← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
February 1989
English · 31 min read
یکم فروری 1989
ہندستان کی آزادی (1947) کے بعد پنڈت جواہرلال نہرو کو ملک کا وزیر اعظم مقررکیا گیا تو انھوں نے" پانچ سالہ منصوبوں" کے تحت ملک کی ترقی کا پروگرام بنایا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ہماری اقتصادی پالیسی کا نشانہ یہ ہے کہ ہر ایک کوخوش حالی نصیب ہو۔
Our economic policy aims at plenty for all.
نہرو کے بعد ان کی صاحبزادی اندرا گاندھی وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھیں تو انھوں نے بھی " غریبی ہٹاؤ" کے نعرہ کے تحت اس منصوبہ کو مزید عزم کے ساتھ آگے بڑھانے کا اظہار کیا۔ جلد ہی آزادی کے 45 سال پورے ہو جائیں گے اور ملک کی اقتصادی ابتری ختم کی نہ جا سکی۔
قومی آواز 31 جنوری 1989 میں صفحہ 7 پر ایک خبر کی سرخی یہ ہے : ‘‘بیسویں صدی کے اختتام تک دنیا بھر کے 50 فیصد غریب ہندستان میں ہوں گے ۔’’ تریو ندرم کے ایک سرکاری ادارہ کے تحت پروفیسر جی مورے موہن لال نے طویل ریسرچ کے بعد ایک کتاب (غربت میں کمی، ہندستان کا تجربہ) شائع کی ہے۔ اس کتاب میں مثالوں اور اعداد و شمار کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ ملک میں اقتصادی عمل کی جو رفتار ہے، اس کے مطابق موجودہ صدی کے ختم ہونے تک دنیا بھر کے افلاس زدہ عوام میں سے 50 فیصد ہندستان میں ہوں گے ۔
other sourceWords of another person or source
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ چھٹے پانچ سالہ پلان میں 7250 کروڑ روپے کی رقم غریبی ختم کرنے کے پروگراموں پر خرچ کرنے کے لئے رکھی گئی تھی ۔ مگر اس رقم میں چھ روپے میں سے پانچ روپیہ راستہ ہی میں دوسرے لوگوں نے خورد برد کرلیا ، وہ غریبوں تک نہیں پہنچا ۔ یہی آزادی کے بعد سے اب تک ملک کی تمام اقتصادی سرگرمیوں کا حال رہا ہے۔ خوبصورت الفاظ بولنا انتہائی آسان ہے ، مگر خوبصورت الفاظ کو خوبصورت واقعہ بنانا انتہائی مشکل۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 فروری 1989
جیمز فری مین کلارک (James Freeman Clarke) نے کہا کہ ایک سیاست داں اگلے الکشن کے بارہ میں سوچتا ہے ، ایک مدبراگلی نسل کے بارہ میں سوچتا ہے:
other sourceWords of another person or source
A politician thinks of the next election, a statesman of the next generation.
یہ مقولہ سچے لیڈر اور جھوٹے لیڈر کا فرق بہت اچھی طرح واضح کر رہا ہے۔ جھوٹے لیڈر کے سامنے اپنی ذاتی لیڈری ہوتی ہے ،اس لئے وہ قوم کوفوری نعروں میں الجھا دیتا ہے۔ تاکہ فوری تائید سے ذاتی کامیابی حاصل کر سکے۔ مگرجوسچا لیڈرہے، اس کو قوم کے مستقل مفاد کا درد ہوتا ہے۔ اس لئے وہ ہمیشہ دور رس پروگرام کی بات سوچتا ہے، خواہ اس میں اسے ذاتی مقبولیت حاصل نہ ہوسکے۔
3 فروری 1989
لینکلات اینڈریوز Lancelot Andrews) ) کا قول ہے کہ چرچ جتنا زیادہ قریب ہو اتنا ہی زیادہ آدمی خدا سے دور ہوگا:
other sourceWords of another person or source
The nearer the church, the farther from God.
دوسرے مذاہب میں جو بگاڑ اور تحریف ہوئی ،اس کے نتیجہ میں ان کے عبادت خانوں کا حلیہ اتنا بگڑ گیا کہ وہ انسانی فطرت کے لئے خدا سے دوری کا سبب بن گئے۔ تاہم موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال بھی اس معاملہ میں بہت زیادہ مختلف نہیں۔ دوسرے مذاہب میں تحریف کے نتیجہ میں ان کا حلیہ بگڑا تھا ، موجودہ مسلمانوں نے اپنی اخلاقی گراوٹ کے نتیجے میں اپنے مذہبی اداروں اور اپنے عبادت خانوں کا حلیہ بگاڑ رکھاہے جتی کا مسلمانوں کے موجودہ مذہبی ادارے خدا کے بندوں کو دین سے بیزار کرنے کا سبب بن رہے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ ان کو دین سے قریب کرنے کا ذریعہ ثابت ہوں ۔
4 فروری 1989
دکتورعبداللہ عزام کی ایک کتاب ہے جس کا نام المنارة المفقودة ہے۔ یہ کتاب مصطفی کمال اتا ترک (1938 - 1880) کے خلاف ہے۔ اس میں ترک لیڈر کے بارہ میں انور پاشا کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے جو انھوں نے انجمن اتحاد و ترقی کے لوگوں سے کہا تھا : ( عربی عبارت ۔ ص۔ 26) (تم کوجان لینا چاہئے کہ مصطفی کمال اگر پاشا کے مرتبہ تک پہنچ جائیں تو وہ سلطان بننا چاہیں گے اور اگر وہ سلطان ہو جائیں تو وہ چاہیں گے کہ وہ خدا بن جائیں)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مصطفے کمال کی نفسیات کے بارہ میں ان کے ساتھی کے اس تبصرہ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں تاہم میں اس میں اضافہ کرنا چاہوں گا کہ کم ازکم موجودہ زمانہ میں تمام مسلم لیڈروں کی نفسیات یہی ہے مسلمانوں کے رہنما خواہ وہ بے ریش ہوں یا باریش،سب کے اندر یہی نفسیات پائی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں صرف مصطفیٰ کمال کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔ مصطفی کمال اوردوسروں میں صرف یہ فرق ہے کہ کسی کی اس نفسیات کا اظہار ایک دائرہ میں ہورہا ہے اور کسی کا دوسرے دائرہ میں۔
5 فروری 1989
