← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
March 1989
English · 34 min read
یکم مارچ 1989
ڈاکٹرشاہد صابری( پیدائش 1951)ملاقات کے لئے آۓ۔ وہ امیٹھی (ضلع سہارنپور)میں مطب کرتے ہیں۔ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ یہاں کی تمام کتابیں بھی پڑھ چکے ہیں ۔ وہ نہ صرف الرسالہ کے مشن سے متفق ہیں بلکہ اس پر پوری طرح عامل بھی ہیں۔
انھوں نے اپنے کئی واقعات بتائے۔ انھوں نے کہاکہ میں نے امیٹھی میں چار ایک رقبہ کی ایک زمین خریدی۔ اور ناپ کر اس کی مینڈ بنوا دی۔ یہ 1987کا واقعہ ہے۔ یہ زمین ہندوؤں کے مرگھٹ سے ملی ہوئی تھی ۔ چنانچہ جن سنگھ ہندوؤں نے یہ مشورہ کیا کہ ڈاکٹر شاہد نے مرگھٹ کی زمین اپنے کھیت میں ملالی ۔ بڑے جذباتی انداز میں میرے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ مثلا یہ کہ ڈاکٹرشاہد نے ہمارے مردوں کے اوپر ٹریکٹر چلوا دیا۔ وغیرہ۔ ڈاکٹر شاہد نے جنوری 1977میں یہاں پریکٹس شروع کی تھی ۔ ان کی پریکٹس بہت کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔ چنانچہ بعض ہندوڈاکٹروں کو جلن ہوئی اور انھوں نے ان کی پریکٹس کو ڈاؤن کرنے کے لئے یہ فرقہ وا رانہ شوشہ چھوڑا۔
ڈاکٹر شاہد اس پر برہم نہیں ہوئے۔ وہ ٹھنڈے طریقہ سے ہندو پٹواری کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آپ چل کر زمین کو ناپ دیں اور اگر اس میں مرگھٹ کی زمین نکلتی ہے تو میں اس کو فوراً واپس کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مقامی جن سنگھی لیڈر حکم چند جین سے بھی انھوں نے یہی بات کہی۔
پٹواری اور دوسرے ہندو مقرر وقت پر وہاں آئے اور زمین کی پیمائش کی گئی تو علوم ہوا کہ جن سنگھی لوگوں کی شکایت بالکل غلط تھی۔ بلکہ پیمائش کے مطابق خود ڈاکٹرشاہد صاحب کی زمین کا کچھ حصہ مرگھٹ کی زمین میں نکلا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس کو مرگھٹ کے لئے چھوڑ دیتا ہوں۔ جن سنگھی لیڈرحکم چند جین ڈاکٹر صاحب کی شرافت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس نے کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ ہمیں لوگ غلطی پر تھے۔ آپ یقینا ایک سچے آدمی ہیں۔ یہ تاثر اتنا بڑھا کہ نومبر1988 میں امیٹھی میں چیئرمین کی جگہ کے لئے الکشن ہوا تو حکم چند جین ایک سابق ایم ایل اے کو لے کر ڈاکٹر شاہد صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ ہم سب آپ ہی کو چیئرمین کے لئے سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ آپ اس کے لئے کھڑے ہو جائیے ۔ ہم آپ کو اطمینان دلاتے ہیں کہ کوئی ہندو آپ کے مقابلہ میں نہیں کھڑا ہوگا ۔ اور آپ یقیناجیت جائیں گے۔ ڈاکٹر شاہد نے یہ کہ کر معذرت کر دی کہ آپ کا شکریہ مگر میں سیاست سے بہت دور رہنا چاہتا ہوں۔
2مارچ 1989
ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت امت کی اصل ضرورت اتحاد ہے، اور اس کے لئے آپ کچھ نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ آپ کے خیال سے کیا کرنا چاہئے۔ اس کے لئے انھوں نے کہا کہ تمام مسلم اکابر کو جمع کیجئے اور اتحاد کے مسئلہ پر لوگوں کو توجہ دلائیے۔ میں نے کہا کہ کانفرنسوں سے اگر اتحاد قائم ہوسکتا تو اب تک اسے قائم ہو جانا چاہئے تھا کیوں کہ ملت کے اندر اتحاد کانفرنسیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھوں نے کہاکہ پر اتحاد کی تدبیرکیا ہے۔ میں نے کہا کہ اتحاد کے لئے اتحاد کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملت کے اندر وہ استعداد موجود نہیں جس پر اتحاد کی تعمیر ہوتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھوں نے کہا کہ استعداد سے آپ کی مراد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے مراد ہے ملت کے افراد کے اندر اس شعور کی موجودگی کہ اتحاد اس وقت آتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا راز جان گئے ہوں ۔ صحابہ کرام بلاشبہ اتحاد کی غیر معمولی مثال ہیں۔ مگر ان کا اتحاد اختلاف کے باوجود متحد ہونے کی زمین ہی پرتائم ہوا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ حضرت عمر نے خلیفہ اول ابوبکر صدیق کا ایک فرمان بر سرسام پھاڑ کر پھینک دیا۔ مگروہاں کوئی کہرام نہیں مچا۔ آج اگر کوئ شخص ندوہ میں کھڑا ہو کر مولانا علی میاں کی ایک کتاب پھاڑ کر پھینک دے تو وہاں ایک ہنگامہ کھڑا ہوجائے گا۔ حضرت عمرتقریر کر رہے تھے کہ ایک عام آدی نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم نہ تمہاری بات سنیں گے اور نہ تمہاری اطاعت کریں گے مگر اس سے کوئی برہمی پیدا نہیں ہوئی۔ آج اگر کوئی شخص ایک اسلامی ادارہ میں ایسا کرے تووہ وہاں سے نکال دیا جاۓ گا۔
اس تقابل سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے اندر اتحاد کی استعداد تھی، آج کے مسلمانوں میں اس کی استعداد نہیں ۔ ایسی حالت میں پہلا کام ذہنی استعداد پیدا کرنا ہے نہ کہ کوئی جذباتی اشو کھڑا کر کے بھیڑ جمع کرنا ۔
بھیڑ اور اتحاد کے فرق کو نہ جاننے والے ہی بھیٹر پرخوش ہوسکتے ہیں۔
3مارچ 1989
میں نے ایک موضوع پر کچھ معلومات جمع کی تھیں اور اس کے کچھ ابواب تیار کئے تھے ۔ تاہم مجھے احساس تھا کہ کتاب ابھی مکمل نہیں ہے ۔ خواہش تھی کہ مزید معلومات جمع کر کے اس کو مکمل کرلوں۔ اس کے بعد اس کو شائع کردوں۔
اس کتاب کا نام میں نے "اسلام دور جدید کا خالق" تجویز کیا تھا۔ مگر دوسری مصروفیات کی وجہ سے اس کی تکمیل کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ آخر کار میں نے طے کیا کہ وہ جس حال میں ہے اسی حال میں اسے شائع کر دوں۔ چنانچہ چھوٹے چھوٹے تقریبا 20 ابواب مرتب کر کے کاتب کوبرائے کتابت دے دئے۔
کارڈینال نیومین (Cardinal Newman) کا قول ہے کہ آدمی کوئی کام نہیں کرسکتا، اگر وہ اس انتظار میں رہے کہ وہ اتنا اچھا کام کرے کہ کوئی شخص اس میں کوئی غلطی نہ پاسکے:
other sourceWords of another person or source
A man could do nothing, if he waited until he would do it so well that
no one could find fault with what he has done.
