← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
December 1989
English · 30 min read
یکم دسمبر 1989
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا : دعوت فخر کا اظہار نہیں، دعوت تواضع کا اظہار ہے۔ اس کا پیغام روشنائی سے تحریر نہیں کیا جاتا بلکہ آنسوں سے لکھا جاتا ہے۔ دعوت وہ پیغام ہے جو نفرت کی زبان میں نہیں دیا جاتا ، بلکہ محبت کی زبان میں دیا جا تا ہے ۔ وہ نعروں کے ذریعہ نہیں بلکہ دعاوں کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ دعوت ایک ربانی عمل ہے نہ کہ کسی قسم کا قومی عمل۔
2 دسمبر 1989
جب میں پیدا ہوا تو روس میں اشتراکی انقلاب( 1917 ) پرتقریبا آٹھ سال گزر چکے تھے۔ اس کے بعد اشتراکی روس کے بارہ میں جو کچھ پڑھا ، اس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ روس میں مذہب کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ روس میں مذہبی آزادی نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دعوت دین کا کام اب صرف آزاد دنیا میں ہو سکے گا۔ کمیونسٹ دنیامیں دعوت دین کے کام کی کوئی صورت نہیں۔
مگراللہ تعالی کے قانون دفع (البقرہ 251 ) نے کام کیا۔ اشتراکی انقلاب کے 70 سال بعد حالات بدلنا شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ اکتوبر 1989 میں لوگوں نے دیکھا کہ برلن وال ٹوٹ رہی ہے ۔ اب یکم دسمبر۱۹۸۹ کوٹیلیویژن دیکھنے والوں نے ساری دنیا میں یہ منظر دیکھاکہ سوویت یونین کا وزیراعظم گور باچوف خود ویٹیکن جاتا ہے اور وہاں پوپ سے ہاتھ ملا کر یہ اعلان کرتا ہے کہ روس میں مکمل مذہبی آرادی بحال کر دی جائے گی اور ویٹیکن اور ماسکو کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس تبدیلی نے روس میں دوبارہ مذہبی کام کے دروازے کھول دئے ہیں ۔ مگر مجھے شبہ ہے کہ اس کا فائدہ صرف عیسائی طبقہ کو ملے گا۔ مسلمان اس کے فائدے حاصل کرنے سے محروم رہیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائی لوگ معاملات کی حد کو جانتے ہیں۔ مگر مسلمان حد کو نہیں جانتے۔
ہر آزادی محدود آزادی ہے۔ روس میں مذہب کی آزادی بھی محد ود آزادی رہے گی۔مگرموجودہ زمانہ میں مکمل اسلام کے علم برداروں نے جو ذہن بنایا ہے ، وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں مانع بن جاتا ہے۔ اور ملے ہوۓ مواقع کو استعمال کرنے سے محروم رہتا ہے۔
3 دسمبر 1989
حیدر آباد کے روز نامه سیاست ( یکم اکتوبر1989) میں جناب انصر بیگ صاحب کا مضمون چھپا تھا جس کا عنوان تھا " ہندستان اقلیتوں کا ملک" اس مضمون میں مسلمانوں کے بارہ میں یہ درج تھا کہ مسلمانوں نے انگریزوں کی آمد سے پہلے سات سو سال تک ہندوستان پر حکومت کی تھی ۔ اس کے جواب میں شری کاشی نا تھ ایم اے، ایل ایل بی کا مضمون قومی آواز (2 دسمبر1989 ) میں شائع ہوا ہے ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ یہی ذہن فساد کی جڑ ہے۔ مسلمان کہتے ہیں کہ ہم نے اس ملک میں سات سو سال (یا ایک ہزار سال) تک حکومت کی ہے۔ دوسری طرف ہندو کہتے ہیں کہ ہم ایک ہزار سال کی محکومی کے بعد آزاد ہوئے ہیں۔ اس طرح دونوں فرقوں کے درمیان تناؤ پیداہوتاہے اور دنگے وجود میں آتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مجھے شری کاشی ناتھ کی اس بات سے اتفاق ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو دوبارہ جگانے کے لئے ان کا ماضی کا دور حکومت یاد دلایا۔ اس کی وجہ سے پوری مسلم قوم میں مالکانہ نفسیات پیدا ہو گئی۔ کسی نے کہا کہ ہم نے اس ملک میں سات سو سال تک حکومت کی ہے۔ کسی نے کہا کہ ہم نے اس ملک میں ہزار سال تک حکومت کی ہے. اس کے نتیجہ میں ہندؤوں میں ردعمل پیدا ہوا۔ 1947 کے بعد وہ سوچنے لگے کہ یہ مسلمان ماضی میں بھی ہمارے اوپر حکومت کرتے رہے اور اب ملک کا بٹوارہ کرنے کے بعد بھی ہم کو حاکم و محکوم کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے دونوں کے درمیان تعلقات غیرمعتدل ہوکر رہ گئے۔ ہندستان میں فرقہ وارانہ ظلم کے واقعات ہورہے ہیں وہ سب اس کا شاخسانہ ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4 دسمبر 1989
کمیونسٹ دنیا اور سرمایہ دار دنیا میں تقریباً 70 سال سے رقابت قائم تھی۔ دونوں بلاک اپنی قومی دولت کا بہترین حصہ ہتھیار بنانے پر خرچ کر رہے تھے جس کو بوقت جنگ استعمال کرسکیں ۔مگر پچھلے ایک سال کے اندر صورت حال مکمل طور پر بدل گئی۔ اب دونوں بلاکوں میں جنگ کے بجائے مفاہمت کی باتیں کی جارہی ہیں۔ حتی کہ دونوں اس پرگفتگو کر رہے ہیں کہ اپنے خوفناک ہتھیاروں کو ختم کر دیں۔
