← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
October 1989
English · 22 min read
یکم اکتوبر 1989
سرسید احمد خاں نے اپنے رسالہ تہذیب الاخلاق میں خلافت راشدہ کے متعلق ایک مضمون چھاپا۔ اس مضمون کے بین السطور سے کچھ اس طرح کا مطلب نکلتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت علی کو خلافت ملنا چاہئے تھا۔ بنارس کے ایک شیعہ عالم اس مضمون کو پڑھ کر بہت خوش ہوئے ۔ انھوں نے مذکورہ پرچہ لیااورسفرکی کے علیگڑھ پہنچے ۔ شیعہ عالم نے سرسید کے مضمون کی بہت تعریف کی اور پھر ایک نازک سوال کر دیا اگر آپ حضور اکرم کی وفات کے وقت موجود ہوتے تو آپ خلافت کے لئے ابو بکر کی تائید کرتے یاعلی کی ''۔
اس وقت مجلس میں مذکورہ شیعہ کے علاوہ بعض سنی بھی موجودتھے۔سرسید اگر خلیفہ کے منصب کے لئے ابوبکر کا نام لیں تو شیعہ عالم سے ٹکراؤ ہوتا اور اگرعلی کا نام لیں تو سنی عالم سے ۔سرسید نے ایک لمحہ سوچا اور پھر بولے : ' اجی حضرت ، میں ان کی ان کی تائید کیوں کرنے چلا ۔ میں خود اپنی خلافت کا ڈول ڈالتا ۔کیا ایسا گولڈن چانس دوسروں کے لئے چھوڑ دیتا ''
ایسے نازک موقع پر بہترین طریقہ یہی ہے کہ ایسا جواب دیا جائے کہ پوری بات تفریح میں ختم ہوجائے۔
2 اکتوبر 1989
سیدحامد (.I.A.S) نئی دہلی کی مرکزی حکومت میں اڈیشنل سکریٹری تھے ۔ اس کے بعد وہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ دہلی کی مرکزی حکومت میں کوئی 64 سکریٹری ہیں۔ ان پر پورے ہندستان کی حکومت کا دار و مدار ہے۔ ان کی سرکاری مصروفیت کایہ حال ہے کہ لوگوں کو ان سے ملاقات کرنے کے لئے بسا اوقات پندرہ پندرہ دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مگر میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ان سے تعلیمی شعور کا یہ حال ہے کہ شام کو آفس سے فرصت ملی اور میاں بیوی دونوں اپنے بچوں کی تعلیم اور ہوم ورک میں مدد دینے کے لئے بیٹھ گئے اور گھنٹہ دو گھنٹہ ایک اپنے زیرتعلیم بچوں کی تیاری کر اتے رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تعلیم کے بارہ میں ہندو وقوم کی یہی باشعوری ہے جس نے اس کومسلمانوں سے آگے کر رکھا ہے۔ نہ کہ مفروضہ تعصب اور سازش۔ مسلمانوں کی پس ماندگی کو اسی قسم کی تعلیمی محنت کے ذریعہ ختم کیا جاسکتا ہے نہ کہ فریاد اور مطالبات کے ذریعہ ۔
3 اکتوبر 1989
سعودی تعاون سے ایک عربی ہفت روزہ نکلتا ہے جس کا نام المجلہ ہے۔ اس کا ہیڈ آفس لندن میں ہے ، اس کے شماره3 اکتوبر1989 (4 ربیع الاول 1410ھ) میں ایک اسرائیلی صحافی کی کتاب (عدوی نفسی) کا تعارف چھپاہے۔
Yor am Binur, My Enemy, My Self, London 1989
کتاب کا یہودی مصنف یورام بینور نہایت عمده عربی جانتا ہے اور بالکل عربوں کی طرح عربی زبان بولتا ہے۔ چنانچہ وہ فلسطینیوں کی بستی میں برسوں تک رہا۔ ان کے بارہ میں اندر سے واقفیت حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے یہ کتاب لکھی ۔ دوسری قوموں میں کثرت سے ایسی مثالیں موجود ہیں۔ مگر آج مسلمانوں میں ایسا کول شخص موجود نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ہر معاملہ میں دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے ہیں۔ جھوٹے فخر کے سوا اور کوئی سرمایہ ان کے پاس موجود نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4 اکتوبر 1989
