← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
October 1984
English · 34 min read
یکم اکتوبر 1984
1947 سے پہلے جب ہندستان میں آزادی اور غلامی کی کش مکش چل رہی تھی ، انگریزوں نے کہا کہ ہم نے ہندستان کو بہترین گورنمنٹ دی ہے ، اس سے زیادہ آپ لوگ اور کیا چاہتے ہیں ۔ مہاتما گاندھی نے سختی کے ساتھ اس کی تردید کی۔ انھوں نے کہا کہ اچھی حکومت ، حکومت خود اختیاری کا بدل نہیں ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Good government is no substitute for self-government.
مگریہ صرف ایک جذباتی بات ہے جو کہنے میں بہت اچھی لگتی ہے ، مگروہ برتنے میں اچھی نہیں۔ ہندستان 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا ، اس کے بعد 20 جنوری 1948 کو گاندھی جی کے ایک سیاسی مخالف نے انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ بندوق کی گولی جب گاندھی جی کے جسم میں پیوست ہو چکی تھی اور وہ موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا تھے ، اس وقت کوئی شخص ان سے پوچھتا کہ غلام ہندستان کا مخالف آپ کو آغا خاں پیلس میں نظر بند کرتا تھا اور آزاد ہندستان کا مخالف آپ کو گولی مار رہا ہے ۔ اب بتائیے کہ دونوں میں سے کون اچھا ہے تو شاید ان کا جواب پہلے جواب سے مختلف ہوتا۔
آج اگر ایک عام ہندستانی سے پوچھا جائے کہ انگریزی دور تمہارے لئے اچھا تھا جب کہ تمہاری جان ومال محفوظ تھی ، دفتروں میں رشوت کے بغیر کام ہوتا تھا ، یا موجودہ دور اچھا ہے جب کسی شخص کی جان و مال محفوظ نہیں ، رشوت کے بغیرکسی دفتر میں کوئی کام نہیں ہوتا توشاید اس کا جواب اس سے مختلف ہوگا جس کی نمائندگی مہاتما گاندھی نے اپنے مذکورہ فقرہ میں کی تھی۔
2 اکتوبر 1984
بعض مرتبہ آدمی ایسے الفاظ بولتا ہے جو گریمر کے لحاظ سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہوتے ہیں۔ 1977 کا واقعہ ہے ۔ امریکہ نے ایک خلائی جہاز (space-craft) خلا میں بھیجا۔ اس کے دومسافر تھے ایک مرد اور ایک عورت ۔ مرد کا نام بورمن (Frank Borman) تھا۔ واپسی کے بعد مسٹر بورمن نے ایک بیان میں کہا : عورت کو خلائی جہاز میں بٹھانا اچھا ہے۔ مگر ایک مرد اور ایک عورت کو دیر تک اس طرح قریب رکھنا ابتری (upseting ) کا باعث ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسٹر بورمن کے اس بیان سے موجودہ نظریۂ مساوات مرد وزن پر زد پڑتی تھی۔ چنانچہ آزادی نسواں کی ایک پرجوش حامی خاتون نے کہا :” مسٹر فرینک بورمن کا وجود کہاں ہوتا اگر ان کے ماں اور باپ اکھٹا نہ ہوئے ہوتے۔"
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ جملہ گریمر کے لحاظ سے صحیح مگرحقیقت کے اعتبار سےغلط ہے۔ فرنیک بورمن کے والدین بذریعہ نکاح شوہر اور بیوی کی حیثیت سے اکٹھا ہوئے تھے۔ جب کہ مذکورہ خلائی جہاز میں سب مرد اور عورت کو ایک ساتھ بھیجا گیا تھا وہ ایک دوسرے کے لئے غیر کی حیثیت رکھتے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان جب ایک بات کو نہ ماننا چاہے اور اس کو رد کرنے کے لئے اس کے پاس دلیل بھی نہ ہو تو اس وقت وہ دھاندلی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ یہ دھاندلی نہ صرف انتہائی غیر علمی حرکت ہے بلکہ وہ بدترین جرم بھی ہے ۔ سچائی کے مقابلہ میں انسان کا رویہ اعتراف کا ہونا چاہئے نہ کہ انکار اور دھاندلی کا۔
3 اکتوبر 1984
ان الفتنة نائمة ولعن الله من ایقظھا ( فتنہ سویا ہوا ہے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اس کو جگاۓ)
hadithQuotes a hadith
اس کا مطالعہ ہندستان کے حالات میں کیجئے ۔ اس ملک میں ہندو اکثریتی فرقہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ وہ ہر اعتبار سے مسلمانوں سے آگے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ہندووں کے ذہن میں بہت سی تلخ یادیں چھپی ہوئی ہیں ۔ مسلمانوں نے با ہرسے آ کر آٹھ سو سال تک ہمارے اوپر حکومت کی ۔ مسلم حکمرانوں نے سمندروں کو توڑ کر مسجد میں تبدیل کیا ۔ مسلمانوں نے بھارت ماتا کے دوٹکڑے کروائے ۔ ملک بٹوانے کے باوجود وہ ہمارے دار بنے ہوئے ہیں۔ وغیرہ
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس قسم کی بہت سی تلخ یادیں ہیں جو ہندووں کے دماغ میں بسی ہوئی ہیں۔ تاہم روز مرہ کی زندگی کے تقاضے ان یادوں کو دبائے رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہندو قوم ایک زرپرست قوم ہے زر کو حاصل کرنا اس کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ چنانچہ ہندووں کا حال یہ ہے کہ دولت کمانے کی دھن میں وہ دوسری تمام باتوں کو بھولے ہوئے رہتے ہیں۔ گویا ہندو قوم کے ذہن میں ایک "فتنہ" ہے مگر عام حالات میں وہ سویا ہوا رہتا ہے۔ لیکن مسلمان یہ کرتے ہیں کہ اپنی جذباتیت اور اپنے جھوٹے فخر کی وجہ سے وہ اس خفتہ فتنہ کو جگا دیتے ہیں۔
مثلا ہندؤوں کا ایک مذہبی یا قومی جلوس سڑک پر جا رہا ہے ۔ راستہ میں ایک مسجد ہے۔ یہاں مسلمان نکل کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنا جلوس دوسرے راستہ سے لے جاؤ ہم اپنی مسجد کی طرف سے مشرکانہ جلوس کو نہیں جانے دیں گے۔ اس قسم کے تمام افعال جو مسلمان اس ملک میں 50 برس سے کر رہے ہیں وہ سب فتنہ کو جگانے والے ہیں ۔ فتنہ جب جاگتا ہے تو ہندو مسلم فساد ہوتا ہے جس میں ہمیشہ مسلمان ہی یکطرفہ طور پر مارے جاتے ہیں۔ وہ یک طرفہ طور پر برباد ہوتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جو فتنہ سویا ہوا ہے اس کو سویا رہنے دیجئے۔ وہ شخص لعنت زدہ ہے جو سوئے ہوئے فتنہ کو جگا دے۔
