← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
November 1989
English · 30 min read
یکم نومبر 1989
م - افضل (پیدائش 1952) اخبار نوویکلی کے مالک اورا ڈیٹر ہیں۔ دہ ملاقات کے لئے آئے اور اپنی صحافت کے بارہ میں تفصیل کے ساتھ بتاتے رہے۔ ان کے اندر وقت کا شعور بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا" دیر میں نے کبھی نہیں کی زندگی میں " مثلا 31اکتوبر 1984 کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کوقتل کیا گیاتو افضل صاحب کا پرچہ کتابت ہو کر پریس جاچکا تھا۔ انھوں نے سوچا کہ پرسوں جب میرا پرچہ چھپ کر بازار میں آئے گا تو ہر آدمی کے ذہن میں وزیر اعظم کے قتل کا واقعہ ہوگا۔ اس وقت میرا موجودہ پرچہ کون پڑھے گا۔ انھوں نے پرچہ پریس سے واپس منگالیا اور دورات اور ایک دن کی مسلسل محنت کے بعدنیا پرچہ تیارکیا جو سارا کا سارا اندرا گاندھی کی باتوں اور تصویروں سے بھرا ہوا تھا۔ان کا یہ پرچی خوب بکا۔ اچانک ان کے پرچہ کی اشاعت بڑھ گئی۔
اسی طرح 17 اگست 1988 کو سابق صدر پاکستان جنرل ضیا الحق ایک ہوائی حادثہ میں ہلاک ہوگئے۔ اس وقت بھی م افضل صاحب کا پرچہ تیار تھا۔ دوبارہ انھوں نے سوچا کہ میرا پرچہ جب چھپ کر دودن کے بعد بازار میں آئے گا تو اس میں ضیاء الحق کے بارہ میں کچھ نہ ہو گا جب کہ لوگ سب سے زیادہ اسی کو پڑھنا چاہیں گے ۔ وہ فورا پاکستان روانہ ہوگئے۔ اسلام آباد پہنچ کر ضیاء الحق کے جنازہ میں شرکت کی۔ آنکھوں دیکھا حال تیار کیا۔ پاکستانی اخبارات کی کاپیاں خریدیں۔ تصویر یں حاصل کیں اور پھرفور واپس آکر پورا پرچیہ ازسرنو مرتب کر ڈالا۔ یہ پرچہ بہت بکا۔ اخبار نو کی اشاعت کئی گنا بڑھ گئی۔
م. افضل صاحب نے یہ سب باتیں بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیں۔ اس کو سن کر میں نے کہا کہ دوسرے اخبار و الوں میں اور مجھ میں یہ فرق ہے کہ دوسرے لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کل کے دن آدمی کیا پڑھے گا ، میں یہ دیکھتا ہوں کہ کل کے دن آدمی پر کیا بیتے گا۔ چنانچ عام اخباروں اور رسائل کے بر عکس میں نے مذکورہ دونوں واقعات پر بالکل مختلف انداز سے لکھا۔ملاحظہ ہو ،اندرا گاندھی کے قتل پر الرسالہ دسمبر 1984، صفحہ ۔ 7 ۔ ضیاء الحق کی موت پر الرسالہ اکتوبر 1980
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صفحہ 3 ۔ "زمین سے محروم"
2 نومبر 1989
کئی برس سے میں ایک سوال سے دو چار تھا۔ جب میں کسی مسلمان کی تحریر پڑھتا یا مسلمانوں کے کسی ملکی یا غیرملکی کانفرنس میں شرکت کرتا تو اکثر ایک چیز مجھے پریشان کر تی تھی۔ یہ لوگ ایک طرف مسلمانوں کو داعی بتاتے ہیں ، اور دعوت و تبلیغ کے الفاظ لکھتے اور بولتے ہیں۔ دوسری طرف عین اسی وقت وہ دوسروں کے خلاف نفرت او را حتجاج کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ حالاں کہ دعوت اور نفرت، اور دعوت اور احتجاج دونوں متضاد باتیں ہیں۔ میں سخت الجھن میں رہتا تھا کہ آخر یہ پڑھے لکھے لوگ اس تضادکو کیوں نہیں جانتے۔
آج فجر کے وقت اچانک اس سوال کا جواب میرے ذہن میں آیا۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے داعی ہونے کو جانا ، مگرانھوں نے دوسروں کے مدعو ہونے کو دریافت نہیں کیا۔ یہی سادہ سی وجہ ہے جس نے ان تمام لوگوں کوفکری اور عملی تضاد میں مبتلا کر رکھا ہے۔
اپنے داعی ہونے کو جاننا اس وقت تک آدھی بات ہے جب تک اس کے ساتھ دوسرے کے معدمو ہونے کو نہ جانا جائے ۔ اس قسم کی ادھوری دریافت کبھی آدمی کے اندری داعیانہ نفیات پیدا نہیں کر سکتی۔ ایسے آدمی کے لئے دعوت اظہار فخر ہو گی۔ وہ دوسروں پر برتری حاصل کرنے کے ہم معنی ہوگی ۔ مگرجو شخص دوسروں کے مدعو ہونے کو جان لے ، اس کا کلام تواضع کا کلام ہوگا ۔ وہ دوسروں کا خیر خواہ بن جائے گا۔ حتی کہ وہ مدعوکی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کر کے اس کے لئے دعا کرنے لگے گا۔
3 نومبر 1989
ہمارے دفتر کے پاس سٹرک کے دوسری طرف کمیونیٹی سنٹر ہے ۔ اس کی چہار دیواری پر دہلی کے کسی میڈیکل سنٹر نے اشتہار کے طور پر لکھ دیا کہ اسقاط بذریعہ مشین:
Abortion by machine.
