← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
October 1990
English · 47 min read
20 اکتوبر 1990
ایک صاحب کے بعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہاکہ موجودہ زمانہ میں جنرل محمدضیاء الحق نے شخصی طور پرا ور جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین نے جماعتی طور پر کوشش کی کہ وہ پہلے حکومت پر قبضہ کرلیں اور اس کے بعد افراد کی اصلاح کریں۔ یہ طریقہ سراسرسنت نبوی کے خلاف ہے ، اس لئے ، دھوم اور ہنگاموں کی لمبی سیاست کے باوجود اس کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔
میں نے کہا کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیش کش کی گئی کہ اگر آپ اپنی اس تحریک سے اقتدار چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کے لئے تیار ہیں۔ ( ان کنت تريد به ملكا ملکناك علينا) آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں تمہارے اوپراقتدار نہیں چاہتا۔ میں تو صرف بشیر و نذیر ہوں (ولا الملك عليكم۔ ولكن الله بعثني اليكم رسولا وانزل على كتابا وأمرنى ان اكون بشير ا و نذيرا ) سیرۃ ابن ہشام، الجزء الأول صٖحہ 315/ 16
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے معلوم ہوا کہ یہ نظریہ سراسر غیراسلامی ہے کہ پہلے حکومت پر قبضہ کرلو ، اور اس کے بعد افراد کی اصلاح کرو۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے افراد کے اندر ایمانی انقلاب لے آؤاس کے بعد حسب حالات حکومت تک پہنچو۔
21 اکتوبر 1990
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ" عشق رسول“ ایک مبتدعانہ لفظ ہے ۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی یہ لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ رسول اللہ کے معاملہ میں اتباع مطلوب ہے نہ عشق۔
انھوں نے کہا کہ مگر محبت کا لفظ تو رسول اللہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ میں نے کہاکہ محبت سے مراد عشق نہیں ہے۔ محبت رسول در اصل اتباع رسول ہی کا اگلا درجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کی اتباع مشینی انداز کی نہیں ہونا چاہئے ۔بلکہ والہانہ اتباع کے انداز میں ہونا چاہئے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
22 اکتوبر 1990
مغل حکمراں اورنگ زیب نے کہا تھا کہ دنیا میں صرف انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے کہ بہت زیادہ ہے ، پھر بھی کوئی نہیں ۔
other sourceWords of another person or source
نیست جز آدم در میں عالم که بسیار است و نیست
دنیا ایسے انسانوں سے بھری ہوئی ہے جو انٹرسٹ کے لئے متحرک ہوتے ہیں۔ مگر ساری دنیا میں ایک انسان بھی شاید ایسا موجود نہیں جو پرنسپل کے لئے متحرک ہوتا ہو۔ ذاتی مفاد کے لئے ہر آدمی دوڑ رہاہے،مگر اصول حق کے لئے دوڑنے والاکوئی شخص نظر نہیں آتا۔
دنیا میں سب سے زیادہ بھیڑ سطحی انسانوں کی ہے۔ دنیا میں بیشتر انسان وہ ہیں جوصحیح معنوں میں اپنی ذات کے لئے بھی کرنا نہیں جانتے۔ کچھ انسان ایسے ہیں جو اپنی ذات کے لئے کرنا جانتے ہیں ، اور ایسا انسان تو شاید آج کی دنیا میں نایاب کے درجہ میں ہے جو صحیح معنی میں حق کے للئے کرنا جانتا ہو۔ دنیا میں سب کچھ ہے مگ ایک سچا انسان نہیں۔ دنیا میں ہر چیز ہے مگر وہی ایک چیز نہیںجس کے لئے یہ دنیا تخلیق کی گئی تھی ۔
23 اکتوبر 1990
عبدالواجد سردار (26 سال) ڈھاکہ (دھان منڈی )کے رہنے والے ہیں۔ وہ دہلی کے ایک مدرسہ میں زیرتعلیم ہیں۔ ان کے گھر کے سب لوگ انگریزی تعلیم یافتہ اور خوش حال ہیں۔ ان کی والدہ نے کہا کہ میں اپنے ایک بچہ کو عربی پڑھاؤں گی۔ اس طرح وہ دہلی پہنچے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
م لاقات کے دوران انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں 120 بیھگہ زمین ہے ۔ گھرکاکوئی آدمی زمین کی دیکھ بھال نہیں کرسکتا، اس لئے پوری زمین بٹائی پر دی ہوئی ہے۔ جن لوگوں کو بٹائی پر دیا گیا ہے وہ سب ہندو ہیں۔ انھوں نے کہا ۔ ہندوؤں کا اخلاق بہت اچھے ہوتے ہیں، وہ دھوکا نہیں دیتے۔ مثلا کسی کھیت میں ۲۰ کوئنٹل دھان ہو تو مسلمان اس کو ۱۵ کوئنٹل بتائے گا اور ہم کو ساڑھے سات کوئنٹل دے گا۔ مگرہندو پور۲۰۱ کوئنٹل بتائے گااور ہم کو اس کا نصف 10 کوئنٹل دے گا۔
عبد الواحد صاحب نے مزید بتایا کہ بنگلہ دیش 1971 میں بنا۔ اس وقت تو میں بچہ تھا۔مگرہمارے بڑے بتاتے ہیں کہ پاکستانی دور میں ہم زیادہ اچھے تھے۔ میں نے کہا کہ ایسے لوگ کتنے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ستر فیصد ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
برصغیر کی تقسیم نے مسلمانوں کو حقیقی معنوںمیں کچھ نہیں دیا۔ وہ بنگلہ دیش میں بھی برباد ہیں، ہندستان میں اور پاکستان میں بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہر جگہ بربادی کی نوعیت الگ الگ ہے۔
24 اکتوبر 1990
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا : آپ کا مخالف جب آپ سے کچھ چھینتا ہے تو عین اسی وقت وہ بہت بڑی چیز آپ کو دے دیتا ہے ۔ زندگی کانیا حوصلہ انئے عزم کے ساتھ اپنے لئے مستقبل کی تعمیر محرومی کا واقعہ پیش آنے کے بعد اگر آپ مایوس نہ ہوں، بلکہ ازسرنو اپنی زندگی کی تعمیر کا نقشہ بنائیں تو محرومی کا واقعہ آپ کے لئے نئے شاندارترمستقبل کی طرف سفر کا زینہ بن جائے گا۔
25 اکتوبر 1990
آج کے ٹائٹس آف انڈیا (نئی دہلی) میں ہیلے (Hailey) کا ایک قول نقل کیا گیا ہے کہ ہر مومن خدا کا ایک معجزہ ہے :
other sourceWords of another person or source
Every believer is God's miracle.
اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا اس کائنات کی سب سے واضح حقیقت ہے۔ وہ سورج اور چاند سے بھی زیادہ روشن ہے۔ مگر خدا پر یقین لانا صرف ان لوگوں کے لئے ممکن ہے جو نہ دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جولوگ صرف دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھیں ان کے لئے خدا کا کوئی وجود نہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یقینا یہ ایک خدائی معجزہ ہے کہ ایک شخص کا دماغ خدا کے وجود پر کامل یقین کرے اور اس کا دل خدا کے احساس سے لرز اٹھے۔
26 اکتوبر 1990
مولانا انیس قران الندوی رمالیگاؤں مرکز میں آگئے ہیں۔ انھوں نے تذکیر القرآن کے عربی ترجمہ کا کام شروع کر دیا ہے۔ آج غالب آرہ دیباچہ کا ترجم مکمل کر لیں گے۔ ترجمہ کا یہ کام کیا اور تیونس اور الجزائر کے عرب نوجوانوں کے اصرار پر شروع کیا گیا ہے ۔ان لوگوں نے کہا ہے کہ ترجمہ کی تکمیل کے فورا بعد وہ لوگ اس کی اشاعت کا انتظام کریں گے۔ تذکیر القرآن کا عربی ترجمہ شائع ہونا گویا اس مشن کا اگلے مرحلہ میں داخل ہونا ہے۔ اس نئے مرحلہ کے اسباب خدا کے فضل سے پیدا ہو گئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اس نئے مرحلہ کو دیکھنے کے لئے زندہ رہوں گا یا نہیں۔ تاہم مجھے یقین ہے کہ انشاء الشر یہ مرحلہ ضرور آئے گا،خواہ وہ میری موت سے پہلے آۓ یا میری موت کے بعد۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
27 اکتوبر 1990
ایک صاحب نے ہندستانی حکومت کے تعصب کی شکایت کی۔ میں نے کہا کہ دہلی میں پار یونیورسٹیاں ہیں۔ اور چاروں یونیورسٹی کے وائس چانسلر اس وقت مسلمان ہیں۔ دتی یونیورسٹی کے پروفیسرونس رضا ، جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر ایم ایس اگوائی، جامعہ میر میں ڈاکٹر ظہور قائم۔ ہمدرد یونیورسٹی میں پروفیسر رشید الظفر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے جو چیز سب سے زیادہ اٹھالی گئی ہے، وہ شکر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو چیر انھیں کی ہوئی ہے ، اس پر وہ شکر نہیں کرتے۔ اور جو چیز نہیں کی ، اس ر فریاد کرتے ہیں۔ شکر کرنے پر خدا کی نعمتوں میں اضافہ کیا جا تا ہے۔ اور ناشکری کرنے پر خدا کی نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
28 اکتوبر 1990
مسٹر جناح کی وفات استمبر ۱۹۴۸ کو ہوئی۔ ہندستان نے ۱۳ستمبر ۱۹۴۸ کو اپنی فومیں حیدر آباد میں داخل کر دیں اور حیدر آباد اسٹیٹ پر قبضہ کر لیا۔ تاریخوں کی اس قربت کی وجہ سے پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ہندستان مسٹر جناح سے ڈرتا تھا۔ جب تک وہ زندہ تھے، ہندستان کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ حیدر آباد کے خلاف فوجی کاروائی کرے جس نے آزادی کے بعد پاکستان سے تعلق قائم کر لیا تھا جیسے ہی مسٹر جناح کا خاتمہ ہوا، ہندستان نے فورا اپنی فوجیں حیدرآباد میں داخل کردیں۔ اس کے جواب میں ہندستان کے لوگ کہتے ہیں کہ حیدر آباد کے خلاف پولیس ایکشن کی تاریخیں پہلے مقرر کی جاچکی تھیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں کہوں گا کہ پاکستان کی سیاست اگر ایک شخص کی ذات پر منحصری تو ایسے پاکستان کو بنانا ہی غلط تھا۔ ہرشخص ریشمول جناح ایک روز مرنے والا تھا۔ جیب کہ پاکستان کو اس کے بعد بھی باقی رہنا تھا۔ پھر ایسے پاکستان کو بنوانے کی ضرورت کیا تھی۔ جس کی امیدوں کا سہارا ایسی کمزور ڈور ہو جس کو بہرحال لوٹ جا تاہے۔
29 اکتوبر 1990
کارڈ لونگ بروک (Lord Bolingbroke) کا ایک قول ہے کہ ہر آدمی کی عقل اس کے لئے دار الاستخارہ کی حیثیت رکھتی ہے:
other sourceWords of another person or source
Every man's reason is every man's oracle.