4مارچ 1989
مسٹر ارن شرما ملاقات کے لئے آئے۔ وہ نئی دہلی کے ایک انگلش جرنلسٹ ہیں۔ نسلی اعتبار سے وہ برہمن ہیں۔ میرے سوالات کے جواب میں انھوں نے ہندو مذہب میں برہمن کی مختلف قسمیں اور ان کی سماجی حیثیت کی تفصیل بیان کی ۔ اس گفتگو کے دوران انھوں نے کئی بار یہ الفاظ کہے: اس وقت میں پیورلی ورن سسٹم پر بات کر رہا ہوں ۔ یہ مت سمجھئے کہ یہ میری اپنی تھنکنگ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح 28 فروری کو میں دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں گیا تھا۔ وہاں رشدی خمینی اشو پر جلسہ تھا۔ سیتارام گوئل نے لمبی تقریر کی۔ وہ آرایس ایس کے آدمی ہیں۔ ان کی پوری تقریر اسلام کے خلاف تھی۔ تاہم ہندو پیشواؤں کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار ان کی زبان سے یہ فقرہ نکلا: محمد صاحب کی شخصیت دوسرے مذہبی پیشواؤں کی طرح ، مائتھالوجیکل فیگر نہیں ہے، وہ پوری طرح ایک ہسٹاریکل فیگر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ہمارے پڑوسی مسٹر پرمود بترا اکثر رامائن کا سیریل دیکھنے کے لئے بلاتے رہتے ہیں۔ جنوری 1989کے ایک اتوار کو میں ان کے یہاں گیا۔ ٹی وی پر رامائن کی ایک قسط شروع سے آخرتک دیکھی۔ اس میں عجیب وغریب مناظر تھے۔ مثلاً ایک موقع پر کرشن کو ان کے دشمن تلوار لے کر مارتے ہیں۔ تلوار ان کے جسم کو کاٹ کر اس پار سے اس پار چلی جاتی ہے۔ اس کے باوجود وہ نہیں مرتے ۔ اس طرح کے مناظر سامنے آتے تومسٹر بترا مسکرا کر کہتے : یہ کوئی ہسٹری نہیں، یہ مائتھالوجی ہے۔
ہندؤوں کے پڑھے لکھے طبقے کے بارے میں میرا تجربہ ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بارہ میں معذرت خواہ (Apologetic) رہتے ہیں۔ یہ دراصل مسلم نفرت ہے جوان کو اپنے مذہب سے وابستہ کئے ہوئے ہے۔ اگرمسلمان یک طرفہ صبر کے ذریعہ مسلم نفرت کے اسباب ختم کر دیں تو اچانک ہندو مذہب کی عمارت خود ان کے درمیان گر پڑے گی۔
5مارچ 1989
رابطة العالم الاسلامی (سعودی عرب) کی طرف سے ایک ہفتہ وار اخبار "اخبار العالم الاسلامی" کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ 21 فروری 1989 میں روسی مسلمانوں کے بارہ میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بلاد مسلمین پر روسی استعمار کا آغاز 450 سال پہلے ہوا جب کہ ایفان سوم( IVAN III )نے 1552 میں قازان کی مسلم حکومت ختم کر دی۔ اس کے بعد 1917 میں وہاں اشتراکی انقلاب آیا۔
other sourceWords of another person or source
اس پوری مدت میں روس کے علاقہ میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہرقسم کا ظلم کیا جاتا رہا ہے اور ان کی اسلامی حیثیت اور شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس کے باوجود روسی علاقہ کے مسلمان ابھی تک 95 فیصد سے زیادہ اپنے دین اور اپنے عقیدہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں (عربی عبارت۔ص۔48)
ہندستان کی مذہبی قیادت آجکل سب سے زیادہ جس موضوع پر تقریریں کر رہی ہے وہ یہی ہے کہ ہندستانی مسلمانوں سے ان کی اسلامی شناخت مٹائی جا رہی ہے، اور اگلی نسلوں کے مسلمان بحیثیت مسلمان باقی نہیں رہیں گے۔ ان لوگوں کو مذکورہ واقعہ سے نصیحت لینا چاہئے۔ جو واقعہ روسی جبر کے تحت نہیں ہوا وہ ہندستانی جمہوریت میں کیسے ہوجائے گا۔
6 مارچ 1989
بعد کے مسلم علماء نے مسئلہ بنالیا ہے کہ جوشخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرطعن کرے وہ لازما قتل کیا جائے۔ اس مسئلہ کے حق میں کوئی صریح نص قرآن وحدیث میں موجود نہیں ہے۔ یہ مسئلہ تمام ترقیاسی اور استنباطی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عرب کے بے شمار لوگوں نے آپ پرطعن کیا۔ مگر آپ نے انھیں قتل نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ ایسا کرتے تو اسلام کی تاریخ ہی نہ بنتی کیوں کہ یہی لوگ تھے جو بعد کو مومن ہو کر اسلام کی طاقت کا ذریعہ بنے۔
ابن قیم نے اپنی کتاب زاد المعاد (61/5) میں اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قدیم عرب میں ایسے لوگ تھے جنھوں نے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی عدالت پرقدح کیا۔ مگر آپ نے انھیں قتل نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو اس کا حق حاصل تھا۔ آپ کو آزادی تھی کہ خواہ ایسے شخص کو سزا دیں یا اسے چھوڑ دیں ۔ مگر آپ کی امت آپ کے حق کی وصولی کو ترک نہیں کر سکتی (عربی۔ ص۔ 49)
other sourceWords of another person or source
ابن قیم کی یہ توجیہہ نہایت کمزور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس قسم توجیہہ کو شریعت میں معتبرمان لیا جائے تو شریعت کا سارا نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔
7 مارچ 1989
حبیب بھائی (حیدر آباد) آج ملاقات کے لئے آئے ۔انھوں نے اپنے کاروبار کو اب کافی بڑھالیا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو ذہنی سکون حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ بالکل نہیں۔
میں نے کہا کہ جہاں تک میراتعلق ہے میں ذہنی سکون کو کوئی آئیڈیل چیز نہیں سمجھتا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تمام بڑے بڑے کام کرنے والے وہ لوگ تھے جو ذہنی سکون سے محروم تھے ۔ ذہنی سکون میرے نزدیک اس دنیا میں ممکن نہیں ۔ مزید یہ کہ تاریخ بتاتی ہے کہ انھیں لوگوں نے تمام بڑے بڑے کام کئے جو ذہنی بے اطمینانی کاشکار ہوۓ ۔ پرسکون ذہن نے کبھی اس دنیا میں کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے۔
منکن (H.L Mencken ایک امریکی جرنلسٹ تھا۔ وہ 1880میں بالٹی مورمیں پیدا ہوا، اور وہیں 1956 میں وفات پائی۔ منکن نے اسی بات کو ان لفظوں میں کہا کہ معلوم انسانی تاریخ میں کبھی کوئی مسرورفلسفی پیدا نہیں ہوا:
There is no record in human history of a happy philosopher.