قومی آواز (نئی دہلی) سرکاری نقطۂ نظر کا ترجمان سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے شمارہ( 31 جنوری 1989) کے صفحہ اول پر یہ سرخی تھی : ہند بڑے پیمانہ پر اسلحہ برآمد کرے گا۔’’ اس سرخی کے تحت ہندستانی وزیر دفاع مسٹر کے سی پنت کا یہ‘‘ اعلان’’ نقل کیا گیا تھا کہ ماضی میں ہندستان چند پڑوسی ملکوں کو کچھ چھوٹے ہتھیار برآمد کرتا رہا ہے۔ اب ملک کی اسلحہ ساز فیکٹریاں اس صلاحیت کی حامل ہو چکی ہیں کہ وہ زیادہ بڑے پیمانہ پر بڑے ہتھیار باہر کے ملکوں کے ہاتھ فروخت کرسکیں۔ اس مقصد کے لئے ہتھیار کی عالمی منڈیوں میں ہم زبردست کوشش کر رہے ہیں۔
ہتھیاروں کی اس تجارت کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ ہندستان اس کے ذریعہ سے بڑی مقدار میں زرمبادلہ حاصل کرسکتا ہے۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
اس خبر کے صرف چند دن بعد قومی آواز (4 فروری 1989) میں صفحہ اول پر یہ سرخی درج ہے: ‘‘جنگوں اور ہتھیاروں سے پاک نئے عالمی نظام کا قیام’’ اس سرخی کے تحت بتایا گیا ہے کہ ہندستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اور فرانس کے صدر مسٹرمتراں (Francois Mitterrand)نے بمبئی میں تین فروری کو ایک اجتماع میں مشترکہ طور پر اس بات کا عہد کیا کہ وہ ثقافت اور جدید ٹکنالوجی کے امتزاج سے ایک ایسے نئے عالمی نظام کی کوشش کریں گے جو جنگوں اور ہتھیاروں سے پاک ہو اور جس میں انسانیت ایک خاندان کی طرح رہ سکے ۔’’
دونوں باتوں میں واضح تضاد موجود ہے۔ یہی موجودہ زمانہ کے تمام لیڈروں خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ساراعمل مفاد کے تحت ہے نہ کہ اصول کے تحت ایک جگہ اگر مفاد ہتھیار بیچنے میں ہے تو وہاں ہتھیار بیچ رہے ہیں۔ دوسری جگہ ہتھیاروں کے خلاف تقریر کرنا مفید ہے تو وہاں ہتھیاروں سے پاک نظام پر تقریر کر رہے ہیں ۔بد قسمتی سے یہی دوعملی مذہبی طبقہ میں بھی عام ہوگئی ہے۔
6 فروری 1989
الرسالہ (اردو ، انگریزی) کے شمارہ فروری 1989 میں اعلان کیا گیا تھا کہ مالی مشکلات کی وجہ سے انگریزی الرسالہ کو اپریل 1989 سے بند کیا جارہا ہے۔ اس پر خلاف توقع لوگوں کی طرف سے بہت ہمت افزا پیغامات ملے ۔ سب سے پہلے بمبئی کی ایک خاتون (مسز روشن نائک) نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے پانچ ہزار روپیہ روانہ کیا، وغیرہ۔
ہندو بھائیوں کے بھی متعدد پیغامات ملے ۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا ٹیلی فون مسٹرارن شرما کی طرف سے موصول ہوا۔ وہ انگریزی کے اعلی درجہ کے جرنلسٹ ہیں۔ انھوں نے اپنی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ آج وہ خود ہمارے دفتر میں آئے اور دیر تک باتیں کرتے رہے۔ انھوں نے یہ پیشکش کی کہ میں بلا معاوضہ پورے سال کے ترجمہ کا کا کام کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس سے کام نہ چلے توہم مزید مالی تعاون کے حصول کی بھی کوشش کریں گے۔
یہ واقعات بہت حوصلہ افزا ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کو انگریزی الرسالہ کا بند ہو نامنظور نہیں۔ اس لئے اللہ تعالی کی طرف سے لوگوں کے دلوں میں ڈالا جارہا ہے کہ وہ تعاون کر کے اس کے جاری رکھنے کا انتظام کریں۔
7 فروری 1989
شفیع الدین صاحب (ایم اے) ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے الرسالہ مشن کے سلسلے میں بعض شبہات کا اظہار کیا۔ اس کا انہیں جواب دیا گیا۔ وہ مطمئن ہوگئے۔ آخر میں میں نے انھیں ‘‘میوات کا سفر’’ بطور ہدیہ پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ اس پر کچھ نصیحت کے الفاظ لکھ دیجئے میں نے حسب ذیل الفاظ لکھ دئے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
‘‘ دلیل کے آگے جھکنا خدا کے آگے جھکنا ہے۔ وہی شخص خدا کو پاتا ہے جو دلیل کے آگے جھکنے پر راضی ہو خواہ وہ اس کی خواہش کے خلاف ہو ، خواہ اس کو ماننے میں اس کی انا پر بلڈوزر چل جاۓ ۔’’
پھر میں نے کہا کہ مجھ میں اور دوسرے لوگوں میں یہ فرق ہے کہ وہ لوگ دوسروں کے اوپر بلڈوزرچلانے کا نعرہ لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (Bulldoze them all) ۔ اس کے برعکس میرا پیام یہ ہے کہ آدمی خود اپنے آپ پر بلڈوزر چلائے ۔ دوسروں کا نعرہ ‘‘احتساب کا ئنات ’’ہے اور میرا پیغام ‘‘احتساب خویش۔’’
8 فروری 1989
30 مارچ 1987 کو ہندستان کے مسلم لیڈروں نے بابری مسجد اجودھیا کے نام پر ریلی نکالی ۔ مسلمان بڑی تعداد میں آکر نئی دہلی میں جمع ہو گئے۔ اس وقت مسلمانوں نے ریلی کی تعداد کو نہایت پر فخر انداز میں پیش کیا تھا: ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر، ہندستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع ’’۔
اس کے بعد ہندو پریس نے مسلسل ماحول بنانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ فروری 1989 کا کمبھ میلا (الہ آباد) آ گیا۔ ہندوؤں کا قومی جوش اس موقع پر ظاہر ہوا ۔ اور ملک بھر سے ہندوؤں کی اتنی بڑی تعداد الٰہ آباد (پریاگ) میں گنگا اشنان کے لئے جمع ہوئی کہ مسلمانوں کا ہر اجتماع اس کے مقابلہ میں چھوٹا ہوکر رہ گیا۔
قومی آواز ( 7 فروری 1989) نے اس میلے کی سرخی ان الفاظ میں لگائی ہے : کمبھ میلہ میں ڈیڑھ کرور عقیدت مندوں کا اشنان ،سوم وتی اماوس کے مقدس موقع پر بے نظیر اجتماع ’’ ٹائمس آف انڈیا (7 فروری 1989) کی سرخی کے الفاظ یہ تھے:
other sourceWords of another person or source
Biggest human gathering on earth.