4 اکتوبر 1984
مولانا ابوالاعلی مودودی ایک آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
other sourceWords of another person or source
" اسلام کی تلوار ایسے لوگوں کی گردنیں کاٹنے کے لئے توضرور تیز ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں یا اللہ کی زمین میں فتنہ وفساد پھیلاتے ہیں لیکن جو لوگ ظالم نہیں ہیں ..... الجھاد في الاسلام، صفحہ 105)
اسی طرح موصوف اپنی کتاب " پردہ " میں پردہ اور نقاب سے بحث کرتے ہوئے کتاب کے آخر میں لکھتے ہیں : ” پردہ میں تخفیف کرنے سے پہلے آپ کو کم از کم اتنی قوت پیدا کرنی چاہئے کہ اگر کوئی مسلمان عورت بے نقاب ہو تو جہاں اس کو گھورنے کے لئے وہ آنکھیں موجود ہوں ، وہیں ان آنکھوں کو نکال لینے کے لئے پچاس ہاتھ بھی موجود ہوں " (پردہ صفحہ 272)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ زبان میرے ذوق کے سراسر خلاف ہے ۔ اس زبان میں جو بے دردی اور قساوت ہے اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی داعی کا کلام نہیں ہے بلکہ کسی جلاد کا کلام ہے۔ داعی کا کلام درد اور شفقت سے بھرا ہوا کلام ہوتا ہے۔ مگر مجھے اس کے اندر درد اور شفقت کی بو محسوس نہیں ہوتی۔ ان الفاظ میں جلاد کی بے دردی ہے نہ کہ داعی کی درد مندی ۔
5 اکتوبر 1984
جون 1967 میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔ اس چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کو زبردست کامیابی ہوئی ۔ اس نے عربوں کے بڑے حصہ پرقبضہ کر کے اپنارقبہ بہت بڑھا لیا۔ اس جنگ میں اسرائیل کی کامیابی کا ایک راز یہ تھا اختلاف کے باوجود متحد ہونا۔ اس وقت اسرائیل میں ایشکول (Levi Eshkol) کی حکومت تھی۔ ایشکول کی حکومت 1963 سے 1969 تک رہی ۔
ایشکول اور موشے دایان کے درمیان زبردست اختلاف تھا۔ اسی اختلاف کی بنا پر موشے دایان نے 1964 میں کابینہ سے استعفا دے دیا تھا۔ مگر 1967 میں جمال عبد الناصر کی پالیسی کے نتیجہ میں جب محسوس ہوا کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان جنگ ہو کر رہے گی تو اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم لیوی ایشکول نے اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کیا۔ اس کو مسوس ہواکہ جنگ کو جیتنے کے لئے جنرل موشے دایان کی خدمات کو حاصل کرنا بہت ضروری ہے جس کوجنگی معاملات میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔
چنانچہ یکم جون 1967 کوجنرل موشے دایان کو کینٹ میں لے لیا گیا اور اس کو اسرائیل کاوزیر جنگ بنا دیا گیا۔ اس کے جلد ہی بعد 5 جون کو جنگ چھڑ گئی جو 10 جون 1967 کو اسرائیل کی فتح پرختم ہوئی۔
جنرل موشے دایان اس سے پہلے لیوی ایشکول پرسخت تنقیدیں کیا کرتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے سیاسی رقیب بنے ہوئے تھے ۔ اس کے باوجود ایشکول نے اس کی فوجی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو دفاع کی وزارت سونپ دی ۔ یہی اختلاف کے باوجود متحد ہونا اسرائیل کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔
6 اکتوبر 1984
عن أبي موسى قال قال رسول الله من احب دنياه اضربآخرته ومن احب آخرته اضربدنياه فأثروا مايبقیٰ علیٰ ما یفنیٰ( مسند احمد، بیہقی)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دنیا کی محبت کرے گا وہ اپنی آخرت کا نقصان کرےگا ۔ اور جو شخص آخرت کی محبت کرے گا وہ اپنی دنیا کا نقصان کرے گا پس جو باقی رہنے والا ہے اس کو تم ترجیح دو اس پر جو فنا ہونے والا ہے۔
hadithQuotes a hadith
آدمی بیک وقت دو چیزوں سے محبت نہیں کر سکتا۔ ایک چیز سے محبت کی سطح پر تعلق ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ دوسری چیزوں سے اس کا تعلق محض رسمی ہوکر رہ جائے ۔
7 اکتوبر 1984
اسلامی شریعت کے مطابق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو وہ طلاق بائن ہو جاتی ہے۔ اب بعض لوگ اس طرح کہتے تھے کہ " میں تم کوتین طلاق دیتا ہوں۔" اگر چہ یہ بھی غلط تھا۔ کیوں کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینا درست نہیں۔ کچھ لوگ اس سے بھی آگے اس طرح کے الفاظ بولنے لگے کہ ــــ تجھ کو تین ہزار طلاقیں ۔ یا اتنی طلاقیں جتنے آسمان میں تا رے ہیں ۔ وغیرہ اس طرح اعداد طلاق میں اسراف کا ایک معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا ۔ آپ نے فرمایا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
” تیری بیوی کے تجھ سے جدا ہونے کے لئے توصرف تین طلاق کافی تھی۔ بقیہ طلاقیں جو تونے دی ہیں وہ تیرے حساب میں لکھی جائیں گی۔ یہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ انھیں معاف کرے یا اس کے سبب تجھے سزا دے“
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
