Maulana Wahiduddin Khan
27 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

December 1984

English · 27 min read

یکم دسمبر 1984

فرینک فرٹ یونیورسٹی کے ماہرنفسیات ڈاکٹر جان اوکرٹ (Dr John Ockert) نے ایک جائزہ میں بتایا کہ زیادہ خوبصورت لڑکیاں عام طور پر زندگی میں ناکام رہتی ہیں:

other sourceWords of another person or source

Georgeous women feel beauty is the only asset and they cannot bear the ageing. Marilyn Monroe, one of the prettiest women to emerge from Hollywood, is stated to have wept bitterly when she saw first traces of wrinkles in the mirror. Indian Express (Bombay) 23 August 1975

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دلکش عورتیں سمجھتی ہیں کی خوبصورتی ان کا واحد سرمایہ ہے اور بڑھاپے کو وہ برداشت نہیں کرسکتیں۔ میرلین مانزو جو ہالی وڈ کی ایک انتہائی خوبصورت عورت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت بری طرح رونے گی جب اس نے آئینہ میں پہلی بار اپنے چہرے پر جھریوں کے نشانات دیکھے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جس آدمی کو پر کشش عورت نہ ملے وہ زیادہ خوش قسمت ہے کیوں کہ غیر پر کشش عورت عملی زندگی میں زیادہ بہتر رفیق ثابت ہوتی ہے۔

2 دسمبر 1984

شیخ عبد الوہاب شعرانی اپنی کتاب الیواقیت والجواہر کے دیباچہ میں لکھتے ہیں فتوحات مکیہ ( ابن عربی) کے نسخوں میں ملحدین اور زنادقہ نے بہت سی عبارتیں شامل کر دی ہیں۔

other sourceWords of another person or source

پریس کے دور سے پہلے تمام کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ اس زمانہ میں یہ طریقہ بہت عام تھا۔ کوئی شخص علم وفضل میں شہرت حاصل کرلیتا تولوگ اس کے نام پر اپنی بات چلانے کے لئے یہ کرتے تھے کہ اس کی کتابوں کا قلمی نسخہ تیار کرتے وقت اس کے اندر اپنی بات ملا کر لکھ دیتے ۔ نہج البلاغہ میں اسی طرح بہت سے کلام اپنی طرف سے بنا کر لکھ دئے گئے ہیں ۔ قدیم دور کی تمام آسمانی کتابوں میں اسی طرح الحاق کیا جاتا رہا ہے۔ پریس کے دور سے قبل کی کوئی بھی قابل ذکر کتاب اس قسم کے الحاقات سے محفوظ نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کلیہ میں صرف ایک ہی استثناء ہے اور وہ قرآن کا ہے ۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ پریس کے دور سے قبل آ یا۔ اور اس کے تمام قدیم نسخے ہاتھ سے لکھے گئے۔ اس کے باوجود وہ اس قسم کے الحاق سے مکمل طور پر محفوظ رہا۔

3 دسمبر 1984

رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے زمانہ کی شخصیتوں میں سے ایک ابوطالب ابن عبد المطلب ہیں۔ ان کے متعلق بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ ابو طالب نے کفر کے کلمہ کے ساتھ جان دی ۔ مگر سیرت ابن ہشام میں عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا توان کے بھائی حضرت عباس نے دیکھا کہ وہ ہونٹ ہلا رہے ہیں۔ حضرت عباس نے کان لگا کر سنا اور رسول اللہﷺ کو مخاطب کر کے بولے " بھتیجے " خدا کی قسم جوکلمہ تم پڑھوانا چاہتے تھے ، میرے بھائی نے اس کو پڑھ دیا۔" آپ نے فرمایا ، میں نے نہیں سنا۔

hadithQuotes a hadith

ابوطالب کے کچھ اشعار بھی کتابوں میں نقل ہوئے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منقبت اور اعتراف واضح طور پر موجود ہے۔ ابن ہشام نے خبر الصحیفہ کے ضمن میں ان کا ایک قصیدہ درج کیا ہے جس کا ایک شعر یہ ہے :

الم تعلمواانا وجدنا محمد نبياكوسى خط في اول الكتب

تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قصیدے الحاقی ہیں۔ واللہ اعلم ۔ ابوطالب نے اگرچہ اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا مگر انھوں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا پوری طرح ساتھ دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4 دسمبر 1984

کسی کے بینک اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپیہ ہو اور وہ پچاس ہزار روپیہ کا چک لکھ دے تو ایسے چک کی بینک کے نزدیک کوئی قیمت نہیں ۔ بینک اس کے بدلے میں رقم ادا کرنے کے بجائے اس کو ایک بے قمیت پرزے کی طرح صاحب اکاؤنٹ کو واپس کر دے گا۔

یہی معاملہ آخرت کا بھی ہے ۔ ایک شخص کے پاس نفاق کا سرمایہ ہو اور وہ ایمان کا دعویٰ لے کر آخرت میں حاضر ہو تو اس کا ایمان اس کے منہ پر مار دیا جائے گا۔ ایسا کوئی دعویٰ آخرت میں کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں ۔ اسی طرح مثلا ایک شخص اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لئے ایک کام کرتا ہے اور اس کو " اسلامی خدمت " کاعنوان دیتا ہے تو وہ بھی گویا مذکورہ بالا چک کی مانند ہے۔ جس کی کوئی قیمت مدعی کو آخرت میں نہ مل سکے گی ۔

5 دسمبر 1984

کسی کا قول ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اکثر لوگ مواقع کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مواقع محنت طلب کام کے بھیس میں آتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The reason why many people fail to recognise opportunity is because it comes disguised as hard work.

