ضرور کچھ یقین دہانی کر کے ملی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ انھوں نے ذمہ داروں کو یقین دلایا کہ ان کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے۔ اس کے بعد انہیں اجازت مل گئی۔ میں نے کہاکہ یہ سراسر منافقانہ بات ہے۔ کیوں کہ سیاست و حکومت تو جماعت اسلامی کے عقیدہ میں شامل ہے۔ اسلامی حکومت قائم کرنا ہی ان کا اصل مقصد ہے۔ اسی لئے وہ پاکستان کے ہر حکمراں سے ٹکراؤ کرتے رہے ہیں۔ مگر سعودی عرب میں انھوں نے یہ کہہ دیا کہ سیاست سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔
جماعت اسلامی کے لوگ اگر تقریر اور جلوس اور بیانات کا طریقہ اختیار کرتے تو اجازت ملنا تو درکنار ، انھیں سعودی عرب سے نکال دیا جاتا۔ اسی طرح اگر وہ اپنے سیاسی نظریہ کا اعلان کرتے تب بھی ہرگز انہیں اجازت نہ ملتی۔ میں نے کہاکہ مسلمان بھی کیسے عجیب ہیں سعودی عرب میں وہ منافقت کی سطح پر جا کر ایڈجسٹمنٹ کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہندستان جیسے ملک میں وہ حکمت کی سطح پر بھی ایڈ جسٹمنٹ کرنے پر راضی نہیں ۔
26 فروری 1990
میری عمر66 سال ہوگئی۔ اگر مجھےبتانا ہو کہ میری پوری زندگی کے مطالعہ اور تجربہ کاآخری حاصل کیا ہے، تو میں کہوں گا کہ ـــــ اللہ تعالی نے ایک مسٹر نتھنگ (Mr. Nothing کو پیدا کیا اور اس کے اوپر (Thing) کا پردہ ڈال دیا ۔
انسان کے پاس بظاہر دماغ ہے، علم ہے ، طاقت ہے ،اسباب و وسائل ہیں، مگر یہ سب کا سب ظاہری پر دہ ہے ۔ اس پر دہ کے اندر داخل ہو کر دیکھے تومعلوم ہوگا کہ انسان کی کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ انسان کا ایک علیحدہ وجود ہے ۔ اس کا یہ عالی و وجود دنیا سے لے کر آخرت تک باقی رہے گا۔ انسان کا سب کچھ سراسر ان کی ذات پر منحصر ہے۔ دنیا میں بھی اگر وہ کچھ پاتاہےتو وہ اللہ کے دئے سے پا تا ہے ۔ اور آخرت میں بھی وہ جو کچھ پائے گا اللہ کے دئے سے پائے گا ۔
انسان کے پاس ارادہ ہے مگر اس کے اندر تنفیذ کی طاقت نہیں۔ انسان کے پاس فکر ہے مگر حالات کے اوپر اس کا کنٹرول نہیں ۔ اس کو چاہنے کا اختیار ہے۔ مگر اس کو کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔
27 فروری 1990
ایک صاحب سعودی عرب میں انجنئیر ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ انڈ یا میں مسلمانوں کے لئے ترقی کے مواقع نہیں۔ کیوں کہ مسلمانوں کو یہاں جان بوجھ کر سپرس (suppres) کیا جا تا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ آٹھ سال سے عرب میں ہیں۔ کیا وہاں آپ نے اپنی مرضی کے خلاف کوئی بات دیکھی۔ انھوں نے کہاکہ بہت سی باتیں ہیں مثلا وہاں ایک امریکی انجنیر کے لئے تنخواہ بھی زیادہ ہے اور عزت بھی زیادہ۔ مگرہماری تنخواہ بھی کم ہے اور عزت بھی کم۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں لئے کہاکہ پھر کیا آپ نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا کوئی سوال ہی نہیں۔ وہاں سٹم کے خلاف کوئی شخص بولے تو فوراً اس کو واپس روانہ کر دیں گے ۔کوئی زیادہ گڑ بڑ کرے تو اس کو جیل میں بند کر دیں گے۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سپریس کئے جانے کا مسئلہ عرب میں بھی ہے۔ چوں کہ وہاں آپ مفاہمت کر کے رہتے ہیں اس لئے وہاں آپ سپرس نہیں کئے جاتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر میں نے کہا کہ ہندستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کے مسلمان یہاں کے حالات سے ہم آہنگی کرکے رہنے کے لئے تیار نہیں ۔ یہاں وہ احتجاج اور ٹکراؤ کر کے رہنا چاہتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ وہ صورت پیش آرہی ہے جس کو آپ جیسے لوگ سپریشن (suppression) کا نام دیتے ہیں۔ اگر مسلمان یہاں موافقت کے ساتھ رہیں جس طرح وہ باہر کے ملکوں میں رہتے ہیں تو یہاں بھی ان کو وہی مواقع ملنے لگیں گے جوان کو دوسرے ملکوں میں مل رہے ہیں۔
28 فروری 1990
سیوان (بہار) کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اندر ایمان کی چنگاری تو موجودہے ، صرف اس کو ہوا دینے کی ضرورت ہے ۔ اس کے بعد وہ بھڑک کر شعلہ بن جائے گی۔ میں نے کہا کہ موجودہ مسلمانوں پر یہ مثال صادق نہیں آتی۔ صحیح بات یہ ہے کہ موجودہ مسلمان قوم مسلم پر ہیں ۔ اب ان کو دین مسلم پر لانے کی ضرورت ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک ہے تلفظ کلمہ، اور ایک ہے معرفت کلمہ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں جو ایمان ہے و تلفظ کلمہ کی سطح پر ہے۔ وہ معرفت کلمہ کی سطح پر نہیں ہے اورکلمہ کی معرفت کا نام ایمان ہے کہ کلمہ کے الفاظ کو دہرانے کا۔
ایک آریہ سماجی ہندو اور ایک مسلمان مولوی میں مناظرہ ہوا۔ مولوی نے کہا کہ تم جہنم میں جاؤ گے. آریا سماجی نے کہا نہیں ، میں جنت میں جاؤں گا۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ کیا اس حدیث کو مانتے ہوکر من قال لا اله إلا الله دخل الجنة مولوی صاحب نے کہا ہاں۔ آریہ سماجی نے بلند آواز سے کہا کہ پرسنو، میں کہتا ہوں الہ الا اللہ ۔ اب مولوی صاحب لاجواب ہو گئے۔ اس کا سبب یہی تھا کہ مولوی صاحب نے تلفظ کلمہ کو ایمان سمجھ لیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it