Maulana Wahiduddin Khan
33 min left
0:00

← Diary 1989-1990
Diary 1989-1990

July 1989

English · 33 min read

یکم جولائی 1989

دکتور عبدالله النفیسی کویت کی یونیورسٹی میں استاد تھے۔ انھوں نے ایک کتاب لکھ کر شائع کی ۔ اس کا نام تھا : عندما يحكم الاسلام (جب اسلام حکومت کرے گا) اس کتاب میں کچھ ایسی باتیں تھیں جن سے کویت کے سیاسی نظام پر بالواسطہ تنقید ہوتی تھی۔ چنانچہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد دکتورعبدالله النفیسی کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ۔ وہ اگرچہ کویت کے شہری تھے، مگر کویت میں انھیں کوئی اپنی جگہ نہ مل سکی ۔ آجکل وہ عرب امارات میں ہیں اور وہاں کی یونیورسٹی میں کام کر رہے ہیں۔عرب امارات میں وہ اس قیمت پر ہیں کہ انہوں نے دوبارہ سسٹم پر تنقید کرنے کی غلطی نہیں کی جو انھوں نے اس سے پہلے کو یت میں کی تھی۔

2 جولائی 1989

امام مالک کہتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو گویوں کے پیچھے لگا رہتا تھا۔ ان سے گانا سیکھتا تھا۔ ایک دن میری ماں نے مجھ سے کہا کہ بیٹا، گویا اگر بدشکل ہو تو وہ گویا کی حیثیت سے مقبول نہیں ہوتا۔ اس لئے تم گانا چھوڑ دو۔ اور فقہ و حدیث کی تعلیم حاصل کرو۔ کیوں کہ فقہ و حدیث کے ساتھ بد شکلی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی ۔ چنانچہ میں نے گویوں کی صحبت چھوڑ دی اورفقہاء وعلما کے پاس رہنے لگا۔ اس کے بعد خدا نے مجھے اس مرتبہ پر پہنچایا جس پر تم اس وقت مجھے دیکھتے ہو۔

other sourceWords of another person or source

مذہب میں ہر چیز چھپ جاتی ہے اور اس کی وجہ مذہب میں تقدس کا پہلو ہے. مذہبی لوگوں کے لئے تقدس ایک پراسرار پردہ کا کام کر تا ہے ۔ یہ خصوصیت مذہب کے سوا کسی اور چیز کو حاصل نہیں۔

3 جولائی 1989

چند دن کشمیرمیں رہ کر آج دہلی واپس آیا۔ وہاں شہر سے دو پہاڑوں کے درمیان ایک صاحب نے گھر بنایا ہے۔ اس سے ملحق بہت بڑی زمین ہے۔ مجموعی طور پر مکان اور زمین کی قیمت تقریبا ایک کروڑ روپیہ ہے۔

یہاں بہت سے کشمیری جمع ہوئے۔ کئی نشستوں میں میں نے اسلام کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی ۔ یہ لوگ بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ میری تحریک پر انھوں نے ایک مسجد کی تعمیر شروع کی اور مجھ سے اس کا سنگ بنیاد رکھوایا۔ اس پورے علاقہ کا قدیم نام بدل کر ' وحید آباد " رکھ دیا۔ وغیرہ ۔

کشمیری لوگ بہت جذباتی ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ سب محض وقتی جذباتیت کا نتیجہ ہو۔ لیکن اگر انھوں نے گہرے طور پر ہماری دعوت کو سمجھا ہوتو یہ مقام انشاء اللہ آئندہ الرسالہ مشن کا ایک طاقت ور مرکز بن جائے گا۔

5 جولائی 1989

بمبئی سے برہمن ازم کے خلاف ایک کتاب چھپی ہے جس کی قیمت 95 روپیہ ہے۔ کتاب کا نام اور مصنف کا نام یہ ہے:

Non-Brahman Movement in Maharashtra By M.S. Gore Segment

کتاب میں پسماندہ طبقہ کے مشہور مصلح جیوتی راؤ پھولے (1890- 18227) کے متعلق بتایا گیا ہے کہ انھوں نے برطانی اقتدار کا استقبال کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر شودروں کو ترقی کرنی ہے تو انھیں برطانی اقتدار کو بطور ناگزیر برائی کے اختیار کرنا ہو گا:

other sourceWords of another person or source

He welcomed the British rule as "an evil necessity" if the Sudras were to make nay progress (p. 20)

other sourceWords of another person or source

ہندستان کا سب سے بڑاسماجی مسئلہ طبقاتی عدم مساوات ہے۔ یہ مسئلہ نہ برطانی اقتدار کے زمانہ میں ختم ہوا۔ نہ آزادی کے انقلاب نے اس کو ختم کیا اور نہ مہاتما گاندھی کی ہریجن تحریک اس کا خاتمہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عدم مساوات کی جڑیں خود ہندو مذہب میں گہرائی کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کا خاتمہ صرف دوصورتوں میں ہوسکتا ہے۔ یا تو ہندو مذہب مٹ جاۓ یا ہریجن ہندو مذہب کو چھوڑ کر نیا مذہب اختیار کرلیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ کا واحد حل اسلام ہے۔ اگرچہ مسلمانوں کے احمقانہ لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے ابھی تک ملک کے اندر وہ معتدل فضا نہیں بنی جب کہ سنجیدہ طور پر اس حل کے بارے میں غور کیا جاسکے۔

6 جولائی 1989

صبح کو سورج نکلنے سے پہلے قریب کے پارک میں ٹہل رہا تھا۔ اس دوران قرآن کی یہ آیت یاد آئی : وفى اموالهم حق للسائل والمحروم ( اور ان کے مالوں میں حق ہے سائل اور محروم کے لئے)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے سوچا کہ جب اللہ تعالی نے انسانوں کے لئے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ حقداروں کے علاوہ سائل اور محروم کو بھی اپنے مال میں سے دیں۔ تو اللہ تعالی نے اپنی جنت کے لئے ضرور یہ اصول رکھا ہوگا۔ یہ سوچتے ہوئے بے اختیار دل سے یہ دعا نکلی کہ خدایا ، میں حق داری کی بنیاد پر آپ کی جنت میں حصہ پانے کا مستحق نہیں، آپ سائل اور محروم ہونے کی بنیاد پر مجھے اپنی جنت میں حصہ دار بنا دیجیے۔

7 جولائی 1989

لارڈ ہیلی فیکس (Lord Halifax) نے کہا ہے کہ جب لوگ اپنی آزادی کے لئے لڑیں ، تو کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی فتح کے ذریعہ نئے آقاؤں کے سوا کچھ اور پا سکیں:

other sourceWords of another person or source

When the people contend for their liberty they seldom get anything by

their victory but new masters.

