← Diary 1989-1990Diary 1989-1990
January 1989
English · 37 min read
یکم جنوری 1989
کشمیر کے دو صاحبان سے ملاقات ہوئی ۔ دونوں تبلیغی تھے ۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ ان کو ان کا جائز حق نہیں دیا جاتا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ایک ایسی مسجد میں جائیں جہاں مخالفین تبلیغ کا غلبہ ہو اور وہ آپ کو مسجد سے نکال دیں تو آپ ان کی شکایت نہیں کرتے، بلکہ ان کے حق میں دعا کرتے ہیں ۔ انھوں نے پرفخر طور پر کہا کہ ہاں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ یہ طریقہ جو آپ مسلمانوں کے حق میں عملاً اختیار کئے ہوئے ہیں یہی آپ کو ہندوؤں کے معاملہ میں بھی اختیار کرنا چاہئے ۔ یعنی ان کی زیادتیوں کے باوجود صبر کرنا اوران کے حق میں دعا کرنا۔ میں نے کہا کہ یہ در اصل داعیانہ اخلاق ہے ۔ آپ لوگ مسلمانوں کو اپنا مدعو کہتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ آپ داعیانہ اخلاق برتتے ہیں ۔ مگرہندووں کو آپ اپنا مدعو نہیں سمجھتے، اس لئے آپ ان کے ساتھ داعیانہ اخلاق بھی نہیں برت پاتے۔
2 جنوری 1989
امریکہ میں دس دن رہ کر آج صبح فجر سے پہلے واپس دہلی پہنچا۔ ایئر پورٹ سے پری پیڈ ٹیکسی (prepaid taxi ) لے کر گھر آیا۔ اس کا کرایہ ایک سو ایک روپیہ تھا۔ گھرپہنچ کر ٹیکسی والے نے کہا کہ 20 روپیہ اور دیجئے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسا۔ اس نے کہا کہ نائٹ سروس کا۔ میں نے کہا کہ اچھا اندر آؤ۔ میں ابھی ایئر پورٹ ٹیلی فون کر کے پوچھتا ہوں۔ اگر وہ لوگ کہیں گے کہ 20 روپیہ اور دینا ہے تو ضرور میں دے دوں گا۔ جب میں نے یہ کہا توٹیکسی ڈرائیور کرایہ کی چٹ دیکھتے ہوئے بولا : اچھا اس میں نائٹ سروس کا پیسہ شامل ہے ’’: یہ کہہ کر روانہ ہوگیا۔
امریکہ میں ہر چیز سسٹم کے مطابق ہے۔ انڈیا میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انڈیا کی زمین پر اترنے کے بعد یہ پہلا ناخوشگوار تجربہ تھا جو مجھے پیش آیا۔
3 جنوری 1989
مولانا اسرارالحق صاحب ناظم جمعیت علماء ہند اور مسعود حسن صدیقی صاحب (چیئر مین جمیعتہ ٹرسٹ سوسائٹی) تشریف لاۓ۔ جمعیتہ بلڈنگ (دہلی) میں میرے پاس کرایہ پر دو کمرے ہیں اس کی بابت انھوں نے گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم کومعلوم ہوا ہے کہ آپ اس کو کسی اور کو دینا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کمروں کو لینے کی خواہش ظاہر کی ، مگر میں نے انکار کر دیا۔
پھر میں نے کہا کہ وہ ہماری اپنی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ہمارا چھپائی وغیرہ کا سارا کام پرانی دلی سے ہوتا ہے۔ اور ان کمروں کو ہم اپنے سب آفس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ دونوں صاحبان نے کہا کہ جب آپ ان کمروں کو خود اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ آپ انہیں اپنے پاس رکھیں ۔ آپ کے اپنے پاس رہنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ انہیں کسی اور کو دینے والے ہوتے تو ہم خود ان کو لینا پسند کرتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پوری گفتگو بہت اچھی فضا میں ہوئی ۔ جاتے ہوئے میں نے دونوں صاحبان کو ‘‘ تعمیر کی طرف ’’ کا ایک ایک نسخہ بطور ہدیہ پیش کیا۔
4 جنوری 1989
قومی آواز (4 جنوری 1989) میں جناب ریاض الرحمن شروانی ( حبیب منزل ، علی گڑھ ) کا مراسلہ اردو زبان کے مسئلہ پر شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
‘‘ حصول آزادی سے قبل ڈاکٹر راجندر پرشاد اور مولوی عبدالحق کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس میں طے پایا تھا کہ آزاد ہندستان کی قومی زبان ہندستانی ہوگی جو دیوناگری اور فارسی لیپیوں میں لکھی جائے گی۔ جب حصول آزادی کے بعد مسئلہ دستورساز اسمبلی کی اس کمیٹی کے سامنے آیا جو اس غرض سے تشکیل دی گئی تھی تو اردو والے جن میں پنڈت جواہر لال نہرو اورمولانا ابوالکلام آزاد شامل تھے ، یہی چاہتے تھے کہ اس فارمولے پر عمل کیا جائے لیکن جب انھوں نے محسوس کیا کہ تقسیم ہند نے صورت حال میں تبدیلی کر دی ہے تو وہ اس مطالبہ سے دستبردار ہو گئے کہ قومی زبان کا نام ہندستانی ہو اور انھوں نے یہ مان لیا کہ اسے ہندی کہا جائے لیکن اس پر بدستور اصرار کرتے رہے کہ وہ دیو ناگری اور فارسی دونوں لیپیوں میں لکھی جائے ۔ اس معاملہ میں ان کو جنوبی ہندستان کے نمائندوں کی تائید بھی حاصل تھی۔ لیکن ہندی پریمیوں کی تنگ نظری اتنے پر بھی آمادہ نہیں ہوسکی اور کمیٹی میں ایک ووٹ کی اکثریت سے طے ہوگیا کہ قومی زبان کا نام ہندی ہوگا اور وہ صرف دیوناگری لیپی میں لکھی جائے گی۔ اس مسئلہ پر مولانا ابوالکلام نے تو کمیٹی کی رکنیت سے استعفا بھی دے دیا تھا’’۔
مراسلہ نگار نے جس چیز کو ہندی پریمیوں کی تنگ نظری کہا ہے ، وہ خود ان کی تنگ نظری ہے ۔ مسلمانوں نے سب سے بڑی تنگ نظری کر کے ملک کو بٹوایا۔ اب وہ خود اپنے عمل کے نتائج کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہی موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
5 جنوری 1989
نظام الدین (دہلی) میں میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوں۔ باہر سے آواز سنائی دیتی ہے : پرانی پلاسٹک والا ، پرانی پلاسٹک والا ۔ دہلی میں اور دوسرے ہندستانی شہروں میں ہر روز بے شمار کباڑی والے گھروں سے پلاسٹک کے پرانے سامان خریدتے ہیں ۔ یہ پرانی پلاسٹک کارخانوں میں دوبارہ پگھلائی جاتی ہے اور ان سے دوبارہ مختلف قسم کے سامان بنائے جاتے ہیں۔ یہ سامان نہ صرف مضر ہوتے ہیں بلکہ وہ بے حد کمزور بھی ہوتے ہیں۔