8 مارچ 1989
عبدالقادرمغربی مصر کے ایک مشہور عالم اور صاحب قلم تھے۔ 1907 میں انھوں نے ایک عربی مقالہ شائع کیا جس کا عنوان تھا : مصروالسياسۃ۔ اسی طرح انھوں نے ایک اورمقالہ " مصر والاقطار العربية" کے نام سے شائع کیا۔
ان مقالوں میں انھوں نے کہا تھا کہ عالم اسلام اور عالم عرب کی قیادت وسیادت کی ذمہ داری مصر پر عائد ہوتی ہے ، کیوں کہ وہ مادی اور معنوی دونوں قسم کی دولت سے مالا مال ہے ۔ مصر عالم عرب کے وسط میں واقع ہے۔ اس کا ایک شاندار ماضی ہے۔ اس بنا پر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی ذمہ داری اور قیادت اسی کو کرنا چاہئے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس میں اگرلفظ "مصر" کو حذف کر دیجئے توموجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنما اسی قسم کی باتیں کہتے رہے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کی نئی نسلوں کو ان کا" شاندار ماضی" یاد دلا کر یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ اٹھیں اور دوبارہ عالمی قیادت کا کام سنبھالیں۔
یہ بات میرے نزدیک احمقانہ حد تک لغو ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے بہادر شاہ ظفر کی اولادکویاسلطان عبدالحمید ثانی کی بقایا نسل کو مخاطب کر کے کہا جائے کہ تم لوگ اٹھو اور ایشیا اور افریقہ میں اپنی کھوئی خاندانی سلطنت کو دوبارہ بحال کرو۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مسلم نسلیں مسلمانوں کی زوال یافتہ نسلیں ہیں ۔ ان کے اوپر اسلام کی عمارت کھڑی کرنے کا خواب دیکھنا دیمک زدہ لکڑی کے اوپر کثیر منزلہ عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ موجودہ زمانہ میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ دوسری قوموں سے نفرت اور کش مکش کی فضا ختم کی جائے اور ان کے درمیان وسیع پیمانہ پر اسلام کی اشاعت کی جائے۔ اب دوسری قوموں ہی سے وہ "مسلم امت" تیار ہوسکتی ہے جو دوبارہ اسلام کی تاریخ بنائے۔
9 مارچ 1989
سکھوں کے ایک بابا ساون سنگھ تھے ۔ان کے جانشیں سنت کر پال سنگھ ہوئے۔ اب اس کے موجودہ جانشیں درشن سنگھ ہیں۔ بابادرشن سنگھ کی ایک کتاب 64 صفحات پرشائع ہوئی ہے۔ اس کا نام ہے۔ "ایک آنسو اور ایک ستارہ"A Tear and a star یہ انگریزی کتاب "خواطر" کے انداز میں ہے۔ اس کے ہرصفحہ پر بابا جی کے خود اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا کوئی مقولہ درج ہے۔ تمام اقوال کسی نہ کسی اعتبار سے امن اور محبت کے بارے میں ہے۔ مثلا صفحہ 2 پر یہ فقرہ درج ہے ۔۔۔۔ محبت کا صرف آغاز ہے، اس کا کوئی خاتمہ نہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Love has only a beginning; it has no end.