عقل اور تجربہ دونوں کے مطابق یہ بات نہایت صحیح ہے۔ ہندستان میں مسلم علماء نے انگریزی اقتدار کے خلاف آزادی کی تحریک چلائی مگر1857 اسے لے کر 1947 تک لمبی جدوجہد کے بعد جب آزادی ملی تومعلوم ہوا کہ وہ ملک کے اکثریتی فرقہ کے محکوم ہو کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان کے اسلام پسندوں نے جنرل ایوب خاں کی "غلامی" کے خلاف تحریک چلائی مگر اس کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جنرل ایوب کی غلامی سے نکل کر ذوالفقارعلی بھٹو کی غلامی میں پہنچ گئے ہیں۔ مصر کے اسلامی رہنماؤں نے شاہ فاروق کے اقتدار سے آزاد ہونے کی تحریک چلائی مگر یہ آزادی صرف اس قیمت پر ملی کہ اس کے بعد وہ فوجی افسرکی شدید غلامی میں داخل ہو چکے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی تحریکیں جان و مال کے ضیاع کے سوا اور کچھ نہیں یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو نہایت تاکید کے ساتھ یہ ہدایت فرمائی کہ حکمراں ، خواہ وہ تمہاری نظر میں کتنا ہی برا ہو ، اس کے خلاف سیاسی تحریک سے اعراض کرو. حکمرانوں کے خلاف سیاسی ٹکراؤ سے بچ کر دوسرے میدانوں میں اصلاح تعمیر کے کام میں لگ جاؤ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

8 جولائی 1989

قومی آواز ( 7 جولائی 1989) میں جناب محمد یونس سیلم صاحب کا ایک مفصل مضمون چھپا ہے جس کا عنوان ہے : مسلم کنونشن اور ان کا پس منظر۔

other sourceWords of another person or source

مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ہندستان کی آزادی حاصل کرنے کے بعد نومبر 1947 میں مسلمانوں کا پہلا تاریخی اجتماع دہلی میں منعقد ہوا۔ یہ اجتماع مولانا ابوالکلام آزاد کی ایما پر جمعیت علماء ہند نے طلب کیا تھا ، اسی موقع پر مولانا آزاد نے اپنا وہ مشہور جملہ کہا تھا کہ ستارے ڈوب گئے تو ڈوب جائیں۔ لیکن سورج تو چمک رہا ہے ۔ اس سے کرنیں مانگ لو اور ان کو ان اندھیری راہوں میں بچھا دو جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔

اس کے بعد جمعیت علماء ہی کی جانب سے بمبئی میں 1954 میں ایک دینی تعلیمی کانفرنس منعقد کی گئی ۔ مولانا حفظ الرحمن صاحب اس کانفرنس کے روح رواں تھے ۔ اس کانفرنس میں پرجوش تقریروں کے بعد یہ طے کیا گیا کہ ملک بھر میں دینی مدارس قائم کئے جائیں اور موجودہ مدارس کو تقویت پہنچائی جائے۔

دسمبر1956 میں مدراس میں ساؤتھ انڈیا مسلم کنونشن ہوا۔ اس کی صدارت ڈاکٹر سید محمود نے کی جو اس وقت حکومت ہند میں امور خارجہ کے منسٹر تھے۔ کنونشن کے شرکا نے اپنی تقریروں میں ' اپنے آپ کو قوال، توضرور ثابت کیا مگر اس کے بعد وہ فعال نہ رہ سکے۔

جون1961 میں دہلی (سپرو ہاؤس) میں ایک کامیاب کنونشن ہوا ۔ مو لانا حفظ الرحمان اس کے سرگرم داعی تھے۔ ڈاکٹر سید محمود نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ ہندستان میں مسلمانوں کر دوسرے درجہ کا شہری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ بعد کو پنڈت جواہرلال نہرو اور ڈاکٹر سید محمود کے درمیان " درجہ دوم کے شہری" پر بڑی تیز جھڑپ ہوئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ستمبر1964 میں دہلی میں جمہوری کنونشن ہوا۔ اس کا اہتمام مولانا اسعد مدنی نے کیا تھا۔ اس کنونشن کو مرارجی ڈیسائی نے بھی مخاطب کیا تھا۔ ان کے چند جملے مفتی عتیق الرحمن صاحب کو سخت ناگوار گزرے تھے ۔ انھوں نے کھڑے ہو کر مرار جی ڈیسائی کو ٹوکا۔ تھوڑی دیر کے لئے کنونشن کی فضا مکدر ہوگئی۔

اگست 1964 میں ایک مسلم اجتماع ندوۃ (لکھنؤ) میں ہوا۔ ڈاکٹر سید محمود اس کے صدر تھے۔ اسی موقع پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی بنیاد ڈالنے کی تجویز بھی منظور کی گئی۔

نومبر 1964 میں ڈاکٹر سید محمود نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے لئے گیارہ رکنی مجلس کی تشکیل کا اعلان کیا۔ اس طرح باضابطہ طور پر مجلس مشاورت عمل میں آئی اور اس نے ملک میں دورہ کر کے تقریریں شروع کیں ۔ پنڈت سندر لال بھی اس میں شریک تھے۔

1972 میں پرسنل لا کے تحفظ کے عنوان سے مسلمانوں کا اجتماع ہوا اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا ۔ اسی کے تحت شاہ بانو بیگم کی تحریک چلائی گئی۔

اب جولائی 1989 میں سید شہاب الدین صاحب کا مسلم سیاسی کنونشن ہورہا ہے۔ پچھلے پچاس برس میں ہندستان کے مسلم رہنماؤں نے اس طرح کے سیکڑوں چھوٹے بڑے اجتماع کئے ہیں۔ مگر جہاں تک مسلم مسائل کا معاملہ ہے وہ ابھی تک روز اول کے مرحلہ میں پڑے ہوۓ ہیں۔ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ یہ تمام کنونشن اوراجتماعات محض وقتی مظاہرے تھے۔ اور وقتی مظاہروں کے ذریعہ کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔

9 جولائی 1989

محمد شمیم صاحب (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) ملاقات کے لئے آۓ ۔ انھوں نے کہا کہ ایک ہندو افسر نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ لوگ جانور کو حلال کرتے ہیں اور مچھلی کو حلال کئے بغیرکھاتے ہیں۔ یہ فرق کیوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