کچھ سال پہلے لکھنؤ کی دیواروں پر اردو زبان کے خلاف اس مضمون کے ہندی پوسٹر لگائے گئے تھے، جس بھاشا نے دیش کو بانٹا ، اس بھاشا کو دیش سے نکالو (ٹائمس آف انڈیا 4 اکتوبر1989 ) مگر آج اسی ریاست یو پی میں اردو کو سکنڈ لینگویج کا درجہ قانونی طور پر دیدیا گیا ہے۔
3 اکتوبر کو اتر پردیش لیجسلیٹو کونسل نے بی جے پی کی زبر دست مخالفت کے باوجود ار دو کر دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے سے متعلق سرکاری زبان ترمیمی بل 1989، کی منظوری دیدی۔ بی جے پی ممبروں نے اس کے قانونی جواز کوچیلنج کیا۔ اس کے بعد تین ممبرار دو کے خلاف نعرہ لگاتے ہوئے ایوان کے بیچ میں پہنچ گئے۔ اس پر چیرمین نے ماشلوں کو حکم دیا اور انھوں نے تینوں مہروں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ یہ ممبر'' اردو بل مردہ باد" اور " ایک راجیہ بھاشا نہیں چاہئے دوسری بھاشا " کا نعرہ لگاتے ہوئے باہر نکلے ۔ (قومی آواز 4 اکتوبر 1989)
other sourceWords of another person or source
اتر پردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملناصرف ایک عطیہ نہیں وہ ایک ذمہ داری ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اردو میں اعلی لٹر یچر تیارکر کے اردو کی کوئی انسانی افادیت ثابت کریں۔ اگلے چند برسوں میں اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو صرف مذکورہ قسم کا قانون اردو کے لئے زندگی کی ضمانت نہیں بن سکتا ۔
5 اکتوبر 1989
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ دوسروں کاظلم تعصب نہیں ہے ۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں انھوں نے فیض رسانی کی صلاحیت کھو دی ہے ۔ وہ ہرجگہ Receiving end پر ہیں ۔
حال میں میں نے لیبین ائیر لائینز سے سفر کیا تو معلوم ہوا کہ لیبین ائر لائینز انتہائی خستہ حالت میں ہے۔اس کے پاس نہ جہاز ہیں نہ فاضل پرزے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ امریکہ نے لیبیا کو جہاز کی سپلائی بند کر دی ہے۔ دوسری طرف سعودی ائیر لائینز نہایت انداز کا ہے کیونکہ اس کے اوپر امریکہ کی عنایتیں ہیں۔ افغانستان میں امریکہ کی عنایتیں ہیں۔ افغانستان میں امریکہ نے ہتھیار دیا تو افغانی مجاہدین نے روسیوں کو مار بھگایا۔ فلسطین میں امریکہ نہیں دیتا تو وہاں سارا عالم اسلام عاجز ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کو امریکہ نے اپنی سرپرستی میں لے رکھا ہے تو وہاں خوشحالی ہے۔ بنگلہ دیش کو امریکہ نے نظر انداز کر دیا ہے تو وہاں خوش حالی ہے۔ بنگلہ دیش کو امریکہ نے نظر انداز کر دیا ہے تو وہ بدترین بد حالی کا شکار ہو رہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
6 اکتوبر 1989
مولاناعبدالخالق صاحب رائے بریلی کے ایک حنفی عالم تھے۔ انھوں نے فتح الموحد کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب ستمبر 1902 میں انوری پریس لکھنؤ سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں میلادالنبی کے رواج کو سراسر بدعت (محدث فی الدین) کہا گیا ہے۔ اور اس موضوع پر تاریخی حوالوں کے ذریعہ مدلل گفتگو کی گئی ہے ۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں میلاد النبی کی مجالس کا مطلق رواج نہ تھا۔ یہ چھ سو سال بعد شروع ہوا۔ موصل کے ایک مجہول الاحوال شخص عمر بن محمد نے 604ھ میں پہلی بارمولد رسول کے نام سے اس قسم کی مجلس منعقد کی۔ اس کے بعد سلطان المظفر ابوسعید کو کری نے اس کی تقلید کی ۔ وہ اربل کا حاکم تھا جو مو صل کے قریب ایک تاریخی شہر ہے۔ اس طرح یہ بدعت عراق سے شروع ہوئی اور پھر ہر جگہ پھیل گئی۔