سکھ نوجوان پچھلے تقریبا 5 سال سے پنجاب میں اور دوسرے علاقوں میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ انھوں نے ہزاروں بےگناہوں کو ہلاک کیا ہے۔ مگر اس کے خلاف کوئی سکھ رہنما نہیں بولتا۔ البتہ امن اور محبت کی باتیں ہر ایک کرتا ہے۔ مگرصرف اس قسم کا کلام کسی شخص کو امن اور محبت کا پرچارک نہیں بناتا۔ کریڈٹ صرف اس شخص کو مل سکتا ہے جو امن کی بات کرنے کے ساتھ بے امنی کاعمل کرنے والوں کی مذمت بھی کرے ۔
ٹھیک یہی حال مسلم رہنماؤں کا بھی ہے۔ مسلم رہنا اپنے بیان اور تقریروں میں امن اور محبت اور انسانیت کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کی اپنی قوم کے لوگ( مسلمان) جب بے امنی کا فعل کرتے ہیں تو وہ ان کی مذمت نہیں کرتے۔ غیرقوم کے ظلم کی مذمت کرنے کے لئے ہرشخص بہادر ہے، مگر اپنی قوم کے ظلم کی مذمت کرنے کے لئے کوئی شخص بہادر نہیں۔
10 مارچ 1989
محمد حسین ہیکل مصر کے مشہور عالم اور ادیب تھے۔ انھوں نے سیرت پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام "حیاة محمد" ہے۔انھوں نے کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ فرانسیسی زبان میں انھوں نے وہ کتابیں پڑھیں جو یورپی مورخوں نے سیرت کے موضوع پر لکھی ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ ان کتابوں میں پیغمبر اسلام کی تصویر کو بگاڑکر پیش کیا گیا ہے۔ اس قسم کی چیزوں کو پڑھ کران کے اندر سخت ردعمل پیدا ہوا۔ اور انھوں نے مذکورہ کتاب لکھ ڈالی۔ چنانچہ اس کتاب کا تقریباً نصف حصہ مستشرقین کے جوابات پرمشتمل ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے سیرت کے موضوع پر کتابیں لکھی ہیں ان سب کا حال کم وبیش یہی ہے۔ میرے علم کے مطابق کوئی ایک بھی مسلمان نہیں جس کا یہ حال ہو کہ اس کو یہ احساس بے تاب کرے کہ لوگ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ انھیں سچائی کا راستہ دکھانے کے لئے تڑپ اٹھے اور اس تڑپ کے تحت ہادی برحق کی زندگی کے بارے میں ایک کتاب تیارکرے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی لکھی ہوئی تمام کتابیں دفاع سیرت ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوت سیرت۔ ہزاروں کتابوں کے ہجوم میں کوئی ایک بھی ایسی کتاب نہیں جس میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو سادہ اور فطری انداز میں بیان کیا گیا ہو۔ اور وہ عام انسانوں کو مطالعہ سیرت کے لئے دی جاسکے۔
11 مارچ 1989
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے جب میری کوئی بات بیان کی جائے تو اس کو اللہ کی کتاب پر جانچ کر دیکھو۔ اگر وہ اس کے مطابق ہو تو اس کو لے لو ورنہ اسے رد کر دو ( اذ أروى لكم عنى حديث فاعرضواہ على كتاب الله تعالى فان وافقه فاقبلوہ، والا فردوه)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ مطلب نہیں کہ جو حدیث بظاہر قرآن سے متعارض دکھائی دے اس کو رد کر دیا جائے۔ اس سے مراد ظاہری تعارض نہیں بلکہ معنوی تعارض ہے۔ ہر معاملہ کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ قرآن وحدیث میں کبھی ایک پہلو سے بات کہی جاتی ہے اور کبھی دوسرے پہلو سے۔اس بنا پر بظاہر کلام میں فرق ہو جاتا ہے۔ لیکن فرق یا اختلاف کا فیصلہ ظاہرکی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا بلکہ معنوی اور حقیقی بنیاد پر کیا جائے گا۔
12 مارچ 1989
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے متعلق ایک عربی کتاب پڑھ رہا تھا۔ ان کے حیرت انگیز حالات پڑھتے ہوئے بے اختیار آنکھوں سے آنسو ابل پڑے۔ میں نے کہا :اصحاب رسول بلاشبہ دنیا کے بہترین لوگ تھے۔ مکہ میں یک طرفہ صبر کی ضرورت تھی تو انھوں نے آخری حد تک صبرکیا۔ مدینہ میں قربانی کی ضرورت پیش آئی تو انھوں نے آخری حد تک قربانی دی۔
میرے اندر صبر کی طاقت ہے اور نہ قربانی کی طاقت ۔ البتہ میں ان پاک نفوس کی عظمت کا اعتراف کرتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے اگر یہ غیرمعمولی کردار ادا نہ کیا ہوتا تو دنیا سے کبھی شرک کا دور ختم نہ ہوتا اور انسان ہمیشہ کے لئے گمراہی کے اندھیرے میں بھٹکتا رہتا جس طرح وہ ان سے پہلے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا۔
یا اللہ، میرے پاس کوئی عمل نہیں۔ مجھے صرف اس لئے بخش دیجئے کہ میں نے آپ کا اعتراف کیا اور آپ کے ان بندوں کا اعتراف کیا جو بلاشبہ آپ کے محبوب بندے ہیں۔
13 مارچ 1989
ٹائم میگزین دنیا کا سب سے زیادہ کثیرالاشاعت پرچہ ہے۔ اس کے 9 انٹرنیشنل ایڈیشن مختلف مقامات سے نکلتے ہیں۔ اس کی ہر اشاعت کے شروع میں آدھے صفحہ کا ایک نوٹ پبلشر From the publisher کے تحت ہوتا ہے۔ اس کی اشاعت 13 مارچ 1989میں جونوٹ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے قارئین کو اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔ اور اشاعت کے لئے انھیں کہانیوں کا انتخاب کرتے ہیں جس سے انھیں دلچسپی ہو۔
We keep our readers in mind and select the stories that will interest them.
یہ صرف ‘‘ٹائم’’ کی بات نہیں۔ یہی تمام صحافیوں اور قائدین کا اصول ہے۔ وہ عوام کے مزاج کو دیکھ کر لکھتے اور بولتے ہیں۔ اس سے انھیں ذاتی فائدہ یقینا حاصل ہو جاتا ہے مگر قوم کی تعمیر کا کام نہیں ہوتا۔
الرسالہ میں ہمارا اصول اس کے بالکل برعکس ہے ۔ ہم لوگوں کے انٹرسٹ یا ان کے رجحان کو نہیں دیکھتے بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ صحیح بات کیا ہے۔ ہم وہی بات لکھتے ہیں جو قرآن وحدیث کے مطابق صحیح ہو خواہ وہ کسی کے موافق پڑے یا اس کے خلاف ۔ اس فرق کا مطلب ایک لفظ میں، یہ ہے کہ" ٹائم" ایک تجارت ہے، اور" الرسالہ" اس کے مقابلہ میں اعلان حق ۔
اس دنیا میں دو چیزوں کے فرق کو جاننا آدھا علم ہے۔
14 مارچ 1989
عرب ملکوں کے تعاون سے مسلم اقلیات کے بارہ میں ایک ادارہ قائم ہے۔ اس کا نام لجنة الاقليات الاسلامیۃ ہے۔ اس کا صدر دفترلندن میں ہے۔ اس ادارہ کے صدر الشیخ یوسف ہاشم الرفاعی ہیں۔ وہ اس سے پہلے کویت میں وزیر رہ چکے ہیں۔