طلاق کا تعلق عورت سے ہے نہ کہ مرد سے ۔ پھروہ مرد کے حساب میں کیوں لکھی جائیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کا کلام سرکشی کا کلام ہے ۔ نکاح وطلاق کے احکام خدا کے احکام ہیں۔ آدمی جب ایک عورت سے نکاح کر تا ہے تو وہ خدا کے حکم کے تحت اس سے نکاح کر تا ہے ۔ اسی طرح جب وہ اس کو طلاق دیتا ہے تو خدا کے حکم تحت اس کو طلاق دیتا ہے ۔ ایسی حالت میں حکم کے اندر سنجیدگی کا انداز ہونا ضروری ہے۔
آدمی اگر کہے کہ " میں تم کو ایک طلاق دیتا ہوں" تو اس نے خدا کے بتائے ہوئے الفاظ کو دہرایا ۔ اگر وہ کہے کہ " میں تم کو تین طلاق دیتا ہوں " تو اس نے خدا کے حکم کے ساتھ کھیل کیا۔ اور اگر وہ کہتا ہے کہ ” تم کو اتنی طلاقیں جتنے آسمان میں تارے ہیں " تو وہ خدا کے آگے سرکشی کر رہاہے ۔ اس کو وہی سزا ملے گی جوسرکش کے لئے مقرر ہے، الا یہ کہ وہ توبہ کرے اور اللہ اس کی توبہ قبول کرلے۔
8 اکتوبر 1984
قال مطرف العابد: لان ابيت نائما واصبح نادما خیرمن ان ابیت قائما و اصبح معجبا۔
other sourceWords of another person or source
میں رات کو سوتا رہوں اور صبح کو ندامت کے ساتھ اٹھوں یہ مجھ کو اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں رات کو عبادت میں کھڑا رہوں اور عجب کے ساتھ صبح کروں۔
hadithQuotes a hadith
اس قول میں اصل زور سونے پر نہیں ہے بلکہ عجب کے ساتھ صبح کرنے پر ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رات بھر سوتے رہو بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ عمل خیر پر نازاں نہ ہو ۔
دین کی اصل حقیقت تواضع ہے۔ عجب اس کا ضد ہے۔ جو دینی عمل آدمی کے اندر تواضع پیدا کرے وہ سچا عمل ہے ، اور جو دینی عمل آدمی کے اندر عجب اور کبر پیدا کیے وہ جھوٹا عمل ۔ ہر دینی عمل کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے قریب ہو۔ اور جو شخص خداوند عالم کے قریب ہوگا وہ عجز و تواضع کا نمونہ بنے گا نہ کہ کبرو ناز کا نمونہ ۔
9 اکتوبر 1984
ایک صاحب پاکستان سے آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایک دیوبندی عالم ہیں۔ وہ رد بدعت پر نہایت زبردست تقریر کرتے ہیں۔ چنانچہ لوگوں میں وہ " مولانا بجلی گھر" کے نام سے مشہور ہیں۔
other sourceWords of another person or source
میں نے سوچا کہ کیسی عجیب ہے وہ قوم جو ایک طرف ” رحمتہ للعالمین " کا امتی ہونے پر فخر کرتی ہے ، دوسری طرف اس کے پاس جھگڑے اور فساد والی تقریروں کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔
مسلمانوں نے مولانا "بجلی گھر" تو پیدا کئے مگر مولانا رحمت عالم، اورمولانا درد و شفقت پیدا نہیں کیا۔ مسلمانوں میں کوئی عالم نہیں جوغیر مسلموں کو سوز و ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبہ کے تحت خدا کے دین کا پیغام پہنچاۓ ۔ البتہ آپس کے جھگڑوں میں ہر آدمی آندھی اور طوفان بنا ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان باهمی جھگڑوں کا پاور ہاؤس بنے ہوئے ہیں مگر وہ پیغام حق کا چشمہ شیریں نہ بن سکے۔
10 اکتوبر 1984
مولانا عبد العزیز قاسمی مدرسہ بیت العلوم (سرماپیٹ ، ضلع نلگنڈہ) میں استاد ہیں انھوں نے 1983 کا ایک واقعہ بتایا۔
کڑپا ( آندھرا پردیش) میں سیرت البنی کا جلسہ تھا۔ مولانا عبدالعزیز قاسمی بھی اس جلسہ میں مقرر کی حیثیت سے بلائے گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ جلسہ سڑک پر ٹینٹ لگا کر کیا جارہا تھا شامیانہ کے نیچے فرش اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں ۔ عین اس وقت ہندوؤں کا ایک جلوس نکلا۔ یہ کسی دیوی کا جلوس تھا ۔ وہ گزرتا ہوا جلسہ گاہ کے قریب پہنچ گیا۔ جلسہ کے منتظمین نے جب یہ دیکھا تو ان کے چند افراد آگے بڑھ کر جلوس کے قائدین سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ آج اس سڑک سے آپ کا جلوس نکلنے والا ہے ، ورنہ ہم یہاں آج اپنا جلسہ نہ رکھتے بہرحال آپ ہمیں تھوڑا سا وقت دیں، ہم اپنا جلسہ تھوڑی دیر کے لئے روک کر ٹینٹ اور کرسیاں وغیرہ ہٹا دیتے ہیں۔ آپ کا جلوس جب گزر جائے گا تو اس کے بعد دوبارہ اس کو لگا لیں گے۔
جلسہ سیرت النبی کے لوگوں نے جب اس قسم کی پیشکش کی تو جلوس والوں کے دل نرم پڑگئے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ جیسے ہمارا جلوس ہے ویسے ہی آپ کا جلسہ بھی ہے۔ آپ اپنے جلسہ کو گڑبڑ نہ کریں ۔ ہم لوگ بازو کی گلی سے نکل کر پھر سڑک پر آ جائیں گے۔ آپ کا جلسہ بھی جاری رہے گا۔ اور ہمارا جلوس بھی نکل جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ لوگ راستہ بدل کر آگے چلے گئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمان اگر جلوس کو روکتے تو بات بڑھتی اور فساد ہوتا ، مگر جب مسلمانوں نے جلوس کو نہیں روکا تو کچھ بھی نہیں ہوا ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اگر نرمی اختیار کریں تو وہ لوگ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے، انھیں اس واقعہ سے سبق لینا چاہئے۔
11 اکتوبر 1984