یہ اصول فرد اور قوم دونوں کے اوپر صادق آتا ہے۔ کامیابی کا دروازہ کسی کے لئے بند نہیں ہوتا۔ مگرحقیقی کامیابی کسی کو پر مشقت عمل کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے۔ لوگ اکثرسطحی اور بے نتیجہ کاموں کی طرف دوڑ پڑے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سطحی اور بے نتیجہ کام آدمی سے محنت اور جدوجہد نہیں مانگتے۔ جب کہ گہرا اور نتیجہ خیز کام سخت محنت اور طویل جدوجہد کا طالب ہوتا ہے ۔

اکثر لوگ بڑے مواقع کو استعمال نہیں کر پاتے کیونکہ بڑے مواقع ہمیشہ زیادہ محنت کے طالب ہوتے ہیں ، لوگ زیادہ محنت کرنا نہیں چاہتے اس لئے وہ ایسے مواقع کو سمجھنے سے بھی قاصر رہتے ہیں ۔

6 دسمبر 1984

ٹائمس آف انڈیا ہندستان کے انگریزی اخبارات میں نمبر ایک اخبار شمار ہوتا ہے ۔ اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ وہ 1938 میں جاری ہوا تھا۔ ڈیڑھ سو سال کی کوششوں نے اس کو ترقی کے موجودہ مقام تک پہنچایا ہے کسی بھی اخبار کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ ٹائمس آف انڈیا کی طرح اپنی پیشانی پر جاری شده 1838 (1838 Establish) کے الفاظ کمپوز کر کے چھاپ دے مگر وہ اس تاریخ کوکہاں سے لائے گا جو فی الواقع 1938 میں جاری ہونے والے ایک اخبار کو حاصل ہوتی ہے۔

جو چیز تاریخی حقیقت کے ذریعہ ملتی ہو ، اس کو الفاظ بول کر حاصل کرنا ممکن نہیں ۔

7 دسمبر 1984

قرآن میں ہے کہ اللہ نے انسان کے اندر اپنی روح پھونکی ( ونفخ فيه من روحه، السجدة 9) ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ : خلق الله آدم على صورته (اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا )

quoted sourceQuoted from another author or source

جب میں اس قسم کی آیات و احادیث کو دیکھتا ہوں ، اور دوسری طرف انسان کی حالت پر غور کرتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خدائے قادر نے خدائے عاجز کو پیدا کیا ہو۔ ایک طرف انسان کو خدائی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ دوسری طرف وہ نہایت عاجز اور فانی بھی ہے ۔ انسان کی نجات کا دار و مدار اسی پر ہے کہ وہ اس دو طرفہ معاملہ کو سمجھ سکے۔

بااعتبار حقیقت اگر چہ انسان ایک عاجز مخلوق ہے ۔ مگر اس کی یہ عاجزانہ حیثیت عام حالت میں چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ اپنی آخری اور کامل صورت میں صرف موت کے وقت ظاہر ہوتی ہے ۔ عملی طور پر حالت عجز طاری ہونے سے پہلے اپنے عجز کا اعتراف کرنا ، یہی انسان کا اصل امتحان ہے ۔ یہ بلاشبہ موجودہ انسان کے لئے مشکل ترین کام ہے ، مگر اس مشکل ترین کام میں اس کی اعلی ترین کامیابیوں کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔

8 دسمبر 1984

Our major obligations is not to mistake slogans for solutions.

Edward R Murrow

ہماری اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم نعروں کوحل کا قائم مقام نہ سمجھ لیں ۔ عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بڑی بڑی تحریکیں اٹھتی ہیں اور اس طرح ختم ہو جاتی ہیں کہ ان سے قوم کو اتنا بھی نہ ملا ہو جتنا قوم نے اس تحریک کو چلانے کے لئے خرچ کیا تھا۔

اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ یہ تحریکیں نعروں پراٹھی تھیں نہ کہ واقعی معنوں میں حل کی بنیاد پر اگر پوری صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے سوچا سمجھا منصوبہ بنایا جائے اور حکیمانہ تدبیروں کے ساتھ اس کو آگے بڑھایا جائے تو کامیابی یقینی ہے۔ مگر سطحی لیڈر اکثر ایسا کرتے ہیں کہ وہ محض وقتی جوش کے تحت ایک نعرہ لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ نعرہ کو تدبیرکا بدل سمجھ لیتے ہیں ۔ مگر نتیجہ بتاتا ہے کہ وہ محض جھوٹے الفاظ پر کھڑے ہوئے تھے نہ کہ واقعی معنوں میں کسی سوچے سمجھے منصوبہ پر۔

