← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
September 1989
English · 29 min read
یکم ستمبر 1989
حیدر آباد کے حبیب محمد صاحب (حبیب بھائی) ملاقات کے لئے آئے ۔گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ 1979 میں وہ کپڑے کی ایک نمائش دیکھنے کے لئے ویسٹ جرمنی گئے تھے۔ وہاں وہ جرمنی کے شہر ہینوور (Hanover میں تھے۔ کار کے ڈرائیور سے انھوں نے ایک بار کہا کہ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کو بہت نقصان ہوا۔ سارابر باد ہوگیا۔ ڈرائیور نے کہا کہ بر بادی تو ضرور ہوئی مگر اس میں بھی تعمیرکا ایک پہلو تھا۔ کیوں کہ اس کے بعد ہم کو موقع ملاکہ ہم جرمنی کو ازسرنو زیادہ بہتر طور پر بناسکیں۔ اگر یہ بربادی نہ ہوتی تو نیا زیادہ بہتر جرمنی ہم نہ بنا پاتے۔
میں نے کہا کہ یہی معاملہ قوموں کا بھی ہے ۔ قومیں جب بربادی سے دوچار ہوتی ہیں تو ان کے لئے تعمیر حیات کا نیا امکان پیدا ہوتا ہے ۔ مثلا ہندستان کے مسلمان 1947 کے بعد بر بادی سے دوچار ہوۓ ۔ اس میں ان کے لئے نئی تعمیر کا امکان نکل آیا۔ اس بر بادی نے ان کی خوش فہیوں کے خیالی محل کو توڑ دیا اور انھیں اس قابل بنایا کہ وہ حقیقت کی زمین پر کھڑے ہو سکیں۔
2 ستمبر 1989
آج کے ٹائمس آف انڈیا میں جان رے (John Ray) کا قول نقل کیا گیا ہے کہ خوشحالی میں محتاط رہو اور بد حالی میں صبرکر و :
other sourceWords of another person or source
In prosperity, caution; in adversity, patience.
یہ بڑی حکمت کی بات ہے ۔ اگر آدمی اس حکیمانہ نصیحت کو اختیار کرلے تو دولت مندی اور مفلسی دونوں حالت میں وہ مطمئن اور کامیاب رہے گا۔ جب کہ اس کے برعکس روش آدمی کو دونوں حالتوں میں ناکام و نامرادبنادیتی ہے۔
3 ستمبر 1989
مولا نا باب الدین مظاهری (جامعہ عربیہ ، ہتورا ،ضلع باندہ ) ملاقات کے لئے آۓ ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کانپور میں کئی سال تک رہے ہیں ، ان کے بیان کے مطابق، کان پور کے علاقہ طلاق محل میں7 - 8 مندر ایسے ہیں جو مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں۔ اسی طرح ہندو علاقوں کی کچھ مسجد یں ہندوؤں کے قبضہ میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ منظر انھوں نے خود اپنی آنکھ سےدیکھا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں سمجھتا ہوں کہ مقبوضہ مسجدوں کو واگزار کرانے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنے قبضہ کے مندروں کو ازخود ہندووں کے حوالے کر دیں۔ اسی طرح مغل دور میں جن مندروں کو مسجدمیں تبدیل کیا گیا ہے، انھیں بھی از خود ہندوؤں کے حوالے کر دیا جائے ۔
مولانا عبدالحئی صاحب (سابق ناظم ندوۃ العلماء) کی کتاب " ہندستان اسلامی عہد میں" کے اندر ایسی ایک درجن مسجدوں کا ذکر ہے جومندر کی جگہ پر بنائی گئی ہیں۔ اس کتاب پر مولانا ابوالحسن علی ندوی کا 'مبسوط مقدمہ، 'ہے جس میں انھوں نے اس کتاب کے بیانات کو' صحیح تصویر' اور 'مکمل دستاویز' قرار دیا ہے۔ (صفحہ17)
other sourceWords of another person or source
4 ستمبر 1989
دہلی کے اردو اخبار قومی آواز (4 ستمبر) میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ قومی آواز کے نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا موصوف نے کہا کہ ” وہ معاملات کو سیاست کے بجائے اخلاقیات کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حالات میں جس ابتری کی عام طور پر شکایت کی جاتی ہے ، اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انسانوں نے اپنی اخلاقی ذمہ داریاں فراموش کر دی ہیں اور عام انسانوں کی فلاح سے زیادہ شخصی اور جماعتی مفادات کی فکر کی جاتی ہے (لوگوں کو) صحیح راستہ پر لانے کے لئے وہ پچھلے کئی برس سے پیام انسانیت کی تحریک چلارہے ہیں جس کاسیاست سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔( صفحہ 2 )
other sourceWords of another person or source
مولانا ابوالحسن علی ندوی کا اپنے بارہ میں یہ بیان ادھورا ہے۔ انہیں کہنا چاہئے کہ جن لوگوں سے مجھے شکایت نہ پیدا ہوئی ہے ، ان کے لئے میں اخلاقی ہوں ۔ مگر جن سے میری شکایت پیدا ہو جائے ان کے لئے میں سیاسی لیڈروں کی طرح ہو جاتا ہوں۔
اس کی زندہ مثال میری ذات ہے۔ میں نے مولانا موصوف پر خالص علمی انداز کی تنقید کی۔ اس کے نتیجہ میں وہ مجھ سے برہم ہو گئے۔ میری باتوں کا انھوں نے علمی جواب تو نہیں دیا۔البتہ انتہائی بے بنیا دطور پر میرے اوپر' کذب بیانی' کا الزام لگایا ( ماہنامہ الفیصل، حیدر آباد ، دسمبر 1986، صفحہ 23)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