اصل یہ ہے کہ مقداری نوعیت کی چیزوں میں تقابل کرنا ہی سرے سے غلط ہے۔ تقابل در حقیقت معنوی چیزوں میں ہونا چاہئے نہ کہ مقداری چیزوں میں
9 فروری 1989
کچھ لوگ ملاقات کے لئے آئے۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا ۔ جوچپ رہنا جانے، وہی بولنا جانتا ہے۔ جو پیچھے ہٹنا جانے، وہی آگے بڑھنا جانتا ہے۔
پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی شاعری اور لفاظی نہیں۔ یہ زندگی کی سنگین حقیقت ہے ۔ اس کا راز یہ ہے کہ بولنا اورعمل کرنا دونوں شعوری افعال ہیں۔ اگر آپ محض جذبات کے تحت بولیں تو آپ بولنے کے وقت بھی بولیں گے اور چپ رہنے کے وقت بھی بولیں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ شعور کے تحت کام کریں اور سوچی سمجھی زندگی گزاریں تو آپ جانیں گے کہ کب بولنا ہے اور کب نہیں بولنا ہے۔ کب اقدام کرنا ہے اور کب اقدام نہیں کرنا ہے ۔
10 فروری 1989
سید عبدالحفیظ صاحب (33 سال) محبوب نگر (آندھرا پردیش) کے رہنے والے ہیں۔ وہ سول انجینیر ہیں اور 6 سال سے سعودی عرب میں ملازم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرے ادارہ میں میرے جیسی ڈگری کا ایک امریکن چار گنا تنخواہ پاتا ہے۔ میری تنخواہ چارہزار ریال ماہانہ ہے تو اس کی تنخواہ 16 ہزار ریال ماہانہ ۔ اور ہمارے ادارہ میں جو امریکن منیجر ہے ، اس کی تنخواہ 42 ہزار ریال ماہانہ ۔ مزید یہ کہ امریکیوں کو مختلف قسم کی مزید سہولتیں ملتی ہیں جو ہندستانیوں اور پاکستانیوں کو نہیں ملتیں۔
میں نے کہا کہ مجھے سعودی عرب کے اس امتیاز کے بارہ میں کچھ نہیں کہنا ہے، کیوں کہ وہ ان کے اپنے انتظام کی بات ہے۔ البتہ میں کہوں گا کہ ہندستان کے لوگ عرب ملکوں میں جاکر وہاں اس قسم کے امتیاز کو برداشت کر کے رہتے ہیں۔ اور ہندستان میں وہ اس سے کم تر درجہ کی چیزوں کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہندستانی مسلمان جس طرح عرب ملکوں میں جاکر وہاں کے نظام سے موافقت کر رہے ہیں ، اسی طرح اگر وہ ہندستان کے نظام سے موافقت کر کے رہیں تو یہاں بھی ان کے لئے ترقی کے وہی مواقع ہیں جو عرب ملکوں میں ان کے لئے پائے جاتے ہیں ۔
11 فروری 1989
سلطان احمد صاحب ( پیدائش 1954) مظفر پور بہار کے رہنے والے ہیں ۔ وہ وہاں تجارت کرتے ہیں۔ وہ ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ چھ ماہ پہلے مظفر پور کے اسٹوڈینٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) کے نوجوانوں کو جوش آیا۔ انھوں نے شہر کی بعض دیواروں پر یہ نعرہ لکھ دیا : ” مورتی پوجا پاپ ہے "۔ ہندوؤں پر بھی اس کا ردعمل ہوا۔ انھوں نے سارے شہر کی دیواروں پر کئی گنا زیادہ تعداد میں یہ الفاظ لکھ دئے"قبرکی پوجا مہا پاپ ہے"۔
یہی نہیں ۔ ہندوؤں نے اور بھی بہت سے اشتعال انگیز جملوں سے شہر کی دیواریں کالی کر دیں۔ مثلا بھارت میں رہنا ہوگا تو بندے ماترم کہنا ہوگا۔
میں نے اس واقعہ کو سنا تو مجھے بے حد دکھ ہوا میں نے کہا کہ دعوت کا کلمہ دلوں پرلکھا جاتا ہے نہ کہ دیواروں پر ۔ دوسروں کے دلوں پر کلمہ حق لکھنے کے لئے پہلے خود اپنے دل پر کلمہ حق لکھنا پڑتا ہے۔ جو لوگ اپنے دلوں پر کلمہ حق نہ لکھ سکیں وہی اس کو دیواروں پر لکھتے ہیں۔ اور جو لوگ دیواروں پر کلمہ حق لکھیں وہ صرف فساد برپا کرنے والے ہیں۔ ان کو دعوت دینے والا نہیں کہا جاسکتا۔
12 فروری 1989
حدیث میں آیا ہے کہ دو باتیں ایسی ہیں جن کے بارہ میں تمام اگلے اور پچھلے لوگوں سے پوچھا جائے گا۔ ایک یہ کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا (کلمتان يسأل عنها الاولون والآخرونــــــــ ماذا كنتم تعبدون، وماذا اجبتم المرسلين)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد پیدا ہونے والے لوگوں کا امتحان ماذا اجبتم المرسلین کے بارہ میں کیا ہے۔ آپ کے بعد کوئی رسول آنے والا نہیں۔ پھر کیا بعد کے لوگوں سے امتحان ساقط کر دیا گیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ امتحان جاری ہے۔ پہلے یہ امتحان رسول کی سطح پر لیا جاتا تھا، اب یہ امتحان " نائب رسول " کی سطح پرلیا جائے گا۔ مگرنائب رسول سے مراد رسمی قسم کے علماء نہیں ہیں۔اس سے مراد وہ افراد ہیں جوحقیقی معنوں میں رسول کی دعوت لے کر اٹھیں۔ جو واقعی طور پر اپنے زمانہ میں رسول کی نمائندگی کریں۔