یہ 29 اپریل 1968 کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں جمعیت علماء ہند کے دفتر مسجد عبدالنبی (نئی دہلی) میں تھا۔ دوپہر کے کھانے کا وقت تھا۔ دسترخوان پر مرکز کے لوگ اور کئی مہمان بیٹھے ہوئے تھے ۔ شفیق چپراسی کھانا لا لا کر دسترخوان پر رکھ رہا تھا۔ وہ دال کا پیالہ لایا تو اتفاق سے اس کا ہاتھ ہل گیا اور دال چھلک کے مولانا اسعد مدنی کی پیٹھ پر گرپڑی سفید دھلا ہوا کرتا گندا ہوگیا۔ دسترخوان پر بیٹھے ہوئے لوگ شفیق کو بری نظروں سے دیکھنے۔ خودشفیق کوبھی شدید احساس ہوا۔ مگرمولانا اسعد مدنی نے شفیق کو کچھ نہیں کہا۔ وہ مسکراتے ہوئے بولے :
چھوڑو اس کو، اپنا کام کرو۔
مولانا اسعد مدنی سے مجھے سخت اختلاف ہے۔ میرا یہ اختلاف اسی زمانہ میں ظاہر ہوگیا تھا جب کہ میں الجمیعہ ویکلی سے وابستہ تھا۔ میری ڈائری میں درج ہے کہ :
29 دسمبر 1970 کو جب کہ میں جمعیتہ بلڈنگ میں اپنے دفتر کے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا، الجمعیتہ کے منیجر جناب الطاف الرحمن کانپوری آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ مولانا اسعد مدنی نے ان سے کہا ہے کہ وہ روز نامہ الجمعیہ اور ہفت روزہ الجمعیہ دونوں کے نہ صرف شاکی ہیں ، بلکہ دونوں سے انھیں دکھ پہنچا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مولانا اسعد مدنی سے اختلاف کے باوجود میں نے دیکھا ہے کہ ان کے اندر کچھ خاص صلاحیتیں ہیں جو دوسروں میں نہیں ۔ مثلا وسعت ظرف جس کا ایک نمونہ اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ڈاکو بننا ہو تب بھی کچھ صلاحیتیں درکار ہیں۔ بے صلاحیت آدمی اس دنیا میں کچھ نہیں بن سکتا۔
تاہم مولانا اسعد مدنی اور اس قسم کے دوسرے حضرات کا وسعت ظرف بہت محدود دائرہ میں ہوتا ہے ۔ وہ اپنے موافقین کے لئے وسیع الظرف ہوتے ہیں مگر اپنے مخالفین کے لئے اتنا ہی تنگ ظرف بن جاتے ہیں ۔
12اکتوبر 1984
موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان بڑا عجیب ہے ۔ اس کا امتحان یہ ہے کہ ـــــــــــــ وہ بظاہر بے مقصد عالم کے اندر چھپی ہوئی مقصدیت کو دریافت کرے ۔ وہ نہ دکھائی دینے والے خدا کو دیکھے۔ کوئی مجبوری نہ ہو تب بھی وہ اطاعت کرے ۔ مکمل طور پر دنیا میں رہتے ہوئے مکمل طور پر آخرت والا بنے ۔ وہ حق کا اعتراف کرے جب کہ وہ اس کا انکار کرنے کے لئے پوری طرح آزاد ہو۔ خلاصہ یہ کہ وہ قیامت کے آنے سے پہلے قیامت کو اپنے اوپر طاری کرے۔ بظاہر وہ اپنے آپ کو خدا کی مانند پاۓ مگر وہ خود اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو بندہ بنا لے۔
یہ ایک بے حد آسان مگر بے حد سخت امتحان ہے۔ آسان اس لئے کہ یہ سب کچھ اندرونی نفسیات کی سطح پر پیش آتا ہے۔ آدمی کو اس کے سوا اور کچھ نہیں کرنا پڑتا کہ وہ ایک ڈھنگ سے سوچنے کے بجائے دوسرے ڈھنگ سے سوچنے لگے ۔ وہ اپنی زبان سے ایک لفظ نکالنے کے بجاۓ دوسرا لفظ نکالے۔
مگر یہ آسان ترین چیز آدمی کے لئے مشکل ترین چیز بن جاتی ہے۔ کیوں کہ ایسا کرنے کے لئے آدمی کو اپنی انا کو توڑنا پڑتا ہے، اور بلاشبہ انا کو توڑنے سے زیادہ مشکل کوئی کام انسان کے لئے نہیں ۔
13 اکتوبر 1984
سابق شاہ ایران محمدرضا پهلوی نے اپنی جلاوطنی کے آخری دنوں میں اپنےحالات قلم بند کئے تھے جو اب شائع ہو گئے ہیں۔ اس کا ایک پیرگراف یہ ہے
" اکتوبر 1979 تک میکسکو میں میری حالت زیادہ بگڑنے لگی اور مجھے اپنے ماتحتوں کا یہ مشورہ قبول کرنا پڑا کہ اب علاج کے لئے امریکہ جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ 22 اکتوبر کی شام کو میکسکو کے ہوائی اڈہ پر ہوائی جہاز میرے لئے تیار کھڑا تھا اور امریکی قونصل جنرل وہاں موجود تھا جو میرے کا غذات کو آخری شکل دینے آیا تھا۔ اس نے مجھے دیکھا اور مجھے اس کے چہرہ پر حیرت کے آثار نظر آئے۔ شاید اسے مجھ میں وہ شہنشاہ دکھائی نہ دیا بقول اخبارات ’’بنیادی انسانی حقوق کا دشمن ‘‘اور عوام کے لئے تشدد کی علامت تھا۔ قونصل جنرل نے اس کے برعکس اپنے سامنے ایک ایسا کمزور اور بیمار انسان دیکھا جومشکل ہی سے چل رہا تھا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
14 اکتوبر 1984
40ھ تک احادیث وضع سے پاک رہیں۔ علی ومعاویہ کی جنگ کے بعد جو سیاسی اختلافات پیدا ہوۓ اس سے وضع حدیث کا دروازہ کھلا ۔ ہر فرقہ اپنے کو برسر حق ثابت کرنے کے لئے حدیثیں گھڑنے لگا۔ اس کے نتیجہ میں علم حدیث وجود میں آیا اور جرح و تنقید کے ذریعہ معلوم کیا جانے لگا کہ کون حدیث صحیح ہے اور کون غلط ۔
تاہم لاکھوں کی تعداد میں موضوع حدیثیں امت کے اندر پھیل گئیں ۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے موضوع احادیث پر مستقل کتابیں لکھیں۔ انھیں میں سے ایک حافظ ابوالفرج بن جوزی (م 597ھ) ہیں۔ ابن جوزی نے اپنی کتاب میں صحاح تک میں موضوع احادیث کی نشاندہی کی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں بخاری کی ایک مسلم کی 2 ، مسند احمد کی 38 سنن ابی داؤد کی9 ، ترمذی کی30 ، نسائی کی10، ابن ماجہ کی30 مستدرک حاکم کی20 حدیثیں درج ہیں۔ ان کے علاوہ اور بہت سی احادیث کو موضوع بتایا ہے ۔