محمد ہاشم قاسمی صاحب (حیدر آباد) نے ہمارے خلاف کھلے طور پر غصب اور خیانت کا معاملہ کیا ہے۔ اور اس کے بعدمسلسل میرے خلاف جھوٹی الزام تراشی کی مہم چلارہے ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی اور ان کا حلقة 'بغض معاویہ' کی نفسیات کے تحت محمد ہاشم قاسمی صاحب کا سرپرست بن گیا۔ عام پذیرائی کے علاوہ خود مولانا ابوالحسن علی ندوی نے حیدر آباد کی اس عمارت کی خیرمقدمی تقریب میں شرکت کی جویقینی طور پر مغصوبہ ہے ( تعمیرحیات لکھنو ، 10 مارچ 1989 ، صفحہ ،4) مولانا موصوف کے رفیق خاص ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی اس مغصوبہ عمارت کے ایک 'استقبالیہ' میں شریک ہوئے۔ وہاں 'پر تکلف عصرانہ' تناول کیا اور محمد ہاشم کی تعریف کی (تعمیرحیات ، 10 مئی 1989 صفحه 9 ) وغیرہ ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
5 ستمبر 1989
پاکستان کے روزنامہ نوائے وقت (28 اگست 1989) میں ایک عبرت ناک واقعہ شائع ہوا ہے۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے 1949 میں قرار داد مقاصد پاس کی۔ اس کا اصل متن انگریزی میں تھا۔ مولانا شبیراحمدعثمانی نے اس کا اردو ترجمہ دیکھا تو وہ 'بے پناہ برہم'' ہوگئے۔
ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی قرار دادمقاصد پر جید علماء کے حساس رویہ کا اس انداز سے ذکر کرتے ہیں: واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے محکمہ اطلاعات نے اس کا اردو ترجمہ کیا جو درست نہ تھا۔ قانونی نکات اس ترجمہ میں مسخ ہوکر رہ گئے تھے۔ میں انٹلی جنس اسکول کے کوارٹر میں رہتا تھا۔
other sourceWords of another person or source
دوسرے دن صبح ہی صیح نماز کے بعد مولانا شبیراحمدعثمانی ،مولانا احتشام الحق تھانوی اور غالبامو لا نا ظفراحمد انصاری میرے پاس پہنچے۔ مولاناعثمانی کہنے لگے کہ اس قرار داد مقاصد میں ہمارے ساتھ بڑا دھوکا ہوا۔ آپ نے کیا کہا تھا اور کیا لکھا ہے۔ میں نے دیکھاتو ترجمہ غلط تھا۔ میں نے وہیں بیٹھ کر ترجمہ کیا تو مولاناعثمانی مطمئن ہو گئے۔"
یہی معاملہ ان دوسرے علماء کا تھاجوانڈین نیشنل کانگریس میں شریک تھے۔ کانگرس کی تمام کارروائیاں انگریزی زبان میں ہوتی تھیں، اور یہ علماء انگریزی جانتے نہ تھے ۔۔ اس لیے عجیب عجیب لطیفے پیش آتے تھے۔
وہ علماء جو انگریزی سے ناواقف تھے ، وہ ایسی تحریکوں میں کیوں شریک ہوئے جن کا سارا کام انگریزی زبان میں ہوتا تھا۔ یہ بات مجھے اتنی احمقانہ معلوم ہوتی ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کی کیا توجیہ کروں۔ وہ اسلام بھی کیا عجیب ہوگا جو انگریزی سیاسی تحریکوں میں شرکت کو ضروری ٹھہرائے مگرانگریزی سیکھنا اس کے نزدیک ضروری نہ ہو۔
6 ستمبر 1989
تعمیر حیات، لکھنؤ ( 10 اگست 1989) میں حافظ بشیراحمد مصری ( ۱۹۱۴ ) کا مضمون چھپاہے۔1964 میں وہ انگلینڈ کی مسجد دوگنگ کے امام مقرر ہوئے تھے۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں کہ اس مسجد کو مستشرق ڈاکٹرلیٹز (Dr Lietner) نے 1889 میں تعمیر کرایا تھا۔ اس کے لئے ہندستان کے مسلمانوں نے رقم فراہم کی تھی''۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس مسجد کا ذکرانسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (724X/) میں موجو دہے۔اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ نوآبادیاتی دور میں بھی انگریزوں میں بہت سے لوگ تھے جو اسلام کے حق میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ ان میں سے بہت سے انگریز مسلمان بھی ہوئے۔ یہ واقعہ انگریزوں میں (اور اسی طرح پورے یورپ میں ) اسلام کے دعوتی امکان کو بتارہاتھا۔ مگر مسلم رہنماؤں میں کوئی ایک شخص بھی نہ تھا جو اس امکان کو دیکھے اور اس کو استعمال کرنے کی کوشش کرے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام رہنما دعوہ بلائنڈ (Dawa-blind) ثابت ہوئے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
7 ستمبر 1989
سلمان رشدی کے خلاف جھوٹا طوفان اٹھانے والے مسلمان اب تقریباً خاموش ہوگئے ہیں ۔ حالاں کہ اس طوفان میں یک طرفہ طور پر صرف مسلمانوں کا نقصان ہوا ہے۔ ان مظاہروں میں بہت سے مسلمان مارے گئے۔ بہت سی جائدادیں جلائی گئیں۔ مگر سلمان رشدی بدستور زنده موجود ہے۔ اب تک اس کی کتاب کی گیارہ لاکھ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔ اٹلی کے کتب فروشوں کی انجمن نے رشدی کی کتاب کو اس سال(89 - 1988 ) کی سب سے زیادہ بیچنے والی کتاب قرار دیا ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عجیب حال ہے ۔ ان کا ہراقدام یک طرفہ طور پر ان کی اپنی بر بادی اور ہلاکت پر ختم ہو رہا ہے خواہ وہ سیداحمد شہید بریلوی کا اقدام ہو یاموجودہ زمانہ میں بابری مارچ اور سلمان رشدی کے خلاف احتجاج۔ ایسا تو نہیں کہ موجودہ مسلمان اللہ کی رحمت سے دور کر دے گئے ہوں۔