پچھلے ہفتہ جب کہ میں امریکہ میں تھا، وہاں میں نے اس کے برعکس منظر دیکھا۔ وہاں بے شمار چیزیں پلاسٹک سے بنتی ہیں۔ مگر یہ تمام چیزیں ایک بار استعمال ہو کر کوڑے میں ڈال دی جاتی ہیں۔ ہر گھر کے سامنے صبح کے وقت بڑے بڑے تھیلے نظر آتے ہیں جن میں پلاسٹک کے استعمال شدہ سامان بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ سرکاری گاڑیاں ان کو اٹھا کر لے جاتی ہیں تاکہ انھیں ضائع کر دیا جائے۔ کتنا فرق ہے ایک ملک میں اور دوسرے ملک میں۔
6 جنوری 1989
آج رات کو ساڑھے بارہ بجے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اٹھایا تو آواز آئی کہ میں نیویارک سے ابراهیم مامون بول رہا ہوں( ٹیلی فون نمبر7064 898-718) وہ اصلا گجرات کے رہنے والے ہیں اور آجکل نیو یارک میں مقیم ہیں۔ انھوں نے اپنا پتہ لکھوایا اور کہا کہ انگریزی الرسالہ ان کے نام جاری کر دیا جائے اور انگریزی کتابیں انھیں روانہ کر دی جائیں ۔ ان کے ذریعہ وہ وہاں کے غیر مسلم صاحبان میں اسلام کی دعوت پہنچانا چاہتے ہیں۔
آج دن میں عبدالغفور صاحب (موجودہ ایم پی ، سابق چیف منسٹر بہار) کا ٹیلیفون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ میں الرسالہ پابندی سے پڑھتا ہوں اور آپ کے یہاں کی تمام کتابیں قیمت دے کر خریدنا چاہتا ہوں میرے یہاں سب کتابیں بھجوا دی جائیں ٹیلیفون (3017739)
اس طرح ہر روز ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کا مشن خدا کے فضل سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اور وسیع پیمانہ پرلوگوں کو متاثر کررہاہے۔64 سال کی عمرکو پہنچ کر اب میری صحت کافی کمزور ہوگئی ہے ۔ تاہم امید ہے کہ انشاء اللہ میرے بعد اب یہ مشن ختم نہیں ہو گا، بلکہ برابر جاری رہے گا۔
7 جنوری 1989
اردو زبان شاید دنیا کی واحد زبان ہے جس میں لفظی کرشمے دکھانے کا نام ادب ہوتا ہے۔ اور فرضی خیال آرائی کا نام انشا پردازی۔ اس کی ایک دلچسپ مثال پچھلے چند مہینوں کے درمیان نظر سے گزری۔ میں نے چند مضامین پڑھے جن میں مضمون نگار نے اپنی کسی محبوب شخصیت کو عہدساز شخصیت قرار دیا تھا۔ مثلا :
اندرا گاندھی : عہد سازشخصیت
ابو الکلام آزاد: عہد سازشخصیت
ابو الاعلی مودودی : عہدسازشخصیت
ان مضمون نگاروں سے کوئی پوچھے کہ تمہاری محبوب شخصیت نے جو عہد پیدا کیا تھا وہ کہاں ہے۔ تو ساری دنیا میں کوئی ملک تو درکنار ، وہ کسی ایک شہر کا نام بھی نہ بتا سکیں گے جہاں عہدسازی کا یہ کارنامہ انجام پایا ہو ،حتی کہ ان شخصیتوں کے اپنے گھر میں بھی نہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں خدا کے فضل سے کئی زبانیں جانتا ہوں ۔ مگر اس قسم کے ہوائی مضامین میں نے کسی اور زبان میں کبھی نہیں پڑھے۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جنھوں نے عہد ساز شخصیتیں تو بے شمار پیدا کر رکھی ہوں مگر خود عہد کا کہیں پتہ نہ ہو ۔ میرا خیال ہے کہ موجودہ زمانہ کا سب سے زیادہ غیر حقیقت پسند گروہ اردو بولنے والوں کا گروہ ہے اور اس کی وجہ اردوزبان کی یہی انوکھی خصوصیت ہے۔
8 جنوری 1989
مولانا اکبرالدین قاسمی (حیدرآباد)آئے۔ انھوں نے بتایا کہ 29 دسمبر 1988 حیدر آباد میں " پیام انسانیت" کا اجتماع تھا جس میں مولانا ابو الحسن علی ندوی نے خطاب کیا۔ اس کے بعد یکم جنوری 1989 کو محمد ہاشم قاسمی کی دعوت پر وہ مرکز اسلامی (حمایت نگر حیدرآباد) گئے۔ وہاں مولانا موصوف کے ساتھیوں سمیت تقریبا 20 آدمی تھے۔ ان سے گفتگو کے انداز میں انھوں نے خطاب کیا اور مسلمانوں کو قرآن فہمی کا مشورہ دیا ۔ 2 جنوری 1989 کو حیدر آباد کے اخبار سیاست میں مولانا کے اس پروگرام کی خبر مختصر طور پر شائع ہوئی۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی (عرف علی میاں) اور ان کے سب ساتھیوں کواچھی طرح معلوم ہے کہ مرکز اسلامی (حمایت نگر ، حیدر آباد) اسلامی مرکز دہلی کی ملکیت ہے اور محمد ہاشم قاسمی نے خیانت اور غصب کا معاملہ کر کے اس پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ اس کے باوجود ان کا محمد ہاشم قاسمی کی دعوت پر اس مرکز میں جانا بلاشبہ جرم عظیم ہے۔
مولانا علی میاں کو اقبال کا یہ تصورمسلم بہت پسند ہے کہ : ہے حقیقت جس کے دین کی احتساب کائنات۔ وہ اپنی تقریروں میں اس کو دہراتے رہتے ہیں۔حیدرآباد کی تقریر میں بھی انھوں نے یہ بات کی۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ آپ کے احتساب کا ئنات کی فہرست میں حیدر آباد کے خائن اور غاصب کا احتساب شامل ہے یا نہیں۔
9 جنوری 1989
29 دسمبر 1988 کومیں امریکہ (انا ہائم، کیلی فورنیا) کے ایک مسلم اجتماع میں شریک تھا۔ اس اجتماع کا انتظام ایک اسلامک سنٹر (مسجد اور اسکول) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ ایک مقرر اسٹیج پر آئے انھوں نے سنٹر کے لئے چندہ کی اپیل کی اور نہایت پرجوش انداز میں تقریر کرنا شروع کیا ۔
یہ ایک امریکی ہوسٹل کا ہال تھا۔ مقرر نے مجمع سے اللہ اکبر کا نعرہ لگانے کی اپیل کی۔ وہ بار بار کہتے‘‘ تکبیر’’ مگر مجمع کی طرف سے اللہ اکبر کی چند ہلکی آوازوں کے سوا اور کچھ سنائی نہ دیتا۔ وہ بار بار حاضرین کو اکساتے رہے کہ سب مل کر بلند آواز سے نعرہ لگائیں۔ مگر انھیں کامیابی نہ ہوئی یہاں تک کہ انھوں نے پرجوش طور پر کہا:
I want to shake this hall
مگر ہال کا ہل جانا تو درکنار وہ گونجا بھی نہیں۔ مذکورہ مقرر اپنے لہجہ اور شکل وصورت کے اعتبار سے کوئی ہندستانی یا پاکستانی معلوم ہوتے تھے ۔ امریکہ ، ہندستان یا پاکستان سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں سائنٹفک انداز میں بات کہنے کی قیمت ہے نہ کہ پرجوش طور پر نعرہ لگانے کی۔ مگر ہندستان اور پاکستان کے مسلمان امریکہ میں بھی اپنا ایک الگ جزیرہ بنانا چاہتے ہیں۔
