← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
August 1989
English · 34 min read
یکم اگست 1989
31 جولائی کو میں ماؤنٹ آبو (راجستھان )میں تھا۔ وہاں برھما کماری مشن کاسنٹر ہے۔ بہت وسیع رقبہ میں اس کی عمارتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ روزانہ تقریبا ایک ہزار آدی وہاں دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ ہم نے ایک جدید ترین طرز کا حال دیکھا۔ اس میں لکچر ہو رہا تھا جس کو دو ہزارسے زیادہ طلبہ سن رہے تھے۔ ہر چیز نہایت شاندار اور اعلی معیار کی تھی۔
میرے ساتھ چار اور مسلمان تھے۔ مشن کا ایک آدمی ہم کو اس کی تمام چیزیں دکھارہا تھا۔ اس دوران ہمارے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ یہاں پہاڑ کے اور پر آپ نے اتنا بڑا کام پھیلا رکھا ہے ، اس کے لئے آپ کو پیسہ کہاں سے ملتا ہے: یہ سن کر مجھ کواتنی شرم آئی کہ میں نے سرجھکالیا۔ دیر تک میرے منہ سے کوئی آواز نہیں نکلی۔ میرے نزدیک یہ نہایت سطحی اور غیر شریفانہ سوال تھا۔ میری روح آخری حد تک تڑپ اٹھی۔ میں نے سوچا کہ میں نے بہت بڑی غلطی کی کہ ایسے سطحی آدمی کواپنے وفدمیں شامل کر کے یہاں لے آیا۔ میں نے کہا مسلمان بولتا تو کیا جانیں گے، وہ چپ رہنا بھی نہیں جانتے۔
2 اگست 1989
قدسی کا ایک قطعہ ہے، اس کا آخری شعر یہ ہے۔
روز قیامت ہر کسے آید بسستش نامهٍ من نیزحا ضرمی شوم تصویر جاناں در بغل
(۱۸۲۳۔۱۷۷۲ ا نے ایک نفلی تبدیلی
اس شعر کے دوسرے مصرعہ میں شاہ عبدالعزیز دہلوی ( 1762ــ 1823 ) نے ایک لفظی تبدیلی کی تھی ۔ اور وہ اس کو اس طرح پڑھا کرتے تھے :
من نیز حاضر می شوم تفسیرقرآن دربغل
موجودہ زمانہ کے اکثر مصنفین نے اس قسم کی باتیں کی ہیں کہ قیامت کے دن وہ اپنی فلاں کتاب لے کر خدا کے یہاں پہنچیں گے۔ میرے نزدیک اس قسم کی باتیں بالکل طفلانہ ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو خدا کی عظمت کا حقیقی اور اک نہ ہوسکا، ورنہ وہ ہرگز ایسی بات کہتے۔
3 اگست 1989
مسٹرارن شرما( انگلش جرنلسٹ) نے بتایا کہ 1969 میں جب کہ وہ دہلی کے ایک اسکول میں پڑھتے تھے۔ مہارشی یوگی آئے اور رنجیت ہوٹل (نئی دہلی) میں ٹھہرے۔انھوں نے اخباروں میں اعلان کیا کہ لوگ میرے پاس آئیں۔ میں ان کو ایسا منتر بتاؤں گا جس سے ان کے تخلیقی ذہانت creative intelligence) (پیدا ہوگی۔
other sourceWords of another person or source
اسکول کی دولڑکیاں ان کے یہاں گئیں۔ انھوں نے ہر ایک سے کہا کہ میں اپنا منتر تمہارے کان میں بتاؤں گا. تم خود اس کا جاب کرنا ۔ مگرکسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔ ایک لڑکی اپنا کان ان کے پاس لے گئی ۔ اس کو انھوں نے چپکے سے منتر بتا دیا۔ پھر دوسری لڑکی اپنا کان لے گئی۔ اس کو بھی انھوں نے چپکے سے منتربتادیا۔ اس کے بعد دونوں نے یہ کیا کہ انھوں نے کسی کووہ منتر نہیں بتایا۔ بس خود اس کا جاب کرتی رہیں۔
کچھ دن بعدارن شرمانے ایک لڑکی کو کہہ سن کر راضی کیا کہ وہ انہیں مذکورہ منتر بتائے۔ اس نے بتایا کہ "اوم آئنگ" پھر انھوں نے دوسری لڑکی سے ملاقات کی۔ اس سے کہا کہ میں نے تمہاری دوسری ساتھی سے منتر معلوم کرلیا ہے، اور وہ اوم آئنگ ہے۔ لڑکی نے حیرت کے ساتھ بتایا کہ ٹھیک ہی منتر انھوں نے مجھ کو بھی سکھایا تھا۔ اردن شر ما صاحب نے مزید بتایا کہ اوم کا مطلب شانتی(Peace) ہے ،مگر آئنگ کا کوئی مطلب نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4 اگست 1989
محمدابراہیم صاحب رائچوری(21سال )سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ایک واقعہ بتایا جو ان کے ساتھ 19 جولائی 1989 کو پیش آیا تھا۔ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ بسواکلیان (ضلع بیدر) گئے۔ وہاں وہ بازار میں گشت کے لئے نکلے۔ وہ مسلمانوں کی دکانوں پر جا کر انہیں مسجد میں آنے کے لئے کہہ رہے تھے۔
وہاں جامع مسجد کے پاس ایک ہندو کی دکان ہے جس کا نام کشن ہے۔ وہ سبزی وغیرہ بیچتا ہے۔ یہ لوگ اس کے سامنے سے کچھ بات کئے بغیرگزرگئے۔ اس کے بعد وہ ہندو دکانداراٹھ کران کے پیچھے آیا۔ اس نے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں۔ آپ کا مقصد کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم ایمان ویقین کی باتیں کرتے ہیں۔ ہندو دکاندار نے کہا : تم لوگ جومسلمانوں کو جوڑتے ہیں۔ اور ایمان کی بات کرتے ہیں، اگر آپس ہی میں بانٹ کر کھاتے ہیں تو وہ ہم تک کیسے پہنچے گا۔
5 اگست 1989
موجودہ زمانہ کے مسلمان جو ہنگامہ آرائیاں کر رہےہیں، اگر یہی خدا کا مطلوب ومحبوب عمل ہو تو خدا کو نعوذ باللہ سطحی ماننا پڑے گا۔ اور ایساماننا کسی طرح ممکن نہیں۔ خدا کا اعلی ترین نفیس ذوق جو اس کی تخلیقات فطرت میں ظاہر ہوا ہے، وہ اس قسم کے کسی بھی خیال کو بالکل مردود قرار دیتا ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان دین کے نام پر جو بے معنی سرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں، ان کو سوچ کر میرے دل میں یہ خیال آیا اور بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
6 اگست 1989