ٹائمس آف انڈیا (4 دسمبر1989) میں اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسٹر مدھو ملے نے بجاطور پر کہا ہے کہ جنگ اب عالمی طاقت یا سماجی تبدیلی کے ذریعہ کی حیثیت سے ناممکن چیز بن چکی ہے۔ ایک جو ہری جنگ انسانیت کی بربادی کے ہم معنی ہوگی۔ اس کے بعد کوئی شخص زندہ نہیں رہے گا جو اپنی فتح کی تقریب مناسکے:
other sourceWords of another person or source
War as an instrument of world power or social change is now an impossibility. A nuclear war would spell the ruin of mankind. Nobody would remain alive to clebrate the victory. (p. 7)
یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کے پاس فوجی طاقت ہے ۔ وہ جنگ کے بجائے امن کی باتیں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف مسلم رہنما جن کے پاس کوئی طاقت نہیں ، وہ مسلمانوں کے جلسوں میں مسلح انقلاب پر تقریر میں کر رہے ہیں ۔ اس قسم کی عسکری تقریروں کا تعلق اسلام سے تو کیا ہوگا، ان کا غفل سے بھی کوئی تعلق نہیں ۔
5 دسمبر 1989
دیوبند کے دو عالم ملاقات کے لئے آۓ ۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آجکل جگہ جگہ تحفظ نبوت کانفرنس ہورہی ہے ۔ میں اس قسم کی کانفرنسوں کو بالکل بے معنی سمجھتا ہوں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تحفظ آفتاب کانفرنس منعقد کی جائے ۔ سورج براہ راست خدا کی طاقت سے قائم ہے، اس کے لئے تحفظ کانفرنس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس طرح نبوت کی حفاظت بھی خدا نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے ۔ اس کے لئے بھی یہ ضرورت نہیں کرتحفظ کانفرنس منعقد کی جائے۔
مسلمانوں کی اصل ذمہ داری پیغام نبوت کی پیغام رسانی ہے۔ یعنی پیغمبرنے اپنے بعد جو دین چھوڑا ہے اس کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچانا۔ موجودہ زمانہ سے مسلمان دعوت نبوت کا کام نہیں کرتے ،البتہ وہ تحفظ نبوت کی کانفرنسیں کر رہے ہیں. اس قسم کا فعل مسلمانوں کی اصل مسئولیت کا کسی بھی درجہ میں بدل نہیں۔
6 دسمبر 1989
ہندستانی لوک سبھا( پارلیمنٹ) میں کل539 سیٹیں ہیں ۔ان میں سے 525 سیٹوں کے لئے 22 نومبر1989 کو الیکشن ہوا۔ چاربڑی پارٹیوں کے کامیاب ممبروں کی تعداد یہ ہے:
کانگریس (آئی) 193
جنتادل 141
بھارتیہ جنتا پارٹی 88
مارکسی کمیونسٹ پارٹی 32
جنتا دل نے بی جے پی اور کمیونسٹ پارٹی کو ساتھ لے کر مرکزی وزارت بنائی ہے ۔ دہلی کے امام عبداللہ بخاری نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جنتادل کو ووٹ دیں۔ فسادات کی وجہ سے چوں کہ مسلمان حکمران پارٹی کا نگریس سے سخت ناراض تھے ، اس لئے انھوں نے بہار اور یوپی میں بڑی تعداد میں جنتادل کو ووٹ دیا۔ قومی آواز (6دسمبر1989 ) کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
" نئے وزیر اعظم وی پی سنگھ اپنے وزیروں کا انتخاب کرتے وقت امام عبداللہ بخاری سے کئے ہوئے اپنے وعدے بھول گئے جو انھوں نے الکشن سے پہلے امام عبداللہ بخاری سے کئے تھے۔ امام بخاری کی خواہش تھی کہ مسٹرعارف محمدخاں اورمسٹرارن نہرو کیبنٹ میں شامل نہ کیا جائے۔کیوں کہ عارف محمد خاں نے مسلم پرسنل لاکی مخالفت کی تھی اور مسٹرارنہرونے یکم فروری 1986 کو بابری مسجد کا تالا کھلوا کر اس کا جھگڑا بڑھایاتھا۔ مگروی پی سنگھ نے ان دونوں صاحبان کو اپنی کیبنٹ میں شامل کر لیا "۔ جو لوگ سیاسی پارٹیوں سے الیکشنی وعدے لیں اور الکشنی دلوں کا اعتبار کریں ،ان سے زیادہ نادان اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
7 دسمبر 1989
کارل پاپر Karl Popper) )نے 1988 میں لندن اکونومسٹ میں الکشن کے بارہ میں ایک مضمون لکھا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ڈیموکریسی کے نظام میں الیکشن کے ذریعہ ووٹروں کو جو موقع دیا جاتا ہے، وہ اپنی پسندیدہ حکومت چننےسے زیادہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناپسندیدہ حکومت کو ہٹاسکیں :
other sourceWords of another person or source
Elections in a democracy offer an opportunity not so much to choose
a government you like but to keep away a government you dislike.