قدیم یونان میں مذہبی دار الاستخارہ (Oracle) ہوا کرتا تھا۔ یہاں آ کر لوگ مخصوص انداز میں اپنے مفروضہ دیوتاؤں سے مشورہ یا پیشگی رائے طلب کرتے تھے۔ اس کا جواب انھیں مہم اور پر اسرار طور پر ملا تھا جس کو وہ مقدس بھی قبول کر لیتے تھے۔ گویا اور سیکل کا مطلب ہے پر اسرار شیربیس پر اعتماد کیا جائے۔
ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ اس کی عقل جو کچھ اسے بھا دے ، اس کو دیے مجھے پکڑ لیتا ہے بچا انسان وہ ہے جو اپنی عقل کے خول سے باہر نکلے اور چیزوں کے بارہ میں حقیقت واقعہ کے اعتبار سے رائے قائم کرے مریض اپنی ذاتی سوچ کے اعتبار ہے ۔
30 اکتوبر 1990
29 اکتوبر اور30 کی درمیانی رات ہے ۔ گھڑی میں ایک بج رہے ہیں۔ آج دیوالی ہے ۔ ہر طرف سے پٹاخوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ فضا دھوئیں سے بھر گئی ہے ۔شو روغل سے اپنے ذہن کو پھیرنے کے لئے میں لکھنے پڑھنے میں مشغول ہوگیا یہاں تک کہ رات کے ایک بج گئے۔
بچپن میں میں سنا تھا کہ دیہات کی ہندو عورتیں اپنے گھروں میں سوپ بجا کر کہی ہیں: اسر پیٹیں دلدر نکلیں۔یعنی گھر میں برکت آۓ اور نحوست اس سے نکل جائے۔ اب اس رسم نے پرشورپٹاخہ بازی کی صورت اختیار کرلی ہے ۔ دہلی میں ہر سال دیوالی کی رات کو اتنے زیادہ پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں کہ رات کا بیشتر حصہ دھماکوں سے گونجتا رہتا ہے اورپورے شہر کی فضا دھوئیں اور گیس سے بھر جاتی ہے۔
اس بے معنی رسم کے پیچھے شرک ہے۔ ہندو اپنے مشرکانہ عقیدہ کے تحت سمجھتے ہیں کہ دیوالی کی رات کو شور کرنے سے دلدردنخوست، بھاگ جاتی ہے۔ اسی طرح اس ملک کی تمام برائیوں اور خرافات کے پیچھے مشرکانہ عقائد شامل ہیں۔ اس ملک کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یہاں سے شرک کا خاتمہ نہ ہو ۔ اس ملک کی سب سے بڑی خیرخواہی یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کوشرک سے نکال کر توحید کے عقیدہ پرقائم کیا جاۓ ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یکم اکتوبر1990
آج میں لیبیا( طرابلس) میں تھا۔ وہاں میرا قیام فندق باب البحرمیں تھا۔ صبح کو نیچے اترا تو ریسپشن استقبالیہ کے وسیع ہال کی دیواروں پر مختلف نعرے لکھے ہوئے نظر آئے۔
ایک نعرو ان الفاظ میں لکھا ہوا تھا : التائثر الاسمى معمر القذا في صانع عصر الجماهيرية ( عالمی انقلابی لیڈر معمر قذافی، جمہوریتوں کا دور پید اکرنے والا ۔)
اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہی موجودہ زمانہ کے تمام مسلم قائدین کا حال ہے۔ان قائدوں نے یا ان کے معتقدوں نے اپنے گھر کی دیواروں پر اپنے لئے "نئے دور کا خالق " کے الفاظ لکھے رکھے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ملک یا ایک گھرمیں بھی کوئی نیا دور لانے والے نہ بن سکے۔ ہرآدمی اس کام کاکریڈیٹ لیا چاہتا ہے جس کو اس کے نہیں کیا (یحسبون ان يحمدوا بمالم يفعلوا )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 اکتوبر 1990
لیبیا میں اس وقت تقریبا چالیس ہزار ہندستانی ہیں ۔ ان میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔ طرابلس میں مقیم مسلمانوں نے اکتوبر کو" میلادالنبی" کا جلسہ کیا۔ اس میں مجھے تقریر کی دعوت دی گئی۔ وہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر سادہ انداز میں ایک تقریر کی۔ کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ کے ہال میں اجتماع تھا۔ اس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھی قابل لحاظ تعدادمیں موجود تھے۔
ڈاکٹر حیات اسماعیل نے بتایا کہ ہم لوگوں نے طے کیا ہے کہ طرابلس میں مقیم ہندستانی سفیر مسٹر بی آر گلیانی کو اجتماع میں بلایا جائے مگر ان سے تقریر نہ کرائی جائے ۔ میں نے کہا کہ یہ طریقہ صحیح نہیں ۔ ہندستانی سفیر اپنے عہدہ کے اعتبار سے یہاں انڈین کمیونٹی کا ہیڈ ہے۔ اس کو بلانا اور اس کو اسٹیج پر کھڑا کرنا اس کے لئے توہین کے ہم معنیٰ ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ہمارے ساتھیوں کاکہناہے کہ آج گاندھی جینتی کا دن ہے۔ کہیں وہ گاندھی کے بارہ میں بولنے لگے یا ہندو دھرم پر تقریر شروع کر دے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ یہ اندیشہ بالکل بے بنیاد ہے۔ میں نے کہا کہ ہندستان میں ایک باراٹل بہاری باجپئی کو مسلمانوں کے ایک اجتماع میں بلایا گیا۔ اٹل بہاری باجپئی نے وہاں بالکل اسلامی قسم کی باتیں کہیں ۔ بعد کو کسی نے پوچھا کہ آپ تو مسلمانوں کے اور اسلام کے مخالف مشہور ہیں۔ پھر آپ نے ایسی تقریر کیسے کی۔ اٹل بہاری باجپئی نے کہا : اجی ، آدمی نہیں بولتا ، پلیٹ فارم بلواتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میرے کہنے پر ان لوگوں نے مسٹر کیانی کو تقریر کے لئے کھڑا کیا۔ مسٹ گلیانی اسٹیج پر آئے تو سب سے پہلے انھوں نے السلام علیکم کہا ۔ اس کے بعد پوری تقریر سیرت کے موضوع پر کی۔ حتی کہ آخر میں کہا کہ محمد صاحب کے دکھائے ہوئے راستہ پر ساری دنیا چلے گی۔
13 اکتوبر 1990
طرابلس میں میری ملاقات محمد سلیمان القائد سے ہوئی۔ وہ ایم اے ہیں اور اس وقت طرابلس کی جامعۃ الفاتح میں استاذ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں قاہرہ گیا۔ وہاں جامعتہ القاہرہ کے ایک پروفیسر سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ وہاں عربی ادب کے استاد ہیں ۔ میرا ذکر آیا تو مصری پروفیسر نے کہا کہ وحید الدین خاں نے دین کی ایک تعبیر کی ہے جو مودودی اور قطب سے مختلف ہے۔ مگر وحید الدین خان ایک ہندی ہیں۔ ان کی عربی دانی پر مجھے اعتماد نہیں ، اس لئے میں ان کی تعبیر کو بھی نہیں مانتا۔
محمد سلیمان القائد نے ان سے کہا کہ میں نے وحید الدین خان کی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان سے کئی بار میری ملاقات بھی ہوئی ہے۔ وہ عربی زبان بخوبی جانتے ہیں اور پورے معنوں میں عربی عالم ہیں۔ کسی نے اب تک ان کی کتابوں میں زبان کی غلطی کی نشاندہی نہیں کی ۔ مصری پر دفیسر نے کہا کہ عربی دانی کا اصل معیار شعر ہے۔ آپ ان سے عربی اشعار کی بابت پوچھے اور پھر دیکھئے کہ وہ عربی داں ہیں یا نہیں۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
میں نے کہا کہ استغفراللہ ، لوگوں نے کیسے کیسے خود ساختہ معیار بنارکھے ہیں ۔ اگر اس معیار کوحتمی سمجھاجائے تو نعوذ باللہ پیغمبر اسلام بھی اس معیار پر پورے نہیں اتریں گے۔ کیونکہ قرآن میں ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو شعر کا علم نہیں دیا۔ (یٰس 69 ) روایات میں آتا ہے آپ کو اشعار یا دنہیں رہتے تھے اور شعر کو پڑھنے میں آپ اکثر غلطی کر جاتے تھے۔ لوگوں نے تصحیح کی تو آپ نے فرمایاکہ میں شاعر نہیں ہوں اور نہ وہ میرے لئے سزاوار ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے ، تفسیر ابن کثیر۷۹٫۳ - ۵۷۸ ، التفسر النظری۹۷/۸ – ۹۷ - ۹۶)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4 اکتوبر 1990