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں آپ اپنے جو سفر نامے چھاپتے ہیں ، ان میں خودستائی ہوتی ہے ۔ میں نے کہا کہ جو لوگ اس قسم کا تبصرہ کرتے ہیں ، وہ دو چیزوں کا فرق نہیں سمجھتے ۔ ایک ہے خودستائی ، دوسرا ہے بیان واقعہ۔ الرسالہ کے سفرنامہ میں جو چیز ہوتی ہے وہ بیان واقعہ ہے نہ کہ خودستائی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ آپ مختلف لوگوں کے سفرناموں کو دیکھئے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کابھی ایک سفرنامہ ہے جس میں آپ نے معراج کے سفر کو بیان فرمایا ہے ۔ اس میں ہے کہ بیت المقدس میں تمام انبیا جمع ہوئے اور میں نے ان کی امامت کی۔ میں او پر گیا تو آسمان کا دروازہ میرے لئے کھولا گیا ۔ ایک شخص کہے گا کہ یہ خودستائی ہے۔ مگر نہیں ، یہ بیان واقع ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح امام شافعی کا سفرنامہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں فلاں شیخ کی مجلس میں گیا۔ میں لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا۔ اس کے بعد میں نے شیخ کے ایک سوال کا جواب دیا۔شیخ کو میرا جواب پسند آ گیا۔ اس نے مجھ کو بلا کر اپنے پاس بٹھایا۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے کہ فلاں ملک کا حاکم مجھ سے خوش ہو گیا اور میرے لیے ایک بڑے عہدے کی پیش کش کی ۔ مولاناعلی میاں اپنے سفرنامے میں لکھتے ہیں کہ فلاں عرب ملک میں میں نے تقریر کی ۔ اس کے بعد ایک شیخ نے کہا کہ آپ نے عربوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلادیا۔ وغیرہ ۔
ان تمام چیزوں کو آپ خودستائی کہیں گے ۔ مگر دراصل وہ بیان واقع ہیں۔ اورکوئی بھی سفرنامہ اس قسم کے واقعات کے تذکرہ سے خالی نہیں ہوسکتا۔ آپ کسی بھی مسلم یاغیرمسلم کا سفرنامہ نہیں بتا سکے جس میں اس قسم کی باتیں درج نہ ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سفرنامہ کے لازمی اجزاءہیں۔ان کے بغیر کوئی سفرنامہ نہیں لکھا جاسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
7 اگست 1989
سید اقبال الظفر ایڈوکیٹ( بہارشریف )سے ملاقات ہوئی۔ ان کی عمر 47سال ہے ۔گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ 1946 کے الکشن میں مسلمانوں نے جو نعرے لگائے تھے ، ان میں سے ایک نعرہ اب تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ اس کے الفاظ یہ تھے :
لال بکس کو توڑ دو ہرے بکس میں ووٹ دو
اس زمانہ میں کانگریس کا بیلٹ بکس لال رنگ کا ہوتا تھا، اور مسلم لیگ کا بیلٹ بکس ہرے رنگ کا۔ اسی کے لحاظ سے یہ نعرے بنائے گئے تھے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ مسلمانوں کے جھوٹے لیڈروں نے مسلمانوں کوکیسی احمقانہ جذباتیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ یہ احمقانہ جذباتیت بدقسمتی سے آج بھی مسلمانوں میں جاری ہے ۔
8 اگست 1989
آج کے ٹائمس آف انڈیا میں چرٹن کالنس (Churton Collins) کا ایک قول نقل کیا ہے ۔ اس نے کہا کہ زندگی میں کامیابی کا راز صرف وہ لوگ جانتے ہیں جو اپنی زندگی میں کامیاب نہ ہو سکے۔
other sourceWords of another person or source
The secret of success in life is known only to those who have not succeeded.
یہ بات بڑی حد تک صحیح ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی‘ لفظ’ سے نہیں سیکھتا، وہ صرف ‘تجربہ’ سے سیکھتا ہے۔ تمام حکمت کی باتیں کہنے والے کہہ چکے ہیں۔ مگر آدمی صرف ان کو پڑھ کر یا سن کر انھیں نہیں پکڑا تا۔ وہ صرف اس وقت ہوش میں آتا ہے جب کہ تجربات کی آہنی منطق اس کو ماننے پر مجبور کر دے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
9 اگست 1989
میری کتاب الاسلام کا عربی ترجمہ ایک مصری اردو داں دکتور سمیر عبدالحمید ابراہیم نے کیا ہے جو ۱۹۸۴ میں شاہرہ سے چھپی ہے ۔ یہ عربی ترجمہ میرے سامنے اس وقت آیا جبکہ وہ چھپ چکا تھا۔ معلوم ہو کہ اس میں ترجمہ کی کافی غلطیاں ہیں ۔ کتاب میں عبادت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے جو باتیں کہی گئی ہیں،ان میں سے ایک بات وہ ہے جو ان الفاظ میں آئی ہے کہ اس میں آدمی جس سے چھننے کا خطرہ محسوس کرتا ہے اسی سے پانے کی امید بھی رکھتا ہے (صفحہ7)، اس فقرہ کا ترجمہ دکتور سمیر نے ان الفاظ میں کیا ہے۔(عربی عبارت۔ ص: 139)
یہ عربی ترجمہ بالکل عجیب ہے ۔ نحوی غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی اس کا مطلب سمجھنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصری مترجم نے ْپانے ’کو ‘پانی ’سمجھ لیا اور اس کے مطابق ترجمہ کر ڈالا۔ ترجمہ کے لئے یہی کافی نہیں ہے کہ آدمی ایک زبان اور دوسری زبان کے ہم معنی الفاظ کو جانتا ہو۔ اسی طرح مترجم کو کتاب کے موضوع سے واقف اور آشنا (Acquaint) بھی ہونا چاہئے ۔ ورنہ وہ یہی کرے گا کہ وہ پانے کا ترجمہ پانی کر دے گا اورسار امضمون خبط ہو کر رہ جائے گا ۔
10 اگست 1989
8 اگست کو راجیہ سبھا (نئی دہلی) کا اجلاس ہورہا تھا۔ وزیراعظم راجیو گاندھی مشتعل ہوگئے ۔ انھوں نے ہندستانی پارلیمنٹ کے ممبروں کو (LIMPETS) کہہ دیا۔ لمپ گھونگھے کی قسم کا ایک کیڑا ہے جو چٹانوں سے لپٹا رہتا ہے ۔ یہ لفظ جب انسان کے لئے بولا جائے تو اس سے مراد ایسا شخص ہوتا ہے جو عہدہ اور منصب کو کسی طرح نہ چھوڑے۔ ( ٹائمس آف انڈیا 9 اگست1989)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