صدر موصوف نے اپنی ایک رپورٹ میں ہندستان کی مسلم اقلیت کا ذکر کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ہندستان میں مسلمانوں کی تعداد 100 ملین سے زیادہ ہے۔ وہ متعصب ہندوؤں کے نرغہ میں ہیں ۔ ہندو یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ان کے جیسے نام رکھیں ، ان کا لباس پہنیں ، اپنی لڑکیوں کی شادی ہندولڑکوں سے کریں اور انھیں پاکستان بھاگنے پر مجبور کر دیا جائے ۔ ہندؤوں نے مرکزی حکومت سے یہ حکم حاصل کر کر لیا کہ عظیم تاریخی مسجد جس کا نام بابری مسجد ہے، اس کوبند کر دیں اور اس پر قبضہ کر لیں کیوں کہ ان کے دعوی کے مطابق وہ ایک قدیم ہندو مندر کو توڑ کر اس کی جگہ بنائی گئی ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
(عربی عبارت۔ ص۔ 54)
ہندستانی مسلمانوں کی یہ تصویر سراسرغلط ہے۔ اس قسم کی خلاف واقعہ باتیں مستقل طور پرعرب پرچوں میں چھپتی رہتی ہیں۔ اس نے عالم عرب کے لوگوں کا ذہن ہندستان کے بارہ میں بالکل خراب کر دیا ہے۔( یہی رپورٹ الدعوۃ (ریاض) 20 اپریل 1989 میں بھی شائع ہوئی ہے)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
15 مارچ 1989
مولانا قاضی ثنا اللہ ( حنفی) 1143ھ میں پانی پت (ہندستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ دہلی آگئے اور شاہ ولی اللہ صاحب سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ وہ مرزا جانجاناں مظہر سے بیعت تھے۔ آخر عمر میں وہ اپنے وطن پانی پت میں مقیم ہوگئے۔ یہیں 1225 میں وفات پائی۔
قاضی ثناء اللہ صاحب نے اپنی ساری عمر دینی مطالعہ میں گزار دی۔ انھوں نے تفسیر اور فقہ وغیرہ موضوعات پر 30 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں ۔ انھوں نے قرآن کی مکمل تفسیر عربی زبان میں لکھی اور اس کا نام اپنے شیخ کے نام پرالتفسیرالمظہری رکھا۔ یہ کتاب 10 جلدوں میں ندوۃ المصنفین (دہلی) سے شائع ہوئی ہے ۔ اس کی پہلی جلد 1393 میں چھپی تھی اور دسویں جلد 1397 میں چھپی۔
other sourceWords of another person or source
اس تفسیر کا مکمل سیٹ میرے پاس موجود ہے میں اس سے برابر استفادہ کرتا رہتا ہوں۔ مجھے یہ تفسیر بہت پسند ہے۔ میرا بار بار کا تجربہ ہے کہ جو بات دوسری تفسیروں میں نہیں ملتی وہ اکثر ان کی تفسیر میں مل جاتی ہے۔
ندوۃ المصنفین نے اس کو ہاتھ کی کتابت سے چھپوایا ہے۔ اس بنا پر وہ طباعتی حسن سے خالی ہے۔ میری تمنا ہے کہ کوئی لائق آدمی محنت کر کے اس کو ایڈٹ کرے اور دوبارہ ٹائپ میں اس کو جدید معیار پر چھپوایا جائے۔
16 مارچ 1989
ایک صاحب سے بات کرت ہوئے میں نے کہا کہ اس دنیا کا نظام" باوجود" کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں برے اخلاق کا جواب اچھے اخلاق سے دینے کا نام اخلاق ہے۔یہاں اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونے کا نام صبر ہے۔
اس دنیا میں آدمی کو رکاوٹوں کے باوجود کامیابی کا راستہ نکالنا پڑتا ہے۔ یہاں اتحاد اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا رازجان گئے ہوں۔
17 مارچ 1989
مولانا عبد اللہ طارق (نظام الدین) ملاقات کے لئے آئے ۔انھوں نے ایک شعر سنایا جو مجھ کو بہت پسند آیا۔ وہ شعر یہ تھا :
تفاوت است میان شنیدن من وتو توخلق باب ومنم فتح باب می شنوم
یعنی میرے اور تمہارے درمیان جو فرق ہے وہ سننے کا فرق ہے۔ دروازہ کے پاس سے جو آواز آئی ہے، اس کوتم دروازہ بند کرنے کی آواز سمجھ رہے ہو ، اور میں اس کو دروازہ کھولنے کی آواز سمجھتا ہوں۔
زندگی کے معاملات میں اصل اہمیت اسی زاویہ نگاہ کی ہے۔ ایک شخص حالات کو منفی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کو نظر آتا ہے کہ حالات نے ہمارے لئے سفر کے تمام راستے بند کر دئے ہیں۔ دوسرا شخص حالات کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے ۔ اس کو نظر آتا ہے کہ حالات نے ہمارے لیے سفر کے نئے وسیع تر مواقع کھول دیئے ہیں ۔ ایک ہی آواز ہے۔ مگر ایک شخص اس کے دروازہ کھلنے کی آواز سمجھتا ہے۔ اور دوسرا شخص یہ سمجھتا ہے کہ دروازہ بند ہوگیا۔
18 مارچ 1989
میری زندگی کے تجربوں میں سے ایک اندوہناک تجربہ یہ ہے کہ آدمی اسی وقت تک اچھا رہتا ہے جب تک وہ اچھا رہنے کے لئے مجبور ہو ۔ جیسے ہی وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ اپنے اختیار سے اچھا بنے تو فورا وہ دوسرا آدمی بن جاتا ہے۔ مجبورانہ طور پر نیک بننے والے بے شمار ہیں، مگر اختیارانہ طور پر نیک بننے والاکوئی نہیں۔
19 مارچ 1989
مہتاب علی صاحب (پیدائش 1954) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ نیندرو (ضلع بجنور) کے رہنے والے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے تحت وہ پنجاب گئے تھے۔ وہاں کے بہت سے واقعات انھوں نے بتائے۔
مہتاب علی صاحب یکم مارچ 1989 کو پانی پت میں تھے ۔ وہاں وہ گڑمنڈی کی مسجد میں اپنی جماعت کے ساتھ ٹھہرے ۔ یہ مسجد آج ایک آباد اور پر رونق مسجد ہے۔ اس میں پانی، بجلی، پنکھا وغیرہ ہر چیز کا انتظام ہے۔ پنچ وقتہ نماز ہوتی ہے مگر دو سال پہلے وہ مکمل طور پر ایک ہندو کے قبضہ میں تھی جو اس کو اپنا رہائشی مکان بنائے ہوئے تھا۔
یہاں ایک ہندو لالہ ہیں جن کی گڑمنڈی میں تھوک کی بڑی دکان ہے۔ وہ گڑ، چینی، دال وغیرہ سپلائی کرتے ہیں۔ ان کے یہاں تقریبا دس مسلمان پلہ دار (قلی) کام کرتے ہیں۔ یہ مسلمان بعد کو یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ کیوں کہ 1947 میں یہاں کے تمام مسلمان یا تو پاکستان بھاگ گئے۔ یا قتل کر دے گئے تھے۔
مسلمان پلہ دار جو یوپی وغیرہ سے آ کر یہاں کام کرتے ہیں انھوں نے ہندو لالہ سے کہا کہ ہم کو نماز کی بہت پریشانی ہوتی ہے۔ آپ کے گدام میں ہم مشکل سے نماز پڑھتے ہیں یہاں ایک بنی بنائی مسجد موجود ہے جس پر ایک ہندو کا قبضہ ہے ۔ اگر آپ اس کو خالی کر دیں تو ہمارا کام بن جائے۔ ہند ولالہ نے اس ہندو کو بلایا جو 1947 سے اس مسجد میں رہ رہا تھا۔ لالہ جی نے کہا کہ مسلمان لوگ چاہتے ہیں کہ تم مسجد کو خالی کر دو تاکہ وہ لوگ وہاں نمازپڑھ سکیں۔