محمد شمیم صاحب نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ خون تمام بیماریوں کا سبب (Carrier of all diseases) سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے جانور (بکری وغیرہ) کو اس طرح ذبح کیا جاتا ہے کہ اس کے جسم کا پورا خون باہر نکل جائے۔ اس طرح ذبح کیا ہوا جانورہر قسم کے جراثیم سے بالکل پاک ہو جاتا ہے ۔ مگرمچھلی میں گردش خون (Circulation of blood) کا نظام نہیں ہوتا۔ چنانچہ مچھلی کے لئے مسئلہ نہیں۔ اس لئے مچھلی کو ذبح کئے بغیر سادہ طور پر مارکر کھایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے نہایت صحیح جواب دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

10 جولائی 1989

ریوا رول (Antoine Rivarol) ایک فرانسیسی جرنلسٹ تھا۔ وہ 1753 میں پیدا ہوا ، اور 1801 میں اس کی وفات ہوئی ۔ اس کا قول ہے کہ پرنٹنگ پریس خیال کا توپ خانہ ہے :

The printing press is the artillery of thought

یہ قول پریس کی اہمیت کو بتاتا ہے۔ اسلام میں جس چیز کو دعوت کہا جا تاہے وہ یہی چیز ہے جو ہمیشہ اسلام کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے اس طاقت کی اثر انگیزی کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ماضی میں مسلمانوں نے اسلام کی دعوتی طاقت کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا مگرموجودہ زمانہ میں جب کہ وہ اس کو مزید زیادہ کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکتے تھے، اس کی اہمیت سے سے اس قدر غافل ہوئے کہ انھوں نے سرے سے اس کو استعمال ہی نہیں کیا۔

11 جولائی 1989

تفسیر قرطبی فقہی انداز کی تفسیر ہے ۔ قرطبی امام مالک کے مسلک کے تھے۔ تاہم انھوں نے بعض مقامات پر امام مالک سے اختلاف کیا ہے۔ مثلا حج کے موقع پرجو رمی جمار کیا جاتا ہے، اس کے متعلق حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی کنکریاں (چنے کی دال کے برابر) ماری جا سکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں امام مالک نے کہا ہے کہ اس سے بڑی کنکری مجھ کو زیادہ محبوب ہے (واکبر من ذالك احب الی) قرطبی نے اس پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ مالک کے اس قول کے کوئی معنی نہیں (ولا معنى لقول مالك) اس تنقید میں استخفاف کا عنصر شامل ہے ۔ مگرکسی نے اس کو برا نہیں مانا۔ موجودہ زمانہ میں تو لوگ تنقید کے بارہ میں اتنے حساس ہو گئے ہیں کہ خالص علمی اور تجزیاتی تنقید بھی انھیں گوارا نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

12 جولائی 1989

نعت گوئی اپنی موجودہ مدحیہ شکل میں ایک بدعت ہے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حسان بن ثابت انصاری وغیرہ کے کچھ اشعار ہیں جن کو نعت میں شمار کیا جاتا ہے ۔ مگر آجکل کے مفہوم کے اعتبار ہے وہ نعت نہیں۔ یہ دراصل جوابی اشعار ہیں جو مشرکین کی منظوم بجو کے رد میں لکھے گئے۔ مشرکین چونکہ اشعار کی صورت میں ہجو کرتے تھے ، اس لئے اشعار کی صورت میں ان کا جواب دیا گیا۔ صحابہ کے بعد جب اسلام کا اقتدار قائم ہوگیا اور بیشتر لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہجو کا سلسلہ ختم ہوگیا، اس کے بعد نعت گوئی بھی اپنے آپ ختم ہوگئی۔

صحابہ کے بعد تقریبا چھ سو سال تک نعت یا نعت گو شعرا کا وجود نہیں ملتا ۔ بوصیری (696 - 608 ) غالبا پہلے شخص ہیں جنھوں نے پہلی بار موجودہ طرز کی نعت لکھی جو قصیدہ بردہ کے نام سے مشہورہے۔ بوصیری کے تفصیلی حالات کشف الظنون میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ شعر کا کوئی مثبت رول اسلامی معاشرہ میں نہیں ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ دفاع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، وہ بھی اس وقت جب فریق ثانی نے اشعار کے ذریعہ اسلام یا پیغمبر اسلام پرحملہ کیا ہو۔ یہ حملہ اگر نثر کی صورت میں کیا گیا ہو تو نثر کی صورت میں اس کا جواب دیا جائے گا ، البتہ اگر یہ حملہ اشعار کے ذریعہ کیا جائے تو اشعارکے ذریعہ اس کا جواب دینا جائز ہوگا۔

13 جولائی 1989

سیرت کی کتابوں میں ابوطالب کے کچھ قصیدے نقل کئے گئے ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرمعمولی تعریف کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک طویل قصیدہ کا ایک شعر ہے جس میں وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کہتے ہیں کہ وہ ایسے روشن چہرہ والا ہے کہ اس کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے ، یتیموں کی سرپرستی کرنے والا اور بیواؤں کی پناہ :

وابيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامي عصمة للأرامل

ابوطالب آخر وقت تک ایمان نہیں لائے ۔ اس لئے ان کے اس قسم کے اشعار جذبہ ایمانی کے تحت نکلے ہوئے نہیں کیے جاسکتے۔ علماء نے لکھا ہے کہ ابو طالب نے یہ قصیدہ خاندانی فخر کے لئے کہا تھا۔ کیوں کہ بھتیجے کا فخر چچا کو پہنچتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عالم بھی کچھ اسی قسم کا ہے ۔ کتنے لوگ ہیں جن کو اسلام یا سنت نبوی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر اشعار کی صورت میں وہ شاندار نعت کہتے ہیں۔ اس قسم کی نعتیں بھی حقیقت ایمان واسلام کے لئے نہیں ہوتیں ، بلکہ وہ قومی افتخار کے لئے ہوتی ہیں کیوں کہ قوم کا فخر قوم کے فرد کو پہنچتا ہے۔

14 جولائی 1989

ایک اسپینی مثل ہے کہ ذاتی معرفت سے ذاتی ترقی کا آغاز ہوتا ہے۔ انگریزی زبان میں اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے۔

Self-knowledge is the beginning of self-improvement.