اگرچہ علماء نے بعض روایتوں کے سلسلہ میں ابن جوزی کی رائے سے اختلاف کیا ہے۔ تاہم اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ احادیث کو جانچنے کے سلسلہ میں ہمارے علماء کس قدر شدید تھے۔ اور کس طرح بلا رو رعایت ہر روایت کو جانچتے تھے تاکہ ایسا نہ ہو کہ جو چیز قول رسول نہیں ہے اس کو قول رسول کہہ دیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر ہمارے علماء میں یہی ذہن وسیع تر حقیقتوں کے لئے نہیں بنا ۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ وہ دوسری تمام چیزوں کو حقیقت واقعہ سے چانچیں اور جو چیز حقیقت نہ ہو اسے رد کر دیں۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں اور شخصیات کے تذکروں میں بے شمار غیر واقعی باتیں ہوئیں۔ یہاں ہر بات کتابوں میں درج کر دی گئی خواہ وہ بالکل بے اصل کیوں نہ ہو مسلمانوں کا علمی ذہن صرف حدیث تک رہا ، اس کے بعد ان کا علمی ذہن ختم ہوگیا۔ اس کمی کے زبردست نقصانات پچھلی صدیوں میں مسلمانوں کو پہنچے ہیں ۔
15 اکتوبر 1984
خلیفہ ثانی عمرفاروقؓ کا ایک واقعہ ہے۔ ان کے سامنے زناسے حمل کا ایک کیس آیا۔ تحقیق کے بعد آپ نے حاملہ زانیہ کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ حضرت علی ؓنے فورا اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لان جعل الله لك عليها سبيلا فانه لم يجعل لك على ما في بطنھا سبيلا اللہ نے آپ کو اس عورت کے اوپر حد جاری کرنے کا اختیار دیا ہے مگر اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس پر اختیار نہیں دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عمرفاروق نے یہ سنتے ہی فورا اپنا فیصلہ منسوخ کر دیا اور کہا :
لولا علي لهلك عمر
اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میں اعتراف کا جذبہ کتنا زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ کوئی شخص اگر ان کی غلطی کو بتایا تو اس کو محسوس کرنے میں ان کو ایک لمحہ کی دیر نہ لگتی۔ وہ بلا تاخیر اس کا اعتراف کر لیتے ۔ ان کی روح کو اس کے بغیر تسکین نہ ملتی کہ اعتراف کا آخری لفظ جوان کے پاس ہے اسے استعمال کر ڈالیں۔
16 اکتوبر 1984
غزوہ احزاب (شوال 5 ھ ) بڑے سخت حالات میں ہوا۔ جاڑے کا موسم تھا۔سرد ہوائیں چل رہی تھیں۔ کھانے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ چنا نچہ اکثر اوقات فاقے میں گزر رہے تھے ۔ دشمنوں نے مدینہ کو اس طرح گھیر رکھا تھا کہ کہیں نکلنے تک کی گنجائش نہ تھی ۔ ان حالات میں مہاجرین وانصار نے خندق کھودی . وہ کھدائی کر رہے تھے اور مٹی اٹھا اٹھا کر لارہے تھے اور یہ شعر پڑھتے جارہے تھے:
نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما بقینا ابدا
ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے محمد کے ہاتھ پر بیت کی ہے ۔ ہم نے جہاد پربیعت کی ہے جب تک بھی ہم اس دنیا میں باقی رہیں۔
other sourceWords of another person or source
”جہاد“ کے معنی ہیں اپنی آخری کوشش صرف کر دینا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ”محمد" کے ساتھ ہیں ، ہم کبھی ان کو چھوڑنے والے نہیں، خواہ اس کی قیمت ہمیں یہ دینی پڑے کہ ہم پر فاقے پڑیں ، ہماری معاشیات تباہ ہوں۔ ہمارے گھر اجڑ جائیں۔ ہم کو پتھرتوڑنا اور مٹی ڈھونا پڑے۔ ہم کو تلوار کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑے جب کہ ہمارے پاس تلوار بھی نہ ہو۔ غرض جو بھی قیمت دینی ہو وه قیمت ہم دیں گے مگر ہم نے جس شخص کے ہاتھ پر حق کی بیعت کی ہے اس کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
اپنے قول پر پورا اترنے کا یہ کردار ہی اس دنیا میں سب سے بڑی چیز ہے۔ ایسے لوگ جب قابل لحا ظ تعداد میں اکٹھا ہو جائیں تو وہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی انقلاب لاتے ہیں ، وہ تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں ۔
17 اکتوبر 1984
عربی کا ایک مقولہ ہے : الوقت كالسيف - اذالم تقطعه قطعك-(وقت تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم اس کو نہ کاٹو تو وہ تم کو کاٹ ڈالے گا)
other sourceWords of another person or source
یہ ایک نہایت سچی بات ہے ۔ وقت کوئی ٹھہری ہوئی چیز نہیں۔ وہ ہرلمحہ گزر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو وقت استعمال نہیں ہوا وہ کھویا گیا۔ اگر آپ نے وقت کو استعمال کرلیا تو آپ وقت کے فاتح ہیں ۔ اور اگر آپ وقت کو استعمال نہ کر سکے تو وقت آپ کے اوپر فاتح۔
18 اکتوبر 1984
اردو زبان میں عربی زبان کے الفاظ کثرت سے موجود ہیں۔ مگر بہت سے الفاظ ایسے ہیں جو استعمال کے اعتبار سے عربی میں کچھ مفہوم رکھتے ہیں اور اردو میں کچھ۔
ایک عرب ملک میں کچھ ہندستانی لوگ شریک تھے۔ ایک موقع پر اسٹیج کی طرف سے اعلان کیا گیا : التقرير سوف يوزع الیکم ہندستانی بزرگ نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ اسپیچ پر آپ کے درمیان تقسیم کی جائے گی ۔ حالاں کہ تقریر سے مراد رپورٹ تھا ۔ اور اس کا مطلب یہ تھا کہ رپورٹ آپ کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔
اس طرح کے لطیفے ہندستانیوں اور عربوں کی ملاقات کے دوران اکثر پیش آتے ہیں ۔
19 اکتوبر 1984
ہمارے فقہاء نماز کے جزئی مسائل کی حد درجہ تفصیل اور تحقیق کرتے ہیں مگر خشوع کے بارے میں وہ اتنا کہنا کافی سمجھتے ہیں :
ان الخشوع ادب من آداب الصلوة
خشوع نمازکےآداب میں سے ایک ادب ہے ۔