جلی حرفوں میں لکھا ہوا یہ اشتہار ہمارے دفتر کے عین سامنے تھا۔ اس کو پہلی بار میں نے دیکھا تو مجھے غصہ آیا۔ میں نے چاہا کہ اس کو مٹا دوں۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ اس پر صبر کر لیا جائے اور حالات کا انتظار کیا جائے ۔ ایک سال کے بعد آج میں نے غور کیا تو اشتہار کی عبارت مٹ چکی تھی ۔ وہاں کٹےپٹے حروف کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتا تھا۔
' انتظار” کامیابی کا سب سے بڑا رازہے۔اس دنیا میں برائی ایک اجنبی اور نا محمود چیز ہے ۔ جب بھی یہاں کوئی برائی پیدا ہوتی ہے تو فطرت کا نظام خود ہی اس کو ختم کرنے کے لئے متحرک ہو جاتا ہے۔ اگر ہم انتظار کرسکیں تو ہم دیکھیں گے کہ فطرت نے زیادہ کامیاب طور پراس مسئلہ کا خاتمہ کر دیا ہے جس کو ہم صرف نا کام طور پرختم کرنا چاہتے تھے ۔
4 نومبر 1989
ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا: بولنا ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔ جو لوگ بولنے کی ذمہ داری کے احساس سے چپ ہو جائیں، وہی لوگ اس قابل ہیں کوہ بولیں ۔ چلنے کی ذمہ داریوں کو محسوس کر کے جن کے قدم رک گئے ہوں، وہی لوگ اس قابل ہیں کہ وہ چلیں ۔کرنے کی ذمہ داری کے احساس سے جن پر لرزہ طاری ہوتا ہو و ہی اس قابل ہیں کہ ان کو کرنے کا موقع دیا جائے ۔
5 نومبر 1989
سوویت روس نے 27 ستمبر1989 کو اپنی فوجیں افغانستان میں داخل کر دی تھیں ۔ اس کے بعد افغان مجاہدین امریکہ کی مدد سے روسیوں کے خلاف لڑتے رہے ۔ آخر کار8 فروری 1988 کور روسی صدر گورباچیف نے اعلان کیا کہ روسی فوجیں افغانستان سے واپس چلی جائیں گی۔ 15 مئی 1988سے یہ انخلاء شروع ہوا۔15 فروری 1989 کو روس کا آخری فوجی دستہ افغانستان سے چلا گیا۔
اس کے بعد سے افغانی مجاہدین اور افغانی حکومت کے درمیان خوں ریز جنگ جاری ہے۔ مگر مجاہدین اب تک ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ اب دو تجویز یں سامنے آئی ہے ۔31 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ تجویز منظور کی ہے کہ افغان مجاہدین اور ڈاکٹرنجیب مشتر کہ گورنمنٹ بنائیں۔ دوسری تجویز کچھ افغانیوں کی ہے کہ سابق حکمراں ظاہر شاہ (مقیم روم ) کو واپس بلایا جائے۔ مگر مجاہدین دونوں میں سے کسی تجویز پر راضی نہیں۔
میرے نزدیک زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ افغان مجاہدین دونوں میں سے کسی ایک تجویز پر راضی ہو جاتے ۔ وہ ڈاکٹر نجیب کے ساتھ عارضی گورنمنٹ بناکرمطالبہ کرتے کہ آزاداد الکشن کرایا جائے۔ ظاہر شاہ کو علامتی حکمراں بناکر آزادانہ انتخاب کا انعقاد کیا جاتا۔ اس کے بعد عوام جن لوگوں کو چنتے وہ حکومت کرتا۔ مگری بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان میں خون خرابہ کے سوا کچھ اور ہونے والانہیں ۔
6 نومبر 1989
عبدالمتین بناری صاحب الرسالہ کے کاتب ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے ایک ہندو سے پوچھا "دسہرہ کیا ہے "۔ اس نے فورا جواب دیا : جیسے آپ کے یہاں تعزیہ ہے ویسے ہی ہمارے یہاں دسہرہ ہے۔ آپ کے یہاں محمد لیلا ہے، ہمارے یہاں رام لیلا ہے۔
other sourceWords of another person or source
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے کس طرح حق اور باطل کا فرق مٹا دیا ہے۔ محرم کا جلوس ۔میلادالنبی کا جلوس اور اس طرح کے دوسرے مظاہروں نے اسلام اور غیر اسلام کی امتیازی حیثیت کو ختم کر دیا ہے۔ آجکل کچھ مسلم رہنما یہ تقریر کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت مسلمانوں کے تشخص کومٹا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے حکومت کو یہ بدنامی اپنے سرلینے کی ضرورت نہیں مسلمان پہلے ہی اس تشخص کو زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے آپ مٹاچکے ہیں۔
7 نومبر 1989
ڈاکٹر محمد نایف قصبہ ملاقات کے لئے آئے۔ وہ شام کے باشندے ہیں ۔ آجکل وہ سعودی عرب کے ایک مستشفی (اسپتال) میں ڈاکٹر ہیں جو الراس میں بنایا گیا ہے ۔انھوں نے کہاکہ سعودی عرب میں سعودی اور غیر سعودی کی تفریق ہرسطح پر جاتی ہے ۔ البتہ امریکنوں کو ان کے یہاں بہت اونچا مقام حاصل ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں خلاف اصول اور خلاف شریعت باتیں ہیں ۔ مگر کوئی آدمی ان کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کرتا۔ حتی کہ جوشخص باہر سے وہاں آتا ہے۔ دھیرے دھیرے اس کا احساس مردہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ سعودی عرب میں یہ مثل مشہورہے: السعودية مقبرة لعلماء المسلمین (سعودی عرب مسلم علماء کا قبرستان ہے)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
8 نومبر 1989