ہندستان میں ایمرجنسی کے بعد1977 کاالکشن اور اجودھیا میں شیلا نیاس ( 9 نومبر1989) کے بعد 22نومبر1989 کاالکشن اس کی نہایت واضح مثالیں ہیں۔ ان دونوں مواقع پر مسلمانوں نے کانگریس پارٹی کے خلاف ووٹ دیا۔ مگر یہ صرف منفی روٹ (Negative vote) تھامسلمان کانگریس سے خفا تھے ، اس لئے انھوں نے ان پارٹیوں کے حق میں ووٹ دیدیا جو کانگریس کے خلاف کھڑی ہوئی تھیں۔
اس قسم کی منفی ذہنیت (Negative sentiment) کا سب سے زیادہ نقصان خود مسلمانوں کو ہوا ہے ۔ ان کے اکثر ووٹ ضائع ہو گئے۔ چنانچہ 22 نومبر کے الکشن کے بعد جو لوک سبھا ( پارلیمنٹ) بنی ہے، اس میں مسلمان ممبروں کی تعداد ہمیشہ سے کم ہے ۔ آٹھویں لوک سبھا میں مسلم ممبروں کی تعداد چالیس تھی، موجودہ نویں لوک سبھا میں مسلم ممبروں کی تعداد 34 ہے۔
8 دسمبر 1989
موجودہ زمانہ کامزاج یہ ہے کہ ہر چیز کو بلا واسطہ طور پر اس کے براہ راست ذرائع سے جانے۔ یہی مزاج مذہبی معاملہ میں بھی کام کرتا ہے۔ چنانچہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ جو اسلام کو پڑھنا چاہتا ہے وہ دوسروں کی لکھی ہوئی کتابوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ وہ براہ راست قرآن وحدیث سے جاننا چاہتا ہے کہ اسلام کیا ہے۔
دور جدید کے اس مزاج نے ترجمہ کی اہمیت بہت زیادہ بڑھا دی ہے۔ جو لوگ عربی نہیں جانتے، وہ چاہتے ہیں کہ انھیں قرآن وحدیث کے ترجمے (بلا تشریح) ملیں تاکہ وہ ان کے ذریعہ اسلام کو سمجھ سکیں۔ موجودہ زمانہ کے رہنماؤں نے اس راز کو نہیں جانا۔ چنانچہ خود تو بے شمار کتابیں لکھتے رہے ، مگرصحیح تراجم فراہم کرنے کی کوشش نہ کی ۔
میں نے اس سلسلہ میں چار کتابوں کا انتخاب کیا ہے ۔ میری خواہش ہے کہ ان کتابوں کے صحیح اور مستند تر جمے تیار کئے جائیں۔ اولا انگریزی میں اور اس کے بعد دوسری زبانوں میں۔ یہ کتابیں یہ ہیں:
قرآن
مشکوٰۃ المصابيح
سيرة ابن كثير
حياة الصحابہ
ان کتابوں کے صحیح اور مستند تر جمے اگر تیار ہوجائیں اور ان کو اچھے طریقہ پر چھاپ کے لوگوں تک پہنچا دیا جاۓ تو بلاشبہ یہ موجودہ زمانہ میں دعوت اسلامی کا سب سے بڑا کام ہوگا۔
9 دسمبر 1989
ہندستان کی نویں لوک سبھا اس کا الکشن 22 نومبر1988 کو ہوا ہے، اس میں ہندو فرقہ کے انتہا پسند عناصر ہر بار سے زیادہ کامیاب ہو کر آئے ہیں۔مہنت اویدھ ناتھ ہندومہاسبھا کے ٹکٹ پر گورکھپور سے کھڑے ہوئے تھے۔ وہ کامیاب ہو گئے ۔
ٹائمس آف انڈیا کا نمائندہ مہنت اویدھ ناتھ سے گورکھپور میں ملا تھا۔ اس کی رپورٹ مذکورہ اخبار کے شمارہ23 نومبر1989 میں شائع ہوئی ہے۔ رپورٹر کے بیان کے مطابق ، مہنت جی نے ہندولیڈروں کے خلاف سخت غصہ کا اظہارکیا وہ اپنی تنقید بدھا سے شروع کرتے ہیں جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ وہ ہندستان کی تمام مصیبتوں کا سرچشمہ ہے۔ بدھانے ہم کو برداشت کا نعرہ دیا۔ اشوک نے اس کو مزید آگے بڑھایا۔ اسی طرح پنج شیل وغیرہ ۔ دیکھئے کہ ان باتوں نے آج ہم کو کہاں پہنچا دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ برداشت بزدلی ہے۔ برداشت کے نظریہ نے ہندووں کو نامرد بنا دیا ہے۔ اگر ایسا ہی ہمارا مذہب ہے تو ہمارے دیوتا اور ہماری دیویاں ہتھیار کیوں اٹھائے ہوتے ہیں :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Mahant Avaidhnath begins at the beginning. From Buddha-whom he describes as the fountainhead of India's ills. "Buddha gave us the slogan of tolerance. Ashoka took it up. Panchsheel and all that. And see where it has landed us today. I say tolerance is cowardice. Tolerance has made Hindus impotent," declares the demagogue. "If ahimsa was truly our religion, why do our gods and goddesses carry weapons?" he asks.
