← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
January 1990
English · 33 min read
یکم جنوری 1990
میں نے اپنی زندگی کا پہلا مضمون غالباً 1940 میں لکھا تھا۔ اس وقت میں مدرسۃ الاصلاح راعظم گڑھ میں عربی کا طالبعلم تھا۔ اس مضمون کا عنوان تھا: جوش عمل" اس کے بعد سے میں تقریباً ہر روز کچھ نہ کچھ لکھتا رہا ہوں ۔ 1990 میں پہنچ کر میں یہ کر سکتا ہوں کہ میں نے لگ بھگ پچاس سال لکھنے یا لکھنے کی مشق میں گزارے ہیں۔
کیا چیز ہے جوکسی آدمی کو لکھنے والا یا صاحب قلم بناتی ہے، اگر مجھ سے یہ سوال کیا جائے تو میں کہوں گا کہ اس کی پہلی لازمی شرط مطالعہ ہے۔ آدمی جتنا زیادہ مطالعہ کرے گا، اتنا ہی زیادہ وہ اچھا لکھنے والا بنے گا۔
تحریر کی دوقسمیں ہیں ۔ ایک ہے علمی تحریر ، دوسری ہے تخلیقی تحریر۔ علمی تحریر کے لئے صرف مطالعہ کافی ہے۔ مگر تخلیقی تحریر کو وجود میں لانے کے لئے مطالعہ کے ساتھ گہرا تجربہ بھی لاز ما ضروری ہے۔ خاص طور پر وہ سنگین تجربات جو آدمی کے دل و دماغ کو ہلا دیں ، جو اس کی شخصیت کے چھپے ہوئے پہلوؤں کو بیدار کر دیں۔ زلزلہ خیز تجربات سے گزرے بغیر حقیقی معنوں میں کسی تخلیقی تحریر کو وجود میں لانا ممکن نہیں۔
تاہم تجربات سے سیکھنے کے لئے شعور کی بلندی ضروری ہے۔ کثرت مطالعہ سے آدمی کا شعور بلند ہوتا ہے۔ اور جس آدمی کا شعور بلند ہو چکا ہو ، وہی تجربات سے کوئی بڑاسبق لے سکتا ہے۔ اور اس کو تخلیقی تحریر میں منتقل کر سکتا ہے۔
2 جنوری 1990
پاکستان کے اخبار نوائے وقت ( 25 دسمبر 1989) میں محمد ظفیر صاحب کے حوالے سے یہ روایت شائع ہوئی ہے کہ "3 جون 1947 کے اعلان منصوبہ تقسیم برعظیم کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد نے کلکتہ والے بزرگ مسلم لیگی لیڈر سید بدر الدجیٰ کے توسط سے قائداعظم علی جناح کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات کی اور پوچھا کہ جو اور جس طرح کا پاکستان آپ نے قبول کیا ہے ، اس سے ہندستان کے ساتھ مسلمان بھی تین حصوں میں بٹ جائیں گے۔ قائداعظم نے فرمایاکہ اس وقت میں نے ایک قلعہ مسلمانوں کو لے دیا ہے، جہاں وہ اپنی قوتیں مجتمع کریں اور اپنی اہلیتوں سے کام لے کر اپنے شاندار ماضی کا احیاء کر لیں۔ مجھے جو کام کرنا تھا وہ میں نے کر دیا " ۔
مولاناسید ابوالحسن علی ندوی نے بھی ایک مضمون میں پاکستان کو اسلام کا آہنی قلعہ بتایا تھا۔ مگر واقعات نے بتایا کہ مسٹر جناح اور ان کے ہم خیال لوگوں کا نظریہ سراسر غلط تھا۔ نصف صدی گزارنے پر بھی پاکستان اسلام کا قلعہ نہ بن سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کبھی اسلام کا قلعہ نہیں بنتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میرے نزدیک پاکستان بنوانامسلمانوں کے لئے ایک جرم کا درجہ رکھتا ہے۔ مسلمانوں پر لازم تھا کہ پہلے ہندستان کے ہندؤوں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کریں، اور اس کو تمام ضروری دعوتی آداب کے ساتھ تکمیل کے مرحلہ تک پہنچائیں ۔ دعوتی عمل کی انجام دہی کے بعد حسب حالات انھیں اگلا اقدام تجویز کرنا تھا۔ دعوتی مرحلے سے گزرے بغیر پاکستان کا مطالبہ ہرگز درست نہ تھا۔ پاکستان کا نام مملکت خداداد رکھنے سے وہ اسلامی نہیں بن سکتا۔
3 جنوری 1990
قومی آواز (یکم جنوری 1990) کے صفحہ اول کی سرخی یہ تھی : " وادی کشمیر میں آج سے تمام سنیما گھر بند " خبر میں بتایا گیا تھاکہ کشمیرکی ایک انتہاپسند تنظیم " اللہ ٹائگرز " نے تمام سنیما گھروں کے مالکوں کو دھمکی دی ہے کہ یکم جنوری سے وہ اپنے سنیما گھروں میں فلم دکھا نامکمل طور پر بند کر دیں۔ ورنہ ان کے سینما ہال کو بم سے اڑا دیا جائے گا۔ اسی طرح سیکڑوں ویڈیو لائبریریوں کو بھی اپنا کار و باربند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وادی میں شراب کی دکانوں کو بھی ان تنظیموں نے بند کروا دیا ہے۔ عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی پر دہ کے بغیر گھر سے نہ نکلیں ۔ خلاف ورزی کرنے والے کئی باربم کانشانہ بن چکے ہیں ۔ اس لئے لوگوں نے خوف کے تحت ان حکموں پرعمل کرناشروع کر دیا ہے۔
ممکن ہے کہ کچھ نادان اسلام پسند اس سے خوش ہوں مگر میں اس کو بالکل لغو سجھتا ہوں۔ بم کی طاقت سے کبھی سماج میں کوئی انقلاب نہیں لایا جا سکتا ۔ اس کا زندہ ثبوت مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک (رومانیہ ، ایسٹ جرمنی ، چیکوسلوواکیا، ہنگری، پولینڈ ، وغیرہ) ہیں ۔ تقریبا نصف صدی تک یہاں حکومتی طاقت کے زور پر کمیونسٹ سماج بنانے کی کوشش کی گئی ۔ مگر آخر کار وہاں بغاوت ہوگئی۔ اور کمیونزم کو ذلیل ہو کر مشرقی یورپ سے نکلنا پڑا۔
کشمیر کے دہشت پسند نوجوانوں کے پاس اس طاقت کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ہے جو سوویت روس کے پاس تھا۔ ایسی حالت میں جو لوگ اس کو نظام مصطفی قائم کرنے کا نام دیا وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جس کا تعلق اسلام سے تو کیا ہو گا، اس کا تعلق عقل سے بھی نہیں۔
4 جنوری 1990