راجیو گاندھی نے وزیراعظم کے عہدے پر پہنچنے کے بعد جو انداز اختیارکیا۔ اس کے بعد یہ لفظ سب سے زیادہ خود ان کے اوپر چسپاں ہوتا ہے۔ توپوں کے سودے میں 60 کرور رو پیہ سے زیادہ کاکمیشن لینا۔ کمپرولر ا ینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) کی رپورٹ سے اس کی تصدیق ، جولائی میں بیشتر اپوزیشن ممبروں کا استعفا، وغیرہ ۔ ایسے واقعات ہیں جو کسی بھی جمہوری ملک میں وزیراعظم کے استعفاءکے لئے کافی ہیں۔ مگر راجیو گاندھی صاحب خو د جوفعل زیادہ بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں، اسی کا الزام وہ دوسروں کو دے رہے ہیں۔
ٹھیک یہی حال موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کا ہے۔ مسلمان لیڈر روزانہ دوسروں کے خلاف بیان دیتے رہتے ہیں ۔ حالاں کہ ان معاملات میں مسلمان لیڈر خودسب سے بڑے مجرم ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کے سامنے ابو بکر و عمر کا نمونہ نہیں ہے۔ ان کے سامنے غیرمسلم سیاسی لیڈروں کا نمونہ ہے جو ذاتی مفاد کے سوا کچھ اور جانتے ہی نہیں۔
11 اگست 1989
مہاتما گاندھی کا کہنا تھا کہTruth is God یعنی سچائی خدا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خدا سچائی ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
God is truth
دونوں فقروں میں بظاہر صرف لفظی ترتیب کا فرق ہے۔مگرحقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضدہیں۔ سچائی خدا ہے کے نظریہ میں خدا بذات خود کوئی مستقل شئی نہیں۔ وہ محض ایک علامت ہے اس کے برعکس خدا سچائی ہے کے نظریہ کے مطابق، خدا ایک مستقل شی اور ایک علیحدہ وجود ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے انسان ایک مستقل اور علٰیحدہ وجود ہے۔ اس فرق پر غور کیجیئےتو معلوم ہوگا کہ اگر ایک کفر ہے تو دوسرا اسلام ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
12 اگست 1989
ٹائمس آف انڈیا (۱۴ اگست ۱۹۸۹ میں "Leters کے کالم میں مسزورگھیز کا خط چھپا ہے۔اس کا عنوان ہے ‘‘بیمار اخلاقیات’’ (Sick Ethic)
مکتوب نگار نے اپنا ذاتی تجربہ لکھاہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں چھمبا ہاسپٹل میں ایک ڈاکٹر برخوردار تھے۔ ان کا حال یہ تھا کہ وہ غریبوں اور کوڑھیوں پر سب سے زیادہ توجہ دیتے تھے۔ایسا کوئی مریض جب ان کے یہاں آتا تو اس کوفور اًدیکھتے اور پورے دھیان کے ساتھ اس کا علاج کرتے۔ اس کے بعد دوسرے دولت مندوں پر توجہ دیتے تھے۔
ڈاکٹر برخوردار سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ دولت مندوں کے مقابلہ میں غریبوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ میرا خدا غریبوں اور بیکسوں کے درمیان رہتا ہے نہ کہ دولت مندوں اور خوش حال لوگوں کے درمیان۔ میں اپنے خدا کی خدمت کرنے کے کسی موقع کوکھرنا نہیں چاہتا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
My Lord walks among the poor and the powerless, not among the rich and the privileged. I do not wish to lose any opportunity of serving my God.
اس کے بعد مکتوب نگار نے لکھا ہے کہ آج ہمارے ڈاکٹروں اور اسپتالوں کا حال یہ ہے کہ پورا اسپتال صرف دولت مندا در صاحب اثر لوگوں کے گرد گھومتا ہے۔
other sourceWords of another person or source
Today the entire hospital rotates around the prosperous and the influential.
کیسی عجیب تھی وہ آزادی جس نے قوم کی اخلاقیات کو برباد کر کے رکھ دیا ہے ۔
13 اگست 1989
لاجپت نگر (نئی دہلی) میں ایک ہند و فیملی رہتی ہے۔ اس خاندان کی ایک لڑکی کافی آزادخیال تھی اور گھر سے باہر رہ کر اپنا ذاتی بزنس کر رہی تھی ۔ اس نے اپنی ذاتی پسند سے ایک مسلمان سے شادی کرنا طے کیا ہے۔ لڑکی کا نام ومی ہے اور لڑکے کا نام مشکورحسین خاں۔
اس سلسلہ میں ایک بے حدسبق آموز بات معلوم ہوئی ۔ وہ یہ کہ مس ومی کے خاندان کے افراد نے اس انتخاب پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس کی ماں اور بہنوں نے مشترک طور پر یہ کہاکہ مسلمانوں کا کچھ دین دھرم اور ضمیر ہوتاہے،مگر ہندوؤں کے یہاں تو کچھ بھی نہیں۔ ہندوؤں میں اب نہ دھرم رہ گیا ہے اور نہ ضمیر۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہمارے گھر میں ایک ہریجن عورت صفائی کا کام کرتی ہے۔ اس نے ہمارے گھر میں اپنے ذاتی تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ کوٹھیوں میں جو ہندو رہتے ہیں ان میں سو میں سے ایک ہی دواچھے ہوتے ہیں باقی سب خراب ہیں۔
اس طرح کے واقعات برابر سامنے آرہے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوسماج مسلسل بگاڑ کی طرف جا رہا ہے ۔ دوسری طرف مسلمان کچھ اپنے دینی عقائد کی وجہ سے اور کچھ حالات کے دباؤ کی وجہ سے مسلسل سدھرتے جارہے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت جلد وہ وقت قریب آ جائے گا جب ہندوؤں کی اخلاقی گراوٹ انھیں آخری زوال پر پہنچادے گی۔ اور مسلمانوں کے حالات انہیں اخلاقی طور پر زیادہ بہتر بنا دیں گے۔ یہ گویا ایک نیا غلبہ ہے جومسلمانوں کی موجودہ مغلوبیت کے کھنڈرسے ابھر رہا ہے۔
