← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
November 1984
English · 31 min read
یکم نومبر 1984
جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ چڑیاں اور مچھلی وغیرہ موسمی حالات کا پیشگی اندازہ کر لیتی ہیں۔ ان کے اندر پیدائشی طور پر ایک نظام ہوتا ہے جس کوموجودہ زمانہ کے سائنسداں حیاتیاتی گھڑی (Biological Clock) کہتے ہیں۔ جب بھی کوئی موسمی تبدیلی ہونے والی ہوتی ہے تو چڑیوں اور مچھلیوں کو ان کا پیشگی اندازہ ہو جاتا ہے اور وہ اس سے بچاؤ کا انتظام کرلیتی ہیں۔
نپولین کی فوجیں 1812ء میں روس کی سرحد پر برف باری سے تباہ ہوگئیں ۔ یہی حال ہٹلر کی فوجوں کا ہوا جب کہ وہ 1941 میں اسٹالن گراڈ تک پہنچ گئی تھیں مگرشدید برف باری کے نتیجہ میں ہلاک ہوکر رہ گئیں ۔
کیسی عجیب بات ہے کہ نپولین اور ہٹلر کی فوجوں کو روس کی برفباری کا پیشگی اندازہ نہ ہوسکا۔ اور اسی روس میں سائبریا کی چڑیوں کا یہ حال ہے کہ وہ برف کے موسم کا پیشگی اندازہ کر کے وقت سے پہلے سائبریا سے روانہ ہو جاتی ہیں اور لمبی اڑان کے بعد گرم علاقوں (ہندستان ، افریقہ وغیرہ ) چلی جاتی ہیں۔
کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہاں " نپولین“ اور” ہٹلر" سے بھی زیادہ بڑا ایک جاننے والا ہے جو اپنے علم محیط کے تحت چڑیوں کو وہ باتیں بتا دیتا ہے جو چڑیاں خود سے نہیں جان سکیں۔
2 نومبر 1984
کمپیوٹر ایک برقی مشین (Electric Device) ہے ۔ کمپیوٹر اپنے دائرہ میں اس کام کو مشینی انداز میں کرتا ہے جس کو انسانی دماغ ذاتی قسم کے تحت کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ کمپیوٹر کی رفتار بہت زیادہ تیز ہوتی ہے۔ کمپیوٹر کے اندر مختلف معلومات "مشینی زبان" کی صورت میں ذخیرہ کر دی جاتی ہیں ۔ ان کو پرو گریمنگ لینگویج یا مشین لینگویج کہا جاسکتا ہے۔
کمپیوٹر ان کا تجزیہ کر کے نیتجہ سنا دیتا ہے ۔ اس عمل کو پروگرامنگ کہا جاتا ہے۔ جیسے کسی چوکیدارکو بتایا جائے کہ کوئی آدمی آۓ ، وہ اجنبی ہو اور بے وقت آیا ہو، اس کے پاس ہتھیار ہو، وہ دروازہ کا تالا توڑ لگے تو سمجھنا کہ وہ ڈاکو ہے اور فورا الارم بجا دینا۔ اس قسم کی باتوں کو کمپیوٹر کے اندر اعداد یا کوڈ کی صورت میں بھر دیا جاتا ہے۔ کمپیوٹر کے اندر اس قسم کی باتیں کروروں کی تعداد میں بھری جا سکتی ہیں ۔ اور وہ سکنڈوں میں ان کا تجزیہ کر کے اس کے نیتجے کو اسکرین پر ظاہر کر دیتا ہے ۔
کمپیوٹر کے مشینی دماغ کو وجود میں لانے کے لئے ایک انسانی دماغ کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر وہ کون ہے جو انسانی دماغ جیسی پیچیدہ ترمشین کو وجود میں لایا ہے۔
3 نومبر 1984
امام ابوحنیفہ نے فرمایا تھا کہ میرے قول کے مقابلہ میں جب کوئی حدیث مل جائے تو میرے قول کو دیوار پر مار دو ۔ اس کے بعد وہی حدیث میرا قول ہے ۔ مگر ہر مصلح بعد کو اپنے پیروؤں کی نظر میں مقدس بن جاتا ہے اور پھر لوگوں کے لئے یہ سوچنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس نے کوئی غلطی بھی کی ہے۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ کے پیرو بعد کو اس قدر غلو میں پڑ گئے کہ ایک شاعر نے کہا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فلعنة ربنا اعداد رمل على من رد قول ابى حنيفة
یعنی اس شخص پر ریت کے ذروں کے برابر خدا کی لعنت ہو جو ابوحنیفہ کے قول کا انکار کرے ۔
4 نومبر 1984
قرآن میں دور اول کے مسلمانوں (صحابہ) کو یہ تعلیم دی گئی کہ تم یہود و نصاری سے کہو کہ ہم سب پیغمبروں کو مانتے ہیں ، ہم پیغمبروں کے درمیان فرق نہیں کرتے جیسا کہ تم کر رہے ہو ( لانفرق بين احد من رسله)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت کو وقت نزول کی عملی صورت حال میں رکھ کر دیکھئے ۔ اس وقت ایک طرف حضرت مسیح اور حضرت موسی جیسے پیغمبر تھے جن کو عیسائی اور یہودی مان رہے تھے اور مسلمان بھی ان پر ایمان لائے ہوئے تھے ۔ دوسری طرف پیغمبر اسلام (محمد بن عبداللہ) تھے جن کومسلمانوں نے مانا تھا۔ مگر یہودیوں اور عیسائیوں نے ان کا انکار کر دیا تھا۔