صحیح مسلم میں ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نافع بن عبد الحارث کو مکہ کا حاکم مقرر کیا تھا۔ ایک روز حضرت عمر عسفان میں تھے۔ اتفاق سے نافع بن عبد الحارث بھی وہاں آگئے۔ حضرت عمر نے ان کو عسفان میں دیکھ کر پوچھا کہ کہ میں تم کس کو اپنی جگہ رکھ کر آئے ہو ۔ انھوں نے کہا کہ ابن بزی کو مقرر کیا ہے جو کہ میرا آزاد کردہ غلام ہے۔ حضرت عمر نے کہا : استخلفت مولی۔ یعنی ایسی ذمہ داری کے منصب پر تم نے ایک آزاد کردہ غلام کو مقرر کر دیا۔ نافع بن عبد الحارث نے جواب دیا : انه قارئ الكتاب وعالم بالفرائض (اس نےقرآن کو پڑھا ہے اور وہ فرائض کا عالم ہے )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ اسلام میں ساری اہمیت آدمی کی لیاقت کی ہے۔ نسل اور رنگ اور رشتہ اور قومیت اور اس طرح کی دوسری چیز یں اسلام میں قابل لحاظ نہیں۔
5 جنوری 1990
مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جوشخص تین دن سے کم میں پورا قرآن پڑھے وہ اس کو سمجھنے سے محروم رہے گا۔ لايفقه من يقرا في ا قل من ثلاث ( روایت میں آیا ہے کہ آپ نے حضرت عبد اللہ بن عمرکو سات دن سے کم میں یا پانچ دن سے کم میں قرآن ختم کرنے کی اجازت نہیں دی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طرح کی واضح ممانعت کے باوجو دامت میں مسلسل ایسے لوگ پائے گئے ہیں جن سے متعلق کہا جاتا ہے کہ روزانہ ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ بلکہ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے فضائل میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک دن میں کئی بار قرآن ختم کیا کرتے تھے ۔
ان لوگوں نے اس بدعت کو اس طرح جائز کیا کہ انھوں نے یہ کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو مشقت سے بچانے کے لئے ایسی ہدایت فرمائی تھی۔ مگر یہ توجیہ بالکل لغو ہے۔ یہ بے معنی توجیہ ان حضرات کے دماغ میں اس لئے آئی کہ انھوں نے "ختم“ کو کام سمجھ لیا ، انھوں نے " تدبر" کو کام نہیں سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی اسلامی کام ہی نہیں ہے کہ ایک شخص آندھی اور طوفان کی طرح ہروقت بس قرآن کے الفاظ دہراتا رہے ۔ قرآن کے سلسلہ میں اصل کام یہ ہے کہ اس پر غور کر کے اس سے ہدایت اخذ کی جائے نہ کہ اس کو فرفر پڑھتے رہنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
6 جنوری 1990
منشی پریم چند کے لڑکے شری امرت لال کی ایک انگریزی کتاب گھر بٹوارہ ہے۔ یہ کتاب1984 میں پہلی بارشائع ہوئی۔ اس میں مصنف نے لکھا تھا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
" یہ بالکل غیر ممکن نہیں ہے کہ موجو دہ ووٹ زدہ اقتدار کے کھیل میں اردو کو کسی نہ کسی دن ایک علاقائی زبان کی حیثیت سے تسلیم کر لیا جائے۔ مگر ہم کویقین ہے کہ ایسا کر نا اس ملک کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ کیوں کہ اردو زبان کی حیثیت ایک غیر سیکولر عنصر کی ہے جس میں نہایت طاقتور مذہبی رجحانات موجود ہیں جو سیکولر یک جہتی کے منافی ہیں " ۔
اس کتاب کی اشاعت کے پانچ سال بعد اکتوبر1989 میں یوپی میں (نیز بہار میں) اردو کو علاقائی زبان کی حیثیت سے تسلیم کرلیا گیا۔ مذکورہ کتاب کے مصنف ہندی کے ادیب ہیں، اور انھیں اردو سے سخت عناد ہے ۔ اس کے باوجودان کی حقیقت نگاری حیرت انگیز ہے کہ انھوں نے پانچ سال پہلے اس کو سمجھ لیا تھا جب کہ عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ کسی چیز انھیں نفرت ہوجائے تو اس کے بارہ میں وہ کسی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
7 جنوری 1990
مولا نا ہارون صاحب میواتی (ا مام کالی مسجد)شام کو ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ راجیو گاندھی حکومت نے 14 نومبر1989 کو چارٹر ڈ جہاز کے ذریعہ دہلی کے دس علماء کو اجودھیا بھیجا تھا۔ اس میں مولانا ہارون صاحب ، مولانا مفتی کریم صاحب ، مولانا احمد علی قاسمی وغیرہ شامل تھے۔ دہلی سے لکھنوتک یہ لوگ ہوائی جہاز سے گئے ۔لکھنو اسٹیشن پر امبیڈر کاروں کا قافلہ موجود تھا۔ وہ ان کو لکھنے سے اجودھیا اس طرح لے گیا کہ ان کے آگے اور پیچھے پولیس کی جیپ چل رہی تھی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
22نومبر1989 کوجنرل الکشن ہونے والا تھا۔ 9 نومبرکو وشو ہندو پریشد وغیرہ نے اجودھیا میں شیلانیاس رکھی۔ مسلمانوں میں یہ خبرمشہور ہوئی کہ ہندو بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنارہے ہیں اور کانگریس سرکار ان کو روک نہیں رہی ہے۔ چنانچہ دہلی کے علماء کا قافلہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اجودھیا لے جایا گیا تاکہ وہ مقامی واقعہ کو دیکھ کر یہ بیان دے دیں کہ بابری مسجد محفوظ ہے، اور شیلا نیاس اس کی حد سے دور رکھی گئی ہے ۔