ایک صاحب سے مسلمانوں کے موجودہ حالات پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہاکہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جوسنگین حالات کا سامنا ہے، اس کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں کے علمی رہنماؤں پر ہے ۔ ان نام نہاد رہنماؤں نے سب سے بڑا جرم یہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو خارجی احتجاج کے راستہ پر ڈال دیا۔ حالانکہ صحیح بات یہ تھی کہ انھیں داخلی تعمیر کے مرنے پر سرگرم کیا جائے۔
ہندستان کے سطحی رہنماؤں کا یہ حال ہے کہ جب بھی کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو فوراً وہ نکمی انتظامیہ کا لفظ بول کر مسلمانوں کی سوچ کا رخ حکومت کی طرف کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں نام نہاد اسلام پسند وہاں کی تمام خرابیوں کا ذمہ غیرصالح حکمرانوں کو ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ وسیع تر عالم اسلام کو دیکھئے تو انٹرنیشنل اسٹیج پر بولنے والے تمام لوگ صلیبیوں اور صہیونیوں اور استعماری طاقتتوں کے ظلم کے خلاف چیخ پکار کرنے میں مشغول ہیں۔
مسلمانوں کے لئے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ اپنی تمام طاقت داخلی تعمیر کے محاذ پر لگائیں ۔ مگر مذکورہ بالاقسم کی رہنمائیوں نے ان کی توجہ داخلی محاذ سے ہٹا دی۔ اور تمام مسلمانوں کے ذہن کو خارج کی طرف پھیر دیا۔ میرے نزدیک آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہی غلط رہنمائی ہے۔
5 اکتوبر 1990
تہران سے ایک عربی ہفت روزہ نکلتا ہے۔ اس کا نام الشهيد الدولي (شہید انٹرنیشنل )ہے ۔ اس کی پیشانی پر یہ فقرہ لکھا ہوا رہتا ہے : صوت الثورة الاسلامیہ ( اسلامی انقلاب کی آواز) اس اخبار کے شمارہ 6 ستمبر 1990میں صفحہ اول پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی مسلم امت (الشعب المسلم في المنطقة ) خادم الحرمین الشریفین کی مخالف ہوگئی ہے ۔
اس کے ثبوت میں یہ واقعہ درج کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ایک بدو نے امریکی فوج میں کام کرنے والی ایک عورت سے کہا کہ تم نیم برہنہ رہتی ہو حالاں کہ تم کو پردہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔ (دها مجندة اميركية شبه عارية الى تقوى الله والالتزام بالحجاب) امریکی عورت نے ترجمان کی مددسے بد و کوجواب دیا کہ کیا تم کوشرم نہیں آتی کہ تم اور فہد اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور تم نے امریکی عورتوں کو بلایا کہ وہ تمہارے ملک کا بچاؤ کریں۔ (الاتخجل انت وفهد حینما تجلسان في بيوتكما وتسمحان للنساء الاميركيات بالدفاع عن بلادكما )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جواب کا یہ انداز ایرانیوں کا ہے ، وہ امریکیوں کا انداز کلام نہیں ۔ اور اگر بالفرض یہ واقعہ صحیح ہو تو یہ بدترین جنرلائزیشن ہے۔ ایک بدو اور ایک امریکی عورت کی گفتگو کو پوری پوری قوم پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
۶اکتوبر ۱۹۹۰
اسلامی جمہوریہ ایران کے اخبارات آجکل خلیجی بحران کے تذکرہ سے بھرے رہتے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ خادم الحرمین الشریفین نے کافرامریکیوں کو عرب کی مقدس سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت کیوں دی۔
یہ وہی چیز ہے جس کو کلمة حق اريد بها الباطل کہاگیا ہے ۔ایران کے اخبارات بظاہر ایک حق بات کہہ رہے ہیں ، مگر اس کا حق کے پیچھے ایک باطل مقصد چھپا ہوا ہے۔ وہ دراصل اس بحران سے فائدہ اٹھا کر سعودی عرب کو مطعون کر رہے ہیں جس کو وہ اپنا دشمن فرض کئے ہوئے ہیں۔ اگر فی الواقع ان کے سامنے حق ہوتا تو وہ سب سے پہلے صدام حسین کی جارحیت کی مذمت کرتے جس نے سعودی عرب کو مجبور کیا کہ وہ امریکہ سے مددمانگے۔ اس صورت حال کی اصل ذمہ داری صدام حسین پر آتی ہے۔ مگر ایرانی اخبارات صدام حسین کے فعل پر خاموش ہیں ۔ اور امریکہ کا حوالہ دے کر سعودی عرب کی مذمت کر رہے ہیں۔
کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جوعملی سطح پر اسلامی انقلاب برپا کرنے کے مدعی ہیں، حالاں کہ لفظی معلم کے درجہ میں بھی وہ ابھی تک اسلام کو اپنا دین نہ بنا سکے۔
7 اکتوبر 1990
انقرہ( ترکی) کے حوالے سے مکہ کے اخبار العالم الاسلامی - شماره ۲۴ ستمبر۱۹۹۰ میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔اس کا عنوان ہے : ۵۹۲ جريدة يومية وأكثر من 3 آلاف مجلة فى العالم الاسلامی۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی دنیا میں اس وقت 592 روزانہ اخبارات نکلتے ہیں اور339 مجلات شائع ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد پاکستان میں ہے جہاں 1184مجلات نکلتے ہیں اور ۱۱۹ روزانہ اخبارات شائع ہوتے ہیں ۔ اسی طرح بنگلہ دیش،انڈونیشیا، الیزیا، نائجیریا، مغرب، ترکی ، ایران ، مالدیپ وغیرہ کے اعدادوشمار دئے گئے ہیں ۔ برونائی کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ وہ اگرچہ نہایت دولت مند ملک ہے مگر وہاں سے کوئی بھی اخبار یا مجلہ شائع نہیں ہوتا۔ اسی طرح گامبیا ، غینیا ، جزر القمرسے بھی نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اسلامی دنیا کا سب سے قدیم اخبار قاہرہ کا الاہرام ہے۔ وہ ۱۸۷۵ میں شروع ہوا۔ وہ تقریبا ایک ملین کی تعداد میں چھپتا ہے۔
other sourceWords of another person or source
مگر اس میں ہندستان کے مسلم اخبارات وجرائد کا کوئی ذکر نہیں ۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان معروف سیاسی اصطلاح کے مطابق مسلم ملک نہیں۔ میرے نزدیک یہ تقسیم بالکل غلط ہے۔ دنیا کے تمام مسلمان امت مسلمہ کا حصہ ہیں، خواہ وہ سیاسی اعتبار سے کسی مسلم ملک میں بستے ہوں یا غیرمسلم ملک میں۔
8 اکتوبر 1990
تاریخ کی کتا بیں بتاتی ہیں کہ مدینہ کے95 نام ہیں۔ مثلا ۔ یثرب ، طیبہ ، دا رالابرار ،سيدة البلاد، دارالسلام، المحرمه ، المحروسہ ، وغیرہ ۔ ایک عربی مجلہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ درج ہیں : قالت كتب السيرة والتاريخ أن المدينة المنورة ٩٥ اسماً واشارت الى ان ذالك يدل على عظمة المسمى وفضله (سیرت اور تاریخ کی کتا بیں کہتی ہیں کہ مدینہ منورہ کے ۹۵ نام ہیں۔ اس سے شہر مدینہ کی عظمت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ناموں کی کثرت سے یہ استنباط درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام95 سے کم ہیں۔ پھر کیا آپ کی ذات مدینہ سے کم افضل ہے۔ اسی طرح مکہ کے نام بھی نسبتا بہت کم ہیں۔ مکہ کے نام تقریبا بتائے گئے ہیں۔ مکہ ، بکہ ، البلدالامین ، البيت العتيق ، البيت الحرام ام القری ۔ پھر کیا مدینہ کے مقابلہ میں مکہ کی فضیلت وعظمت کم ہے۔ موجودہ مسلمانوں میں سائنٹفک طرز فکر نہیں۔ اس لئے وہ اکثر معاملات میں اسی قسم کی غیر منطقی باتیں کرتے ہیں۔