ان دونوں پیغمبروں میں کیا فرق تھا جس کی وجہ سے یہ فرق واقع ہوا۔ وہ یہ تھا کہ مسیح اور موسی ماضی کے پیغمبر تھے اور محمد حال کے پیغمبر ۔ مسیح اور موسیٰ کی پیغمبرانہ حیثیت بھی تاریخ کے ذریعہ مسلم ہو چکی تھی ۔ اس کے برعکس محمد بن عبد اللہ اپنی تاریخ کے ابتدائی دور میں تھے۔ اور ان کے ساتھ وہ اسباب و واقعات جمع نہیں ہوئے تھے جوکسی شخصیت کو مسلم شخصیت بنا دیتے ہیں۔
اس فرق کو سامنے رکھ کر مذکورہ آیت : لا نفرق بين احد من رسلہ (ہم پیغمبروں کے درمیان فرق نہیں کرتے) پرغور کیجئے تو اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوگا کہ اس وقت کے مسلمان یہود و نصاری سے کہہ رہے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔ ہم مسلمہ پیغمبروں کو بھی مانتے ہیں اور اس پیغمبرکو بھی جس کو ماننے کے لئے جوہرشناسی کی صلاحیت درکار ہے جب کہ تم اول الذکر کو مانتے ہو اورثانی الذکر کا انکار کر رہے ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہود و نصاری پر جب قرآن نے یہ الزام لگایا کہ تم سب پیغمبروں کو نہیں مانتے تو اس کا مطلب صرف گنتی سے نہیں تھا بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ تم اپنے قومی پیغمبروں کو مانتے ہوجو تاریخی طور پر تمہاری قومی روایات کا جز بن چکے ہیں۔ مگر وہ پیغمبر جس کو پہچاننے کے لئے قومیت اور تاریخی روایات سے اوپر اٹھنا پڑتا ہے اس کو پہچانے میں تم ناکام ثابت ہوئے ہو ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
5 نومبر 1984
ساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں جب اسلام مکہ سے نکالا جارہا تھا ، عین اسی وقت وہ یثرب (مدینہ) میں اپنی جگہ بنا رہا تھا۔ 13 ویں صدی عیسوی (1258ء) میں مغل قبائل نے بغداد کو تباہ کر کے عباسی سلطنت کو خون میں غرق کر دیا مگر اسی زمانہ میں اسلام جزیره سماترا اور جزائر ملایا میں اپنا فاتحانہ سفر (بذریعہ دعوت) شروع کر رہا تھا۔
اسلام کی دعوتی قوت کا یہ حیرت انگیز کرشمہ ہے۔ تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ اسلام کے پاس جب مادی قوت باقی نہ ہو اس وقت بھی دعوت کی ناقابل تسخیرقوت اس کے پاس موجود ہوتی ہے ۔ وہ تلوار کو کھو کر دعوت وتبلیغ کے ذریعہ اپنا سفر شروع کر دیتا ہے۔ یثرب سے لے کر ملیشیا تک کی تاریخ یہی سبق دے رہی ہے ۔
6 نومبر 1984
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اب میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا۔ توتم دوسروں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو (فلا تخشوهم واخشون ) یہ خدا كا اٹل وعده ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب اہل ایمان کے لئے اندیشہ کی چیز کافر اقوام نہیں ہیں بلکہ صرف ذات خداوندی ہے جس سے مسلمانوں کو اندیشہ کرنا چاہئے۔ اب خشیت الہی مسلمانوں کی کامیابی کی ضمانت ہے نہ کہ خشیت اغیار ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حقیقت کی روشنی میں دیکھئے تو وہ تمام تحریکیں غیر قرآنی قرار پاتی ہیں جنھوں نے کسی غیر خدا کو مسلم مسلئہ کا سبب قرار دے کر اس کے خلاف ہنگامہ آرائی کی ۔ تکمیل دین کی مذکورہ آیت سے مسلمانوں نے فخر کی غذا تو لی مگر انھوں نے اس سے سبق کی غذا نہیں لی۔ ایک طرف مسلمان اس آیت کی بنیادپر یہ کہتے ہیں کہ ہمارا دین دین کامل ہے ۔ اور عین اسی وقت وہ دوسری قوموں کو اپنی بربادی کا سبب قرار دے کر ان کے خلاف چیخ پکار کی مہم چلاتے ہیں ۔ حالانکہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
8 نومبر 1984
ڈاکٹر حمید اللہ ندوی بھوپالی اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں : آج ٹی ٹی نگر والے نور میاں صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے ایک صاحب کے بارے میں ایک جملہ کہا جو مجھ کو بہت اچھا لگا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھوں نے کہا :
ہمارے ساتھ وہ آئے جو گھرکو آگ لگائے ...."