14 اگست 1989
کسی بات کو سمجھنے کے لئے سنجیدہ (Sincere) ہونا انتہائی ضروری ہے ۔ غیر سنجیدہ آدمی کسی بھی بات کو سجھ نہیں سکتا، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی واضح کیوں نہ ہو۔
اس کی ایک مثال آرگنائزرکو پڑھتے ہوئے سامنے آئی ۔ یہ پرچہ فرقہ پرست عناصر کی طرف سے نکالا جا تا ہے۔ اس کا خاص دعوی ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں ہندومظلوم ہیں۔ کیوں کہ کانگریس ہندووں کی قیمت پر مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ مذکورہ شماره( صفحہ 43) میں مسلمانوں کے ذکر کے تحت ایک مضمون میں کہاگیا ہے کہ ہندستان کی اقلیتیں یہاں کی ہندو اکثریت سے زیادہ سہولتیں اور زیادہ بہتر سلوک حاصل کئے ہوئے ہیں:
The minorities in India do get more facilities and better treatment than
the majority Hindus. (p. 43)
کیسی عجیب بات ہے کہ جو شکایت مسلمانوں کو ہے، وہی شکایت موجودہ نظام کے خلاف خود ہندوؤں میں پائی جاتی ہے۔
15 اگست 1989
آرسی زینر (R.C. Zaehner) ایک آکسفورڈ اسکالر ہیں۔انھوں نے مختلف مذاہب کے بارہ میں ایک کتاب لکھی ہے جو ۱۹۷۰ میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے۔ہم آہنگ ناموافقت :
Concordant Discord
اس کتاب کے مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ہم مختلف مذاہب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں بہت سے اختلافات نظر آتے ہیں لیکن زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاهر بے آہنگی (Disharmony) میں آہنگ (Harmony) موجودہے۔
بہت سے علما،(مثلاً ڈاکٹر بھگوان داس) نے یہ کوشش کی ہے کہ وہ ثابت کریں کہ تمام مذاہب ظاہری اختلافات کے باوجود ایک ہیں ۔ وہ اس طرح اہل مذاہب کے درمیان ٹکراؤ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر میں اس کو بے فائدہ سمجھتا ہوں ۔ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی تدبیر یہ نہیں ہے کہ تمام مذاہب کو ایک ثابت کیا جائے۔ اس کی واحد کارگر تدبیر یہ ہے کہ اہل مذاہب کے اندر رواداری (Tolerance ) کامزاج پیدا کیا جائے یعنی اختلاف کو برداشت کرتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کرنا اور اختلاف کا اظہار سنجیدہ علمی دائرہ میں کرنا نہ کہ مناظرہ اور تصادم کے دائرہ میں ۔ اس دنیا میں امن قائم کرنے کا راز اختلاف کو برداشت کرنا ہے نہ کہ اختلاف کو ختم کرنا۔
اس معاملہ میں دوسری کوئی صورت سرے سے ممکن ہی نہیں۔
16 اگست 1989
آج سلیم پور(دہلی) کے دو نوجوان آئے۔ انھوں نے اپنا نام اخترحسین اور نفیس احمد بتایا۔ دونوں نے کہا کہ ہم اپنی زندگی سے مایوس ہو گئے تھے۔ مسلم لیڈروں کی باتیں سن کر اورمسلم اخبارات کو پڑھ کر اور مسلم معاشرہ کے ماحول سے متاثر ہو کر ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اس ملک میں ہمارے لئے کام کرنے اور ترقی کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔
اس کے بعد ان میں سے ایک شخص کو راہیں بن نہیں نامی پمفلٹ ملا۔ اس کو پڑھ کر اس کا ذہن بدل گیا۔ اس نے ہی پمفلٹ اپنے ساتھی کو پڑھنے کے لئے دیا۔ اس کا ذہن بھی اس کو پڑھنے کے بعد بالکل بدل گیا۔ اب یہ دونوں الرسالہ کے مستقل قاری بن چکے ہیں اور نئے حوصلہ کے ساتھ زندگی کے میدان میں جدوجہد کر رہے ہیں۔
اللہ کاشکر ہے کہ اس طرح ہزاروں نوجوان ہیں جن کو الرسالہ کی تحریک نے نئی زندگی دی ہے۔
17 اگست 1989
د وصاحبات ملاقات کے لئے آئے۔ دونوں دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے کہاکہ قرآن ہمارے اندر یہ ذہن بنانا چاہتا ہے کہ ہم عسر میں یسرکو دیکھیں ۔مگر موجودہ زمانہ میں ہمارے علماء اس کا ثبوت نہ دے سکے۔
میں نے کہا کہ ہمارے علما فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ انگریزوں نے پروفیسرآرنلڈ کے ذریعہ کتاب پریچنگ آف اسلام (۱۸۹۶) لکھوائی تاکہ مسلمانوں کے عمل کارخ سیاسی جہاد سے ہٹا کر دعوت و تبلیغ کی طرف موڑ دیں۔ مگر علماٰء وقت اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ اسی طرح ۱۹۳۰ میں انگریزوں نے علماء کو یہ پیش کش کی کہ دہلی میں صفدر جنگ مقبرہ کا پورا علاقہ جوکئی کیلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے ، آپ لوگوں کو دے دیا جائے گا۔ یہاں آپ لوگ تعلیم وتبلیغ کا ادارہ قائم کریں اور سیاست سے الگ ہو جائیں ۔ مگرعلماء نے اس پیش کش کو حقیر سمجھ کر نظرانداز کر دیا اور بدستور انگریز کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ اگر ان علما ءنے قرآن وسنت کا گہرا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ اس کو عین اسلام کے حقمیں سمجھتے اور اس کو قبول کرلیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عین وہی صورتحال تھی جو واقعہ حدیبیہ کے وقت پیش آئی۔ قریش نے مسلمانوں سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کرکے سمجھا کہ ہم نے مسلمانوں سے ان کی تلوار چھین لی ۔ حالاں کہ اصل صورت حال یہ تھی کہ انھوں نے مسلمانوں سے ‘‘ تلوار’’ چھین کر زیادہ بڑی طاقت انھیں دے دی، اور وہ دعوت کے کھلے مواقع تھے۔ چنانچہ دعوت کی تسخیری طاقت ظاہر ہوئی اور صرف دو سال کے اندر مکہ فتح ہوگیا۔