میلاد کے مشن اور جلسے جلوس اور تقریبات کا بدعات ہونا ایک ثابت شدہ امر ہے ۔ یہ بھی حدیث سے ثابت ہے کہ ہر بدعت ضلالت ہے ۔ اس طرح کی سیکڑوں باتیں آج مسلمانوں میں رائج ہیں۔ کوئی بھی رہنما ان کو ختم کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ایسی حالت میں کیوں کرممکن ہے کہ موجودہ مسلمان اللہ کی رحمت و نصرت کے مستحق قرار پائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
7 اکتوبر 1989
مشہورفلم ایکٹر دلیپ کمار محمد یوسف نے اپنی پوری زندگی فلمی دنیا میں گزاری۔ مگر اپنی ذاتی زندگی میں وہ ایک پاکباز آدمی ہیں۔ اس دین کے پروپیگنڈے کی تردید کرتے ہوئے دلیپ کمارنے کہاکہ" میں ایک سنی عقیدہ مسلمان ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی شراب نہیں پی۔ نماز پابندی سے ادا کرتا ہوں۔ خیرات زکوۃ برابر ادا کرتا ہوں۔ اسلام کی راہ میں اپنا جان و مال بروقت قربان کرنے کو تیار ہتا ہوں (وفاق یکم اکتوبر 1989)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
واقف کاروں کے بیان کے مطابق، دلیپ کمار (محمد یوسف )کے الفاظ بالکل درست ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بالعموم سیکولر لوگ نام نہاد دینی لوگوں کے مقابلہ میں سیرت و کردار کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ سیکولر لوگوں کا ضمیرا نہیں ملامت کرتا رہتا ہے کہ تم غلطی پر ہو۔ یہ احساس ان کے لئے ایک قسم کا دینی اور اخلاقی محرک بن جاتا ہے ۔ اس کے برعکس معروف دینی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو دین دار ہیں۔ ان کا یہ احساس ان کے اندر قساوت پیدا کر دیتا ہے اور وہ گناہ کے ارتکاب میں زیادہ جری ہو جاتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مشہورصوفی اور عالم جامی (1492 1414) کا ایک شعر ہے جو غالبا اسی صورتحال سے تعلق رکھتا ہے :
other sourceWords of another person or source
قمارخانه رفتم ہمہ پاکباز دیدم چوبہ صومعه رسیدم ہمہ یافتم دغائی
8 اکتوبر 1989
پاکستان بننے کے بعد مسٹر محمد علی جناح نے 13 جنوری 1948 کو اسلامیہ کالج پشاوری تقریر کرتے ہوئے کہا: ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا۔ بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں ( نوائے وقت لاہور ،3 ستمبر1989)
other sourceWords of another person or source
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خاں نے دوبارہ14 جنوری 1948کہ اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے اس بات کو دہرایا اور کہا: ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک قطعہ زمین حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا۔ بلکہ ہم لوگ ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں اسلام کے اصول کو آزماسکیں (نوائے وقت، لاہور ، یکم اکتوبر )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
؎یہی بات مسٹر جناح سے لے کر مولانا ابوالاعلی مودودی تک تمام پاکستانی مسلمان کہتے رہے ہیں ۔ مگر یہ عین وہی چیز ہے جس کو انگریزی مثل میں گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنا کہا گیا ہے۔