other sourceWords of another person or source
موجودہ زمانہ میں جو لوگ مذہب کے نام پراٹھے ہیں ، خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان ، سب لڑائی کی بات کرتے ہیں ۔ اس کے بر عکس جو لوگ سیکولرزم کے نام پر اٹھے ہیں، وہ امن وسلامتی کی بات کرتے ہیں ۔ یہ فرق بڑا عجیب ہے۔
10 دسمبر 1989
سید ابوالاعلی مودودی پاکستان میں" نظام مصطفی" کے نفاذ کا نعرہ لے کر اٹھے ۔ ان کے نزدیک مفروضہ نظام مصطفی کے قیام کی راہ میں واحد رکاوٹ پاکستان کے حکمراں افراد تھے۔ چنانچہ حکمراں افراد کو گرانے کے لئے انھوں نے ہرممکن تدبیراختیار کی۔ 1965 میں صدر ایوب خان کے خلاف پاکستان کے تمام سطحی لیڈرمتحد ہو گئے، ان میں سید ابوالاعلی مودودی بھی تھے۔ انھوں نے ایوب خاں کو گرانے کے لئے مس فاطمہ جناح کو ان کے مقابلہ میں کھڑا کیا۔ حالاں کہ اس سے پہلے وہ خود لکھ چکے تھے کہ اسلام میں عورت کو سربراہ ملکت بنانا جائز نہیں۔
اب سید ابوالاعلی مودودی کے نظریاتی شاگرد" کشمیر لبریشن فرنٹ " یہی لایعنی فعل کشمیرمیں کر رہے ہیں۔ وہ کشمیر میں نظام مصطفی قائم کرنے کا نعرہ لے کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ اور تخریب کاری کے ذریعہ پوری وادی کے امن کو غارت کر دیا ہے ۔ 8دسمبر1989 کو انھوں نے مرکزی وزیر داخلہ مفتی سعید کشمیری کی لڑکی ڈاکٹر روبیہ سعید کو اغوا کر لیا جو سری نگر میں منی بس سے سفر کر رہی تھی اور اسپتال میں اپنی ڈیوٹی کر کے گھر واپس جارہی تھی۔
میرے نزدیک مس فاطمہ جناح کو ایوب کے مقابلہ میں صدارت کے لئے کھڑا کرنا ، اورمفتی سعید کی غیر شادی شدہ لڑکی کو ٹرک سے اغوا کر نا دونوں یکساں درجہ کے واقعات ہیں اور دونوں نام نہاد نظام مصطفی کے علمبرداروں نے کئے ہیں ۔ یہ سیاست بازی کی دھن میں اسلام کی حدود کو پار کرنا ہے۔ ایک شخص شراب پی کر اتنا بڑا جرم نہیں کرتا جتناپاکستان اور کشمیر کے نام نہاد اسلام پسند کر رہے ہیں۔
11 دسمبر 1989
مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر بدترین رہنما ثابت ہوئے ہیں ۔ وہ ہر الکشن میں مسلمانوں سے منفی ووٹ (Negatie vote) دلواتے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان خودمسلمانوں کو پہنچتا ہے ۔
1967کے الکشن میں آل انڈمسلم مجلس مشاورت ابھری۔ مولاناعلی میاں ، ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے اپوزیشن کی" نان کا نگریس از م کا ساتھ دیا۔ علی میاں نے مسلمانوں سے کہا کہ مسلمان کانگریس کو ہرا کر اپنی طاقت کا ثبوت دیں۔ مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر کانگریس کے خلاف ووٹ دیا۔ اس کے نتیجے میں کئی ریاستوں میں غیر کانگریسی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ ان حکومتوں نے ریاستی پولیس میں فرقہ پرست عناصر کو بھر دیا۔
ایمرجنسی کے بعد1977 میں الکشن ہوا۔ اب دوبارہ مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو اکسایا کہ وہ کانگریس کے خلاف ووٹ دیں۔ کانگرس کو شدید ناکامی ہوئی۔ مرکز میں جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ اس بار پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر پولیس میں فرقہ پرست ہندو بھر دیے گئے۔
فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمان بری طرح پولیس کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں ، وہ اسی کا کرشمہ ہیں۔ ان فسادات میں مسلمانوں کی تباہی 50 فیصد مسلمانوں کے عدم برداشت کی وجہ سے ہوتی ہے اور 50 فیصد مسلمانوں کے منفی ووٹ ((Negative vote کی پالیسی کی وجہ سے۔
12 دسمبر 1989
روى الترمذي عن انس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد خفت في الله ومايغـافأحـدولتداوذيتومـايوذىاحـد( ترمذی نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ کے راستہ میں اتنا ڈرایا گیا جتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا۔ اور مجھے اتنا ستایاگیا جتنا کسی کو نہیں ستایا گیا )
hadithQuotes a hadith
اس طرح کی روایتیں جو حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، ان کا مطلب کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کا کوئی کام حکمت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ایذاء برائے ایذاء خدا کی شان کے خلاف ہے۔
اس کی ایک نفسیاتی توجیہ میری سمجھ میں آتی ہے ۔ انسان کے دماغ میں اتھاہ صلاحیتیں ہیں۔ مگرابتدائی حالت میں وہ سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ واحد چیز جو انہیں جگاتی ہے وہ زندگی کی مصیبتیں ہیں۔ بشرطیکہ مصیبتیں پڑنے پر آدمی اپنے آپ کو منفی ردعمل سے بچاسکے۔
میراخیال ہے کہ آدمی کے دماغ کے سل (Brain cells) مصیبتوں سے متحرک ہوتے ہیں۔ زیادہ مصیبت کا مطلب زیادہ دماغی سل کامتحرک اور بیدار ہونا ہے۔ کسی آدمی کے اندر جتنا زیادہ دماغی سل حرکت میں آئیں گے اتنا ہی زیادہ وہ بے پناہ ہوتا چلا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی معاملہ اعلی ترین شکل میں پیش آیا۔
13 دسمبر 1989
ایک جرمن عالم نفسیات و لیم اسٹرن (Willian Stern) نے ذہانت کی جا نچ intelligence test) ) کا ایک طریقہ نکالا۔ بعدکو امریکہ کے عالم نفسیات لیوس ٹرمن (Lewis Terman) نے اس کو اختیار کر لیا۔ دوسرے بہت سے علما نفسیات نے اس کا اعتراف کیا اور وہ عام طور پر ذہانت کی جانچ کے لئے اسٹینڈرڈ طریقہ مانا جانے لگا۔ اس کا نام Intelligence quotient ہے۔ مختصرطور پر اس کو آئی کیو (10) کہا جاتا ہے۔
other sourceWords of another person or source
مگر محققین نے اس طریقہ کے بارہ میں سخت شبہات ظاہر کئے ہیں۔ مثلا لیون کا من (Leon Kamin)نے کہا ہے کہ اس قسم کی ہر جانچ دماغ کی صلاحیتوں کو جاننے کا صرف ایک کمتر ر ہنماہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Every test is only a rough guide to real abilities.
حقیقت یہ ہے کہ دماغ قدرت کا ایک اتھاہ خزانہ ہے۔ دماغ کی صلاحیتیں اس سے زیادہ ہیں کہ وہ کسی حسابی یا میکانکی جانچ کی حد میں سماسکیں ۔
14 دسمبر 1989
جان میوڈ (John Heywood) لندن میں1497 میں پیدا ہوا۔ اور1575 میں بلجیم میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ڈرا ما اور کہانی لکھتا تھا ۔ اس کا ایک قول ہے کہ ایک چاہنے والے دل کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں :
Nothing is impossible to a willing heart.