صحابہ و تابعین کبھی اس طرح کی باتیں نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ خدائے ذوالجلال کی عظمتوں میں گم تھے۔ ان کو ساری بڑائی صرف ایک خدا کی ذات میں نظر آتی تھی۔ اس لئے وہ اشخاص اور ایمان کی عظمتوں کی پیمائش بھی نہیں کرتے تھے۔
9 اکتوبر 1990
میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، تمام بال سفید ہو گئے۔ اس مدت میں میں نے بے شمار صفحات لکھے۔ مگر ہر نئے دن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گو یا اب تک جو لکھا وہ صرف ابتدائی مشق کے طور پر تھا۔ لکھنے کا اصل کام اب شروع ہو گا۔ یہ احساس لامتنا ہی طور پر ہر آنے والے دن کو باقی رہتا ہے۔
اس تجربہ کی روشنی میں میرا خیال ہے کہ موجو دہ دنیا صرف مشن کی جگہ ہے، وہ لکھنےاور بولنے کی جگہ نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی صرف سیکھ رہا ہے کہ وہ کیا بولے اور کس طرح لکھے۔ لکھنے اور بولنے کاحقیقی عمل صرف ان خوش قسمت افراد کے لئے مقدرہے جن کو موت کے بعد خدا کی مغفرت حاصل ہو اور انھیں جنت کی معیاری دنیا میں رہنے کی اجازت دی جائے۔
10 اکتوبر 1990
محمد افضل لادی والا(بمبئی) سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ تبلیغی جماعت اور الرسالہ مشن میں کیافرق ہے۔ میں نے کہاکہ دونوں کا مقصد افراد کے اندر دین بیداری لانا ہے ۔ مگرفرق یہ ہے کہ تبلیغی جماعت خوش عقیدگی کو بیدار کرتی ہے اور الرسالہ مشن آدمی کے ذہن کو ۔ ایک مسلمان سے جب آپ کہتے ہیں کہ حضور والا مبارک طریقہ تو اس کے اندر چھپا ہواعقیدتمندی کا احساس جاگ اٹھتا ہے اور وہ" حضور و الے عمل “ کو اختیار کرنے کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں الرسالہ تدبر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے ۔ وہ آدمی کے اندر وہ ذہنی انقلاب لانا چاہتا ہے جس کے بعد وہ خود ذہنی فیصلہ کے تحت ایران و اسلام کو اپنی زندگی میں اپنا لے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
11 اکتوبر 1990
برٹرینڈرسل کی ایک کتاب ہے۔ ۸۰۰ صفحہ پر مشتمل اس کتاب کا نام مغربی فلسفہ کی تاریخ (History of Westerm Philosophy) ہے۔ اس کتاب میں وہ یہ سوال کرتا ہے کہ فلسفہ کے پیچیدہ مسائل میں آدمی اپنے آپ کو کیوں الجھاتا ہے۔ زندگی کی حقیقت کیا ہے اور کائنات کی توجیہہ کسی طرح کی جاسکتی ہے۔ ان سوالات میں انسانی دماغ ہزاروں سال سے الجھا ہوا ہے ۔ آخر اپنے آپ کو ان لا ینحل سوالات میں مبتلا کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ اس کا جواب برٹر بیڈ رسل نے ان الفاظ میں دیا ہے کہ یہ در اصل کائناتی تنہائی کی دہشتناکی (Terror of Cosmic Loneliness)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہے جو آدمی کو اس قسم کی فلسفیانہ تلاش پر مجبور کرتی ہے۔ صفحہ۱۴)
ایک پتھر کر وروں سال تک زمین پر پڑا رہے تو اس کو کبھی تنہائی کا احساس نہیں ہوگا۔ مگر انسان تنہائی کے احساس سے دوچار ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان عین اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک خداپرست مخلوق ہے۔ انسان نفسیاتی اعتبار سے اپنے آپ کو نامکمل محسوس کرتا ہے۔ وہ صرف اس وقت احساس کی تکمیل سے دوچار ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے نفسیاتی خلا کو پر کرنے کے لئے اپنے باہرکسی چیز کو پا لے۔
اس اعتبار سے انسانوں کی تین قسمیں ہیں (1) فلسفی جو ہمیشہ اس کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہے (2) مشرک انسان جوکسی اور چیز کو یہ مقام دے کر مصنوعی طور اپنے لئے اطمینان کا سامان کرلیتا ہے (3 ) موحد انسان جو اس فطری سوال کے صحیح جواب کو پالیتا ہے۔ وہ اپنے احساس تنہائی کوعقیدۂ خدا کے ذریعہ پر کرلیتا ہے۔
یہی آخری انسان کامیاب انسان ہے۔
12 اکتوبر 1990
صلیبی جنگوں کے زمانہ کے ایک مجاہد ہیں۔ ان کا نام اسامہ بن متقذ الشیزری۵۸۴۱ - ۴۸۸ ھ ) ہے ۔ ان کی ایک عربی کتاب الاعتبا رہے۔ یہ کتاب زیادہ تر جہاد و قتال کے واقعات و تاثرات پر مشتمل ہے۔مثلا ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ خطرات کا مقابلہ نہ موت کو جلدی لا سکتا ہے اور نہ خوف اور احتیاط کی زیادتی لکھے ہوۓ وقت کو دور کرسکتی ہے۔ ہروقت مقر رہے ، زندگی کی ساعت مقرر ہے۔ خطرات میں گھسنا عمروں کوکم نہیں کرتا (رکوب الاخطار لا ينقص الاعمار)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بظاہر یہ ایک اسلامی ولولہ کی بات ہے مگر مجھے اس سے کلی اتفاق نہیں۔ رکوب الاخطار اگر مطلق طور پر مطلوب ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کرنے کے بجائے وہاں دشمنوں سے لڑنا چاہئے تھا۔ غزوہ احزاب میں آپ کو خندق کھودنے کے بجائے براہ راست مقابلہ کر نا چاہئے۔ حدیبیہ کے موقع پر صلح کرنے کے بجاۓ آپ کو تصادم کرنا چاہئے تھا۔ وغیرہ۔
میرا احساس ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران جہاد بمعنی قتال کو ضرورت سے زیادہ گلوری فائی کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دعوت کا کوئی گلوری فیکیشن نہیں کیا گیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمان ہر جگہ لڑنے بھڑنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ کیوں کہ لڑائی انھیں ہیروانہ کام نظر آتی ہے اور صبرو برداشت کرتے ہوئے دعوت پہنچانے والا کوئی شخص ساری دنیا میں نظر نہیں آتا ،کیوں کہ موجودہ حالات میں دعوتی کام میں "ہیرو" والی کشش نہیں۔
13 اکتوبر 1990
کویت پر صدام حسین کے قبضہ کے بعد تمام سنجیدہ مسلمان صدام حسین کی جارحیت کی مذمت کر رہے ہیں۔ مگر دنیا بھرمیں مسلمانوں کی اکثریت صدام حسین کی حمایت میں بول رہی ہے۔ حتی کہ صدام حسین کو مجاہد اعظم اور صلاح الدین ثانی کا خطاب دیا جارہاہے۔ ٹھیک یہی واقعہ اس سے پہلے کمال اتاترک ،جمال عبد الناصر، معمرالقذافی اور آیت اللہ خمینی کے معاملہ میں پیش آ چکا ہے۔ ہر ایک کو اولا عام مسلمانوں نے مجاہد اسلام کے روپ میں دیکھا۔ صرف بعد کو پیش آنے والے حالات کے بعد لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی۔ چھوٹے پیمانے پر یہی چیز دہلی کے امام عبداللہ بخاری جیسے لوگوں کے بارہ میں بھی کہی جاسکتی ہے۔
اس کی وجہ مسلمانوں کی شکست خوردہ نفسیات ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ہزیمت کے احساس میں جی رہے ہیں ۔ اس لئے جو شخص کھڑا ہوکر بڑی طاقتوں کو للکا رتا ہے، وہ اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں، خواہ اس کاللکار نااسٹیج کے لفظی شوروغل کے سوا اور کچھ نہ ہو ۔