10 جنوری 1989
آج خواب میں دیکھا کہ میں کچھ لوگوں کے سامنے ایک حدیث کی تشریح کر رہا ہوں۔ وہ حدیث مشكوة (كتاب الرقاق) میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
(حدیث: صفحہ نمبر۱۱۔)
خواب میں میں نے کہا کہ اینٹ پتھر کے محل صرف سطحی لوگوں کو مطمئن کرتے ہیں۔ فکری انسان صرف فکری محل میں جی سکتا ہے۔ اینٹ پتھر کے محل میں جینا ایک فکری انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اور یہ فکری انسان اگر ربانی انسان ہو تو اس کے بعد اس کا معاملہ بے حساب حد تک بڑھ جائیگا۔
11 جنوری 1989
ایک بزرگ کا قول ہے : الحق لا يعرف بالرجال (حق کو آدمیوں سے نہیں پہچانا جاتا) موجودہ زمانہ کے جس مسلمان سے کئیے ، وہ پرجوش طور پر اس کی تائید کرے گا ۔ مگرمیرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایسے لوگ نایاب ہیں جو فی الواقع اس اصول کو مانتے ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کا زندہ ثبوت میں خود ہوں میرے جتنے بھی مخالفین ہیں وہ سب کے سب صرف ایک وجہ سے میرے مخالف ہیں۔ یہ کہ میں نے ان کے اکابر پر تنقید کیوں کی۔ میں اپنی ہرتنقید کے ساتھ قرآن وحدیث کے دلائل پیش کرتا ہوں ۔ آج تک کسی نے میرے دلائل کا تجزیہ کرکےان کو رد نہیں کیا۔ اس کے با وجود وہ میرے مخالف بنے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ حق کو رجال سے پہچانتے ہیں نہ کہ خدا اور رسول کے کلام سے ۔ وہ واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ میرا نقطہ نظر قرآن وحدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے با وجود وہ صرف اس لئے اس کو نہیں مانتے کہ ان کے مفروضہ اکابر کی تائید اسے حاصل نہیں۔
12 جنوری 1989
امریکہ کے سفر (دسمبر 1988) میں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی۔ وہ پاکستان سے آکر امریکہ میں آباد ہوۓ ، اور اب یہیں کے شہری ہوچکے ہیں۔ اس سے پہلے ان کے پاس امریکہ میں دس اسٹور تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان میں نو اسٹور کو فروخت کر کے اس کی رقم انھوں نے شیئر زمین اور جائیدادوں وغیرہ میں لگا دی ہے۔ اب اپنے پاس صرف ایک اسٹور رکھا ہے جہاں عام ضرورت کا سامان فروخت ہوتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے اب میرے اور میرے بچوں کے لئے کھانے پینے کا انتظام ہوگیا ہے۔ اب تو مجھے جنت کا ٹکٹ چاہئے۔ اب میں صرف جنت کے ٹکٹ کی تلاش میں ہوں۔
مسلمانوں میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اس نفسیات سے دوچار ہیں۔ وہ جنت کا ٹکٹ چاہتے ہیں، مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جنت کا سستا ٹکٹ چاہتے ہیں۔ اس نفسیات کی بنا پر اکثر وہ ان لوگوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جو خود ساختہ Fake ticket) ) لے کر جگہ جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ ان میں سے کوئی " ٹکٹ " خرید کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے لئے جنت کا انتظام کر لیا ۔ حالاں کہ یہ خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت کا ٹکٹ کسی دکان پر نہیں بکتا۔ جنت کا ٹکٹ آدمی کا خود اپنا وجود ہے ۔ یہی واحد قیمت ہے جس کو ادا کر کے آدمی جنت کا مستحق بن سکتا ہے۔
13 جنوری 1989
آج عمرفاروق (Umar Faruuk) ملاقات کے لئے آۓ ۔ وہ ترک ہیں اور استانبول کے رہنے والے ہیں۔ آجکل اسلام آباد پاکستان میں ریسرچ کر رہے ہیں۔ ہندستان میں اسلامی تنظیموں کا مطالعہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔ وہ عربی اور انگریزی دونوں نے زبان روانی کے ساتھ بول رہے تھے۔
ان کو میں نے الرسالہ ستمبر 1988 کا صفحہ 13 دکھایا۔ اس میں عصمت انونو کا ایک قول عربی میں نقل کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بالکل انھیں الفاظ میں ان کا یہ قول میں نے نہیں پڑھا ہے ، مگرمعنا وہ صحیح ہوسکتا ہے۔ اس قول کو تر کی زبان میں انھوں نے اس طرح لکھا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ektik islambuyuducikli Laiklik
گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ آپ کو اپنی سوانح عمری لکھنا چاہئے۔ بہت سے دوسرے لوگوں نے بھی یہ بات کہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ میری زندگی کے دو حصے ہیں ۔ ایک ابتدائی زندگی ، دوسری بعد کی زندگی ۔ اگر میں اپنی ابتدائی زندگی کے حالات لکھ دوں تو بعد کی زندگی کے حالات مجھے خود لکھنا ضروری نہ ہوگا۔ اس دوسرے حصہ کو کوئی بھی شخص محنت کر کے لکھ سکتا ہے۔ کیوں کہ میری بعد کی زندگی کے حالات کتابوں اور مضامین میں ، نیز ڈائری ، سفرنامہ ، خط وکتابت اور خبرنامه اسلامی مرکز کی صورت میں کافی حد تک موجود ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
14 جنوری 1989
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ خدا مومن پر مصیبت ڈالتا ہے اور غیرمومن کو چھوٹ دیدیتا ہے ۔ اسی طرح بتایا گیا ہے کہ موت کے وقت مومن کی روح آسانی سے نکلتی ہے اور غیرمومن کی مشکل ہے۔ اس قسم کی حدیثوں پر غور کرنے کے بعد ایک بات میری سمجھ میں آتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دودھ میں مکھن ملا ہوتا ہے مگر جب دودھ کو خوب بلویا جائے تو دودھ الگ ہو جاتا ہے اور مکھن الگ ۔ اس کے بعد مکھن میں چھاچھ اور گھی ملا ہوا ہوتا ہے ۔ جب اس کو آگ پر رکھ کر پکاتے ہیں تو دوبارہ چھاچھ اور گھی ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہو جاتے ہیں کہ نہایت آسانی سے دونوں کو جدا کیا جاسکے۔
مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی ذات میں مصیبتوں کے ذریعہ یہی علٰیحدگی کا عمل جاری رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ آخر کار روح اور جسم ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ اس وقت موت کا فرشتہ آتا ہے اور نہایت آسانی کے ساتھ اس کے مادی جسم کو چھوڑ کر اس کی روح کو اٹھالے جاتا ہے۔ اس کے برعکس غیر مومن کی ذات میں روح اور جسم جسم باہم ایک دوسرے کے ساتھ شدت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ چنانچہ جب اس کی عمر پوری ہوتی ہے اور موت کا فرشتہ روح قبض کرنے کے لئے آتا ہے تو وہ زبردستی کھینچ کر اس کی روح کو اس کے جسم سے جدا کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی جان مشکل سے نکلتی ہے۔
15 جنوری 1989
میرے چچازاد بھائی اقبال احمد سہیل (ایم اے) شاعر تھے۔ اس کے ساتھ وہ خاندان کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ ان کے اثر کے تحت گھر میں شعروشاعری کا تذکرہ رہتا تھا۔ چنانچہ ابتدائی زندگی میں میں بھی شعر پسند ہو گیا ۔ غور و فکر کرنے کا ذوق میرے اندر فطری تھا۔ چنانچہ میں اکثر اشعار پر غور کرتا رہتا۔ اس کی وجہ سے اشعار کے نئے نئے معانی میرے اوپر کھلتے رہتے تھے ۔ 1945 کے لگ بھگ زمانہ میں جب کہ میں جونپور (چہار سو بازار) میں تھا، ایک صاحب باقاعدہ مجھ سے دیوان غالب پڑھنے کے لئے آیا کرتے
1948 سے میرے اندر تبدیلی ہوئی اور شاعری وغیرہ چھوڑ کر میں اسلام کی طرف پوری طرح مائل ہوگیا۔ اب میرا ذہن قرآن وحدیث پر غور کرنے لگا۔ پہلے میرے ذہن پر اشعار کے معانی کھلتے تھے۔ اب مجھ پر قرآن و حدیث کے معانی کھلنے لگے ۔ پچھلے 40 سال سے یہ سلسلہ خدا کے فضل سے مسلسل جاری ہے۔
آج صبح ابھی میں بستر پر تھا کہ حدیث ذہن میں آئی ۔ ایک حدیث قدسی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : أنا عند ظن عبدي بي فليظن بي خيرا (میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں تو اس کو چاہئے کہ وہ میرے ساتھ اچھا گمان کرے)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حدیث پر غور کرتے ہوۓ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی صفات کمال کا اعتبار کرتے ہوۓ بندہ ایسا کرے کہ وہ احتمالات شر کے مقابلہ میں احتمالات خیرکو ترجیح دے. وہ گمان کرے کہ اللہ اپنے بندے کی کوتاہیوں کو جرم کے خانہ میں ڈالنے کے بجائے نادانی کے خانہ میں ڈال دے گا ۔ وہ اس کے ساتھ گرفت کے بجاۓ درگزر کا معاملہ فرمائے گا۔ وہ اس کی غلط کاری کو عجز پر محمول کر کے چھوڑ دے گا نہ کہ سرکشی پر محمول کر کے اس کو سزا دے ۔ وہ اس کے ساتھ بحثیت محاسب معاملہ نہ فرمائے گا بلکہ بحثیت صمد معاملہ فرمائے گا۔ بندے کے پاس اگر حسن عمل کا کوئی ذرہ ہے تو وہ اس کے بقیہ اعمال نامہ کو اس کے تابع کر دے گا نہ کہ ذرہ کو بقیہ اعمال نامہ کے تابع کر دے
16 جنوری 1989
نیو یارک سے نکلنے والا ہفتہ وار میگزین ٹائم (Time)1923 میں جاری ہوا تھا۔ شروع ہونے کے بعد پورے 65 سال تک اس کا نام صرف ٹائم رہا۔ اس کی اشاعت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ واقعی معنوں میں ایک عالمی میگزین (Global magazine) بن گیا۔ وہ پانچ ملین کی تعداد میں چھپ کے ہر ملک اور ہرقوم میں پڑھا جانے لگا۔ اب اس کے مالکوں نے فیصلہ کیا کہ اس کے نام کے ساتھ انٹرنیشنل کالفظ بڑھا دیا جائے۔ ، اکتوبر 1988 کو اس کا جوشمارہ نکلا، اس میں اس کا نام ٹائم انٹرنیشنل لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد سے اس کا یہی نام لکھا جا رہا ہے۔ (Time International)
یہ سیکولر لوگوں کا حال ہے ۔ وہ جو نام رکھتے ہیں ، واقعہ کے مطابق رکھتے ہیں۔ ان کا نام ان کے لئے امر واقعہ کا اظہار ہوتا ہے۔ دوسری طرف موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی آرزوؤں اور خوش فہمیوں کو نام کی صورت دے دیتے ہیں۔ وہ جب کوئی پرچہ نکالتے ہیں تو اول دن ہی سے اس کا نام انٹرنیشنل ہوتا ہے ۔ خواہ ان کے اپنے مخصوص حلقہ کے باہر وہ خود مسلمانوں میں بھی نہ پڑھا جاتا ہو۔ ان کی حکومت کا نام اسلامی جمہوریہ ہوتا ہے ،خواہ پہلے ہی الکشن میں سیکولر پارٹی ملک میں غالب آجائے ۔ وہ اپنے اکابر کو شیخ الہند ، امام الہند ، مفکر عالم اور عہد ساز شخصیت کا لقب دیتے ہیں۔ خواہ عالمی معیار کے لحاظ سے ان بزرگوں کی حیثیت ایک معمولی مصنف یا مقرر کی کیوں نہ ہو۔
17 جنوری 1989
احمد دیدات صاحب گجرات کے باشندے ہیں ۔ ان کے والدین ساؤتھ افریقہ جاکر وہاں بس گئے۔ آجکل احمد دیدات صاحب نے مسیحیوں سے مناظرہ میں کافی شہرت حاصل کی ہے۔ بمبئی کے ایک صاحب ملاقات کے لئے آۓ ۔ انھوں نے بمبئ میں احمد دیدات صاحب کی تقریر سنی تھی اور ان کے ویڈیو کیسٹ دیکھے تھے ۔ وہ احمد دیدات صاحب کی کافی تعریف کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں وہ سب سے بڑے داعی اسلام ہیں۔
میرے پاس احمد دیدات صاحب کا لٹریچر آتا رہتا ہے ۔ حال میں ڈاک سے ان کا انگریزی پرچہ البرھان (دسمبر 1988) مجھے ملا ہے۔ اس میں احمد دیدات صاحب کا مفصل انٹرویو چھپا ہے۔ میں نے انھیں دکھایا کہ وہ کس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ اس انٹرویومیں مسیحیوں کے بارہ میں کہتے ہیں کہ انھیں پیچھے ڈھکیل دو ، ان کے اوپر بلڈوزر چلا دو :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Supresede them all, Bulldoze them all.
