Maulana Wahiduddin Khan
29 min left
0:00

← Diary 1989-1990
Diary 1989-1990

June 1989

English · 29 min read

یکم جون 1989

پرانا مقولہ ہے کہ : خطائے بزرگاں گرفتن خطا است. اس کا مطلب عام طور پر یہ لیا جاتا ہے کہ بزرگ لوگ اگر غلطی کریں تو اس پر تنقید کرنا غلطی ہے۔ یعنی اگر بزرگ غلطی کریں تب بھی ان پرتنقید نہ کرو۔

اس مقولہ کا یہ مطلب صحیح نہیں۔ اس کا صحیح مطلب غالبا یہ ہے کہ بزرگ اگر کوئی غلطی کردے تو اس کی تقلید نہ کرو ۔ بزرگ کی غلطی بھی غلطی ہے۔ اس مقولہ کا ترجمہ غالبا یہ ہوگا کہ : بزرگوں کی غلطی کو لینا غلطی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2 جون 1989

سید امین الحسن رضوی (سابق ایڈیٹر ریڈئنس) نے مولانا مودودی کا ایک خط مورخہ 16 دسبر 1964 ہفت روزہ اخبار نو (2جون1989) میں شائع کیا ہے۔ 1965 میں پاکستان میں صدر کے عہدہ کے لئے الکشن ہوا ۔ اس میں ایک طرف محمد ایوب خاں تھے اور دوسری طرف مس فاطمہ جناح۔ مولانا مودودی اور ان کی جماعت اسلامی نے فاطمہ جناح کی مکمل حمایت کی۔ اس پر سید امین الحسن رضوی کو اسلامی نقطۂ نظر سے تعجب ہوا ۔ کیوں کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی کوغلط بتایا گیا ہے ۔ انھوں نے مولانامودودی کو بطور استفسار ایک خط لکھا۔ مولانا مودودی نے ان لفظوں میں جواب دیا :

" میں ان نقصانات سے واقف ہوں جو صدر ایوب صاحب کی آمریت سے پاکستان کے لوگوں کو دینی، اخلاقی اور مادی حیثیت سے پہنچتے ہیں۔ اور مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ اگر یہ آمریت آئندہ کے لئے مستحکم ہوگئی تومزید کیا نقصانات پہنچیں گے۔ ایسی حالت میں میرے لئے خدا کے حضور یہ ذمہ داری اپنے سرلینا ممکن نہیں کہ میرے کسی فعل کی وجہ سے یہ آمریت ملک پراز سرنومسلط ہو۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اس انتخاب میں فاطمہ جناح کی تائید نہ کی گئی تو یہ آمریت پھر مسلط ہو جائے گی۔ اس کا مسلط ہونا میرے نزدیک ایک عورت کو سربراہ بنانے کی بہ نسبت کم از کم دس گنا زیادہ بڑا گناہ ہے "

1۔ حدیث میں ہے کہ جو قوم عورت کو حکمراں بنائےوہ ہرگز فلاح نہ نہیں پائے گی۔ مگر مولانا مودودی کے نزدیک پاکستان کی فلاح کی صورت یہ تھی کہ ایک عورت کو اس کا حکمراں بنایا جائے ۔ ایسی حالت میں مولانا مودودی کے احساس ذمہ داری کا ماخذ اور جو کچھ بھی ہو،مگر اس کا ماخذ اسلام نہیں ہوسکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مولانا مودودی کا اندازہ سیاسی اعتبار سے آخری حد تک غلط تھا۔ 1965 کے الکشن میں ساری مخالفانہ کوشش کے باوجود ایوب خاں دوبارہ برسراقتدار آگئے۔ ان کے بعد بھی مسلسل کوئی نہ کوئی آمر پاکستان پر مسلط ہوتا رہا۔ ایوب خاں، یحییٰ خاں ، بھٹو ، جنرل ضیاء الحق۔

مولانا مود ودی کا مذکورہ خط اسلامی نقطہ سے بھی غلط تھا اور سیاسی اندازہ کے لحاظ سے بھی غلط۔ ۔ یہ خط ان کے عالم ہونے کی حیثیت کو بھی مجروح کر رہا ہے اور ان کے مفکرہونے کی حیثیت کو بھی۔

3 جون 1989

حدیث کی کتابوں میں دوا علاج کے بارہ میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ یہ روایتیں عام طور پر باعتبارسند زیادہ قوی نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ عرب کے اقوال ان میں شامل ہوگئے ہوں۔ تاہم ان میں بڑی حکمت کی باتیں ہیں ۔

مثلا ایک روایت میں ہے کہ : المعدة بيت الداء ( معدہ یماریوں کا گھر ہے)

hadithQuotes a hadith

یہ ایک حقیقت ہے کہ بیشتر بیماریوں کا سرچشمہ معدہ ہوتا ہے ۔ اگرخوراک کے بارہ میں کامل احتیاط برتی جائےاور پرخوری سے پرہیز کیا جائے تو آدمی بیشتر بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔

4 جون 1989

مصطفی کمال پاشا نے ترکی میں برسراقتدار آنے کے بعد ترکی کومغربی تہذیب میں ڈھالنا شروع کیا۔ اس سلسلہ میں اس نے نہایت احمقانہ اقدامات کئے۔ مثلا 1942 میں مصطفی کمال پاشا نے ایک حکم جاری کیا جس کی رو سے ترک لڑکیوں کے لئے سر پر اوڑھنی رکھنا ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