اس صورت حال کے بے شمار نقصانات ہیں۔ اور اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان صرف لفظ باز لوگوں کو قیادت کا درجہ مل رہا ہے ۔جولوگ سنجیدگی اور حقیقت پسندی کی بات کریں، انھیں مسلمان اپناقائد بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
14 اکتوبر 1990
12 اکتوبر کو میں رام پور میں تھا۔ وہاں میں نے " جامعۃ الصالحات“ کو دیکھا۔1957 میں اس کو میں نے اس وقت دیکھا تھا جب کہ وہ محلہ کھنڈسار کے معمولی مکان میں قائم ہوئی ۔ 35 سال بعد وہ اسٹیشن سے شہر آنے والی شاہراہ پر بہت بڑے رقبہ میں قائم ہے ۔ اور اس کی عالی شان عمارتیں بن چکی ہیں۔ معلوم ہوا کہ کویت کے ایک شیخ نے اس کو5 لاکھ روپے دئے ۔ دکتور یوسف المقریف (سابق سفیر لیبیا) نے 8 لاکھ روپے دۓ۔ جدہ کے اسلامک ڈولپمنٹ بنک نے رقم دی۔ اس کے علاوہ دوسرے لوگوں سے برابر عطیات ملتے رہتے ہیں۔
میں بھی" 35 سال " سے ایک مشن چلا رہا ہوں ۔ مگر مجھ کو اس قسم کے تعاون دینے والے لوگ نہیں ملے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم گاہ لوگوں کے لئے ایک معلوم کام ہے۔ مگر دعوتی مشن لوگوں کے لئے معلوم ومعروف کام نہیں جس کو لے کر میں اٹھا ہوں۔ یہ حدیث کے الفاظ میں غریب (اجنبی) کام ہے۔ پھر اس کے تعاون کے لئے لوگوں کے اندر جوش کیسے بیدار ہوسکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
15 اکتوبر 1990
دکتور عبدالعظیم محمودالدیب ( پیدائش1929 ) کی ایک کتاب ڈاک سے ملی ۔ اس کا نام المنهج في كتابات الغربيين عن التاريخ الاسلامی ہے۔ وہ ۱۳۰صفحات پر مشتمل ہے۔ اور ربیع الثانی۱۴۱۱ میں قطر سے چھپی ہے۔
مصنف کہتے ہیں کہ انیسویں صدی کے آغاز سے لے کر بیسویں صدی عیسوی کے وسط تک مستشرق علما نے ساٹھ ہزار کتا میں اسلام کے بارہ میں شائع کی ہیں ۔ ان کتابوں کا مقصد کیا ہے۔ ان کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اسلام سے منحرف کر دیا جاۓ۔ اپنے اس مقصد میں وہ کافی کامیاب ہوئے ہیں حتی کہ محمدمحمد حسین مرحوم کے الفاظ میں ہمارے قلعوں کے لئے آج خود ہمارے اندر سے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ حصونناممددة من داخلها ، (صفحہ ۳۵)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ صحیح ہے کہ ہماری نئی نسل اسلام کے بارہ میں شک وشبہ میں مبتلا ہوئی ہے مگر اس کی اصل وجہ مستشرقین کی کتا بیں نہیں۔ اس کی زیادہ بڑی وجہ یہ ہے کہ کہ خودمسلم علماء اسلام کو وقت کے فکری مستوی پر پیش نہ کر سکے ۔ بیرونی خطرات ہمیشہ موجود تھے اور ہمیشہ موجو د رہیں گے۔ لیکن اگر ہم طاقت ور اسلوب میں اسلامی لٹریچر پیش کر سکیں تو اسلام کے خلاف ہرخطرہ اور ہرسازش انشاء اللہ غیرموثر ہو کر رہ جائے گی۔
16 اکتوبر 1990
یزید بن ہارون اسلمی (م 206 ھ ) مشہور تبع تابعی ہیں۔ وہ تفسیر، حدیث، فقہ وغیرہ تمام اسلامی علوم میں اعلی دستگاہ رکھتے تھے۔ اس زمانہ کے تمام علماء نے ان کے علم و فضل کی تصدیق کی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ایک متقی انسان بھی تھے۔ تذکرۃ الحفاظ میں ان کی بابت ایک قول ان الفاظ میں درج کیا گیا ہے : كان من خيار عبادالله ( ۲۵/۱)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یزید بن ہارون نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن واسط میں حاصل کی۔ اس کے بعد علم کے حصول کے لئے دوسرے ملکوں کاسفرکیا۔ وہ اپنے بارہ میں کہتے ہیں کہ میں اس وقت علم سے آگاہ نہ ہو سکا جب تک میں واسط سے باہرنہیں نکلا۔ (ما عرفت حتى خرجت من واسط )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ قول سفر کی اہمیت کو بتاتا ہے ۔ میرا اپنا حال بھی یہی ہے۔ پچھلے ۲۰ برسوں میں میں نے جو اسفار کئے ہیں ان سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے میرے لئے ان سفروں کی صورتیں پیدا فرمائیں۔ اگر یہ اسفار پیش نہ آتے تو یقینا میں علم ومعرفت کے معاملہ میں بہت ناقص رہتا۔
17 اکتوبر 1990
مرزا مظہر جانجاناں (۱۱۹۵-۱۱۱۱ھ مشہور بزرگ ہیں۔ وہ شہنشاہ اورنگ زیب کے ہم زمانہ تھے۔ اور رنگ زیب ہی نے ان کا نام جان جاں رکھا جو بعد کو جانجاناں ہوگیا۔ مرزا مظہر جانجاناں دہلی میں رہتے تھے۔ آۓ دن سیاسی شورشوں کے واقعات ان کے کان میں پڑتے تھے ۔ ان واقعات سے کیا کہ ایک بار انھوں نے کہا : از تشویشات ہر روزه دل تنگ آمده ام ) دہلی کی روز روز کی تشویشناک خبروں سے میں تنگ آگیا ہوں"
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مرزا مظہر جانجاناں ایک ایسے شخص تھے جو تحمل اور ایثار اور دنیا سے بے رغبتی میں ممتاز تھے۔ نیریہ مسلم سلطنت کا زمانہ تھا۔ اس کے با وجو د مذکورہ الفاظ ان کی زبان سے نکل گئے۔ پھر آج کے حالات میں اگر مسلمانوں کو مذکورہ قسم کی تشویشناکی کا تجربہ ہو تو اس پر احتجاج کرنے کے بجائے انھیں سوچنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلم سلطنت میں بھی تشویش کے حالات تھے اور آج" غیر مسلم سلطنت" میں بھی تشویش کے حالات ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں اچھے برے ہرانسان کو آزادی ہے۔ اس لئے یہاں ہمیشہ ہرقسم کے واقعات ہوتے رہیں تھے۔ موجودہ دنیا میں آئیڈیل زندگی کا بہت ممکن نہیں۔ اس لئے اس دنیا میں احتجاج کے بجائے حکمت اور تدبر کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے، اور اس کے ساتھ بوقت ضرورت صبر کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے ۔
18 اکتوبر 1990
جدید سائنسی نظریہ یہ ہے کہ ہماری دنیا ایک جوڑے کی صورت میں ہے ۔یعنی موجودہ دنیا کے علاوہ اسی قسم کی ایک اور زیادہ بہتر دنیا ہے۔ وہ اگرچہ دکھائی نہیں دیتی مگر وہ کائنات کے اندرموجو دہے۔ مجھے یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ایک کامل دنیا بنائی۔ پھر اس کا ایک وقتی اور غیر کامل مثنیٰ بنا یا ۔ آج انسان دنیاکے اسی مثنیٰ پر ہے۔ وہ یہاں آزمائش کے لئے آیا ہے۔ جو افراد اپنے آپ کو خدا کی دنیا کا مطلوب شہری ثابت کریں گے ، ان کو آئندہ اصلی اور کامل دنیا میں بسایا جائے گا تاکہ وہ وہاں ابدی طور پر راحت اور عیش کی زندگی گزارتے رہیں۔
مگر موجود انسان کو دیکھئے تو بڑی مایوس کن تصویر سامنے آتی ہے۔ انسان اپنی غلط کاری اور کشی کے ذریعہ یہ استحقاق کھو رہا ہے کہ اس کو دوبارہ خدا کی پاک دنیا میں بسایا جائے۔ ہرآدمی اپنی نا اہلی ثابت کرنے میں مشغول ہے، کوئی بھی شخص اپنی اہلیت ثابت کرنے والا دکھائی نہیں دیتا۔
19 اکتوبر 1990
ماہنامہ جامعہ دہلی کے شمارہ اگست 1990 میں ڈاکٹر محمدمحمود فیض آبادی کا ایک مضمون چھپا ہے ۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات میں ریڈر ہیں۔ مضمون کا عنوان ہے : ڈاکٹر سید محمود اور قومی سیاست "
ڈاکٹر سید محمود (۱ ۱۹۷ - ۱۸۸۹) غازی پور میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے اعلی تعلیم حاصل کی ۔ سیاسی اعتبار سے وہ کانگریسی تھے۔ اس بنا پر مسلم لیگی ان کے سخت مخالف ہو گئے ۔