قرآن میں سابق اہل کتاب کا مجرم بتایا گیا ہےکہ وہ اہل کفرکے قول کی تقلید کرتے ہیں۔ بيضا مون قول الذين كفروا، موجودہ زمانہ کے ہندستانی مسلمان اپوزیشن کی مضاہاۃ کرر ہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہندستان میں فرقہ وارانہ فساد کا جو مسئلہ ہے، اس میں مسلمانوں کے نام لکھنے اور بولنے والے اپوزیشن پارٹی کی بولیاں بولتے ہیں ۔ اپوزیشن لیڈر اپنے سیاسی مفاد کے لئے حکمراں پارٹی کو برا کہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ سارا الزام " ایڈمنسٹریشن" پر ڈال کر حکمراں پارٹی کو ڈسکریڈٹ کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی برای مسلمانوں نے ان سے لے لی ہے۔ جب کہیں فساد ہوتا ہے، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اپوزیشن کے دفتروں سے بچے ہوئے فارم لیتے ہیں اور ان پر اپنا دستخط ثبت کر کے ان کو شائع کرناشروع کر دیتے ہیں۔
یہ بلاشبہ عین وہی جرم ہے جس میں سابق اہل کتاب مبتلا ہوئے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ میں قرآن وحدیث کو دیکھیں اور قرآن وحدیث کے مطابق مسلمانوں کو رہائی دیں۔ اگر وہ اپوزیشن کی بولی بولتے رہے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔
9 نومبر 1989
آج مولانا کوثر نیازی اسلام آباد، پاکستان، ملاقات کے لئے آۓ۔ آجکل وہ پاکستان کی مرکزی اسمبلی کے ممبر ہیں۔ اس سے پہلے امور مذہبی کے وزیر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سابق صدر جنرل ضیا الحق نے اپنے آخری دور میں ایک مٹینگ کی۔ اس میں علماء اور دانشوروں کو بلایا۔ میں بھی اس میں شریک تھا۔
انھوں نے بتایا کہ میری باری آئی تو میں نے ضیاء الحق صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرے نزدیک اسلام کی سروس نہیں کی۔ بلکہ آپ نے اس کے حق میں ڈس سروس (Dis-service) کیا ہے ۔ اس سے پہلے لوگ یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ اسلام آئے گاتو ان کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ آپ نے حکومت پر قبضہ کر کے اعلان کیا کہ اسلام آگیا۔ مگر عوام نے دیکھا کہ ان کے مسائل اور زیادہ بڑھ گئے۔ قومی اور علاقائی عصبیتیں پہلے سے زیادہ جاگ اٹھیں۔ جہاں پہلے پچاس روپیہ رشوت دینا ہوتا تھا، وہاں اب پانچ سو روپیہ رشوت دینا پڑ تا ہے۔وغیرہ
other sourceWords of another person or source
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب لوگوں کی نظریں اسلام سے ہٹ گئیں اب وہ اپنے مسائل کے لئے دوسری دوسری چیزوں کی طرف دیکھنے لگے ہیں۔
10 نومبر 1989
حکیم عبدالحمید صاحب (ہمدرد دواخانہ) کے بھائی حکیم سعید صاحب کراچی میں رہتے ہیں۔ وہاں انھوں نے بہت بڑا دواخانہ قائم کیا ہے۔ اخبار نو کے اڈیٹرم افضل صاحب نے ان کا انٹرویولیا۔ انھوں نے حکیم سید صاحب سے جو سوالات کئے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا آپ کے بڑے بھائی میر عبدالحمید صاحب گوشہ نشیں قسم کے انسان ہیں ۔ اس کے برعکس آپ عوامی زندگی میں بہت زیادہ متحرک رہتے ہیں۔ آپ دونوں میں اتنا زیادہ فرق کیوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حکیم سعید صاحب نے جواب دیا: عوامی زندگی گزارنے کے محرکات متعدد ہوسکتے ہیں۔ مگر ایک جذبہ بہرحال یہ ہوتا ہے کہ انسان خود کومقبول عام بنائے اور داد وصول کیے۔ یہ انسانی کمزوری ہے۔ حکیم عبد الحکیم صاحب نے اس کمزوری پر قابو پالیا ہے، میں اس کے لئے کوشاں ہوں (اخبارنو ، 10 نومبر1989)
other sourceWords of another person or source
موجودہ پریس کے زمانہ میں یہ بیماری بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جس شخص کے اندر کچھ امتیازی صلاحیت ہوتی ہے وہ فورا شہرت کا طالب بن جاتا ہے ۔عوامی مقبولیت حاصل کرنا اور لوگوں سے داد وصول کر نا اس کا سب سے بڑا مذہب بن جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی زبان سے بھی اس کا اقرار کر لیتے ہیں اور دوسرے لوگ زبان سے اس کا اقرارنہیں کرتے اگرچہ ان کی روز وشب کی سرگرمیاں خاموش زبان سے بروقت پکار رہی ہوتی ہیں کہ ان کی پوری زندگی شہرت اور مقبولیت کے رخ پر چل رہی ہے۔
11 نومبر 1989
ابن جوزی نہایت ذہین اور اعلی پایہ کے عالم تھے۔ امام زین نے ان کی بابت لکھا ہے کہ ایک بار بغدادمیں شیعہ اورسنی کے گروہوں میں یہ بحث ہوئی کہ علی افضل تھے یا ابو بکر افضل تھے۔ سنی گروہ کہتا تھا کہ ابوبکر تمام صحابہ میں افضل ہیں ۔شیعہ گروہ کہتا تھا کہ علی سب میں افضل ہیں۔ آخر کار دونوں گروہوں میں طے ہوا کہ اس معاملہ میں ابن جوزی سے رجوع کیا جاۓ۔ ابن جوزی کے پاس جب مسئلہ آیا تو انھوں نے دونوں گروہوں کی بات سننے کے بعد ایک مختصر جملہ کہہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں میں سے افضل وہ ہے جس کی لڑکی ان کے عقد میں تھی (افضلھما من كانت ابنته تحته )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ جملہ ایسا ہے جس میں ضمیر کے مرجع کا تعین نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس کو سن کر دونوں گروہ خوش ہوگئے۔ ہر ایک نے اس کو اپنے اپنے معنی میں لے لیا سنی گروہ نے سمجھاکہ ابو بکر افضل تھے، کیوں کہ ان کی بیٹی عائشہ رسول اللہ کے عقد میں تھیں۔ شیعہ گروہ نے سمجھاکہ علی افضل تھے ،کیوں کہ رسول اللہ کی بیٹی فاطمہ سے ان کا نکاح ہوا تھا۔