یہ خشوع کی نہایت ناقص تشریح ہے ۔ کیوں کہ خشوع نماز کی اصل حقیقت ہے۔ نہ کہ وہ نماز کے آداب میں سے ایک ادب ہے۔ قرآن میں واضح طور پر موجود ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قد افلح المومنون الذين هم في صلاتهم خاشعون ( وہ اہل ایمان کامیاب ہوگئے جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
Qur'anQuotes the Qur'an
فقہاء ان بحثوں میں پڑے جو بحثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی تھیں ۔ اور نہ آپ کے بعد آپ کے اصحاب نے کیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔ فقہاء کی نو ایجاد بحثوں میں نمازمسائل کی ایک چیز بن گئی ،حالاں کہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ خشوع کی ایک چیز تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
20 اکتوبر 1984
دنیا کے تمام حکمران امن امن پکار رہے ہیں مگر دنیا میں کہیں بھی امن قائم نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امن کا لفظ ان حکمرانوں کے لئے محض ایک قیادتی نعرہ ہے نہ کہ کوئی سنجیدہ فیصلہ ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ آج اسلام کا بھی ہورہا ہے۔ آج ہر طرف اسلام کا غلغلہ بلند ہے۔ مگر خدا کی زمین پر چند گز زمین بھی ایسی نہیں جہاں حقیقی معنوں میں اسلام قائم ہو ۔ اس کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اسلام کے اوپر اپنی بڑائی قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ بھرے ہوئے مجمع میں کوئی بھی نہیں جواپنی ذات کے اوپر اسلام کی بڑائی قائم کرنے کے لئے بے قرار ہو۔
21 اکتوبر 1984
بدیع الزماں سعید النورسی 1873ء میں ترکی میں پیدا ہوئے ۔ 20 سال کی عمر میں وہ ملکی سیاست میں داخل ہوگئے۔ بالآخر مایوس ہوکر 1921 میں سیاست سے علیحدہ ہوگئے:
بدأ بديع الزماں الفصل الثاني من حياته بقـولـهراعوذباللهمنالشيطانوالسـياسـةثمراحيتخذمنهذهالكلمة دستورالجميعصفحات هـذاالفصـلالجـديـدمـنعـمر - فقـدغـادرالقـرالىمكانمافي
بلدة وان ، منـزوياعنالحكاموالنواب،مبتعـدأعنجميعمشـالسياسةوأصحابها
الدکتر محمد سعيد رمضان البوطي ، من الفكر الى القلب ، دمشق 1973 ، صفحہ 320
other sourceWords of another person or source
بدیع الزماں نے اپنی زندگی کا دوسرا دور اس قول سے شروع کیا : میں شیطان اور سیاست سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ پھر یہی کلمہ ان کی عمر کے نئے دور کا دستور بنا رہا ۔ انھوں نے انقرہ چھوڑ دیا اور و ان کے ایک مقام پر آ کر بس گئے ۔ وہ امراء اور حکام سے الگ رہتے اور سیاسی مسائل اور اس کے لوگوں سے دور ۔
یہی موجودہ زمانہ کے اکثر مسلم رہنماؤں کا حال ہوا ہے۔ انھوں نے اپنی جوانی کی عمر سیاسی ہنگاموں میں گزاری۔ اور آخر میں وہ سیاست سے الگ ہوکر دوسرے انداز کی باتیں کرنے لگے۔ مگر ان میں سے کسی رہنما کی بعد کی زندگی یہ ثابت نہیں کرتی کہ انھوں نے شعوری طور پرکسی نئی چیز کو دریافت کیا تھا ۔ ان کی زندگی کا یہ دوسرا دور زیادہ تر ان کی مایوسی کا نتیجہ تھا نہ کہ ان کی کسی نئی دریافت کا نتیجہ ۔
22 اکتوبر 1984
آدمی جب سرکشی کا ایک فعل کرتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو دلدل میں ڈال دیتا ہے۔ اس دلدل سے نکلنے کی واحد تدبیر توبہ ہے ۔ آدمی اگر سرکشی کرنے کے بعد اللہ کی طرف پلٹ آئے اور دل سے توبہ واستغفار کرے تو یہ چیزاس کو دلدل سے نکالنے کا ذریعہ بن جائے گی ۔
اس کے برعکس اگر وہ یہ کرے کہ اپنی سرکشی پر قائم رہے اور اپنے آپ کو برسر حق ثابت کرنے کے لئے جھوٹ اور فریب کی مہم چلائے تو وہ مزید دلدل میں پھنستا چلا جائے گا ۔ یہاں تک کہ وہ اس میں ہمیشہ کے لئے غرق ہو جائے گا۔
23 اکتوبر 1984
ہوائی جہاز کے اغوا (hijacking) کا واقعہ غالبا پہلی بار 1931 میں پیش آیا ۔ یہ ہوائی جہاز پیرو میں اغوا کیا گیا تھا ۔ 1931 سے اب تک مجموعی طور پر ہوائی جہازوں کے اغوا کے 775 واقعات پیش آئے ہیں جن میں230 مسافر ہلاک ہوئے ہیں۔ ایشیا میں ہوائی جہاز کو اغوا کرنے کا پہلا واقعہ غالبا 1948 میں پیش آیا۔ اس جہازکو مکاو سے ہانگ کانگ جاتے ہوئے چار چینی باشندوں نے اغوا کیا تھا۔ انھوں نے دوران پرواز جہاز کے پائلٹ اور اس کے شریک پائلٹ دونوں کو غصہ میں آ کر ہلاک کر دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاز بے قابو ہوکر سمندر میں گرگیا ۔ اغوا کرنے والوں سمیت اس کے تمام مسافرمر گئے۔
ستمبر 1974 میں ویتنام کا ایک جہاز اغوا کیا گیا تھا۔ اغوا کرنے والا صرف ایک شخص تھا۔ اس نے بھی غصہ میں آکر دوران پرواز جہاز میں دستی بم چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں جہاز تباہ ہوگیا اور اغوا کرنے والے شخص کو لے کر اس کے تمام مسافر ہلاک ہوگئے۔
دوسروں کو ختم کرنے کی یہ تدبیر بڑی عجیب ہے جس میں دوسروں کو ختم کرنے والا شخص خود اپنا بھی خاتمہ کر لے ۔
24 اکتوبر 1984
دکتور محمد البھی مصری کی ایک کتاب ہے میں کا نام ہے :
الاسلام في حياة المسلم
500 صفحات کی اس کتاب کا ایک باب ہے : الاسلام اكبرعدو للاستعمار- یعنی اسلام استعمار کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام دین حریت ہے ، اور استعمار حریت کا دشمن ہے ۔ اس لئے اسلام استعمار کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلم اہل قلم نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ زیادہ تر وقتی حالات سے متاثر ہو کر لکھی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کتابوں میں اکثر اسلام کے ساتھ غیر اسلام کی آمیزش ہوگئی ہے اس آمیزش نے ان کتابوں کی افادیت بہت گھٹا دی ہے ۔