13 فروری 1989
حسن الہضیبی مرحوم الاخوان المسلمون کے لیڈر تھے۔ ان کے لڑکے مامون الہضیبی ( پیدائش 1921) آجکل اخوان کے مستشار ہیں۔ مامون الہضیبی کا ایک انٹرویو قاہرہ کے ماہنامہ المختار الاسلامی (جمادی الثانیه 1409 ھ ، جنوری 1989) میں شائع ہوا ہے۔
انٹرویور نے موصوف سے ایک سوال یہ کیا کہ حسن البنا حسن الہضیبی اور عمر التلمسانی ، ان تینوں میں سے کس کو آپ اپنے لئے مثالی نمونہ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ امام حسن البنا ایک بے نظیرقائد تھے جن کے ذریعہ اللہ امت کو اور دین کو ہر دور میں زندہ کرتا ہے۔ اور وہ حقیقی معنوں میں امت کے معمار ہیں:
( الامام الشهيد حسن البنا هو الامام الفذ الذي يحيى به الله الامة والدين كل قرن من الزمان وهو البنا حقا ،صفحہ 14)
حسن البنا نے 1948 میں فلسطین میں جہاد کیا۔ مگر یہودی اس کے بعد فلسطین میں اور بھی زیادہ مستحکم ہو گئے ۔1942 میں انھوں نے مصر کے الیکشن میں حصہ لیا مگر وہ ناکام رہے ۔ جولائی 1942 میں حسن البنا کی جماعت الاخوان المسلمون فوجی افسروں کا ساتھ دے کر شاہ فاروق کی حکومت ختم کرنے میں شریک تھی۔ مگر اس کے بعد عملاًمصر میں فوجی افسروں کا اقتدار قائم ہوگیا جو تا حال باقی ہے۔ اخوانی حضرات کا موجودہ انجام یہ ہے کہ مصر میں انھوں نے جس ملوکیت کو برداشت نہیں کیا، اسی قسم کی ملوکیت کے زیر سایہ آج وہ سعودی عرب میں پر امن زندگی گزار رہے ہیں۔
ان سب کے باوجود ان کے معتقدین کی نظر میں حسن البنا معمارملت ہیں ۔ انھوں نے ملت اسلامیہ کونئی زندگی عطا کی ہے ۔ خوش عقیدگی بھی کیسی عجیب چیز ہے ، وہ ایسی دنیا میں اپنا خیالی قلعہ کھڑا سکتی ہے جہاں واقعہ کے اعتبار سے ایک اینٹ بھی موجود نہ ہو۔
14 فروری 1989
ابوذر قاسمی جونپوری نے دارالعلوم دیوبند میں دورہ حدیث تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بس وہ جامعہ اسلامیہ (مدینہ) میں داخل ہوئے اور وہاں کا کورس مکمل کیا۔ وہاں انھوں نے عربی ادب کے امتحان میں پوری جامعہ میں ٹاپ کیا۔ اس کے بعد انھیں 2 لاکھ ریال بطور انعام دیے گئے۔ آجکل وہ جامعہ دارالسلام عمرآباد میں مبعوث کے طور پر ہیں اور وہاں عربی ادب پڑھا رہے ہیں ۔ (ریاض الجنۃ ، جونپور ، جنوری 1989 ، صفحہ 10)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عربی زبان کے ساتھ اس طرح کامعاملہ، اللہ کی طرف سے ایک مزید اہتمام ہے تاکہ یہ زبان زندہ رہے، کیوں کہ قرآن کے محفوظ رہنے کے لئے اس کی زبان کا محفوظ رہنا بھی ضروری ہے شاید اس مصلحت کی خاطر االلہ نے عربی کے ساتھ مادی فائدہ شامل کر دیا ہے۔
15 فروری 1989
مولانا محمود علی (عمر 38 سال) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ بلال پور (ضلع میدک) کے رہنے والے ہیں ۔ اور کو ہیر میں پھل کی دکان کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 1987 کے رمضان میں بلال پور کے ہندوؤں کو وشو ہندو پریشد نے اکسایا۔ بلال پور کی آبادی تقریبا 2000 ہے۔ اس میں 1500 ہندو ہیں اور 500 مسلمان۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پہلے انھوں نے مسلمانوں کے قبرستان میں زبردستی مندر بنانے کی کوشش کی۔ اس میں وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے عید سے پہلے مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ کیا۔ وہ بھی ناکام رہا۔ آخر انھوں نے مسلمانوں کی ایک زمین کو مندر کی زمین بتا کر اس پر قبضہ کرنا چا ہا وہاں ایک کنواں تھا۔ انھوں نے اس کو پتھروں سے بھرنا شروع کیا اور کہا کہ یہاں ہم مندر بنائیں گے۔
ان کارروائیوں کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان مشتعل ہوکر کوئی جارحانہ کارروائی کریں اور پھر وشو ہندو پریشد کو فساد کرنے کا بہانہ مل جائے۔ مولانا محمود علی قاسمی نے بتایا کہ پہلے میں بہت جذباتی تھا۔ مگراب الرسالہ پڑھنے سے میرا مزاج بدل گیا ہے۔ چنانچہ میں نے مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کیا اور اور پوسٹ آفس جاکر کوہیر کے پولیس اسٹیشن کوٹیلی گرام بھیج دیا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس وقت کوہیر میں زیادہ سپاہی نہیں تھے ۔ انھوں نے اپنے ہیڈ کوارٹر سے ربط قائم کیا۔ اور مزید پولیس گاڑی منگوا کر ایک گھنٹے میں بلال پور پہنچ گئے۔