8 ستمبر 1989
اخبارقومی آواز (ضمیمہ) 3ستمبر1989 میں ہندو افسانہ نگار (رام لعل جی) کی ایک تقریر چھپی ہے جو انھوں نے سوئیڈن کے ہندستانیوں کے سامنے کی تھی۔ انھوں نے اس تقریر میں کہا : ''ہندستان 1947 میں ایک ہزار سال کی غلامی کے بعد آزاد ہوا ہے'' ۔) دوسری طرف مسلمان اپنی تقریروں میں کہتے ہیں : ہم نے اس ملک پر ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی ذہن ہندستان کے تمام فرقہ وارانہ مسائل کی جڑ ہے۔ مسلمان ماضی کے حاکمانہ احساس کی بنا پر ہندوئوں کو حقیر سمجھتے ہیں اور غیر ضروری طور پر ان سے لڑنے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہندو ماضی کے احساس محکومی کی بنا پرمسلمانوں سے نفرت کرنے لگا ہے۔ معمولی اشتعال پر اس کا انتقامی جذبہ بھڑک اٹھتا ہے اور بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کو مارنا پیٹنا شروع کر دیتا ہے۔
اس مسئلہ کوختم کرنے کے لئے مسلمانوں کو پہل کر نا چاہئے۔ انھیں مذکورہ قسم کی بول بولنا بالکل بند کر دینا چاہئے۔ ہندووں سے اپنے تعلقات کو محبت کے جذبہ کے تحت استوار کرنا چاہئے نہ کہ فخر کے جذبہ کے تحت۔
9 ستمبر 1989
میسور کے ٹیپوسلطان (1749ــ 1799) کا مقابلہ انگریزوں کے ساتھ پیش آیا۔ انھوں نے فرانس سے انگریزوں کے خلاف معاہدہ کرناچا ہامگر وہ فرانس کو اس پر راضی نہ کر سکے۔ اس کے بعد انھوں نے عرب، کا بل، قسطنطنیہ، ماریشس اپنے وفود بھیجے تاکہ ان سے فوجی تعاون حاصل کریں۔ مگر اس میں انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ اسی طرح ہندستان کی ریاستوں کو انھوں نے انگریزوں کے خلاف جنگ میں ملانے کی کوشش کی۔ مگر کوئی ریاست تیار نہیں ہوئی۔ آخر کار وہ تنہا انگریزوں سے لڑ گئے۔4 مئی 1799 کو سرنگاپٹنم میں انگریز کی گولی نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ ٹیپو کا یہ قول بہت مشہور ہے : شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسال کی زندگی سے بہتر ہے۔"
اس جملہ میں بہادری ضرور ہے ، مگر اس میں دانش مندی نہیں۔ اگر یہ کوئی مطلق اصول ہوتو رسول اور اصحاب رسول کو مکہ میں شیرکی طرح لڑکر شہید ہو جانا چاہئے تھانہ کہ وہ ایک ایسی روش اختیار کریں جس نے اغیار کو موقع دیا کہ وہ اس کو'' فرار " سے تعبیر کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنوبی ہند میں حیدرہ آباد کے نظام نے ٹیپو سلطان کے برعکس طریقہ اختیارکیا ن۔ تیجہ یہ ہوا کہ وقتی مصالحت کی بنا پر انھیں یہ موقع ملا کہ وہ قیام ریاست 1768سے لے کر 1956 تک ہندستان کے اندر اور ہندستان کے باہرمسلمانوں اور اسلامی اداروں کی غیرمعمولی خدمت کرسکیں۔
ٹیپوسلطان کے مذکورہ قول کے مقابل میں مجھے زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ۔۔۔ ایک دن کے لئے " گیدڑ" بن جانا آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ سو سال تک "شیر" بن کر رہ سکے۔
10 ستمبر 1989
امیر معاویہ نے عرب قبیلہ کے ایک سردارسے پوچھا کہ تم نے اپنی قوم کے اوپر سرداری کیسے حاصل کی۔ اس نے کہا : میں ان کے جاہلوں کی جہالت کو برداشت کرتا تھا۔ میں ان کے سائل کر دیتا تھا۔ میں ان کی ضرورتوں میں ان کی مددکرتاتھا۔ پس جوشخص میری طرح کرے گاوہ میرے جیسا ہو جاۓ گا( قال معاوية العرابة بـم سـدتقومك. قال : كنتأحـلمنجاملهم
other sourceWords of another person or source
ومشای لى سائلهم واسعى في حوائجـمفمنفعـلمثـ)
کسی قوم میں سچی سرداری یا سچی قیادت حاصل کرنے کا راستہ بلاشبہ یہی صحیح ترین طریقہ ہے ۔مگرموجودہ زمانہ میں پریس اور کمیونی کیشن کی ایجا دنے لوگوں کو موقع دے دیا ہے کہ وہ جھوٹے الفاظ بول کر لوگوں کے اوپرقائد بن جائیں۔ موجودہ زمانہ کےمسلمانوں میں کوئی سچالیڈر پیدا نہیں ہوا۔ البتہ ان کے درمیان جھوٹے لیڈروں کی اتنی کثرت ہے کہ ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔
11 ستمبر 1989
1989 نہرو ایوارڈ
(Jawaharlal Nehru award for International understanding)
فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کو دیا گیا ہے۔ اس پر ہندوستان کے ایک یہودی - جوا ہر حزقیل (Jawahar Ezekiel) کامراسلہ ٹائمس آف انڈیا(11 ستمبر1989) میں شائع ہوا ہے ۔ مراسلہ نگار نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے :
To give this prestigious award to a man who has masterminded the birth
of international terrorism and has dedicated his life to the destruction
of the state of Israel is to devalue the award.