جواب کا یہ طریقہ اس وقت مفید ہے جب کہ فتنہ کو دفع کرنا مقصود ہو مگر جب اظہاری کا موقع ہوتو جواب کا یہ طریقہ درست نہیں۔
12 نومبر 1989
غزوہ حنین کے بعد جوحج تھا ، اس میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرکوامارت حج کے لئے روانہ کیا۔ اس کے بعد سورۃ التوبہ اتری ۔ اس میں حکم تھا کہ حج کے موقع پر اعلان کر دیا جائے کہ اس سال کے بعد کسی مشرک کو کعبہ کا حج کرنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کو حضرت علی کو روانہ کیا کہ مکہ جاکر لوگوں کے درمیان اس بات کا اعلان کردو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت علی روانہ ہوئے تو مکہ پہنچنے سے پہلے درمیانی راستہ میں حضرت ابوبکر مل گئے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے ملاقات ہوتے ہی فورا پوچھا : (امیر اومامور) تم امیر بنا کر بھیجے گئے ہو یا تمہاری حیثیت مامور کی ہے ) حضرت علی نے کہا کہ میں امیر نہیں ہوں بلکہ مامور ہوں (بل مامور ) اسکےبعددونوںمکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ (تفسیرابن کثیر324/2
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
13 نومبر 1989
ٹامس جیفرسن (Thomas Jefferson)امریکہ کا تیسرا صدر تھا۔ وہ1742 میں پیداہوا۔اور 1826 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ بہت سی زبانیں جانتا تھا اور ایک بے حد ذی علم آدمی تھا۔ آج ٹائمس آف انڈیا میں اس کا ایک قول نقل کیا گیا ہے کہ تاجر کا کوئی ملک نہیں ہوتا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The merchant has no country.
جیفرسن نے جو بات تاجر کے بارہ میں کہی ، وہی بات داعی کے بارہ میں بھی صحیح ہے ۔ داعی ایک عالمی شخصیت ہوتا ہے۔ وہ سارے انسانوں تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتا ہے۔ اس لئے ساری دنیا اس کا ملک ہے ۔ اس کے دین کی حد یں ختم نہیں ہوتی۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اگر اس راز کو جانتے تو وہ ہندستان کی تقسیم کا مطالبہ لے کر نہ اٹھتے۔ا ورنہ آزاد مسلم لینڈ کی وہ تحریکیں اٹھتیں جو آجکل ہر جگہ چلائی جارہی ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
14 نومبر 1989
دور آخر کے بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے جو پیشین گوئیاں منقول ہیں ، ان کا مطلب بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آخری زمانہ میں سارے عالم میں اسلام کی سیاسی حکومت قائم ہوجائے گی۔ مجھے اس تشریح سے اتفاق نہیں ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ دور آخر میں اللہ تعالیٰ ایسے اسباب مہیا فرمائیں گے کہ اسلام کی آواز ساری دنیا میں پھیل جائے گی۔ حتی کہ اسلام کو ایک خاص قسم کا فکری غلبہ حاصل ہو جائے گا۔ جیسے قدیم زمانہ میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو عمومی فکری غلبہ حاصل ہوا۔ اگرچہ ساری دنیا میں اسلام کی سیاسی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی۔
مسند احمد میں تمیم داری سے یہ روایت آئی ہے کہ یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا جہاںتک رات اور دن پہنچتے ہیں۔ اللہ کسی مٹی یا بال کے گھر کو نہیں چھوڑے گا جس میں یہ دین داخل نہ ہو جائے ۔ وہ عزت والے کو عزت دے گا اور ذلت والے کو ذلیل کرے گا۔ رليبلغن هـذاالامرمابلغالليلوالنهارولايتركاللهبيتمـدرولاوبرالاادخلههذالدین
quoted sourceQuoted from another author or source
15 نومبر 1989
ہماری زمین کا تین چوتھائی حصہ پانی کے نیچے ہے۔ اس کا پانچواں حصہ برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہ پانی انتہائی حیرت انگیز چیز ہے جب کوئی عالم فلکیات اپنی دور بین قریبی سیاروں پرمرتکز کرتا ہے تو وہ سب سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیاوہاں پانی اور آکسیجن موجود ہے۔ مگر ابھی تک زمین کے سوا کہیں پانی کی دریافت نہ ہوسکی۔
پانی کے بے شمار خواص ہیں۔ مثلاسمندر گرم موسم میں فضاسے گرمی جذب کر لیتے ہیں۔ اور سرد موسم میں اس کو خارج کر کے فضا کو گرم کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر کے کنارے کے مقامات کا موسم سال بھر تقریبا یکساں رہتا ہے۔ یہ سمندر پوری آباد دنیا میں موسموں میں توازن قائم رکھنے کا کام کرتے ہیں۔
16 نومبر 1989