یہ نہایت صحیح بات ہے۔ آدمی کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو جانے۔ جب آدمی حقیقی طور پر اپنے آپ کو جان لے، اس کے بعد ہی وہ وقت آتا ہے جب کہ اس کی ذات یا اس کی شخصیت کے ارتقا کا آغاز ہو۔ اپنے آپ کو جاننا اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اپنے آپ کو کامل طور پر غیر جانب دارانہ نظر سے دیکھ سکے۔

15 جولائی 1989

کویت کے ماہنامہ العربی (جولای 1989) کے صفحہ 40 پر عربی ادیب توفیق الحکیم کا ایک قول نقل کیا گیا ہے: لا يطفئ مصباح العقل غيرعواصف النفس. عقل کے چراغ کونفس کی آندھی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بھاتی۔

other sourceWords of another person or source

یہ صد فی صد حقیقت ہے۔ اللہ تعالی نے عقل کی صورت میں انسان کو ایسی غیر معمولی صلاحیت دی ہے جو ہر چیز کو ہو سکتی ہے ۔عقل کی روشنی میں آدمی ہر معاملہ میں میں رائے قائم کرسکتا ہے۔ مگر خواہش عقل کی قاتل ہے۔ جب آدمی کی عقل صحیح فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے تو اس کا واحد سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی عقل اس کی خواہش سے آزاد ہو کر نہ سوچ سکی۔

16 جولائی 1989

کہا جا تا ہے کہ امام احمد بن حنبل کو 700 ہزار سے زیادہ حدیثیں یاد تھیں ۔ امام مسلم نے کہا ہے کہ میں نے اپنی کتاب صحیح مسلم 300 ہزار حدیثوں سے لے کرتیار کی ہے (جمعت کتابی من ثلاث ماة الف حديث) وغيره

other sourceWords of another person or source

اس طرح کی باتوں سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ حدیثیں لاکھوں کی تعداد میں تھیں یا ہیں۔ مگر ایسا نہیں۔ یہ شبہ محدثین کی اصطلاح کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ حدیثوں کی تعداد کو طرق کی تعداد سے شمار کرتے ہیں ۔ مثلا ایک حدیث انما الاعمال بالنيات 700 طریقوں سے مروی ہے۔ ایک محدث ان کے مجموعہ کو 700 حدیث کہے گا۔ حالاں کہ وہ صرف ایک حدیث ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صحیح اور معتبر احادیث کی اصل تعداد اس سے بہت کم ہے ۔حاکم نے صراحت کی ہے کہ درجہ اول کی حدیثیں 10 ہزار سے زیادہ نہیں ( قد صرح الحاكم ابوعبد الله ان الاحاديث التي في الدرجة الاولى لاتبلغ عشرة آلاف)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

17 جولائی 1989

لاہور کے ماہنامہ میثاق ( جولائی 1989) میں " افغان جہاد سے سبق " کے زیر عنوان ایک نوٹ ہے ، یہ نوٹ حسب ذیل ہے:

افغان جہاد عظیم کامیابی حاصل کرنے کے بعد اگر آج تعطل کا شکار ہو گیا ہے تو اس کی دوسری وجوہات بھی ہوں گی۔ اصل وجہ یہ ہے کہ مجاہدین سے ایک بڑی خطا ہوئی ہے ۔ انھوں نے پروفیسرعبدالرب رسول سیاف کو جہاد کا امیر بنا کر ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی لیکن پھر توڑ دی ۔ سات سات آٹھ آٹھ گروپ بن گئے اور اکثر میں تقسیم در تقسیم بھی پیدا ہوگئی۔ امدادی رقوم اور اسکے سب لوگ الگ الگ لینا چاہتے تھے۔ آج اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ گوریلا طرز جنگ کے عادی مجاہدین نے ثمر خیل چھاؤنی کو جس طرح روند کر دکھا دیا اس کے بعد جلال آباد کی حیثیت کیا رہ گئی تھی۔ انھوں نے یہ کارنامہ باقاعدہ جنگ کے ذریعہ ہی انجام دیا تھا لیکن پھر بدنظمی نے کئے دھرے پر پانی پھیر دیا۔ ہردھڑا جلال آباد کی تسخیر کا سہرا اپنی پیشانی پر باندھنے پر باندھنے کا آرزو مند تھا۔ چنانچہ منصوبہ بندی کے بغیراور اپنی قوت کو جمع کئے بغیر ہرکمانڈر از خود چڑھ دوڑا عظیم جانی نقصان اٹھانے کے باوجو جلال آباد مجاہدین کے راستہ کی دیوار بنا ہوا ہے۔ (صفحہ 71)

جو مجاہدین فتح اسلام سے پہلے اپنے نفس کوقابو میں رکھ سکے وہ فتح وغلبہ کے بعد کیوں کہ اپنے نفس کوقابو میں رکھنے میں کامیاب ہوں گے جب کہ بعد کو یہ کام پہلے سے ہزارگنا زیادہ دشوار ہوچکا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے شورش پسند گروہ سے یہ امید رکھنا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر کے قرآن وسنت کی حکومت قائم کریں گے ایک ایسی خوش فہمی ہے جو کسی ایسے ہی دماغ میں جگہ پا سکتی ہے جو عقل و فہم سے بالکل خالی ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

18 جولائی 1989

اطہر صدیقی ایم اے نے یہ واقعہ بتایا۔ وہ محمد ہدایت اللہ صاحب وائس پرسیڈنٹ انڈیا (1992 - 1905) کے پی اے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بارسکھ پیشواؤں کا ایک وفد ہدایت اللہ صاحب سے ملنے کے لئے آیا۔ وہ لوگ سب کے سب کرپان لگائے ہوئے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سیکورٹی کے لوگوں نے کہا کہ آپ لوگ کرپانیں باہرکھ دیں، اس کے بعد وائس پریسیڈنٹ سے ملنے کے لئے اندرجائیں۔ وہ لوگ کرپانیں باہر رکھنے پرتیار نہیں ہوئے۔ سیکوریٹی افسرنےٹیلیفون پر سکریٹری کو بتایا سکریٹری نے کہہ دیا کہ کرپانوں کے ساتھ اندر مت جانے دو ۔ اور اگر وہ اصرار کریں تو ان کو گرفتار کر لو۔

other sourceWords of another person or source

اطہر صدیقی صاحب نے موقع کی نزاکت کو محسوس کیا۔ وہ فورا اندر جاکر ہدایت ان صاحب سے ملے اور ان سے کہا کہ سیکوریٹی افسر اور سکریٹری کا اصرار حکمت کے خلاف ہے۔ آپ ملٹری افسرسے براہ راست کہ دیں کہ وہ ان لوگوں کو کرپانوں کے ساتھ اندر آنے دیں چنانچہ ہدایت اللہ صاحب نے ٹیلیفون پرسیکیورٹی افسرکو ہدایت دے دی۔