یہ اس قابل قدر انعام کو بے قدر کرنا ہے کہ اس کو ایک ایسے شخص کو دیا جائے جو بین اقوامی دہشت گردی کا موجد ہے اور جس نے اپنی زندگی کو ریاست اسرائیل کی تخریب کے لئے وقف کر رکھا ہے۔
یاسرعرفات کو نہرو انعام دینا مسلمانوں کے لئے خوشی کا باعث ہے اور یہود کے لئےغصہ کا باعث ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں فریق واقعات کو الگ الگ زاویہ سے دیکھتے ہیں۔ اس مثال سے "زاویۂ نظر "کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے۔
12 ستمبر 1989
ایک شخص نے یحٰی بن اکثم عیفی سے کہا کہ اے قاضی مجھے بتائیے کہ میں کتنا کھائوں ۔ قاضی نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ بھوک سے زیادہ اور سیری سے کم ( قال رجل ليحيٰ بن أكثم الصيفي. ايما القاضي، كم آكل - أجابه القاضي فوق الجوع دون الشبع )
other sourceWords of another person or source
اس سوال کا اس سے بہتر جواب نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کھانا بہتر کھا نا ہے۔ جوشخص اس طرح کھائے وہ نہایت سکون میں رہے گا ۔ مزید یہ کہ وہ بیماریوں سے محفوظ ہو جائے گا۔ اس کو ضرورت نہ ہوگی کہ وہ ڈاکٹروں اور حکیموں کے یہاں حاضری دے۔
13 ستمبر 1989
ٹائمس آف انڈیا (13ستمبر1989) میں ایک خبر ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا ہے کہ وہ سابق ظاہرشاہ کی افغانستان واپسی کا خیرمقدم کریں گے، اگر اس سے ملک میں امن قائم کرنے میں مدد ملے :
other sourceWords of another person or source
Dr Najibullah says he would welcome the return of former king Zahir Shah if it helped in the establishment of permanent peace and tranquility in his country. (p. 7)
other sourceWords of another person or source
محمد داؤدخان ، افغانستان کے وزیر اعظم تھے۔ ،17جولائی 1973 کو انقلاب بر پا کر کے انھوں نے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ ظاہر شاہ معزول ہوکر روم چلے گئے۔ اس وقت سے وہ وہیں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 27 اپریل 1978 کر دوسرا انقلاب ہوا۔ داؤد خاں اوران کے بیشتر اہل خاندان قتل کر دے گئے ۔ اور حفیظ اللہ امین ملک کے حکمراں بن گئے۔ جوشخص روایت شکنی کرے ، وہ خود بھی بالآخر روایت شکنی کا شکار ہوتا ہے۔
افغانستان میں دوبارہ 1979 میں روس کی مدد سے مقامی کمیونسٹ پارٹی نے حکومت پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ روسی فوجی اس ملک میں داخل کر دئے گئے۔1988 میں اگرچہ روسی فوجیں واپس جاچکی ہیں ۔ مگرسوویت یونین اب بھی کابل حکومت کو 20 سے 30 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ دوسری طرف امریکہ ۸۹-۱۹۸۸ میں دو ارب ڈالر کی مالیت کے ہتھیار حکومت کے مخالف گروپ ( مجاہدین) کو دے چکا ہے ۔
ان حالات میں بہترین قابل عمل بات یہ ہے کہ دونوں فریت ظاہر شاہ کی واپسی پر راضی ہو جائیں۔ ظاہر شاہ کو علامتی صدر ریاست بناکر منصفانہ الکشن کرایا جائے اور جو گروہ جیتے اس کو چار یا پانچ سال کے لئے حکومت کرنے کا موقع دے دیا جائے۔
14 ستمبر 1989
قومی آواز (13ستمبر1989 ) کی ایک خبرمیں بتایا گیا ہے کہ برطانوی مسلمانوں (زیادہ صحیح لفظوں میں برطانیہ میں مقیم ہندستانی اور پاکستانی مسلمانوں) نے فیصلہ کیا ہے کہ سلمان رشدی کے خلاف مہم کو جاری رکھا جائے۔" اخبار ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے رشدی کے ناول کے خلاف لندن اور بریڈ فورڈ میں حالیہ مظاہروں کے دوران تشد دیکھا گیا تھا۔ اس پر برطانیہ وشمال آئر لینڈ کی مسلم تنظیموں کی مرکزی انجمن کے جنرل سکریٹری سیدعزیز پاشا نے یہ کہ کر تنقید کی کہ "جس نے بھی تشدد سے کام لیا وہ سچا مسلمان نہیں ہے، اور ہم اس سے بری الذمہ ہیں" ؟
other sourceWords of another person or source
یہ جھوٹے الفاظ ہیں۔ جلوس کے منتظمین کوتشدد کی غلطی کو خود اپنے آپ پر لینا چاہئے۔ کیونکہ جولوگ اتنے تربیت یافتہ نہ ہوں کہ وہ جلوس میں پرامن رہ سکیں، ان کا جلوس نکالنا جائز نہیں۔ اسی لندن میں پچاس سال پہلے فیبین سوسائٹی نے جلوس نکالا۔ بعض افراد نے اس میں تشددکیا اور دولت مندوں کے مکانوں کے شیشے توڑ ڈالے۔ فیبین سوسائٹی کے لیڈروں نے اپنے آپ پر ذمہ داری لیتے ہوۓ جلوس کے طریقے کو خیر باد کہنے کا اعلان کر دیا۔ اسی لند ن ہیں مسلم رہنما تشددکے لئے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے رہے ہیں ۔ ہی ہے وہ اسلامی کردار جس کو موجودہ زماد کے نام نہاد لیڈرپیش کر رہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
15 ستمبر 1989