یہ قول نہایت صحیح ہے ۔ مگر چاہنے کا مطلب سادہ معنوں میں صرف آرزو نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب سچی طلب ہے۔ جس آدمی کے اندر کسی چیز کی بھی طلب پیدا ہو جائے تو وہ اس کے لئے اپنی ساری طاقت صرف کرتا ہے۔ وہ اس کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔ سچی طلب آدمی کے اندر خودبخودوہ تمام عملی اور اخلاقی اوصاف پیدا کر دیتی ہے جو کسی چیز کے حصول کے لئے ضروری ہے ۔ اور جب کسی آدمی کے اندر ضروری عملی اور اخلاقی اوصاف پیدا ہو جائیں تو ایساشخص یقینا کامیاب ہوکر رہتا ہے۔ کوئی چیز اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
15 دسمبر 1989
پاکستان میں مرکز میں بے نظیر بھٹو کے تحت پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ اور وہاں کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں نواز شریف کے تحت اسلامی اتحاد کی۔ دونوں میں مسلسل محاذ آرائی قائم ہے۔ نوائے وقت (11دسمبر1989 ) نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ، وفاقی حکومت اور پنجاب کی حکومت کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کے نتیجہ میں قومی معیشت کو ایک سال کے دوران 65 ارب روپیہ کا نقصان پہنچ چکاہے " ۔
other sourceWords of another person or source
اخبار نے اس کے علاوہ اور بہت سے نقصانات گنائے ہیں۔ ہندستان میں ہندو اور مسلمان کے درمیان محاذ آرائی تھی۔ اس سے بچنے کے لئے پاکستان بنایا گیا تو وہاں مسلمان اور مسلمان کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوگئی۔ کتنے نادان تھے وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کے نام سے ایک الگ مسلم خطہ بنوانے کے بعد تکرار اور محاذ آرائی کاخاتمہ ہو جائے گا۔
16 دسمبر 1989
9 دسمبر 1989کے اخبارات پی تند و تیر خبرلائے کہ مرکز کے کشمیری وزیر داخلہ مفتی سعید کی 23 سالہ لڑکی ڈاکٹر روبیہ کو کشمیر لبریشن فرنٹ کے مسلم نوجوانوں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس کے بعد کئی روز تک یہی خبراخباروں کے صفحہ اول کی اہم ترین خبر بنی رہی۔ یہاں تک کہ14 دسمبر 1989 نے اخبارات نے بتایا کہ پانچ دہشت گر دقیدیوں کو چھوڑ کر ڈاکٹر روبینہ کورہا کرا لیاہے۔
کشمیر کے مسلم نوجوان جو آزادی کشمیر کی تحریک چلا رہے ہیں ، انھوں نے اس واقعہ پر فتح کی خوشی منائی ۔ مگریہ واقعہ بے حد خطرناک الارم تھا۔ چنانچہ16 دسمبر کے اخبارات نے بتایا کشمیر میں پھرفوجی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ہندستان ٹائمس (16 دسمبر کی سرخی یہ ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Curfew in entire Kashmir Valley
بظاہر ایسا معلوم ہو تاکہ دہلی کی حکومت ڈاکٹر روبینہ کے واقعہ کو بطور عذر استعمال کرے گی اور کشمیر کے انتہا پسندمسلم نوجوانوں کو کچلنے کی پوری کوشش کرے گی اور غالبا کوئی بھی ملک ان کی کھلی مدد کے لئے نہیں آئے گا۔
17 دسمبر 1989
دیوار برلن Berlin wall) ) ٹوٹ گئی۔ نومبر 1989 سے مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی کے درمیان آزادانہ آمد ورفت شروع ہوگئی۔ ہٹلر نے جرمنی کو بڑا بنانے کے نام پر جواحمقانہ جنگ شروع کی ، اس نے صرف یہ کیا کہ جرمنی کو چھوٹا کر دیا۔ اب دوبارہ جرمنی اپنی سابقہ حالت کی طرف جاتا ہوا نظر آتا ہے۔
ٹائمس آف انڈیا (17 دسمبر1989) کے صفحہ10 پر ایک تصویر ہے۔ ایسٹ جرمنی کے شہر لیپزنگ (Leipzig) میں مردوں اور عورتوں کا ایک جلوس نکلا۔ وہ مختلف پوسٹرلئے ہوئے تھا۔ ان پوسٹروں پر اس قسم کے الفاظ لکھے ہوئے:
other sourceWords of another person or source
نازی دور رہیں Nazis Keep out
عظیم جرمنی نہیں Great Germany? No
عظمت کا جنون آخر کارپستی کے غار میں گراتا ہے، فرد کو بھی اور قوم کو بھی .ہٹلر کی تاریخ اس کی نہایت عبرت ناک مثال ہے۔ مگر آج بھی ایسےافراداور قومیں دنیا میں موجود ہیں جنھوں نے اس تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
18 دسمبر 1989
22 نومبر 1989 کے الکشن کے بعد مسٹر وی پی سنگھ ہندستان کے وزیراعظم بن گئے ہیں۔ وہ چوں کہ سابق راجہ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ، اس لئے ان کے حامی پرجوش طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ دہلی کے تخت پر پرتھوی راج چوہان واپس آ گیا ہے۔ اس کے جواب میں ایک کانگریسی ممبر نے کہا چوبان کا اقتدار1191 میں ختم ہوگیا تھا ، کیاوی پی سنگھ کی حکومت بھی صرف 1991 تک باقی رہے گی :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Chauhan's reign ended in 1191 A.D. V.P.'s government also last till 1991?