55 سال بعد 1980 میں ترکی کے اعلی تعلیمی بورڈ نے خاموشی کے ساتھ ایک نیا اعلان جاری کیا۔ اس کے مطابق ترک لڑکیوں کے لئے سر کھولنا لازم نہ رہا۔ اب لڑکیوں کو یہ اجازت دے دی گئی کہ وہ اپنے سرپر اوڑھنی رکھ سکتی ہیں ـــــــ جدید مسلم قیادت پہلے سو برس سے اسی قسم کے احمقانہ اقدامات میں مصروف ہے۔ کمال اتا ترک نے اس حماقت کو بھونڈے انداز سے کیا۔ اور دوسرے لوگ اس قسم کی حماقت کو زیادہ سلیقہ کے ساتھ کر رہے ہیں ۔

5 جون 1989

نیو یارک کے ٹائم میگزین (5 جون 1989) میں جاپان کے بارہ میں ایک مضمون ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ پر جاپان کا اقتصادی حملہ اتنا شدید ہے کہ امریکہ میں تحفظاتی احساس (Protectionist sentiment) پیدا ہوگیا ہے ۔ وہ امریکہ جو 1945 میں جاپان کے مقابلہ میں فاتحانہ حیثیت رکھتا تھا ، وہ آج جاپان کے مقابلہ میں دفاعی پوزیشن میں چلا گیا ہے۔ کس قدر عبرت ناک ہے یہ واقعہ ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آج تو جاپان کی صنعتی اور اقتصادی ترقی کا ہر ایک چرچا کر رہا ہے۔ مگر غالبا میں ہندستان میں پہلا شخص ہوں جس نے 1965 میں جاپان کی ترقی کے بارہ میں لکھنا شروع کیا ۔ پچھلے تقریبا 25 سال میں میں نے جاپانی ظاہرہ پراتنے زیادہ مضامین لکھے ہیں کہ ان کو جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے۔ اگر توفیق ملی توانشا اللہ " جاپانیات" کے نام سے ایک کتاب شائع کی جائے گی۔ جاپان مجھے حکمت حدیبیہ کا ایک نیا مظہر نظر آتا ہے۔

6 جون 1989

نیو یارک سے جناب کلیم الدین صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ وہ حیدر آباد کے رہنے والے ہیں اور معاش کے سلسلے میں امریکہ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں میں مسلمانوں کے مختلف حلقوں میں گیا اور ان کے بہت سے اجتماعات میں شرکت کی ۔ہر جگہ قومی اسلام کا تذکرہ تھا۔ ایسا معلوم ہوا کہ لوگ اس دعوتی اسلام سے واقف ہی نہیں جس کا آپ الرسالہ میں مسلسل تذکرہ کر رہے ہیں۔

موجودہ زمانہ میں یہی تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ وہ قومی مسائل میں مشغول ہیں اور اس کو دعوت کا نام دئے ہوئے ہیں۔ اس قسم کی سرگرمیاں مسلمانوں کی سرکشی کے خانہ میں تو لکھی جا سکتی ہیں مگر وہ تعمیل اسلام کے خانہ میں لکھی نہیں جاسکتیں۔

7 جون 1989

الشیخ الغزالی نے بعض روایات کو صحت سند کے باوجود قبول نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ بداہتہ عقل کے خلاف ہیں۔ اس پر بعض سعودی پرچوں میں سخت تنقید کی جارہی ہے۔الدعوۃ 27 شوال 1409ھ ( یکم جون 1989) میں ایک عرب مضمون نگار لکھتے ہیں کہ شیخ غزالی اپنے عقلی منہج کی وجہ سے ضعیف حدیثوں کو قبول کر لیتے ہیں۔ اور صحیح حدیثوں کو رد کر دیتے ہیں۔ جن صحیح حدیثوں کو انھوں نے رد کیا ہے، ان میں سے ایک بخاری کی یہ روایت ہے کہ موسی علیہ السلام نے موت کے فرشتہ کی آنکھ پر طمانچہ مارا (عربی عبارت۔ ص۔ 102)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آگے مضمون نگار لکھتے ہیں کہ شیخ غزالی نے جو منہج اختیار کیا ہے یہ وہی منہج ہے جس کو قدیم متکلمین نے اختیار کیا تھا۔ ان کا قول تھا کہ جب نقل عقل کے خلاف ہو تو عقل کو لیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ نقل کی وکالت ظنی ہے اور عقل کی وکالت قطعی ( وهذا المنهج الذي اتبعه الشيخ ھو منھج المتکلمین فیما سبق حیث قالوا اذا اخالف النقل العقل وجب تقدیم العقل و قالوا ان دلالة النقل ظنية ودلالة العقل قطعية ، صفحہ 25)

other sourceWords of another person or source

اصل یہ ہے کہ عقل کی دوقسمیں ہیں۔ عقل شرعی، اور عقل علمانی۔ دینی امور میں عقل علمانی کا استعمال بلاشبہ درست نہیں۔ مگر دینی امور میں عقل شرعی کا استعمال عین درست ہے ۔ مذکورہ بالا حدیث میں عقل شرعی کا استعمال یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ دین میں پیغمبر اور فرشتہ کا جو تصور دیا گیا ہے۔ اس سے مذکورہ واقعہ مطابقت نہیں رکھتا۔ اس قسم کے نقطہ نظر کو عقل پرستی کہنا ہر گز درست نہیں۔

8 جون 1989

حدیث کی کتابوں میں ایسی بہت سی روایتیں آئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں یہ بات پسندیدہ ہے کہ کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو نکاح سے پہلے اسے دیکھ لے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اسے دیکھا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو دیکھ لو ۔ اس طرح زیادہ امید ہے کہ دونوں کا تعلق دائمی طور پر برقرار رہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

(حدیث۔ ص۔ 103)