میں نے کہا کہ کیا داعی کی زبان یہی ہوتی ہے ، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی زبان بولتے تھے۔ میں نے رسول اللہ کی بہت سی مثالیں دے کر کہا کہ داعی کا طریقہ مدعو کا دل جیتنا ہوتا ہے نہ کہ ان کے اوپر بلڈوزر چلا کر انھیں کچل ڈالنا۔ پھر میں نے کہا کہ احمد دیدات صاحب ایک مناظر ہیں نہ کہ داعی۔ اور مناظرہ کرنا داعی کا طریقہ نہیں۔
18 جنوری 1989
پاکستان سے ایک ماہنامہ "اشراق" نکلتا ہے۔ اس کا شمارہ جنوری 1989 ہمارے سامنے ہے۔ اس کے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ "خلیفہ" کو جنات کا جانشین کے معنی میں لینا صحیح نہیں۔ "خلیفہ" عربی زبان میں اصلا اس شخص کے لئے آتا ہے جو کسی کے بعد اس کے اختیار واقتدار کے مالک کی حیثیت سے اس کی جگہ لے۔ پھر یہ لفظ کسی کے بعد اس کی جگہ لینے کے مفہوم سے مجرد ہوکر محض اختیار واقتدار کا مالک کے معنی میں مستعمل ہو۔ لغت عرب میں اس معنی کے نظام موجود ہیں ... لفظ کے معنی میں اس طرح کے تصرفات کی مثالیں عربی زبان میں عام ہیں۔ قرآن کی آیت (اني جاعل فى الارض خليفہ) (البقرہ) میں لفظ خلیفہ صاحب اقتدار ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے "۔ صفحہ 52۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر پورے مضمون میں لغت یا کلام عرب سے کوئی ایک مثال بھی نہیں دی گئی ہے کہ خلیفہ کا لفظ مجرد ہوکر محض اختیار واقتدار کا مالک ہونے میں مستعمل رہا ہے۔ ہمارے علماء اکثر ایسی باتیں کہتے ہیں جن کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ثابت کر دیا ۔ حالاں کہ خالص علمی اعتبار سے وہ ثابت شدہ نہیں ہوتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک غیرسائنسی استدلال ہے جو موجودہ زمانہ میں قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے علماء کے لئے سائنٹفک لاجک کا مطالعہ بے حد ضروری ہے ، تاکہ وہ جانیں کہ ثابت شدہ ہونے کا مطلب کیا ہے اور غیر ثابت شدہ ہونے کا مطلب کیا۔ ہمارے علماء کی اس کمی نے موجودہ زمانہ میں ان کے پیدا کردہ لٹریچر کو جدید انسان کے لئے بے معنی بنا دیا ہے۔
19 جنوری 1989
کشمیر کے دو صاحبان ملاقات کے لئے آئے ۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جن لوگوں کو اپنا لیڈر بنایا ، وہ سب کے سب مقرر تھے، ان میں سے کوئی بھی شخص مدبر نہ تھا۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر طرف ناکام اور برباد نظر آتے ہیں۔ قوموں کی رہنمائی کے لئے مدبر شخص چاہئے، مقرر شخص کسی قوم کی رہنمائی نہیں کر سکتا ۔
20 جنوری 1989
ٹائمس آف انڈیا (19 جنوری 1989) میں ہندستانی وزیراعظم راجیو گاندھی کا ایک انٹرویو چھپا ہے ۔ اس کا خلاصہ اس کی سرخی کے مطابق یہ ہے کہ ہندستان کی صنعت کو بیرونی مقابلہ کا سامنا کر کے جینا پڑے گا :
other sourceWords of another person or source
Industry to face foreign competition
آزادی (1947) کے بعد جو لوگ ملک کے حکمراں بنے ، ان کا نظریہ یہ تھا کہ ملکی صنعت کو تحفظ دینا ضروری ہے، ورنہ وہ بیرونی مقابلہ میں برباد ہو جائے گی ۔ مگر 40 سال کے تجربہ میں معلوم ہوا کہ تحفظ نے ملکی صنعت کے معیار کو گرا دیا۔ سابق حکمرانوں نے بیرونی مقابلہ میں خطرہ کے پہلو کو دیکھا مگر وہ اس میں افادیت کے پہلو کونہ دیکھ سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ مقابلہ اور مسابقت زندگی کی اعلی ترقی کے لئے بے حد ضروری ہے. مقابلہ کو ختم کرنے کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ معیار ختم ہو جاۓ ۔
21 جنوری 1989
کویت کے عربی ماہنامہ الوعی الاسلامی (جمادی الآخرۃ 1409 ، جنوری 1989) میں دکتور اہبتہ الزجیلی کے قلم سے مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے: اقليمية الشریعۃ والقضاء في ديار الإسلام. صاحب مضمون بتاتے ہیں کہ اس معاملہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ دار الاسلام میں جس طرح مسلمانوں کے اوپر" حقوق الآدمیین" میں حدود و تعزیرات کا اجراء کیا جاتا ہے، کیا اسی طرح غیر مسلموں کے اوپر بھی کیا جاۓ گا۔ پھر وہ لکھتے ہیں :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
(عربی عبارت، صفحہ۔ ۱۸)
اسلام میں جس چیز کو نسخ کہا گیا ہے ، وہ حقیقت وہی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں تدریج کہا جا تا ہے۔ مگربعد کے زمانہ میں مسلم علما نے یہ رائے قائم کرلی کہ جوحکم منسوخ ہوا وہ مطلق طور پر منسوخ ہو گیا۔ اس رائے کے نتیجے میں اسلام کی بعد کی تاریخ زندگی کی ایک اہم حقیقت سے محروم ہوگئی اور وہ حکمت تدریج ہے ۔
غیر مسلموں پر اسلامی قانون کے نفاذ کے بارہ میں سورہ المائدہ کی آیت 42 بے حد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلموں پر نفاذ احکام کے معاملہ میں حالات کی رعایت کی جائے گی۔ مثلا انٹرنیشنل قانون کا لحاظ ، ان کے اوپر خود ان کے جج کا تقرر یا ان سے معاہدہ کرنا پھر اس کے مطابق معاملہ کرنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
22 جنوری 1989
ایک عالم ملاقات کے لئے آۓ۔ وہ ایک بڑے عربی دینی مدرسہ سے فارغ ہیں اور مدرسہ کے چندہ کے لئے ہرسال سفر کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں کئی بارانڈمان جا چکے ہیں۔ انڈمان کے لئے کلکتہ سے پانی کے جہاز کے ذریعہ جانا ہوتا ہے۔ یہ مسلسل پانچ دن کا سفر ہے۔ بڑے جہاز میں ڈھائی ہزار آدمی ہوتے ہیں۔ پانچ سو آدمی صرف عملہ کے ہوتے ہیں۔ اس میں پولیس کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں ۔
اس طرح کی بہت سی معلوماتی باتیں انھوں نے بتائیں۔ میں نے کہا کہ آپ کے کئی بارسمندر کے ذریعہ انڈمان کا سفر کیا ہے کسی سفر میں کوئی خاص سبق آموز بات جو آپ کو ملی ہو، وہ بتائیے۔ مگر وہ کوئی سبق کی بات نہ بتا سکے۔