putting the cart before the horse
اسلامی اصولوں کے نفاذ کی صحیح ترتیب یہ ہے کہ پہلے افراد کے اندر ذہنی تبدیلی اور قلبی آمادگی پیدا کی جائے۔ اس کے بعد ہی کسی ملک میں اسلامی اصول کا عملی نفاذ کیا جاسکتا ہے۔ پہلے قطعہ زمین حاصل کرو ، اس کے بعد اسلامی نظام نافذ کرو، یہ جملہ گرامر کے لحاظ سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے سراسرغلط ہے۔ وہ احمقانہ حد تک بے معنی ہے۔ یہ الٹی ترتیب ہے جو موجودہ دنیا میں کبھی بھی واقعہ نہیں بن سکتی۔
9 اکتوبر 1989
ہجرت دعوت کا مرحلہ نہیں، ہجرت نبوت کا مرحلہ ہے۔ یہ اس سنت کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے لئے مقرر کیا ہے۔
نبی جب کسی قوم میں دعوت دیتا ہے ، اور اپنی دعوت کو اتمام محبت کے مرحلہ تک پہنچادیا ہے تو اس کے بعد وہ قوم عذاب کی مستحق ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد براہ راست خدا کے حکم کے تحت بنی اپنی قوم کو چھوڑ کر باہر چلا جاتا ہے۔ تاکہ خدا کا عذاب آئے اور منکر قوم ہلاک کردی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ نبیوں نے ہمیشہ ہجرت کی ہے مگر عام داعیوں نے کبھی اس طرح ہجرت نہیں کی۔
10 اکتوبر 1989
حسان بن ثابت الانصاری کی بابت کچھ عرب ناقدوں نے کہا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد حسان کی شاعری کمزور پڑ گئی۔ حالاں کہ اسلام میں داخل ہونے سے پہلے ان کے اشعارنہایت طاقت ور ہوا کرتے تھے ( ان شعر حسان قد ضعف في الاسلام وقد كان فحلا فی لجاملية )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے حسان بن ثابت کے دونوں زمانوں کے اشعار کاتقابلی مطالعہ نہیں کیا ہے۔ تاہم اگر یہ صحیح ہو تو اس سے اسلام پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اسلام ایک سائنٹفک مذہب ہے۔ وہ آدمی کے اندرسنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرنا ہے ، اس لئے اگر اسلام میں داخل ہونے کے بعد کسی شاعر کی شاعری کمزور پڑ جائے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ۔
11 اکتوبر 1989
بابری مسجد کو مسلمان (صحیح تر لفظ میں مسلم لیڈر) مقامی حیثیت سے لیتے اور اس کے لئے خاموش جد و جہد کرتے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ مگر مسلمانوں نے اس کو پورے ملک میں شور وغل کا مسئلہ بنایا۔ اس کے رد عمل میں ہند وفرقہ واریت بہت بڑے پیمانے پر جاگ اٹھی۔
ہریانہ کے ایک بھٹہ چلانے والے ہندو نے پچاس لاکھ اینٹیں بنوائیں۔ ہراینٹ پر شری رام لکھا ہوا تھا۔ ان اینٹوں کو اس ہندو نے رام جنم بھومی کی تعمیرکے لئے مفت دے دیا۔ اب وشو ہندو پریشد وغیرہ جماعتوں نے یہ کیا کہ ان اینٹوں کو گاڑیوں میں رکھ کر سارے ہندستان میں گھمانا شروع کیا۔ اس کا نام'' رام شیلا'' یعنی رام کی اینٹیں رکھ دیا گیا۔ ہندوئوں نے ان اینٹوں کے نام پر کروڑوں روپئے نذر کئے۔
ٹائمس آف انڈیا(10 اکتوبر1989 ) کے صفحہ اول پر ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ رام شیلا پوجن بنیادی طور پر ایک وسیلہ ہے جس کے ذریعہ ہندوئوں میں ہندو ہونے کا سویا ہوا فخرجگایا جا رہا ہے :
other sourceWords of another person or source
The Ram Shilapujansamaroh is basically a channel through which the
"slumbering pride" in being a Hindu is attempted to be aroused.