اسی حقیقت کو کبیر داس نے ان الفاظ میں کہا ہے :
کبرا کھڑا بجار میں لئے لو اٹھا ہاتھ
جو گھر جارے اپنا چلے ہمارے ساتھ
یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنی ذات کی قربانی ہی پر قوم کی تعمیر ہوتی ہے۔ دنیا کے مفاد کو خطرہ میں ڈالنے کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے کہ آدمی کے لئے آخرت کے مفادات محفوظ ہو جائیں۔
9 نومبر 1984
غلطی کرنا غلطی نہیں ، غلطی کو نہ ماننا غلطی ہے ۔ اچھا کام کرنا اچھا نہیں۔ اچھا یہ ہے کہ آپ اچھا کام کریں اور پھر بھی یہ سمجھیں کہ آپ نے کچھ نہیں کیا ۔
10 نومبر 1984
آج یہ حال ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے بارہ میں غیر جانبدار بنے رہتے ہیں۔ کوئی شخص خالص حق و انصاف کی خاطر کسی کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔
کوئی آدمی کسی کا ساتھ دینے کے لئے اگر کھڑا ہوتا ہے تو صرف وہاں کھڑا ہوتا ہے جہاں ایسا کرنے سے اس کی قیادت چمکتی ہو ۔ جہاں دوسرے کا ساتھ دینے میں خود اپنا کوئی مفاد وابستہ ہو۔ جہاں آدمی کی قومی حمیت بھڑک اٹھی ہو اور قومی جذبہ کے تحت وہ کسی معاملہ میں کود پڑے۔ کسی شخص کی حقیقی مدد کے لئے کوئی متحرک نہیں ہوتا۔
لوگ احتساب عالم کے نعرے لگاتے ہیں۔ مگر احتساب فرد ان کی فہرست سے خارج ہے۔اس قسم کا احتساب صرف لفظوں سے کھیلنا ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں خدائی حکم پر عمل کرنا۔
11 نومبر 1984
قرآن میں پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے : ان يمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثله (اگرتم لوگوں کو زخم لگا ہےتودوسرے لوگوں کو بھی ایسا ہی زخم لگا ہے)
Qur'anQuotes the Qur'an
یہ دنیا مسائل و مشکلات کی دنیا ہے ۔ یہاں نیک لوگوں کو بھی مسائل پیش آتے ہیں، وہ بھی مشکلات میں پھنستے ہیں۔ اس طرح اس دنیا میں برے لوگوں کو بھی مسائل پیش آتے ہیں اور وہ بھی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ۔ مگر دونوں فریقوں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ فریق اول کے مسائل جن اسباب سے پیدا ہوتے ہیں وہ اس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں جو فریق ثانی کے لئے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
فریق اول کے مسائل اس کی اصول پسندی ، اظہار حق اور غیرمصالحانہ رویہ کی بنا پر ہوتے ہیں ۔ اس کے برعکس فریق ثانی کے مسائل پیدا کرنے کا سبب ہوتا ہے ۔ حسد،کبر،خود غرضی ، سرکشی، عدم اعتراف ۔ اول الذکر کا سرچشمہ خدا کا خوف ہوتا ہے اور ثانی الذکر کا سرچشمہ خدا سے بے خوفی ۔
12 نومبر 1984
سورہ عنکبوت ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی ۔ اس میں کہا گیا کہ میری زمین وسیع ہے اس لئے تم میری عبادت کے لیے کوئی دوسرا گوشہ تلاش کرلو (56-60) اس کے مخاطب مکہ کے اہل ایمان تھے۔ ان سے کہا گیا کہ مکہ کے لوگ اگر تم کو بتاتے ہیں تو تم مکہ کو چھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلے جاؤ اور وہاں اللہ کی عبادت گزاری کرو ۔ اس کے مطابق مکہ کے مسلمانوں کی ایک جماعت مکہ کو چھوڑ کر حبش کے شہر اکسوم (Axum) چلی گئی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے معلوم ہوا کہ صبر اور توکل کا مطلب عبادت پر جمنا ہے نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پرجمنا۔ اگر مطلوب یہ ہو کہ ہر حال میں دشمن سے مقابلہ جاری رکھا جائے تو ان حالات میں مکہ کے مسلمانوں سے کہا جاتا کہ تم لوگ مخالفین سے لڑتے رہو، اور کسی حال میں وہاں سے نہ ہٹو ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگر اعلی ایمان یہ ہوتا کہ جب دشمن سے مقابلہ پیش آئے تو ہر حال میں لوگ مقابلہ پر جمے رہیں تو ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ دونوں فرار بن کر رہ جاتے ہیں نہ کہ کوئی اعلی دینی عمل۔
13 نومبر 1984
خوش نامی اور بدنامی کی حقیقت ایک لفظ میں یہ ہے ۔ بے اصول آدمی سے ہر ایک خوش رہتا ہے ، اور با اصول آدمی سے ہر ایک ناخوش ۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جو شخص بھی وائس چانسلر ہو کر جاتا ہے وہ تھوڑے دنوں کے بعد بدنام ہو جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جب بھی کوئی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو وہ تمام لوگ چیخ پڑتے ہیں جن پراس کی زد پڑ رہی ہوتی ہے ۔ وہ فوراً "اسلام خطرہ میں" کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی ذاتی شکایت کو ملی مسئلہ بنا کر وائس چانسلر کو بد نام کرنے اور اس کو اکھاڑنے کی مہم جاری کر دیتے ہیں ۔