الکشن سے پہلے (اکتوبر ۔۔ نومبر) میں دہلی اور یوپی کے مقامات پرفسادات ہوۓ۔ مثلاً بھاگلپور میں 24 اکتوبرکوسخت فساد ہوا۔ مسلمان کہتے ہیں کہ کانگریس حکومت نے فسادکروائے ۔ یہ در اصل اپوزیشن کی بولی ہے ۔ جو حکومت مسلم ووٹ لینے کے لئے اتنی بے قرار ہو کر وہ علماء کو خصوصی جہاز سے اجودھیالے جلاۓ ، کیا وہ عین الیکشن سے پہلےمسلمانوں کو مروائے گی تاکہ مسلمان اس کو ووٹ نہ دیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
8 جنوری 1990
1967سے 1974 تک میں الجمیعہ ویکلی (دہلی) کا اڈیٹر تھا۔ اس زمانہ میں میں نے الجمعیتہ ویکلی کے تین فائل بنائے۔ جب الجمیعہ بند ہوا تو اس کے تین مکمل فائل میرے پاس موجود تھے۔ میں نے احتیاط کی غرض سے تینوں فائل تین جگہ رکھوا دئے ۔ ایک مجلد فائل محمد احمد صاحب (کشن گنج )دہلی کے گھر پر رکھا ۔ اور دوسرا مکمل فائل اپنے بھائی کے پاس، اعظم گڑھ (محلہ بدرقہ ) بھیج دیا۔
مگر آج میرے پاس صرف و ہی ایک فائل محفوظ ہے جو میں نے خود اپنے پاس رکھا تھا۔ محمد احمد صاحب پہلے میرے ہم خیال تھے۔ بعد کو وہ جماعت اسلامی سے متاثر ہوئے۔ اس کے بعد وہ میرے مخالف بن گئے۔ اس مخالفت میں وہ یہاں تک گئے کہ انھوں نے الجمیعہ کی فائل ، جوان کے پاس بطور امانت تھی، اس پر قبضہ کر لیا بہت دن تک میں ان سے تقاضا کرتا رہا ،جب دیکھا کہ وہ دینے والے نہیں ہیں تو خاموش ہو گیا۔ اعظم گڑھ کے مکان پر جانا تھا ، اس کی وہ لوگ حفاظت نہ کر سکے ۔1989 میں میں نے یہ فائل اعظم گڑھ سے منگوائی ۔ مگرجو پارسل مجھے ملا اس میں صرف نصف پرچے تھے۔ بقیہ نصف ضائع ہو گئے۔
انسان کو چاہئے کہ وہ صرف اپنے آپ پر اعتماد کرے۔ اگر اس نے دوسروں کے اعتماد پر کوئی اقدام کیا تو اس کو نہایت تلخ تجربات پیش آئیں گے اور مایوسی اور ناکامی اس پرمستزاد ہوگی۔
9 جنوری 1990
اردو اخبارات کے بارہ میں میرا تجربہ اتنا تلخ ہے کہ میں اردو اخبارات کی رپورٹ کی بنیاد پر بھی کوئی مضمون نہیں لکھتا۔ بار بار کے تجربہ میں میں نے پایا ہے کہ اردو اخبارات کی رپوٹنگ نہایت ناقص ہوتی ہے ۔
قومی آواز اسٹاف کے اعتبار سے اردو کا سب سے معیاری اخبار سمجھا جا تا ہے۔ قومی آواز دہلی کے شمارہ 7جنوری 1990 میں صفحہ اول پر ایک خبر تھی۔ اس میں بتایا گیا تھاکہ دوبچوں نے غلطی سے ایک سفوف کھالیا۔ وہ زہر تھا۔ چنانچہ اس کو کھاتے ہی بچے مر گئے۔ اس سلسلہ میں یہ جملہ تھا کہ پولیس کی اطلاع کے مطابق ، ان بچوں نے نمک سمجھ کر کوئی سفید پاؤڈر کھا نا شروع کر دیا۔
خبر کا یہ جزء مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ کیوں کہ نمک ایسی چیز نہیں جس کو کوئی شخص کھانا شروع کر دے۔ اس کے بعد میں نے انگریزی اخبار میں اس خبر کو تلاش کیا۔ معلوم ہوا کہ پولیس کے اطلاع نامہ میں شکر (sugar) کا لفظ تھا جس کو اردو اخبار میں نمک بنا دیاگیا۔ یہ وہی خبر ہے جس پر میں نے اپنا مضمون اخلاقی زہر لکھا۔ یہ مضمون بعد کو الرسالہ ستمبر 1990 میں شائع ہوا۔
10 جنوری 1990
مولاناعبدالغفارحسن صاحب (فیصل آباد) پاکستان الر سالہ کے مشن سے پوری طرح متفق ہیں۔ تاہم ان کو ایک اختلاف ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ الرسالہ میں پاکستان پر کوئی تنقید نہ کی جائے ۔ ان کا خط مورخہ 21 ستمبر 1989 مجھے بہت دیر سے دہلی میں ملا ، اس میں وہ لکھتے ہیں : ایک ضروری گزارش یہ ہے کہ پاکستان کے بارہ میں آپ کے بعض منفی جملے الرسالہ میں پیش نہ آئیں تو یہاں الرسالہ کے حلقہ کی توسیع بہتر شکل میں ہو سکتی ہے۔ اب جب کہ پاکستان بن چکا ہے تو ایسی تجاویز پیش کی جانی چاہئیں جن سے خرابیوں کی اصلاح ہوا اور یہ ملک صیح معنوں میں اسلامی مملکت بن سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بنیادی سوال یہ ہے کہ قیام پاکستان کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ پاکستان کی صورت میں تقسیم ملک کی محفوظ ترین تعبیر یہ ہوسکتی ہے کہ اس کو ہجرت قرار دیا جائے۔ مگر ہجرت ہمیشہ اتمام حجت کے بعد ہوتی ہے، اس سے پہلے نہیں۔ ہندو قوم مسلمانوں کے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی تھی مگر مسلمانوں نے قومی سطح پر اپنی جو کی نمائندگی کی ، وہ یہ تھی کہ انھوں نے ہند و قوم کونہ تو اسلام کی دعوت دی اورنہ ان پر اتمام حجت کیا۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ کیاکہ آغاز ہی میں تقسیم ملک کامطالبہ لے کر کھڑے ہو گئے۔
حضرت یونس علیہ السلام کی مثال بتاتی ہے کہ دعوت دینے کے با وجود دا گر داعی اس کو اتمام تحت تک پہنچائے بغیر ہجرت کر جائے تو اس کو دوبارہ قوم کی طرف واپس آنا پڑتاہے۔ پھر کیا پاکستانی مسلمان اللہ تعالیٰ کے یہاں حضرت یونس سے بھی زیادہ اونچا مقام رکھتے ہیں کہ انھیں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنانہ پڑے۔
میرے نزدیک پاکستانی مسلمانوں کی نجات صرف اس میں ہے کہ وہ حضرت یونس علیہ اسلام کی طرح اپنی "ہجرت "کو خطا قرار دے کہ اس سے واپس لوٹیں۔ اس واپسی سے میری مرادا رضی اور جغرافی واپسی نہیں ہے بلکہ مزاجی اور فکری واپسی ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں نے تقسیم کے بعد ہند و نفرت پر اپنی قومی پالیسی کی بنیادرکھی ہے۔ اس نفرت کو انھیں ذبح کرنا ہو گا۔ سیاسی ڈپلومیسی کے طور پر نہیں بلکہ داعیان خیرخواہی کے تحت انہیں ہندو قوم سے خوش گوارتعلق قائم کرنا ہوگا۔ اور یہ سب کچھ یک طرفہ طور پر کرنا ہوگا۔ یہی ان کی واپسی ہے اور اس واپسی کے بغیر پاکستانیوں کے لئے کامیابی کا دروازہ نہیں کھل سکتا۔