پاکستانی تحریک کے رہنماؤں نے پہلے اینٹی ہندو تحریک چلا کر زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کیا۔ اس کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ اسلامی پاکستان کی تعمیر کے لئے اہل پاکستان با کردار بن جائیں۔ اسی طرح اسلام پسند رہنما مصراور پاکستان وغیرہ میں یہی بولی بول رہے ہیں۔ پہلے وہ ظالم حکمران کے خلاف لوگوں کو ابھاریں گے۔ اس کے بعد اپیل کریں گے کہ آپ لوگ اپنے اندر کردار کی طاقت پید اکریں تاکہ آپ مطلوبہ نظام قائم کرسکیں۔
یہ بات احمقانہ حد تک غلط ہے۔ کر دار ذاتی محرک سے بنتا ہے نہ کہ نظامی محرک ہے۔ کوئی آدمی دوسرے کے لئے نہیں کماتا۔ اسی طرح کوئی آدمی بیرونی محرک کے لئے با کردار بھی نہیں بنتا ۔ جو لوگ "نظام" کے نام پر افراد سے باکر دار ہنے کی اپیل کرتے ہیں وہ اپنی سطحیت کا ثبوت دیتے ہیں اور دوسروں کے بارہ میں کمتر اندازہ کا۔
17 نومبر 1989
بھاگلپور( بہار) میں 24اکتوبر1989 کوفسا دشروع ہوا۔ اس فساد کے متعلق کہا جاتا ہے کہ 1947 کے بعد یہ سب سے زیادہ بھیا نک فساد تھا۔ مگر مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے صرف بعد کو ہونے والے نقصان کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس کے آغاز کی کہانی کوئی بیان نہیں کرتا۔
۱24کتوبر کو بھاگلپورمیں رام لیلا کا جلوس نکلا۔ اس میں چند ہزار ہندو تھے جن میں اکثریت عورتوں کی تھی۔ سات ٹرکوں پر اینٹیں اور عورتیں تھیں۔ مرد پیچھے چل رہے تھے۔ یہ جلوس وشو ہندو پریشد کی طرف سے نکالا گیا تھا اور مہادیو پرشاد اس کی قیادت کر رہا تھا ۔ جلوس والے اس قسم کا نعرہ لگا رہے تھے '' جے ماں کالی ، تاتار پور کر و خالی ''۔
جلوس جب مسلم محلہ میں پہنچا تومسلم نوجوان سڑک پر جمع ہوگئے ۔ انھوں نے جلوس کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ جلوس والے اس کو اپنی فتح سمجھ رہے تھے کہ وہ مسلم علاقہ (چھترپور )سے گزر جائیں۔ اور مسلمان اپنی فتح اس میں سمجھ رہے تھے کہ وہ جلوس کو آگے بڑھنے نہ دیں۔ تناؤ بڑھا یہاں تک کہ وہاں کے مسلم اسکول سے جلوس پر بموں کی بارش کی گئی اور دھماکے پر دھماکے ہونے لگے، چھتر پور کے مسلم نوجوان سڑک پر جمع ہو کر جوابی نعرے لگانے لگے ۔ پولیس نے روکنا چاہا تو انھوں نے مزیدبم پھینکنا اور پتھراؤ کرنا شروع کر دیا (نئی دنیا ،17 نومبر1989)
اس کے بعد پورے شہر میں افواہیں پھیلنا شروع ہوگئیں۔ اس طرح مسلمانوں نے ہندوؤں اور پولیس دونوں کو اپنا دشمن بنا لیا۔ اس کے بعد دونوں نے مل کر اتنی تباہی مچائی کہ اس کے تصورسے لرزہ طاری ہوتا ہے۔
ڈاکٹر محمد اشتیاق قریشی جو مولاناعلی میاں کے خاص ساتھیوں میں سے ہیں۔ انھوں نے بھاگل پورمیں قتل وخوں ریزی نے 1947 کی یاد تازہ کر دی" کے عنوان کے تحت اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ " یہ سزا کیوں دی گئی ، کیا محض چند پتھروں کے پھینکنے سے " یہی انداز تمام مسلمانوں کا ہے۔ وہ مسلمانوں کے قصور کو چھپا کر یک طرفہ طور پر ہندوؤں کو اور حکومت کو برا کہتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ طریقہ اسلام تو کیا ہوگا ، وہ کفر بھی نہیں ہے ۔ کیوں کہ اسلام خوف خدا پر کھڑا ہوتا ہے اور کفر خوف انسان پر اور اس روش کا دونوں میں کسی سے بھی تعلق نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
18 نومبر 1989
موجودہ زمانہ میں جن لیڈروں یا پارٹیوں کو کسی ملک میں سیاسی ووٹ ملے ہیں۔ وہ زیادہ تر منفی ووٹ (Negative vote) تھے نہ کہ مثبت ووٹ۔ مثلا 1977 میں جنتا پارٹی کو ہندستانی ووٹروں کی غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی۔ یہ صرف اس لئے تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے لوگ اندرا گاندھی سے بہت زیادہ ناراض تھے۔
یہی حال مسلم ملکوں کا ہے۔ مثلا آیت اللہ خمینی کو ایران میں جو عوامی حمایت ملی وه شاه رضاکے خلاف غصہ کی بنا پر تھی۔ اسی طرح مصر یا پاکستان میں جن مسلم رہنماؤں کو مقبولیت حاصل ہوئی وہ زیادہ تر اس لئے تھی کہ انھوں نے اپنے ملک کے ظالم حکمرانوں کے خلاف آوازبلند کی تھی ۔ وغیرہ
19 نومبر 1989
تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ ملاقات کے لئے آئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ گمراہ مسلمانوں کی اصلاح کے لئے آپ اپنے دل میں جو ہمدردی اور خیر خواہی پاتے ہیں کیا وہی ہمدردی اور خیر خواہی آپ گمراہ ہندووں کی ہدایت کے لئے بھی اپنے سینہ میں پاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر آپ قرآن کے معنی میں تبلیغی نہیں ہیں۔ اپنے ہم قوموں کی اصلاح کے لئے خیر خواہ بننے سے آپ واقعی یا مبلغ نہیں ہو جاتے۔ داعی اورمبلغ حقیقتہ وہ شخص ہے جس کا داعیانہ احساس اتنا بڑھے کہ اس کے سینہ میں غیر قوموں کے لئے ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ موجزن ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
20 نومبر 1989
الشیخ عبدالمجيد الزندانی(50) سال مشہور عرب علماء میں سے ہیں۔ آجکل وہ مکہ میں مقیم ہیں اور سائنس اور قرآن کے موضوع پر کام کر رہے ہیں ۔ ان کے معاون احمد الصاوی (مصری ) آج ملاقات کے لئے آئے۔