کانگریسی ممبر کے اس جملہ میں کوئی منطقی وزن نہیں۔ اس کے باوجود لفظی حسن اس کے اندر مکمل طور پرموجودہے۔ الفاظ کافتنہ بھی کتنا زبردست ہے۔
19 دسمبر 1989
ڈاکٹر حمید اللہ صاحب (مقیم پیرس) پاکستان گئے۔ وہاں انھوں نے جناح ہال (لا ہور) میں تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ پیرس اس وقت یورپ کا سب سے بڑا مسلم شہر بن گیا ہے، پیرس میں مسلمانوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے وہاں لاتعداد مسجدیں ہیں۔ مسلمانوں کے قبرستان علٰیحدہ ہوگئے ہیں۔ حکومت نے تسلیم کیاہے کہ یہ ایک بڑی اقلیت ہے ۔ پیرس میں ہر جمعہ کو دو تین آدمی میرے پاس آتے ہیں اور اسلام قبول کرتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ یہ اسلام کیوں لا رہے ہیں، ہمارے پاس تو کوئی ایسی شے نہیں ہے جو انہیں مائل کر سکے۔ ہمارے اندر توان کے لئے کوئی کشش نہیں ہے ۔ پھرکون سی چیز ہے جو انھیں اسلام کی طرف مائل کر رہی ہے: ماہنامہ میثاق ، لاہور ، دسمبر 1989 صفحہ 66 - 67 )
other sourceWords of another person or source
آجکل ساری دنیا میں لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ یہ کسی تبلیغ کے بغیر اپنے آپ ہورہا ہے۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان انتہائی زوال کا شکار ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے لوگ اسلام کو اسلام کے لئے قبول کرتے ہیں نہ کہ مسلمانوں کے لئے۔
20 دسمبر 1989
ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی امریکہ سے ہندستان آئے ہیں۔ آج وہ ہمارے مرکز میں آۓ۔ وہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں "اسلام" کے بارہ میں لکچر دیتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام کے فقہی مسائل یا علم کلام یاسیاسی نظام وغیرہ کی بات کی جائے تو امریکی طلبہ اس سے زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ البتہ اگر اسلامی تصوف پر کہا جاۓ تو اس کو وہ بہت توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کے انسان کے لئے اسلام کے نظامی اپروچ میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے مقابلہ میں اس کے لئے اسلام کے روحانی اپروچ میں زیادہ دلچسپی ہے۔ایسی حالت میں کتنی نادانی ہوگی کہ اسلام کا سیاسی نظام جیسی کتابیں چھاپ کر مغربی ملکوں میں پھیلائی جائیں۔
21 دسمبر 1989
کارل مارکس نے فیور باخ (Feuerbach کے بارہ میں اپنے گیارھویں مقالہ میں کہا ہے کہ فلسفی یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ دنیا کی تعمیرکریں مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کو بدلا جاۓ :
other sourceWords of another person or source
Philosophers have so far tried to interpret the world; the point, however, is to change it.
سو برس پہلے جب یہ بات کی گئی تو وہ لوگوں کو اتنی اچھی معلوم ہوئی کہ ساری دنیا میں لوگ اس سے مسحور ہو گئے۔ بے شمار لوگوں نے اپنی بہترین صلاحیتیں اس کے لئے وقف کر دیں۔ بے شمار لوگوں نے جان و مال کی قربانیاں دیں ۔ یہاں تک کہ اولا روس میں ،اور اس کے بعد دنیا کے بہت بڑے حصہ میں وہ اشتراکی تبدیلی آگئی جس کا اس نے اظہار کیا تھا۔
مگر آج آخری نتیجہ سامنے آنے کے بعد ، یہ اشتراکی انقلاب سراسر بے معنی ثابت ہوا۔ وہ ان امیدوں میں سے کسی ایک امید کو بھی پورا نہ کر سکا جو اس انقلاب سے ابتدا وابستہ کرلی گئی تھیں۔
22 دسمبر 1989
امریکہ کا ماہنامہ ریڈرس ڈائجسٹ پندرہ زبانوں میں شائع ہوتا ہے اور اس کی مجموعی اشاعت 28 ملین کاپی ہے ۔ اپنی67 سالہ تاریخ میں پہلی بار اس نے اپنی مالی حیثیت کے بارہ میں اعدادوشمار شائع کئے ہیں۔ اس سے معلوم ہواہے کہ امریکی میگزین کی سالانہ آمدنی ایک ارب 80 کروڑ ڈالر ہے۔
یہ عہد ید صحافت کا وہ تصور ہے جو اردو زبان کے وہم وگمان سے بھی زیادہ دور ہے ۔ اردوشاعروں کو پڑھنے اور اردو خطیبوں کو سنئے تو ایسا معلوم ہوگا گویا اردوزبان تمام زبانوں کی سرتاج ہے۔ مگر اس کو زمین کے پا مال راستوں کے سوا کہیں اور جگہ حاصل نہیں۔
23 دسمبر 1989
نوائے وقت پاکستان کا مشہور اخبار ہے جو بیک وقت لاہور، کراچی، راولپنڈی اور ملتان سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ13 دسمبر1989 میں قائد اعظم محمد علی جناح کا ایک قول نقل کیا گیا ہے ۔ 14 جولائی1947 کو انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا : "جب آپ جمہوریت کی باتیں کرتے ہیں تو مجھے شبہ ہوتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا ہے ہم نے جمہوریت تیرہ سو سال پہلے سیکھ لی تھی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
"قائد اعظم" کا یہ فخرقول اخبار کے سفر پر درج ہے۔ اس کے بعد اس اخبار کے صفحہ اول کو دیکھئے ۔ وہاں ایک خبر کے تحت بتایا گیا ہے کہ12 دسمبر کو پنجاب لاہور میں وزیرقانون اور پارلیمانی امور نصراللہ خان دریشک (اسلامی اتحاد) ایک قرار داد پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ اپوزیشن کے رکن فضل حسین نے کہاکہ ایوان کا کورم پورا نہیں ہے۔ اس لئے ایوان کی کارروائی غیرقانونی ہے۔ وزیر موصوف خاموش نہیں رہے تو فضل حسین نے ان کے پاس جا کر ان کے ہاتھ سے کاغذ چھین لیا۔ اس پر اسلامی اتحاد کے دوممبر دوڑ کر وہاں پہنچے اور فضل حسین راہی کو ہاتھ سے مارا۔ دونوں ارکان ایک دوسرے کو گندی گالیاں دینے لگے ،اور ایک دوسرے پر آوازے کستے رہے۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کا اجلاس ملتوی کر دیا۔
یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام تصویر ہے۔ ایک طرف وہ اسلام کے ماضی کو اپنی تاریخ بتا کر اس پر فخر کرتے ہیں ، دوسری طرف ان کی عملی حالت یہ ہے کہ مومنوں والا کردار تو درکنارملحدوں والا کردار بھی ان کے اندر نہیں پایا جاتا۔
25 دسمبر 1989
ہنری وارڈ بیچر (Henry Ward Beacher) 1813میں امریکہ میں پیدا ہوا ، اور1887میں اس کی وفات ہوئی ۔ وہ ایک پروٹسٹنٹ لیڈر تھا۔ اپنی غیرمعمولی تقریری صلاحیت کی وجہ سے اس نے کافی شہرت حاصل کی۔ بیچر کا ایک قول ہے کہ قانون آقا نہیں ہوتا بلکہ ملازم ہوتاہے، وہ ان لوگوں کے اوپر حکومت کرتا ہے جو اس کی اطاعت کریں :
Laws are not masters but servants, and he rules them who obeys them.