مضمون کا ایک اقتباس یہ ہے :
" بہار میں کانگریس اور لیگ کی کش کمنل کے نتیجہ میں سیدمحمود کو اور ان کے خاندان کو تقسیم ہند تک مسلم لیگ کے سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ پھراسے اپنے خط مورخ 23 ماچ ۱۹۴ میں جواہرلال نہرو کو لکھتے ہیں۔ یہاں مسلم لیگیوں نے کنویسنگ کر کے لوگوں کو منع کردیا کہ کوئی مسلمان میری خوش دامن کی تجہیز و تکفین میں شریک نہ ہو ، کیوں کہ میرا خاندان کا نگریس سے تعلق رکھتا ہے۔ گھرمیں مستورات اور چند ملازموں کے سوا کوئی نہ تھا۔ جب میرے لڑ کے وفات کے دوسرے دن پٹنہ سے یہاں پہنچے تومیت کو دفن کرنے کا انتظام ہوسکا۔ فقط خاندان کے دس پندرہ افراد شریک ہوئے مسلمانوں میں کسی کی توہین کا اس سے بڑھ کر کوئی طریقہ سوچا نہیں جاسکتا ۔" ( صفحہ ۱۲)
یہ مزاج جولیگیوں نے مسلمانوں میں پیدا کیا تھا ، ۱۹۴۷ کے بعد ہندستان کے حالات میں وہ کسی قدر دب گیا، مگر پاکستان میں مسلمانوں کے موجود ہ با ہمی جھگڑے تمام تراسی مزاج کا نتیجہ ہیں۔
20 اکتوبر 1990
منڈل کمیشن نے سفارش کی تھی کہ ہریجنوں کو اور نچلے طبقات کو سرکاری ملازمتوں میں27 فیصد ریزرویشن دیا جائے۔ اس کے خلاف دہلی (اور دوسرے مقامات) میں اینٹی رزرویشن تحریک چلی۔ حکومت نے اس پر توجہ نہ دی، چنانچہ درجنوں نوجوانوں نے خود سوزی کے ذریعہ اپنے آپ کو ہلاک یازخمی کرلیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے بعد ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۰ کو دیوالی کی تاریخ تھی۔ " اینٹی منڈل کمیشن فورم " اور دوسری کئی ہندوتنظیموں نے ا پیل جاری کی کہ پچھلے چند مہینوں میں اینٹی رز رویشن تحریک کے دوران جن نوجوانوں نے اپنی جان دیدی ہے۔ ان کے لئے نشان احترام(mark of respect) کے طور پر اس سال دیوالی کا جشن نہ منایا جائے اور پٹا خہ بالکل نہ چھوڑا جائے ۔(ہندستان ٹائمس17 کتوبر) مگر دیوالی کی رات کو اس کے آگے اور پیچھے اسی دھوم کے ساتھ پٹاخے چھوڑے گئے ۔ جس طرح اورسالوں میں چھوڑے جاتے تھے۔
اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ دیوالی میں پٹاخہ چھوڑنا محض بچوں کا ایک کھیل نہیں ہے، اس کا تعلق ہندوؤں کے مذہبی عقیدہ سے ہے۔ ہندو اپنے عقیدہ کے مطابق یہ سمجھتے ہیں کہ دیوالی کی رات کو پٹاخہ چھوڑنے سے دلدر نکلتا ہے اور لکشمی گھر کے اندر آتی ہے۔ ایسی حالت میں وہ کیوں کر اس سے باز رہ سکتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دیوالی کی آتشبازی میں ہر سال سیکڑوں آدمی زخمی ہوتے ہیں یا مرجاتے ہیں۔مسلسل شور کی وجہ سے رات کے وقت سونا مشکل ہو جا تا ہے۔ دھوئیں اور گیس کی وجہ سے فضاانتہائی کثیف ہو جاتی ہے۔ ہندستان ٹائمس ( 13اکتوبر) کے مطابق نیشنل سوسائٹی فار دی پریونشن آف بلائنڈس (NSPB) نے اور دوسری طبی تنظیموں نے اپیل جاری کی کہ پٹاخہ اور آتشبازی میں سخت احتیاط برتی جائے کیوں کہ وہ آنکھوں کے لئے سخت مضر ہے۔ دہلی میں 5 مہینوں کی مدت میں193آدمیوں کی آ نکھ جانچی گئی۔ یہ مدت دیوالی کے دو تیوہاروں کوکورکر رہتی۔ اس جانچ میں پایا گیا کہ آتش بازی سے آنکھ خراب ہونے والوں میں تقریباً 10 فیصد وہ تھے جن کی آنکھ دیوالی کی آتش بازی میں خراب ہوئی تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیسہ کے اسراف کے علاوہ اس طرح کے مختلف نقصانات ہیں جو دیوالی کی پٹاخہ بازی سے وابستہ ہیں ۔ گر کوئی بھی تحریک اس کو بند کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی کیوں کہ اس کا رشتہ مذہبی عقیدہ سے جڑا ہوا ہے۔ مشرکانہ مذاہب نے کیسے کیسے نازک مسائل انسان کے لئے پیدا کردئے ہیں۔
21 اکتوبر 1990
ایک مصری مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ مصر کے مسلمانوںمیں یہ کہاجاتا ہے کہ : من نام واستراح ، جاء النجاح في الصباح (جو شخص سو جائے اور آرام کرے وہ صبح تک کامیاب ہو جائے گا۔) یہ در اصل طنز ہے۔ مصر کے عیسائیوں نے محنت کو اپنا شعار بنایا اور مسلمانوں نے کاہلی کو ۔ اس پر یہ طنز یہ فقرہ کہاگیا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھوں نے بتایا کہ فاطمیوں کے زمانہ(1171۔969) اور اس کے بعد عیسائیوں پر کچھ مظالم ہوئے۔ اولا عیسائیوں نے ردعمل ظاہر کیا۔مگر ان کا ردعمل ان کے لئے مزید ہلاکت کا سبب بنا۔ (140/6) اس کے بعد انھوں نے اپنی مٹینگ کی اور طے کیاکہ ہم کو ٹکراؤ کو چھوڑ کر صرف علم پراپنی طاقت لگانا ہے۔ ہم کو ہرقیمت پر صرف پڑھنا ہے۔ ۲۵ سال تک انھوں نے اپنی پوری نسل کو پڑھنے پر لگایا۔ اس کے بعد تاریخ بدل گئی۔ آج مصر کے آٹھ ملین عیسائی مصر کی سب سے زیادہ خوش حال کمیونٹی ہیں۔ وہ مصر میں علمی اداروں، سروسوں اور تجارتوں میں اپنے عددی تناسب سے بہت زیادہ حصہ پر قابض ہیں۔
ہندستان کے مسلمانوں کو بھی یہی کرنا تھا۔ مگران کے یہاں کوئی ایسا ر ہنما نہیں اٹھاجوانہیں اس قسم کی رہنمائی دے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ بار بار ٹکراؤ کر کے یک طرفہ طور پر تباہ ہورہے ہیں۔
22 اکتو بر 1990
جامی (1492 -1414) ایک مشہور صوفی اور عالم تھے۔ ان کا ایک فارسی شعر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بھی میں نماز کے لئے مسجد میں داخل ہوا اور سجدہ کیا تو ادھر سے آواز آئی کہ تو نے گھر کے باہرکیا کیا ہے جو تم گھر کے اندر داخل ہوئے ہو۔ :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تو برون در چه کردی که درون خانہ آئی
میں نے اس مصرعہ کو پڑھا تو خیال آیا کہ یہی معاملہ انسان پر آخرت میں گزرے گا۔ انسان دنیا سے گزر کر آخرت کے عالم میں پہنچے گا کہ وہ اپنے رب کے قریب ہو اور اس کے پڑوس میں رہنے کے لئے ایک جگہ حاصل کرے۔ اس وقت خدا کہے گا کہ اسے انسان ، تونے دنیا میں میرے لئے کیا کیا کہ اب تم آخرت میں مجھ سے امیدوار بن کر آئے ہو۔ جب تم نے" باہر" کچھ نہیں کیا تو اب" اندر" بھی تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں۔ یہاں سے نکل جاؤ اور ابد تک اندھیرے صحرا میں بھٹکتے رہو۔
23 اکتوبر 1990
امریکہ کے صدر جارج بشنے پاکستان کو انتباہ دیا تھاکہ24 اکتوبر کو ہونے والے الکشن سے اگر بے نظیر بھٹو کو حصہ لینے سے روکا گیایا منصفانہ الکشن کے بجائے rigged election کرایا گیا تو امریکہ اس کے بعد پاکستان کو ملنے والی60 کروڑ ڈالر سالانہ کی امداد بند کر دے گا۔ اس پر پاکستان کے صدر غلام اسحاق خان اور جنرل مرزا اسلم بیگ نے سخت ردعمل کا اظہارکیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے ، اور ہم کسی قیمت پر مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے ۔
other sourceWords of another person or source