اس وقت ہندو لوگ ابھی مسلمان کی زمین میں موجود تھے اور کنویں کو آخری طور پر بھر رہے تھے۔ پولیس نے ان کو (Red handed ) پکڑ لیا۔ ان کے چودہ آدمیوں پر مداخلت بیجا اور ایذا رسانی وغیرہ کے مقدمات قائم کر دئے ۔ حتی کہ ان کی ضمانت بھی نہ ہوسکی۔ آخر میں مولانا محمود علی قاسمی نے عدالت میں جاکر ان لوگوں کی معافی کا بیان دے دیا ، ورنہ ان کی سزا یقینی تھی۔ اس واقعہ کے بعد بلال پور کی فضا بالکل بدل گئی۔
16 فروری 1989
ایک صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ وہ (مسقط)عرب میں رہتے ہیں، انہوں نے ہندستان میں مسلمانوں کی مظلومیت کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ یہ مظلومیت کا معاملہ نہیں ، یہ نادانی کا معاملہ ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مسقط میں ایسا کر سکتے ہیں کہ سلطان مسقط کے خلاف تقریر کریں۔انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ اسی کا نام ایڈجسٹمنٹ ہے آپ مسقط میں کامیاب ہیں۔ کیوں کہ آپ وہاں کے ملکی حالات سے مطابقت کرکے رہ رہے ہیں۔ ہندستان کے مسلمان یہاں کے حالات سے مطابقت کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ اس لئے وہ ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔
میں نے کہا کہ ہندوستان کے ہندو جلوس نکالتے ہیں۔ اس قسم کے جلوسوں کا رواج عرب میں یا مغربی ملکوں میں نہیں ہے۔ ہندووں کا جلوس جب مسجد کے سامنے سے گزرتا ہے تو مسلمان مشتعل ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنا جلوس دوسرے روٹ سے لے جاؤ ۔ یہ حالات سے مطابقت نہ کرنا ہے۔ جس طرح آپ مسقط میں وہاں کے بادشاہ کے خلاف نہیں بولتے۔ اسی طرح ہندستان میں ہندو جلوس کے خلاف نہ بولئے ۔ اس کے بعد یہاں آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
17 فروری 1989
جم کاربٹ (Jim Corbet) مشہور انگریز شکاری ہے ۔ وہ صرف شکاری نہیں تھا۔ بلکہ شیر کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس کا غیرمعمولی ماہربن چکا تھا۔ وہ جنگل میں کسی مقام پر ہو اور شیر کی آواز سنائی دے تو وہ درمیانی فاصلہ کا نہایت صحیح اندازہ کرلیتا تھا۔ اور اس کے بعد اس کی دوسری آواز سن کر جان لیتا تھا کہ شیر کس رفتار سے کس رخ پر جا رہا ہے۔ کمایوں (Kumson) پہاڑیوں میں ایک شیرنی مردم خور ہوگئی۔ اس نے مجموعی طور پر 233 آدمیوں کی جان لی۔ اس تعداد میں بہت سے شکاری بھی ہیں۔ آخر کار جم کاربٹ نے اس کو ہلاک کیا۔ اسی کے نام پر کمایوں میں "کاربٹ پارک" بنایا گیا ہے۔
جم کاربٹ نے شیر کے گہرے مطالعہ کے ایک کتاب لکھی ۔ اس کتاب میں وہ شیرکی عظمت کا اعتراف ان لفظوں میں کرتا ہے ۔ فراخ دل شریف آدمی ، بے حساب دلیری والا :
other sourceWords of another person or source
Large hearted gentleman with boundless courage
جم کاربٹ نے جو کچھ شیر کے بارہ میں کہا ہے ، وہی ایک بہادر انسان کے بارہ میں بھی صحیح ہے۔ بہادر انسان کی عین وہی صفت ہوتی ہے جو بہادر شیر کے اندر پیدائشی طور پر پائی جاتی ہے۔
18 فروری 1989
نئی دہلی کے انگریزی اخبار" ٹائمس آف انڈیا نے اپنے شمارہ 18 افروری 1989 " میں "شیطانی آیات" کے مصنف سلمان رشدی کے معاملہ پر اڈیٹوریل لکھا ہے جس کا عنوان ہے :
other sourceWords of another person or source
Satanic fall-out
اس ایڈیٹوریل میں ایران کے آیات اللہ خمینی کے اس "فتوی" پرتنقید کی گئی ہے کہ سلمان رشدی کو مسلمان قتل کر دیں ۔ اخبار کے اڈیٹر دلیپ پیڈ گاؤنکر نے لکھا ہے کہ ایک فارن نیشنل جو فارن لینڈ میں رہتا ہو ، اس کے خلاف اس قسم کی کارروائی دہشت گردی (Terrorism)کے ہم معنی ہے۔
other sourceWords of another person or source
اسی کے ساتھ اڈیٹر نے ایک بہت قیمتی بات لکھی ہے ۔ اس نے لکھا ہے کہ ___ اسلام کو آیات اللہ کی جامد ، غیر روادار اور جارحانہ تعبیر دین کے ہم معنی قرارنہیں دیا جا سکتا:
Islam cannot be equated with the Ayatollah's rigid, intolerant
opposing viewA view stated in order to be argued against
aggressive interpretation of it.