11 جنوری 1990
ہرآدمی دوسروں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے مگر کوئی آدمی نہیں جو اپنے آپ کو مرتا ہوا دیکھے۔ دوسروں کی موت کو آدمی صرف دوسروں کی موت سمجھ لیتا ہے۔ دوسروں کی موت میں وہ اپنی موت کی تصویر نہیں دیکھ پاتا۔
اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اپنی موت کا ادراک اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ یہ اپنی ہلاکت سے واقف ہونا ہے۔ اور کون ہے جو خود اپنی نفی کرے۔ کون ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت کے تختہ پر چڑھائے۔
13 جنوری 1990
موجودہ زمانہ کے ملحد مورخین مذہب کو ایک سماجی مظہر (Social phenomenon) کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین اسلام کو ایک تاریخی مظہر Historical phenomenon) )کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بظاہر دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ کیوں کہ دونوں ہی اس واقعہ سے بے خبر ہیں کہ مذہب اصلا ایک روحانی ڈسپلن ہے۔ سچا مذہب فرد انسانی میں ربانی حقیقت کے تمکن سے پیدا ہوتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذہب ایک لطیف ترین دریافت ہے ۔ ایک شخص پر جب حقیقت خداوندی کا انکشاف ہوتا ہے، اور اس کے مقابلہ میں وہ اپنی عبدیت کو دریافت کرتا ہے تو اس کا نام مذہب ہے۔ مذہب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے نہ سماجی ظاہرہ ہے اور نہ تاریخی ظاہرہ ۔ مذہب در اصل ایک نفسیاتی ظاہرہ ہے۔ مذہب یہ ہے کہ ایک انسان ربانی انسان بن جائے ۔ یہ پورا واقعہ نفسیات کی سطح پر ہوتا ہے۔ اس واقعہ کے خارجی اثرات حسب حالات سماج اور تاریخ پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ مگر وہ مذہب کا خارجی ظہور ہے نہ کہ مذہب کی اصل حقیقت۔
کراچی کے انگریزی ہفت روزہ ' دی مسلم ورلڈ ' کے شمارہ 16دسمبر1989 کے ایک مضمون کو دیکھ کر مذکورہ بالا تاثرات میرے ذہن میں آئے۔
14 جنوری 1990
لارڈ چسٹر فیلڈ (Chester Field) 1694میں لندن میں پیدا ہوا، اور1773 امیں لندن ہی میں اس کی وفات ہوئی ۔ ٹائمس آف انڈیا (13جنوری 1990) نے اس کا ایک قول نقل کیا ہے کہ سیاست داں نہ محبت کرتے ہیں اور نہ نفرت۔ جذ بات نہیں بلکہ مفادان کی رہنمائی کرتے ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Politicians neither love nor hate. Interest, not sentiment, directs them. مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے روزانہ یہ شکایت کر رہے ہیں کہ سیاست داں اور حکمراں ان کے دشمن ہیں ۔ وہ ان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اس قسم کی شکایت بالکل لغو ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلمان سیاسی لیڈروں کو یہ یقین نہیں دلا سکے کہ ان کا مفاد اس میں ہے کہ وہ مسلمانوں کا ساتھ دیں۔ اس لئے وہ ان لوگوں کا ساتھ دے رہے ہیں جس کا ساتھ دینے میں انھیں اپنا سیاسی فائدہ نظر آتا ہے۔ اس معاملہ میں شکایت اور احتجاج سراسر احمقانہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر کوئی ایسی خصوصیت پید اکریں کہ سیاسی لیڈروں کا مفادان سے وابستہ ہو جائے۔ اس کے بعد وہ دیکھیں گے کہ سیاسی لیڈروں کے بارہ میں ان کی شکایت اپنے آپ ختم ہوگئی ہے۔
15 جنوری 1990
قرآن میں ہے کہ تیرے رب کی قسم ہم ان سے ضرور پوچھیں گے (الحجر 92 ) دوسری طرف قرآن میں ہے کہ اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کی بابت نہ پوچھا جائے گا ( الرحمن 39 )
Qur'anQuotes the Qur'an
بظا ہر ان دونوں آیتوں میں تضاد ہے۔ ایک آیت میں ہے کہ ضرور سوال کیا جائے گا ،اور دوسری آیت میں ہے کہ سوال نہ کیا جائے گا مگر یہ تضاد کی بات نہیں۔ اصل یہ ہے دونوں جگہ سوال کا لفظ الگ الگ مفہوم میں ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک سوال وہ ہے جو تحقیق حال کے لئے کیا جائے۔ آخرت میں اس قسم کے سوال کی ضرورت نہ ہوگی کیوں کہ وہاں سب کچھ عیاں ہو جائے گا۔ آدمی کے ارادے اور اس کی نیتیں اس طرح اس کے چہرے اورجسم پر نمایاں ہو جائیں گے کہ وہ بغیر بولےہوۓ سب کچھ بتا رہا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں آخرت میں کسی مجرم سے اس نوعیت کی پوچھ گچھ کی ضرورت نہ ہوگی جو دنیا کی پولیس کو پیش آتی ہے۔ دنیا میں لوگ باعتبار ظا ہر دکھائی دیتے ہیں ، آخرت میں لوگ باعتبار باطن دکھائی دیں گے۔
دوسرا سوال وہ ہے جو توبیخ کے لئے کیا جائے۔ اس قسم کا سوال آخرت میں لوگوں سے ہوگا۔ یہ گویا یہ مشکل سوال ان کی بابت اس فیصلہ کا اعلان ہو گا جس سے وہ انکار کی جرات نہ کرسکیں گے۔
16 جنوری 1990