اس میں غالبا صرف ایک استثناء ہے اور وہ پروفیسر خسرو کا ہے ۔ ان کا اصول غالبا یہ تھا کہ ادارہ کو اس کے حال پر چھوڑ دو اور اپنا ٹرم پورا کرو ۔ ان کے طریق کار کے بارہ میں ایک لطیفہ مشہور ہے۔ طلبہ کا ایک وفد ان سے ملاقات کے لئے آیا اور اپنے کچھ مطالبے پیش کئے۔ پروفیسر خسرو نے طلبہ سے اتفاق کیا ۔ اور کہا کہ آپ لوگ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ وہ لوگ خوش ہوکر چلے گئے ۔ اس کے بعد ان کا مخالف گروپ آیا اور اس نے بالکل متضاد مطالبہ پیش کیا۔ پروفیسر خسرو نے ان سے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ آپ لوگ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔
پروفیسر خسرو کی بیگم یہ دونوں باتیں سن رہی تھیں جب دوسرا گروپ بھی چلا گیا تو انھوں نے پروفیسر خسرو سے کہا کہ آپ نے پہلے وفد کو بھی ٹھیک کہا اور دوسرے وفد کو بھی ، حالانکہ دونوں کے مطالبات بالکل ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ پروفیسرخسرو نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا :
بیگم ، آپ بھی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔
پروفیسر کا یہ لطیفہ علی گڑھ کے ایک صاحب نے مجھے بتایا۔
14 نومبر 1984
علامہ اقبال (1877 -1938 ) نے جب اپنی زندگی شروع کی تو وہ مسلمانوں کے بارہ میں بہت اعلی امیدیں رکھتے تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی " بانگ درا " اس سوئے ہوئے شیر کو جگا دے گی۔ اور وہ اٹھ کر سارے زمین و آسمان کو بدل ڈالے گا۔ اپنے ابتدائی زمانہ میں انھوں نے کہا :
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
حالات نے اقبال کا ساتھ دیا اور اپنی زندگی ہی میں اقبال کو غیرمعمولی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔ اقبال کے اشعار پوری امت کی زبان پر نغمہ ملت بن کر گونجنے لگے۔ مگرعملی اعتبار سے نتیجہ بالکل صفر رہا ۔ مثلا اقبال نے لاہور میں "تبلیغی کالج" قائم کیا۔ اس میں طلبہ کو ایسا نصاب پڑھایا جاتا تھا کہ اس سے فارغ ہو کر وہ داعی اور مبلغ بن سکیں۔ اقبال نے خیال کیا تھا کہ تبلیغی کالج کے فارغ شدہ طلبہ کو مسلم ادارے اپنے یہاں معقول مشاہرہ پر رکھ لیں گے اور وہ مسلم اداروں کی کفالت پر ملک میں تبلیغ و دعوت کا کام انجام دیں گے۔ مگر جب تبلیغی کالج سے فارغ شدہ لوگ نکلے تو کوئی ادارہ ان کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ چنانچہ پہلے بیچ کے بعد اس میں داخلے بند ہوگئے اور کالج ٹوٹ گیا۔
اس طرح کے بہت سے ناکام تجربے ہوئے جس کے نتیجہ میں اقبال کی امیدیں مایوسی میں تبدیل ہوگئیں ۔ جس اقبال نے ابتداء مذکورہ بالا شعر کہا تھا، اس نے اپنی آخری عمر میں یہ اعتراف کیا:
تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف
یہی واقعہ موجودہ زمانہ کے اکثر مصلحین اور رہنماؤں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان اب ایک زوال یافتہ قوم ہو چکے ہیں ۔ ان کے اندر وہ اعلیٰ صفات مر چکی ہیں جو جوہرانسانیت ہیں۔ اس لئے اب اسلام کے احیاء کی واحد صورت یہ ہے کہ غیرمسلموں میں بڑے پیمانہ پر دعوتی کام کیا جائے ۔ اب غیر قوموں ہی سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ان کے اندرسے ایسے جاندار لوگ نکلیں جو موجودہ زمانہ میں اسلام کے حامل بن سکیں۔
15 نومبر 1984
فرینک لائڈ رائٹ کا قول ہے کہ تعمیر میں واحد غلط چیز اس کے معمار ہیں ؛
other sourceWords of another person or source
The only thing wrong with architecture is architects.
Frank Lloyd Wright
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی تعمیرکا اچھا یا برا ہونا اس کے معماروں پرمنحصر ہے معمار اگر اچھے ہیں تو تعمیر اچھی ہوگی، معمار اگر برے ہیں تو تعمیر بھی اسی نسبت سے بری ہو جائے گی۔
یہی حال قوم کا بھی ہے ۔ قوم اگر عمارت ہے تو اس کے لیڈر اس کے معمار ہیں ۔ وہ قوم خوش قسمت ہے جس کو سنجیدہ اور دانش مند لیڈر مل جائیں۔ ایسے لوگ قوم کو آگے کی طرف لے جائیں گے۔ اور جس قوم کے لیڈر سطحی، نادان اور غیر سنجیدہ ہوں وہ قوم کو بربادی کے گڑھے میں گرانے کے سوا کچھ اور نہیں کرسکتے۔
16 نومبر 1984
موجودہ زمانہ میں جب مغرب کی قومیں ابھریں اور دنیا پرچھا گئیں تومسلمانوں میں اس کے جواب میں دو قسم کا ذہن ابھرا۔ ایک ، خالص تقلید کا ذہن ۔ ہندستان کے ایک شاعر (حالی) نے کہا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حالی اب آؤ پیروی مغربی کریں
یہی بات مشہور عرب شاعرحافظ بک ابراہیم نے ان لفظوں میں کہی :
ليتنا نقتدى بكم او نجاريكم عسى نسترد ما كان ضاعا
(اے اہل مغرب) کاش ہم تمہاری پیروی کرتے یا تم سے قریب ہوتے تو ممکن تھا کہ ہر وہ چیز دوبارہ حاصل کر لیں جس کو ہم نے کھو دیا ہے ۔
دوسرا ذہن ردعمل کا ذہن تھا۔ مغربی قوموں نے چونکہ مسلمانوں سے ان کی عظمت چھینی تھی اس لئے یہ لوگ مغرب کے خلاف بگڑ کر ان سے لڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔
یہ دونوں ہی ذہن غلط تھا ۔ کرنے کا اصل کام تھا کہ مسلمانوں کو دوبارہ زندہ اورمستحکم بنایا جائے ۔ مگر دور جدید میں اس قسم کے مصالحین اتنے کم ہیں کہ وہ کسی شمار میں نہیں آتے۔