اس کا مطلب یہ ہے کہ خمینیت الگ چیز ہے اور اسلام الگ چیز۔ بلاشبہ حقیقت واقعہ یہی ہے۔ مگر ٹائمس آف انڈیا کے اڈیٹر کی زبان سے اس حقیقت کا اعتراف بتاتا ہے کہ اس ملک میں اگر کچھ متعصب لوگ بستے ہیں تو اس کے ساتھ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو تعصب اور فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر سوچتے ہیں۔
یہ روشن پہلو ہمارے لئے امید اوراعتماد کا خزانہ ہے۔
19 فروری 1989
رفیع احمدت قدوائی (1954- 1894) کانگریس کے لیڈروں میں سے تھے۔ آزادی (1947) کے بعد وہ اتر پردیش کی کیبنٹ میں وزیر بنائےگئے۔ بعد کو وہ دہلی لائے گئے اور آخر وقت تک مرکزی کیبنٹ میں وزیر رہے۔ مصطفیٰ کامل قدوائی موصوف کے قریبی عزیزوں میں سے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک مضمون (قومی آواز 19 فروری 1989) میں لکھا ہے کہ:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
" جب ہندستان آزاد ہورہا تھا اور رفیع صاحب گھر آئے تو ہم بھائیوں نے ان سے پوچھا کہ اب تو لڑائی ختم ہوگئی۔ اب آپ کیا کریں گے ۔ انھوں نے جواب میں کہا ۔ لڑائی ختم نہیں ہوئی ۔ ہم اب آپس میں لڑیں گے نیا ہندستان بنانے کے لئے " ۔
other sourceWords of another person or source
"آزاد ہندستان" کے بارہ میں رفیع احمد قدوائی کی یہ بات نہایت صحیح ثابت ہوئی۔ تاہم یہ صرف ہندستان کا معاملہ نہیں ۔ یہی ہر ملک اور ہر ادارہ کا معاملہ ہے۔ لوگ ایک نظام کو غلط بتا کر اس کے خلاف اٹھتے ہیں اور جب یہ نظام ٹوٹ جاتا ہے تو نیا نظام بنانے کے لئے دوبارہ آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑائی ختم ہوتی ہے بے نفسی سے ،اور بے نفسی کا کہیں وجود نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
20 فروری 1989
امریکہ کے 41 ویں پریسیڈنٹ جارج بش (George H.W. Bush) پر ٹائم میگزین (30 جنوری 1989) نے ایک مفصل رپورٹ شائع کی تھی ۔ ٹائم کے شماره 20 فروری 1989 میں اس کے بارہ میں خطوط شائع ہوئے ہیں۔ تمام خطوط چھوٹے چھوٹے ہیں۔ ایک خط صرف ایک لائن کا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں :
Kind words, gentle words, but still only words.
اس کے مقابلہ میں اردو اخبارات میں چھپنے والے خطوط کو دیکھے۔ وہ عام طور پر اتنے لمبے ہوتے ہیں کہ میرے جیسا آدمی بمشکل ان کو پڑھ سکتا ہے۔ ٹائم کے ایک سطر کے خط میں پوری بات ہے ، جب کہ اردو اخبار کے لمبے لمبے خط میں بھی تلاش کرنے کے بعد کوئی بات نہیں ملتی۔
یہی اردو زبان کی اصل کمی ہے۔ انگریزی زبان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کو اعلی علمی حلقوں کی ریڈرشپ حاصل ہے۔ اس کے برعکس اردو زبان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اب وہ صرف کم تر قسم کے لوگوں کی زبان بن کر رہ گئی ہے۔ اردو زبان کو ترقی دینے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ اس میں اعلیٰ ادب تخلیق کیا جائے تاکہ اعلی ذہنی طبقہ کے لوگ اس کو پڑھنے کی طرف متوجہ ہو سکیں۔ اس کے سوا اردو زبان کو ترقی دینے کی اور کوئی صورت نہیں۔
21 فروری 1989
17 فروری 1989 کو ٹائمس آف انڈیا اور دوسرے اخبارات میں صف اول پریہ خبر تھی کہ ایران کے امام خمینی نے اعلان کیا ہے کہ " سٹینک ورسیز" کے مصنف سلمان رشدی کو قتل کر دیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایرانی سلمان رشدی کوقتل کرے گا تو اس کو 26 لاکھ ڈالر ($ 2.6 million) انعام دیا جائے گا۔ اور اگر غیرایرانی قتل کرے گا تو اس کو 10 لاکھ ڈالر (million 1 ) دئے جائیں گے۔
سلمان رشدی انگلینڈ کے شہری ہیں ۔ خمینی کے اس اعلان کے بعد ہر طرف کھلبلی رہ گئی۔ آخر کار 19 فروری کو یہ خبرآئی کہ سلمان رشدی نے اپنی مذکورہ نزاعی کتاب پر معافی مانگ لی، اگرچہ ایرانی حکومت نے اس کے بعد بھی اس کی جان بخشی نہیں کی۔
اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے مسٹرارن شرما (دہلی) کے انگلش جرنلسٹ نے کہا کہ خمینی نے اس بات کو یقینی بنا دیا کہ اب صدیوں تک یہ کتاب چھپتی رہے:
other sourceWords of another person or source
Khomeini has ensured reprint of Satanic Verses for centuries to come.
‘‘ٹائمس آف انڈیا (21 فروری 1989) میں صفحہ آخر پر ایک رپورٹ درج ہے جس میں سلمان رشدی کی کتاب پر مختلف لوگوں کے تبصرے نقل کئے گئے ہیں ۔ خوشونت سنگھ نے کہا کہ ناول کی حیثیت سے بھی شیطانی آیات کوئی پڑھنے کے قابل کتاب نہیں :
Even as a novel The Satanic Verses' is not readable.