9 جون 1989

اسلام میں اتفاق واتحاد پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ ایک حدیث کے مطابق، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے ( الناس بخير ما تعاونوا )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دو یا زیادہ آدمیوں کے درمیان باہمی تعاون کا ظہور میں آنا کوئی سادہ سی بات نہیں ، یہ بہت بڑا واقعہ ہے۔ باہمی تعاون اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اپنی ذات کو پیچھے کرنے اور اصول کو آگے کرنے کے لئے تیار ہوں۔ جب وہ مقصد کے مقابلہ میں ہر دوسری چیز کو ثانوی حیثیت دینے پر راضی ہو۔ جب وہ اس اعلی حوصلگی کا ثبوت دے کہ وہ تعاون کے خلاف حالات ہونے کے باوجود تعاون کرے گا۔ اس کے مفادات اور اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہورہی ہوں تب بھی وہ مفاد اور مصلحت سے اور یہ اٹھ کر حق کی خاطر دوسرے کا ساتھ دیتا رہے گا۔

تعاون علی الخیرکی اسی انوکھی صفت کی بنا پر خدا کے یہاں اس کا بڑا درجہ ہے۔ ایک حدیث قدسی کے مطابق ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ وہ لوگ کہاں ہیں جنھوں نے میرے جلال کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی۔ آج میں ان کو اپنے سایہ کے نیچے جگہ دوں گا جب کہ میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ( این المتحابون بجلالى ۔ اليوم أظلھم بظـلى يوم لا ظلا الا ظلى۔ )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

10 جون 1989

چودھری رحمت علی ( 1951 - 1892) نظریہ پاکستا ن کے پہلے خالق تھے۔ وہ مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے اور لندن میں تعلیم پائی۔ 1920 میں انھوں نے ایک پمفلٹ شائع کیا جس کا نام تھا :

The Millat of Islam and the menace of Indianism.

اس میں انھوں نے پہلی بار پاکستان کا نظریہ پیش کیا۔ ان کا خیالی پاکستان حسب ذیل علاقوں پر مشتمل تھا اور انھیں کے چند حروف کو لے کر اس کا نام بنایا گیا تھا :

پنجاب افغانستان کشمیر سندھ بلوچستان پاکستان ۔ یہی نظریہ اقبال نے 1930 میں پیش کیا ۔ دونوں کا بنیادی نظریہ ایک تھا۔ صرف جغرافی حدوں کا فرق تھا۔ سید شرف الدین پیر زادہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ڈاکٹر اقبال نے چودھری رحمت علی کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا جس میں انھوں نے پاکستان نیشنل موومنٹ میں اپنی بھی شمولیت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ چودھری رحمت علی نے ڈاکٹر صاحب کے عزائم کا خیر مقدم کرتے ہوئے جوابا لکھا کہ وہ انہیں پاکستان نیشنل موومنٹ کے صدر کی حیثیت سے بسروچشم قبول کرتے ہیں ، بشرطیکہ ڈاکٹراقبال اپنا سر کا خطاب واپس کر دیں ۔ لیکن اس سے پہلے کہ ڈاکٹر اقبال اس تحریک کی صدارت قول کریں ، ان کا انتقال ہوگیا۔ (صفحہ 184)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہفت روزہ انقلاب راولپنڈی، پاکستان نے اپنے شمارہ 21 مئی 1989 میں لکھا ہے کہ مسلمانان برصغیر نے اپنے عظیم رہنماؤں کی رہبری میں جدوجہد کر کے ایک آزاد اور خود مختار وطن حاصل کر لیا جو پاکستان کہلایا۔ اب چودھری رحمت علی نے اپنی منزل کو پالیا تھا۔ ان کی تجویز نے بھی عملی صورت اختیار کر لی تھی۔ 1948 میں وہ اس نوزائیدہ مملکت، اپنی آرزوں اور امیدوں کے مرکز پاکستان ــــ میں تشریف لائے ۔ قومی رہنماؤں سے ملے اور ایک دوجلسوں کو خطاب کیا ۔ مگر جلد ہی دل برداشتہ ہوکر لندن واپس چلے گئے ۔

other sourceWords of another person or source

کاغذی پاکستان بنانا کتنا آسان ہے، اورحقیقی پاکستان بنانا کتنا مشکل۔

11 جون 1989

ابن الجوزی ( 508 – 597) - مشہور علماء اسلام میں سے ہیں۔ ان کی ایک کتاب صيد الخاطر کے نام سے 1280 میں چھپی ہے۔ اس کو ناجی طنطاوی نے ایڈٹ کیا ہے۔اس کتاب میں بہت سی اصلاحی باتیں درج ہیں۔

کہتے ہیں کہ میں نے ممنوع چیزوں کے بارہ میں لوگوں کے جرم پر غور کیا تو میں نے دیکھا کہ جتنا زیادہ منع کیا جائے ، اتنا ہی لوگوں کی رغبت اس کی طرف بڑھتی ہے۔ مثل ہے کہ آدمی اس چیز کا حریص ہے جس سے اس کو منع کیا جاۓ (المرء حريص علی ما منع)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک عرب شاعر نے کہا ہے کہ مجھے ایک چیز سے روکا گیا تو اس کی طرف میری خواہش بڑھ گئی ۔ انسان کے لئے سب سے زیادہ محبوب چیز وہ ہے جس سے اسے روکا جاۓ :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