میں نے اس خبر کو پڑھا تو میں نے کہا کہ اسحاق خان اور اسلم بیگ کے ہاتھ میں" عہدہ" کا قلم ہے ان کے ہاتھ میں" تاریخ "کا قلم نہیں۔ اس سے پہلے بھی یحیٰ خاں اور ذوالفقارعلی بھتو کے ہاتھ میں عہدہ کاقلم تھا۔ مگر انھوں نے سمجھ لیا کہ وہ تاریخ کے اوپر حاکمانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہوا کہ1971 میں مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اب اگر پاکستان کے موجودہ حکمراں یہ سمجھ لیں کہ وہ تاریخ کے عالم میں تو دوبارہ وہ پاکستان کی ہلاکت کاسبب بنیں گے۔ ایک لیڈر جوکسی ملک میں عوامی مقبولیت کا درجہ رکھتا ہو ، اس کو مصنوعی تدبیروں سے روکنا ایک ایسا فعل ہے جو ملک کی تباہی کے سوا اور کہیں نہیں لے جاسکتا۔
پاکستان کی بہترین خیرخواہی یہ ہے کہ الکشن پراسس کو بلا روک جاری رکھا جاۓ۔ لوگ دوسروں پر بریک لگانے کے لئے نہ دوڑیں بلکہ اپنے اپنے ممکن دائروں میں کام کریں۔ جو جیتے اس کی جیت کو تسلیم کیا جائے اور جو ہارے وہ اپنی ہارکومان کر خاموش عمل میں مشغول ہوجاۓ۔
24 اکتوبر 1990
المجلہ ایک ہفتہ وار عربی میگزین ہے۔ اس کا ہیڈ آفس جدہ میں ہے اور وہ لندن سے شائع ہوتا ہے۔ وہ سعودی عرب کےخرچ پر نکل رہا ہے۔اس وقت میرے ہاتھ میں اس کا شماره ۱۹ - ۲۵ ستمبر ہے۔ اس پورے پر چہ میں خلیج کے بحران پر مضامین ہیں۔ صدام حسین کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے بغداد میں ایک ہوٹل" الرشید" کے نام سے بنایا۔ اس پر ۳۰۰ ملین ڈالرخرچ ہوۓ۔ ایک ایک کمرہ پر ایک ایک ملین ڈالر خرچ کیا گیا۔ وہ۱۹۸۲ میں ہونے والی حکمرانوں کی کانفرنس کے لئے بنایاگیا تھا۔ مگر یہ کانفرنس منعقد نہ ہوسکی۔ واضح ہو کہ ۱۹۸۲ میں عراق کے اوپر ۲۰ بلین ڈالر قرض تھا جو بڑھتا ہی جا رہا ہے ( ۳۲ -۳۳)
مجلہ کے صفحہ ۲-۳ پرونسٹن سگریٹ کا نمایاں اشتہارہے۔ دوخوش پوش عرب نوجوان ہاتھوں میں جلتا ہو اسگریٹ لئے ہوئے مسکرارہے ہیں۔ اس کے اوپر لکھا ہو اہے: توج نجاحك بنكهة والستون (اپنی کامیابی کو ونسٹن کی خوشبو کا تاج پہناؤ) اسی کے ساتھ اشتہار کے نیچے خفی خط میں یہ جملہ درج ہے :
تحذير حكومي: التدخين يضر بصحتك وننصحك بالامتناع عنه۔ قانونی وارننگ: سگرٹ پینا آپ کی صحت کے لئے مضر ہے اور ہماری نصیحت ہے کہ آپ سگرٹ نہ پئیں۔
ایک طرف سگرٹ کو کامیابی کا راز بتانا اور دوسری طرف سگرٹ کو نقصاندہ بتا کر اس سے بچنے کا مشورہ دیناکس قدر مضحکہ خیز ہے۔ مگر آج اکثر ملکوں میں یہ مضحکہ خیز صورتحال قائم ہے۔ صدام حسین کا مذکورہ ہوٹل بنوا نا جتنا بے معنی ہے ، اتنا ہی بے معنی سگرٹ کا یہ اشتہاربھی ہے۔ ۲۵
25 اکتوبر 1990
ہمارے علماء اور واعظین امت محمدی کو امت مرحومہ کہتے ہیں۔ یعنی وہ امت جس کے لئے مستقل طور پر رحمت و مغفرت کا فیصلہ کر دیا گیا ہوجو ہرحال میں جنت میں جانے والی ہو۔ یہ درست نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قرآن کی تصریح (النساء۲۳ ) کے خلاف ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امت محمدی امت مرحومہ نہیں ، البتہ وہ امت محفوظہ ہے۔ یعنی وہ خدا کے زیرحفاظت ہے۔ امت مرحومہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آخرت کے اعتبار سے ایک بخشی ہوئی امت ہے ۔ یہ ایک بے بنیاد عقیدہ ہے۔ حفاظت کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے ۔ امت محفوظہ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لیکر قیامت تک وہ محفوظ رہے گی کوئی بھی طاقت اس پرقادر نہ ہو گی کہ وہ اس کو مٹاڈالے۔
اس حفاظت کا تعلق امت کی فضیلت سے نہیں بلکہ نبوت کے خاتمہ سے ہے۔ چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی بنی آنے والا نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ آپ کے دین کی حامل قوم کی حفاظت کی جائے۔ اگر یہ قوم مٹ جائے تو دوبارہ بنی کا آنا ضروری ہو جائے گا۔ یہی وہ خاص مصلحت ہے جس کی بنا پر امت محمدی کو محفوظ امت قرار دیا گیا ہے۔
26 اکتوبر 1990
1986 میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی بنائی گئی ۔ اس کے بعد مسجد کی بازیابی کے نام پرجو تحریک چلائی گئی وہ احمقانہ حد تک بے معنی تھی۔ اس جوشیلی تحریک سے مسلمان تو کچھ بھی حاصل نہ کر سکے ۔ البتہ ہندووں کے اندر مسلم دشمنی کا جذبہ وسیع پیمانہ پر جاگ اٹھا۔ اب اکتوبر۱۹۹۰ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر ایل کے ایڈوانی کی رام رتھ (رتھ یاترا) کے بعد ہندووں کا منفی ذ ہن اپنی آخری حد پر پہنچ گیا ہے۔ میں نے دہلی کے ایک مسلمان سے کہا :مسلمانوں کے جھوٹے لیڈروں نے مسلمانوں کو ان کی تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ اب اگر بابری مسجد ٹوٹے تو ہندوؤں کا حوصلہ بڑھے گا، اور اگر بابری مسجد نہ ٹوٹے تو ہندووں کا انتقام بڑھے گا۔
حکومتی دور میں مسلمانوں کے لئے برصغیر ہند میں بڑے بھائی بن کر رہنے کا موقع تھا مگر وہ اس کی ذمہ داریوں کو نبھا نہ سکے۔ ۱۸۵۷ کے بعد انھیں موقع ملا کہ وہ یہاں بھائی بھائی بن کر رہیں۔ اس کو بھی انھوں نے اپنی نادانی کے تحت کھو دیا ۔ ۱۹۴۷ کے انقلاب کے بعد ان کے لئے موقع تھا کہ وہ چھوٹے بھائی کی حیثیت سے رہیں۔ اس پر وہ قانع نہ ہوسکے۔ اب ۱۹۹۰ میں یہ موقع بھی ختم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب انہیں اس ملک میں حقیر بن کر رہنے پر راضی ہونا پڑے گا۔
27 اکتوبر 1990
ایک صاحب نے کہا کہ مسلمان ملت کے کاموں میں پیسہ نہیں دیتے۔ میں نے کہا کہ یوں نہ کہئے۔ بلکہ یوں کہئے کہ کچھ مدوں میں دیتے ہیں اور کچھ دوسری مدوں میں نہیں دیتے۔ مثلا موجودہ مسلمان مسجد اور مدرسے میں خوب چندہ دیتے ہیں۔ وہ بزرگوں کو ندرانہ پیش کرتے ہیں لیکن اگر ان سے غیرمسلموں میں دین کے تعارف کے لئے پیسہ مانگئے ، یا مسلمانوں کے اندر تعمیری شعور پیدا کرنے کی مہم میں تعاون کے لئے کہے تو وہ ایسی مدوں میں پیسہ نہیں دیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھوں نے پوچھا کہ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب جمو دہے ۔مسلمان ذہنی جمو دمیں مبتلا ہیں۔ ذہنی جمود کی وجہ سے وہ ان روایتی مدوں کو تو دینی کام کہتے ہیں جو پہلے سے ان کے درمیان چلی آرہی ہے اور جو تاریخی طور پرمسلم مد کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔ مگر وہ مدیں جن کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے ذہنی بیماری اور غوروفکر کی صلاحیت درکارہے۔ ان کو سمجھ نہیں پاتے، اس لئے ایسی مدوں میں مالی تعاون دینے کا جوش بھی ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اول الذکر مدوں کو ثواب کی مدسمجھتے ہیں۔ مگر اپنے ذہنی جمود کی وجہ سے وہ نہ جان سکے کہ ثانی الذکر مدیں بھی دینی مدیں ہیں، بلکہ زیادہ اہم مدیں ہیں ۔ ایسی حالت میں وہ ان مدوں میں کیسے پیسہ دے سکتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
28 اکتوبر 1990