مسلمان اگر اس کے خلاف شور وغل کرتے تو یہ کتاب اپنے آپ ختم ہوجاتی ۔ مگرانھوں نے شور وغل کرکے غیرضروری طور پر اس کتاب کو زندگی دے دی۔
22 فروری 1989
ٹائم میگزین (6 فروری 1989) کی کور سٹوری کا عنوان تھا۔ـــــ ہتھیار بند امریکہ (Armed American) اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں ہتھیاروں کی کھلی اجازت ہونے کی وجہ سے گھرگھر ہتھیار ہوگئے ہیں۔ حتی کہ امریکہ کی سڑکیں گولی چلانے کے لئے کھلے اور آزاد علاقے (Free-fire zones) بن گئے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ٹائمس آف انڈیا (21 فروری 1989) میں واشنگٹن کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی راجدھانی واشنگٹن میں قتل کی واردات اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ اب واشنگٹن کو موت کی راجدھانی( Death capital ) کہا جانے لگا ہے۔ 1988 میں واشنگٹن میں 372 قتل کے واقعات ہوئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر قتل نشہ سے تعلق رکھنے والے (Drug-related) ہوتے ہیں۔ امریکہ کی ترقی نے اسے آزادی تک پہنچایا۔ آزادی نے منشیات تک اورمنشیات نے قتل تک۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
23 فروری 1989
آجکل ساری دنیا میں مسلمان سلمان رشدی کی کتاب (سٹینک ورسز) کے خلاف ہنگامہ کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ آیات اللہ خمینی اور ایرانی حکومت کی طرف سے انعام کے اعلان کے بعد اس میں مزید شدت آگئی ہے۔
اس نے اخباروں کو ایک نیا پرشور عنوان دے دیا ہے۔ کیوں کہ اس طرح کی چیزیں عوام میں خوب پڑھی جاتی ہیں۔ جائزہ سے معلوم ہوا ہے کہ اخباروں میں جو ایڈیٹوریل ہوتے ہیں، ان کو صرف 3 فیصد لوگ پڑھتے ہیں۔ جب کہ بڑے بڑے جرائم کی خبریں صد فی صد پڑھی جاتی ھیں۔
Readability factor کے لحاظ سے کرائم (جرم) کو اخباری صفحات میں ٹاپ کی جگہ حاصل ہے۔ اخباروں کا یہی مزاج ہے جس نے سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کے ہنگاموں اور توڑ پھوڑ اور قتل کے منصوبوں کو اخبارات کے صفحہ اول پر جگہ دے دی۔
اب فرض کیجئے کہ ایک مسلمان ٹیلیفون پر سلمان رشدی سے ملاقات کا اپائنٹمنٹ لیتا۔ وہ رات کونمازیں پڑھ کر اللہ سے دعا کرتا کہ خدایا تو سلمان رشدی کو ہدایت عطا فرما۔ اس کے بعد وہ اگلے دن سلمان رشدی سے ملاقات کرتا اور تنہائی میں دلسوزی اور خیرخواہی کے ساتھ اس کو نصیحت کرتا۔ اگر کوئی مسلمان ایسا کرتا تو اللہ کی نظر میں وہ سب سے بڑا واقعہ ہوتا۔ مگر اخبار والوں کے نزدیک وہ اتنا غیراہم ہوتا کہ گوشہ کی چند سطری خبرمیں بھی اس کو جگہ نہ ملتی۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان ان کاموں کو تو بہت دھوم کے ساتھ کر رہے ہیں جو اخبار والوں کے نزدیک اہم ہیں مگر ان کاموں سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں جوان تعالی کے یہاں اہمیت رکھتے ہیں۔ بلاشبہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔
24 فروری 1989
اخبار قومی آواز (22 فروری 1989) میں ایک مسلم لیڈر کا مراسلہ چھپاہے وہ سلمان رشدی کی کتاب (The Satanic Verses) کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسلمان اپنے رسول کی توہین کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتا۔
other sourceWords of another person or source
آجکل ہرمسلم اخبار یا رسالہ میں اسی قسم کے الفاظ چھپ رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ مسلمانوں کا اپنا بنایا ہوا دین ہے۔ اس کا خدا اور رسول کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ خدا اور رسول کے دین میں اصل اہمیت دعوت کی ہے ۔ نہ کہ ان چیزوں کی جن کو موجودہ مسلمان اہمیت دئے ہوئے ہیں۔
اسلامی نقطٰہ نظر سے صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مسلمان دعوت کے مواقع کی بربادی کوکسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا۔ مسلمانوں نے سلمان رشدی کے خلاف جو شور وغل کیا ہے۔ اس کا واحد نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دعوت کے مواقع ناقابل تلافی حد تک برباد ہو گئے۔ سلمان رشدی نے مذکورہ کتاب لکھ کر اپنے آپ کو بدنام کیا تھا مگر مسلم رہنماؤں نے اس کے خلاف ہنگامہ کر کے اسلام کو بدنام کیا ہے۔ اصل اہمیت کی چیز مواقع دعوت کا تحفظ تھا نہ کہ" توہین رسول" پر بھڑک کر قتل و غارت گری شروع کر دینا۔
اسلامی عمل وہ ہے جو انجام کو سامنے رکھ کر کیا جائے ۔
25 فروری 1989
ٹائمس آف انڈیا ( 24فروری 1989 (کی رپورٹ کے مطابق ، دہلی میں انگریزی ادیبوں اور اڈیٹروں کا ایک فیسٹیول (Festival) ہوا۔ اس موقع پر مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ مسٹرخوشونت سنگھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ لکھنے والے کو ہمیشہ تخلیقی چیز لکھنا چاہئے:
other sourceWords of another person or source
A writer should only do creative writimg
مگر حالات آدمی کو تخلیقی بننے نہیں دیتے۔انھوں نے کہا کہ ہم میں سے کچھ لوگ جنھوں نے تخلیقی ادب کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا، وہ سستی صحافت میں چلے گئے۔ ایسا انھیں محض پیسہ کی خاطر کر نا پڑا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Some of us who started out as creative writers went into journalism, mainly because of money.