منعت شیأ فاكثرت الولوع به احب شئ إلى الانسان ما منعا

12 جون 1989

موجودہ زمانہ کے مسلمان سب سے زیادہ اتحاد کی باتیں کرتے ہیں ۔ مگرموجودہ زمانہ کے مسلمان سب سے زیادہ اختلاف کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اس کے سبب پر غور کرتے ہوۓ میری زبان سے نکلا مسلمان اتحادیوں کے ساتھ متحد ہوکر رہنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اختلافیوں کے ساتھ متحد ہوکر رہنے کا نام اتحاد ہے ۔ اتحاد کی یہی وہ اہم ترین حقیقت ہے جس سے ہمارے اصاغر بھی نا آشنا ہیں اور ہمارے اکابر بھی ناآشنا۔

اتحاد کا راز ہے، اختلاف کو برداشت کرنا۔

13 جون 1989

صوفیاء کے یہاں چلہ کشی کا بہت رواج ہے۔ یعنی 40 دن تک عبادت و ریاضت کرنا ۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی پیش کی جاتی ہے جو الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

من أخلص لله أربعين يوما ظهرت ينابيع الحكمة على لسانه

جس شخص نے اللہ کے لئے چالیس دن تک اخلاص اختیار کیا ، اس کی زبان پر حکمت کی باتیں جاری ہو جاتی ہیں۔

hadithQuotes a hadith

دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جس شخص نے چالیس دن تک دنیا سے بے رغبتی اختیار کی اور اس میں مخلصانہ عبادت کی تو اللہ اس کی زبان پر حکمت کے چشمے اس کے دل سے جاری کر دیتا ہے (حدیث۔ص۔ 106)

other sourceWords of another person or source

جلال الدین سیوطی اور اس طرح کے کچھ لوگوں نے اس روایت کوقبول کیا ہے۔ مگربہت سے علما نے اس کو ضعیف اور موضوع قرار دیا ہے۔ مثلا سخاوی ، ذہبی ، ابن جوزی وغیرہ ۔ موجودہ زمانہ میں ناصرالدین البانی بھی اس کو موضوع کہتے ہیں۔

quoted sourceQuoted from another author or source

تاہم مفہوم کے اعتبار سے اس روایت میں کوئی حقیقی نقص نہیں ۔ اس میں 40 دن کا لفظ اعتباری ہے۔ یعنی 40 دن سے مراد لمبی مدت ہے نہ کہ حسابی معنوں میں 40 دن۔ بجائے خود یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص لمبی مدت تک کسی خاص عمل میں گزارے تو اس عمل کے رموز اس پر کھل جاتے ہیں۔ اس کو اس عمل کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔

14 جون 1989

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔انھوں نے کہا کہ اقبال کو رسول اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا۔ وہ عاشق رسول تھے۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ کے لئے عشق کا لفظ بولنا ایک بدعت ہے کیونکہ شریعت میں اس کے لئے محبت کا لفظ آیا ہے نہ کہ عشق کا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری بات یہ ہے کہ رسول سے محبت کا یا عشق کا مطلب وہ نہیں ہے جو ایک عورت اور ایک مرد کو آپس میں ہوتا ہے۔ اس سے مراد والہانہ اتباع ہے نہ کہ عام معنوں میں ذاتی نوعیت کاعشق۔ اقبال اگر رسول اللہ کے عاشق تھے تو انھیں آپ کا اتباع کرنا چاہئے تھا۔ رسول اللہ کا یہ حال تھا کہ انھوں نے دورشاعری میں بھی شاعری نہیں کی بلکہ نثر میں کلام کیا۔ اس کے بر عکس اقبال دور سائنس میں شاعری کرتے رہے۔ کیا اس کو عشق رسول کہا جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

15 جون 1989

اسلام آباد پاکستان سے انگریزی ویکلی مسلم ورلڈ(The Muslim World) ہے۔ اس کے شمارہ 3 جون 1989 میں نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبد السلام کے انٹریو کچھ اقتباسات شائع ہوئے ہیں۔ یہ انٹرویو انھوں نے اخبار نیشن (The Nation) کو دیا تھا۔

ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ ہم سائنسی ذہن رکھنے والی قوم نہیں۔ انھوں نے پاکستان واپسی کے لئے اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کی خاطر کسی بھی چیز کو چھوڑ سکتے ہیں حتیٰ کہ ٹری ایسٹ میں اپنے تمام عہدہ کو بھی ، اگر پاکستانی حکومت ایک سائنسی ادارہ قائم کرے اور اس کے لئے ان کی خدمات حاصل کرے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

We are not a science-minded people. Although we might have done very well in the higher reaches, we are neither here nor there. Dr. Salam expressed his keenness to return to Pakistan. He said that he would give up anyting-even his prestigious position at Trieste if the Pakistan government sets up a Science Institute and asked for his services.

مگر عملا کبھی ایسا نہیں ہوگا۔ کیوں کہ پاکستان کی جو حکومت بھی ڈاکٹر عبدالسلام کو اس طرح بلائے گی ،اس کو موقع پرست لیڈر شوشہ بنا لیں گے اور حکومت پر قادیان نوازی کا الزام عائد کر دیں گے۔ اس طرح وہ عوام کو بھڑکا کر اس حکومت کے لئے اگلے الکشن میں جیتنے کا امکان ختم کر دیں گے۔۔۔ یہی جھوٹی اسلامی سیاست ہے جس نے نصف صدی کے باوجود پاکستان کو بربادی کے سوا کسی اور منزل تک نہیں پہنچایا۔

16 جون 1989

مکہ سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام الرابطہ ہے۔ اس کے شمارہ ذوالقعدہ 1409ھ میں مدینہ کا مسجد نبوی کے امام الشیخ علی عبد الرحمٰن الحذیفی کا ایک خطبہ نقل کیا گیا ہے جو انھوں نے وہاں کی مسجد نبوی میں دیا تھا۔ انھوں نے کہا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