اس طرح کی کتابیں جو لوگ پڑھتے ہیں وہ ان سے متاثر ہوکر " استعمار “ جیسی مفروضہ چیزوں سے لڑنے لگتے ہیں ۔ اور آخر کار صرف اپنی قوتوں کو ضائع کرتے ہیں۔ ان مصنفین کے متعلق مجھے شبہ ہے کہ انھوں نے گہرائی کے ساتھ نہ ” اسلام" کوسمجھا ہے اور نہ "استعمار" کو ۔ وہ دونوں ہی کی حقیقت جاننے سے بے خبر رہے۔
25 اکتوبر 1984
مفتی شفیع صاحب مرحوم کے صاحبزادے مولانا تقی عثمانی اپنے والد کا ایک واقعہ ان الفاظ میں لکھتے ہیں :
other sourceWords of another person or source
والد صاحب کا معمول تھا کہ عام طور پر جو سائل آتا ، آپ اس کو کچھ نہ کچھ دے دیتے تھے۔ ایک بار میں گاڑی میں آپ کے ساتھ تھا ۔ کسی جگہ گاڑی رکی ۔ اور ایک سائل مانگنے کے لئے آگیا۔ آپ نے اپنی جیب سے کچھ نکال کر اسے دے دیا۔ میں نے والد صاحب سے کہا کہ اس قسم کے سائل عام طور پرمستحق نہیں ہوتے، پھر ان کو دینا چاہئے یا نہیں۔ اس کا جو جواب والد صاحب نے دیا وہ یہ تھا:
” ہاں میاں ، بات تو ٹھیک ہے ، لیکن یہ سوچو کہ اگر ہمیں بھی اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے استحقاق کی بنیاد پر ملنے لگے توہمارا کیا بنے گا۔" (البلاغ مفتی اعظم نمبر)
other sourceWords of another person or source
26 اکتوبر 1984
تقسیم سے پہلے بنگال کے ایک مشہور سیاست داں تھے ۔ ان کا نام عبدالرحمن صدیقی تھا۔ ان سے ایک ہندو نے کہا کہ مسلمان ہندستان کا حصہ نہیں بن سکتے“۔ عبدالرحمن صدیقی نے جواب دیا کہ یہ بات مسلمانوں سے زیادہ آپ لوگوں پر چسپاں ہوتی ہے۔ آپ لوگ اپنے مردے کو جلاتے ہیں اس کے بعد ان کی راکھ دریاؤں میں بہتی ہوئی سمندروں میں پہنچ جاتی ہے اور اس طرح ملک کے باہر چلی جاتی ہے۔ اس کے برعکس مسلمان اپنے مردہ کو زمین کھود کر مادر وطن کی آغوش میں ڈال دیتے ہیں۔ مسلمان مرنے کے بعد بھی مادر وطن ہی میں رہتے ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ جواب کوئی علمی اور منطقی جواب نہیں۔ مگر سوال کرنے والے کے لئے صحیح ترین جواب یہی تھا۔ جو لوگ سنجیدہ ذہن کے ہوں ان کو سنجیدہ انداز میں بات سمجھائی جاتی ہے ۔ مگر جو لوگ بے معنی سوال کریں ، جیسا کہ مذکورہ سوال ہے ، ایسے لوگوں کو اسی قسم کا جواب دینا مناسب ہے۔
27 اکتوبر 1984
ایک امتحان میں طلبہ کو یہ سوال دیا گیا کہ ایک عورت کا شوہر ایک چھوٹا بچہ چھوڑ کر مرگیا۔ عورت کو اپنے شوہر سے بے حد محبت تھی ۔ اور یہی اس کے گھر کے لئے آمدنی کا واحد ذریعہ بھی تھا۔ ایسے محبوب شوہر کو کھونے کے بعد عورت کا کیا حال ہوگا۔ وہ زندہ رہنا پسند کرے گی یا یہ چاہے گی کہ خود بھی مرجاۓ۔ اکثر طلبہ نے یہ لکھا کہ عورت خود بھی مر جانا پسند کرے گی ۔ مگرایک طالب علم نے لکھا کہ وہ زندہ رہنا چاہے گی تاکہ اپنے بچہ کی پرورش کر سکے ۔ بچہ کی زندگی اور اس کے مستقبل کا سوال اس کو مجبور کرے گا کہ وہ ایک ایسی زندگی کو قبول کرے گا جس کو عام حالات میں قبول کرنا اس کے لئے ممکن نہیں تھا۔
اسی کا نام با مقصد زندگی ہے۔ مقصد وہ چیز ہے جو آدمی کو جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ جو آدمی مقصد کو کھو دے ، وہ جینے کا حوصلہ بھی کھو دے گا۔
28 اکتوبر 1984
کانپور کے ایک قصبہ کی مسجد میں ایک روز رام چندر جی پرکٹ ہوگئے۔ مسلمانوں نے کہا کہ یہ مسجد ہے اسے خالی کرو۔ ہندوؤں نے کہا کہ یہاں رام چندر جی نے جنم لیا ہے اس لئے یہاں ان کی پوجا ہوگی۔ چنانچہ ہندو مسلم فساد کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔ اس وقت کانپور کا کلکٹر ایک ہندو تھا مگروہ نہایت منصف اور معقول تھا۔ اس نے ہندؤوں کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تم لوگ رام چندرجی کی پوجا کرتے ہو۔ سب نے کہا کہ ہاں کلکٹرنے پوچھا کہ پھرتم نے پوجا میں کیا گستاخی کی ہے کہ رام چندر جی تمہارے مندرسے خفا ہوکر مسجد میں چلے گئے ۔ ہندو حضرات کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا ۔
کلکٹر نے اس کے بعد محلہ کے مسلمانوں کو بلایا۔ اس نے مسلمانوں سے پوچھا کہ تم میں سے جو لوگ پانچوں وقت کی نماز پڑھتے ہیں وہ ہاتھ اٹھائیں۔ چند آدمیوں نے ہاتھ اٹھائے اور بقیہ تمام لوگ سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے۔
کلکٹر نے مسلمانوں سے کہا کہ جب تمہاری اکثریت نماز نہیں پڑھتی تو تم کو مسجد کی کیا ضرورت ہے۔ اگر ایک خالی جگہ کو کچھ دوسرے لوگ بھگوان کی پوجا کے لئے پسند کرلیں تو تم کو اس پر کیوں اعتراض ہے۔ دوبارہ مسلمانوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہندستان میں سوبرس سے جو ہندومسلم جھگڑے ہورہے ہیں ان کی حقیقت بس یہی ہے۔ یہ دراصل ضد کے جھگڑے ہیں نہ کہ حقیقت کے جھگڑے۔ اس جھگڑے کے دونوں فریقوں میں سے کسی کو بھی نہ مذہب سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ سچائی سے ۔ وہ صرف قومی منافرت کے تحت ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں اور نام مذہب کا لیتے ہیں۔