10 دسمبر 1984

قال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تصاحب الا مؤمنا ولا ياكل طعامك الاتقى (مشكوة)

hadithQuotes a hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کے سوا کسی اور کو اپنا ساتھی نہ بناؤ۔ اور تمہارا کھانا متقی آدمی کے سوا کوئی اور نہ کھائے ۔

hadithQuotes a hadith

اس حدیث کو اگر مطلق معنوں میں لیا جائے تو وہ دوسری اسلامی تعلیمات سے ٹکرا جائے گی ۔ مثلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے سفر میں ایک مشرک (عبداللہ بن ارقط) کو اپنے ساتھ لیا اور اس کو اپنا شریک سفر بنایا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح رسول اللہ کو جب نبوت ملی تو آپ نے مکہ کے مشرکین کی دعوت کی اور اس کے بعد ان کے سامنے اسلام پیش کیا۔ اسی طرح جنگ بدر کے بعد جومشرکین گرفتار کر کے مدینہ لے جائے گئے ، ان کو مدینہ کے مسلمان کھانا کھلاتے تھے ۔ اگر مذکورہ و حدیث کو مطلق معنوں میں لیا جائے تو سب چیزیں اس کے خلاف ہو جائیں گی ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر بات کا ایک پس منظر ہوتا ہے ۔ اگر بات کو اس کے پس منظرسے ہٹا دیا جائے تو وہ ناقابل فہم ہوکر رہ جاتی ہے۔

11 دسمبر 1984

ایک صاحب نے میرے بارہ میں کہا کہ آپ غیرمعمولی ذہن کے آدمی ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے بارہ میں آپ کا یہ خیال صحیح نہیں۔ میں صرف اوسط درجہ کا ذہن رکھنے والا آدمی ہوں ۔ میرے اندر اگر کوئی خاص صفت ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کوئی حقیقت یا کوئی سچائی میرے سامنے آئے تو میں اس کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا، میں ہر حال میں اس کا اعتراف کروں گا ، خواہ وہ میرے موافق ہو یا میرے خلاف۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نیوٹن کی شہرت جب بڑھی تو اس کے بارہ میں کسی شخص نے کہا کہ آپ غیرمعمولی صلاحیتوں والے آدمی ہیں۔ نیوٹن نے اس کا جو جواب دیا وہ انگریزی میں اس طرح نقل کیا گیا ہے :

I had no special sagacity only the power of patient thought.

(میرے اندر کوئی خصوصی قابلیت نہیں ،صرف انتھک طور پر سوچتے رہنے کی قوت) اسی طرح میں کہوں گا کہ میرے اندر کوئی امتیازی لیاقت نہیں ۔ اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف یہ کہ میں بے اعترافی کو atford نہیں کرسکتا۔

12 دسمبر 1984

جبرواختیار کی بحث میں حضرت علی ابن ابی طالب کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ ایک شخص حضرت علی کے پاس آیا اور جبر و اختیار کے بارہ میں دریافت کیا ۔

حضرت علی نے پوچھنے والے سے کہا کہ تم اپنا ایک پاؤں اٹھاؤ ۔ اس نے اٹھایا ۔ آپ نے کہا کہ یہ اختیار ہے ۔ اس کے بعد حضرت علی نے کہا کہ اب تم اپنا دوسرا پاؤں اٹھاؤ ۔ اس نے جواب دیا کہ دوسرا پاؤں میں نہیں اٹھا سکتا۔ یہ تو ممکن نہیں۔ حضرت علی نے کہا کہ یہ جبر ہے ۔ اس طرح حضرت علیؓ نے پوچھنے والے کو سبق دیا کہ اصل حقیقت دونوں کے درمیان ہے۔

other sourceWords of another person or source

یہ صحابہ کرام کا طرز استدلال تھا۔ وہ فطری منطق کو استعمال کرتے تھے اور سادہ دلائل سے سے باتوں کو ثابت کرتے تھے۔ بعد کوغیر اقوام کے اختلاط سے وہ موشگافیاں پیدا ہوئیں جن کا ماخذ یونانی منطق تھی نہ کہ وہ دین جس کو صحابہ نے پایا تھا۔

13 دسمبر 1984

کسی مفکر کا قول ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ناکامی تاخیر ہے، مگر نا کامی شکست نہیں :

other sourceWords of another person or source

Failure is delay, but not defeat.

موجودہ دنیا میں امکان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ یہاں کوئی ناکامی کبھی آخری ناکامی نہیں بن سکتی۔ ہر ناکامی کے بعد یہاں ایک نیا امکان موجود رہتا ہے ۔ ناکامی کو دوبارہ کامیابی بنانے کی شرط صرف ایک ہے۔ آدمی گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ پیش کرسکے ۔

بہت پہلے میں نے ایک آدمی کو یہ مقولہ سنایا تھا جب کہ وہ ایک ناکامی سے دو چار ہوۓ تھے ۔ یہ بات ان کے دل کو لگ گئی ۔ انھوں نے دوبارہ نئے عزم کے ساتھ عمل کرنا شروع کیا۔ اب ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ یہ مقولہ میرے حق میں پوری طرح صادق آیا ہے ۔ میری ناکامی تاخیر تھی ،مگر میری ناکامی میرے لیے شکست نہیں بنی۔

اس سے ملتا جلتا انگر سال (Robert Green Ingersoll) کا قول ہے کہ اس زمین پر ہمت و حوصلہ کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آدمی شکست کو دل شکستگی کے بغیر برداشت کر سکے۔

other sourceWords of another person or source

The greatest test of courage on Earth is to bear defeat without losing heart.