اس کے بعد سکھ وفد کرپانوں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ ہدایت الہ صاحب کے سامنے پہنچتے ہی انھوں نے اپنی کرپانوں کو اتارکہ ہدایت اللہ صاحب کے قدموں میں رکھ دیا اور کہاکہ کیا ہم کمینہ پن کریں گے کہ یہاں آ کر آپ کے اوپر ان کرپانوں سے مسئلہ کریں ۔ آپ ہمارے باپ ہیں۔ ہم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے "۔

01یہ صرف آپ کی نادانی ہے جو فریق ثانی کو ہتھیار استعمال کرنے تک لے جاتی ہے۔ اگر آپ حکمت کا طریقہ اختیارکریں تو فریق ثانی اپے ہتھیاروں سمیت آپ کے لتدموں میں گر پڑے گا۔

19 جولائی 1989

ایک صاحب لینے کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کا الرسالہ پڑھتا ہوں۔ مگریہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ صلح حدیبیہ کی بات کو اتنا کیوں دہراتے ہیں۔ ایسا معلوم ہو تا ہے کہ اسلام میں آپ کو صلح حدیبیہ کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ قرآن میں صلح حدیبیہ کو فتح مبین کہاگیا ہے۔ کئی صحابہ سے مروی ہے کہ وہ صلح حدیبیہ کو فتح عظیم سمجھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صلح حدیبیہ وہ طریق کار ہے جس سے کھلی فتح اور سب سے بڑی فتح کا دروازہ کھلا ۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ ماسٹراسٹریٹجی ہے۔ ایسی حالت میں اگر الرسالہ میں اس کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے تو اس میں اعتراض کی کیابات ہے۔ جب حدیبیہ اسلام کی ماسٹراسٹر یجی ہے تو ہر مقام پر سب سے پہلے اس کو زیرعمل لانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ اس کو صرف وہاں چھوڑا جا سکتا ہے جہاں وہ سرے سےقابل انطباق ہی نہ ہو ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

20 جولائی 1989

گورکھپور میں ایک قدیم ہند و ادارہ ہے جس کے تحت گیتا پریس، کینسر ہاسپٹل وغیرہ چل رہے ہیں۔ یہ ادارہ گئوکشی کے مسئلہ پر ایک ویڈیو فلم بنا رہا ہے ۔ اس کے نمائندہ بھیم سین چوپڑہ میرے پاس آۓ اور مجھے اس میں شرکت کے لئے اصرار کیا۔ چنانچہ آج ویڈیو پارٹی آئی اور ریکارڈ کیا۔ میں نے حسب ذیل بیان دیا:

" گائے کو ذبح کرنا یا اس کا گوشت کھانا اسلام میں جائز ہے مگروہ فرض نہیں ہے۔ یعنی وہ permitted ہے مگر obligatory نہیں ہے۔

ہندستان میں انگریزوں سے پہلے مغل حکمرانوں کی پالیسی یہ تھی کہ گائے کے ذبیحہ کو روکا جائے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ، اس وقت کے علماء اور صوفیاء نے اس پالیسی کی مخالفت نہیں کی۔ اس کی وجہ بظا ہر یہی تھی کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں ہندو بستے ہیں ۔ وہ لوگ عام طور پر گائے کومقدس مانتے ہیں چنانچہ ہندو بھائیوں کے جذبات کا احترام کرنے کے لئے ایسا کیا گیا۔

آج بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہندووں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے مسلمانوں کو گائے کا ذبیحہ بند کر دینا چاہئے،عقیدہ کے طور پر نہیں بلکہ وقتی پریکٹس کے طور پر، چنانچہ عملا ایسا ہی ہے۔ کہ مسلمان اس کو چھوڑے ہوئے ہیں ، اور کسی ہندستانی عالم نے یہ فتوی نہیں دیا کہ مسلمانوں کو ضرور گائے کا ذبیحہ کرنا چاہئے۔ اب ممکن ہے کہ گورنمنٹ کو گائے کے ذبیحہ سے دلچسپی ہو کیونکہ اس سے فارن ایکسچینج مل سکتا ہے، ورنہ مسلمانوں کو اب اس مسئلہ سے کوئی دلچسپی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی چیز جس کی آج کے ہندستان میں ضرورت ہے، وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں بھائی چارہ ہے۔ دونوں محبت کے ساتھ مل مل کر رہیں۔ اسی میں دونوں کی ترقی اور بھلائی ہے ۔ مسلمان اگر گائے کو دے کر ہندووں کے دل کو پالیں تو میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے بہت چھوٹی چیز دے کر بہت بڑی چیز پائی "۔

21 جولائی 1989

ایک صاحب نے کہا کہ آپ آیات اللہ خمینی (ایران) اور جنرل ضیا الحق پاکستان پر تنقید کرتے ہیں۔ مگر آپ شاہ ایران اوربھٹو پرتنقید نہیں کرتے ۔ حالاں کہ اگر آیات اللہ خمینی سے اور ضیاء الحق سے غلطیاں ہوئی ہیں تو شاہ ایران اور بھٹو نے بھی بہت سی برائیاں کی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ شاہ ایران اور بھٹو نے جوکچھ کیا سیکولرزم کے نام پرکیا۔ اس لئے ان کے عمل سے یا توسیکولرزم بدنام ہو گیا وہ خود ذاتی طور پر بدنام ہوں گے، مگرخمینی اور ضیاءالحق نے جو کچھ کیا ، اسلام کے نام پر کیا۔ اس لئے ان کے عمل سے اسلام بدنام ہوتا ہے۔ میں اسلام کو بدنامی سے بچانے کے لئے ان حضرات کے اعمال کا تجزیہ کرتا ہوں اور یہ بتاتا ہوں کہ ان لوگوں نے جو کچھ کیا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ ان کی ذاتی سیاست تھی نہ کہ فی الواقع اسلام ۔