يا أمة الإسلام، لماذا الاختلاف والدين واحد. الى متى الشقاق والامة واحدة الى متى التفرقة وانتم تدركون ما فيها من الضور (صفحہ 6 )

اےامت اسلام باہمی اختلاف کیوں جب کہ دین ایک ہے ۔ باہمی جھگڑے کب تک جب کہ امت ایک ہے ۔ باہمی تفریق کب تک حالاں کہ تم جانتے ہو کہ اس میں کتنا زیادہ نقصان اور بگاڑ ہے۔

مسلمانوں کے اندر اتحاد و اتفاق کے لئے اس قسم کی جذ باتی اپیلیں سوسال سے بھی زیادہ عرصہ سے کی جارہی ہیں۔ مگر عملی صورتحال اسے اس سے بھی زیادہ خراب ہے جتنا کہ سوسال یا پچاس سال پہلے تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہرآدمی یہ فرض کر کے بول رہا ہے کہ امت اسلام واقعہ میں موجود ہے۔ جب کہ خود امت اسلام سرے سے موجود نہیں۔ مسلمانوں کی موجودہ بھیڑ کو امت اسلام سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی قدیم شہر کے کھنڈروں کو دیکھ کر سمجھنا کہ خود وہ شہر زندہ حالت میں موجود ہے۔ آج سب سے پہلا کام یہ ہے کہ دوبارہ "امت اسلام" وجود میں لائی جائے۔ اس کے بعد ہی اگلے مرحلہ کا کوئی کام کیا جاسکتا ہے۔

17 جون 1989

ہمارے یہاں پاکستان کے تین اخبارات آتے ہیں۔ دو اردو اخبار (وفاق اور نوائے وقت) اور ایک انگریزی اخبار (فرنیٹر پوسٹ) نوائے وقت کے ہر شمارہ میں مسٹر جناح اور ڈاکٹر اقبال کا کوئی قول نقل کیا جاتا ہے۔ اس کے شمارہ 12 جون 1989 میں مسٹر محمدعلی جناح کا ایک قول نقل کیا گیا ہے جو انھوں نے 10 مارچ 1941 کومسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا :

" مسلم اقلیت کے صوبوں میں رہنے والے مسلمان خود دار اور بلند حوصلہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلم اکثریت کے صوبوں میں رہنے والے بھائیوں کی نجات اور آزادی کی خاطر وہ ہر قسم کے ایثار اور قربانی کے لئے تیار ہیں "۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

1947 میں ملک کی تقسیم کے بعد "بھارت" کے مسلمان جن حالات سے دوچار ہوئے ، وہ مسٹرجناح کے مذکورہ قول کے عین مطابق تھے۔ مگر جب یہ متوقع حالات عملا پیش آئے تو بھارتی مسلمان ان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ وہ صبر کے بجائے فریاد اور احتجاج کرنے لگے۔ اور ایثار و قربان کا عملی ثبوت دینا کتنا آسان ہے اور ایثار و قربانی کا عملی ثبوت دینا کتنا زیادہ مشکل۔

18 جون 1989

انگریزی جرنلسٹ مسٹر ارن شرما سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے جیسے لوگ لامذہب صرف اس لئے ہیں کہ ہم مذہب کو نہیں سمجھتے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

We are non-believer because we don't understand religion.

یہی اکثر ان لوگوں کا حال ہے جو بے دین یا لامذہب کہے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو مذہب سے دوری حقیقتہ انکار کی بنا پر نہیں بلکہ بے خبری کی بنا پر ہے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے طرز فکر اور ان کے ذہنی معیار پر انھیں مذہب نہ دیا جا سکا۔ اس لئے مذہب ان کے دماغ میں جگہ نہیں بناسکا۔ اگر مذہب کو ان کے فکری معیار پر مدلل کر کے پیش کیا جائے تو ان میں سے بہت سے لوگ انکار مذہب کو چھوڑ کر اقرار مذہب کو اپنا طریقہ بنائیں گے۔

19 جون 1989

ٹائمس آف انڈیا ( 19 جون 1989) کے صفحہ آخر پر سلمان رشدی کا ایک انٹرویو چھپا ہے جو 25 سالہ امینہ میر نے اس سے لندن کے کسی مکان میں لیا تھا۔ ہندستان پہلا ملک ہے جس نے رشدی کی کتاب (سیٹنک ورسز) پر پابندی لگائی تھی۔ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے سلمان رشدی نے کہا کہ امریکی فلم لاسٹ ٹمپٹییشن آف کرائسٹ پر کسی بھی عیسائی ملک میں پابندی نہیں لگائی گئی ۔ مگر ہندستان میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ کیا مذاق ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Look at the "Last Temptation of Christ" (an American film), not banned in any Christian country but banned in India. That's laughable.