ٹائمس آف انڈیا13ستمبر1989 ، سکشن 2 صفحہ 3پرمسٹرارن سنہا کا ایک مضمون چھپاہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہندستان کی بیوکریسی نے اپنے استحصالی مقصد کی خاطر ایک آئیڈیالوجی وضع کی ہے ۔ یہ خطرہ میں گھرا ہوا ہندستان (Endangered India) کی آئیڈیالوجی ہے۔ یہ ہماری بیوروکریسی کے لئے بے حد مفید ہے۔
other sourceWords of another person or source
ٹھیک یہی معاملہ اس ملک کے مسلم لیڈروں کا بھی ہے۔ وہ ''اسلام خطرہ میں'' اور ''مسلمان خطرہ میں'' کی گھنٹی بجا کر اپنی لیڈری قائم کئے ہوئے ہیں، موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ان کے لیڈروں کا یہی استحصالی مزاج ہے۔
16 ستمبر 1989
ڈاکٹر عبدالعلیم( 1907) سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیوسٹی ، ایک اشتراکی ادیب تھے، تاہم وہ اس کے ناقد بھی تھے۔ اردو کے موجو دہ ترقی پسنداد یبوں کو وہ "رومانی انقلاب پسند" کہا کرتے تھے۔ انھوں نے لکھا تھا:
other sourceWords of another person or source
" ہمارے اکثر ادیب انقلاب کا خوش آئند خواب اس طرح دیکھتے ہیں میں طرح کوئی عاشق اپنی محبوبہ کا تصور کر تا ہے ۔ ان کے لئے مزدور،کسان، سرمایه دار ، طبقاتی کش مکش، اور انقلاب کی وہی حیثیت ہے جو غزل گو شعراء کے لئے گل وبلبل ، ہجر و وصال ،ساقی و باده ، رقیب و محتسب وغیرہ کی" ( اردو ادب کے رجحانات پر ایک نظر )
موجودہ زمانہ کے وہ مسلمان جو اسلامی انقلاب کی باتیں کرتے ہیں ، وہ بھی اسی نوعیت کی ایک قسم ہیں۔ شاعروں اورادیبوں کے بعد یہ اس قسم کا تیسرا گروہ ہے ۔ تینوں یکساں طور پر رومانی تخیلات کی پیداوار ہیں۔ وہ اگر چہ الگ الگ الفاظ بولتے ہیں مگر بنیادی طور پران سب کی نوعیت ایک ہے ۔
17 ستمبر 1989
افغانستان سے روسی فو جیں واپس جا چکی ہیں۔ اس کے بعد افغان مجاہدین نے زبردست کوشش کی کہ وہ جلال آباد پرقبضہ کر لیں ۔ مگرمسلسل حملوں کے باوجودوہ مکمل طور پر ناکام رہے جب کہ ان حملوں پر ایک سال کی مدت گزر چکی ہے۔
ٹائمس آف انڈیا (17 ستمبر ) میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کی تقریر شائع ہوئی ہے۔ اس میں امریکہ پرتنقید کی گئی ہے کہ اس نے افغانی مجاہدین کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دی۔ رپورٹ کے مطابق، انھوں نے کہاکہ افغان باغیوں کا جلال آباد پر قبضہ کرنے میں ناکام ہونا اس سبب سے تھا کہ امریکہ نے جنوری 1989سے مئی تک انھیں کوئی ہتھیار نہیں دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He said the the rebels' failure to capture Jalalabad was due to American failure to supply them arms from January to May this year. (p. 8)
other sourceWords of another person or source
افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کو تمام مسلمان افغان مجاہدین کا کارنامہ بناتے رہے۔ اور اب جب کہ روسیوں کی واپسی کے باوجود یہ افغان مجاہدین ڈاکٹر نجیب اللہ کی کابل حکومت کے مقابلہ اس عاجز ثابت ہورہے ہیں تو اس کا الزام فور انھوں نے امریکہ کے سررکھ دیا۔ حالانکہ یہ الزام اگر صحیح ہو تو اس کے بعد یہ بھی ماننا ہو گا کہ اس سے پہلے افغان مجاہدین کی کامیابی تمام تر امریکی فوجی امداد کا کرشمہ تھی۔
18 ستمبر 1989
سردار سرجیت سنگھ لانبا(55 سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ علامہ اقبال کے عاشق ہیں۔ اقبال کے اکثر اشعار ان کو زبانی یاد ہیں ۔ اقبال کے بارہ میں بہت زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ وہ 1947میں پاکستانی پنجاب سے ہندستان آۓ۔
مسٹر لانبانے بتایا کہ لاہور کے راجپال نے ” رنگیلا رسول" کتاب لکھی۔ اس میں رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کی توہین تھی۔ اس پر مسلمان بگڑ گئے ۔ علم الدین ایک بڑھئی کا لڑکا تھا۔ اس نے قسم کھائی کہ میں راجپال کا خون پئے بغیر نہیں رہوں گا۔ راجپال دکاندار تھا۔ وہ اس کی دکان پر گیا۔ اس نے وہاں پر پیا کرتم راجپال ہو ۔ دکاندار نے کہاکہ ہاں۔ کئی بار تصدیق کرنے کے بعد علم الدین نے چھرا نکالا اور یہ کہہ کر اسے مار ڈالا کہ میں رسول اللہ کی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کے نام پر لاہور میں ایک سٹرک ہے جس کا نام "غازی علم الدین روڈ "ہے۔
other sourceWords of another person or source
علم الدین پرقتل کا مقدمہ چلا اور اس کو پھانسی ہوگئی۔ اقبال کو معلوم ہو کہ علم الدین کو پھانسی ہوئی ہے تو انھوں نے اپنی مادری زبان پنجابی میں کہا:
اسیں گلاں کر دے رہ گئے ، تر کھانا دا منڈا بازی لے گیا
یعنی ہم سب باتیں ہی کرتے رہے ، بڑھئی کالڑ کا بازی لے گیا۔