یہ انتہائی سادہ اور صحیح بات ہے مگر یہی سادہ اور سچی بات موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کے لئے بالکل لامعلوم رہی ۔ انھوں نے افراد کے مزاج کو بنانے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ قانون کے نفاذ کے نام پر حکومتوں سے لڑائی لڑتے رہے۔ مثلا مصرمیں سید قطب اور پاکستان میں مولانا ابو الاعلی مودودی۔
یہ لوگ اس حقیقت کو جانتے تو وہ اپنے ملک کی حکومت سے اعراض کرتے ہوۓ اپنی ساری طاقت افراد کی اصلاح میں لگاتے مگر انھوں نے افراد کی اصلاح کے محاذ کو چھوڑکر حکومتوں سے ٹکراو کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی کوششیں رائیگاں ہو کر رہ گئیں۔
26 دسمبر 1989
دنیا کی ہرراحت جنت کی ایک جھلک ہے۔ اوردنیا کی ہر مصیبت جہنم کا ایک تعارف ۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جان لے تو اس کا ہر دن معرفت کا دن بن جائے ۔ اس کا ہر تجربہ اس کے لئے روحانی ترقی کا زریعہ ثابت ہو۔
27 دسمبر 1989
پاکستان کے اخبار نوائے وقت (یکم دسمبر1989) میں قائداعظم نے فرمایا کے زیرعنوان نمایاں طور پرمسٹرمحمد علی جناح کا یہ قول نقل کیا گیا ہے ۔ ۔ ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کر کے لئے نہیں کیا تھا۔ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں ( اسلامیہ کالج پشاور ،13 جنوری 1948 )
other sourceWords of another person or source
یہ جملہ گریمیر کے لحاظ سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہے۔ اسلام کے اصولوں کے تجربہ کا آغاز زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے سے نہیں ہوتا، بلکہ انسان کو حاصل کرنے سے ہوتا ہے۔ ہمارے رہنماؤں کو اپنی ساری کوشش انسان کو بدلنے پر صرف کرنا چاہئے تھا۔ اس کے بعد پاکستان اپنے آپ قائم ہو جاتا۔ مگر جب انھوں نے انسان کو بدلنے کا کام نہیں کیا تو زمین کا ٹکڑالنے کے باوجود مطلوبہ پاکستان نہ بن سکا۔ پاکستان بناؤ جیسے نعروں پرفورا بھیڑ اکھٹا ہو جاتی ہے۔ مگر انسان بناؤ کے پیغام پر کبھی بھیڑ جمع نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام لیڈر پہلی قسم کے نعروں پر دوڑ رہے ہیں کوئی نہیں جو دوسری قسم کے پیغام کو لے کر اٹھے۔
28 دسمبر 1989
رومانیہ کا اسٹالنسٹ صدر نکولا چاوسسکوکو 25 دسمبر1989 کو گولی مار کرہلاک کر دیا گیا۔ اس کی بیوی بھی قتل کر دی گئی ۔ اس کے بھائی نے خودکشی کر لی ۔ پچھلے 24 سال سے وہ رومانیہ کاڈکٹیٹربنا ہوا تھا۔ رومانیہ کے تمام ذرائع و وسائل کو اس نے اپنی ذات کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ اس کا غرور اتنا بڑھا ہوا تھا کہ آخر وقت میں اس نے ان فوجی افسروں سے بھی بدتمیزی کے ساتھ بات کی جو اس کے قتل کا فیصلہ کر رہے تھے۔ حالاں کہ اس کے چندلمحہ بعد اس کی خون میں لت پت لاش زمین پر پڑی ہوئی تھی۔
اس سلسلہ کی تفصیلات اور تصویروں کو اخباریں دیکھ کر میری زبان سے نکلا آدمی کتنا زیادہ مجبور ہے مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ آزادسمجھتا ہے۔ آدمی کتنا زیادہ عاجزہے مگر وہ کتنی زیادہ سرکشی کر تا ہے۔آدمی کتنا زیادہ کمزور ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے آپ کوکتنا زیادہ جاننے والا سمجھتا ہے۔ آدمی صرف بندہ ہے ۔ مگر پہلا موقع پاتے ہی وہ اس طرح عمل کرنے لگتا ہے جیسے کہ وہ اس دنیا کاخدا ہو۔
29 دسمبر 1989
آج آ چار یہ منی سوشیل کمار کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔3 بجے شام کا وقت مقررہ ہوا ۔ اس کے مطابق ان کے سنٹر واقع ڈیفینس کالونی (نئی دہلی) میں میری لاقات ہوئی۔ میں وہاں پہنچا توسید شہاب الدین صاحب پہلے سے وہاں موجود تھے۔ منی سشیل کمار بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی جھگڑے کو حل کر نا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں آج انھوں نے چند لوگوں کو ابتدائی گفتگو کے لئے بلایا تھا۔