ہندووں کے سوۓ ہوۓ فخر کو جگانے کی اصل ذمہ داری نام نہادمسلم لیڈروں پر ہے جنھوں نے بابری مسجد کے نام پر سارے ملک میں ہنگامہ کھڑا کیا۔ یہ ایک ردعمل ہے مسلمانوں کے عمل کا۔ بابری مسجد تومسلمانوں کوملی نہیں ، البتہ ایک نیاشدید ترمسئلہ ان کے خلاف کھڑا ہو گیا۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان جھوٹے لیڈروں سے قوم کو کب نجات ملے گی۔
12 اکتوبر 1989
ندوہ (لکھنؤ) کے تین طالب علم ملاقات کے لئے آئے۔ ان میں سے ایک یسین مالیگانوی تھے جو شبلی ہاسٹل میں رہتے ہیں۔ یہ ہاسٹل لکھنو یونیورسٹی کے ہاسٹل سے ملا ہو اہے۔ انھوں نے بتایا کہ رات کو جب لائٹ چلی جاتی ہے تو یونیورسٹی کے لڑکے اپنی چھتوں پر چڑھ جاتے ہیں اور ندوہ والوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیا الفاظ کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ بالکل فحش گالی ہوتی ہے جس کو ہم اپنی زبان سے ادا نہیں کرسکتے۔ شبلی ہاسٹل کی دیوار اور یونیورسٹی ہاسٹل کی دیواریں تقریبا 20 فٹ کا فاصلہ ہے۔
ذی قعدہ 1409ھ میں ایک روز ایسا ہی ہوا۔ ندوہ کے کچھ لڑ کے اپنی نیت پر چڑھ کر ان کا جواب دینے لگے۔ اس سے شدت پیدا ہوئی اور یونیورسٹی کے لڑکوں نے باقاعدہ پتھر پھینکنے شروع کئے۔ کچھ پتھر ایک استاد مولانا محمد خالد کے گھر میں گرے جو پاس ہی رہتے ہیں۔ کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد مولانا محمد رابع حسنی اور ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی وغیرہ آئے۔ مولانا رابع صاحب نے تقریباً پندرہ منٹ تک ندوہ کے لوگوں کو سمجھایا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ لوگ ہرگز جوابی اشتعال نہ دکھائیں۔ اپنے اپنے کروں میں رہیں وہ چلاتے چلاتے اپنے آپ خاموش ہو جائیں گے۔ آپ لوگ ہرحال میں سکون سے رہئے اور رد عمل مت ظاہر کیجئے۔
کیسے عجیب میں ندوہ کے لوگ ۔ وہ الرسالہ کے بارہ میں کہتے ہیں کہ الر سالہ مسلمانوں کو بزدلی سکھاتا ہے۔ اور خود اپنے ذاتی معاملہ میں عین الرسالہ کے مسلک پر عمل کر رہے ہیں۔ عوامی جلسہ میں وہ جہاد پر تقریر کرتے ہیں اور جہاں اپنی ذات زد میں ہو وہاں صبر و تحمل کی تلقین کر رہے ہیں (ملاحظہ ہو ، تعمیرحیات 10اگست 1988)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
13 اکتوبر 1989
گورکھپور کے ایک صاحب تشریف لائے ۔ وہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے اور دوسروں کے کئی تبلیغی تجربات بتائے۔ مثلا ایک انجینر صاحب کا قصہ بتایا جو انھوں نے خود بیان کیا تھا۔ انجنیر صاحب نے ان سے بتایا کہ میں ایک بار ایک جماعت کے کرفلاں مقام پرگیا۔ وہاں ہم لوگ ایک مسجد میں ٹھہرے ۔ یہ مسجد بدعتیوں کے محلہ میں تھی ۔ وہ لوگ جماعت کو دیکھ کر بگڑگئے۔
ہمارے سامان اور اسٹوو وغیرہ کو باہر پھینک دیا اور ہم کو مسجد سے باہر نکال دیا۔ مگرہم لوگ ان سے ٹکرائے نہیں۔ ہم ان کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ شام کو ایک شخص کو رحم آیا وہ ہم کو دوبارہ مسجد میں لے گیا۔ ہم لوگ چند دن وہاں رہے اور خاموشی اور حکمت کے ساتھ ان کی تعلیم کرتے رہے۔
انجنیر صاحب نے انھیں بتایا کہ اس واقعہ کے پانچ سال بعد ایک سفر کے دوران میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی تعارف کے بعد میں نے وہاں کا حال پوچھا۔ اس نے کہا کہ صاحب آپ کا ہمارے یہاں آنا ہمارے لئے بہت بابرکت ثابت ہوا۔ وقتی طور پر چھ لوگ مخالف ہو گئے تھے۔ مگر آپ نے جو بیج ڈالاتھاوہ بڑھتارہا یہاں تک کہ آج وہ شاداب درخت بن چکا ہے بہت سے لوگ بدعت سے توبہ کر کے تبلیغ کے ساتھ جڑ گئے ہیں، وغیرہ