یہی معاملہ آجکل ہر ایک کا ہورہا ہے۔ مسلم رہنما ابتداءًتعمیری کام کا جذبہ لے کر اٹھتے ہیں۔ مگرجلد ہی وہ دیکھتے ہیں کہ تعمیری کام کے ذریعہ وہ قوم کے اندر اپنا مقام پیدانہیں کر سکتے۔ چنانچہ جلد ہی وہ جذباتی سیاست کی طرف مڑ جاتے ہیں ۔ اور پھرموت تک اسی پرقائم رہتے ہیں۔نہ کوئی شخص ایسا کر پاتا کہ وہ غیر مقبولیت کو برداشت کرتے ہوئے تعمیری نقشہ پر قائم رہے۔ اور نہ کوئی ایسا نظر آتاجو ایک بارانحراف کرنے کے بعد دوبارہ اپنے سابقہ موقف کی طرف لوٹے۔
اس کی وجہ میرے نزدیک معرفت کی کمی ہے ۔جن لوگوں نے ابتداء تعمیری کام کر نا چاہا ، ان کے اس ارادہ کے پیچھے کوئی گہرا عرفان شامل نہ تھا۔ گہرا عرفان اپنی قیمت آپ ہو تاہے ۔ جو شخص گہرے عرفان کی بنیاد پراٹھے، اس کا یہ احساس ہی اس کے اطمینان کے لئے کافی ہوتا ہے کہ وہ حق پر ہے ۔ ایسے شخص کو یہ خارجی واقعہ کبھی متزلزل نہیں کرتا کہ وہ لوگوں کے اندر مقبولیت کا درجہ حاصل نہ کرسکا ۔
26 فروری 1989
روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ میری بخشش نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ میں نے بہت زیادہ گناہ (ذنب) کئے ہیں۔ آپ نے کہا تمہارا گناہ بڑاہے کہ زمین (ذنبك اعظم ام الارض) اس نے کہاکہ میرا ذنب زمین سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ کہ تمہارا گناہ بڑا ہے کہ آسمان ( ذنبك اعظم ام السماء) اس نے کہا کہ میراگناہ آسمان سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا گناہ بڑا ہے کہ عرش (ذنبك اعظم ام العرش) اس نے کہا میرا گناہ عرش سے بھی بڑا ہے۔ آخر میں آپ نے فرمایا کہ تمہارا گناہ بڑا ہے یا اللہ (ذنبك اعظم ام الله) اب آدمی کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یقینا اللہ ہر چیز سے زیادہ بڑا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تمہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
hadithQuotes a hadith
یہ روایت سند کے اعتبار سے قوی نہیں۔ مگرمعنی کے اعتبار سے بالکل درست ہے ۔ یہ اس انسان کی نفسیات کو بتاتی ہے جو گناہ کرنے کے باوجود اللہ سے ڈرتا ہو۔ اگر اس کا احساس واقعۃً اسی درجہ کا ہے جو اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے تو امید ہے کہ اللہ تعالی اس کی مغفرت فرما دیں گے ۔
27فروری 1989
مغل حکمراں شاہجہاں نے ایک بار کوئی منظر دیکھا۔ اس کے زیر اثر اس کی زبان پر یہ فقرہ آگیا: نیمے دروں نیمے بروں (آدھا اندر، آدھا باہر) شاہجہاں نے اپنے دربار کے لوگوں سے کہا کہ اس فقرہ کو ملا کر ایک پورا شعربناؤ ۔ ہر ایک نے کوشش کی مگر بادشاہ کے شایان شان کوئی شعر نہیں بنا۔ آخر ایک شاعر نے ایک شعرموزوں کیا جوشاہجہاں کو پسندآیا۔ اور اس نے اس شاعر کو بہت انعام دیا۔ وہ شعر یہ تھا :
از ہیبت شاہ جہاں لرزدزمین وآسماں انگشت حیرت دردہاں نیمے دروں نیمے بروں
لفظی خیال آرائی کی دنیا میں سارے زمین و آسمان شاہجہاں کی ہیبت سے کانپ اٹھے تھے۔مگر حقیقت کی دنیا میں شاہجہاں اتنا کمزور ورثابت ہوا کہ خود اس کے لڑکے (اورنگ زیب) نے اس کو گرفتار کر کے جیل خانہ میں بند کر دیا۔ اور اسی قید کی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان اسی طرح لفظوں کے آسمانی قلعے بناتے رہے۔ مگرجب حقیقت سے ٹکراؤ ہوا تو معلوم ہوا کہ ان کے قلعے کی حیثیت ایک غبارہ سے زیادہ نہ تھی ۔
28فروری 1989
ڈاکٹر شاہد رشید صابری )امیٹھی) نے 21 جنوری 1977 کو امیٹھی میں مطب شروع کیا۔ 13 ستمبر 1978 کو ان کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ وہ اپنے مطب میں اکیلے تھے۔ ایک ہندو نوجوان(عمر 35سال) ان کے مطب میں داخل ہوا۔ وہ رندھیری (ضلع سہارنپور) کا رہنے والا تھا۔ اس کو مقعد میں زخم کی بیماری تھی۔ تقریبا دس سال سے مواد جاری تھا۔ مختلف علاج کے بعد آخر کار وہ ڈاکٹر شاہد کے پاس آیا۔
ڈاکٹر شاہد نے مواد سکھانے کے لئے پنسلین کا انجکشن دیا۔ اس کے بعد جب وہ مطب سے اٹھ کر جانے لگا توچند قدم چلتے ہی وہ گر پڑا اور بیہوش ہو گیا۔ اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔ ڈاکٹر شاہد کی پریکٹس ابھی جمی نہیں تھی۔ وہ اچانک اس حادثہ سے گھبرا اٹھے۔ دوبارہ افاقہ کے لئے انھوں نے مختلف انجکشن دینے شروع کئے۔ یہاں تک کہ 42 مختلف انجکشن دے ڈالے۔
انھوں نے بتایا کہ مریض کی نبض اور دل کی حرکت بالکل بند ہوگئی۔ بظاہر وہ مرگیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی موت خود میرے مطب کی موت ہے۔ چنانچہ میں نے دل سے دعائیں شروع کیں مسلل اللہ تعالی سے دعائیں کرتا رہا اور انجکشن لگاتا رہا اور دل کی مالش کرتارہا۔ یہاں تک کہ مریض کے اندر حرکت پیدا ہوئی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ گویا کہ ایک مرا ہوا شخص زندہ ہوگیا۔ میرے مطب سے واپس جانے کے بعد وہ شخص نارمل حالت میں زندہ رہا۔ اس کے چارماہ بعد اچانک اس کا انتقال ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی دعا اللہ تعالی نے سنی اور مذکورہ ہندو نوجوان کی عمر میں چار ماہ کا اضافہ کر دیا۔ یہ واقعہ بظاہر اس حدیث کے مطابق ہے جو ترمذی میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا يرد القضاء الا الدعاء ، ولا يزيد في العمر إلا البر. (اللہ کے فیصلہ کو دعا کے سوا اور کوئی چیز نہیں ٹالتی۔ اور عمر میں نیکی کے سوا کسی اور چیز سے اضافہ نہیں ہوتا۔ (مشکوۃ، جلد ثانی صفحہ 693 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it