انھوں نے بتایا کہ شیخ زندانی افغانی جہاد کے بارہ میں بے حد پرامید ہیں ۔ وہ کئی بار افغانستان جاچکے ہیں۔ افغانی جہاد کے بارہ میں شیخ زندانی یہ کہتے ہیں کہ افغان مجاہدین نے مسلمانوں کے سر کو ایک بار اور اونچا کر دیا ہے۔ یہ اسلام کی تاریخ اور اس کی عظمت کو از سرنو دنیا میں برپا کرنے کی کوشش ہے ( عن الجهاد الافغانى يقول الشيخ الزنداني : لترفع المعـامـدونالافغانروسالمسلمينمرةأخرىبعـداننكست.انمامحاولةلاعادة)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں اس رائے کو سراسرخوش فہمی سجھتا ہوں ۔ بالفرض روس مکمل طور پر افغانستان سے بےتعلق ہو جائے اور بالفرض ڈاکٹر نجیب کی حکومت ختم ہو جائے۔ اور بالفرض یہ ناقابل قیاس واقعہ بھی ظہورمیں آجائے کہ افغانستان میں مجاہدین کی متحدہ حکومت قائم ہو جائے تب بھی اسلام کی تاریخ عظمت دہرانے سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اسلام کی تاریخ عظمت کے اعادہ کے لئے دنیا میں اسلام کا فکری غلبہ لانا ضروری ہے۔
21 نومبر 1989
ٹائمس آف انڈیا (20 نومبر1989 ) میں فرانس میں مسلمان (Muslims in France) کے عنوان سے ایک رپورٹ چھپی ہے ۔ یہ رپورٹ اخبارمذکور کے نامہ نگار مقیم پیرس و یجو نروانی(Vaiju Naravane) نے تیار کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانس میں تقریبا تین ملین مسلمان ہیں۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو مسلم ملکوں سے آکر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ مختلف تفصیلات دیتے ہوئے بتایاگیا ہے کہ مہاجرین کی یہ آبادی فرانس میں ووٹ دینے کا حق نہیں رکھتی :
other sourceWords of another person or source
The immigrant population in France does not have the right to vote.
مسلمانوں اور دوسرے مہاجرین کے اپنی تہذیبی شناخت( (identity کے بارہ میں مطالبات کی وجہ سے بہت سے فرانسیسی یہ کہنے لگے ہیں کہ ان مہاجرین سے چھٹکارا حاصل کرو اور فرانس کو دوبارہ فرانسیسی کے حوالے کر دو :
Get rid of the immigrants and give France back to the French.
opposing viewA view stated in order to be argued against
مسلمان بیرونی ملکوں میں جہاں بھی جاکر آباد ہوئے ہیں۔ وہ'' سکنڈ کلاس سٹیزن ''بن کر رہتے ہیں۔ وہ وہاں کے حالات سے ایڈجسٹمنٹ کئے ہوئے ہیں ۔ مگر یہی مسلمان اپنے ملک (مثلا ہندستان) میں چاہتے ہیں کہ وہ کسی ایڈجسٹمنٹ کے بغیر رہیں ۔ یہی وہ تضاد ہے جس نے ہندستان جیسے ملکوں میں مسلمانوں کو برباد کر رکھا ہے۔
22 نومبر 1989
فقہ میں بے شمار ایسے مسائل بن گئے ہیں جن کا قرآن وحدیث میں کوئی ذکر نہ تھا۔ اس نے دین کی وسعت کو غیر ضروری طور پر تنگی میں تبدیل کر دیا ہے۔
مثال کے طور پر فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'فتاوی عالمگیری' میں یہ مسئلہ درج ہے کہ غیرمسلم کے ہاتھ کا( یا اس کے برتن) کا کھانا درست نہیں ۔ اگر کوئی مسلمان ناموافق حالات میں گھر جانے کی بنا پر ایک دومرتبہ کھالے تو کوئی ہرج نہیں، مگر اس پر مداومت کرنا مکروہ ہے ( ان ابتلی به المسلم مرة او مرتين فلابأس وأما الدوام عليه فيكره كتاب الكراهية
other sourceWords of another person or source
بخاری میں ایک کتاب (باب قبول الھدية من المشركين) کے تحت یہ حدیث موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غیرمسلم عورت کی زہر آلو دبکری کاکھاناقبول کیا اور اس میں سے کھایا۔ اس لئے یہ فقہا یہ نہیں کر سکتے تھے کہ اس کو بالکل حرام قرار دیدیں۔البتہ انہوں نے اس کو مکروہ بتادیا اور کہ دیا کہ اگر ایسا ایک دو بار ہو تو جائز ہے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کافر کے ساتھ کھانا کھایا۔ ہم نے مسئلہ کو اس پر محمول کیا ہے۔ مگر اس پر مداومت کرنا مکروہ ہے ان كان ذالك مرة او مرتين يجوز لان النبي صلى الله عليه وسلم أكل مع كافرة فعملناه على ذالك ولكن فكرة المداومة عليه ، رتنع الفتى والسائل)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ مسئلہ سراسر بے بنیاد ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں صرف ایک بار حج اداکیا پھر کیا بار بارحج ادا کرنا مکروہ ہوجائے گا۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے دور میں امت کے اندر دعوت کا ذہن ختم ہوگیا ، اس نے اس قسم کے لغو مسائل پیدا کر دئے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
23 نومبر 1989
بنجمن فرینکلن Benjamin Franklin) ) ایک متنوع شخصیت کا آدمی تھا۔ وہ امریکہ میں 1706 میں پیدا ہوا۔ اور 1790 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا قول ہے کہ ایک سڑا ہواسیب اپنے ساتھ کے سیبوں کو بھی خراب کر دیتا ہے:
The rotten apple spoils his companions.