14 دسمبر 1984

الامیر اسماعیل بن احمد السامانی کہا کرتے تھے :

كن عصاميا ولاتكن عظـامياً

عصامی بنو ، عظامی نہ بنو۔ عصامی ، یا العصامی ایک شخص کی طرف منسوب ہے جس کا نام عصام بن شہبر اطرمی تھا۔ اس آدمی نے اپنی ذاتی کوششوں سے بڑی ترقی حاصل کی۔ اس لئے اس کا نام ذاتی عمل سے آگے بڑھنے کی علامت بن گیا ۔

عظامی یا العظامی کا لفظ عظام الموتی (مرے ہوئے بزرگوں) کی طرف منسوب ہے۔ یہ اس بات کا کنایہ ہے کہ آدمی اپنے گزرے ہوئے آباء و اجداد پرفخر کرے۔ وہ ماضی کے بڑوں سے نسبت دے کر اپنے کو بڑا سمجھے ۔

السامانی کے مذکورہ مقولہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عمل سے بڑا بننے کی کوشش کرو ، پدرم سلطان بود کے ذہن کے تحت اپنے کو بڑا نہ سمجھو۔ ( العربي ، کویت )

15 دسمبر 1984

ریچھوں اور بھیڑیوں کے درمیان شاید انسان امن کے ساتھ رہ سکے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے انسانوں کے درمیان امن کے ساتھ رہنا ممکن نہیں۔ آج انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے معمولی نفع کی خاطر دوسرے کا بڑے سے بڑا نقصان کرسکتا ہے۔ ہر آدمی بے اصولی پر تلا ہوا ہے۔ ہرآدمی اپنی انا کی تسکین کے لئے دوسرے کو ملیامیٹ کر دینا چاہتا ہے۔ انسانوں کے بوائق اس سے زیادہ ہیں کہ کوئی بھی شخص ان سے محفوظ رہ سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی بربادی سے بچنا ممکن نہیں ۔ کامیاب وہ ہے جو آخرت کی بربادی سے بچ جاۓ۔

16 دسمبر 1984

تاریخ کے بہت سے واقعات ایسے ہیں جو اپنی ابتدائی صورت میں اس سے بہت زیادہ مختلف تھے جو بعد کے لوگوں کی افسانہ طرازی سے بن گئے ۔ انھیں میں سے ایک واقعہ حضرت حسین بن علی کا بھی ہے ۔

آج "حسین و یزید “ کے لفظ سے جو سخت تصور سامنے آتا ہے وہ تمام تر بعد کی پیداوار ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بعض غلط فہمیوں کے سبب سے حضرت حسین مدینہ سے روانہ ہوئے اور کربلا کے میدان میں یزید کی فوجوں سے ان کی لڑائی ہوئی ۔ مگر یہ پوری تصویر کا بہت ادھورا رخ ہے۔ حضرت امیرمعاویہ نے 50 ھ میں قسطنطنیہ کی طرف ایک اسلامی لشکر روانہ کیا۔ اس کا سپہ سالار اپنے لڑکے یزید کو بنایا جس کی عمراس وقت تقریبا 26 سال تھی ۔ اس لشکر میں عام لوگوں کے علاوہ بہت سے صحابہ موجود تھے۔ مثلا عبد اللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس عبداللہ بن زبیر، ابوایوب انصاری وغیرہ ۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ اس لشکر میں حسین بن علی بھی شامل تھے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لاتونى الحسن كان الحسين بنـدالى معاوية في كل عـامفيعطيةويكرمهوقدكانفيالجيشالـذيـنغـزواالقسطنطنيهمعابنمعـاويـةيـزيـدفيسـنةاحـدىوخمسينرجـزا۸ ، صفحہ ۱۵۱ )

other sourceWords of another person or source

جب حسن کا انتقال ہو گیا تو حسین ہر سال امیر معاویہ کے پاس جاتے اور وہ ان کو ہدایا دیتے اور عزت سے پیش آتے حسین اس لشکر میں بھی شامل تھے جس نے معاویہ بن یزید کی سرداری میں 51ھ میں قسطنطنیہ پرحملہ کیا تھا۔

کربلا کے میدان میں جو جنگ ہوئی وہ بھی سراسر مجبورانہ جنگ تھی ۔۔ ورنہ آخر وقت میں حضرت حسین یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے تیار تھے جو اس وقت میدان جنگ سے دور دمشق میں تھا۔ ملاحظہ ہو تاریخ طبری ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

17 دسمبر 1984

خلیفہ ہارون الرشید کے ایک صاحبزادہ کا نام محمدالامین تھا۔ محمدالامین کی تعلیم وتربیت کے لئے خلیفہ نے الاحمرالنحوی کو بلایا۔ جب وہ آئے تو خلیفہ نے ان کو اپنے لڑکے کی تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں کچھ ہدایات دیں ۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی :

يا احمر امنعه من الضحك الا في اوقاته. اے احمر.،اس کواس سے روکو کہ وہ وقت پر ہنسنے کےعلاوہ ہنسے ۔

بڑے آدمی کے لئے ہنسنا پسندیدہ فعل نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ ساری زندگی کبھی لوگوں کے سامنے نہیں ہنسی ۔ بات بات پر ہنسنا ہلکے پن کی علامت ہے۔ ایسا فعل آدمی کولوگوں کی نظر میں حقیر بنا دیتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

18 دسمبر 1984

ایک عالم اور زاہد اکثر تنہا رہتا تھا۔ وہ نہ دوسروں سے ملنے کے لئے جاتا اورنہ یہ پسند کرتا کہ لوگ اس سے ملنے کے لئے آئیں ۔ ایک آدمی نے اس سے کہا کہ اے شخص ، تم اس مسلسل تنہائی کو کس طرح بر داشت کرتے ہو۔ اس نے کہا ہرگز نہیں:

انى اجـأسربيـفـانشــتانبــاجـيني قـرأتالقـرآنـوانشئتاناناجيهدخلتفيالصلاة

میں اپنے رب کی صحبت میں بیٹھتا ہوں ۔ اگر میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھ سے کلام کرے تومیں قرآن پڑھتا ہوں۔ اور اگر میں چاہتا ہوں کہ میں اس سے کلام کروں تو میں نماز میں مشغول ہو جاتا ہوں۔

19 دسمبر 1984

اردو شاعر کا روایتی معشوق تلوار کے بغیر لڑتا تھا ، اس کے باوجود وہ لوگوں کو مار ڈالنے میں کامیاب ہو جاتا تھا :

اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

بے تلوار کی یہ خطرناک جنگ اردوشاعر کے لئے زیادہ مہنگی نہیں پڑی ۔ کیوں کہ وہ ہمیشہ کاغذ کے اوپر فرضی میدان میں ہوتی تھی ۔ مگرموجودہ زمانے کے مسلم قائدین نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کیا کہ بے تلوار کی جنگ کو حقیقی میدان مقابلہ میں لڑنے لگے۔ اس کا نتیجہ موجودہ زمانہ میں ہولناک تباہی کی صورت میں برآمد ہوا۔

سید احمد شہید بریلوی اور ان کے مجاہدین کی سکھ راجہ سے لڑائی ، 1857 میں ہندستانی علماء کی انگریزوں سے لڑائی ۔ 1945 میں صدر ناصر کی اسرائیل سے لڑائی ۔ مصر کے الاخوان المسلمون کی فوجی حکومت سے لڑائی ، اس قسم کی بے شمار لڑاائیاں ہیں جو موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے مفروضہ حریفوں سے لڑتے رہے ہیں۔ ان لڑائیوں میں مسلمانوں اور ان کے حریفوں کے درمیان جنگی اسباب کے اعتبار سے تناسب کا جو فرق تھا اس کے لحاظ سے یہ سب کی سب "عملا "بے تلوار" کی جنگ تھی ، اور اس لئے وہ بدترین ناکامی پر ختم ہوئی ۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم مجاہدین کی رہنما اردو شعراء کی خیال آرائیاں تھیں۔ ورنہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اسباب اور تیاری میں انتہائی غیرمعمولی فرق کے باوجود وہ کیوں بار بار اپنے حریفوں سے ایسی لڑائی پھیرتے رہے جس کا واحد یقینی نتیجہ ان کی یکطرفہ شکست کی صورت میں ظاہر ہونے والا تھا۔

20 دسمبر 1984

ایک مفکر کا قول ہے :

Defence, not defiance

یعنی دفاع نہ کہ دعوت مقابلہ، یہ نہایت حکیمانہ بات ہے عقل مند آدمی کبھی ایسا نہیں کرتا کہ وہ خود اپنے حریف کو للکارے۔البتہ اگر اس کی ساری امن پسندی کے باوجود دشمن اس پر حملہ کر دے تو اس وقت وہ جم کر اس کا سامنا کرتا ہے ۔ عقل مند آدمی کا طریقہ مقابلہ ہے نہ کہ دعوت مقابلہ۔

اس دنیا میں اصل کام اپنی تعمیر کرنا ہے نہ کہ دوسروں سے لڑنا۔ اپنی تعمیرو استحکام کے منصوبہ کو جاری رکھنے ہی کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں سے ٹکراؤ کو avoid کیا جاۓ ۔ جولوگ بات بات میں دوسروں سے لڑ جائیں ان کو اس لڑائی کی یہ قمیت دینی پڑتی ہے کہ ان کا تعمیر خویش کا منصوبہ کبھی مکمل نہ ہو ۔

21 دسمبر 1984

ہماچل پردیس کے ایک صاحب ہیں جو وہاں ایک عربی مدرسہ کے صدر مدرس ہیں۔ وہ الرسالہ کی بہت تعریف کرتے ہیں مگر میرے بار بار کہنے کے با وجود اب تک انہوں نے الرسالہ کی ایجنسی نہیں چلائی۔ وہ ہمارے مشن کے قصیدہ خواں ہیں مگر وہ اس مشن میں عملا شریک نہیں۔