شہاب الدین صاحب وکیلانہ انداز میں اپنا دعوی پیش کر رہے تھے۔ اس کے مقابلہ میں منی سوشیل کمار نرم اوردھیمے اندازمیں کبھی کبھی بولتے تھے۔ جب شہاب الدین صاحب چلے گئے تومنی سوشیل کمار نے کہاکہ میں اس معاملے میں پڑ کر اس کو حل کرنا چاہتا ہوں۔ اس سلسلہ میں ہندووں اور مسلمانوں کی ایک کانفرنس بلانا چاہتا ہوں۔ مگر جب سے میں نے اپنے اس ارادہ کا ذکر کیا ہے ، میرے پاس کئی مسلمانوں کے ٹیلی فون آچکے ہیں کہ اگر وحید الدین خاں کو اس مٹینگ میں شریک کیا گیا تو وہ اس میں نہیں آئیں گے۔ منی سوشیل کمار نے مجھ سے کہا کہ آپ کو میں اس ملک کے لئے ایک لائٹ سمجھتا ہوں۔ آئندہ پورا دیش آپ سے روشنی لے گا۔منی سوشیل کمار سے حسب ذیل چار بار میری ملاقاتیں ہوئی ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فروری1965 ورلڈ فیلو شپ آف ریلیجنز دہلی
نومبر 1985 انٹر نیشنل ریلیجیس اسمبلی نیو یارک
مارچ 1987 وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس نئی دہلی
دسمبر 1989 آچاریہ منی سوشیل کمار آشرم نئی دہلی
سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے زمانہ میں جو ایمر جنسی لگی ، اس سے ہندو اور مسلمان دونوں حکومت سے سخت ناراض تھے۔ اس کے بعد 1977 میں الکشن ہوا تو دونوں کانگریس کے خلاف ووٹ دینے پرتلے ہوئے تھے۔ اس وقت دہلی کے شاہی امام سیدعبداللہ بخاری نے مسلمانوں کی آواز میں آواز ملا کر تقریریں کیں کہ کانگریس کو ہراؤ ۔ لوگوں نے کانگریس کے خلاف ووٹ دیا اور کانگریس پارٹی الکشن میں ہار گئی۔ اس کے بعد پرانی دہلی کی بوسیدہ دیواروں پر اس مضمون کا پوسٹر لگایاگیا :
62 کروڑ ہندستانی عوام کے بے تاج بادشاہ سیدعبداللہ بخاری
یہ پوسٹر دیواروں پر سے تو اگلے دن ہی ختم ہوگئے۔ مگر میری فائل میں ایک پوسٹراببھی پھٹی ہوئی حالت میں موجود ہے۔ اب حالیہ الکشن (نومبر1989) میں دوبارہ مسلمان فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے کانگریس سے بگڑے ہوئے تھے۔ دوبارہ سیدعبداللہ بخاری نے ان کی ہم نوائی کرتے ہوئے کانگریس مخالف تقریریں کیں ۔ مسلمانوں نے بھی کانگریس کے خلاف ووٹ دیا۔ کانگریس ہارگئی۔ اب دہلی کے اخباراردومورچہ (28 دسمبر1989) نے ایک مضمون شائع کیا ہے۔ اس کی سرخی یہ ہے:
آزادی وطن کے بعد پہلی سچی مسلم قیادت شاہی امام سید عبد اللہ بخاری
یہ سب میرے نزدیک الفاظ سے کھیلنا ہے۔ ایک ہزار بار بھی کانگریس ہارے تو اس سے مسلمانوں کا کوئی فائدہ ہونے والانہیں مسلمانوں کا فائدہ صرف اپنی تعمیر کے ذریعہ ہو گا نہ کہ دوسروں کی تخریب کے ذریعہ ۔
31 دسمبر 1989
پانچ جنیہ (دہلی) آرایس ایس والوں کا ہندی اخبار ہے۔ اس نے مجھ سے فرمائش کی کہ میں اس کے کالم میں ہندستانی مسلمانوں کے بارہ میں مستقل لکھا کروں۔ اس سلسلہ میں کئی آرٹیکل چھپ چکے ہیں۔ اخبار کے ٹیلیفون اور پانچ جنیہ کے پڑھنے والوں کے خطوط سے اندازہ ہو اکہ اس کو بہت پسند کیا جارہاہے۔
پانچ جنیہ کے دفتر سے ایک بینک چیک ملا۔ وہ ہر مطبوعہ آرٹیکل کا معقول معاوضہ دینا چاہتے ہیں۔ مگر میں نے چیک واپس کر دیا۔ میں نے کہاکہ میں مضامین دینے کا سلسلہ جاری رکھوں ، مگر اس کے معاوضہ میں کوئی رقم قبول نہیں کروں گا۔
مسلم رہنماؤں میں یہ فکر بہت عام ہے کہ ہندوؤں میں اپنی بات پہنچانے کے لئے ہندی اور انگریزی میں اخبار یارسالہ نکالا جائے۔ پچھلے سال میں اس اعلان کے ساتھ درجنوں اخبار اور رسالے ہندی اور انگریزی زبان میں نکالے گئے ہیں، اور سب کے سب ناکام رہے ہیں۔ زیادہ قابل عمل طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اچھے لکھنے والے لوگ ہندی اور انگریزی میں مضامین اور خطوط لکھیں اور ان کو ہندووں کے جاری کردہ پر چوں میں چھپوائیں۔