مذکورہ ہندو اس شرط پر خالی کرنے کے لئے راضی ہوا کہ اسے اتنی رقم دی جائے کہ وہ اپنے رہنے کے لئے دوسرا انتظام کر سکے۔ اس مقصد کے لئے پانچ ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا۔ لالہ جی کے کہنے سننے سے آخر کار وہ چار ہزار روپیہ پر راضی ہوگیا۔ ہندو لالہ نے اپنے پاس سے پار ہزار روپیہ دے کر مسجد کو خالی کرایا اور اس کو مسلمانوں کے حوالہ کر دیا۔ اب مسجد مکمل طور پرمسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ وہاں باقاعدہ پنج وقتہ نماز ہوتی ہے۔ ایک امام بھی ہیں وہ اپنے حجرے میں رہتے ہیں۔
مسجد کا تصور یہ ہے کہ وہ خدا کی عبادت کی جگہ ہے۔ اس بنا پر ہر آدمی نیک کام سمجھ کر اس میں مدد دینے کے لئے راضی ہو جاتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس کے لئے جھگڑا نہ کیا جائے بلکہ ٹھنڈے طریقے سے لوگوں سے مدد کرنے کے لئے کہا جائے ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جو لوگ مسجد کا مسئلہ لے کر اٹھے ہیں انھوں نے اپنی ماضی کی روش سے اپنی اچھی تصویربنائی ہو۔ اگر انھوں نے اپنی تصویر بگاڑ رکھی ہو تب بھی ان کی اپیل غیر موثر ہو جائے گی۔
20 مارچ 1989
ایک صاحب ملاقات کے لئےآئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک گورنمنٹ کالج میں استاد ہوں۔ پھر کہا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر 58 سال ہے۔ اس کے مطابق میری ملازمت کی مدت پوری ہو چکی ہے۔ تاہم کالج والوں نے ایک سال کی توسیع دے دی ہے۔ اب میں ایکسٹینشن پر چل رہا ہوں۔
میں نے کہا کہ ایک اعتبار سے میرا حال بھی یہی ہے ۔ میری عمراب 64 سال ہوچکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 63 سال میں ہوئی تھی۔ اس اعتبارسے میں سمجھتا ہوں کہ انسان کی اصلی طبعی عمر 63 سال ہے۔ اگر وہ مزید زندہ رہتا ہے تو وہ گویا خدا کی طرف سے اس کی توسیع ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب میری مدت عمر پوری ہو چکی ہے۔ اس کے بعد اگرمیں زندہ ہوں تو گویا کہ میں توسیع پرچل رہا ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کو چاہئے کہ وہ ہرعمر میں موت کو یاد رکھے۔ مگرجس آدمی کی عمر 63 سال سے اوپر ہو جائے اس کو تو صبح و شام موت کا منتظر رہنا چاہئے۔ کیوں کہ 63 سال کے بعد وہ توسیع پر ہو جاتا ہے۔ کچھ نہیں معلوم کہ کس لمحہ اس کی توسیع کی مدت ختم ہو جائے اور موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لئے آ پہنچے۔
21 مارچ 1989
ایک سوڈانی مسلمان طلال عثمان ہاشم ( عمر 40 سال) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ ام درمان (ٹیلیفون 4 4578) میں رہتے ہیں۔ اور تبلیغی جماعت کے تحت دہلی آئے ہیں۔ ان کے ساتھ تبلیغی جماعت کے کچھ اور لوگ بھی تھے۔
طلال عثمان ہاشم نے بتایا کہ تبلیغ کے کچھ لوگ اردن گئے۔ وہاں انھوں نے فلسطینی نوجوانوں میں تبلیغ کی بات کی۔ نوجوانوں نے کہا کہ تبلیغ کا حکم تو مکہ میں تھا۔ ہجرت کے بعد جب مدنی دور آیا تو قرآن میں جہاد کی آیتیں اتریں اور صبراورتبلیغ کی آیتیں منسوخ ہوگئیں۔ اس لئے اب تو ہمیں صرف جہاد کرنا ہے۔
other sourceWords of another person or source
تبلیغ کے صاحب نے کہا کہ جہاد سے پہلے دعوت اسی طرح ضروری ہے جس طرح نماز سے پہلے وضو ضروری ہے ( الجهاد بغير الدعوة مثل الصلاة بغير الوضو) فلسطینی نوجوانوں نے کہا کہ اگر آپ کی بات صحیح ہے تو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے یہاں جاکر تبلیغ کرتے تھے، ہم کو اور آپ کو یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس جانا چاہئے اور ان کے اوپر تبلیغ کرنا چاہیے (فعلينا ان نذهب وندعوا اليهود الى الاسلام)
quoted sourceQuoted from another author or source
تبلیغ کے صاحب نے جواب دیا کہ موجودہ حالت میں اگر آپ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس تبلیغ اسلام کے لئے جائیں تو وہ کہیں گے کہ تم ہم کوکس اسلام کی طرف بلاتے ہو۔ وہ اسلام جو کتابوں میں ہے یا وہ اسلام جو مسلمانوں کی زندگیوں میں ہے۔ کیوں کہ کتابی اسلام اور عملی اسلام میں بہت زیادہ فرق ہو چکا ہے۔ تبلیغ کے صاحب نے کہا کہ اس لئے ہمارا اور آپ کا فرض ہے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کریں اور جب یہ کام ہو جائے ، اس کے بعد غیرمسلموں میں تبلیغ کے لئے جائیں۔
other sourceWords of another person or source
تبلیغ والے عام طور پر غیر مسلموں میں تبلیغ نہ کرنے کا یہی جواب دیتے ہیں۔ مگر بہت سے وجوہ کی بنا پر یہ جواب بالکل غلط ہے۔ حقیقت ہے کہ ہم کو اصلاح مسلمین اور دعوت عام دونوں کام بیک وقت کرنا ہے ۔ ان میں سے کوئی کام بھی کسی حال میں ساقط ہونے والا نہیں ۔ تبلیغ والوں کے لئے زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ وہ یہ کہیں کہ ہم مسلمانوں میں اصلاح کا کام کرتے ہیں، دوسرے لوگ اٹھیں اور وہ غیرمسلموں میں تبلیغ کا کام کریں ۔ یہی ان کی طرف سے زیادہ صحیح اور محفوظ جواب ہے۔ آدمی اگر ایک کام نہ کر رہا ہو تو اس کو کم سے کم یہ کرنا چاہئے کہ وہ نہ کرنے کا اعتراف کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
22 مارچ 1989
رحمٰن نیر صاحب (50 سال) نے بتایا کہ وہ نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگ قبر پر سر رکھ کر اس کو سجدہ کر رہے ہیں۔ رحمٰن نیر صاحب نے کہا کہ یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ اسلام میں غیراللہ کوسجدہ کرنا حرام ہے۔ ایک صاحب نے جواب دیا : ہم سجدہ نہیں کرتے، ہم تو ہونٹوں سے اور آنکھوں سے چومتے ہیں ۔
other sourceWords of another person or source
میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ قبر کو سجدہ کرنے کی اتنی خوبصورت تاویل لوگوں کے پاس موجود ہوگی۔
23 مارچ 1989
ہربرٹ ہوور Herbert Hoover) ) نے سیاسی لیڈروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی تباہی کی قیمت پر اپنا سیاست کا کھیل کر رہے ہیں ۔
other sourceWords of another person or source
They are playing politics at the expense of human misery.