میں نے ان سے کہا کہ آپ ہمارے نزدیک ابھی تک صرف " ابوالکلام" ہیں ، آپ ابھی تک "ابو العمل " نہیں بنے ۔ پھر میں نے کہا کہ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کا اصل سبب ہے۔ مسلمانوں کے تمام رہنما صرف ابوالکلام تھے ، ان میں سے کوئی ابوالعمل نہ تھا۔ ایسی حالت میں ان کی کوششوں کا کوئی حقیقی عملی نتیجہ پیدا ہوتا تو کیوں کر ہوتا۔

22 دسمبر 1984

حدیثیں وضع کرنے والے ایک تو وہ تھے جو سیاسی مقصد کے لئے حدیثیں وضع کرتے تھے۔ مثلا :

الأمناء ثلاثة انا و جبریل ومعاوية امتیں تین ہیں : میں اور جبریل اورمعاویہ

hadithQuotes a hadith

اسی طرح اس مشغلہ نے بھی بہت سی حدیثیں وضع کرائیں جس کو ” گپ بازی“ کہا جاتا ہے۔ مثلا ایک شخص نے حدیث گھڑی کہ حضرت نوح کی کشتی جب پانی پر بلند ہوئی تو پہلے اس نے سات بار خانہ کعبہ کا طواف کیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح ایک شخص نے قصہ بنایا کہ طوفان نوح کے وقت ایک طویل القامت آدمی تھا جس کا نام عوج بن عنق تھا۔ اس کا قد تین ہزار گز لمبا تھا۔ حضرت نوح نے اس کو طوفان کی خبردی اور ڈوبنے سے ڈرایا۔ مگروہ کشتی میں سوار نہیں ہوا۔ وہ اتنا لمبا تھا کہ طوفان کا پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچا تھا۔ وہ اپنا ہاتھ سمندر کی تہہ میں ڈال کر مچھلیاں پکڑ لیتا اور اس کو سورج کی آنچ میں بھون کر کھا لیتا ۔

اس قسم کے بے شمار قصے جو محض گپ بازی کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ وہ کتابوں میں درج ہو گئے۔ واعظین ان کو سنانے لگے۔ یہاں تک کہ وہ اس طرح عوام میں پھیل گئے کہ ان کو اسلام کی تاریخ سے الگ کرنا ممکن نہ رہا۔

23 دسمبر 1984

ندوہ (لکھنو) کے ایک استاد ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ دوران گفتگو انھوں نے بتایا کہ دکتور عبد الحلیم عویس (جامعہ الامام ، ریاض) نے ان سے میری کتاب" پیغمبرانقلاب " کاعربی ترجمہ کرنے کے لئے کہا تھا ، مگر میں نے معذرت کر دی ۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت میں ندوہ میں ابھی نیا نیا آیا تھا میرے سامنے سب سے پہلا مسئلہ یہ تھا کہ میں وہاں کے ماحول میں اپنے کو جماؤں ۔ اس لئے میں نے پیغمبر انقلاب کے ترجمہ کا کام نہیں لیا ۔

چوں کہ میں نے مولانا علی میاں پر تنقید کی ہے اس لئے ندوہ کا ماحول میرے سخت خلاف ہے ۔ کوئی شخص جو میری حمایت کرے یا میرے ساتھ کسی نوعیت کا تعاون کرے اس کے لئے ندوہ میں رہنا سخت مشکل ہے۔ پیغمبرانقلاب کا عربی ترجمہ جامعۃ الامام ریاض کی طرف سے کرایا جارہا تھا وہ لوگ بہت زیادہ معاوضہ دیتے ہیں۔ عام حالات میں نا ممکن ہے کہ کسی ندوی کو جامعتہ الامام کا ایک کام ملے اور وہ اس کو چھوڑ دے ۔ مگر مذکورہ استاد کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ پیغمبر انقلاب کا ترجمہ کرتے تو ندوہ کے ماحول میں غیر مطلوب شخصیت بن جاتے ۔ اس مصلحت کی بنا پر انھوں نے اس سے احتراز کیا۔

موجودہ زماد میں سب سے بڑا دین مصلحت ہے ۔ ہرآدمی اپنی مصلحتوں پر چلتا ہے۔ مالیاتی مصلحت ، قیادتی مصاحت ، ملازمت کی مصلحت، پوزیشن کی مصلحت ، غرض ہر ایک کا دین مصلحت ہے اور وہ اسی کو سب سے زیادہ اہمیت دے ہوۓ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ جس بلند مقام پر خدا کو بٹھا نا چاہئے وہاں انھوں نے مصلحت کو بٹھا رکھا ہے۔ خواہ وہ زبان سے خدا کا اقرار کرتے ہوں یا اس کا انکار ۔ یہ بھی غیر اللہ کی پرستش کی ایک قسم ہے۔