مسٹر لانبا نے اقبال کی اس بات کو تعریف کے انداز میں کہا۔ مگر میں اس کو سخت قابل اعتراض سمجھتا ہوں۔ علم الدین نے جس طرح راجپال کو مارا وہ اسلامی شریعت میں قطعا درست نہ تھا۔ اگر بالفرض اقبال کے نزدیک رنگیلا رسول لکھنے کا سنراقتل ہو تب بھی کسی فرد کو یہ سزا نافذ کرنے کا اختیار نہیں۔ یہ اقدام بلاشبہ قابل مذمت تھا۔ مگر ہمارے رہنما پچھلے سو سال سے اس قسم کے جذباتی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری قوم احمق حد تک جذباتی ہوکر رہ گئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
19 ستمبر 1989
سید علی صاحب آن ملاقات اس پانی کے عہدے سے ریٹائر ہورہے ہیں۔ سید ہاشم علی صاحب نہایت مخلص اور لائق آدمی ہیں۔ مگر ان کے خلاف علی گیاہ کے نام نہاد اسلام پسند طبقہ نے بہت طوفان اٹھایا کہا گیاکہ وہ اسلام دین اور سیکولر نواز ہیں۔ وغیرہ ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس مخالفت کی ایک وجہ ی کہ ہاشم علی صاحب کے اندر کچھزاح (Humour) کا عنصر پایا جاتا ہے۔ مثلا ایک مرتبہ انھوں نے علی گڑھ میں یہ کہ دیا کہ آجکل متقی آدمی اس کو مجھا جاتا ہے جس نے اپنے بڑے بھائی کا کرنا اور میرٹے بھائی کا پائجامہ پہن رکھا ہو ۔ وغیرہ۔ اس کے سلسلہ میں میرا خیال ہے کہ یا تو شکم کے اندر اتنی حکمت ہو کہ وہ ایسے مواقع پر اس قسم کا مزاحیہ فقرہ ہے ، یاسامع کے اندر اتنی وسعت طرف ہو کہ وہ اس کو نظرا نداز کر دے۔ بدقسمتی سے موجودہ مسلمانوں کے اندر دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں۔ اس لئے مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کسی طرح درست نہیں ہوتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
20 ستمبر 1989
جھینگا مچھلی کو عربی میں ابیان یا دود کہتے ہیں ۔کسی نادان نے مفتی صاحبان سے فتوی پوچھاکہ جھینگا حرام ہے یا حلال ۔مفتی کو کہنا چاہئے تھا کہ اس قسم کے سوال نہ کرو جب قرآن میں کہہ دیاگیا ہے کہ احل لكم صيد البحر وطعامه (المائدہ 96) ایسی حالت میں اس قسم کا سوال غیر ضروری ہے۔ مگر مفتی صاحبان نے دوسری نادانی یہ کی کہ فور اس کے حلال وحرام کافتوی دینے لگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بعد کے علماء نے دیکھا کہ اس معاملہ میں اصحاب فقہ کے درمیان اختلاف ہے تو انھوں نے تیسری نادانی کی ۔ انھوں نے کہا کہ چوں کہ جھینگا کچھ علماء کے نزدیک حرام ہے، اور کچھ دوسرے علما اس کو حلال بتاتے ہیں ، کیوں کہ اس کو مچھلی کہا جاتا ہے ،اس لئے احتیاط یہ کہ اس کو نہ کھایا جائے ( الدور الذي يقال له جميله حرام عند بعض العلماء. وقال بعضـم 165حلال لانه يسمى باسم السك فالاحتياط ان لا يؤكل ، ماشیبرالی ، پاره 7 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فقہ اورفتاوی کی کتابوں میں اس قسم کے بے شمار مسائل ہیں۔ مگروہ سب کے سب لغویت کی حد تک غلط ہیں ۔ جن چیزوں کو خدا اور رسول نے حرام نہ کہا ہو، ان کو حرام کہنا ایسی جسارت ہے جس کے لئے دین میں کوئی گنجائش نہیں۔ صحابہ وتابعین کے زمانہ میں اس طرح حرام وحلال کی میں نہیں کی جاتی تھیں۔ بعد کے علما ہر معاملہ میں حرام وحلال کی بحثیں کرنے لگے۔ یہ عین وہی غلطی ہے جس میں یہود مبتلا ہوئے۔
21 ستمبر 1989
چودھری دیوی لال ہریانہ کے چیف منسٹر ہیں۔ وہ 25 ستمبر 1914کو پیدا ہوۓ ۔ اس مناسبت سے 25ستمبر کو ان کے بارہ میں ایک کتاب چھاپی جارہی ہے۔ ان کے ایک ساتھی مسٹروسیم احمد (3011055) میرے پاس آئے اور بار بارٹیلی فون پر تقاضا کیا کہ میں اس کتاب کے لئے ایک پیغام لکھ کردے دوں۔ پہلے میں نے معذرت کی ،آخران کے اصرار پر حسب ذیل تحریر لکھ کر دے دی۔
چو دھری دیوی لال 1914 میں پیدا ہوئے۔ ان کی اصل زبان اردو ہے۔ وہ اردو ہی میں اپنا تمام لکھنے پڑھنے کا کام کرتے ہیں۔ اس طرح چودھری دیوی لال کا یوم پیدائش ہندستان کی تاریخ کے ایک اہم باب کو بتاتا ہے ۔ وہ اس قیمتی زمانہ کی یاد دلاتا ہے جب کہ اس ملک کی عام زبان اردو تھی۔ سب لوگ اردو میں لکھتے اور بولتے تھے، خواہ وہ ایک فرقہ کے ہوں یا دوسرے فرقہ کے۔
دیوی لال جیسے لوگوں کی موجودگی بتاتی ہے کہ اس ماضی کا تسلسل ابھی ملک میں باقی ہے ۔ میری تمنا ہے کہ یہ تسلسل مزید باقی رہے ۔ یہاں تک کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے۔ ماضی اور حال کے سرے دوبارہ مل کر نیا مستقبل پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔
22 ستمبر 1989