سیداز ہرحسن موہانی (1881 – 1851) کے لڑکے فضل الحسن حسرت موہانی کو "سید الاحرار" کہا جاتا ہے۔ انھوں نے 1903 میں علی گڑھ سے بی اے پاس کیا۔ ان کو انگریزوں سے اور انگریزی سامان سے شدید نفرت تھی ۔ وہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے سب سے پہلے عدم تعاون کا نعرہ بلند کیا۔
ماہنامہ جامعہ ( نومبر1989 ) میں حسرت موہانی پر ایک مضمون ہے۔ اس میں ایک و اقعہ ان الفاظ میں درج ہے : بائیکاٹ اور سدیشی تحریک کے دوران انھیں اپنے ایک دوست کے یہاں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔ شدید سردیوں کے دن تھے۔ رات کو اوڑھنے کے لئے میزبان نے انھیں ایک کمبل دیا۔ یہ کمبل چوں کہ سدیشی نہیں تھا ، اس لئے حسرت موہانی نے ساری رات سردی میں ٹھٹر ناگوارا کیا مگر میں استعمال نہیں کیا (صفحہ 8) موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کے اس قسم کے واقعات جن کو فخر کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ، وہ صرف نادانی کے واقعات ہیں۔ ان کی کوئی اہمیت نہ دین کے اعتبار سے ہے اور دنیا کے اعتبارسے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
17 جنوری 1990
اطہر صدیقی صاحب (منٹو روڈ ) نئی دہلی نے ایک واقعہ بتایا۔ یہ واقعہ 15 جنوری 1990ء کو دہلی کے ہولی فمیلی اسپتال میں پیش آیا۔
other sourceWords of another person or source
مفتی عبد الخالق (مفتی واڑه ،میرٹھ ) ہولی فیملی میں داخل تھے۔ ان کو پیشاب میں تکلیف ہوگئی تھی اور وہاں ان کا آپریشن ہونا تھا۔ ان کی لڑکی نازلی آل انڈیا میڈیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ملازم ہے ۔انسی ٹیوٹ میں کینسر ریسرچ کا اسپتال CRCH) )ہے ، وہاں نازلی لیبورٹری میں ٹیکنی شین کے طور پر کام کرتی ہے۔کینسر ریسرچ کے اس ادارہ میں ڈاکٹر راجیو کمار ایک اور پروفیسر ہیں اور لیبورٹری کے انچارج بھی ہیں۔
نازلی نے ڈاکٹر راجیو کمار سے 15 جنوری کے لئے چھٹی لی۔ اس نے ڈاکٹر رجیو کمار کو بتایا کہ اس دن میرے والد کا ہولی فیملی اسپتال میں صبح 8 بجے آپریشن ہے، اس لئے میں نہ آسکوں گی۔ 15 جنوری کو تقریبا پونے نو بجے ڈاکٹر راجیو کمار اچانک ہو لی فیمیلی آگئے۔ انھوں نے دیکھا کہ مفتی عبد الخالق ابھی تک آپریشن تھیٹر میں نہیں گئے ہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اسپتال والے خون مانگ رہے ہیں، اور چوں کہ مفتی صاحب کا کوئی دوست یا رشتہ دار خون دینے کے لئے موجود نہیں اس لئے آپریشن روک دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر راجیو کمارنے کہاکہ اگر ایسا ہے تو میں اپنا خون دیتا ہوں ۔مفتی عبدالخالق صاحب نے منع کیا۔ ڈاکٹر اجیو کمار نے کہا کہ اگر آپ اس لئے منع کر رہے ہیں کہ میں ہندو ہوں تو البتہ دوسری بات ہے، ورنہ میں خون دینے کے لئے تیار ہوں ۔ خلاصہ یہ کہ ڈاکٹر راجیو کمارنے اس وقت پانچ سو سی سی (CC) خون دیا ۔ اس کے بعد مفتی عبدالخالق کا آپریشن ہوا۔ ڈاکٹر راجوکمار کا خون کا بلڈ گروپ بی ہے۔
other sourceWords of another person or source
ہولی فیملی میں کثرت سے مسلمان ہوتے ہیں ، مگرکسی نے اپنا خون نہیں دیا۔ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ ہندو ایک جاندار قوم ہیں۔ افسوس کہ مسلمانوں نے ہندو قوم کو نہیں پہچانا۔ اور انتہائی احمقانہ طور پر ہندووں کو اپنا دشمن بنالیا۔
18 جنوری 1990
27 نومبر1989 کو جے پور میں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ نومبر کے الکش ہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے 88 ممبر کامیاب ہو کر ہندستانی پارلیمنٹ میں پہنچ گئے ۔ اس کے بعد انھوں نے فتح کی خوشی منائی۔ چنانچہ جے پور میں بھی فتح کا جلوس نکالا گیا۔ اس جلوس میں اس قسم کے نعرے لگائے جارہے تھے :
بچہ بچہ رام کا ، باقی سب حرام کا
مسلمان کے دو استھان، پاکستان یا قبرستان
اس پر مسلمان بھڑک اٹھے۔ انھوں نے جلوس پر پتھراو کیا۔ اب دونوں فرقوں میں ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ مسلمانوں نے ہندوؤں کو نقصان پہنچایا، ہندوؤں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔ قتل ، آتش زنی، لوٹ سے پورا شہرقبرستان ہوگیا۔ مسلمانوں کا زیادہ نقصان ہوا۔ قومی آواز( 16 جنوری 1990)
ان فسادات کا علاج میرے نزدیک صبرو اعراض ہے ۔ مسلمان اگر صبر کر لیں توفساد اول مرحلہ ہی میں ختم ہو جائے اور جان و مال کے نقصان کی نوبت نہ آئے ۔ ان ہندومسلم فسادات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس ملک میں دعوت کے تمام مواقع بالکل برباد ہو کر رہ گئے ہیں۔
19 جنوری 1990
ملی جمیعت علماء کا ایک وفد بھاگلپورگیا تاکہ 24اکتوبر1989 کو ہونے والے فساد کا جائزہ لے۔ اس کی رپورٹ مولانا محمد حنیف صاحب مالیگاؤں کے قلم سے شائع ہوئی ہے۔ آغاز میں فرماتے ہیں:
" ہندستان میں فسادات مسلانوں کا مقدر بن چکے ہیں۔ تقسیم کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا تو آج تک باقی ہے ۔ بھارت کرن کا خواب دیکھنے والے متعصب ہندو کسی طرح یہ نہیں چاہتے کہ مسلمان ہندستان میں اپنے کردار ، اسلامی روایات اور مذہبی شخص کے ساتھ انفرادی حیثیت سے زندہ رہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام اورمسلمانوں کے سوا کوئی قوم نہیں جس کے پاس اخلاق و کردار اور عقیدہ ور کی وہ انمول قدریں موجو د ہوں جس پر مذہب کی بنیاد قائم ہے۔" (ہفت روزه ملی جمعیہ ، 12 جنوری 1990)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بات ایک یا دوسرے لفظ میں موجودہ ہندستان کے تمام مسلم رہنما کہتے ہیں۔ ان کا دعوا ہے کہ ہندستان میں مسلمانوں کے خلاف فساد اس لئے ہوتا ہے کہ وہ اسلامی تشخص کے ساتھ اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں۔ یہ بات سراسر لغو ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ قرآن کے صریح بیان سے ٹکرار ہی ہے۔ قرآن میں تو یہ ہے کہ انتم الاعلون ان کنتم مومنین (آل عمران 139) اور ان تصبروا وتتقو الا يضركم كيدهم شیا (آل عمران130) ان آیات کے مطابق اسلامی تشخص کسی مسلم قوم کو ضرر سے محفوظ رکھتا ہے ، وہ اس کے لئے سربلندی کی ضمانت ہے ، ایسی حالت میں کیوں کرممکن ہے کہ اسلامی تشخص ہی کسی قوم کو مبتلائے فساد کرنے کا سبب بن جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
20 جنوری 1990
آج کے اخبارات میں رج نیش کی موت کی خبر تھی۔ خبر کے مطابق ، پونہ کے رج نیش پورم میں رج نیش پر دل کا دورہ پڑا اور اس میں ان کا انتقال ہوگیا۔ بوقت انتقال ان کی عمر 59 سال تھی ۔
رج نیش کی انگریزی تقریر( آڈیو کیسٹ اور ویڈیوکیسٹ) پر میں نے سنی ہے۔ اس کے اندر تقریر کا غیرمعمولی ملکہ تھا۔ اس نے اپنی اس صلاحیت کی بنا پر بے شمار لوگوں کومتاثرکیا۔ امریکہ کی فورڈ کمپنی کاموجو دہ وارث بھی ان کے شاگردوں میں تھا۔ وہ ہیرے کی گھڑی پہنتا تھا۔ اس کے پاس 91 رولس رائس کاروں کا قافلہ تھا۔ وغیرہ ، وغیرہ ۔
پہلے وہ اچاریہ رج نیش کہے جاتے تھے۔ اس کے بعد بھگوان رجنیش کہے جانے لگے۔آخر میں انھوں نے اپنے کو صرف رج نیش کہلانا پسند کیا۔بے شمار دولت اور لاکھوں معتقدین کے باوجود ان کی زندگی آخر میں نہایت خستہ ہوگئی۔ ہندستان ٹائمس (20جنوری 1990) میں رج نیش کی آخری دنوں کی تصویر ہے۔ اس میں وہ اپنا دونوں ہاتھ اس طرح اٹھائے ہوئے ہیں جس طرح مسلمان دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھاکر دعا کرتے ہیں۔ رج نیش نے خدا بننا چاہا۔مگران کے آخری انجام نے انھیں بتایا کہ انسان بندہ ہے ،اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
21 جنوری 1990
ایک انگریزی داں مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہندوؤں کی اور ہندستانی حکومت کی سخت برائی کرتے رہے۔ یہ قوم حد درجہ متعصب ہے۔ یہ انتہائی تنگ نظر ہے ۔ اس کا مذہب صرف خود غرضی ہے۔ مسلمانوں کی وہ بدترین دشمن ہے۔ وغیرہ۔ مگر تفصیلات معلوم کرنے کے بعد میرافیصلہ یہ تھا کہ غلطی خود مذکورہ مسلمان کی ہے۔
وه 1950 میں ہندستان چھوڑ چھوڑ کر لندن چلے گئے۔ وہاں انھوں نے برٹش پاسپورٹ لے لیا۔ وہ پاکستانیوں کی مدد سے انگریزی میں ایک اخبار (مسلم نیوز) نکالتے کالتے رہے۔ اس میں مسلمانوں کے عام انداز کے مطابق ہندستان مخالف مضامین شائع ہوتے تھے ۔ لندن میں یہ اخبارنہ چل سکا۔ اس کے بعد وہ پاکستان چلے گئے اور وہاں سے دوبارہ اپنا اخبار جاری کیا۔ مگر پاکستان میں بھی بالآخر اس کو بند کرنا پڑا۔ اس کے بعد وہ ہندستان لوٹ آئے۔ اب انھیں شکایت ہے کہ ہندستانی
حکومت انہیں شہریت نہیں دے رہی ہے ۔
یہی عام مسلمانوں کا مزاج ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ وہ جو چاہیں کریں ، مگر انھیں اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا نہ پڑے۔ جوشخص ہندستان چھوڑ دے اور انگلینڈ اور پاکستان سے ایسا اخبار نکالے جوہندستان کی نظر میں قابل اعتراض ہو ، اس کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو مذکورہ مسلمان کے ساتھ ہوا ۔مگر انہیں اپنی غلطی کا اعتراف نہیں۔
22 جنوری 1990
"افسانہ" سے متعلق مضمون میں یہ سطریں پڑھنے کو ملیں : انسانوں کا فن ایک ایسافن ہے جس کے ذریعہ قاری کو گرفت میں لے کر اس طرح متاثر کیا جاسکتا ہے کہ اسے اس کی خبر تک نہیں ہونے پاتی۔ "
other sourceWords of another person or source
جذباتی تاثر کے لئے یہ بات صحیح ہوتی ہے مگر حقیقی ذہنی تبدیلی کے لئے یہ بالکل بے معنیٰ بات ہے۔ ذہنی تبدیلی ایک شعوری واقعہ ہے جب تک آدمی کے شعور کو بدلا نہ جائے اس کے اندر کوئی ذہنی انقلاب نہیں آتا۔ اور شعوری تبدیلی ایک باخبری کاعمل ہے ،اس کو بے خبری کے ذریعہ ظہور میں لاناممکن نہیں۔
23 جنوری 1990
بدر الدین احمد صاحب (پیدائش 1938) مراد آباد کے رہنے والے ہیں ۔ وہ کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے الرسالہ سے کیا سبق لیا۔ انھوں نے کہا کہ بہت سا سبق۔ اس میں سے خاص سبق جو میں نے لیارہ اعراض ہے۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کے علاوہ میں نے کہیں صبرو اعراض کی بات نہیں سنی۔ حالاں کہ یہ زندگی کا راز ہے۔ اور خود میں نےاپنے تجربہ میں پایا ہے کہ یہ مسائل کا بہترین حل ہے۔