24 دسمبر 1984

دو صاحبان ملنے کے لئے تشریف لائے ۔ ایک صاحب نے کہا : ہم نے سنا ہے کہ آپ کو قذافی نے کافی پیسہ دیا ہے ۔ دوسرے صاحب نے فرمایا : ہم نے سنا ہے کہ آپ کو سی آئی اے سے پیسہ ملتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ بخدا وہ لوگ اندھے اور بہرے ہیں جواس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔الرسالہ میں جو مضامین سمجھتے ہیں وہ خود اس قسم کی تمام باتوں کی تردید ہیں۔

میں نے کہا کہ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جن کو الرسالہ کے مضامین میں قذافی اور سی آئی اے کا پیسہ نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قذافی کی تمام دولت اور سی آئی اے کے تمام ڈالر مل کر بھی وہ مضامین نہیں لکھ سکتے جوالرسالہ میں چھپتے ہیں۔ یہ مضامین غم ناک دل سے ابلتے ہیں اور درد مند قلم سے لکھے جاتے ہیں ۔ قذافی اورسی آئی اے کا پیسہ پہلا کام یہی کرتا ہے کہ وہ آدمی سے غمناک دل اور اور قلم چھین لیتا ہے ، پھرایسا شخص ایسے مضامین کہاں سے لکھے گا۔

کاش لوگوں کے پاس آنکھ ہوتی کہ وہ دیکھتے اور لوگوں کے پاس عقل ہوتی کہ وہ سمجھتے۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں سے دیکھنے والی آنکھ بھی چھن گئی ہے اور سمجھنے والی عقل بھی ۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ چیزوں کو دیکھیں ، کیسےممکن ہے کہ وہ حقیقتوں کو سمجھیں۔

25 دسمبر 1984

مسلم نوجوانوں اور طالب علموں کی ایک مشہور جماعت ہے۔ اس کے کچھ ارکان سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ہم اپنے نصب العین کو اس طرح بیان کرتے ہیں :

قرآن ہمارا دستور

رسول ہمارا رهنما

شہادت ہماری تمنا

میں نے کہا کہ جب آپ کو شہادت کا شوق ہے تو اس کی " تمنا" کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ اس وقت مختلف ملکوں میں مسلمانوں کی دوسروں سے جو لڑائیاں ہورہی ہیں ان کو آپ لوگ جہاد کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاد کا میدان آپ کے لئے ہر طرف کھلا ہوا ہے۔ ہندستان میں ہندوؤں کے مقابلہ میں ، افغانستان میں روس کے مقابلہ میں فلسطین میں یہود کے مقابلہ میں ۔ اسی طرح اور بہت سے ملکوں میں مسلمان وہاں کی حکومتوں سے لڑرہے ہیں اور ان سب کو آپ لوگ جہاد کہتے ہیں۔ پھرجہاد کے ان میدانوں میں سے کسی میدان میں داخل ہو جائیے اور لڑ کر شہید ہو جائیے۔ انھوں نے کہا کہ پھر آپ خود کیوں ایسا نہیں کرتے ۔ میں نے کہا کہ میں تو ان کو جہاد کہتا ہی نہیں میرے نزدیک یہ سب کی سب قومی لڑائیاں ہیں نہ کہ جہاد فی سبیل اللہ ۔ اس کے بعد وہ خاموش ہوگئے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمان جھوٹے الفاظ میں جی رہے ہیں ۔ حالانکہ مسلمان وہ ہے جو سچے الفاظ میں جئے۔ ” شہادت کی تمنا “ کا لفظ بول کر لوگ شہادت کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، حالانکہ شہادت کا کریڈٹ شہید ہوکر ملتا ہے نہ کہ شہادت کے الفاظ بول کر۔

26 دسمبر 1984

مارٹن ایس لن (Martin Esslin) کا قول ہے کہ انسان کی عظمت کا راز اس کی اس صلاحیت میں ہے کہ وہ حقیقت کا سامنا کرسکے خواہ وہ کتنا ہی بے معنی کیوں نہ ہو :

other sourceWords of another person or source

The dignity of man lies in his ability to face reality in all its meaninglessness.

انسان فطری طور پر معقولیت کوپسند کرتا ہے اور لغویت کو ناپسند ۔ اس لئے جب کسی کی طرف سے لغو صورت حال پیدا کی جائے تو وہ فورا بپھر اٹھتا ہے۔ مگر بپھراٹھنا اس طرح کے مسئلہ کا حل نہیں ۔ کیوں کہ اس دنیا میں جس طرح ہم کو آزادی حاصل ہے اسی طرح دوسروں کو بھی آزادی حاصل ہے۔ اور ہم کسی پر یہ پابندی نہیں لگا سکتے کہ وہ صرف معقول کارروائی کرے اور کوئی ایسی کارروائی نہ کرے جو ہم کو نامعقول دکھائی دیتی ہو۔

ایسی حالت میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی ہر پیش آمدہ صورت حال کو غیر جانبدارانہ انداز سے دیکھے۔ وہ ہرمسئلہ کا صابرانہ حل تلاش کرے خواہ بظا ہروہ کتنا ہی زیادہ لغو نظر آتا ہو۔