ایک صاحب نے کہا کہ آپ سید ابوالاعلی مودودی، سید قطب وغیرہ اکابرپرتنقید کرتے ہیں۔ دوسری طرف بال ٹھاکرے اور اس قسم کے دوسرے دریدہ ذہن لوگوں کے بارے میں خاموش رہتے ہیں۔ آخر اس فرق کی وجہ کیا ہے۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
میں نے کہاکہ میرا جواب وہی ہے جو اس قسم کے سوال پر محدثین کا جواب تھا۔ محدثین راویان حدیث پر سخت تنقید کرتے تھے۔ حتی کہ محدثین کے بارہ میں کہا جانے لگا کہ وہ لوگوں کی غیبت کرتے ہیں۔ دوسری طرف محدثین اپنے وقت کے امراء اور حکام وغیرہ کونظرانداز کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ محدثین سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں ایسا کرتے ہیں کہ ایک گروہ پر خوب تنقیدیں کرتے ہیں اور دوسرے گروہ کے بارہ میں خاموش ہیں۔
محدثین نے کہاکہ راویان حدیث کا معاملہ دوسروں سے سراسر مختلف ہے۔ان پہ ہم اس لئے تنقید کرتے ہیں کہ ان سے دین اخذ کیا جا تا ہے (لان الدين عنهم یوخذ ) جب کہ دوسرے لوگوں کی یہ حیثیت نہیں کہ وہ لوگوں کے لئے دین کا ماخذ ہوں ۔
یہی میرا جواب بھی ہے۔ بال ٹھا کرے قسم کے لوگ بلاشبہ بہت سی لغو باتیں کرتے ہیں، مگر وہ لوگوں کے لئے دین خداوندی کا ماخذ نہیں ہیں۔ جب کہ وہ لوگ جن پر الرسالہ میں تنقید ہوتی ہے۔ وہ ایسے لوگ ہیں جو بہت سے لوگوں کے لئے دین کا ماخذ بنے ہوئے ہیں۔ وہ لوگوں کے لئے شارح دین بن گئے ہیں۔ اور ایسا کوئی شخص جب غلطی کرے تو اس پر ضرور تنقید کی جائے گی۔ ایسے لوگوں پر تنقیدنہ کرنا دین کی تصویر بگڑنے پر راضی ہوتا ہے ،اور یہ کسی طرح جائز نہیں۔
29 اکتوبر 1990
ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (7 ربیع الثانی1411ھ 25 اکتوبر 1990) میں مولانا مختار احمد ندوی (رئیس جمعیت اہلحدیث فی الہند ) کا انٹرویو چھپاہے۔ صدام حسین کے کویت پر حملہ (2 اگست 1990) کے بارہ میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم کو صدام حسین کے اسلام پرشک ہے۔ وہ بعثی، سیکولر ، ملحد ہے۔ اس نے نہ کبھی نماز پڑھی۔ اور نہ روزہ رکھا اورنہ کسی مسجد میں داخل ہوا۔ (ونحن نشك في إسلامه ... فصدام بعثی علمانى ملحد،لم يعهد عليه انه صلى وصام ولادخل مسجداً) صفحہ ۱۹
کویت پر صدام حسین کے حملہ کو میں سراسرغلط سمجھتا ہوں ، مگر صد ام حسین کی مخالفت کا مذکورہ انداز درست نہیں۔ ہم کو صدام حسین کے ظلم اور جارحیت کی مذمت کرنا ہے ۔ اس کے اسلام پر فتوی دینا نہیں ہے۔ اور اگر کوئی شخص اس کے اسلام پرفتوی دینا چا ہتاہو تو اس کو یہ کام کویت پر حملہ سے پہلے کرنا چاہئے تھا۔
اس سے پہلے جب صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا تھا تو اس زمانہ میں ہمارے علماء صدام کے بارہ میں اس قسم کے بیانات نہیں چھاپتے تھے۔ اس زمانہ میں اس قسم کے الفا ظ آیت اللہ خمینی کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہمارے علماء کا محرک شاید باطل کی مذمت نہیں بلکہ خلیج کے ملوک کو خوش کرنا ہے۔ ورنہ ان کے یہاں یہ تضادکیوں۔
30 اکتوبر 1990
مولانا انیس لقمان ندوی سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جو لوگ "محبت رسول "کے ہنگامے کھڑے کئے ہوئے ہیں وہ جانتے بھی نہیں کہ محبت رسول ہے کیا۔ میں نے کہا کہ محبت رسول کو ئی عشق عاشقی کا معاملہ نہیں، محبت رسول خدا کے فیصلہ پر راضی ہونے کا نام ہے۔ یہ ایک عظیم الشان قربانی ہے نہ کہ کسی قسم کی لفظی نعت خوانی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
31 اکتوبر 1990
مسٹرارن شرما (انگلش جرنلسٹ) بابری مسجد (اجودھیا) کے مسئلہ پر انٹرویو لینے کے لئے آۓ۔ میں نے کہا کہ آپ سب سے پہلے اس پر سوچئے کہ ۱۹۸۷ میں شاہ بانو بیگم کا اشواٹھا تو اس میں مسلم علماء نے لیڈنگ رول ادا کیا۔ اس کے بعد بابری مسجد کا اشو اٹھا توعلماء کا اس میں کہیں نام نظرنہیں آتا۔ اس اشو پر تمام ہنگامے وہ لوگ اٹھارہے ہیں جن کا صحیح ترین نام Petty Politicians ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بابری مسجد کا اشو شریعت کے اعتبار سے وہ اہمیت ہی نہیں رکھتا جو مسلمانوں کے سطحی لیڈروں نے اسے دے رکھا ہے۔ میں نے کہا ہے کہ ہندستان میں3 لاکھ سے کچھ زیادہ مسجدیں ہیں۔ پورے برصغیرمیں تقریبا 10 لاکھ مسجد یں ہیں۔ یہ سب کی سب مسجدیں یکساں درجہ کی ہیں۔ اسلام میں دنیا کی تین مسجدیں ہی خصوصی اہمیت کی حامل ہیں ۔ اس کے بعد جتنی مسجد یں ہیں سب برابر ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہاکہ علماء کا موقف یہ ہے کہ بابری مسجد کو مقامی مسئلہ کی حیثیت دو اور پر امن دائرہ میں محدود رکھتے ہوئے اس کی کوشش کرو۔ ۱۹۴۷ کے بعد ہریانہ ، راجستھان پنجاب اور دہلی میں ہزاروں مسجدوں کے لئے اس قسم کے مسائل پیدا ہوئے مگر ان مسجدوں کے لئے کبھی" ایکشن کمیٹی" نہیں بنی اور نہ ان کے لئے کبھی دھواں دھار تحریک نہیں چلائی گئی ۔ پھر بابری مسجد کے لئے اس سے مختلف طریق کار کیوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مزیدیہ کہ اگر صورت حال ایسی بن جائے کہ ایک طرف مسجد ہو اور دوسری طرف تمام مسلمانوں کی جان اور مال اور عزت کا مسئلہ ہو تو یقینا مسلمانوں کی حفاظت کے پہلو کو ترجیح دے جائے گی۔
10 اکتوبر 1990
۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ کو ہندو نوجوان کارسیوک ہزاروں کی تعداد میں اجودھیا میں گھس گئے۔وہ بابری مسجد کے اوپر چڑھ گئے۔اس کے تینوں گنبدوں پر اپنا گیروا جھنڈا لہرا دیا اور ایک گنبد کو کسی قدر نقصان بھی پہنچایا ۔ ان کا ایک نعرہ یہ تھا: تین نہیں اب تیس ہزار ، نہیں بچے گا کوئی مزار ۔
مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر روزانہ پرجوش تقریریں کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اسلامی لشکر ، آدم سینا اور حفاظتی دستے تیار ہیں۔ 30 اکتوبر کو پانچ لاکھ مسلم نوجوان سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ہندوؤں کو بابری مسجد میں داخل ہونے سے روک دیں گے ۔ مگر جب تاریخ آئی تو پانچ مسلمان بھی سڑک پر موجود نہ تھا ۔ بزدلی کا اتنا بڑامظاہرہ شاید اس سے پہلے مسلمانوں نے کبھی نہیں کیا تھا۔
دوسرا بزدلی کا مظاہرہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کی ہندو اقلیت کو وہاں کے مسلمانوں نے ستایا۔ ٹائمس آف انڈیا(10 نومبر1990 ) کے مطابق ، بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے وہاں کے ہندووں کے خلاف فساد برپاکیا۔ اور صرف چائگام میں120 مندروں کو ڈیمیج کیا۔ پاکستان میں سندھ کے مختلف مقامات پر ہندو مخالف مظاہرے کئے گئے۔ ہندستان ٹائمس 10 نومبر 1990 کے مطابق ، انھوں نے سندھ کے ایک ہندو کو مار ڈالا اور کئی مندروں کو نقصان پہنچایا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ دونوں بلاشبہ بزدلی کے واقعات ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ دونوں میں سے کس بزدلی کو میں زیادہ بڑی بزدلی قرار دوں۔