دوگروہوں میں جب تناؤ کی کیفیت پیدا ہو جائے تو دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانا چاہیں گے ۔ دونوں پہ چاہیں گے کہ کوئی ایسا موقع ملے جس کے ذریعہ وہ فریق ثانی کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکال لیں بس یہی اس مسئلہ کی کل حقیقت ہے جس کو ہندو مسلم مسئلہ کہا جاتا ہے ۔
29 اکتوبر 1984
خلیفہ منصور عباسی نے حج کیا تو دیکھا کہ لوگ طرح طرح سے مراسم حج ادا کر رہے ہیں۔ اس نے چاہا کہ امام مالک کی کتاب کی بہت سی نقلیں تیار کر کے تمام بلاد وامصار میں روانہ کرے اور لوگوں کو ہدایت کر دے کہ وہ اسی کتاب (موطا) کے مطابق حج کے مراسم ادا کریں۔ خلیفہ نے جب اپنے اس ارادہ کا ذکر امام مالک سے کیا تو انھوں نے کہا:
يا اميرالمومنين لاتفعل هكذا
اےامیر المومنین ایسا نہ کیجئے ۔
اس کے بعد خلیفہ ہارون الرشید کا زمانہ کیا۔ اس نے بھی سفر حج میں مذکورہ منظر دیکھا تو مدینہ پہنچ کر دوباره امام مالک سے وہی بات کہی جو خلیفہ منصور نے کی تھی۔ امام مالک نے دوبارہ جواب دیا: يا اميرالمومنين لا تفعل فان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم اختلفوا في الفروع وتفرقوا في البلدان وكل مصيب (شعرانی ، میزان الکبری )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اے امیرالمومنین ایسا مت کیجئے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب فروعی امور میں مختلف تھے اور وہ شہروں میں پھیل گئے اور ان میں سے ہر ایک درست ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ محدثین کا نقطہ نظر تھا۔ وہ صحابہ کے اختلاف کو توسیع پر محمول کرتے تھے ۔ امام سفیان ثوری کا قول ہے :
quoted sourceQuoted from another author or source
لا تقولوا اختلف العلماء في كذا بل قولوا قد وسع العلماء على الامة بکذا (یہ نہ کہو کہ علماء نے اس میں اختلاف کیا بلکہ یہ کہو کہ اس میں علما نے امت پر توسع کیا ہے۔
hadithQuotes a hadith
فروعی امور میں صحابہ کے اختلافات جن کو محدثین نے توسع قرار دیا تھا ، انھیں اختلافات پر فقہاء نے اپنی اپنی فقہ کی بنیاد رکھ دی۔ فقہا نے ان اختلافات کو لے کر یہ بحث شروع کردی کہ کون صحیح ہے اور کون غیر صحیح ۔ کون اولی ہے اور کون غیراولی۔ کون افضل ہے اور کون غیرافضل۔ یہ بحثیں یقینی طور پر بدعت تھیں ۔ انھیں بحثوں کے نتیجہ میں امت کے اندر وہ اختلافات و انتشار پیدا ہوا جو پھر کبھی ختم نہ ہوا۔ فقہا، اگران فروعی اختلافات کو محدثین کی طرح توسع کے خانہ میں رکھتے تو امت بے شمار لایعنی جھگڑوں سے بچ جاتی۔
30 اکتوبر 1984
کیوبا امریکہ کے قریب ایک جزیرہ ہے ۔ یہاں کمیونسٹ نواز حکومت قائم ہے۔ 1962 میں سابق روسی وزیر اعظم خروشچوف کے زمانہ میں روس نے خاموشی کے ساتھ یہ منصوبہ بنایا کہ وہ کیوبا میں اپنا فوجی اڈہ قائم کرے۔ اور اس طرح اپنی فوجی طاقت کو امریکہ کی سرحد تک پہنچا دے۔
پانی کے جہازوں پرلد کر بہت سے مزائل اور فوجی سازوسامان کیوبا کے ساحل پر پہنچ گئے۔ کام شروع ہوگیا۔ سابق امریکی صدر جان کینڈی کو اکتوبر 1962 میں اس کی خبر ہوگئی ۔ انھوں نے روس کو سخت دھمکی دی اور ساتھ ہی کیوبا کی بحری اور فضائی ناکہ بندی کا حکم دے دیا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اگر روس کے فوجی جہاز کیوبا سے واپس نہ گئے تو کیوبا پر بمباری کر کے اس کو تباہ کردیا جائے گا۔ 13 دن بڑے (suspense) میں گذرے۔ اس کے بعد خرو شچوف نے حکم دیدیا کہ تمام روسی جہاز مع فوجی سامان کیوبا سے واپس روس چلے آئیں۔
other sourceWords of another person or source
دانش مند آدمی مظاہرہ طاقت سے وہ فائدہ حاصل کر لیتا ہے جو فائدہ نادان آدمی استعمال طاقت سے حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ استعمال طاقت ایک ایسا طریقہ ہے جو یا تو ناکام ہوتا ہے یا کامیاب بھی ہوتا ہے تو دو طرفہ نقصان کے بعد ۔
31 اکتوبر 1984
ہندستان کے اندر اور ہندستان کے باہر اب تک میں نے جتنے بھی مسلم قائدین کا تجربہ کیا ہے، وہ سب "خوف “ کی نفسیات کے تحت قوم کو اٹھانے اور ابھارنے میں مصروف ہیں ۔ خوف کی نفسیات بلاشبہ سب سے زیادہ طاقتور نفسیات ہے۔مگر ہمارے قائدین امت مسلمہکو جس احساس خوف پر کھڑا کر رہے ہیں وہ انسان کا خوف ہے کہ خدا کا خوف ۔
ہندستان میں فرقہ وارانہ تشدد کا خوف ، عرب دنیا میں صہیونیت کاخوف ، دوسرے ممالک میں صلیبی طاقتوں کا خوف ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے خوف کی حالت ختم ہو جائے تو لوگوں کے پاس قیادت کرنے کا کوئی عنوان ہی باقی نہ رہے گا۔
مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے زیادہ غلط خوراک ہے جو موجودہ مسلم قیادت مسلم قوموں کو دے رہی ہے۔ مسلمانوں کی کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ انھیں خوف خدا کی بنیاد پر کھڑا کیا جائے۔ ان کو خوف انسان کی بنیاد پر کھڑا کرنا کوئی رہنمائی نہیں ، بلکہ وہ ایک ایسی چیز ہے جس کو جرم کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ کیوں کہ قرآن میں مومن کی خاص صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتا (.... ولم يخش الا الله )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it