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ آج وہ ایک بگڑی ہوئی قوم ہیں، چنانچہ جب غیر قوم کا کوئی آدمی اسلام قبول کر کے ان کی جماعت میں داخل ہوتا ہے تو وہ بھی دھیرے دھیرے ویسا ہی ہو جا تا ہے۔ تاہم اگر ایسا ہوکہ نومسلم بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں کے اندر داخل ہوں تو برعکس نتیجہ ظاہر ہوگا۔ اب مسلمان نو مسلموں کے اثر سے دوبارہ ایک زندہ قوم بن جائیں گے۔
24 نومبر 1989
ٹائمس آف انڈیا کے نامہ نگار مقیم پیرس و یجوز وانی کی ایک رپورٹ ٹائمس آف انڈیا کے شماره 24 نومبر میں شائع ہوئی ہے ۔ وہ لکھتے کہ ہندستان اگرچہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے (world's largest democracy) ہے ۔ مگر ہندستان کا الکشن (22 نومبر ، فرنچ میڈیا میں کوئی جگہ نہ پا سکا۔ ٹیلی وژن، ریڈیو، اخبارات اس کے بارہ میں بالکل خاموش رہے۔
فرانس کی ایک خاتون وائلٹ گرافVioleueGrafm) ہندستان کی مذہبی اقلیتوں کی ما ہر سمجھی جاتی ہے۔ مذکورہ نامہ نگار نے ان سے انٹرویولیا۔ گفتگو کے دوران ہندستان کے مسلمانوں کا ذکر آیا۔ انٹرویو نے کہا کہ کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہندستانی مسلمانوں کے مسئلہ کا اصل سبب یہ ہے کہ انڈیا میں کوئی "مسلم لیڈرشپ " نہیں۔
other sourceWords of another person or source
خاتون نے جواب دیا کہ بات یہ نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ انڈیا میں کسی مسلم لیڈرشپ کا ابھر ناسخت مشکل ہوگیا ہے۔ مسلمانوں میں کوئی واحد سیاسی لیڈر ابھرے تواس کو Separatist کہا جائے گا اور اس کو نیا جناح New Jinnah) کا لقب دے دیا جائے گا۔ اور اگر مسلمانوں کا ایسالیڈر ہو جو گورنمنٹ سے قریب ہو تو کہا جائے گا کہ یہ توشومین (Showman) ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بات نہایت صحیح ہے۔ موجودہ ہندستان میں اگر کوئی مسلمان جناح کے انداز میں بوئے تو وہ حکومت کی نظر میں مشتبہ ہو جاتا ہے ۔ اور اگر وہ سرسید کے انداز میں کام کرنا چاہے تو مسلمان اس کومشتبہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر منقسم ہندستان میں مسلمانوں کی کوئی طاقت ور لیڈرشپ ابھرنہ سکی۔
موجودہ ہندستان میں جناح جیسی لیڈرشپ کا ابھرنا ممکن ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ سرسید جیسی مسلم لیڈرشپ یقینا مسلمانوں کے لئے مفید ہوسکتی ہے مگرموجودہ مسلمانوں میں ایسے کسی لیڈر کا ابھرنا ممکن نہیں۔
25 نومبر 1989
پاکستان کے مولاناکوثر نیازی ہندستان آئے تھے۔ وہ بمبئی بھی گئے۔ وہاں بلٹنر (ار دو ) کے نمائندہ ہارون رشید نے ان کا انٹرویولیا۔ یہ انٹرویو ار دو کے شمارہ25 نومبر1989 میں شائع ہوا ہے۔
انٹرویورنے ایک سوال یہ کیا کہ" آپ کی حکومت ڈھائی لاکھ بہاریوں کو بنگلہ دیش کے کیمپوں میں کیوں سڑا ر ہی ہے۔ مولانا کوثر نیازی نے جواب دیا کہ بے جواب دیا کہ بے شک وہ لوگ پاکستانی ہیں ۔ ان کو واپس بلانے کے لئے پاکستان کے پاس رقم کی کمی بھی نہیں ۔ تاہم بعض اسباب رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک سبب یہ بتایا کہ سندھیوں کو یہ خطرہ ہے کہ یہ بہاری اگر کراچی آ کر آباد ہو گئے تو آبادی کا توازن بگڑ جائے گا، اس لئےوہ شورمچاتے ہیں۔
other sourceWords of another person or source
پاکستان بننے سے پہلے ہندو اور مسلمان کے درمیان اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ تھا۔ اس سے بچنے کے لئے پاکستان بنایا گیا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو معلوم ہواکہ دوبارہ یہی مسئلہ مہاجر مسلمان اور سندھی مسلمان کی صورت میں موجود ہے۔ بلکہ زیادہ شدید طور پر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کسی مسئلہ کا حل نہیں تھا۔ البتہ اس نے مسائل میں اضافہ کر دیا۔
26 نومبر 1989
لارنس اسٹرن (Laurence Sterne) 1713 میں انگلینڈ میں پیدا ہوا۔ 1768 میں وفات پائی ۔1759میں اس نے ایک (Satire) لکھا۔ اس کا نام ایک سیاسی رومان "A Political Romance تھا۔ اس کو چرچ کے لوگوں نے جلا دیا ۔ اس کے بعد اس نے ایک کہانی لکھی جس کا نام Tristram Shandy تھا۔ اس کو لندن کے پرنٹر (را بریٹ ڈاٹسلے) نے چھاپنے سے انکار کر دیا۔ مگر یہ شخص بعد کو انگریزی کا مشہور ناول نگار بنا۔ حتی کہ خود اس کی زندگی اور کارناموں پر بڑی بڑی کتا بیں لکھی گئیں۔
آدمی کے اندر اگر صلاحیت ہو اور وہ محنت کرے تو یقینا وہ کامیاب ہو کر رہتا ہے خواہ ابتدائی طور پر ساری دنیا نے اس کو رد کر دیا ہو۔
27 نومبر 1989