یہ تبصرہ سب سے زیادہ مسلم لیڈروں پر صادق آتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈر ایسی سیاست چلارہے ہیں جس میں ان کی قائدانہ شخصیت تو بن جاۓ مگر ملت تباہ و برباد ہوکر رہ جاۓ۔
24 مارچ 1989
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ : واما السائل فلا تنھر (اور سائل کو نہ جھڑکو) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جو اپنے ظاہر کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ اسے جھڑک دیا جائے جواپنی ذاتی قیمت کے اعتبار سے کچھ پانے کا مستحق نہ ہو، وہ بھی اگر سائل بن کر تمہارے سامنے آجائے تو اس کو نہ جھڑکو اور نہ اسے ڈانٹ کر بھگاؤ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جو خدا بندوں کو یہ حکم دے، وہ خودیقیناً اس معاملہ میں اعلیٰ ترین مرتبہ پر ہوگا۔ بندہ کو چاہئے کہ اگر وہ اپنے رب کے سامنے عمل پیش نہ کر سکے تو کم ازکم وہ اس کے سامنے سوال پیش کرے۔ اللہ کے سامنے جس طرح ایک عمل کی قیمت ہے ، اسی طرح اس کے یہاں ایک سوال کی بھی قیمت ہے۔ جس شخص کے پاس حقیقی عمل ہو اور نہ حقیقی سوال، وہی وہ شخص ہے جو آخرت کے دن بربادی سے دوچار ہوگا۔
25 مارچ 1989
موجودہ دنیا میں لذت کا حصول ممکن نہیں ۔ انسان ایک چیز کو ذریعہ لذت سمجھ لیتا ہے اور اس کی طرف دوڑتا ہے۔ مگر جب وہ چیز مل جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر حقیقی معنوں میں کوئی لذت نہ تھی ۔ اس دنیا میں ہر لذت فریب لذت ہے۔ اس حقیقت کو جوشخص تجربہ سے پہلے جان لے وہ عارف ہے ، اور جو شخص تجربہ کے بعد جانے وہ جاہل۔
26 مارچ 1989
رسول سے محبت اسلام میں مطلوب ہے۔ مگر محبت رسول کا رخ اطاعت رسول کی طرف ہونا چاہئے نہ کہ عشق رسول کی طرف۔ رسول اور پیروان رسول کے درمیان معشوق اور عاشق کا تعلق نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ کی طرف سے معیار ہے۔ ہماری ساری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اپنے آپ کو اس معیار کے مطابق بنائیں۔ محبت در اصل اتباع و اطاعت ہی کا اگلا درجہ ہے، وہ عشق و عاشقی کا کوئی معاملہ نہیں۔
دین میں اس انحراف نے بڑی احمقانہ قسم کی خرابیاں پیدا کی ہیں ۔ مگر پاکستان سے 1247 صفحات کی ایک کتاب " شہاب نامہ " چھپی ہے۔ اس کے مصنف قدرت اللہ شہاب صاحب ہیں ۔ 1987 سے 1988 کے درمیان صرف ایک سال میں اس کے چھ اڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس کا ایک حصہ مصنف کے سفرحج سے متعلق ہے۔ مصنف نے اپنے سفر مدینہ کے جو عاشقانہ تجربات لکھے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے :
" جی چاہتا تھا کہ گنبد خضرا پر نگاہ ڈالنے سے پہلے ان گناہ گار آنکھوں کوکسی قدرصاف کرلوں۔ اس مقصد کے لئے شاہراہ مدینہ کی خاک سے بہتراور کیا چیز ہوسکتی تھی؟ میں نے اضطراراً چلتی ہوئی سٹرک سے خاک کی ایک چٹکی اٹھائی اور اسے اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لیا۔
مسجد نبوی تک پہنچتے پہنچتے میری آنکھیں سرخ ہوکر سوج گئیں ۔ اور راستہ نظر آنا مشکل ہوگیا۔ قدم قدم پر راہگیروں سے ٹکر لگتی تھی۔ مجھے اندھا سمجھ کر ایک بھلے آدمی نے میری رہنمائی کی اور مجھے باب جبریل تک پہنچادیا۔
باب جبریل پر عاشقان رسول کا ہجوم تھا۔ اندر جانے والوں اور باہر آنے والوں کا غیرمنقطع تانتا بندھا ہوا تھا۔ ایک نورانی صورت بزرگ چٹائی پر بیٹھے لوگوں کے جوتے سنبھالنے میں مصروف تھے۔ میری آنکھوں میں اب تک دندھ سی چھائی ہوئی تھی۔ اور بھیڑ کے ریلے میں پھنس کر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ میں آگے بڑھ رہا ہوں یا نیچے جا رہا ہوں۔ ایک مقام پر میں لوگوں سے ٹکرا کر بری طرح لڑکھڑایا اور جوتوں کے ڈھیر پر اوندھے منہ گر پڑا۔ جوتوں کی رکھوالی کرنے والے صاحب نے سہارا دے کر مجھے اٹھایا اور اپنے پاس چٹائی پر بٹھا لیا۔ وہ ٹوٹی پھوٹی اردو بولتے تھے ۔ میری آنکھیں سوجی ہوئیں اور سانس پھولی ہوئی تھی۔ اپنی صراحی سے پانی کا گلاس پلا کر انھوں نے ازراہ ہمدردی دریافت کیا کہ میری آنکھوں کوکیسا مرض لاحق ہے۔ میں نے شاہراہ مدینہ کی خاک کی چٹکی والا واقعہ بے کم و کاست بیان کر دیا۔ اسے سن کر وہ بے اختیار روپڑے۔ (صفحہ616)
28 مارچ 1989
مارچ کے دوسرے ہفتہ میں کچھ لوگوں نے دہلی سے میرٹھ تک " پد یا ترا " کیا ۔ اس کے لیڈرسوامی اگنی ویش تھے۔ شبانہ اعظمی بھی اس میں شریک ہوئیں۔ میرے پاس بار بارسوامی اگنی ویش کا ٹیلیفون آیا کہ اس میں شرکت کریں۔ میں نے معذرت کر دی۔
ٹائمس آف انڈیا (28 مارچ 1989) میں مسٹرراہل شریمالی (اجین) کاخط چھپا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس معاملہ کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ اس قسم کے مارچ سے مارچ کرنے والوں کو زبردست پبلیسٹی حاصل ہوتی ہے، لیکن اس سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا
other sourceWords of another person or source
The bitter truth is that while these marches attract great publicity, they
do not help in providing a solution to any problem.