پاکستان کے مشہور اخبار نوائے وقت کے زیراہتمام شعبہ ایوان وقت (کراچی) میں ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی۔ اس کا موضوع تھا ،:نظریہ پاکستان اور آج کاپاکستان ـــــ ہم سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں۔" اس موقع پر جو تقریر یں ہوئیں وہ نوائے وقت کی خصوصی اشاعت (15 ستمبر1989) میں شائع ہوئی ہیں۔ ایک تقریر کا جلی عنوان یہ ہے : نظریۂ پاکستان اب صرف نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔
اس عنوان میں میں صرف ایک معمولی لفظی ترمیم کروں گا ''نظریہ پاکستان صرف ایک نعرہ تھا۔'' مجھے تعجب ہے کہ پاکستان کے تمام اسلام پسند اور اسلامی مفکریننصف صدی سے ایک جھوٹے لفظ میں جی رہے ہیں ، اور وہ "نظریہ پاکستان کالفظ ہے ۔مگرحقیقت یہ ہے کہ نظریہ پاکستان کا کہیں کوئی وجود نہیں۔ جس چیز کا وجود تھا یاہے وہ صرف 'نعرہ پاکستان 'ہے۔
سیاسی لیڈر ہمیشہ یہی کرتے ہیں کہ وہ نعرہ کو نظریہ کے روپ میں پیش کرتے ہیں ۔چنانچہ نام نہاد نظریہ پاکستان کی طرح ہر تحریک کا ایک نظریہ رہا ہے۔ مثلا گاندھی کا ایک نظریہ ہند تھا، شیخ مجیب کا ایک نظریہ بنگلہ دیش تھا، وغیرہ ۔ مگر اس طرح کے نظریات سے صرف سیاسی تبدیلیاں ہوا کرتی ہیں۔ ان کے ذریعہ کبھی کوئی سماجی نظام نہیں بنتا ۔یہی وجہ ہے کہ نظریہ ہند اور نظریہ بنگلہ دیش کی طرح نظریۂ پاکستان بھی سراسرنا کام ثابت ہوا۔
23 ستمبر 1989
کچھ اہل حدیث حضرات ملاقات کے لئے آئے ۔انھوں نے کہا کہ ہم الرسالہ کے قاری ہیں ۔ مگر آپ اپنے رسالہ میں فقہی مسائل پر کچھ نہیں لکھتے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ رفع یدین اور آمین بالجہر اور آمین بالسر جیسے مسائل پر الرسالہ میں کچھ نہیں ہوتا۔
میں نے کہا کہ زور اور تاکید کی چیزیں اساسات دین ہیں نہ کہ فروعات دین۔ حدیث میں آیا ہے کہ انما الاعمال بالنیات ۔ایسی کوئی حدیث نہیں جس کے الفاظ یہ ہوں کہ انما الاعمال بالمسائل ۔یہ ( Shift of emphasis) ہے کہ لوگ اساسی باتوں پر زور دینے کے بجائے فروعی باتوں کی دھوم مچانے لگیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
24 ستمبر 1989
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ دین کا خلاصہ دوچیزیں ہیں۔ ۔ ۔ اللہ کا ڈر، اوربندوں کے ساتھ حسن عمل۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ مفہوم آپ نے کہاں سے نکالا۔ میں نے کہا کہ یہ مفہوم قرآن وحدیث میں مختلف شکلوں میں موجو دہے۔ مثلا ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو بہت زیادہ جنت میں لے جائے گی۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کاتقوی اورحسن اخلاق (سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اکثر ما یدخل الناس الجنة قال : تقوى الله وحسن الخلق ، سنن الترمذی)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
25 ستمبر 1989
موجودہ عرب تہذیب کا ایک جزء تسبیح بھی ہے۔ اکثرعربوں کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تسبیح ہوتی ہے جس کو وہ انگلیوں کے درمیان گھماتا رہتا ہے ۔ گفتگویا اور کوئی چیز اس کے لئے اس کام میں حارج نہیں ہوتی۔ ایک ہندستانی عالم نے بتایا کہ انھوں نے خلیج کے ایک سفر میں ایک عرب شیخ سے تسبیح کی اس گردش کے بارے میں پوچھا۔ عرب شیخ نے جواب دیا کہ یہ کوئی عمل نہیں۔ خداکی قسم ہے تو صرف ایک کھلونا ہے (والله ان هذا اللعبة)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہندستانی عالم نے یہ قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس کو الرسالہ میں نہ لکھے گا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندستان کے موجودہ علماء کی اخلاقی حالت کیا ہے۔ وہ ہندستان میں تنقید واحتساب کے شہنشاہ بنے ہوئے ہیں۔ مگرعرب حکام یا عرب شیوخ کے خلاف بولنا ہو تو ان کی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ ہندستان میں وہ محتسب کائنات سے کسی چیز پر راضی نہیں۔ مگر عرب دنیا میں وہ محتسب محتسب فرد بننے کی جرات بھی نہیں کرسکتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
26 ستمبر 1989
کچھ مسلمان ملاقات کے لئے آئے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجو دہ زمانہ کے مسلمان لیڈر ،خواہ وہ داڑھی والے ہوں یا ہے داڑھی والے ۔ سب کے سب اپوزیشن کی بولی بولتے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں جو خدا و رسول کی بولی بولنا جانتا ہو۔
27 ستمبر 1989