27 دسمبر 1984

لینن (1924 - 1870) نے اپنی کتاب "سوشلزم اینڈ ریلیجن میں لکھا تھا کہ ہمارے نزدیک آسمان پر جنت تعمیر کرنے سے زیادہ اہم کام زمین پر جنت تعمیر کرنا ہے۔

other sourceWords of another person or source

لینن کے زیر قیادت روس میں 1917 میں اشتراکی انقلاب آیا اور دنیوی جنت کی تعمیر عملا شروع ہوگئی ۔ مگر 1956 میں روس کے وزیر اعظم خروشچوف نے کمیونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس میں جو انکشافات کئے ، اس سے معلوم ہوا کہ روس میں اتنے دنوں سے صرف جہنم کی تعمیر ہورہی تھی حقیقت یہ ہے کہ زمین پر جنت کی تعمیر وہی لوگ کرتے ہیں جو آسمان میں جنت کی تعمیر کرنے والے ہوں۔

28 دسمبر 1984

1911 تک بے پردگی دلی والوں کے نزدیک اتنی معیوب تھی کہ 1911 میں مولانا محمد علی دلی میں آکر رہے اور ان کے ساتھ بیگم محمد علی برقعہ پہن کر اور منہ چھپائے تانگہ میں سے نکلیں تو دلی والوں نے ناک بھوں چڑھائی کہ تانگہ پر پردہ کیوں نہیں لپیٹا گیا۔ (میرے زمانہ کی دلی ، از ملا واحدی)

other sourceWords of another person or source

یہ بلاشبہ غلو تھا۔ اور غلو ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ 1911 اور آج کے فرق کی صورت میں یہ الٹا نتیجہ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

29 دسمبر 1984

1921 میں ہندستان میں خلافت تحریک کا دور تھا۔ مسلم قائدین نے فتوی دیا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں پر ہجرت لازم ہوگئی ہے۔ انھیں چاہئے کہ وہ ہندستان سے ہجرت کر کے افغانستان پہنچیں ۔ وہاں افغانیوں کو ساتھ لے کر دوبارہ ہندستان کے انگریزوں پر حملہ کریں اور اس کو آزاد کرائیں خطیبوں اور شاعروں نے نہایت جوشیلے انداز میں مسلمانوں کو اکسانا شروع کیا۔ ہرطرف یہ نغمہ سنائی دینے لگا :

چلو مسلمانوں سوئے کابل امیر صاحب بلا رہے ہیں

اس قسم کی جذباتی باتوں سے متاثر ہوکر تقریبا 18 ہزار ہندستانی مسلمان ہندستان سے ہجرت کر کے افغانستان پہنچے۔ ہندستان میں انھوں نے اپنا سب کچھ لٹا کر سفر کیا تھا۔ مگر جب وہ افغانستان پہنچے تو بجبر انھیں وہاں سے واپس آنا پڑا۔ کیوں کہ "امیرصاحب" نے انہیں بلایا ہی نہیں تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اولا تو ہجرت کافتوی ہی سراسر لغو تھا۔ دوسرے ان قائدین نے مزید مجرمانہ حماقت یہ کی کہ امیر افغانستان سے گفت وشنید کرنے اور اس سے باقاعدہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں سمجھی بس بھیڑ بکری کی طرح لوگوں کو افغانی سرحد کی طرف روانہ کر دیا۔ ہزاروں لوگ بالکل برباد ہو کر رہ گئے۔

30 دسمبر 1984

قرآن کے نزول کی ابتداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے اکتالیسویں سال 17 رمضان کی رات سے ہوئی ۔ اور اس کی انتہا آپ کی پیدائش کے 63ویں سال اور ہجرت کے دسویں سال 9 ذوالحجہ کو یعنی حج کے روز ہوئی ۔ قرآن کی سورتوں کی کل تعداد 114 ہے ۔ آیات کی مجموعی تعداد 6342 ہے ۔ اس تعداد میں سے وہ آیات جن میں شرعی اور قانونی احکام بیان کئے گئے ہیں ، صرف پانچ سو ہے۔

31 دسمبر 1984

نازی ازم اور فاشزم شخصی نظامات ہیں۔ ان کا اوراسی طرح ہر ڈکٹیٹرانہ نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ تم وہ کرو جس کام کا میں تم کوحکم دیتا ہوں ، اور میں وہی کروں گا جو تہارے لئے بہتر ہوگا۔

You do what I tell you, and I do what is good for you.

شخصی نظام مذکورہ روش کے لئے بدنام ہیں ۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں شخصی نظام اور جمہوری نظام میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں کہ ایک بے پردہ آمریت ہے اور دوسرے کے اوپر بظا ہر عوامی جمہوریت کا پردہ ڈال دیاگیا ہے۔

ڈائری ذاتی واردات اور مشاہدات کا روز نامچہ ہے ۔ وہ انسان کے لمحہ بہ لمحہ ذہنی سفر کا ریکارڈ ہے ۔ ڈائری میں آدمی بہت سی وہ باتیں لکھ دیتا ہے جو باقاعدہ تصنیف میں نہیں آتیں ۔ اس اعتبار سے ڈائری کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے مزید یہ کہ ڈائری خود لکھنے والے کی اپنی ذہنی تنظیم ہے۔ وہ منظم زندگی گزارنے کی راہ میں ایک قیمتی معاون کی حیثیت رکھتی ہے ۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content