17 نومبر 1984
"شنکر بھگوان کی مورتی لے لو ، شنکر بھگوان کی مورتی۔" ایک شخص آواز لگاتا ہوا سڑک سے گزرا۔ میں نے سوچا ، وہ لوگ بھی کیسے عجیب میں جو بھگوان کو ایسی چیز سمجھتے ہیں جس کو بیچا اور خریدا جاۓ۔ آسمان کے نیچے شاید اس سے زیادہ عجیب واقعہ اور کوئی نہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
18 نومبر 1984
قدیم عرب میں ایک یہودی قبیلہ تھا جس کا نام بنو قریظہ تھا ۔ اس قبیلہ کا عالم اور سردار حی بن اخطب تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر قیادت مسلمانوں نے بنوقریظہ کا محاصرہ کیا تو وہ قلعہ بند ہوگئے۔ حی بن اخطب نے قلعہ کے اندر یہودیوں کو جمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہم اس آدمی کی اتباع کریں اور اس کی تصدیق کریں کیونکہ خدا کی قسم تم پر واضح ہوگیا ہے کہ وہ یقیناً خدا کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ ان کو تم اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے ہو۔ اگر تم ایسا کرو اور اپنے خون کو اور اپنے اموال کو بچا لوگے (نتابع هذا الرجل و نصدقھ تهفيالله لقـدتبينلكمانالـنـبـيمـرسـلـواناللـذيتجدونهفيكتابكم،فتامنونعلىدمائكمواموالكم،الرسول،صفحہ۱۹۸ )
other sourceWords of another person or source
یہودیوں ( بنو قریظہ ) نے بھی حئی بن اخطب کی بات نہ مانی مگر اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ خود حی بن اخطب بھی اس کے باوجود یہودیوں سے الگ نہیں ہوا ۔ وہ ان کے ساتھ شامل رہا۔ یہاں تک کہ دوسرے یہودیوں کے ساتھ وہ بھی قتل کر دیا گیا۔
حی بن اخطب کو معلوم تھا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں ۔ اس کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس وقت میں زندگی اور موت کے کنارے ہوں ۔ اگر میں آپ کی پیغمبری کا اقرار کر لوں تو میں اپنی جان پا لوں گا ۔ پھر بھی اس نے اقرار نہیں کیا۔ وہ قوم کے ساتھ آخر وقت تک وابستہ رہا ۔ قومی عصبیت بھی کیسی عجیب چیزہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ قومی اور گروہی عصبیت رہی ہے، قدیم زمانہ میں بھی اور آج بھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
19 نومبر 1984
جان لاک (1632-1704) نے کہا ہے کہ چیزیں صرف خوشی یا غم کی نسبت سے اچھی یا بری ہوتی ہیں :
other sourceWords of another person or source
Things are good or evil only in relation to pleasure or pain.
اس سلسلہ میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولاعبدالماجد دریابادی میں یہ بحث ہوئی کہ پین (pain) اور پلیزر(Pleasure) کا صحیح اردو ترجمہ کیا ہے ۔ جب دونوں میں اتفاق رائے نہ ہوسکا تو مولانا دریا بادی نے بگڑ کر کہا : آپ کس مشرقی یا مغربی درس گاہ کے تعلیم یافتہ ہیں ۔ مولانا آزاد نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں رب المشرقین والمغربین کی درس گاہ کا تعلیم یافتہ ہوں۔
سرسید احمد خاں نے اپنے بارہ میں کہا تھا: من شاگرد مکتب قرآنم (میں قرآن کے مدرسے کا طالب علم ہوں )
other sourceWords of another person or source
اسی طرح مختلف لوگوں نے اپنے علم اور اپنی تعلیم کے بارہ میں مختلف حوالے دئے ہیں مگر میرے نزدیک یہ تمام جوابات ناکافی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کچھ علوم وہ ہیں جو درد کی درس گاہ میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اور جب تک آدمی درد کی درسگاہ کا تعلیم یافتہ نہ ہو، بقیہ علوم بھی اس کے لئے زیادہ مفید نہیں بن سکتے۔
20 نومبر 1984
فرانسس بیکن (Francis Bacon) کا قول ہے ۔ــــ حسد کبھی تعطیل کا دن نہیں مناتی :
other sourceWords of another person or source
Envy never makes holiday.
مطلب یہ ہے کہ حسد ایک ایسی چیز ہے کہ جو شخص اس میں گرفتار ہو جائے وہ برابر اسی میں پڑا رہتا ہے۔ وہ ہر وقت حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ کسی لمحہ اس کو قرار نہیں آتا ۔ کتنی بری چیز ہے حسد ، مگر کتنے زیادہ لوگ اس میں مبتلا رہتے ہیں۔ شاید دنیا میں سب سے زیادہ جو بیماری پائی جاتی ہے وہ حسد ہی ہے۔
21 نومبر 1984
حضرت عثمان بن عفان اسلام کے تیسرے خلیفہ ہیں جب وہ خلیفہ ہوئے تو مدینہ کی مسجد میں لوگوں کے سامنے تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ مگر غالبا انھیں تقریر وخطابت کی زیا دہ مشق نہ تھی یا کسی اور وجہ سے وہ چند ابتدائی کلمات بولنے کے بعد وہ لمبی تقریر نہ کرسکے ۔ چنانچہ انھوں نے حسب ذیل کلمات کہے اور بیٹھ گئے:
تم کو بولنے والے خلیفہ سے زیادہ کرنے والے خلیفہ کی ضرورت ہے
یہی بات عام انسان کے لئے بھی صحیح ہے۔ ہر انسان ، خواہ وہ حکمراں
ہو یا غیر حکمراں ، اس کی قیمت عمل کے اعتبار سے متعین ہوتی ہے نہ کہ قول کے اعتبار سے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ کوئی حقیقی کام کرے۔ الفاظ تو بے دماغ ریکارڈ بھی دہرا سکتے ہیں۔