اسی طرح انگریز اگرچہ علماءسے ‘‘تلوار ’’چھین رہے تھے ، مگر اس کے بدلے وہ انھیں ایٹم بم دے رہے تھے۔ وہ انھیں دعوت وتبلیغ کے کھلے مواقع دے رہے تھے جو بلاشبہ ہرتلوار سے زیادہ تسخیری طاقت رکھنے والا ہے۔ علماء کے شمشیری جہادنے تو اسلام اورمسلمانوں کو کچھ نہیں دیا۔لیکن اگر وہ اس وقت دعوت کے میدان میں متحرک ہو جاتے تو آج اس ملک کی تاریخ بالکل دوسری ہوتی۔
18 اگست 1989
الرسالہ اپریل ۱۹۸۹ میں میرا ایک مضمون ‘‘تعدد ازواج’’کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون دوباره قومی آواز (۱۳ اگست ۱۹۸۹ )میں نقل ہوا۔ اس کو پڑھ کر ڈاکٹر مسعودعلی کھالاپار ،منظفرنگر کا ایک خط قومی آواز ۱۸اگست ۱۹۸۹ میں چھپا ہے۔ اس خط میں موصوف لکھتے ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
‘‘ اس سے قبل اسی موضوع پر سہارن پور کے ڈاکٹر جاوید جمیل کا مضمون قومی آواز ۲۴ دسمبر ۱۹۸۹ میں شائع ہوا تھا۔ مولانا وحیدالدین خان کا مضمون اسی مضمون پر مبنی نظر آتا ہے۔ کچھ مقامات پر تو تقریبا وہی الفاظ نقل کئے گئے ہیں جو ڈاکٹر جاوید جمیل کے مضمون میں تھے۔ مثال کے طور پر مولانا موصوف لکھتے ہیں ، ‘‘چنانچہ جنگ کے بعد مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد بہت زیاد ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان ملکوں میں جنسی بے راہ روی عام ہوگئی یہاں تک کہ بہت سی بے شوہر یا غیرشادی شدہ عورتوں کے گھروں کے سامنے اس قسم کے بورڈ لکھے ہوئے نظر آنے لئے کہ رات گزارنے کے لئے ایک مہمان چاہیے’’۔ اب دیکھئے ڈاکٹر جاوید جمیل کے مضمون کے الفاظ ' ‘‘دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں مردوں کی تعداد اس قدرکم ہوگئی تھی کہ بہت سی خواتین نے اپنی جسمانی ضرورتوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے دروازوں پر( صرف ایک شب کے لئے ) کے بورڈ لگا لئے۔’’
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل یہ ہے کہ یہ بات میں نے سب سے پہلے ستمبر ۱۹۵۸ میں اپنے ایک مضمون میں کہی تھی۔ یہ مضمون‘‘ حقیقت کی تلاش" کے عنوان سے اسی وقت چھپ گیا تھا اور بار بار چھپتا رہا ہے ۔کوئی بھی شخص اس کو ‘‘حقیقت کی تلاش’’ کے آخر میں دیکھ سکتا ہے۔ غالبا ڈاکٹر جاوید جمیل نے یہ بات میرے مضمون سے لی ہوگی۔ میں نے اس کو ڈاکٹر جمیل سے نہیں لیا۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ میرا مضمون ان کے مضمون سے ۳۰ سال پہلے چھپ چکاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
19 اگست 1989
ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کیلی فورنیا کے ایک اسلامی منظر میں ڈائرکٹر ہیں ۔ آج ہمارے مرکز میں ان کا لکچر تھا۔ لکچر کا عنوان تھا: اسلام امریکہ میں۔
اپنے لکچر انھوں نے بہت سی باتیں امریکہ کے بارے میں بتائیں۔ ایک بات یہ تھی کہ امریکہ کے جیل خانوں میں جو قیدی ہیں، اورجن میں زیادہ تعداد سیاہ فام لوگوں کی ہے۔ ان میں اسلام پھیل رہا ہے۔ کچھ مسلمان ان کو جیل میں پڑھنے کے لئے اسلامی کتا میں پہنچاتے ہیں اور ان کو پڑھ کر وہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے بتایاکہ جیل کے حکام ان قیدیوں کے درمیان تبلیغ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو مجرم اسلام قبول کرتا ہے اس کی زندگی میں فورا اصلاح آ جاتی ہے۔ جیل کے ایک افسر نے کہا کہ اسلام زندگی کو بدلنے میں بہت زیادہ موثر ہو تا ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Islam is the most rehabilitating factor.
اس نے کہا کہ جیل خانوں میں عیسائی مشینری کے لوگ بھی کام کرتے ہیں۔ مگر عیسائی ہونے کے بعد قیدی کے اندر کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی۔مگر جو قیدی اسلام قبول کرلیتا ہے اس کی عادتیں بالکل بدل جاتی ہیں۔ وہ نیا انسان بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے عقائد انسان کی شخصیت کو بدلنے کے لئے نہایت طاقت ور محرک ہیں۔ جب کہ دوسرے مذاہب (تحریف کی بنا پر) اپنی یہ طاقت کھو چکےہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
20 اگست 1989
کلیم الرحمان صاحب ایم اے ( پیدائش۱۹۵۰) پٹنہ کے اورینٹل کالج میں استاد ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ لندن کی ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی نے جارج برنارڈ شا سے کہا کہ آپ سگرٹ (Abdulla) کے لئے اشتہار کا مضمون لکھ دیجئے۔ برنارڈشانے کہا کہ میں تو سگریٹ نوشی کا مخالف ہوں ، میں کیسے سگریٹ کا اشتہار لکھوں۔ کمپنی نے ایک بڑی رقم کی پیش کش کی ، مگربرنارڈشا تیار نہیں ہوا۔ آخر کمپنی نے کہا کہ اچھا ، آپ کا جو خیال ہو، وہی لکھ دیجئے۔ برنارڈ شانے لکھ دیا۔ سگریٹ نہ پیو، حتی کہ عبد الٹرسگریٹ بھی نہیں:
Don't smoke, even Abdulla