اسلامی نظام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کے تمام ادارے اور اس کی سرگرمیاں (Education oriented) ہوں ، مدرسہ، مسجد، اجتماع ، قیادت اور صحافت سب اس طرح چلائے جائیں کہ ان سے مسلمانوں کا شعور بیدار ہوتا رہے۔ مگر یہی وہ اصل چیز ہے جس سے ہمارے تمام ادارے بالکل خالی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا کوئی ادارہ بھی شعور کی تربیت کا کام نہیں کر رہا ہے۔ یہ بلاشبہ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی ہے ۔
23 جنوری 1989
دو صاحبان آئے جوتبلیغی جماعت سے متاثر تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تبلیغ کو ایک اچھی تحریک سمجھتے ہیں۔ مگر کیا وجہ ہے کہ تبلیغ کے ذریعہ کوئی گہری تبدیلی نہیں ہوتی ۔ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تبلیغ کے رہنماؤں نے اپنے کام کی بنیاد فضائل پر رکھی جب کہ پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے کہ اصلاحی کام کی بنیاد تعمیر شعور پر رکھی جائے جس کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر میں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف تبلیغی جماعت کا نہیں۔ موجودہ زمانہ کی تمام مسلم تحریکوں کا ہے۔ ان رہنماؤں نے اس مفروضہ پر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اپنا کام شروع کیا کہ ایمان تو ان کے اندر موجود ہی ہے، اب میں صرف اس کے اوپر عمل کی چھت تیار کرنا ہے مگر یہ مفروضہ غلط تھا۔
ایمان محض تقلیدی عقیدہ یا تلفظ کلمہ کا نام نہیں، ایمان زندہ شعور کا نام ہے۔ ایک لفظ میں ایمان کو ذہنی انقلاب کہ سکتے ہیں۔ جو ایمان ذہنی انقلاب ہو ، اس کے اوپر اسلامی عمل کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ مگرموجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کے اندر زندہ ایمانی شعور پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انھوں نے دوسری زمینوں پر اسلامی عمل کی عمارت کھڑی کرنا شروع کر دیا۔
کسی نے فضائل کی داستانوں پر اپنی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی. کسی نے تاریخی فخر پر ، کسی نے سیاسی غلبہ کے شوق پر، کسی نے غیر مسلموں کے خطرہ کا احساس دلا کر۔ مگر یہ سب گویا ریت کے اوپر دیوار کھڑی کرنا ہے۔ مسلمانوں کو دوبارہ مطلوبہ مسلمان بنانے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ تعمیرشعور سے ان کے اندر اصلاحی کام کا آغاز کیا جاۓ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
24 جنوری 1989
جمادی الاولی (1409ھ) میں کویت میں ایک نہایت اہم اجتماع ہوا۔ اس کی کاروائیاں کویت کے ہلٹن ہوٹل میں انجام پائیں ۔ اس میں عرب سربراہ اور مسلم حکومتوں کے نمائندے شریک تھے۔ پاکستان سے شمس الدین پیرزادہ نے شرکت کی جن کی حیثیت وزیر کی ہے ۔ اس اجتماع میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اعلی پیمانہ پرمجمع الفقہ الاسلامی قائم کی جائے جس کا ہیڈ کوارٹر جدہ ہو۔
اعلان کردہ مقاصد کے اعتبار سے یہ ایک نہایت اہم ادارہ ہے ۔ مگر یقینی ہے کہ اس کا کوئی بھی فائدہ نہ ہوگا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس کے "المادة السابعة" کے مطابق ، مجمع الفقه الاسلامی میں المؤتمر الاسلامی سے تعلق رکھنے والی ہر مسلم مملکت کا ایک ممبر ہوگا اور اس ممبر کا تعین متعلقہ حکومت کرے گی ۔( عربی عبارت۔ ص۔ ۲۰)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جو ادارہ مسلم حکومتوں کے نامزد کردہ افراد پر مشتمل ہو ، وہ یقینی طور پر ایک رسمی ادارہ بن کر رہ جائے گا، وہ کوئی زندہ کام نہیں کرسکتا۔ مگر دوسری مشکل یہ ہے کہ مسلمانوں کے جوغیر حکومتی ادارے ہیں وہ اختلافات کا شکار ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اجتماعی ادارے دو میں سے کسی ایک کمزوری میں مبتلا ہیں۔ اگر وہ حکومت کی سرپرستی میں ہیں تو وہ رسمی ہوکر رہ گئے ہیں اور اگر وہ آزاد ہیں تو اندرونی اختلافات کا شکار ہیں۔
25 جنوری 1989
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی جو تحریر بھی میں پڑھتا ہوں ، وہ مجھے فخر سے بھری ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ کوئی شخص براہ راست فخر کے الفاظ بولتا ہے ، کسی کی تحریر میں فخر کا لفظ نہیں ہوتا مگر اس کو دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ فخر کی نفسیات کے تحت لکھی گئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اسلام کو اپنا فخر بنا لیا ہے۔ ان کا یہی احساس ان کی گفتگواور تحریر میں جھلکتا رہتا ہے۔
مثلا ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (24 جمادی الاولی 1409ھ) میں ایک تفصیلی مضمون (الاعياد بين التعظيم والتقليد) شائع ہوا ہے ۔ اس کا ایک جملہ یہ ہے : من مفاخر الاسلام أنه دین مسئول ... ومن مفاخر الاسلام ايضا انه ليس رهبانية وانما هودين حياة معتدلة (اسلام کی قابل فخر باتوں میں سے یہ ہے کہ وہ مسئلویت کا دین ہے۔ اسی طرح اسلام کی قابل فخر باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رہبانیت کا دین نہیں ، وہ معتدل زندگی کا دین ہے)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے کبھی فخر کی زبان استعمال نہیں کی۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کے مسلمان ہیں جو اس قسم کی زبان بولتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کےمسلمانوں نے چوں کہ اسلام کو اپنے فخر کی چیز بنا رکھا ہے، اسی لئے وہ ان کے یہاں عمل کی چیز نہ بن سکا۔فخر کی نفسیات صرف جھوٹی تعلٰی کا جذبہ ابھارتی ہے، وہ آدمی کے اندر کبھی عمل کا جذبہ بیدار نہیں کرتی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