الرسالہ کے پڑھنے والے بیشتر لوگ اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہناؤں نے قوم کے افرا دکو صرف لڑنا بھڑنا ، جلسہ جلوس کرنا ، نعرہ لگانا سکھایا۔ کسی نے بھی یہ نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو زندگی کار ازبتائے۔
24 جنوری 1990
پچھلے چند مہینوں سے کشمیر میں توڑ پھوڑ کی سیاست جاری ہے ۔ ہندستان میں ان لوگوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ مگرکشمیری ان کو مجاہد ، جنگ جو اور حریت پسند کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اس وقت تقریبا سوتنظیمیں کشمیر میں سرگرم ہیں:
کشمیر لبریشن فرنٹ ، پیپلس لیگ ، آپریشن بالاکوٹ ، حزب اسلامی، حزب اللہ، اللہ ٹائگرز، حزب المجاہدین ، ضیا ٹائگرز ، ضرب مومن ، حزب جہاد، اسلامک اسٹوڈینٹس لیگ ، البدر ، حزب مومن، العرب بدین ، اسٹوڈینٹس لبریشن موومنٹ ،الکر بلا ، الخمینی، حسینی ٹائیگرز ۔ وغیرہ
آخری 3 تنظیمیں شیعہ مسلمانوں کی ہیں ، اور بقیہ سنی مسلمانوں کی۔ ہر تنظیم آزاد ہے۔ ان میں سے کچھ تنظیمیں آزاد کشمیر کانعرہ لگا رہی ہیں اور کچھ الحاق پاکستان کا، کچھ تنظیمیں سیکولر ہیں اور کچھ اسلامی نعرے استعمال کر رہی ہیں۔
اس قسم کی تحریک جیسی کہ آجکل کشمیرمیں اٹھی ہے ، اس کے لئے صرف دو میں سے ایک تباہی مقدر ہے۔ یا تو یہ کہ ہندستان اس کو فوجی طاقت سے کچل دے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ۔ تحریک اپنے مقصد کو پالے اور کشمیر کو آزادی حاصل ہو جائے ۔ مگریہ کامیابی بھی بہت جلد ناکامی میں تبدیل ہوجائے گی کیوں کہ جو لوگ آج ہندوؤں سے لڑ رہے ہیں وہ آئندہ خود آپس میں لڑینگے۔
25 جنوری 1990
آج میں نے اپنے لڑکے ثانی اثنین کو اپنے کمرہ میں بلایا۔ میں نے کہا کہ میری صحت اب بہت کمزور ہوگئی ہے۔ کچھ نہیں معلوم کہ میری زندگی کے کتنے دن اور باقی ہیں۔ میں نے کئی بار سوچا کہ میں اپنے بعد کے لئے تم کوکی نصیحت یا ہدایت لکھ دوں ۔ اس سلسلہ میں کئی کاغذ تھے۔ مگر لکھ کر انھیں پھاڑ تار ہا۔ کوئی نصیحت یا وصیت نامہ مجھے کافی نظر نہیں آیا ۔
میری زندگی کا تجربہ یہ ہے کہ حالات اتنے غیرمتوقع طور پر بدلتے ہیں کہ پیشگی طور پر کوئی شخص ان کو جان نہیں سکتا اور ان کے بارہ میں کوئی صحیح نصیحت کر سکتا۔ اس لئے اب میں اپنے بعد کے لئے تمہیں کوئی مشورہ دے رہا ہوں اور نہ کوئی وصیت۔ صرف ایک بات کی تم کو تاکید کر تا ہوں اور وہ دعا اور استخارہ ہے۔ میرے بعد جو بھی صورت پیش آئے ، تم ہمیشہ دعا اور استخارہ کرتےرہنا۔ یہی واحد آخری نصیحت ہے جومیں تم کو کر رہاہوں ۔ میں خود ساری زندگی دعا اور استخارہ کے تحت کام کرتا رہا ہوں ، تم بھی یہی ہونا ۔ انشاءاللہ تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی ملتی رہے گی ۔
26 جنوری 1990
سوویت روس کا وہ حصہ جو ترکی اور ایران سے ملتا ہے ، اس میں آجکل جنگ جاری ہے۔ یہاں آذربائیجان کے علاقہ میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اور آرمینیا کے علاقہ میں عیسائیوں کی اکثریت ۔ عیسائی تعلیم اور تنظیم میں آگے ہونے کی وجہ سے اس علاقہ کے اہم اقتصادی اداروں پر قابض ہیں، حتی کہ آذربائیجان کے مسلم علاقہ میں بھی۔
اس کے خلاف عرصہ سے مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی تھی۔ ایران نے اس کو شہ دیا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں لڑائی شروع ہوگئی ۔ روسی حکومت نے اس کو دبانے کی کوشش کی تو وہ لوگ خود حکومت سے لڑ گئے۔ آجکل اخبارات میں روزانہ اس کی خبریں آرہی ہیں۔ یہی صورتحال اکثر مقامات پر ہے مگر یہ اقتصادی پسماندگی کو دور کرنے کا طریقہ نہیں۔
اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بچھڑے ہوئے طبقات میں علم اور شعور پیدا کیا جائے۔ دوسروں سے لڑ کر کوئی قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔
27 جنوری 1990
نظام الدین ایسٹ میں ایک مسلم اسکول (نیو ہورائزن )ہے۔ یہاں اوکھلے کا ایک مسلم لڑکا زیرتعلیم ہے۔ اس لڑکے نے اپنے گھر یا مسلمانوں کی مجلس میں ہندو مسلم فساد کا ذکرسنا تھا۔ اس کے مطابق اس نے کہا کہ ہندو بہت ظالم ہوتے ہیں مسلمانوں کو جلاتے ہیں ، مارتے ہیں ۔ وغیرہ۔
میں اس کی باتیں خاموشی سے سنتا رہا۔ آخر میں میں نے کہا کہ اگر ایک لڑ کا آئے اور تم کو ایک گھوسہ مارے تو تم کیا کر وگے۔ اس نے جوش کے ساتھ کہا کہ میں اس کو سوگھونسا ماروں گا۔ میں نے کہا کہ ہندومسلم فساد کا قصہ بھی یہی ہے ۔ مسلمان ہندوں کو ایک گھونسا مارتے ہیں تو ہندو انھیں سوگھونسا مارتے ہیں مسلمان ہندووں کے جلوس پر پتھر پھینکتے ہیں تو ہندو ان کے اوپر گولیوں کی بوچھار کر دیتے ہیں۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم گھرانے اپنے نوجوانوں کو کسی قسم کی تربیت دے رہے ہیں۔
28 جنوری 1990