other sourceWords of another person or source
مذکورہ تبلیغی بزرگ نے اس کے بعد الرسالہ کا ذکر کیا۔انھوں نے کہا کہ آپ کے سفرنامہ میں خودستائی ہوتی ہے۔ میں نے کہاکہ سفرنامہ میں جو چیز ہوتی ہے وہ خودستائی نہیں، بیان واقعہ ہے۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے آپ نے مذکورہ انجنیر صاحب کی بات نقل کی ۔ سفرنامہ میں الرسالہ یامطبوعات الرسالہ کے بارہ میں کسی کا تاثر نقل کیا جاتا ہے۔ اس کو آپ خودستائی کہتے ہیں۔ مگراسی قسم کا تاثر انجنیر صاحب نے نقل کیا تو آپ کو وہ خودستائی محسوس نہیں ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کی وجہ یہ ہے کہ انجنیر صاحب نے جو بات کہی اس کو آپ نے تبلیغی مشن کے خانہ میں ڈال دیا ۔ اور میں نے الرسالہ میں اسی قسم کی جو بات درج کی اس کو آپ میری ذات کے خانہ میں ڈال رہے ہیں ۔ حالاں کہ جس طرح تبلغ ایک مشن ہے اسی طرح الرسالہ بھی ایک مشن ہے ۔اگر آپ سفرنامہ میں درج شدہ واقعہ کو الرسالہ مشن کے خانہ میں ڈال دیں تو وہ آپ کو خودستائی نہ دکھائی دے۔ بلکہ وہ آپ کو الرسالہ مشن کی رفتار کار دکھائی دینے لگے، جس طرح انجنیئر صاحب کی بات آپ کو خود ستائی کے بجائے تبلیغی مشن کی رفتار کار نظر آرہی ہے ۔
14 اکتوبر 1989
محمد ہاشم قاسمی صاحب حیدرآباد ، جنھوں نے ہمارے ساتھ غصب اور خیانت کا معاملہ کیا ہے۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے راقم الحروف کو بد نام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ حال میں انھوں نے ایک ہینڈپل چھاپ کر تقسیم کیا ہے۔ اس میں میرے متعلق بہت سی جھوٹی اور بے بنیاد باتیں کہی گئی ہیں ۔
ایک صاحب اس ہینڈ بل کو پڑھنے کے بعد مجھ سے ملے۔ انھوں نے پرجوش طور پر کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ بابری مسجد ہندوؤں کے حوالے کر دینا چاہئے۔ میں نے پوچھا کہ یہ آپ نے کیسے جا نا۔ انھوں نے کہا کہ دیکھئے ، اس ہینڈبل میں یہی لکھا ہو اہے۔ میں نے کہاکہ ہینڈ بل میں یہ بات کسی حوالہ کے بغیر کہی گئی ہے ۔ موجودہ صورت میں وہ زیادہ سے زیادہ ایک خبر ہے۔ اور خبر کے متعلق ہمارے فقہا ء کا کہنا ہے کہ خبرمیں سچ اور جھوٹ دونوں کا امکان ہوتا ہے ( الخبريحتل الصدق والكذب،) پھر کیا آپ نے اس خبر کی تحقیق کی۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی کسی " خبر " تحقیق کے بغیر ماننا اسلام میں جائز نہیں۔ آپ کو چاہئے تھا کہ سب سے پہلے ہینڈ بل والے صاحب سے اس کا حوالہ مانگیں اور میری اصل عبارت کا تقاضا کریں ۔ اور جب تک وہ حوالہ اور اصل عبارت پیش کریں اس وقت تک اس معاملہ میں ہرگز کوئی رائے قائم نہ کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
15 اکتوبر 1989
ایک صحابی نے بعد کے زمانہ میں ایک تابعی سے کہا کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم قرآن کی دس آیتیں لیتے تو ہم اس وقت تک آگے نہیں بڑھتے جب تک ہم اس کو پوری طرح سیکھ لیں اور اس میں جو کچھ ہے، اس کو پوری سچائی کے ساتھ اخذ نہ کرلیں ( رکھنا اذا اخذنا عشر آيات لانتجاوزهـاالااذاتعلمنامامهابصدق)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصحاب رسول کی نظر قرآن کے معانی پر ہوتی تھی ، موجودہ مسلمانوں کی نظر قرآن کے الفاظ پر ہوتی ہے ۔ ان کے نزدیک تد بر قرآن کی اہمیت تھی، اب لوگوں کے نزدیک تلاوت قرآن کی اہمیت ہے کتنا زیادہ فرق ہے دور اول کے مسلمانوں میں اور آج کے مسلمانوں میں۔