26 جنوری 1989
تبلیغی جماعت کے دو عالم ملاقات کے لئے آئے ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا تبلیغ کے ذریعہ لاکھوں مسلمانوں کی اصلاح ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں میں اصلاح کا کام تو تبلیغی جماعت کر رہی ہے ، مگر غیرمسلموں میں دعوت کا کام اس نے چھوڑ رکھا ہے۔ حالانکہ غیر مسلموں کی دعوت کے بغیر مسلمانوں کو خدا کی وہ مدد نہیں مل سکتی جس کا وعدہ غیرمسلموں کے مقابلہ میں کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ابھی تو مسلمان خود اصلاح یافتہ نہیں ہیں ، پھر وہ غیرمسلموں میں دعوت و تبلیغ کا کام کس طرح کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں عام مسلمانوں کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ ان مسلمانوں کی بات کر رہا ہوں جو تبلیغ کے ذریعہ اصلاح یافتہ ہو چکے ہیں، اور ایسے لوگوں کی تعداد خود آپ کے بیان کے مطابق لاکھوں ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر میں نے کہا کہ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرنے کی یہ کوئی شرعی شرط نہیں ہے کہ سارے مسلمان اصلاح یافتہ ہو چکے ہوں، اس کے بعد ان کے اندر کام کا آغاز کیا جاۓ۔
حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل بہت زیادہ بگڑ چکے تھے۔ اس کے باوجود حضرت موسی نے مصر کے قبطیوں پر دعوت کا عمل جاری کیا۔ نبوت ملنے کے بعد جب اللہ تعالی نے فرمایا : اذهب الى فرعون انه طغی ، توحضرت موسی نے یہ نہیں فرمایا کہ پہلے بنی اسرائیل کی اصلاح ہو جائے ، اس کے بعد فرعون پر دعوتی کام کیا جائے گا۔ بلکہ نبوت ملنے کے بعد فورا فرعون کے دربار میں پہنچے ، اور اس پر دعوتی عمل کا آغاز کر دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
27 جنوری 1989
پاکستان کے قیام ( 1947) کے بعد نواب زادہ لیاقت علی خاں (1895 -1951) اس کے پہلے وزیر اعظم بنائے گئے مگر پاکستان کے قیام کے فورا بعد وہاں قانون اسلامی کے نفاذ کی مہم چل پڑی۔ جماعت اسلامی کے رہنما اور دوسرے اسلامی لیڈروں نے ان کے خلاف تقریریں شروع کیں ۔ یہاں تک کہ ایک جنونی آدمی نے 16 اکتوبر 1951کو انہیں راولپنڈی میں گولی مار کر ھلاک کر دیا ۔
جس زمانہ میں لیاقت علی خان کے خلاف اسلامی مطالبہ کی مہم جاری تھی، دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتم مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی (1983-1895) پاکستان گئے۔ وہاں ایک "اسلام پسند" صاحب ان سے ملے ۔ ان کی داڑھی مونڈی ہوئی تھی۔ انھوں نے قاری طیب صاحب سے کہا کہ آپ پاکستان میں قانون اسلامی کے نفاذ کی مہم کی کھل کر تائید کیوں نہیں کرتے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس لئے حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ یہاں فوراً اسلامی قانون کو نافذ کریں۔ قاری طیب صاحب خاموشی سے ان کی گفتگو کو سنتے رہے۔ اس کے بعد مذکورہ اسلام پسند کی داڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : آپ اپنے چہرہ کی اس چند انچ جگہ پر تو اسلام کو نافذ نہ کرسکے، پھر سارے ملک میں آپ اسلام کوکس طرح نافذ کریں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ میں اسلامی حکومت کے علمبرداروں پر یہ تبصرہ نہایت صادق آتا ہے۔ ان کی زندگیاں حقیقی اسلام سے خالی ہیں اور وہ ساری دنیا میں اسلامی اقتدار قائم کرنے کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ سطحی اسلام پسندی کا یہ منظر اس سے پہلے آسمان نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔
28 جنوری 1989
27جنوری کو جمعہ تھا۔ ایک امریکی پروفیسر رالف سسن (Dr Ralph R. Sisson) ہمارے مرکز میں آئے ۔ وہ اسلامی عبادت کے بارہ میں جاننا چاہتے تھے۔ میں نے نماز کی کچھ تفصیلات ان کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے بہت دلچسپی لی۔ پھر میں نے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو ہمارے ساتھ مسجد میں چلیں اور ہمارے ساتھ صف میں شریک ہوکر نماز پڑھیں تاکہ آپ کو اس کا پورا اندازہ ہوجائے۔
وہ فوراً راضی ہوگئے۔ چنانچہ ایک بجے میں ان کو لے کر کالی مسجد (نظام الدین) گیا۔ وہاں انھوں نے ہمارے ساتھ کھڑے ہوکر دو رکعت جمعہ کی نماز پڑھی۔ واپسی پر میں نے ان سے تاثر پوچھا تو انھوں نے بہت اچھے تاثر کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ میرے لئے نماز کو دیکھنے اور اس کے عمل میں شریک ہونے کا پہلا موقع تھا ۔ یہ پہلا موقع تھا جب کہ میں نے اپنا سر اور پیشانی اس طرح سجدہ میں رکھا۔ اس سے میری روح میں ایک عجیب اہتزاز پیدا ہوا۔
مغرب کے لوگ ہرمعاملہ میں بے حد سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اگر انہیں تعمیری انداز میں اسلام سے متعارف کرایا جائے تو وہ بہت جلد اسلام سے قریب آجائیں گے۔ مذکورہ امریکی پروفیسر کومرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات دی گئیں۔
29 جنوری 1989
ٹائمس آف انڈیا میں ہر روز ایڈیٹوریل کے صفحہ پر ایک مقولہ درج کیا جاتا ہے۔ اس کے شمارہ 28 جنوری 1989 میں جو مقولہ نقل کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ کیوں اکثر لوگ مواقع کو پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مواقع ہمیشہ سخت محنت کے بھیس میں آتے ہیں :
other sourceWords of another person or source
The reason many people fail to recognise opportunity is because it comes disguised as hard work.