کمپنی نے جارج برنارڈشا کے نام سے ہی الفاظ چھاپ دئے اور اس کو خوب پھیلا یا ۔نتیجہ یہ ہواکہ لوگوں کو عبد اللہ سگرٹ کے بارے میں تجسس ہوا۔ اس کے بعد عبد اللہ سگرٹ کی زبردست شہرت ہوئی اور وہ بہت زیادہ بکنے لگا۔
اس دنیا میں ناموافق کو بھی اپنے موافق بنایا جاسکتا ہے ،شروا صرف یہ ہے کہ آدمی ہوشیار اور موقع شناس ہو۔ اس قسم کی ہوشیاری کی ایک مثال ‘‘رازحیات ’’ صفحہ ۸۳ پر دیکھی جاسکتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
21 اگست 1989
سید لئیق احمد (پیدائش۱۹۶۰ ) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ نظام آباد (آندھرا پردیش)کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۶ میں شب برات کے روز ہنومان کا جلوس نکلا۔جلوس چلتا ہوا نہرو پارک کے قریب پہنچا توعشا کا وقت ہوچکا تھا۔ اس دن رات کو عشاء کی نماز کے بعد مسجد کچیان میں شب برات کا جلسہ ہونے والا تھا۔ اس کا وقت ساڑھے نو بجے مقرر تھا۔
مختلف محلوں کے مسلمان اپنے گھروں سے نکل کر روانہ ہوئے کہ مسجد کچیان میں نماز پڑھیں اور اس کے بعد جلسہ میں شرکت کریں ۔ ان کا راستہ نہرو پارک سے گزرتا تھا۔ پولیس نے انہیں روکا اور کہا کہ آپ لوگ تھوڑی دیر ٹھہر جائیں ۔جلوس گزرجائے تو اس کے بعد مسجد کے لئے روانہ ہوں مگر مسلمانوں نے اسی وقت آگے جانے کے لئے اصرار کیا۔ پولیس والوں نے ڈرانے کے لئے لاٹھی گھمائی اور دیواروں پر لاٹھی ماری۔اس پر مسلمان مشتعل ہو گئے اور پتھراور چپل پولیس کی طرف پھینکے۔ اس کے بعد پولیس نے باقاعدہ لاٹھی چارج کیا۔ اور بہت سے لوگوں کو حوالات میں بند کر دیا۔ وہاں مسلمانوں کو کافی مارا گیا۔
میں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کی سراسر نادانی تھی۔ اگر اس وقت وہ رک جاتے تو زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ لگتا۔ اتنی دیر میں جلوس گزر جاتا اور وہ مسجد میں جاکر جلسہ میں شریک ہو جاتے۔اس قسم کی نادانیاں ہیں جس نے مسلمانوں کو غیر ضروری مسائل میں مبتلاء کر رکھا ہے۔
22 اگست 1989
قومی آواز( ۱۴ اگست ۱۹۸۹ )میں ایم شفیق انصاری ایڈوکیٹ (مراد آباد) کامراسلہ چھپا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔ ‘‘یوپی میں نافذ خاتمہ زمینداری ایکٹ ۱۹۵۰ کے ذریعہ اتر پردیش میں عورتوں کو چالیس سال سے زرعی زمین میں ان کے حقوق سے لگا تار محروم کیا جارہا ہے۔ قانون کی مذکورہ دفعات ۱۷۱ اور ۱۷۲ کے مطابق اگر کوئی مردیا خاتون کچھ زرعی جائداد چھوڑ کر فوت ہو جائے ، اور اگر ان کے وارثین میں بیٹے بھی ہوں تو کل جائداد بطور تر کہ صرف بیٹوں اور یتیم پوتوں کو ملتی ہے۔ شادی شدہ یا غیرشادی شدہ بیٹیوں کو کچھ نہیں ملتا۔’’
یہ قانون ہند ومسلمان دونوں پرنافذ ہے۔ یہ شریعت کے قانون وراثت میں کھلی ہوئی مداخلت ہے ۔ مگر پچھلے ۴۰ سال کے اندر کسی بے ریش یا باریش لیڈرنے اس کے خلاف کوئی تحریک کیوں نہیں چلائی۔ شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصؒہ اس کے مقابلہ میں بہت معمولی تھا۔ جب کہ مذکور قانون کا معاملہ اس سے بہت زیادہ سنگین ہے۔
اس معاملہ میں نام نہاد لیڈروں کی خاموشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں مسلمانوں کی بھیڑ جمع کی جاسکتی تھی۔ مگر مذکورہ قانون کے معاملہ میں مسلمانوں کی بھیڑ جمع نہیں کی جا سکی۔ یہ حال ہے ان لیڈروں کا جوشاہ بانو بیگم کی تحریک سے وقت کہتے تھے کہ ہم شریعت کے معاملہ میں ادنی مداخلت برداشت نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام لیڈراور رہنما ملت کو بھٹکانے والے ہیں نہ کہ ملت کو راہ دکھانے والے۔
23 اگست 1989
حیدر آباد سے محی الدین محمد اپنے خط میں لکھتے ہیں۔ ‘‘ایک صاحب جو امریکہ میں مستقل طور پر سکونت پذیر ہیں، چند دن کے لئے یہاں آئے تھے۔ ان سے ملاقات میں میں نے امریکی مسلمانوں کے بارہ میں دریافت کیا۔ انھوں نے بتایا کہ عرب ممالک سے جو لوگ امریکہ میں آ کر آباد ہوئے ہیں انھوں نے اپنا مذہبی تشخص برقرار نہیں رکھا۔ اس کے برعکس ہندستان وغیرہ (اقلیتی ملکوں)کے جو مسلمان وہاں جا کر آباد ہوئے ہیں ان کی قابل لحاظ تعداد نے اپنے مذہبی تشخص کو برقرار رکھا ہے۔’’
quoted sourceQuoted from another author or source
اس کی وجہ یہ ہے کہ جن ملکوں میں مسلم حکومتیں ہیں ، وہاں کے مذہبی امور حکومت انجام دیتی ہے، عام مسلمانوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اقلیتی ملکوں کے مسلمانوں کو اپنے ملکوں میں خود اپنی کوشش سے تمام ملی اور مذہبی کام کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ عرب ملکوں کے لوگ امریکہ گئے تو اپنے سابقہ ذہن کی بنا پر انھوں نے مذہبی اداروں کے قیام کی فکرنہیں کی۔ اس کے بر عکس ہندستان وغیرہ کے مسلمان جس طرح اپنے ملک میں یہ کام کر رہے تھے، اسی طرح وہ امریکہ میں بھی یہی کام کرنے لگے۔ اس طرح ان کا مذہبی تشخص نسبتا محفوظ رہا۔
کچھ معاملوں میں اگر اکثریتی ملکوں کے مسلمان بہتر پوزیشن میں ہیں، تو کچھ دوسرے معاملہ میں اقلیتی ملکوں کے مسلمان بہتر پوزیشن میں۔
24 اگست 1989
ہندستان ٹائمس (۲۴اگست ۱۹۸۹) میں ایک خبر ہےکہ ۔ دنیا کے سب سے زیادہ دولت مند لوگ :
Richest men of the world.