میں مذکورہ کتاب اور دونوں کو سخت بیہوده اور لغو سمجھتا ہوں ۔ مگر پابندی کا مطالبہ کرنااور پابندی لگانا موجودہ زمانہ میں سراسر بے فائدہ ہے ۔ کیوں کہ اس کے بعد اس کی اشاعت اور بڑھ جاتی ہے۔ رشدی کی کتاب ابتدائی چند مہینوں میں صرف چند ہزار فروخت ہوئی مگر فروری 1989 تک خمینی کے فرمان قتل کے بعد اس کے خلاف جو شور وغل ہوا اس کے بعد اس کی مانگ بے حد بڑھ گئی چنانچہ فروری سے مئی 1989 تک اس کے ایک ملین نسخے فروخت ہو چکے تھے اور نصف درجن زبانوں میں اس کے ترجمے زیر اشاعت تھے۔

جنرل محمد ضیاء الحق نے پاکستان میں ہندستانی فلموں کی نمائش کو ممنوع قرار دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ہندوستانی فلموں کے ویڈیو کیسٹ باہرملکوں میں جاکر پاکستان پہنچنے لئے اور گھرگھرمیں وی سی آر پر ہندستانی فلمیں دیکھی جانے لگیں ۔

20 جون 1989

مغل شہنشاہ اکبر نے دین الٰہی ایجاد کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے راجہ مان سنگھ کواس دین میں شرکت کی دعوت دی ۔ ملا بدایونی کی روایت کے مطابق ، راجہ مان سنگھ نے کہا کہ میں ایک ہندو ہوں، اگر آپ کہیں تو میں مسلمان ہو جاؤں۔ مگر یہ دوسرا ددین الہی کا راستہ مجھے خود نہیں معلوم کہ کیا ہے (سخن در دین دارید ، ہند وفرو بستم واگر بفرمائی مسلمان می شوم. و راه دیگر خود نمی دانم که کدام است)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام تاریخی اعتبار سے ایک ثابت شدہ اور قائم شدہ مذہب ہے۔ مگر دین الہی کی حیثیت اس وقت محض ایک ذہنی اپج کی تھی۔ اس بنا پر راجہ مان کی سمجھ میں اسلام آیا مگر دین الہی اس کی سمجھ میں نہ آسکا۔

یہ اسلام کے حق میں ایک عظیم الشان تائید ہے۔ اگر ہم لوگوں کو اسلام کی طرف جائیں تو لوگوں کو محسوس ہوگا کہ انھیں ایک معلوم اور مسلم چیز کی طرف بلایا جارہا ہے ، جب کہ دوسرے مذاہب کا حال یہ ہے کہ وہ یا تو" دین الہی " کی طرح غیر معروف ہیں یا ہندوازم اور بد ھ ازم اور مسیحیت کی طرح غیر تاریخی۔

21 جون 1989

پاکستان کی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے حال میں امریکہ کا دورہ کیا ہے ۔ واپسی کے بعد انھوں نے 20 جون کو اسلام آباد میں سعودی گزٹ ریاض کے نمائندہ سے ملاقات کی ۔ ٹائمس آف انڈیا ( 21 جون 1989) کے مطابق انھوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ میرے پاس اور میرے قبضہ میں ایسی معلومات ہیں جوبتاتی ہیں کہ وہ (ضیاء الحق) کتنے اسلام کے مخالف تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

I have information in my records, in my possession, which shows how

anti-Islam he was.

جنرل محمد ضیاء الحق سے پوچھا جائے تو وہ بے نظیر کو سب سے بڑا اسلام دشمن بتائیں گے۔ اس کے برعکس بے نظیر بھٹو کے نزدیک ضیا الحق سب سے بڑے اسلام دشمن تھے۔

other sourceWords of another person or source

حقیقت یہ ہے کہ اگر قیامت نہ آئے تو کسی بھی چیز کی حقیقت کھلنے والی نہیں حتی کہ یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ کون اسلام دوست تھا اور کون اسلام دشمن۔

22 جون 1989

عربی مدارس کے بارہ میں میرا تاثر یہ ہے کہ وہاں کوئی بھی "علم" نہیں پڑھایا جاتا ، حتی کہ اسلام کا علم بھی نہیں۔ میری تعلیم عربی کے ایک مدرسہ میں ہوئی۔ یہاں جغرافیہ کے بارہ میں کوئی بھی کتاب شامل نصاب نہ تھی ۔ وہاں کی مجلسوں میں جغرافیہ کے بارہ میں کچھ بتایا جاتا تھا۔ اس کے باوجود یہ اللہ تعالی کا فضل تھا کہ میں نے دوران تعلیم ہی میں جغرافیہ کے بارہ میں بہت کچھ جان لیا ۔

اس واقفیت کا ذریعہ ٹکٹ ( پوسٹیچ اسٹمپ) تھا۔ مجھے بچپن ہی سے ٹکٹ جمع کرنے کا شوق ہوگیا۔ یہ شوق مجھے مسٹرعتیق احمد انصاری کے ذریعہ کا۔ جو اس زمانہ یں لکھنو میں الا ماٹا نیر کالج میں پڑھتے تھے۔ وہ میرے عزیز بھی تھے اور دوست ہیں۔ وہ خود ٹکٹ کے شوقین تھے ہر بار جب وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اعظم گڑھ آئے تو مجھے کچھ نہ کچھ ٹکٹ دیتے۔ عتیق احمد انصاری کے والد مشتاق احمد انصاری لکھنؤ میں جیل انڈسٹریز کے سپرنٹنڈنٹ تھے۔

ہمارے مدرسہ کے دفتر میں لکڑی کا ایک بڑا بکس تھا۔ اس میں ایک بہت موٹا سا البم رکھا ہوا تھا۔ کسی بہت با ذوق آدمی نے بنایا تھا۔ اور پھر مدرس کو دے دیا۔ اس میں دنیا کے تمام ملکوں کے ٹکٹ تھے۔ ہماری بستی کے منشی محمود علی صاحب مدرسہ میں محرر (کلرک) تھے۔ انھوں نے میرے شوق کو جان کرٹکٹوں کا یہ البم مجھے دکھایا۔ اور اس البم کے بہت سے ٹکٹ مجھے دئے۔ چند سال میں میرے پاس اکثر ملکوں کا ٹکٹ ہوگیا۔