16 اکتوبر 1989
میں مکان کی چھت پر تھا۔ اوپر نگاہ اٹھی تو دیکھا کہ بہت سی چیلیں بلندی پراڑ رہی ہیں ۔ اچانک خیال آیا کہ یہ سب خدا کی نشانیاں ہیں۔ چڑیوں کو خدانے اوپر ہوا میں اٹھایا تاکہ انسان ہوائی جہاز بنانے کی بات سوچے۔ اس نے مچھلیوں کو سمندر میں تیرایا تاکہ پانی کے جہازبنانے کاتصور ان کے دماغ میں آئے۔ اس نے زمین پر گھوڑے کی سواری چلائی تاکہ انسان یہ سوچ کے کہ اس کو پہیہ دار گاڑی بنانا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ نے ہرقسم کی خام اشیاء دنیامیں پھیلادی ہیں تاکہ انسان اپنی عقل کو استعمال کر کے ان کے ذریعہ اپنے لئے ترقی یافتہ دنیا بنائے۔ وہ فضا میں حیاتیاتی پرواز کومشینی پرواز میں تبدیل کرے ۔ وہ سمندر میں حیوانی تیراکی کومشینی تیراکی کی صورت دے ۔ وہ زمین میں جانوروں کے ذریعہ سفر کور یلوں اور کاروں کا سفر بنا دے۔
انسان سے خدا کو یہ تخلیقی عمل مطلوب ہے نہ کہ محض تقلیدی عمل جس کی تربیت آج ہمارے اداروں میں دی جا رہی ہے۔
17 اکتوبر 1989
پرانی دہلی کے دومسلمان بزرگ ملاقات کے لئے آۓ ۔گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ آج کل ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑک رہی ہے ۔ جگہ جگہ ہندو مسلم فساد ہورہے ہیں۔ مثلا بدایوں کوٹہ، اندور وغیرہ ۔
میں نے کہا کہ فساد کا حل نہایت آسان ہے ۔ وہ یہ کہ مسلمان یہ عزم کرلیں کہ وہ دوسری غلطی نہیں کریں گے ۔ یعنی ہندوئوں کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجودمشتعل نہیں ہوں گے۔ میں نے کہاکہ خود دہلی کی دو مثالیں اس کے ثبوت کے لئے کافی ہیں۔ دہلی میں1987 میں فساد ہوا مسلمانوں کو جان ومال کا نقصان اٹھانا پڑے اگر اس قسم کے حالات کے باوجود 1989 میں فساد نہیں ہوا۔ 1987 میں فساد اس طرح ہوا تھا کہ ہندوؤں نے پرانی دہلی کے علاقہ میں جلوس نکالا۔ انھوں نے مسلم مخالف نعرے لگائے۔ اس پرمسلمان مشتعل ہو کر لڑ پڑے۔ اس کے بعد بعد فسا د ہوا اور یک طرفہ طور پر مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔
1989(ستمبر) میں ٹھیک اسی طرح ہندوؤں کا جلوس نکلا۔ اس نے مسلم مخالف نعرے لگائے آنے والے بزرگ نے تصدیق کی کہ وہ خود ان اشتعال انگیز نعروں کو سننے والوں میں تھے مگر اس بارد ہلی میں کوئی فساد نہیں ہوا۔ ان دونوں واقعات کو ملاکر دیکھئے تو ان کے درمیان فرق کیسادہ سی وجہ یہ ہے کہ1987 میں مسلمان ردعمل کا شکار ہو گئے تھے اس لئے فساد ہوا۔1989 میں وہ ردعمل کا شکار نہیں ہوۓ اس لئے فساد کے اسباب کے باوجودفساد نہیں ہوا۔
مذکورہ مسلمان نے کہا کہ الکشن بھی تو قریب ہے (یعنی22،24 نومبر1989کو لوک سبھا کا الکشن ہونے والا ہے ، اس لئے گورنمنٹ نے فساد نہیں ہونے دیا ، میں نے کہاکہ کیا حکمران پارٹی کانگریس کو صرف دہلی میں ووٹ لینا ہے۔ دوسرے مقامات پر اس کو ووٹ نہیں لینا ہے۔ جہاں آج بھی فسادات ہورہے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ فساد ہمیشہ اسی مقام پر ہوتا ہے جہاں مسلمان ر د عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں جہاں مسلمان خاموش رہ جائیں وہاں فساد نہیں ہوتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