محمد یونس سیلم صاحب ( پیدائش 1912)ملاقات کے لئے آئے ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتا یا کہ حیدرآباد کے ایک مسلم نوجوان نے دہلی میں تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ ہماری جو مانگ ہے اس کو پہلے ہم نے اردو میں کہا، مگر آپ نے کچھ نہیں کیا۔ ہم نے خیال کیا کہ آپ شاید اردو نہیں سمجھتے۔ اس کے بعد ہم نے انگریزی میں اپنی مانگ آپ کے سامنے رکھی۔ مگر اب بھی آپ نے کچھ نہیں کیا۔ اب ہم نے طے کیا ہے کہ پنجابی میں آپ سے بات کر یں ۔ شاید یہی ایک زبان ہے جس کو آپ سمجھ سکتے ہیں۔ (پنجابی زبان سے مرادتشدد کی زبان ہے)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی موجودہ مسلمانوں کا عام ذہن ہے۔ کوئی اس بات کو ایک لفظ میں کہتا ہے اور کوئی دوسرے لفظ میں۔ یہ باتیں صرف مسلمانوں کی مایوس نفسیات کی علامت ہیں ، وہ اصل مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔
29 جنوری 1990
تقسیم کے بعد ہندستان کے مسلمان عام طور پر پاکستان کی طرف دیکھنے لگے تھے۔ لوگوں کے ذہن میں پاکستان کا ایک افسانوی تصور تھا۔ ہر آدمی اس انتظار میں رہتا تھاکہ موقع ملے تو وہ پاکستان چلا جائے، تاکہ وہ اپنے خوابوں کی دنیا پاسکے اور وہاں ترقی کرے۔
مگر1971 میں جب خود پاکستان کے دو حصے( مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان )آپس میں بدترین لڑائی لڑے اور بالآخر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے تو مسلمانوں کے اندرنئی سوچ پیدا ہوئی۔ انھوں نے محسوس کیا کہ انھیں ہندستان میں ہی رہنا ہے اور یہیں کام کرنا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ 1971 کے بعد ہندستان کے مسلمانوں نے اقتصادی میدان میں کافی ترقی کی ہے۔ اور اس کی وجہ ان کا یہی ذہنی استحکام ہے جو بنگلہ دیش بننے کے نتیجہ میں ان کے اندر پیدا ہوا۔
اب شاید اللہ تعالی نے ان کی اصلاح کا دوسرا انتظام کشمیرکی صورت میں کیا ہے۔1989 کے آخر میں کشمیر میں دہشت گردی شروع ہوئی جواب شدت کے ساتھ جاری ہے۔ کشمیر کے مسلمان آزادکشمیر کا نعرہ لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان در پردہ ان کا ساتھ دے دیتا ہے اور بموں اور گولیوں کے ذریعہ یہ تحریک پورے زور شور کے ساتھ چلائی جارہی ہے۔ مگر تقریبا یقینی ہے کہ ہندستان اپنی فوجی قوت کے ذریعہ اس تشد دانہ تحریک کو کچل دے گا۔ اس کے بعد کشمیری بالکل خاموش
ہوکر ہندستان کا حصہ بن کر رہنے لگیں گے۔
جس دن ایسا ہو گا اس دن ہندستانی مسلمانوں کی اصلاح کا کام مکمل ہو جائے گا۔ ہندستان کے مسلمانوں کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ان کے اندر عدم برداشت کا مزاج ہے میں کے نتیجہ میں بار بار ہندوؤں سے ٹکراؤ ہوتا ہے اور ایک طرفہ طور پر مسلمان برباد ہوتے ہیں کشمیر کی موجودہ تحریک کی نا کامی سے مسلمانوں کے موجودہ ذہن کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔ اور وہ برداشت کے ساتھ رہنے پر راضی ہو جائیں گے۔ جب ایسا ہو گا تو اس کے فوراً بعد مسلمانوں کی ترقی کا سفر بھی بلارکاوٹ شروع ہو جائے گا۔ انشاءااللہ لعزیز۔
30 جنوری 1990
بلیا سے ایک مسلمان وکیل صاحب کا خط موصول ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بصد احترام عرض ہے کہ میں قوم وملت کے فلاحی سلسلے میں ایک پٹیشن (petition) عدالت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ اس سلسلے میں کچھ اعداد و شمار کی اشد ضرورت ہے"۔
مسلمان تقریبا 50 برس سے یہی کر رہے ہیں ۔ وہ اپنی فلاح اور ترقی کے لئے قا نون اور حکومت کی طرف دیکھتے ہیں ۔اور جب قانون اور حکومت کی طرف سے ان کی امیدیں پوری نہیں ہوتیں تو وہ ان کے خلاف احتجاج اور فریاد میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
میرے نزدیک یہ بات لغویت کی حد تک بے فائدہ ہے۔ کسی قوم یا فرد کی فلاح وترقی کا دار و مدار اس کی اپنی محنت پر ہے نہ کہ قانوں اور حکومت پر ۔مسلم رہنماؤں نے اس معاملہ میں مسلمانوں کو نہایت غلط رہنمائی دی ۔ انھوں نے مسلمانوں کو یہ نہیں بتایا کہ تمہارے مسائل کا سبب تمہاری اپنی کوتاہیاں ہیں۔ وہ اس معاملہ میں ہمیشہ حکومت اورقانوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مسلمانوں کا عام ذہن بن گیا۔ اب مسلمانوں کی سب سے بڑی خیرخواہی یہ ہے کہ ان کے اس ذہن کو بدلا جائے ۔ ان کے ذہن کوخارج سے ہٹا کر داخل کی طرف موڑ دیا جائے۔
31 جنوری 1990
30 – 31 جنوری1990 کو میں پیپلی مزرعہ (پنجاب )میں تھا۔ یہ ضلع انبالہ (پنجاب) کا ایک گاؤں ہے۔ اب اس کو جمنانگر میں شامل کر کے ہریانہ کا جزء بنادیا گیا ہے۔
یہاں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی ۔ ان کی عمر115سال ہے۔ ابھی تک وہ چلتے پھرتے ہیں۔ انھیں عینک کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے پیروں پر چلتے ہوئے مجھ سے ملاقات کے لئے آئے۔ تاہم ان کا حلیہ بتارہاتھا کہ وہ قبر کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ انسان اگر 50 سال یا 60 سال میں نہ مرے، تب بھی وہ 115 سال سے زیادہ جی نہیں سکتا۔ اس دنیا میں اربوں اور کھربوں انسان پیدا ہوئے ۔ مگران میں سے کوئی شخص بھی ہمیشہ کے لئے زندہ نہ ر ہ سکا۔