میرا ٹکٹوں کا اہم میرے لئے جغرافیہ کی کتاب بن گیا۔ عتیق احمد انصاری سے اور دوسرے لوگوں سے میں ان ملکوں کے حالات معلوم کرتا جس کے ٹکٹ میرے پاس موجود تھے۔ نیز کتابوں کے ذریعہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ۔ اس طرح ٹکٹوں کے شوق نے مجھے دوران تعلیم ہی میں ضروری جغرافی معلومات دے دی۔

23 جون 1989

برما کے دو مسلمان ملاقات کے لئے ۔ ایک کا تعلق مانڈے سے تھا ، دوسرے کا تعلق رنگون سے۔ وہ جلال آباد کے مدرسہ میں تعلیم کے لئے آئے تھے۔ اب فارغ ہو کر واپس اپنے وطن جا رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اراکان (Arakan) کے علاقہ کے مسلمانوں نے 20 سال پہلے ایک فوجی پارٹی بنائی۔ اس کا نام بسم اللہ ٹاپھوے ( بسم اللہ فوجی پارٹی ) تھا ۔ اس کا مقصد اراکان کو آزاد کر کے علیحدہ مسلم ریاست بنانا تھا ۔ حکومت نے ظالمانہ طور پر اس تحریک کو کچل دیا۔ تقریبا دو لاکھ مسلمان اراکان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ابھی تک اراکان کے مسلمانوں کے ساتھ تعصب برتا جارہا ہے ۔ حالاں کہ اب تحریک اندرونی طور پر ختم ہو چکی ہے۔

other sourceWords of another person or source

میں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ہندو علیحدگی کی تحریک چلائیں تو اس کو تمام مسلمان سازش اور غداری کہتے ہیں ۔ اور برما کے مسلمان اس قسم کی علیحدگی کی تحریک پالیں تو وہ مسلمانوں کے نزدیک آزادی کی تحریک بن جاتی ہے ۔ مسلمانوں کو ایک معیار اختیار کرنا چاہئے ۔ یا تو وہ دونوں جگہ اس کو آزادی کی تحریک کہیں یا دونوں جگہ غداری کی تحریک موجودہ صورت انہیں بر بادی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی صورت آج تمام دنیا میں ہے۔ مسلم مکوں کی غیرمسلم آبادی اگرعلٰیحدگی کا مطالہ کرے تو وہ مسلمانوں کے نزدیک بغاوت ہے۔ اور غیر مسلم ملکوں کے مسلمان اگر علیحدگی کا مطالبہ کریں تو وہ مسلمانوں کے نزدیک آزادی کی جد وجہد ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ خدا کے نزدیک مقبول ہے اور نہ انسانوں کے نزدیک مقبول ۔

24 جون 1989

ایک صاحب نے کہا کہ میں اپنی بیوی کوطلاق دینا چاہتا ہوں۔ ان کے یہاں ایک بچی بھی پیدا ہو چکی ہے۔ مگر بیوی پستہ قد اور بھدی شکل کی ہے۔ اس لئے ان کو ازدواجی مسرت حاصل نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے انھیں سختی سے منع کیا۔ میں نے کہا کہ نکاح سے پہلے آدمی کو ہزار بار سوچنا چاہئے۔ مگر نکاح کے بعد اس کو چاہئے کہ نباہ کے سوا ہر سوچ کا دروازہ بند کر دے۔ اسلام میں غیر عورت کو قصدا دیکھنا جائز نہیں۔ مگر مخطوبہ کو دیکھنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف طلاق کے بارہ میں حدیث میں آیا ہے کہ وہ البعض المباحات ہے ۔۔۔۔۔ گویا نکاح سے پہلے ممنوعہ حد تک تحقیق کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر نکاح کے بعد مباح حد میں داخلہ کو پسند نہیں کیا گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

25 جون 1989

ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہیں ۔ وہ نہایت ذہین اور سوجھ بوجھ والے آدمی ہیں۔ مگر آدمی خواہ کتنا ہی سمجھدار ہو ، اس کی سمجھ محدود ہوتی ہے۔ انھوں نے دبئی (عرب امارات) میں ہوٹل کھولا۔ مگر ہوٹل ناکام ہوگیا۔ پندرہ لاکھ روپیہ کا گھاٹا دے کر انہیں ہوٹل کو بند کر دینا پڑا۔

انھوں نے اپنے ہوٹل میں مغل کھانوں کا اعلی انتظام کیا تھا۔ ان کا آئیڈیا تھا کہ ہندستان اور پاکستان کے لاکھوں لوگ جو عرب امارات میں رہتے ہیں، وہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ کھانا پسند کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے ہوٹل کا نظام اس طرح بتایا کہ ایک شخص اپنی پوری فیملی کے ساتھ آئے اور ایک میز پر اپنی پسند کا کھانا کھائے۔

مگر ساری ذہانت کے باوجود ان سے ایک چوک ہو گئی۔ وہ یہ کہ لوگ فیملی کے ساتھ صرف چھٹی کے دن آ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ وہ اس طرح روزانہ نہیں آسکتے۔ چنانچہ ہفتہ کی چھٹی کے دن تو ان کے یہاں زبردست بھیڑ لگ جاتی ۔ مگر بقیہ دنوں میں بالکل سناٹا رہتا ۔ چنانچہ مجبور ہوکر انھوں نے ہوٹل بند کر دیا۔

مذکورہ مسلمان نے ہوٹل کا یہ قصہ سنایا تو میں نے ان کو یہ آیت سنائی : قل لوکنت اعلم الغيب لاستكثرت من الخير وما مسنی السوء ۔ میں نے کہا کہ دنیا کے فائدہ کا بہت گہرا تعلق "آئندہ" کو ماننے سے ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کو اپنا عجز تسلیم کرنے پرمجبور ہونا پڑتا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