یہ بات مسلم لیڈروں کی سرگرمیوں پر مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتی ہے مسلم لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ بار بار ایسے اشو لے کر اٹھتے ہیں جن کے نام پرمسلمانوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہو۔ ان وقتی بھیروں سے لیڈر کی اپنی شخصیت تو بن جاتی ہے۔ مگر مسلمانوں کے مسائل میں سے ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوتا ۔
29 مارچ 1989
وہ ملک جس کو اب بنگلہ دیش کہا جاتا ہے۔ وہ 1971 سے پہلے پاکستان کا حصہ تھا اور"مشرقی پاکستان" کہا جاتا تھا۔ اس وقت شیخ مجیب الرحمن مقبول ترین بنگالی لیڈربن کر ابھرے۔ وہ اپنی پرجوش تقریروں میں بنگلہ کو سونارینگلہ (سونے کا بنگلہ ) کہا کرتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک سونے کا ملک ہے مگر پاکستانی حکمراں ہماری دولت پاکستان اٹھا لے جاتے ہیں۔ ہم کنگال ہو رہے ہیں جب کہ ہماری دولت سے کراچی میں سونے کی سٹرکیں بن رہی ہیں۔ ان تقریروں نے پورے مشرقی بنگال میں آگ لگا دی۔ یہاں تک کہ پاکستان سے خوں ریز جنگ لڑ کر وہ الگ ہو گیا اور بنگلہ دیش کی صورت میں ایک آزاد ملک قائم ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر آج بنگلہ دیش ہمیشہ سے زیادہ غریب ملک ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے تقریبا 5 لاکھ شہری اپنا ملک چھوڑ کر امریکہ جانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ فروری 1989 میں امریکی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 91- 1990 کے دوران 168 ملکوں سے نقل وطن کرنے والے 20 ہزار افراد کو امریکہ میں جگہ دی جائے گی ۔ اس کے بعد ڈھاکہ میں امریکی ویزا کے لئے درخواستوں کا ایک سیلاب امڈ پڑا ہے۔ پوسٹل ڈیپارٹمنٹ کے افسروں کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریبا 40 ہزار بنگالی واشنگش کے ایک ادارہ کے پتہ پر ویزا کی درخواستیں بھیج رہے ہیں ۔ ان میں عوام بھی ہیں اور خواص بھی ۔ سہلٹ کے 56 سالہ کسان رحیم علی نے کہا کہ اگر مجھے امریکہ جانے کا موقع مل گیا تو میں پیٹ بھر کھانا کھاسکوں گا۔ ایک ڈاکٹر جو سالانہ 140 ڈالر فی کس آمدنی رکھنے والے ملک میں ایک ہزار ڈالر ماہانہ کماتا ہے وہ بھی نقل وطن کا خواہش مند ہے۔ اس نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اورتعلیمی اداروں میں انتشار کی وجہ سے وہ بنگہ دیش چھوڑنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حالات میں اس کے دو بیٹوں کا سخت تعلیمی نقصان ہو رہا ہے۔ ایک انجنیر نے کہا کہ بنگلہ دیش کے مقابلہ میں امریکہ ایک جنت ہے (قومی آواز 29 مارچ 1989)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کتنا فرق ہے سیاسی بیان بازی میں اور حقیقی زندگی کی تعمیرمیں ۔ سیاسی تقریروں میں بنگلہ دیش سونار بنگلہ تھا، مگرحقیقت میں وہ صرف فقیر بنگلہ بن کر رہ گیا ہے۔
30 مارچ 1989
آرلینڈ اے باتستا Orlando A. Batista) ) کا قول ہے کہ کوئی غلطی صرف اس وقت غلطی ہے جب کہ تم اس کی اصلاح کرنے سے انکار کر دو :
other sourceWords of another person or source
An error doesn't become a mistake until you refuse to correct it.
غلطی ہر آدمی سے ہوتی ہے۔ اگر آدمی غلطی کو مانے اور اس کی اصلاح پرآمادہ ہو تو غلطی کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ مگرجوشخص غلطی کو نہ مانے اور اس کی اصلاح کرنے پر راضی نہ ہو، وہی وہ شخص ہے جس نے اپنی غلطی کو تباہی کے درجہ تک پہنچا دیا۔
31 مارچ 1989
کچھ تعلیم مسلمانوں سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے اسلام کے بارہ میں اچھی اچھی باتیں کیں، مگر ان کے اندر مجھے اسلام کا درد محسوس نہیں ہوا۔ میں نے سوچا کہ قبول اسلام کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ اسلام جو ذہنی پسندیدگی کی سطح پر ہو۔ دوسرا وہ اسلام جو روح کی گہرائیوں میں اترا ہوا ہو۔
موجودہ زمانہ میں لوگ یا تو اسلام سے دور ہیں یا ذہنی پسندیدگی کی سطح پر انھوں نے اسلام کو اختیار کر رکھا ہے۔ روح میں سرایت کیا ہوا اسلام کہیں نظر نہیں آتا۔ اس دوسرے اسلام کو قرآن میں "داخل القلب ایمان" کہا گیا ہے اور یہی وہ اسلام ہے جو اللہ تعالی کو مطلوب ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it