22 نومبر 1984
استانبول (ترکی) کا قدیم نام قسطنطنیہ (Constantinople) ہے۔ اس کا یہ نام قدیم رومی حکمراں (قسطنطین) کے نام پر تھا۔ مسلمانوں نے اپنے دور میں اس کا نام بدل کر استانبول رکھ دیا۔
استانبول میں 450 مسجدیں ہیں۔ ان میں سے ایک مسجد ایا صوفیا (Hagia Sofia) ہے۔ ایا صوفیا کے معنی ہیں حکمت خداوندی ۔ یہ عظیم عمارت 326ء میں عیسائیوں نے چرچ کے طور پر بنائی تھی ۔ سلطان محمد فاتح نے 1453ء میں استانبول کو فتح کیا توسلطان نے اس کے اندر جمعہ کی نماز پڑھی اور حکم دیا کہ اس کو بدل کر مسجد کی صورت دے دی جائے ۔ اس وقت سے یہ عمارت مسجد کے طور پر استعمال ہونے لگی۔
اس کے بعد ترکی میں مصطفی کمال اتا ترک کی حکومت آئی ۔ وہ سیکولر آدمی تھے۔ چنانچہ انھوں نے 1934 میں ایک نیا حکم نافذ کیا۔ اس کے تحت ایا صوفیا کو دوبارہ میوزیم قرار دے دیا گیا۔ فروری 1935 میں میوزیم کے طور پر اس کے دروازے کھولے گئے ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے بیان کے مطابق استانبول میں 25 قدیم گرجے ہیں جو مسجد میں تبدیل کر دئے گئے ہیں۔ ایا صوفیا کی عمارت چونکہ بہت بڑی اور تاریخی تھی ، اس لئے اس کی زیادہ شہرت ہوئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اتا ترک نے اگرچہ ترکی میں اقتدار پانے کے بعد بے شمار حماقتیں کیں ۔ مگر ایا صوفیا کے بارہ میں اس کا حکم میرے نزدیک درست تھا۔ دوسروں کے عبادت خانہ کو مسجد میں تبدیل کرنا صرف اس وقت درست ہے جب کہ اس کو خرید لیا جائے یا ان سے اس کی اجازت لی جائے۔ اس کے بعد دوسری صورت یہ ہے کہ اس کی عمارت کو کسی پبلک مقصد کے لئے استعمال کیا جائے ، جیسا کہ اتا ترک نے کیا۔
23 نومبر 1984
ہنری پرین (Henri Pireane) مشہور مغربی مورخ ہے۔ وہ 1862 میں بلجیم میں پیدا ہوا اور 1935 میں وفات پائی۔ جرمنی نے بلجیم پرقبضہ کیا تو وہاں وہ تاریخ کا پروفیسر تھا۔ اس نے جرمن نقطہ نظر سے تاریخ پڑھانے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ جرمنوں نے اس کو جیل میں ڈال دیا۔ وہ 1916 سے 1918 تک جیل میں رہا۔ جیل خانہ میں اس کو مطالعہ کے لئے کتابیں حاصل نہ تھیں۔ اس نے محض یادداشت سے ایک کتاب تاریخ یورپ(History of Europe) لکھی ۔ یہ کتاب اصلا جرمن زبان میں تھی ، پھر اس کا انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ اب وہ یورپ میں داخل نصاب ہے۔
کتاب کے دیباچہ میں مصنف نے معذرت خواہانہ انداز میں لکھا ہے کہ حوالہ کی کتابیں نہ ہونے کی وجہ سے میں اپنی یہ کتاب محض یادداشت سے لکھ رہا ہوں ۔ تاریخ کے موضوع پر یادداشت سے لکھنے کا طریقہ صحیح نہیں۔ مگرجیل خانہ کی زندگی میں میرے لئے اس کے سوا کوئی دوسری صورت بھی نہیںـــــــاصل چیز وقت کو مارنا ہے اور وقت کو یہ موقع نہیں دینا ہے کہ وہ خود آدمی کو مار ڈالے :
The essential thing is to kill time and not allow oneself to be killed by it (p. 21).
25 نومبر 1984
ابو داؤد کی ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں : فلما خرج قمنا اليه ( پھرجب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ہم کھڑے ہو گئے) محفل میلاد میں قیام کرنے والے لوگ اس حدیث سے قیام کی دلیل پیش کرتے ہیں، مگر اس حدیث میں جو بات ہے وہ یہ کہ صحابہ نے جب رسول اللہﷺ کو دیکھا تو وہ کھڑے ہو گئے۔ گویا دیکھ کر اٹھے نہ کہ بغیر دیکھے اٹھے ۔ رسول اللہ کی غیرموجودگی میں صحابہ کے درمیان اکثر رسول اللہ کا ذکر کیا جاتا تھا۔ مگر ایسی کوئی روایت نہیں کہ جب رسول اللہ کا نام لیا گیا تو ہم سب لوگ اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ مذکورہ حدیث سے محفل میلاد کے قیام کے حق میں استدلال کرنا قیاس مع الفارق ہے ۔ کیوں کہ یہ حدیث آپ کو دیکھ کر اٹھنے کے بارہ میں ہے نہ کہ دیکھے بغیراٹھنے کے بارہ میں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح ایک روایت ہے کہ بنوقریظہ حضرت سعد بن معاذ کوحکم بنانے پر راضی ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ کو بلایا ۔ وہ سفید گدھے پر بیٹھ کر آئے۔ اس وقت وہ سخت زخمی تھے ۔ رسول اللہ نے حاضرین سے فرمایا کہ اپنے سردار کو (اتارنے کے لئے) اٹھ جاؤ (قوموا الي سیدکم) اس روایت سے بھی محفل میلاد کے قیام پراستدلال کیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں قیام تعظمی کا حکم نہیں ۔ رسول اللہ کی مراد اس قول سے صرف یہ تھی کہ اپنے (زخمی) سردار کو سواری سے اتارنے کے لئے اٹھو۔ واضح ہو کہ حدیث میں قوموا الى سیدکم کا لفظ ہے قومو لسيدکم کا لفظ نہیں ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہر بدعت اسی قسم کے ناقص استدلال پر قائم ہوتی ہے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ کے سیاسی مبتدعین (سید ابوالاعلی مودودی) وغیرہ کا نظریہ بھی اسی قسم کے ناقص استدلال پر قائم ہے۔ دونوں ہی کے اوپر یہ مثل صادق آتی ہے :
کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑ ا ، بھان متی نے کنبہ جوڑا۔
اس سیاسی بدعت کو میں نے تفصیل کے ساتھ" تعبیرکی غلطی" میں بیان کیا ہے۔
26 نومبر 1984
ایک صاحب نے الرسالہ کے انداز پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ میں ہمیشہ مسلمانوں ہی کو مطعون کیا جاتا ہے ۔ ہندستان کے فرقہ وارانہ فسادات میں آپ کے نزدیک ہمیشہ مسلمان ہی قصور وار ٹھہرتے ہیں۔ وغیرہ ۔
other sourceWords of another person or source
میں نے کہا کہ گائے کی خوراک گھاس ہے اور شیر کی خوراک گوشت آپ شیر کو گھاس نہیں کھلا سکتے ۔ اور اگر آپ گائے کے منہ میں گوشت ڈالیں تو وہ اگل دے گی۔ یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔ انسانوں میں بھی مختلف قسم کے لوگ ہیں اور الرسالہ بہرحال ہر ایک کی غذا نہیں بن سکتا۔
وہ لوگ جو ذاتی فخر میں جیتے ہوں، جن کی روح کو اس سے تسکین ملتی ہو کہ وہ ہمیشہ دوسروں کو ملزم ٹھہراتے رہیں ، جو اپنی غلطی کی قیمت دوسروں سے وصول کرنا چاہتے ہوں، جوخیالی الفاظ میں جیتے ہوں اور جن کو حقائق سے کوئی دلچسپی نہ ہو ، ایسے لوگ الرسالہ کی باتوں میں اپنی غذا نہیں پا سکتے۔
الرسالہ صرف سنجیدہ اور حقیقت پسند لوگوں کی غذا ہے ۔ اور ہمیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں اگر غیر سنجیدہ اور غیر حقیقت پسند لوگ الرسالہ میں اپنی غذا نہ پائیں۔
27 نومبر 1984
ٹامس فلر ( thomas fuller کا قول ہے :
Courage should have eyes as well as arms.
ہمت کے لئے ضروری ہے کہ اس کے پاس آنکھیں ہوں اور اسی کے ساتھ بازو بھی۔
ہمت یہ نہیں ہے کہ آدمی پر جوش طور پر خطرات میں کود پڑے اور خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاک کر لے ۔ اس قسم کی ہمت اور حوصلہ نادانی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہمت اور حملہ کے ساتھ آدمی کے اندر بصیرت کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ وہ حالات کو گہرائی کے ساتھ دیکھے ۔ وہ آغاز و انجام کا پوری طرح جائزہ لے، اس کے بعد منصوبہ بند طور پراقدام کرے۔ حوصلہ مندانہ عمل با ہوش عمل کا نام ہے نہ کہ بے ہوشی کے ساتھ اپنے آپ کوخندق میں گرا لینے کا۔
سوچے بغیراقدام کرنا ایسا ہی ہے جیسے دیکھے بغیر چلنا۔
28 نومبر 1984
مسلم حکمراں سے لڑنا اسلام میں سراسر ممنوع ہے۔ اسلام کی پوری تاریخ میں خوارج کے سوا کسی اور نے یہ فعل نہیں کیا۔ علماء امت کا اس پر کامل اتفاق ہے ۔ حتی کہ اس واقعہ کو وہ لوگ بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں خوارج کے طریقہ پر عمل کیا ۔ سید ابوالاعلی مودودی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
"جمہور فقہاء اور اہل الحدیث کی رائے یہ ہے کہ جس امیر کی امارت ایک دفعہ قائم ہو چکی ہو اور مملکت کا امن و امان اور نظم ونسق اس کے انتظام میں چل رہا ہو۔ وہ خواہ عادل ہو یا ظالم ، اور اس کی امارت خواہ کسی طور پر قائم ہوئی ہو ، اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ الایہ کہ وہ کفر صریح کا ارتکاب کرے ۔ امام سرخسی لکھتے ہیں کہ جب مسلمان ایک فرماں روا پر مجمتع ہوں اور اس کی بدولت ان کو امن حاصل ہوا اور راستے محفوظ ہوں ، ایسی حالت میں اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ اس کے خلاف خروج کرے تو جو شخص بھی جنگ کی طاقت رکھتا ہو اس پر واجب ہے کہ مسلمانوں کے اس فرماں روا کے ساتھ مل کر خروج کرنے والوں کے خلاف جنگ کرے۔ ( المبسوط، باب الخوارج ) امام نووی شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ ائمہ ، یعنی مسلمان فرماں رواؤں کے خلاف خروج اور قتال حرام ہے ، خواہ وہ فاسق اور ظالم ہی کیوں نہ ہو۔ اس پر امام نوری اجماع کا دعوی کرتے ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تفہیم القرآن، حصہ پنجم ، صفحہ 79-80 ۔ الحجرات ، تحت آیت 9
سید ابوالاعلی مودودی نے اس واضح اعتراف کے بعد کچھ غیر متعلق بحثیں چھیڑ کر غلط طور پر یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ مسلم حکمران کے خلاف بغاوت جائز ہے ۔ مگر اس کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ اپنے آپ کو دین کے مطابق ڈھالنے کے بجائے خود دین کو اپنے مطابق ڈھالا جائے۔ سید ابوالاعلی مودودی پاکستان منتقل ہونے کے بعد اسی غیر اسلامی فعل میں مشغول تھے ۔ وہ لیاقت علی ، ایوب خاں ، بھٹو، کی قائم شدہ حکومتوں کو اکھاڑنے میں لگے رہے ۔ اپنی اس غیراسلامی روش کو جائز ثابت کرنے کے لئے انھوں نے دین میں وہ چیز ثابت کرنے کی کوشش کی جو حقیقتہ دین میں موجود نہ تھی۔
مذکورہ عبارت میں یہ بات بہت عجیب کہ جمہور کے اتفاق رائے کو تسلیم کرنے کے باوجود کہا گیا ہے کہ اس معاملہ میں علماء کے درمیان سخت اختلاف رائے ہے۔
29 نومبر 1984
An expert is one who knows more and more about less and less.