جی ڈی گا درے (واردھا1920 ) ملاقات کے لئے آئے۔ طالب علمی کے زمانہ میں ان کا تعلق آر ایس ایس سے ہو گیا تھا۔ اب وہ صوفی ازم سے متاثر ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ 1935 میں وہ امراوتی کے ایک اسکول میں پڑھتے تھے اور آرایس ایس کی شاکھا میں شامل تھے ۔ اس وقت ان کی عمر15 سال تھی ۔
ایک روزجب کہ شاکھا کے طلبہ جمع تھے، ڈاکٹر ہیڈ گواڑ (بانی آرایس ایس) وہاں آۓ۔انھوں نے طلبہ کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد کیرکٹر بلڈنگ ہے۔ ہم پالی ٹکس سے دور رہ کر اچھے آدمی بنانا چاہتے ہیں۔
پھر ڈاکٹر ہیڈ گواڑ نے کہاکہ مانو ایک مسلمان لڑکی سڑک پر تانگہ میں بیٹھی ہوئی جارہی ہے ۔ کچھ ہندولڑ کے اس کو چھیڑتے ہیں۔ اس وقت تمہارا فرض کیا ہوگا۔ طلبہ چپ رہے۔ ڈاکٹر ہیڈ گواڑ نے خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاکھا میں تم جوڈنڈے چلا نا سیکھ رہے ہو ، اس وقت تم یہ ڈنڈا ان ہندوؤں پر چلاؤ اور اس مسلم لڑکی کو بچاؤ۔
other sourceWords of another person or source
یہ واقعہ سن کر میں نے کہا : پہلے زمانہ میں ایک فرقہ پرست کے اندر بھی کچھ اخلاق ہوتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں قوم پر وروں کے اندر بھی کوئی اخلاق موجود نہیں۔
28 نومبر 1989
اسلام کی ابتدائی تین صدیوں تک تصوف اور صوفیاء کا کوئی وجود تھا۔ ظہور اسلام کے تین سو سال بعد بصرہ میں حسن بصری کے شاگردوں میں اس کا ظہور ہوا۔ مثلا عبد الواحدبن زید وغیرہ ۔ مسیحی رہبانوں کے زیراثر یہ لوگ صرف (اون )کے کپڑے کو افضل سمجھتے تھے۔ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح اون کے کپڑے پہنا کرتے تھے۔ اسی بنا پر یہ لوگ صوفی کے نام سے مشہور ہوئے۔
صوفیا کا کہنا تھاکہ عبادت کی بنیاد محبت ہے ۔ وہ خوف خدا کو کمتر چیز ہو کر نظرانداز کرتے تھے۔ ایک صوفی کا قول ہے کہ میں اللہ کی عبادت اس کی جنت کی طمع میں یا اس کی جہنم کے ڈرسے نہیں کرتا ( انا لا اعبد الله طمعا في جنته ولاخوف أمن نارية )
other sourceWords of another person or source
یہ ایک لغوبات ہے ۔ قرآن میں پیغمبروں کے بارہ میں ہے کہ وہ اللہ کو خوف اور طمع کے جذبہ سے پکارتے تھے ۔یدعون ربھم خوفأوطمعا ) اس کے علاوہ یہ بات عقل عام کے خلاف ہے ۔ ایک شخص شیر کو قریب سے دیکھ رہا ہو تو اس کا رنگ اور اس کی ساخت اس کو اچھی لگ سکتی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس کو شیر کا ڈر بھی لگارہے گا۔ اسی طرح اللہ کے احسانات کی بنا پر بندہ کے دل میں اس کے بارہ میں شکر اور محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ خدا کاقادر مطلق اور محاسب و مجازی ہونا آدمی کو اندیشہ ناک بھی بناتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بندہ اور خد ا کے تعلق میں محبت کا دخل بھی اتنا ہی ہے جتناخوف کا، خوف کا دخل بھی جاتنا ہی ہے جتنا محبت کا۔ یہاں ان دونوں جذبات کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
29 نومبر 1989
امام عبد الرحمن ابن جوزی غالباً 508ھ(1116ء ) میں پیدا ہوۓ اور 1201ء میں وفات پائی۔ وہ اسلامی تاریخ کے بڑے علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ تحصیل علم کا نہیں بے حد شوق تھا۔ لکھتے ہیں کہ ابتدائی تعلیم کے زمانہ میں دوسرے ہم سبق لڑ کے دجلہ کے کنارے کھیلنے چلے جاتے تھے۔ اور میں کسی کتاب کو لے کر اس کے مطالعہ میں مشغول رہتا تھا۔ ان کا یہی حال زندگی بھر رہا۔ اپنی بابت لکھتے ہیں کہ میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کبھی سیر نہیں ہوتی تھی ۔جب کسی نئی کتاب پر میری نظر پڑجاتی توایسا معلوم ہوتا کہ گویامیں نے کوئی خزانہ پالیا ہے( کانی وقعت على کنز )
other sourceWords of another person or source
مطالعہ کا یہی شوق آدمی کو عالم بناتا ہے۔ ابن جوزی نے بہت سی نہایت قیمتی کتابیں لکھی ہیں۔ ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ میں نے شمار کی تو ان کی کتابوں کی تعداد ایک ہزار پائی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
30 نومبر 1989
آج انسان کی کمزوریوں کو سوچ کر آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے کہا : خدایا مجھ کو ان لوگوں میں لکھ لیجئے جنھوں نے عاجز بنادئے جانے سے پہلے اپنے عجزکا اقرارکیا۔
حقیقت یہ ہے کہ عجز ہی تمام اعمال کا خلاصہ ہے۔ آدمی جب سچائی کا اعتراف کرتاہے توحقیقتہ وہ اپنے عجز کا اعتراف کرتا ہے۔ آئی جب سجدہ میں اپنا رکھتا ہے تو وہ خدا کے مقابلہ میں اپنےعجز کامل کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح تمام دینی اعمال کی اصل روح عجز کا احساس ہے وہی عمل سچا عمل ہے جس کے اندر عجز کی روح پائی جائے ۔جوعمل عجزسے خالی ہو۔ اس عمل کی کوئی حقیقت نہیں۔
اسلام کی اصل روح عجز و تواضع ہے نہ کہ فخروناز ۔