26 جون 1989

مارکسی اشتراکیت کے بارہ میں میری کتاب پہلی بار اپریل 1959 میں چپھی۔ اس کو مکتبہ جماعت اسلامی رامپور نے چھاپا تھا۔ کتاب کا نام یہ تھا :

مارکسزم جس کو تاریخ رد کر چکی ہے۔

30 سال پہلے کتاب کا یہ نام لوگوں کو بہت عجیب معلوم ہوا تھا۔ لوگوں نے کہا کہ مارکسزم کو پوری طاقت کے ساتھ زندہ ہے ، پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ تاریخ نے اس کو رد کر دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگراب30 سال بعد حقیقت ہر ایک کی سمجھ میں آرہی ہے ۔ امریکہ کے ٹائم میگزین نے اپنے شماره 5 جون میں ایک تفصیلی رپورٹ دی تھی جس میں ایسے حقائق پیش کئے گئے تھے جس سے یہ ثابت ہورہا تھا کہ روس اور چین میں کمیونزم زوال کی طرف جارہا ہے ۔ ٹائم (26 جون) میں اس رپورٹ پر قارئین کے خطوط چھپے ہیں ۔ ہانگ کانگ کا ایک قاری لکھتا ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The world is witnessing the last convulsions of a dying beast called Communism, which will not last to the year 2000. (Francesco M. Bongiovanni)

other sourceWords of another person or source

دنیا اس مرتے ہوئے حیوان کی آخری بشنجی حالت کا مشاہدہ کر رہی ہے جس کو کمیونزم کہا جاتا ہے ۔ اور جو 2000 تک باقی رہنے والا نہیں۔

27 جون 1989

سرجان ہکس (Sir John Hicks ) موجودہ زمانہ کا مشہور ماہر اقتصادیات ہے۔ 20 مئی 1989 کو اس کا انتقال ہوگیا۔ بوقت انتقال اس کی عمر 85 سال تھی۔ علم اقتصادیات میں وہ مجتہدانہ رائے رکھتا تھا۔ مثلا اس نے لارڈ کینٹ کی جنرل تھیوری (General Theory) سے سخت اختلاف کیا ۔ اس کا کہنا تھا کہ اقتصادیات ایک ڈسپلن ہے نہ کہ سائنس:

Economics is not a science but a discipline.

سرجان ہکس کو نوبیل انعام ملا تو اس نے اس کا بڑا حصہ لندن اسکول لائبریری کو دیا وه دولت براۓ دولت کا قائل نہ تھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں اس کے مطابق عمل کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے اہل علم وہ بہترین افراد تھے جن کو اسلام کا پیغام پہنچایا جاتا ۔ مگر مضامین نے یا تو صرف مسلمانوں کے اندر اسلامی کام کیا۔ اور اگر غیرمسلموں میں کچھ کام کیا تو ان کے پست طبقات میں غیر مسلموں کے اعلی ذہن اور تعلیم یافتہ طبقہ کو وہ خدا کے دین کا مخاطب نہ بنا سکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

28 جون 1989

انگریز جب ہندستان میں آئے تو انھوں نے یہاں سب سے بڑا اتحاد پیدا کیا ۔ انھوں نے ہمالیہ سے لے کر راس کماری تک پورے برصغیر کو ایک متحدہ ملک کی حیثیت دے دی . مگر 1947 میں جب وہ اس ملک کو چھوڑ کر گئے تو انھوں نے اس کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ۔ تاکہ وه ابدی طور پر اس میں لڑتے رہیں اور کبھی دوبارہ متحد نہ ہوسکیں ۔ انہیں اپنے لئے کچھ پسند تھا اور دوسروں کے لئے کچھ ۔

29 جون 1989

موجودہ زمانہ کے جو مسلم رہنما ہیں ، خواہ وہ بے ریش ہوں یا باریش ۔ ان کے بارہ میں میری رائے بے حد سخت ہے۔ ان کے بیانات کو سن کر اور ان کے حالات کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کے سب محض اکسپلائٹر ہیں حتی کہ اکثر ایک آہ کے ساتھ یہ جملہ میری زبان سے نکل جاتا ہے کہ اگر یہی وہ لوگ ہیں جو جنتوں میں داخل کئے جانے والے ہیں تو جہنم کوخالی رہنا چاہئے، کیوں کہ دوسرے لوگ بہر حال ان سے کم برے ہیں۔

30 جون 1989

ہندستان میں مسلمان بھی ہیں اور عیسائی بھی۔ دونوں اقلیتی فرتے ہیں مگر دونوں کے مزاج میں بعد المشرقین کا فرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائیوں نے تعلیم کے میدان میں قدم رکھا تو انہوں نے ابتدائی تعلیم کے ادارے قائم کئے ملک میں عیسائیوں کے اسکول تو بہت ہیں مگر عیسائیوں کی یونیورسٹی کوئی ایک بھی نہیں۔

مسلمانوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ انھوں نے اسکول کی سطح پر تعلیم کے انتظام کی طرف بہت کم توجہ دی، البتہ انھوں نے کئی یونیورسٹیاں قائم کر دیں ۔ مسلم یونیورسٹی ، عثمانیہ یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ ، ہمدرد یونیورسٹی ، وغیرہ۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ عیسائیوں کے پیش نظر ذہن بنانا تھا ، اورمسلمانوں کے پیش نظر منارہ فخر کھڑا کرنا۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithother sourceWords of another person or sourcequoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it