یہ نہایت صحیح بات ہے جو اس چھوٹے سے فقرہ میں کہی گئی ہے ۔ مواقع سے فائدہ اٹھانا حقیقی عمل چاہتا ہے، اور حقیقی عمل ہمیشہ دیر طلب اور محنت طلب ہوتا ہے۔ لوگ مواقع کو جاننے کے باوجود اس سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے ، کیوں کہ وہ لمبی مدت تک سخت محنت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
30 جنوری 1989
فرانسیسی مفکر ارنسٹ رینان (Ermest Renan) 1833 میں پیدا ہوا ، اور 1892 میں پیرس میں اس کا انتقال ہوا ۔ وہ دور جدید کے مشہور فلسفیوں میں سے ہے۔ عرصہ ہوا میں نے کہیں پڑھا یا سنا تھا کہ جمال الدین افغانی نے ، جب کہ وہ پیرس میں تھے، ارنسٹ رینان کو اسلام کا پیغام دیا تھا۔ مجھے خوشی تھی کہ سید جمال الدین نے کم از کم ایک صحیح کام کیا۔ حال ہی میں میری یہ خوش فہمی ختم ہوگئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنیوا (سوئزرلینڈ) سے ایک مجلہ انگریزی اور عربی میں نکلتا ہے۔ اس کا نام العروۃ الوثقیٰ ہے۔ یہ سید جمال الدین افغانی کے عربی جریدہ کا احیاء ہے جو اسی نام سے پیرس سے جاری ہوا تھا۔ اس کے شمارہ نمبر50 (1988) میں چھ صفحہ کا ایک مضمون ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 1883 میں ارنسٹ ریناں کا ایک بیان پیرس کے ایک فرانسیسی جریدہ (Journal des Debats) کے شمارہ 18 مئی 1883 میں شائع ہوا تھا۔ سید جمال الدین افغانی نے اس کا عربی ترجمہ پڑھا اور اس سے متاثر ہو کر ایک مضمون مذکورہ فرانسیسی جریدہ کے نام روانہ کیا ۔ سید جمال الدین افغانی کے اس مضمون یا جواب کا مکمل انگریزی ترجمہ العروۃ الوثقیٰ کے مذکورہ نمبر میں شائع ہوا ہے ۔ میں نے اس کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ جمال الدین افغانی کا مذکورہ جواب حقیقت میں اسلامی دعوت نہ تھا بلکہ وہ اسی قسم کی ایک دفاعی تحریری جیسا کہ ان کی دوسری تحریریں ہیں ۔
اس جواب میں انھوں نے لکھا تھا کہ مسٹر ریناں کی بہت دو بنیادی موضوع سے تعلق رکھتی ہے۔ ممتاز فلسفی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلم مذہب اپنی حقیقت کے اعتبارسے سائنسی ترقی کا مخالف ہے۔ اور یہ کہ عرب لوگ اپنی طبیعت کے اعتبار سے مابعد الطبیعیاتی علوم سے دلچسپی رکھتے تھے اور نہ فلسفہ سے :
Mr Renan's talk covered two principle points. The eminent philosopher applied himself to proving that the Muslim religion was by its very essence opposed to the development of science, and that the Arab people, by their nature, do not like either metaphysical sciences or philosophy. (p. 28)
other sourceWords of another person or source
جمال الدین افغانی نے اپنے جوابی مضمون میں انھیں دونوں " الزامات" کا دفاع کیا ہے۔ اس کا حقیقی اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
31 جنوری 1989
دکتورعبد الحلیم عویس ریاض کی جامعہ الامام میں علوم اجتماعیہ کے پروفیسر ہیں۔ وہ میری تحریروں کے بہت قدرداں ہیں اور سعودی عرب کے اونچے حلقوں سے قریبی روابط رکھتے ہیں۔ اپریل 1986 کے دوسرے ہفتے میں وہ دہلی آئے اور ہمارے مرکز میں ٹھہرے۔ ان کے اس قیام دہلی کا ایک واقعہ الرسالہ اپریل 1987 (صفحہ 8) میں شائع ہوا ہے۔
دکتور عبدالحلیم عویس کی اس آمد کا مقصد یہ تھا کہ الرسالہ کے عربی اڈیشن کے معاملات طے کریں۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو انھوں نے راضی کرلیا کہ وہ ترجمہ اور ایڈٹ کرنے کا کام کریں گے۔ انھوں نے پیش کش کی کہ اس کا سارا خرچہ مکمل طور پرسعودی عرب سے پورا کیا جائے گا اور تمام عالم عرب میں اس کو پھیلایا جائے گا۔
تاہم میں اس پیشکش کو منظور نہ کر سکا۔ کیوں کہ اس میں میرے لئے ذاتی شہرت کا موقع تو بہت تھا۔ مگرمیرا اصل مقصد اس سے حاصل نہیں ہورہا تھا۔ اور اس کی وجہ ان کی یہ شرط تھی کہ اس عربی الرسالہ میں 50 فیصد مضامین میرے ہوں گے اور 50 فیصد مضامین دوسروں کے ہونگے۔ یہ میرے نزدیک رکون (ہود 113 ) کے ہم معنی تھا، اس لئے میں اس کو قبول نہ کر سکا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
50 فیصد کی اس تقسیم کے بعد الرسالہ کا نقشہ کیا ہوتا ، اس کی ایک مثال مسلمانوں کے دوسرے پرچے ہیں جن میں ہمیشہ دعوت کے ساتھ غیر دعوت بھی موجود رہتی ہے مثلا ریاض کے ہفت روزہ الدعوة (جمادى الآخرة 1409ھ ، 16 جنوری 1989) میں دکتور عبد الحلیم عویس کا ایک مضمون ہے جس میں دعوت کو المفتاح العظیم بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مسلمان داعی بن کر دوسری قوموں کے اوپر نفع حاصل کریں (صفحہ 50) دوسری طرف اسی پرچہ میں 6 صفحات کا ایک اور مضمون ہے جس کا عنوان ہے : الاقليات المسلمة تواجبه خطرال: وبان ( مسلم اقلیتوں کو کچلنے کے خطرہ کا سامنا)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ خطرہ کس کی طرف سے ہے۔ یہ انھیں غیرمسلم قوموں کی طرف سے ہے جن کے اوپر دعوت کا کام کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ لوگ جن کو مدعو کہا جاتا ہے۔ گویا ایک ہی پرچہ میں ایک طرف مسلمانوں کو داعی بننے پر ابھارا جا رہا ہے اور اسی پرچہ میں دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ تمہارا مدعو خطرہ ہے۔ یہ بات داعیان نفسیات کے سراسر خلاف ہے۔ جو لوگ اس طرح کی نفسیات میں مبتلا ہوں ، وہ کبھی دعوت کا کام نہیں کر سکتے ۔
12 جنوری 1989
ایک مفکر کا قول ہے کہ مصیبت کے وقت جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف امید ہے:
other sourceWords of another person or source
In adversity a man is saved by hope.
یہ بات نہایت صحیح ہے۔ میں اس میں صرف یہ اضافہ کروں گا کہ امید کا سب سے بڑا سرچشمہ اللہ کی ذات پر یقین ہے۔ ہر دوسری چیز جس سے امید قائم کی جائے ، کہیں نہ کہیں اس کی حد آجاتی ہے کسی نہ کسی وقت وہ آدمی کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ جو شخص اللہ کو پاکر اپنی امید یں اس سے وابستہ کرلے ، اس کے لئے کوئی حد نہیں ۔ وہ امید کا ایسا سراپالیتا ہے جو کسی بھی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