22 جولائی 1989

آج میرے لڑ کے ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کا دہلی میں ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ ٹالسٹائے مارگ پر گاڑی سے دب جانے کی وجہ سے ان کے دائیں پاؤں کی ہڈی (گھٹنے) اور کو لھے کے درمیان ٹوٹ گئی۔ بڑی مشکل سے کسی نے ولنگڈن اسپتال پہنچایا کیوں کہ کوئی لے جانے کے لئے تیار نہ تھا۔ خبر ملتے ہی میں اور ثانی اثنین اسپتال پہنچے، وہاں یہ منظرتھا کہ ظفر الاسلام زخمی حالت میں اسٹریچر پر لیے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔ دو گھنٹے اس حالت میں گزر گئے کہ وہ کراہ رہے ہیں اور کوئی طبی کارروائی نہیں ہوئی ۔ عجیب بے بسی کا عالم تھا جو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

چنانچہ اطہرصدیقی صاحب کو ٹیلیفون کیا گیا جو ہیلتھ منسٹر کے پی اے ہیں۔انھوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ٹیلیفون کرایا۔ اس کے بعد میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بہاری کی ذاتی ہدایت پر کارروائی شروع ہوئی ۔ اگلے دن ہیلتھ منسٹر رفیق عالم دیکھنے کے لئے آئے اور ذمہ داروں کو ہدایات دیں۔ اس کے بعدفضا بالکل بدل گئی۔ اب وی آئی پی والے انداز پر علاج شروع ہوگیا۔

ظفرالاسلام نے بتایا کہ اس سے پہلے جب وہ لندن میں تھے، وہاں بھی ایک بار ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ان کی بیوی ساتھ تھیں، انھوں نے فورا پولیس کوٹیلی فون کیا۔ اس کے بعد منٹوں کے اندر ایمبولنس آگئی۔ اس نے ان کو اسپتال پہنچایا کسی سفارش کے بغیر فورا باقاعدہ علاج شروع ہوگیا۔

other sourceWords of another person or source

ہندستان اور مغرب کے اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارے تمام بہترین دماغ ہندستان سے بھاگ کر مغرب کے شہروں میں آباد ہورہے ہیں۔ آزادی نے اس کے سوا کوئی فرق نہیں کیا کہ ہماری سیاسی محکوی دوبارہ اقتصادی محکومی میں تبدیل ہوگئی۔

23 جولائی 1989

انگریزی ہفت روزہ سنڈے (23 جولائی1989) میں خوشونت سنگھ نے ڈاکٹر پی سی رے (1944- 1861) کی یاد میں ایک صفحہ لکھا ہے۔ ڈاکٹر پی سی رے بہت قابل آدمی تھے اور کئی زبانیں جانتے تھے۔ انھوں نے اسلام کا بھی گہرا مطالعہ کیا تھا۔

ڈاکٹر رے1923 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بلائے گئے۔ وہاں انھوں نے کانووکیشن ایڈرس دیا۔ اس ایڈریس میں انھوں نے اسلام کی سادگی اور اس کی مساوات کا بلند الفاظ میں اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ اونچے مینارسے موذن کی پکار مسلمانوں کو نماز کے لئے بلاتی ہے۔ امیر کو بھی اور فقیر کو بھی، بادشاہ کو بھی اوربھشتی کو بھی۔ لوگ مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور کندھے سے کندھا ملا کر خدا کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسلام میں انسان اور انسان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں:

The call of the muezzin sounds from the top of the minaret summoning the faithful to prayer, the ameer and the fakeer, the badshah and the bhishti, flock together and squat shoulder to shoulder in the adoration of the Almighty. Islam knows no soul-killing distinctions between man and man.

ڈاکٹر رے نے کہا کہ مغرب میں بظاہر ڈیموکریسی کا نعرہ ہے گمرنسل اور رنگ اور دولت کی بنیاد پر امتیاز نے مغرب کی ڈیماکریسی کو بے معنی بنا دیا ہے۔ ہندوؤں میں کاسٹ سسٹم ایسی برائی ہے جس کے بعد حقیقی معنوں میں برابری کا سماج قائم کر ناممکن نہیں ہے ۔ اس کے مقابلہ میں اسلام میں ریل ڈیموکریسی ہے اور اس کے ساتھ مسادات بھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نماز میں بے پناہ کشش ہے۔ اگر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت کی فضا نہ ہو تو یہ نماز بذات خود تبیلغ کا ذریعہ بن جاۓ۔

24 جولائی 1989

اس دنیا میں کامیاب دہ ہے جس کی ناکامی کو خدا کامیابی میں تبدیل کر دے۔ جس کی سئیہ کو خدا اپنی نصرت خاص سے حسنہ کی صورت عطا فرمائے ، جس آدمی کو اللہ تعالی کی یہ نصرت نہ ملے اس کی کامیابی بھی ناکامی ہے اور اس کا بھی ہے کام کی تاریخ تک میری بات ہے جس کو میں نے اپنے علم اور تجربہ سے جانا۔

25 جولائی 1989

عابد سعید خاں صاحب ایم اے ایک بزرگ کو لے کر آئے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ہمارے خالو ہیں جو 1947 کے بعد پاکستان چلے گئے، گفتگو کے دوران میں نے خالو صاحب سے کہا کہ عابد سعید خاں صاحب اگر پاکستان چلے گئے ہوتے تو وہاں بہت ترقی کر سکتے تھے۔ انھوں نے کہاکہ وہاں مادی اعتبار سے ضرور ترقی کرتے مگر اس کے بعد دو آدمی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آتے اور گولی مار کر ان کا خاتمہ کر دیتے اور جو کچھ انھوں نے کما یا تھا سب اٹھاکرلے جاتے۔

پاکستان شایدامریکہ کے بعد دوسرا ملک ہے جہاں خطرناک ہتھیار کھلے عام بازارسے خریدے جاسکتے ہیں۔ اور کسی لائسنس کے بغیر اپنے پاس رکھے جاسکتے ہیں۔ انگریزی ہفتہ وار انڈیاٹوڈے (31 جولائی 1989 ) نے صفحہ کی ایک رپورٹ چھاپی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آدم خیل میں ہتھیاروں کے بڑے بڑے بازار میں جہاں جوتے اور کپڑے کی طرح برتر کے خطرناک ہتھیار بکتے ہیں۔ صفحہ 60۔ 61 پر ایک بہت بڑی تصویر ہے ۔ اس میں ایک دکان کو دکھایا گیا ہے جو رائفل، پستول، ہوائی جہاز کو مارنے والے گن وغیرہ سے بھری ہوئی ہے۔اس کے آگے ایک آدمی مصلا بچھاکرنماز پڑھ رہا ہے۔ تصویر میں وہ حالت سجدہ میں نظر آتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے نتیجہ میں نہ صرف پاکستان میں ہر آدمی کے پاس کھلے ہتھیار ہیں بلکہ اطراف کے ملکوں میں تشدد کی تحریکوں کو یہاں سے بہت بڑے پیمانے پر اس قسم کے خطرناک ہتھیارمل رہے ہیں ۔ پاکستان اسلام کے نام پریبا تھا، مگر وہ روس اور چین کے ہتھیاروں کی مارکٹ ہوکر رہ گیا۔