نیو یارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ چھپنے والی یہ خبرامریکہ کے میگزین (Forune) کے سالانہ جائزہ پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق دنیا کے چار امیر ترین آدمی یہ ہیں :
Sultan of Brunei 25 billion dollars
King Fahd 18 billion dollars
Mars family, USA 12.5 billion dollars
Queen Elizabeth II, UK 10.9 billion dollars
اس اندازہ کے مطابق ، انفرادی دولت کے اعتبار سے اس وقت ساری دنیا میں مسلمان نمبرایک پر ہیں۔ اسی طرح انہیں اور بھی کئی امتیازی خصوصیات حاصل ہیں۔ اقوام متحدہ کے ممبروں میں سب سے زیادہ تعداد مسلم ملکوں کی ہے۔ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن ہے۔ سب سے زیادہ تیررفتار مذہب اسلا م ہے۔دنیا کا سب سے زیادہ قیمتی خطہ مسلمانوں کو حاصل ہے۔ وغیره۔
ان تمام امتیازی خصوصیات کے با وجو د مسلمان ہی آج سب سے زیادہ بے وقار قوم بنے ہوئے ہیں۔ کیسی عجیب ہے یہ صورتحال۔
25 اگست 1989
ایک تاجر سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہاکہ آپ تجارت کر رہے ہیں۔ اس کے تحت آپ کو بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں۔ مثلا دکان بنانا ، سفر کرنا ،سامان حاصل کر نا ،اشتہار دینا ،تعلقات قائم کرنا ، رجسٹر مرتب کرنا، عدالتی معاملات سے نمٹنا ، وغیرہ وغیرہ۔ مگران تمام مختلف سرگرمیوں کا مقصدصرف ایک ہے۔ اوروہ پیسہ حاصل کرتا ہے۔ آپ کی یہ تمام سرگرمیاں اگر آپ کو پیسہ دے رہی ہوں تو وہ بامعنی ہیں۔ اور اگر ان کے نتیجہ میں آپ کو پیسہ نہ ملے تو تمام سرگرمیاں بے معنی ہو کر رہ جائیں گی۔
یہی معاملہ دین کا ہے۔ دین میں بھی بظاہر بہت سے اعمال ہیں۔ کلمہ، نماز، روزہ،حج اور دوسرے اعمال۔ یہ سرگرمیاں محض شکلاًمطلوب نہیں ہیں۔ بلکہ ان کاکوئی اندرونی مقصد ہے۔ اور وہ مقصد یہ ہے کہ آدمی کے اندر تقوی کی صفت پیدا کر رہی ہوں تو وہ بامعنی ہیں۔ ورنہ سب کی سب بے معنی۔ ان سرگرمیوں کی تقوی کے بغیر کوئی قیمت نہیں۔
26 اگست 1989
رابندر ناتھ ٹیگور کا ایک ناول ہے جس کا اصل بنگالی نام جو گا جوگ ہے۔ یہ ناول ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی سے اردو میں چھاپا گیا ہے۔ یہ اردو ترجمہ ۵ ۳۷ صفحات پرمشتمل ہے اور اس کا نام سنجوگ ہے۔
کتاب کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ ہیروئن کمودنی کا اپنے شوہر سے نباہ نہیں ہوا ۔ دہ سسرال سے واپس ہو کر اپنے بھائی کے پاس آگئی۔ اس کے ماں باپ مر چکے تھے۔ بھائی تنہا اپنے گھر میں رہتا تھا۔ بہن نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں یہاں تہارے اوپر بار تو نہ ہو جاؤں گی۔ بھائی پر اس نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ تم میری بہن ہو ۔ تم یہاں وہ کام کروگی جو کوئی پرائیویٹ سکریٹری بھی نہیں کرسکتا۔ اس دوران بھائی جو کچھ اپنی بہن سے کہتا ہے اس میں سے ایک جملہ یہ ہے :
other sourceWords of another person or source
پھر تو یہ جانتی ہے کہ بچے تعلیم دینے کا شوق ہے تجھ سے بہتر شاگر د مجھے کون ملے گا۔اور ایک کام کیا جائے گا۔ بہت دنوں سے مجھے فارسی زبان سیکھنے کا شوق ہے۔ اکیلے پڑھتے اچھانہیں لگتا۔ تجھے ساتھ لے کر پڑھوں گا۔ تو ضرور مجھ سے آگے بڑھ جائے گی لیکن میں ذرا بھی رشک نہ کروں گا۔
رابندر ناتھ ٹیگور ۱۸۶۱ میں کلکتہ میں پیدا ہوئے اور و ہیں ۱۹۴۱ میں اس کی وفات ہوئی۔ ان کے ناول انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کے ہندستان کو بتاتے ہیں۔ مذکورہ اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زمانہ آج کے زمانہ سے کس قدرمختلف تھا۔ مگر اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلم رہنماؤں نے اس زمانہ کو بالکل استعمال نہیں کیا، وہ تقریباً بلاستعمال ختم ہوگیا۔
27 اگست 1989
المتنبی مشہور عرب شاعر ہے۔ وہ 915ء میں کوفہ میں پیدا ہوا ،۹۷۵ء میں دیرالعقول وفات پائی۔ کہا جا تا ہے کہ اس نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ کسی نے کہاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں) اس نے کہا کہ تم لوگ اس حدیث کا مطلب غلط نکالتے ہو۔ یہ حدیث در اصل اس طرح ہے: لا نبی بعدی ۔ یعنی‘‘ لا ’’ میرے بعد نبی ہے۔ میں ہی وہ نبی ہوں اور آسمان میں میرا نام لاہے ۔(وانا اسمى فى السماء لا )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ استدلال نہیں ہے ، بلکہ لطیفہ ہے۔ اس سے تفریح کا فائدہ ہوسکتا ہے، مگر اس قسم کے شاعرانہ تکتوں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی ۔
28 اگست 1989
پاکستان کے اخباروں میں‘‘ وفاق ’’ایک اسلامی اخبارسمجھا جاتا ہے۔ اس کے شمارہ ۲۴ اگست ۱۹۸۹ کے اداریہ کا عنوان ہے : ”بھارت میں مسلم اقلیت کی زبوں حالی’’ پورا مضمون سطحی معلومات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ مثلاً اس میں درج ہے کہ ‘‘بھارت کے رزرو بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کو بمشکل چھ اعشاریہ اور دو فیصد قرضے فراہم کئے جاتے ہیں۔’’
یہ ایک لغو بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہندستان کے مسلمان عام طور پر بنک کا قرضہ لینے سے احتراز کرتے ہیں۔ کیونکہ اس میں انہیں سود دینا پڑتا ہے۔ ان کا براحتر از علما اسلام کے فتوؤں کی وجہ سے ہے نہ کہ ان رزرو بینک کی پالیسی کی وجہ سے۔