18 اکتوبر 1989
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(1984) ، عمرخیام (1122 - 1048 ) پر 53 سطریں لکھی ہیں۔ (1530) اور خلیفہ ثانی عمربن خطاب (586 644) پرصرف 5 سطریں (X248) جبکہ کوئی مسلمان انسائیکلو پیڈیا تیار کرے تو وہ نہ صرف اس کے برعکس عمل کرے گا بلکہ اگر وہ عمرخیام پر پانچ سطریں لکھے گا تو عمرفاروق پر ایک ہزار پانچ سطریں درج کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ صرف کافر عالم اورمسلمان عالم کے درمیان فرق کی بات نہیں ۔ یہی فرق خود مسلمانوں کے اپنے درمیان بھی پایا جاتا ہے۔ ایک مسلمان عالم اگر اشخاص کا تذکرہ لکھے گا تو اپنے حلقہ کے اکابر کے بارہ میں صفحات کے صفحات درج کر دے گا ۔ اس کے بر عکس دوسرے حلقہ کے اکابر کے بارہ میں یا تو سرے سے کوئی اندراج نہ ہو گا ، اور اگر اندراج ہوگا تو صرف چند سطروں کی حد تک ۔اسی کو شاعر نے کہا ہے کہ :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
این گنا ہے است که در شهر شما نیز کنند
19 اکتوبر 1989
دیوبند کے ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے فتنے وہ نہیں ہیں جو الملل والنحل اور اس طرح کی دوسری کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں۔
1. موجودہ زمانہ کا اعتقادی فتنہ یہ ہے کہ آج کا انسان خدا کو حذف کر کے واقعات کی توجیہ بیان کرتا ہے ۔ کوئی شخص خدا کا منکر نہ ہو تب بھی اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ تمام واقعات کو خدا کو مانے بغیر سمجھ سکے۔
2. دوسری بات عمل سے متعلق ہے۔ موجودہ زمانہ میں مارکس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان نظام سے بنتا ہے نہ کہ نظام انسان ہے۔ اگر چہ مارکسزم آج زندہ نہیں ہے مگر اس کا یہ فکر اتنا پھیلاکہ مارکس کے مخالفین بھی اب تک اسی انداز سے سوچتے ہیں۔ عالم اسلام کے بیشتر تعلیم یافتہ لوگوں کی سوچ یہی ہے۔
حدیث میں کہاگیا ہے کہ قلب (یا ذہن )کی اصلاح پر انسانی معاملات کی اصلاح کا انحصار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تفکیر مبنی برفرد (Individual-based) ہے۔اس کے مقابلہ میں مارکسیت کے زیر اثر ، موجودہ زمانہ کی عام تفکیرمبنی بر نظام (System-based) ہوگئی ہے۔موجودہ زمانہ کے تمام مصاعين ومنکرین رمثلا سید قطب، ابوالاعلی مودودی وغیرہ اسی دوسرے طرزفکر کی پیداوار ہیں ۔ حالاں کہ یہ طرزفکر اسلام کے عین برعکس ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
31 اکتوبر 1989
انڈیا ٹوڈے انگریزی کامشہور ہفت روزہ ہے۔اس نے اپنا اردواڈیشن نکالنے کافیصلہ کیا۔ اس کے لئے کاتب اور آڈیٹر رکھ لئے گئے حتی کہ اس کے پہلے شمارہ کی کتابت بھی ہوگئی۔ اس درمیان میں ان کی ٹیم میں سروے کر ر ہی تھی کہ انڈیا ٹوڈے اگر اردو میں نکلے تو اس کی اشاعت کتنی ہوگی ٹیم نے جائزہ لے کر بتایا کہ ۱۵-۲۰ ہزار تک اس کی اشاعت ہوسکتی ہے۔ اس رپورٹ کےبعدفور اسی ختم کر دی گئی۔
انڈیاٹوڈے کا معیار یہ ہے کہ پرچہ کی اشاعت کم از کم پچاس ہزار ہونی چاہئے ۔ اس سے تعداد کو وہ شمار کے قابل نہیں سجھتے ۔ دوسری طرف مسلم صحافت کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے کسی پرچے کی اشاعت پندرہ ہزار ہو جائے تو وہ پر غرور پاغلان کرے گا کہ میرا پرچہ پندرہ ہزار کی تعداد میں چھپتا ہے کتنا فرق ہے ایک صحافت میں اور دوسری صحافت ہیں۔