ایک صاحب ملاقات کے لئے آۓ۔ ان کے چہرہ پر بہت چھوٹی داڑھی تھی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں بڑی داڑھی رکھتا تھا۔ پھرمیں نے دیکھاکہ اعفاء لحیہ" کا حکم صرف حدیث میں ہے۔ قرآن میں نہیں ہے۔اس لئے میں نے اپنی داڑھی چھوٹی کرالی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ میں قرآن وحدیث کی اس تفریق کو صحیح نہیں سمجھا۔ تاہم اس سے قطع نظر، خود قرآن میں بھی" اعفاء لحیہ" کی آیت موجود ہے۔ حضرت موسیٰ کے قصہ میں بتایاگیا ہے کہ جب بچھڑے کی پرستش پر حضرت موسیٰ نے بازپرس کی تو انہوں نے دوران کلام حضرت ہارون کی داڑھی پکڑ لی، اس پر حضرت ہارون نے فرمایا: (لا تاخذ بلحیتی و لا براسی، طہ 94
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون کی داڑھی آپ کی طرح نہیں تھی، بلکہ بڑی تھی، کیونکہ بڑی داڑھی ہہی پکڑی جا سکتی ہے،چھوٹی داڑھی ہاتھ میں نہیں آئے گی، پھر اس کو پکڑا کیسے جا سکتا ہے۔ حضرت ہارون کے متعلق معلوم ہے کہ وہ پیغمبر تھے۔ قرآن کی تصدیق کے بعد ان کے اسؤہ بھی ہمارے لئے قابل تقلید بن جاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
28 ستمبر 1989
کافرکی یہ تعریف کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ تعریف کہ گم اس میں ہے آفاق
اقبال نے جب اپنا یہ شعر مسلمانوں کے سامنے پیش کیا تو ہرطرف واہ واہ کی دھوم مچ گئی۔ فوراً ہی اقبال مسلمانوں کے مقبول ترین شاعر بن گئے ۔ اس کے برعکس اگر آپ مسلمانوں کے سامنے یہ کہیں کہ کا فراللہ سے نہیں ڈرتا ، مومن وہ ہے جو اللہ سے ڈرے تو کسی طرف سے بھی واہ وا کاشور بلند نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ شعر فخر پر مبنی ہے اور دوسرا جملہ تواضع پر۔ پر فخر کلمات پر واہ وا بلند کی جاسکتی ہے مگر تواضع کے الفاظ پر واہ وا کا شور بلند ہونے کے کوئی معنی نہیں ۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعمیرذ ہن کیا ہے، اور موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے جو کچھ کیا وہ کیوں تعمیرذ ہن کی کوشش نہ تھی ۔ یہ رہنما اپنے اشعار اور تقریروں اور انشا پردازانہ مضامین میں مذکورہ شعر جیسی باتیں کرتے رہے ہیں۔ یہ باتیں مسلمانوں کے اندر فخر کی نفسیات ابھارتي رہیں۔ مگرفخر کی نفسیات ابھارنے کا نام ذہنی تربیت نہیں۔ ذہنی تربیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تواضع سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے ، اور وہ موجودہ رہنماؤں نے کیا ہی نہیں۔
29 ستمبر 1989
ہندستان میں فیملی پلاننگ پر اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں، پہلے حکومت کا نعرہ تھا:: دو یا تین بس۔ اس کے بعد نعدہ دیا گیا: ہم دو ہمارے دو۔ موجودہ نعرہ ہے: ایک میں انیک۔ آخری نعرہ غالبا یہ ہوگا کہ ایک یا کوئی نہیں:
One or None
اس طرح حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ اس ملک کا اصل مسئلہ یہاں کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ مگر یہ مغالطہ ہے۔ اس ملک کا اصل مسئلہ خود حکومت کا کرپشن ہے ۔حکومت میں نیچے سے اوپر تک کرپشن بھرشٹاچار اپنی آخری حد تک پھیل چکا ہے۔ اس ملک کے مسائل صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔ ورنہ آبادی گھٹتے گھٹتے اتنی کم ہو کہ یہاں صرف دو آدمی رہ جائیں تو وہ بھی اپنے بگڑے ہوئے مزاج کے تحت فساد کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دے ئیں گے۔
30 ستمبر 1989
20 ستمبرکو میں ٹرانزٹ پسنجر کے طور پر کراچی میں تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک تاجر سے ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ ہندستان کے مقابلہ میں پاکستان بہت چھوٹا ملک ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہمارے تجارتی مواقع بہت کم ہیں کیوں کہ ہمیں اپنی پیدا وار کو فروخت کرنے کے لئے مقابلتہ بہت چھوٹا مارکیٹ ملتا ہے ۔ اس کے بجائے ہندستان میں تجارتی مواقع بہت زیادہ ہیں ۔ کیوں کہ وہاں ایک صنعت کار کے لئے بہت بڑا مارکیٹ موجود ہے۔
مسلم رہنماؤں کے اندر اگر دعوتی ذہن ہوتا تو یہی بات وہ دعوتی اعتبارسے سوچتے ۔ ہندستان کی تقسیم نے ملک کو تین حصوں میں بانٹ دیا۔ اور اگر پورے برٹش انڈیا کو لیا جائے تو تو تقریبا دس ملکوں میں انڈیا ، پاکستان ، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، تبت ، سری لنکا وغیرہ ۔ اس کے نتیجہ میں دعوتی میدان محدود ہوگیا۔ اگر ملک تقسیم نہ کرایا جاتا ، تو پورا برصغیر ہند ایک ملک ہوتا اور پھر ہم کو ایک وسیع بر اعظم میں دعوتی کام کے مواقع بلا روک ٹوک حاصل رہتے۔ مسلم لیڈروں میں دعوت کا اتنابھی درد نہ تھا جتنا ایک تاجر کے اندر اپنی تجارت کے لئے ہو تا ہے ۔ وہ کوئی نیا دعوتی میدان تو پیدا نہ کر سکے ۔ البتہ جو دعوتی میدان ان کی کوششوں کے بغیر اپنے آپ موجو دتھا ، اس کو بھی انھوں نے بر با دکر ڈالا ۔