مسلمانوں کے اخبارات ساری دنیا میں صرف ایک کام کر رہے۔ وہ سطحی اور بے بنیاد باتیں چھاپ کر مسلمانوں کے اندر دوسروں کے خلاف نفرت بھر رہے ہیں۔ ان اخبارات کا نہ نکلنا ان کے نکلنے سے اچھا تھا۔
29 اگست 1989
بیسویں صدی کے نصف اول میں سوشلزم کی دھوم تھی ۔ روس اور چین جیسے ملکوں میں مکمل مارکسی نظام نافذ کیا گیا۔ اور دوسرے ملکوں (مثلاً ہندستان) میں سوشلزم کے نام سے اس کے نظریات کو اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔
سوشلزم یا مارکسزم کے تحت سلب و نہب کا سلسلہ شروع ہوا ۔ لوگوں پر زبردست مظالم کئے گئے۔ کہاگیا کہ عظیم بھلائی (Greater good) اور اجتماعی ضرورت (Social necessity) کی خاطر ایساکیا جارہا ہے۔ مگر بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر یہ نظریہ لغو قرار دیدیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ٹائمس آف انڈیا (۲۹ اگست ۱۹۸۹) میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔سکش ۲،صفحہ۳
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بعد کے مسلمانوں میں بہت کچھ بگاڑ آگیا۔مگر اسلام کا نظریہ کبھی فیل نہیں ہوا۔ جب کہ مارکسزم اور سوشلزم کا معاملہ یہ ہے کہ خود ان کے نظریات فکری اعتبار سے غلط قرار پاگئے ہیں۔
30 اگست 1989
ایک مصری عالم محمد عوضین الهامی (المجینرہ) ملاقات کے لئے آئے ۔ ان کے ساتھ قطر کے ایک عالم بھی تھے۔ مصری عالم سے میں نے جمال عبدالناصر کے بارہ میں سوالات کئے۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ جمال عبد الناصر یہ کہتے تھے کہ نحن ابناء الفراعنة سنرميكم في البحر ۔ انھوں نے کہاکہ جمال عبدالناصر کی تقریریں میں نے سنی ہیں۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ نحن سنلقی اليهود في البحر مگرمیں نے خود کبھی ان کو یہ کہتے ہوئے نہیں سناکہ ‘‘نحن ابناء الفراعنة" اگرچہ انہیں فرعونی تہذیب سے دلچسپی تھی مگر میری معلومات کے مطابق انھوں نے نہیں کہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ جمال عبد الناصر نماز روزہ کے پابند تھے۔ ان کے گھر کے سبھی لوگ نماز روزہ کے عامل تھے۔ ان کی بیوی پورے ستر میں رہتی تھیں۔ البتہ اخوانیوں پر انھوں نے شدید مظالم کئے۔ مگراب مصر میں اخوانی بالکل آزاد ہیں۔ چوں کہ اب وہ حکومت سے ٹکراؤ نہیں کرتے۔ اس لئے حکومت نے انہیں آزادی دے دی ہے۔ اخوان کے افراد اب مصر میں بڑے بڑے کارو بار کر رہے ہیں اور اچھی حالت میں ہیں۔
مصری عالم کی مذکورہ گفتگو میں نے ایک ہند ستانی مسلمان سے بتائی جو جمال عبدالناصر کے مخالف ہیں۔ انھوں نے فوراً کہا کہ ان کا نماز روزہ حقیقتہً Cultural habit کے طور پر تھا نہ کہ سچی دینداری کے طور پر ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی وہ ذہنی انحراف ہے جو کسی آدمی کو سچائی تک پہنچنے نہیں دیتا۔ مصر کے مذکورہ واقعہ میں اصل سبق یہ ہے کہ حکمرانوں کا ظلم صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ان کا اقتدار چھیننےکے لئے اٹھیں ۔اگر آپ حکمراں کے لئے اس قسم کا سیاسی مسئلہ نہ بنیں تو وہ آپ سے تعرض بھی نہیں کرے گا۔مگر مذکورہ بزرگ نے یہ سبق نہیں لیا۔ انھوں نے اپنے ذہن کی گاڑی دوسری طرف موڑ دی اور یہ کہہ دیا کہ مصر کے حکمراں Cultural habit کی وجہ سے نماز روزہ ادا کرتے تھے۔
31 اگست 1989
اخبار العالم الاسلامی( مکہ) کے شمارہ ۲۱ اگست ۱۹۸۹ میں صفحہ ۱۵ پرایک خبرچھپی ہے جس کا عنوان یہ ہے برطانیہ کی اقلیتیں برطانی اقتدار کو اختیار کریں:
Minorities urged to embrace UK values.
اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک برطانی منسٹرجان پیٹن (John Patten) نے برطانیہ میں بسنے والے مسلمانوں سے یہ کہا کہ آپ لوگ برطانیہ میں اپنی شرائط پر نہیں رہ سکتے اور نہ دہری وفاداری کے ساتھ یہاں رہ سکتے ہیں :
other sourceWords of another person or source
One cannot be British on one's own exclusive terms or on a selective basis, nor is there room for dual loyalties where those loyalties openly contradict one another.
قومی آواز (۳۰ اگست ۱۹۸۹) میں صفحہ اول پر ایک خبر ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی حکمران پارٹی کے ایک ممبر پارلیمنٹ مسٹر ناونینڈی نےبرطانی مسلمانوں کے خلاف بہت سخت بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سلمان رشدی کی ناول شیطانی آیات پر جو مسلمان برہم ہیں، دو جہاں سے آئے ہیں وہیں انہیں لوٹ جانا چاہئے۔
برطانیہ میں آباد مسلمان نہایت عزت کے ساتھ وہاں رہ رہے تھے۔ سلمان رشدی کی کتاب پر جھوٹا ہنگامہ کر کے انھوں نے اپنے آپ کو انگریزوں کی نظر میں بے عزت کر لیا۔ مجھے امید نہیں کہ اب دوبارہ وہ وہاں سابقہ عزت اور وقار حاصل کرسکیں گے۔
سلمان رشدی کی کتاب ستمبر ۱۹۸۸ میں لندن سے شائع ہوئی۔ فروری میں آیت اللہ خمینی نے اس کے قتل کا فتوی جاری کیا۔ ۱۵فروری ۱۹۸۹ کورشدی رو پوش ہوگیا۔ اس وقت سے وہ حکومت برطانیہ کی حفاظت میں ہے اور حکومت اس کی خصوصی حفاظت پر روزانہ تقریباً ایک ہزار پونڈ خرچ کر رہی ہے۔ ۳ جون ۱۹۸۹ کو آیت اللہ خمینی کا انتقال ہوگیا ۔