Nicholas Murray Butler
" ماہر وہ ہے جو کم سے کم کے بارہ میں زیادہ سے زیادہ جانے" یہ قول نہایت صحیح ہے۔ موجودہ زمانہ میں جب علم کے ذرائع بڑھے اور انسان نے چیزوں کے بارہ میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہا تومعلوم ہوا کہ اگرچہ ذرائع علم بڑھ رہے ہیں مگر انسان کی استعداد اتنی محدود ہے کہ ایک شخص تمام معلومات کو اپنے ذہن میں جمع نہیں کر سکتا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زرائع علم کی وسعت اور انسانی استعداد کی محدودیت کے اس تضاد نے موجودہ زمانہ میں تخصیص (specialization) کا طریقہ پیدا کیا۔علوم شعبوں میں تقسیم کئے گئے اور پھر شعبے بھی مزید ذیلی شاخوں میں تقسیم ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ عملی طور پر اس کے سوا کچھ اور ممکن نہ رہا کہ ایک شخص اگر زیادہ معلومات چاہتا ہے تو وہ ایک بے حد جزئی دائرہ پر قناعت کرے ۔
" کم سے کم کے بارہ میں زیادہ سے زیادہ جاننا " بعض محدود ٹکنکل مقاصد کے لئے تو مفید ہے۔ مگر وہ زندگی کے وسیع تر مسئلے کو سمجھنے کے لئے سراسر ناکافی ہے۔ کیوں کو زندگی کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے کلی علم درکار ہے نہ کہ محض جزئی علم۔ مزید یہ کہ کلی علم ایک ذہن میں جمع ہونا چاہئے بہت سے ذہنوں کی جزئی مہارت اس " کلی عالم " کوتشکیل نہیں دے سکتی جو مسئلہ حیات کی وضاحت کے لئے درکار ہے۔
30 نومبر 1984
مسٹر فورڈ کی صدارت کے زمانہ میں ان کی اہلیہ ، امریکہ کی فرسٹ لیڈی ، بیٹی فورڈ (Belly Ford) نے اگست 1975 میں ایک ٹیلیویژن انٹرویو میں یہ کہہ دیا :
other sourceWords of another person or source
She would not be surprised if her 18-year old daughter Susan came to her and said she was having an affair.
Mc Call magazine, September 1975
بحوالہ انڈین ایکسپریس (بمبئی )23 اگست 1975
مجھے تعجب نہ ہوگا اگر میری 18 سالہ لڑکی سوزان میرے پاس آئے اور مجھ سے کہے کہ میرا کسی سے تعلق ہوگیا ہے۔
صدر امریکہ جیرالڈ فورڈ کی بیوی نے مزید کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ موجودہ نسل زندگی کے معاملات میں اتنی دانش مند ہوسکتی ہے جیسا کہ ہم لوگ تھے۔
other sourceWords of another person or source
مسزفورڈ نے یہ بات صدرفورڈ کے علم اور مشورہ کے بغیر کہ دی تھی جب صدرفورڈ نے اخبار میں اس کو پڑھا تو انھوں نے کہا کہ میں نے 20 ملین (عورتوں) کے ووٹ کھو دئے ۔
I'd lost 20 million votes. It will cost me 20 million votes.
جمهوری دور کے لیڈر کو اس سے دل چسپی نہیں کہ حق کیا ہے ، وہ صرف یہ جانتا ہے کہ عوام کیا چاہتے ہیں۔
9 نومبر 1984
ہندو خدائے برتر کو مانتے ہیں جس کو وہ ایشور کہتے ہیں۔ مگر ہندوؤں کے یہاں ایشور کاکوئی مندر نہیں ہوتا۔ ان کے یہاں جتنے مندر ہیں سب دیوتاؤں کے ہیں گویا ہندو اس مذہب سے واقف نہیں ہیں جس میں "خدا" کی پرستش کی جائے ۔ وہ صرف اس مذہب کو جانتے ہیں جس میں دیوی دیوتاؤں کی پرستش کی جاتی ہے۔
یہی موجودہ زمانہ میں تمام مذاہب کا حال ہے۔ یہودی صرف اس دین کو جانتے ہیں جس میں ایک خاص نسل سے تعلق رکھنے والوں کے لئے نجات ہے ۔ عمل کی بنیاد پر نجات ملنے والے دین سے وہ واقف نہیں۔ عیسائی صرف اس دین سے واقف ہیں جس میں ” پادری “ کی معرفت کوئی شخص خدا تک پہنچتا ہے۔ وہ براہ راست خدا تک پہنچنے والے دین سے واقف نہیں ۔
مسلمان بھی اس معاملہ میں دوسروں سے مختلف نہیں ۔ اسلام اگرچہ ایک خالص اور بے آمیز دین ہے، مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان آج جس دین پر ہیں وہ اس سے مختلف دین ہے جو محمد عربی پر اتارا گیا تھا۔
آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ "تقوی " والے دین سے واقف نہیں ۔ مسلمان آج جس دین سے واقف ہیں وہ ان کی تاریخی روایات ، ان کے بزرگوں کے قصے کہانیاں ، ان کے قومی جذبات ہیں ۔ انھیں چیزوں کے تحت ان کا ایک دین بن گیا ہے اور اسی خود ساختہ دین پر وہ قائم ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے جب خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو وہ انھیں زیادہ اپیل نہیں کرتی، کیوں کہ وہ اپنے قومی ہیرؤو ں کی بڑائی میں جی رہے ہیں ۔ ان سے آخرت کی پکڑ کی پکڑ کی بات کیجئے تو ان کی نفسیات میں کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوتی ۔ کیوں کہ اس دین سے وہ آشنا ہی نہیں۔