26 جولائی 1989

POT FURNACES ۲۶ جولائی ۱۹۸۹ فیروز آباد کے ایک مسلمان آئے۔ انھوں نے شکایت کی کہ ہندستان کی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ مسلمانوں کو پیچھے رکھا جائے۔ ایسی حالت میں وہ کیسے ترقی کر سکتے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ فیروز آبادیں چوڑیوں کی تجارت پہلے مکمل طور پرسلمانوں کے ہاتھ میں تھی۔ اب وہ مکمل طور پر ہندوؤں کے ہاتھ میں جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کی سلمان TANK FURNACESکے اصول پر اپنے کارخانے بنائے ہوئے تھے۔ ہندو تعلیم یافتہ تھے، انھوں نے جدید تکنیک استعمال کی۔ اور انھوں نے کے اصول پر کارخانے تل کئے۔ ہمارے مقابلہ میں ان کا مال اچھابی معلوم ہو تا ہے اورست بھی، چنانچہ ان کا تابلہ ہمارے لئے نامکن ہو گیا ہے تمام مسلمان چوڑی والے جنگل سخنت گھاٹے میں جارہے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہماری بیٹی تقریب ۱۰ لاکھ رو پے میں تیار ہو جاتی ہے۔ مگر ان کی جدید طرز کی بیٹی کو بنانے میں تقریبا ایک کروڑ رو پیٹرپے آتا ہے۔ مسلمان اس کو اور انہیں کر سکتا۔ میں نے کہاکہ آپ ارگ کو آپریٹو بنائیے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں نے کوآپریٹو بنایا۔ مگر وہ آپس میں کھا پی کر ختم ہوگیا۔ میں نے کہا کہ آپ کا ذاتی تجربی پرستار ہا ہے کہ ہندو اپنی تعلیم اور اپنی منصوبہ بندی کی وجہ سے آپ سے آگے بڑھ گیا ہے اور اپنی تقریر میں آپ یہ فرما رہے ہیں کہ حکومت ہند کی مخالفانہ پالیسی نے مسلمانوں کو پیچھے دھکیل رکھا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

27 جولائی 1989

ٹائمس آف انڈیا( 27 جولائی 1989) صفحہ 6 پر ایک نوٹ ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ برطانیہ کے شمال اور شمال مشرقی حصہ میں تقریبا دس سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم آبادی کافی ہے اور ان کا ووٹ انتخابی نتیجہ کومتاثر کرسکتا ہے۔ اس علاقے سے جو لوگ برطانی پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوتے ہیں ، وہ اس بات کی وکالت کر رہے ہیں کہ برطانی مسلمانوں کے جذبات (Muslim sentiments) کا لحاظ کرتے ہوۓ سلمان رشدی کی کتاب سٹینک ور سز پر پابندی لگادی جائے۔

quoted sourceQuoted from another author or source

مگر ممبروں کی اکثریت اس کے خلاف ہے۔ لیبر پارٹی کے لیڈرمسٹریل کنوک (Neil Kinnock) نے کہا کہ وہ صرف ایک مذہب میں عقیدہ رکھتے ہیں ، اوروہ آزادی ہے۔ وہ اس کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ایک مصنف کی ادبی آزادی کو مذہبی جذبات کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا جاۓ :

quoted sourceQuoted from another author or source

The only religion he believes in is "liberty". Thus, he is unwilling to sacrifice the literary licence of an author at the alter of religious sentiments.

مسٹر کنوک نے اپنے اعتبار سے صحیح بات کہی ہے۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں مسلمانوں کی جذباتیت انھیں فائدہ تو کچھ نہیں دے گی۔ البتہ انہیں نقصان پہنچانے کا سبب ضرور بنے گی۔

28 جولائی 1989

آج کل شدت سے مجھ پر یہ احساس طاری رہتا ہے کہ میری موت شاید قریب آگئی۔ اسی کے ساتھ برابر بہ خیال آتا ہے کہ میرے بعد الرسالہ جاری رہنے کی کیا صورت ہو گی۔ اور یہ مشن آئندہ کس طرح قائم رہے گا ، جب کہ ذہن سازی کی موجودہ مہم کا ابھی بہت دن تک جاری رہنا انتہائی ضروری ہے۔

جہاں تک الرسالہ جیسے اوریجنل مضامین کا تعلق ہے، اس کو لکھنے والا فی الحال مجھے کوئی نظرنہیں آتا۔ نہ حلقہ الرسالہ کے اندرا ورنہ اس حلقہ کے باہر۔ اس قسم کے مضامین لکھنے کے لئے آدمی کو موت اور زندگی کے درمیان کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ مگر اس وقت مجھے سارے عالم اسلام میں کوئی بھی شخص ایسا نظر نہیں آتا جس نے اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں موت اور زندگی کے درمیان کھڑ اکر رکھا ہو۔

تاہم ایک اور کام ہے جس کو کوئی اچھا پڑھا لکھا آدمی اگر محنت کرے تو اس کو انجام دے ستاہے۔ حلقہ الرسالہ میں ایسے افراد موجو دہیں۔ وہ کام ہے میری چھوڑی ہوئی تحریروں کی بنیاد پر اس مشن کو آئندہ جاری رکھنا۔ میں اس کو ضروری سمجھتا ہوں کہ آئندہ بہت دنوں تک الرسالہ کو صرف میری تحریروں کے ذریعہ نکالا جائے۔

اس وقت میرے پاس کثیر تعداد میں ایسے مضامین موجود ہیں جو غیر مطبوعہ ہیں۔ اس کے ساتھ ڈائری اورخطوط کے جوابات وغیرہ بھی بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ ان کو ایڈٹ کر کے انشا اللہ تقریبا دس سال تک الرسالہ اسی طرح میری تحریروں کے ذریعہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔

دوسرا کام میرے مضامین اور کتابوں کا ترجمہ ہے ، جو خود بہت بڑا کام ہے،عربی اورانگریزی اور دوسری زبانوں میں تمام کتابوں اور تحریروں کا ترجمہ انتہائی ضروری ہے۔ اگر ترجمہ کا یہ کام باقاعدہ صورت میں شروع ہو جائے تو یہ مشن از سرنونئی طاقت کے ساتھ عالمی سطح پر جاری ہوجائے گا۔

دوسروں کی تحریریں اس مشن میں اس وقت تک شامل نہ کی جائیں جب تک یہ مشن پوری طرح قائم (establish) نہ ہو ہوجائے۔

29 جولائی 1989

ایک مسلمان( محفوظ الرحمن صاحب )سے ملاقات ہوئی۔ وہ پرس اور بیگ بنانے کا کام کرتے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ دوسال پہلے ان کا کام بہت خراب ہوگیا تھا۔ یہاں تک کہ انھوں نے ارادہ کیاکہ اس کام کو چھوڑ کر دوسرا کام شروع کر دیں۔

اسی زمانہ میں انھوں نے الرسالہ کا ایک مضمون پڑھا ۔ اس مضمون میں انھیں یہ انسپریشن ملا کہ کام بدلنے کے بجائے اس کام میں نیا پن پیدا کر ناچاہئے ۔ اب انھوں نے "دماغی محنت" شروع کی۔ ان کی سمجھ میں کچھ ڈیزائنیں آئیں۔ اس کے مطابق وہ کچھ نئے قسم کے پرس اور نئے قسم کے بیگ بنا کر بازار میں لے آئے۔ ان کا کام مزید کامیابی کے ساتھ دوبارہ چل پڑا۔

انھوں نے بتایا کہ جس زمانہ میں کام چھوڑنے کا ارادہ تھا ، میں نے سوچا کہ میں ایک اردو ہفت روزہ نکالوں ۔ ہندی میں ایک ہفت روزہ "جرائم کی کہانیاں "کے نام سے نکلتا ہے جو بے حد کامیاب ہے۔ میں نے سوچا کہ اردو میں اس قسم کاکوئی پرچہ نہیں ہے اس لئے اگر اسی ڈھنگ پر اردو میں ایک پرچہ نکالا جائے تو وہ کافی کامیاب ہوسکتا ہے مگر بعض اسباب کی بنا پر وہ اس کو شروع نہ کر سکے۔ انھوں نے بتایا کہ میرے ایک ساتھی نے مجھ سے یہ آئیڈیا لیا اور خاموشی سے "جرائم "کے نام سے ایک پرچہ نکال دیا۔ اس نے اس پرچہ کے ذریعہ سے اتنی زبردست کامیابی حاصل کی کہ آج اس نے نئی دہلی میں ایک کوٹھی خرید لی ہے۔

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں صحافت اور قیادت کا میدان کتنی بری شکل اختیار کر چکا ہے ۔ وہی محفوظ صاحب پلاسٹک کاروبار کے میدان میں ترقی کے لئے یہ سوچتے ہیں کہ نئے قسم کا بیگ بنائیں۔ مگروہی محفوظ صاحب صحافت کے میدان میں آنا چاہتے ہیں تو ان کا ذہن انہیں یہ سکھاتا ہے کہ جرائم کی کہانیاں چھاپو ،کیوں کہ اس طرح تمہارا پرچہ زیادہ بکے گا۔ یہی وہ صورتحال ہے جس نے موجودہ زمانہ میں صحافت اور قیادت کو مجرد استحصال بناکر رکھ دیا ہے ۔

30 جولائی 1989

ہمارے یہاں پاکستان کے دو ار دو ر وزرنامے آتے ہیں ۔ـــــ- وفاق (لاہور) اور نوائے وقت (لا ہور) یہ اخبارات ہندستان کے بارہ میں نفرت سے بھرے ہوتے ہیں ۔ اس معاملہ میں وہ گویا نفرت کا کارخانہ ہیں حتی کہ سادہ قسم کے واقعات کو بھی اس طرح چھاپا جاتا ہے کہ اس سے ہندستان کے بارہ میں حقارت اور نفرت کا جذبہ پیدا ہو۔

بارش اور سیلاب خدا کی طرف سے آتے ہیں ، اور ہر ملک میں آتے ہیں۔ امسال کراچی میں بارش ہوئی تو نوئے وقت26 جولائی1989 میں اس کی خبر اس سرخی کے ساتھ چھپی:

طوفانی بارش نے کراچی میں تباہی مچادی

اسی قسم کی بارش کا واقعہ ہندستان میں ہوا تو اس کی رپورٹنگ کے الفاظ بدل گئے مثلا وفاق ( 20جولائی 1989) کے صفحہ اول پر ہندستان میں ہونے والی بارش کی جوخبر چھپی ہے،اس کی سرخی یہ ہے:

بھارت میں سیلاب نے تباہی مچادی

بارش کا واقعہ مقامی واقعہ تھا۔ پاکستان میں اس کے مطابق وہ مقامی واقعہ کے طور پر چھپا۔ مگر ہندستان میں اسی قسم کا مقامی واقعہ ملک گیرواقع بن گیا جب کہ ہندستان کارقبہ پاکستان کے مقابلہ میں 8گنا زیا دہ ہے۔ اور فطری نظام کے تحت یہ ناممکن ہے کہ ساراہندستان بیک وقت سیلاب سے تباہ ہوجائے۔

31 جولائی 1989

موجودہ زمانہ کی ایک صحافتی اصطلاح ہے جس کو ( projection Media ) کہا جاتا ہے۔ یعنی اخبارات کے صفحات میں اپنے آپ کو نمایاں کرنا۔ اس مقصد کے لئے منسٹراوربڑے سیاسی لیڈر رقمیں دے کو جرنلسٹوں کو خریدتے ہیں۔ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ روزانہ اخبارات کا مطالعہ کر کے اپنے موکلوں کو بتائیں کہ آج وہ کو بیان یا پریس اسٹیٹمنٹ جاری کریں جو کل کے اخبار میں نمایاں طور پر چھپے، اور اسی طرح وہ برابر نیوزمیں رہیں۔

اس طرح ایک لیڈر اخبار کے صفحات میں ہیرو بن کر نمایاں ہوتا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ زیرو ہوتا ہے۔ یہی آج تمام لیڈروں کا حال ہے، خواہ وہ مسلم لیڈر ہوں یا غیرمسلم لیڈر ، خواہ وہ داڑھی والے ہوں بابے داڑھی والے اس معاملہ میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
other sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourcequoted sourceQuoted from another author or source